Baaghi TV

Tag: لاپتہ افراد

  • لاپتہ افراد کیس،نگران وزیراعظم کی طلبی ہو گئی

    لاپتہ افراد کیس،نگران وزیراعظم کی طلبی ہو گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نگران وزیر اعظم کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے ایمان مزاری ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ بھی اس کام میں ملوث ہیں انکو پھانسی ہونی چاہیے، عام طور پر ایک بار پھانسی ہوتی ہے ان کیسسز میں ملوث افراد کو دو دفعہ پھانسی ہونی چاہیے،ابھی نگران وزیراعظم کو طلب کرتا ہوں اور پھر منتخب وزیراعظم کو بھی طلب کرونگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں اس کیس میں مزید وقت درکار ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ تو میری مہربانی ہے کہ میں دونوں ڈی جیز کو نہیں بلا رہا،عدالت نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو پیر کے روز صبح طلب کرلیا

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • سات برس قبل لاپتہ ہونیوالا بازیاب نہ ہو سکا،سماعت ملتوی

    سات برس قبل لاپتہ ہونیوالا بازیاب نہ ہو سکا،سماعت ملتوی

    لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سندھ ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    دوران سماعت پولیس نے عدالت میں کہا کہ چاکیواڑہ سے لاپتہ شہری کا تاحال سراغ نہیں مل سکا جبکہ ملیر سے لاپتہ ہونے والا افغان شہری بازیاب ہو کر واپس گھر آ گیا ہے، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ شہری کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ 30 جے آئی ٹیز اور صوبائی ٹاسک فورس کے 4 اجلاس ہو چکے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اب تک شہری کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا؟ جس پر تفتیشی افسرنے جواب دیا کہ شہری کو بازیاب کرانے کے لیے بھر پور کوشش کی جا رہی ہے

    عدالت میں موجود لاپتہ شخص کے اہل خانہ نےکہا کہ 7 سال پہلے چاکیواڑہ سے شہری لا پتہ ہوا تھا جس کا اب تک سراغ نہیں لگایا گیا،عدالت نے اہل خانہ سے سوال کیا کہ اگر آپ لوگ چاہیں تو ہم تفتیشی افسر کو تبدیل کر دیں؟ لاپتہ شخص کے اہل خانہ نے استدعا کی کہ تفتیشی افسر ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں انہیں تبدیل نہیں کریں،پولیس نے عدالت میں کہا کہ افغان شہری محمد اکبر ملیر سے لا پتہ ہوا تھا جوبازیاب ہو کر گھر واپس آ گیا ہے،عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 4 مارچ تک ملتوی کر دی

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • لاپتہ شہریوں کو عدالت میں پیش کریں ورنہ خود پیش ہوں،عدالت

    لاپتہ شہریوں کو عدالت میں پیش کریں ورنہ خود پیش ہوں،عدالت

    سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت ہوئی،

    سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے سماعت کی، سرکاری وکیل اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے، سرکاری وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹیز اجلاس اور تحقیقات میں دونوں شہریوں کی جبری گمشدگی ثابت ہوچکی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ شہری اتنے عرصے سے لاپتہ ہیں کچھ توکریں، تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ حافظ فرحان قادری پہلے بھی لاپتہ ہوا تھا اور 2020 میں دوبارہ لاپتہ ہوگیا، اس حوالے سے مدینہ کالونی تھانے میں دو مقدمات درج ہیں، عدالت نے مفرور قرار دیا ہے،

    جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی ہو لاپتہ شہریوں کو اب عدالت میں پیش کرنا ہوگا،عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا کہ لاپتہ شہریوں کو عدالت میں پیش کریں ورنہ خود پیش ہوں، جن شہریوں کی جبری گمشدگی ثابت ہوچکی ہے انہیں ہر صورت عدالت میں پیش کیا جائے

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • لاپتہ شہریوں کی بازیابی کے لئے  تصاویر سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی ہدایت

