Baaghi TV

Tag: لالی وڈ

  • ثناء فخر نے سکرین پر کم نظر آنے کی وجہ سے بتا دی

    ثناء فخر نے سکرین پر کم نظر آنے کی وجہ سے بتا دی

    اداکارہ ثناءفخر نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس انٹرویومیںانہوں نے کہا کہ میں کم مگر معیاری کام کو ترجیح دیتی ہوں اسی لئے ٹی وی اور فلموں میںکم کم نظر آتی ہوں کیونکہ میرا ماننا ہے کہ اچھا سکرپٹ ہو تو ہی کام کیا جائے اور ویسے بھی کم مگر معیاری کام کرنے سے کوئی بھی آرٹسٹ اپنی کامیابی کو بہتر انداز میں برقرا ر رکھ پاتا ہے۔ثناءفخر نے مزید کہ سٹیج اور ٹی وی کے فنکاروں نے فلمی صنعت کو رونقیں بخشی ہیں اور یہ بات ہمیں مان لینی چاہیں ۔وہ دور گیا جب فارمولا فلمیں بنتی اور پسند کی جاتی تھیں آج اچھی فلمیں بن رہی ہیں اور ٹی وی پر بھی اچھاکام ہو رہا ہے ۔ثناءنے مزید کہا کہ میں سخت محنت کرنے پر یقین رکھتی ہوں یہی وجہ ہے کہ آج تک میرے پرستار مجھ پسند کرتے ہیں ۔

    یاد رہے کہ ثنا ءفخر کا شمار نوے کی دہائی کی کامیاب اداکاراﺅں میں ہوتا ہے ان کے کریڈیٹ پر بے شمار ہٹ فلمیں ہیں انہوں نے اُس دور کے نامور ہیروز کے ساتھ کام کیا ۔ثناءفخر کبھی کبھار ٹی وی کے ڈراموں میں بھی نظر آجاتی ہیں ۔ثناءایک یوٹیوب چینل بھی چلاتی ہیں جس میں وہ فٹنس ٹپس دیتی ہیں ۔ثناءفخر فٹنس پر کافی کام کرتی ہیں ان کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے وزن کوکنٹرول میں رکھنے اور صحت مند رہنے کے لئے کتنی محنت کرتی ہیں۔

  • میں نے کبھی کسی کے خلاف سازش نہیں کی : اداکارہ صائمہ نور

    میں نے کبھی کسی کے خلاف سازش نہیں کی : اداکارہ صائمہ نور

    صائمہ نورجو کہ تقریبات میں کم حصہ لینے کے ساتھ، بہت کم بولتی اور کم انٹرویوز دیتی ہیں ۔انہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ میں نے اپنے کیرئیر میں کبھی کسی کے خلاف سازش نہیں کی نہ ہی کام کے دوران کوئی بد مذہگی کی ہے ۔مجھے شوبز انڈسٹری میں جتنی عزت ملی ہے اسکے بارے میں تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔مداح آج تک عزت احترام سے ملتے ہیں ۔مجھے لوگوں سے جتنی عزت ملی ہے اس کے لئے ان کی شکر گزار ہوں ۔صائمہ نور نے کہا کہ میں نے کبھی کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہیں کیا ۔ایک سوال کے جواب میں صائمہ نور بولیں کہ خلوص اور پیار محبت کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ان دونوں چیز وں کی کمی زندگی کو جہنم بنا دیتی ہے۔صائمہ نے اسی انٹرویو میں مزید کہا کہ فلموں میں کم نظر آنے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے جب کوئی اچھا سکرپٹ سمجھ میںآتا ہے تو کر لیتی ہوں ابھی بھی مسلسل فلموں کی آفر ہورہی ہے لیکن اچھا سکرپٹ سمجھ میں آیا تو یقینا کروں گی ۔

    یاد رہے کہ صائمہ نور نے فلموں کے ساتھ ساتھ ڈراموں میں بھی کام کیا ہے ،ڈرامہ سیریل ”ببن خالہ کی بیٹیاں “ میں انہوں نے مختصر سا کردار ادا کیا ان کو ڈراموں میں بھی بہت سراہا گیا ،صائمہ کام کے معاملے میں کافی سلیکٹیو ہیں تبہی کم کم نظر آتی ہیں۔صائمہ کی عید الفطر پر ”تیرے باجرےدی راکھی“ ریلیز ہوئی ہے ان کے مداح کافی برس کے بعد بڑی سکرین پر ان کو دیکھ کر خوش ہوئے

  • پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی

    پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی

    پاکستان کی فلم انڈسٹری "لالی ووڈ” کا آغاز 1948 میں ڈائریکٹر داؤد چاند کی فلم "تیری یاد” سے ہوا۔ 1947 سے لے کر 2007 تک لاہور پاکستان کی فلم انڈسٹری کا گڑھ رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری دنیا کی چوتھی بڑی فلم انڈسٹری تھی۔ دنیا کی تاریخ میں سب سے ذیادہ فلمز میں ایکٹنگ کرنے کا ریکارڈ بھی پاکستانی اداکار سلطان راہی مرحوم کے پاس ہے جنہوں نے لگ بھگ 803 پنجابی اور اردو فلمز میں کام کیا۔ اسی بناء پر سلطان راہی مرحوم کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
    پاکستانی فلم انڈسٹری نے اب تک تقریباً 10 ہزار اردو فلمز، 8 ہزار پنجابی فلمز، 6 ہزار پشتو فلمز اور 2 ہزار سندھی فلمز پروڈیوس کی ہیں۔ مزید علاقائی زبانوں میں بنائی گئی فلمز ان کے علاوہ ہیں۔ اگر اوسطا دیکھا جائے تو 72 سال میں پاکستان نے تقریباً ہر روز ایک نئی فلم کو جنم دیا۔
    پاکستانی فلم انڈسٹری نے پاکستان کے مثبت اور ثقافتی تشخص کو ابھارنے میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی فلمز نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں فلم بینوں کی توجہ حاصل کی۔ پاکستانی فلمز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں مختلف ممالک میں ان کی علاقائی زبان میں "ڈبنگ” کرکے دکھایا جاتا رہاہے۔ چین میں پاکستانی اداکاروں کے مجسمے بھی بنا کر شہروں میں نصب کئے گئے جو کہ پاکستانی فلمز کی عالمی مقبولیت کا ایک واضح ثبوت ہے۔
    بدقسمتی سے 80 کی دہائی سے لے کر 2013 تک پاکستانی فلم انڈسٹری بیرونی سازشوں اور اپنوں کی بے توجہی کا شکار ہو کر شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہی ہوگئی تھی۔ پھر اداکار و فلمساز ہمایوں سعید پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے اور انہوں 2013 میں بطور فلمساز اپنی پہلی فلم ” میں ہوں شاہد آفریدی ” پروڈیوس کی جو پاکستانی فلم انڈسٹری پر طاری جمود توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان میں فلمز بنانے کا سلسلہ چل نکلا جس نے نہ صرف نئے اداکار، ڈائریکٹر، کیمرہ مین، تیکنیک کار اور رائٹر پیدا کئے بلکہ نئے فلمسازوں کو بھی فلمز بنانے کا حوصلہ دیا۔
    اس وقت پاکستان کے نمایاں فلمسازوں میں ہمایوں سعید، سلمان اقبال، جرجیس سیجا، شہزاد نصیب، حسن ضیاء، یاسر نواز، فضا علی مرزا، جاوید شیخ، سید نور، علی ظفر، مہرین جبار، سلطانہ صدیقی، میمونہ درید، خالد علی اور شمعون عباسی کے نام قابل ذکر ہیں۔ پاکستان کی سب بڑی سینما کمپنی "Cinepax” کے ترجمان حسیب سید کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 30 پرانی(35MM) اور 120 ڈیجیٹل سینما سکرینز موجود ہیں جبکہ 28 نئی سینما سکرینز کا اضافہ رواں سال کے آخر تک ہو نے کا امکان ہے۔ جیو فلمز، اے آر وائی فلمز، ہم فلمز، اردو1 فلمز، ایور ریڈی فلمز، ڈسٹری بیوشن کلب، HKC انٹرٹینمنٹ، فٹ پرنٹ انٹرٹینمنٹ اور آئی ایم جی سی کا شمار پاکستان کے بڑے فلم ڈسٹری بیوٹر ز میں ہوتا ہے۔
    پاکستان کی بڑی سینما کمپنیوں کے مالکان نے فلمی صنعت کی بحالی کے لئے "ایکسیلینسی فلمز” کے نام سے ایک فنڈ کا اجرء کیا۔ "ایکسیلینسی فلمز” اپنے تیار کردہ فارمولے کے تحت پاکستان کے فلم سازوں کو فلم بنانے کے لئے پیسہ فراہم کرتی ہے تاکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ترقی کے منازل باآسانی طے کرسکے۔ "ایکسیلینسی فلمز” اب تک پاکستان کے کئی فلمسازوں کو فلم بنانے کے لئے فنڈز فراہم کر چکی ہے جو کہ ایک خوش آئند اور سراہا جانے والا عمل ہے۔
    حکومتی سطح پر ہر دور میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن ہر دور حکومت میں یہ بات صرف اور صرف کھوکھلے دعوے ثابت ہوئی جبکہ عملی طور پر فلمی صنعت کی بحالی کے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حکومتی سرپرستی اور سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان فلم انڈسٹری زبوں حالی اور بد حالی کا شکار ہے۔ اگر حکومت اس صنعت کی طرف خصوصی توجہ دے تو نہ صرف یہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ ملک کے سافٹ امیج کو بحال کرنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری زرمبادلہ کمانے کا اہم زریعہ سمجھی جاتی ہے ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری اس وقت ریونیو کمانے میں بھارت کی سب سے بڑی صنعت میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ کی توجہ اور مناسب حکمت عملی کے باعث پاکستان کی فلم انڈسٹری ملک کی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام بالا سے استدعا ہے کہ وہ گرتی ہوئی فلم انڈسٹری کو سہارا دیں اور اس سے وابستہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کا سبب بنیں۔