    لاپتہ شہریوں کی بازیابی کے لئے تصاویر سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی ہدایت

    سندھ ہائی کورٹ۔لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کیا اقدامات ہوئے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 21 جے آئی ٹیز اور 16 صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس ہو چکے ہیں ،لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے عدالت میں کہا کہ محمد زبیر 2014 بغدادی سے لاپتا ہوا تھا اب تک کہیں سے اس کا سراغ نہیں ملا،2014 سے پولیس اسٹیشن اور عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں کہیں سے انصاف نہیں ملا،عدالت نے کہا کہ آپ لوگ پریشان نہ ہوں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں آپ کو انصاف ملے گا،

    ایک اور لاپتہ شخص کے اہلخانہ نے کہا کہ حسن دلاور 2015 لانڈھی سے لاپتا ہوا تھا اب تک کوئی پتہ نہیں کہاں ہے کس حال میں ہے،ثاقب آفریدی بھی 2015 سچل سے لاپتا ہوا تھا،عدالت نےا تفتیشی افسران پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ 22 ،22 جے آئی ٹیز کے باوجود بھی لاپتا شہریوں کا سراغ نہیں لگایا گیا ،

    سید نوید علی ساحل پولیس اسٹیشن سے ،ظفر اقبال سائٹ سپر ہائی وے سے اور اعزاز حسن ناظم آباد سے لاپتا ہوئے ہیں، عدالت نے تفتیشی افسران کو لاپتا شہریوں کی تلاش جاری رکھنے کی ہدایت کردی،عدالت نے لاپتا شہریوں کی بازیابی کے لئے ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے تمام لاپتا شہریوں کی بازیابی کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ڈیواسسز کا استعمال کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے ایس پی انویسٹی گیشن سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 8 فروری تک ملتوی کردی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع کردی ہے

    وفاقی حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کمیشن کی مدت میں توسیع کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق کمیشن کی مدت میں تاحکم ثانی توسیع کی گئی ہے،

    2011 میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں لاپتہ افراد کمیشن قائم کیا گیا تھا اور ماضی میں لاپتہ افراد کمیشن کی مدت میں 6 ماہ سے 3 سال تک کی توسیع کی جاتی تھی،لاپتہ افراد کمیشن تین افراد پر مشتمل ہیں جن میں کمیشن کے سربراہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال ہیں جبکہ ممبران میں جسٹس (ر) ضیاء پرویز اور سابق آئی جی شریف ورک شامل ہیں

    طیبہ گل ہراسگی کیس؛ عمران خان اور جاوید اقبال کو ایک بار پھرطلبی کا نوٹس

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    واضح رہے کہ جبری گمشدگی کیس میں سپریم کورٹ میں چند دن قبل لاپتہ افراد کمیشن کا تذکرہ ہوا تھا جس میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کون ہیں، انکی کتنی عمر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کمیشن کے سربراہ ہیں جن کی عمر 77سال ہے،وہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے 2011میں ریٹائرڈ ہوئے،رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کمیشن کے رجسٹرار کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹر ار لاپتہ افراد کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ صرف تنخواہ ہی لے رہے ہیں یا کوئی کام بھی کرتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کتنی مرتبہ کمیشن کا اجلاس ہوتا ہے، کتنی ریکوری ہوتی ہے، رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے کہا کہ اس ماہ 46 لوگ بازیاب ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کل لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ آپکے پاس کیسز آ رہے ہیں ؟ رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ جی کمیشن کے پاس کیسز آ رہے ہیں ، کیسز آنے کے بعد کمیشن جے آئی ٹی بناتی ہے ،آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ہم لوگ لاپتہ کمیشن کے پاس گئے ، ہم ان سے مطمن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتزازاحسن صاحب آپ مطمئن ہیں اس کمیشن سے یا نہیں ؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ میں بالکل مطمئن نہیں ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اعتزاز احسن سمیت کوئی بھی لاپتہ افراد کیلیے قائم کمیشن سے مطمئن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزاروں سے استفسارکیا کہ جن کے مسنگ پرسنز کے مقدمات ہیں کیا وہ لاپتہ افراد کمیشن سے مطمئن ہیں یا نہیں، عدالت میں موجود درخواست گزاروں نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سے بڑی عمارت لاپتہ افراد کمیشن والوں کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کے لوگ کا تقرر کیسے ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمیشن کے نمائندگان کی معیاد میں توسیع ہوتی رہی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ارکان کو تنخواہ ملتی ہے؟رجسٹرار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ممبران کو عدالت عالیہ کے مطابق پیکج ملتا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ممبران کو پنشن نہیں ملتی ؟ رجسٹرار نے کہا کہ پنشن الگ سے ملتی ہے اور بطور کمیشن تنخواہ الگ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن 2011 میں بنا تھا اب تک اسے ہی توسیع دی جا رہی ہے،

  • خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل،درخواست گزار وکلاء ایمان مزاری، عطاء اللہ کنڈی اور ہادی چھٹہ عدالت پیش ہوئے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 68 افراد کو بازیاب کرایا گیا،بازیاب افراد کی لسٹ میڈم ایمان مزاری کے ساتھ شئیر کی گئی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آخری سماعت پر انہوں 28 افراد کی بازیابی کرنے کا کہا تھا،ایمان مزاری نے کہا کہ اب تک 56 افراد کو بازیاب کرلیا گیا جبکہ 12 تاحال لاپتہ ہیں،عدالت نے وزارت داخلہ کو متاثرہ لوگوں کے لواحقین سے ملاقات کا کہا تھا،وزارت داخلہ کا متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات افسوناک رہی،اٹارنی جنرل آفس یا کسی اور آفس سے اب تک کوئی خاص پراگریس نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے مطابق 15 تاحال لاپتہ ہیں جبکہ ان کے مطابق 12 لاپتہ ہیں،ایمان مزاری نے کہا کہ درخواست گزار فیروز بلوچ کے حوالے سے کہا گیا کہ انکو ریلیز کردیا گیا،آج صبح فیروز بلوچ کے فیملی سے بات ہوئی وہ تاحال لاپتہ ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ بتائیں کہ ان لوگوں کو ریلیز کردیا یا گھر پہنچایا؟ وفاقی حکومت کا undertaking دینے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ وفاقی حکومت ہی جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں؟کیا ہم بھی وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ یا وزارت دفاع سے بیان حلفی لیں؟ وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ و دیگر بڑے دفاتر یہاں بیان حلفی دیں کہ آئندہ کوئی لاپتہ نہیں ہوگا،ریاست کے اداروں کو قانون کی پاسداری پر یقین کرنا چاہیے،ریاستی ادارے عدالتوں پر یقین نہیں کرتے اسی لیے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے،ہمارے سامنے پولیس کا ادارہ ریاست کا فرنٹ فیس ہے،

    ایمان مزاری نے سابق نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ناروا سلوک کی شکایت کی،اور کہا کہ نگران وزیر داخلہ نے خواتین کو کہا اگر آپ کے پیارے کو مارا گیا تو آپ کو بتا دیں گے،

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اسکے اداروں کو عدالتوں پر اعتماد کرنا ہو گا،ریاست اور اسکے ادارے رول آف لاء کو نہیں مانتے اس لیے جبری گمشدگیاں ہوتی ہیں،پولیس ریاست کا فرنٹ فیس ہے، دوسرے ادارے فرنٹ فیس نہیں ہیں،کیا مشکل ہے کہ پولیس ایک ضمنی لکھ کر انٹیلی جنس کے افسروں کو ملزم بنا دے گی،وقت آئے گا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران پراسیکیوٹ ہونگے، اگر تھانے پر چھاپہ ماریں اور کوئی بندہ بازیاب ہو تو پولیس والے کی تو نوکری چلی جاتی ہے،دوسری طرف انٹیلی جنس ایجنسیوں سے متعلق صورتحال بالکل مختلف ہے،میرے سامنے کوئی مسنگ بلوچ بازیابی کے بعد نہیں آیا جس سے میں سوال کر سکوں؟جو لوگ بازیاب ہوئے پتہ نہیں وہ ٹھیک ہے بھی یا نہیں، انکی صحت کی صورتحال کیا ہوگی،مسنگ پرسنز کا تصور صرف ہمارے جیسے ملکوں میں ہی ملتا ہے باقی ملکوں میں نہیں، آج آپ نہ کریں لیکن ایک وقت میں اعلی ترین عہدیدار بھی پراسیکیوٹ ہونگے،دہشتگردوں کا ٹرائل بھی انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ہوتا ہے،کیا امر مانع ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کا ٹرائل بھی انہی عدالتوں میں ہو، بلوچستان میں اپنی انسداد دہشتگردی عدالتیں فعال کریں ٹرائل ہو سکتا ہے،سسٹم پر اعتماد کریں، کیا امر مانع ہے کہ دہشتگرد کا ٹرائل نہ ہو سکے اور وہ بری ہو جائے،یہ درخواست گزار بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ دہشتگردوں کو پروٹیکٹ کریں،ریاست کا سپاہی مرتا ہے تو آپ ان کے لیے شہدا پیکج کا اعلان کرتے ہیں،جو لوگ ریاست کے لیے قربانی دیتے ہیں وہ پولیس ہو،فوج ہو یا کوئی بھی شہری ہو،حق سب کا ہے،مغرب میں تو بڑے سےبڑے قاتل کو بھی ضمانت دیتے ہیں یہاں ہم نہیں کرتے،تین تین سال تک ہم ٹرائل مکمل نہیں کرتے،جن لوگوں کا لسٹ آپ نے مہیا کیا، ان میں کتنے لوگ ہیں جن کے خلاف کریمنل کیسسز ہیں؟،اس سائڈ کو کوئی اعتراض نہیں کہ آپ کس کے خلاف مقدمہ درج کریں یا کسی عدالت پیش کریں،مسلہ یہ ہے کہ جو لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں ان کے خاندان والے انکو پھر کبھی دیکھتے ہی نہیں،

    وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ فیملیز کے مطابق سی ٹی ڈی اٹھاتے ہیں اور بعد میں مقدمہ درج ہوتا ہے،سی ٹی ڈی نے جن لوگوں کو اٹھایا اور عدالتوں میں پیش کیا وہ بری ہوگئے، عدالت نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک اس قسم کے معاملات کو برداشت نہیں کرسکتا،بلوچستان سے لوگ اسلام آباد آئے ہیں اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرنے، نیشنل پریس کلب کے باہر اگر یہ بیٹھے ہیں تو انکو سہولیات مہیا کرنا ہوگی،ایمان مزاری نے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کے زریعے مظاہرین کو دھمکایا جارہا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ کیا ہے ؟ ایمان مزاری نے کہا کہ یہ حکومتی سرپرستی میں ایک سکواڈ ہے جو لوگوں کو مارتے ہیں،اٹارنی جنرل نے ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے دھمکیوں پر آپ درخواست دیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ نام سے ہی سمجھ آتا ہے،ان بچے بچیوں کا کوئی قصور نہیں، یہ پاکستانی ہیں،ہم نے ان کو دیکھنا ہیں کیونکہ ہمارے سامنے کوئی لاپتہ شخص کھڑا نہیں،ان نو سالوں میں میرے سامنے ایک بازیاب شخص آیا تھا جس نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے مجھے اٹھایا تھا،ان معاملات میں وزیراعظم، وزارت داخلہ، وزارت دفاع ہی جوابدہ ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ میں آپکی یہ بیان حلفی جمع کرائی گئی ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں بیانی حلفی ابھی جمع نہیں ہوئی مگر جلد جمع کریں گے،عدالت نے کہا کہ وزارتوں کے لوگ موجود ہیں یہ چیزیں پاکستان کی بہت بڑی بدنامی بنی ہے، ہم معاشی مسائل کا شکار ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی کررہے ہیں، جن 12 لاپتہ افراد کی لسٹ اٹارنی جنرل کو دیں اور آپ نے دیکھنا ہے،

    عدالت نے سمی دین بلوچ سے استفسار کیا کہ آپ نے کچھ کہنا ہے؟ سمی دین بلوچ نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم پر وزیراعظم نے فواد حسن فواد کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی،کمیشن نے بتایا کہ جو لوگ دس سال سے زائد عرصہ سے لاپتہ ہیں انکا کچھ نہیں بتاسکتے،عدالت نے کہا کہ ایک بات پر یقین کریں کہ جو لوگ دس سال ہو یا پندرہ سال سے انکی معلومات حکومت فراہم کریگی،اگر کوئی زندہ ہے یا مرے ہیں حکومت اپکو معلومات فراہم کریں گی، سمی دین بلوچ نے کہا کہ ہمارے والدین مرتے وقت بھی اپنے لاپتہ بچوں کو یاد کرتے ہیں،ہم اس چیز سے نکلنا چاہتے ہیں،ابھی ایک شخص نو سال بعد بازیاب ہوا مگر ان کے گھر والوں سے کہا گیا کہ کسی سے بات نہیں کرنی،ہمیں وفاقی وزرا نے بھی کہا تھا کہ اگر آپ کے لاپتہ افراد سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں کریں گے، عدالت نے کہا کہ پہلے لاپتہ افراد کو بازیاب ہونے دیں پھر جس ادارے نے آپ سے بیان حلفی لی ہے اسی کا دیکھا جائے گا، عدالت نے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او کو دونوں مظاہرین کے سیکورٹی انتظامات فراہمی کی ہدایت کر دی

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے، وزیراعظم، داخلہ اور دفاع کے سیکرٹریز کو بیان حلفی دینا ہو گا کہ جبری گمشدگی کی ہے ، نہ آئندہ ہو گی،جو افراد لاپتہ ہیں چاہے دس سال سے زائد ہوگیا انہیں بتانا پڑے گا، وہ افراد زندہ ہیں یا مر گئے بتانا پڑے گا

    بلوچ خاتون نے عدالت میں کہا کہ آپ ہمیں امید دے دیں ورنہ شاید ہم کبھی مڑ کر واپس نہ آئیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جن پر الزام ہے انہی سے ہم نے کہنا ہے ،بلوچ خاتون نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے پیاروں سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں مچائیں گے،

    عدالت نے کیس کی سماعت 13 فروری تک کے لئے ملتوی کردی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

     ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    بلوچ لانگ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے سپشل رپورٹ جاری کر دی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ 20 دسمبر 5 بجے معلوم ہوا کہ چیئرپرسن بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈاکٹر مہارنگ بلوچ کی قیادت میں کچھ مظاہرین پشاور ٹول پلازہ پر جمع ہیں ،مظاہرین 08 گاڑیوں پر 12 بچوں اور 45 خواتین سمیت تقریباً 250 مظاہرین تھے، ایس ایس پی اور ایس پی صدر نے ان کے ساتھ مذاکرات کیے،مظاہرین کو H-9 سیکٹر میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے جگہ کی پیشکش کی،مظاہرین نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا،دوسرے آپشن کے طور پر F-9 پارک میں رہنے کی پیشکش بھی کی گئی،مظاہرین زبردستی اسلام آباد کے دائرہ اختیار میں داخل ہوئے،مظاہرین نے 26 نمبر چونگی پر سڑکیں بلاک کرنا شروع کر دیں،اسی دوران تقریباً 250 مظاہرین، جن میں سے کچھ لاٹھیوں سے لیس تھے، نیشنل پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے اور دونوں طرف کی سڑکیں بند کر دیں،پولیس نے مظاہرین کو آگاہ کیا کہ ریڈ زون میں احتجاج پر پابندی عائد ہے،

    پریس کلب کے باہر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور الزام پولیس پر عائد کیا،پولیس نے مجموعی طور پر 300 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 5 خواتین شامل ہیں،مظاہرین نے قانون کو ہاتھ میں اور ریاست اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی،

    جو لوگ بلوچستان سے آئے ان کی طرف سے کوئی شرانگیزی نہیں کی گئی لیکن کچھ مقامی افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی، فواد حسن فواد
    حکومت کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی نے مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کی ہے، نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ کل مظاہرین اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوئے، وزیر اعظم نے مزاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، ہم نے مزاکرات کیے بچوں اور عورتوں سے بھی ملے،

    فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ جب مظاہرین اسلام آباد پہنچے تو انتظامیہ نے ان سے رابطہ کیا، پولیس نے مظاہرین کو دو جگہوں کی آفر کی،پریس کلب کے باہر کئی خواتین تئیس دنوں سے بیٹھی ہیں، پریس کلب کے باہر بیٹھی خواتین کو انتظامیہ نے کچھ نہیں کہا،مظاہرین اور پولیس کے درمیان کلیش ہوا، مجبورا پولیس کو مظاہرین کو گرفتار کرنا پڑا،بڑے نقصان سے بچنے کیلئے ریاست کو مجبور کچھ اقدامات کرنے پڑتے ہیں،صرف وہ لوگ تحویل میں ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی،کچھ مقامی افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی ، چہرہ ڈھانپ کر کچھ لوگوں نے پتھراو کیا جس کے بعد صورتحال خراب ہوئی ، جو لوگ بلوچستان سے آئے تھے ان میں سے کسی نے شرانگیزی نہیں کی ،احتجاج روکنا مقصد نہیں تھا ، احتجاج تو 23دن سے جاری ہے ،جولوگ بلوچستان سے آ رہے تھے ان میں سے کسی نے کوئی تشدد نہیں کیا ،کچھ لوگوں کی شناخت اور تحقیقات کا عمل جاری ہے،وزارتی کمیٹی نے قابل شناخت تمام افراد رہا کردئیے ۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،بلوچ مظاہرین کے لیے سیشن عدالت سے بڑی خبر،بلوچ ہیومن ایکٹویسٹ مہارنگ بلوچ سمیت 33 بلوچ مظاہرین کو عدالت پیش کردیا گیا،جوڈیشل مجسٹریٹ نے تمام 33 بلوچ مظاہرین کو رہا کرنے کا حکم دے دیا،بلوچ مظاہرین کو جوڈیشل مجسٹریٹ شبیر بھٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا،پانچ ہزار کے ضمانتی مچلکوں اور ایک لوکل شورٹی کے عوض ضمانت منظور کر لی گئی.

    گرفتار بلوچ خواتین کا کہنا ہے کہ ہم کسی صورت بھی وزیر اعظم کے کہنے پر کوئٹہ واپس نہیں جائینگے،ہم پریس کلب جائیں گے .

    دوسری جانب نیشنل پارٹی کے صدر اور بلوچستان کے سابق وزیراعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے ٹیلوفونک رابطہ ہوا ہے، انہوں نے بلوچ لانگ مارچ کے شرکاء کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج میں شریک خواتین اور بچوں پر رات گئے تشدد اور گرفتاری پرتشویش سے آگاہ کیا.

    دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے شرکاء کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا،کوہلو اور بارکھان میں سینکڑوں افراد کا احتجاج، بلوچستان پنجاب شاہراہ بند کر دی گئی، کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے باہر دھرنا شروع ہو گیا،

    دوسری جانب بلوچ لانگ مارچ پر تشدد کیخلاف عدالت نے آئی جی و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا تھا، بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نےسماعت کے دوران آئی جی و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا۔پٹیشنرز کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں اور کہا کہ پر امن بلوچ مظاہرین کل اسلام آباد پہنچے جن پر لاٹھی چارج اور فورس کا استعمال کیا گیا، پر امن مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا جو غیر قانونی ہے، مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے،دوبارہ سماعت ہوئی،تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہو گئے،سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پاکستانی شہری ہیں اور احتجاج تو ان کا آئینی حق ہے، کسی نے کوئی دہشت گردی تو نہیں کی،آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان نے عدالت میں کہا کہ مظاہرین کے پاس ڈنڈے تھے اور انہوں نے پتھر مارے جس سے کچھ لوگ زخمی ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آبادسے سوال کیا کہ پٹیشن میں 86 لوگوں کے نام ہیں ان کا کیا اسٹیٹس ہے؟ آئی جی نے عدالت میں کہا کہ لسٹ میں جو نام لکھے گئے ہیں ان کی کوئی تفصیل موجود نہیں، ترنول کی ایف آئی آر میں تمام لوگ رہا ہو چکے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ لوگوں کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش بھی کیا ہے یا نہیں؟ تھانہ کوہسار کی ایف آئی آر کب ہوئی ہے؟ جس کے جواب میں آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ مجسٹریٹ کے سامنے ہم نے پیش کر دیا ہے،لاء افسر نے عدالت میں کہا کہ کچھ کو ڈسچارج، کچھ کو جوڈیشل اور کچھ کو شناخت پریڈ کیلئے رکھا ہے،عدالت نے آئی جی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے گا آپ کا کوئی آفیسر کوئی رکاوٹ نہ ڈالے، آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ ہمارے ملک کے بچے ہیں ہم خیال رکھیں گے،عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے کل تک مزید رپورٹ طلب کرلی اور حکم دیا کہ آئی جی کل تک بتائیں کتنے افراد جوڈیشل ہوئے، کتنے گرفتار ہیں اور کتنے رہا ہوئے؟

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت، دکانیں اور سڑکیں بلاک کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت تھانہ کوہسار اور تھانہ ترنول میں مقدمات درج کر لیے ہیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کیخلاف بی این پی نے گورنر بلوچستان کو فوری اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کردی، گرفتار مظاہرین کی رہائی، انکے مطالبات کے حل کیلئے صدر، نگراں وزیراعظم اور دیگر سے ملاقات کریں گے، مسئلہ حل نہ ہوا تو گورنر استعفے دیں گے-

    علاوہ ازیں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے بلوچ مظاہرین سے مزاکرات کے لے کمیٹی بنا دی،کمیٹی تین وفاقی وزرا پر مشتمل ہے ۔کمیٹی فواد حسن فواد۔ مرتضیٰ سولنگی اورجمال شاہ شاملِ ہیں۔کمیٹی مظاہرین سے ابھی مزاکرات کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    سندھ ہائیکورٹ: طویل عرصے سے لاپتہ دس سے زائد افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی

    جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے پولیس افسران سے استفسار کیا کہ لاپتہ شہری کے حوالہ سے کتنی جے آئی ٹیز ہوچکی ہیں ،پولیس حکام نے کہا کہ 16 جے آئی ٹیز اور پی ٹی ایف سیشن ہوچکے ہیں ،درخواست گزار نے کہا کہ 9 سال سے لاپتا ریاست اللہ کا تاحال پتہ نا چل سکا، پولیس نے پیش رفت رپورٹ جمع کرادی،تفتیشی افسر نے کہا کہ ریاست اللہ کا کیس جبری گمشدگی کی کیٹیگری میں شامل کردیا گیا ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ 9 سال ہوگئےہیں ہمارے حالات بہت خراب ہیں ، نوکری ملازمت بھی مل رہی ہے خدارا کچھ تو کیجیے ،واجد حسین سات سال سے لاپتا ہے کچھ تو کریں ، کیوں اغواء کرکہ لے جاتے ہیں جب قانون موجود ہے تو ،عدالت نے ایس پی انوسٹی گیشن کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا،عدالت نے وفاقی وزارت داخلہ سے بھی رپورٹ طلب کرلی، درخواست گزار نے کہا کہ اگر پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے ،جب تک ہم زندہ ہیں عدالت آتے رہینگے، عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • کئی سال گزر گئے اپنے پیارے کو دیکھے ہوئے،لاپتہ شخص کی والدہ کی عدالت میں دہائی

    کئی سال گزر گئے اپنے پیارے کو دیکھے ہوئے،لاپتہ شخص کی والدہ کی عدالت میں دہائی

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ, لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر عدالت نےتفتیشی افسران پر برہمی کا اظہارکیا،عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنے کی ہدایت کردی، دوران سماعت عدالت میں لاپتہ شخص کی والدہ نے کہا کہ میرے بیٹے کو کراچی سے گرفتار کرکے منشیات کا مقدمہ درج کردیا گیا،عدالت نے تفتیشی افسر کو شفاف تحقیقات کی ہدایت کردی،ایک والدہ کا کہنا تھا کہ کئی سال گزر گئے اپنے پیارے کو دیکھے ہوئے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کورٹ نے گھر والوں کی مالی معاونت کا حکم دیا تھا، عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے تازہ رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے جے آئی ٹی اور صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس جاری رکھنے کی بھی ہدایت کردی،درخواست گزاروں میں مسماۃ فرحانہ ، مسماۃ عارفہ ، مسماۃ مونا، منہاس الدین، بسیراں، ممتاز ، بلال اور ثناء شامل ہیں

    گزشتہ روز درخواست کی سماعت کے دوران لاپتہ افراد کے اہل خانہ میں سے ایک نے دوران سماعت بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ہاتھ جوڑکر التجا کرتا ہوں، یہ کیس بند کر دیں اور یہ تماشہ بھی، میرے بھائی فرقان کا کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے، دھکے کھلائے جا رہے ہیں، پولیس کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتی ہے ہمارے پاس نہیں ہیں، 9سال ہوگئے لاپتا فرقان اور ندیم کو بازیاب نہیں کرایا جاسکا.

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • بیٹا مر گیا ہے تو اس کی لاش تو کم سے کم دی جائے،لاپتہ شخص کے والد کی عدالت میں دہائی

    بیٹا مر گیا ہے تو اس کی لاش تو کم سے کم دی جائے،لاپتہ شخص کے والد کی عدالت میں دہائی

    سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی

    لاپتہ شخص کے والد نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹا عطا اللہ کو دیکھے ہوئے سالوں گزر گئے، میرے بیٹے کو عدالت میں پیش کیا جائے اور جرم ثابت ہوتو بے شک پھانسی پر لٹکا دو، 9 سال سے آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ، ہمارا جرم کیا ہے؟ عدالتوں کے حکم نہیں مانے جارہے، اپنے فیصلوں پر تو عملدرآمد کرائیں،عدلیہ بھی شہریوں کے ٹیکس سے تنخواہ لیتی ہے، اپنا کردار ادا کرے۔جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں بھرپور کوشش کریں گے، ہم آپ کی پریشانی جانتے ہیں آپ بہت پریشان ہیں، والد نے کہا کہ میرا بیٹا مر گیا ہے تو اس کی لاش تو کم سے کم دی جائے،

    عدالت نے پولیس اور متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرلی،فرید خان ،مسماۃ ریحانہ، مصطفیٰ حنیف، مسماۃ ثمینہ نسرین ، نور محمد و دیگر نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواست دائر کی ہیں

    گزشتہ روز درخواست کی سماعت کے دوران لاپتہ افراد کے اہل خانہ میں سے ایک نے دوران سماعت بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ہاتھ جوڑکر التجا کرتا ہوں، یہ کیس بند کر دیں اور یہ تماشہ بھی، میرے بھائی فرقان کا کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے، دھکے کھلائے جا رہے ہیں، پولیس کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتی ہے ہمارے پاس نہیں ہیں، 9سال ہوگئے لاپتا فرقان اور ندیم کو بازیاب نہیں کرایا جاسکا.

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی