Baaghi TV

Tag: لاپتہ افراد

  • لاپتہ افراد کےلواحقین نےایک اہم شخصیت کی یقین دہانی کےبعد 50 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا

    لاپتہ افراد کےلواحقین نےایک اہم شخصیت کی یقین دہانی کےبعد 50 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا

    کوئٹہ:وزیراعظم کی لاپتہ افراد کیلئے قائم وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی کی یقین دہانی پر لاپتہ افراد نے 50 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا۔ وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے تمام فریقین کا تعاون درکار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر لاپتہ افراد کیلئے قائم کمیٹی نے کوئٹہ کا دورہ کیا۔

    وفاقی وزیر قانون بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور شازیہ مری سمیت 8 رکنی کمیٹی نے دھرنے میں بیٹھے مظاہرین سے مذاکرات کئے۔ جس میں خصوصی کمیٹی کے فوکل پرسن سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی شامل تھے۔

    کمیٹی نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ان کا مؤقف سنا اور دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کیا، کمیٹی سے کامیاب مذاکرات کے بعد لاپتہ افراد کے لواحقین نے 21 جولائی سے زرغون روڈ پر ریڈ زون میں جاری دھرنا ختم کردیا۔کمیٹی ارکان نے دھرنا ختم کرنے پر شرکاء اور لاپتہ افراد کے لواحقین کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کہتے ہیں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے تمام فریقین کا تعاون درکار ہے۔

    میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ پاکستان کا مسئلہ بن چکا ہے، اسے دو مختلف فورمز پر حل کر رہے ہیں، دکھ کی بات ہے کہ ہماری مائیں بہنیں اپنے پیاروں کیلئے سڑک پر بیٹھی ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے ہم پر اعتماد کرتے ہوئے دھرنا ختم کیا ہے، ان کے اعتماد پر پورا اتریں گے۔

    وزیر قانون بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت خلوص نیت سے لاپتہ افراد کا مسئلہ کرنا چاہتی ہے، اس حوالے سے کئی اجلاس کرچکے ہیں، لاپتہ افراد کے لواحقین سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی، مسئلہ حل کرنے کیلئے 2 ماہ کا وقت مانگا ہے۔

    وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر تشویش ہے، لاپتہ افراد کے لواحقین کا دکھ ناقابل بیان ہے، یہ مسئلہ اب حل ہونا چاہئے، لواحقین کو اپنے پیاروں کیلئے سڑکوں پر دیکھ کر دکھ ہوا ہے، کوشش کریں گے لاپتہ افراد کا مسئلہ سنجیدگی سے حل ہو۔

    اس سے قبل وفاقی وزراء رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ، شازیہ مری، آغا حسن بلوچ، سینیٹر کامران مرتضیٰ پر مشتمل وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے لاپتہ افراد نے کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزراء اور صوبائی حکام کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں لاپتہ افراد کے حوالے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، چیف سیکریٹری بلوچستان عزیزی عقیلی نے لاپتہ افراد اور امن وامان کی صورتحال کے متعلق اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    رانا ثنا اللہ اور وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ کے انٹرویوز کا ٹرانسکرپٹ درخواست کے ساتھ منسلک کر دیا گیا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی جانب سے رپورٹ فائل کی ہے ابھی ساڑھے دس بجے کابینہ کی میٹنگ ہے،اٹارنی جنرل اسپتال میں ہیں، انکی استدعا ہے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردیں، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کورٹ کیا کرے کیا چیف ایگزیکٹو کو سمن کرے ؟دو فورمز نے ڈکلیئر کردیا یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے پھر کیا ہوا ؟ جے آئی ٹی جس میں آئی ایس آئی اور دیگر ادارے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے ،یہ بڑا واضح ہے کہ موجودہ یا سابقہ حکومت نے لاپتہ افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، سب سے بہترین اینٹلی جنس ایجنسی نے یہ کیس جبری گمشدگی کا ڈکلیئر کیا ہے ، ارشد کیانی نے کہا کہ سابقہ حکومت کا تو پتہ نہیں اس حکومت نے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت صرف آئین کے مطابق جائے گی بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، یہ معاملہ تو قومی سلامتی سے متعلقہ ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کے سینئر اور متعلقہ لوگوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 2013 کا فیصلہ موجود ہے. یہ تو تسلیم شدہ حقیقت ہے، یا تو کوئی شخص ذمہ داری لے کر ان تمام لوگوں کو بازیاب کرائے، ریاست کا جبری گمشدگی کے کیسز پر جو ردعمل ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرحت اللہ بابر صاحب نے منتخب حکومت اور پارلیمنٹ نے کیا کیا ہے، یہ تو آپ تسلیم کر رہے ہیں سویلین کنٹرول اور نگرانی نہیں ہے ، آئی ایس آئی صرف حکومت کا ایک ڈیپارٹمنٹ ہے، آئی ایس آئی وزیراعظم کے براہ راست کنٹرول میں ہے، عدالت پبلک آفس ہولڈرز کو اپنی ذمہ داری شفٹ کرنے کی اجازت نہیں دے گی،اگر وزیراعظم کسی بات سے منع کرے تو وہ اسے مانیں گے،جو آئین میں لکھا ہے یہ عدالت صرف اس کو تسلیم کریگی،آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ اور حکومت بے بس ہیں؟ جس پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جی بالکل میں یہی کہنا چاہ رہا ہوں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر وزیراعظم سے کہیں کہ عدالت کے سامنے آ کر یہ بیان دیں،یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، آئین کی کسی کو پرواہ نہیں تو لوگ متاثر ہو رہے ہیں،

    وزارت داخلہ کا نمائندہ عدالت کے سامنے پیش، وقت دینے کی استدعا کر دی، عدالت نے استفسار کیا کہ کون کون سے قانون نافذ کرنے والے ادارے آپکے ماتحت ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے اور رینجرز ہمارے ماتحت ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ انٹیلی جنس بیورو کس کے ماتحت ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے زیر کنٹرول ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری کس کے زیر کنٹرول ہے؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو کیا آپ ان سے پوچھتے نہیں ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ ہم پوچھتے ہیں ان سے رپورٹ طلب کی جاتی ہے، عدالت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں،جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت کے سامنے رسمی باتیں مت کریں،اگر حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں، آخری موقع دے رہے ہیں اگر کچھ نہ ہوا تو چیف ایگزیکٹو کو طلب کرینگے،

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ 

  • فواد چودھری نے لاپتہ افراد پردہشتگرد کہا توصحافی نے انہیں چمچہ گیرقرار دےدیا

    فواد چودھری نے لاپتہ افراد پردہشتگرد کہا توصحافی نے انہیں چمچہ گیرقرار دےدیا

    سابق وزیر اطلاعات اور تحریک انصاف کے رہنماء فواد حسین چودھری نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں لکھا کہ: "رات ہرنائی بلوچستان میں مزدوروں کے کیمپ پر حملہ ہوا نہتے مزدور شہید ہوئے، ان حملوں پر خاموش دہشت گردوں کے حمایتی کراچی، لاہور، اسلام آباد میں مسنگ پرسنز کی گردانیں پڑھتے ہیں۔ ریاست کی کمزوری ہے ان کو پٹہ نہیں ڈالا جاتا دہشت گردوں کے حمایتیوں کو دہشت گرد سمجھا جانا چاہئے۔”


    فواد چودھری کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جلیلہ حیدر نے کہا کہ: ‏فواد چوہدری آپ جتنا محکوم قوموں کے اذیتوں پر بیان بازی کرو، آپکا آقا آپ سے پھر بھی خوش نہیں ہوگا۔ اس حقیقت کو تسلیم کر لو کہ آپ اپنے آقاوں کی خوشنودی کے لئے جو بیانات آپ داغ رہے لہذا اب انکی نظروں میں آپکی اوقات ایک استعمال شدہ ٹشو پیپر جیسی ہے۔


    ایک صارف سعد خان نے لکھا کہ: ‏بطور ایک پاکستانی بلوچ بھی ہمارے بھائی ہیں لہذ آپ اور آپکی جماعت کی جانب ایسے بیانات بلوچ بھائیوں کے لئے تکلیف کا باعث ہیں۔ کیونکہ بلوچ بھی پاکستان کے شہری ہیں اور گزشتہ رات ہرنائی میں ہونے والے واقع کی پرزور مذمت کرتے ہیں.

    صحافی کیا بلوچ نے سابق وفاقی وزیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: ‏اسی نظریے نے بلوچستان میں ڈائیلاگ کے تمام دروازے بند کئے ہیں۔ حملے کو لاپتہ افراد سے جوڑنا تعصب ہے اور جب ہزارہ یا احمدیوں پر حملے ہوتے ہیں تو آپ مجرموں اور ان کے سہولت کاروں یا اُنکے آقاؤں کا نام لینے کی ہمت کیوں نہیں کر سکتے جن کے ساتھ آپ لنچ اور ڈنر پر ٹیبل شیئر کرتے ہیں۔


    سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے فواد چودھری کو چمچہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ: ” موصوف فواد چودھری وزیر قانون رہے ہیں جو لاپتہ افراد کے جاری انسانی المیے کو دھشت گردی سے جوڑ کر ان شہریوں کی بازیابی میں اپنی حکومت کی ناکامی اور بزدلی کا جواز پیش کر رہے ہیں اور ان بوٹ چاٹ لوگوں کے منہ کا ذائقہ جا نہیں رہا اسی لیے کبھی اسٹیبلشمنٹ پر امریکی سازش کا الزام اور کبھی چمچہ گیری۔”

  • کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں،بتائیں عملدرآمد کیا ہوا؟ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کے ریمارکس

    کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں،بتائیں عملدرآمد کیا ہوا؟ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کے ریمارکس

    کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں،بتائیں عملدرآمد کیا ہوا؟ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاقی کابینہ نے لاپتہ افرادکے معاملے پر وزرا کی کمیٹی تشکیل دی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے گزشتہ آرڈر میں کیا لکھا تھا وہ ذرا پڑھ کر بتائیں،آرڈر میں لکھا تھا کہ لاپتہ افرادکو بازیاب کر کے پیش کیا جائے، وہ کہاں ہیں؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ تحقیقاتی ادارے اپنی کوشش کر رہی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کو کمیٹیوں میں نہ پھنسائیں، بتائیں عملدرآمد کیا ہوا ہے؟ وفاقی حکومت کا ایکشن کدھر ہے ؟عدالت آئی واش نہیں مانے گی ،اب بھی روزانہ لوگ اٹھائے جا رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، وفاقی حکومت ، پرویز مشرف اور بعد کے تمام وزرائے اعظم کو نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیا تھا،وہ نوٹسز اور بیان حلفی کدھر ہیں؟ یہ اہم ترین معاملہ ہے اور اس میں ریاست کا یہ رویہ ہے،کیا وفاقی حکومت کی بنائی گئی کمیٹی کی میٹنگز ہوئی ہیں؟ حکم دیا تھا کہ حکم پر عمل نہیں ہوتا تو موجودہ اور سابقہ وزرائے داخلہ پیش ہوں،وزرائے داخلہ کدھر ہیں؟ کیا یہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد ہو رہا ہے؟ کیا یہ اچھا لگے گا کہ یہ عدالت چیف ایگزیکٹو کو سمن کرے؟ تمام حکومتیں آئین اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہی ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوئی کوششیں نہیں کی جا رہیں، حکم دیا تھا کہ لاپتہ افراد کی کی مشکلات عوام تک پہنچانے کیلئے اقدامات کیے جائیں،وفاقی حکومت نے پیمرا کو ڈائریکشن جاری کی ہے؟ نمائندہ وزارت اطلاعات نے عدالت میں کہا کہ براہ راست پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کو لکھ دیا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل کریں،عدالت نے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد سے متعلق کتنے پروگرامز ہوئے ہیں؟اس عدالت کے ساتھ گیم نہ کھیلیں، کس چیز کی گھبراہٹ ہے؟ وفاقی کابینہ نے کمیٹی بنائی گو کہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن کوئی اقدام تو اٹھایا گیا،یہ عدالت ان جبری گمشدگیوں کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائے؟ یا تو یہ بتا دیں کہ یہاں ریاست کے اندر ریاست ہے،یہ جتنے کیسز ہیں ان میں کسی ایک کا بھی بتا دیں کہ اسے کس نے اٹھایا ہے؟

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیر دفاع کو نوٹس جاری کرنا چاہیے؟ جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کس کے ماتحت ہے؟ یا تو وزیراعظم کہہ دیں کہ وہ بے بس ہیں،اگر وزیراعظم بے بس نہیں تو آئین انہیں ذمہ دار ٹھہراتا ہے وزیراعظم کو پھرعدالت میں یہ کہہ دینا چاہیے تاکہ کورٹ کسی کے خلاف کارروائی کرے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئندہ سماعت تک وقت دے اٹارنی جنرل خود عدالت کی معاونت کرینگے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو جو اس عدالت کے آرڈر کے ساتھ کیا اس کے بعد تو کچھ کہنا بنتا ہی نہیں، اختلاف نہیں کہ لوگ خود چلے جاتے ہیں لیکن ریاست کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے، اس ملک میں ماورائے عدالت قتل کیے جاتے رہے ہیں، پولیس کیا کرتی رہی ہے،عدالت نے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان کب تک وطن واپس آجائیں گے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل ممکنہ طور پر 10 دن میں وطن واپسی ہوجائے گی،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل 25 مئی کے عدالتی آرڈر پر عمل درآمد سے متعلق مطمئن نہیں کر سکے،لاپتہ افراد سے متعلق کابینہ کی طرف سے تشکیل کردہ کمیٹی کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا گیا ،وفاقی حکومت بادی النظر میں عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کر کے ناکام رہی عدالت پرظاہر ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد کا معاملہ سیریس نہیں لیا،وزرات داخلہ 25 مئی کے اس عدالت کے حکم پر عمل درآمد یقینی بنائے، کیس میں مزید کوئی التوا نہیں دیا جائے گا فریقین آئندہ سماعت تک دلائل دیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ 

  • دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی سے متعلق رپورٹ طلب

    دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی سے متعلق رپورٹ طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں راولپنڈی کے دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کمیشن کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ کمیشن دونوں بھائیوں کی بازیابی کے لیے کاروائی نہ کرنے کی وجوہات بتائے، رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن خالد نسیم نے عدالت میں کہا کہ رپورٹ جمع کرانے کے لیے کچھ وقت دیا جائے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے رجسٹرار کمیشن سے سوال کیا کہ لاپتہ افراد کیسز میں آپ کو وقت کیوں چاہیے ؟ اب معاملہ لاپتہ افراد کمیشن کے پاس زیر التوا ہے جو اس عدالت کے دائرہ کار میں ہے، عدالت نے لاپتہ افراد کمیشن سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 23 جون تک ملتوی کردی

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے درخواستوں پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ صحافی مدثر نارو اوردیگر کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کی،عدالت نے استفسار کیا کہ 2010 میں سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر ایک کمیشن بنایا تھا اس کی رپورٹ کہاں ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ اس وقت 800 کے قریب لوگ تاحال لاپتہ ہیں،کل 8 ہزار لوگ لاپتہ ہوئے تھے، جس میں 6 ہزار کیسسز حل ہوگئے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پریہ کیسز حل ہوئے؟ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ 2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ اس معاملے کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے، ملوث لوگوں کا احتساب کیسے ممکن ہوگا؟

  • اجلاس میں غورکرنے اوررپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسزپرفیصلہ کرناہے،عدالت

    اجلاس میں غورکرنے اوررپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسزپرفیصلہ کرناہے،عدالت

    اجلاس میں غورکرنے اوررپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسزپرفیصلہ کرناہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ اسلام آبا دہائیکورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا ہے، امید ہے کہ اجلاس میں غور کیا جائے گا ، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں غور کرنے اور رپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسز پر فیصلہ کرنا ہے جب سے یہ معاملہ عدالت نے اٹھایا ہے ریاست مسلسل لاتعلق نظر آتی ہے متاثرہ خاندان اسلام آباد میں احتجاج کرتے ہیں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی ریاست کی اس مسئلے پر اس لاتعلقی کو کیسے ختم کیا جائے ؟ ایک وزارت معاملہ دوسری وزارت پر ڈالتی رہتی ہے،محض رپورٹس منگواتے رہنے سے کچھ فائدہ نہیں ہونے والا ،یہ لاحاصل مشق ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد جن کا پتہ چل چکا وہ کہاں ہیں ،یہ بے بس عدالت نہیں کہ صرف پٹیشن کی استدعا کو دیکھے،عدالت نے لاپتہ افراد کمیشن سے متعلق تفصیلی رپورٹ مانگ لی ،عدالت نے کمیشن کو ہدایت کی کہ کمیشن کس طرح بنا؟ ٹی او آر کیا ہیں؟ کتنا عمل ہوا ؟رپورٹ پیش کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وزارت داخلہ سے کوئی آیا ہے؟ بعد ازاں نمائندہ وزارت داخلہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ منسٹری کا منفی تاثر ہے، اہم کمیشن کی رپورٹ ہی غائب ہے، عدالت چاہتی ہے کہ دلائل سننے کے بعد موثر فیصلہ سنائے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ چیز ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے، اسلام آبا دہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 25 مئی تک ملتوی کر دی

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

  • لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کیس میں سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    عدالتی حکم پر وفاق اور وزارت دفاع کا کیس میں تحریری جواب جمع کروا دیا گیا ،جمع کروائے گئے جواب میں کیس میں وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی عدالت نے وفاق اور وزارت دفاع کو 11 اپریل تک جواب جمع کروانے کی ہدایت کر دی،عدالت نے کہا کہ جو تحریری جواب آ گئے ہیں انکی کاپیاں لاپتہ افراد کے وکلا کو فراہم کی جائیں

    عدالت نے استفسار کیا کہ عدالت نے کہا تھا معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں کیا بنا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس گزشتہ کئی ہفتے سے نہیں ہورہا،

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے درخواستوں پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ صحافی مدثر نارو اوردیگر کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کی،عدالت نے استفسار کیا کہ 2010 میں سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر ایک کمیشن بنایا تھا اس کی رپورٹ کہاں ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ اس وقت 800 کے قریب لوگ تاحال لاپتہ ہیں،کل 8 ہزار لوگ لاپتہ ہوئے تھے، جس میں 6 ہزار کیسسز حل ہوگئے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پریہ کیسز حل ہوئے؟ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ 2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ اس معاملے کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے، ملوث لوگوں کا احتساب کیسے ممکن ہوگا؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو واضح ہے کہ ریاست کسی کو نہیں اٹھا سکتی ریاست نے ہی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے اگر شبہ ہو کہ ریاست خود ملوث ہے تو 50 ڈائرکشن پر بھی کچھ نہیں ہونا.عدالت نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے اور لاپتہ کمیشن کے ٹی او آرز، اور جسٹس منصور عالم کمیشن کی رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کردی۔

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

  • جبری گمشدگی،کسی کو آج تک کمیشن نے ذمہ دار قرار دیا ؟عدالت

    جبری گمشدگی،کسی کو آج تک کمیشن نے ذمہ دار قرار دیا ؟عدالت

    جبری گمشدگی،کسی کو آج تک کمیشن نے ذمہ دار قرار دیا ؟عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافی اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے سامنے جبری گمشدگی کمیشن کے پیرامیٹرز پڑھے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا کسی کو آج تک کمیشن نے ذمہ دار قرار دیا ہے ؟ لاپتہ افراد کمیشن حکام نے عدالت میں کہا کہ کمیشن کے اختیار کے مطابق پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2011سے کمیشن کام کر رہا ہے اور آج تک کبھی بھی وفاقی حکومت کو کوئی تجویز نہیں دی، آپ کا کام تھا کہ جبری گمشدگیاں روکنے کے لیے وفاقی حکومت کو تجاویز دیتے،جو اصل کام تھا وہ کمیشں نے کیا نہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جبری گمشدگی کمیشن حکام نے کہا کہ ساڑھے 500کیسز میں پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے ہیں،

    ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن سمجھتا ہے کہ ساڑھے 500کیسز بادی النظر میں جبری گمشدگی ہے؟ اگر جبری گمشدگیوں کی بازیابیاں ہوئیں تو کسی کو تو ذمہ دار ٹھہرانا ہے

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ بلوچ طالب علم کی بازیابی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے جواب طلب کر لیا،عدالت نے سیکریٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ، لاپتہ افراد کمیشن اور قائد اعظم یونیورسٹی کو نوٹس جاری کئے،عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا گیا کہ لاپتہ طالب علم کی فوری بازیابی کا حکم دیا جائے،

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

  • مدثر نارو کیس:وفاقی کابینہ کا ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

    مدثر نارو کیس:وفاقی کابینہ کا ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد :مدثر نارو کیس:وفاقی کابینہ کا ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ نے لاپتہ صحافی مدثر نارو کے خاندان کی وزیراعظم اور کابینہ سے ملاقات کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کےحکم کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق کابینہ نے عدالتی فیصلے کو آئین میں دیے اختیارات سے متصادم قرار دے دیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ فورمز کے باوجود معاملات کابینہ کوبھیجنے کے عدالتی فیصلے بڑھتے جارہے ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم اختیاراتی مثلث کے آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔

    مدثر نارو بازیابی کیس، عدالت نے شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ کو طلب کرلیاکابینہ کا مؤقف ہے کہ ایسے معاملات کو دیکھنے کیلئے متعلقہ ادارے موجود ہیں، حکومت لاپتہ افراد کے معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے ہدایت کی کہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کر کے پھر صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم اور کابینہ کو صحافی مدثر نارو کی والدہ اور بیٹے سے ملنے کا حکم دیا تھا اور ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ وزیراعظم اور کابینہ مدثر نارو کی فیملی کو مطمئن کرے۔

    مدثر محمود نارو ایک صحافی، شاعر، ترقی پسند مصنف اور رضا کار ہیں جو 2018 سے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

    مدثر 2018 میں خیبر پختونخوا کے علاقے بالاکوٹ سے مبینہ طور پر لاپتہ ہوئے تھے، وہ اپنی اہلیہ صدف اور چھ ماہ کے بیٹے کے ہمراہ وہاں سیر و سیاحت کی غرض سے گئے تھے۔

    چند ماہ قبل مدثر نارو کی اہلیہ صدف کا دل کے دورے کے باعث انتقال ہو گیا تھا جس کے بعد مدثر کی بازیابی کے لیے بلند ہونے والی آوازوں میں شدت آ گئی ہے۔

  • مسنگ پرسنز: قومی کمیشن برائے لاپتہ افراد نے اب تک 6047 مقدمات نمٹادئیے

    مسنگ پرسنز: قومی کمیشن برائے لاپتہ افراد نے اب تک 6047 مقدمات نمٹادئیے

    اسلام آباد ،لاپتہ افراد کیلئے قائم قومی کمیشن نے نومبر 2021میں مختلف مقدمات نمٹانے سے متعلق پیشرفت رپورٹ جاری کر دی ہے ، رپورٹ کے مطابق کمیشن کو ملک بھر سے مارچ 2011سے 30نومبر 2021تک مبینہ طور پر لاپتہ افراد کے 8279کیسزموصول ہوئے ہیں ، ان کیسز میں سے کمیشن نے 6047کیسز نمٹا دیئے ہیں جن میں نومبر 2021کے دوران نمٹائے گئے 123کیسز بھی شامل ہیں ۔

    چیئرمین کمیشن جسٹس(ر)جاوید اقبال کی صدارت میں لاہور میں سماعتیں کی گئیں جس کے نتیجے میں پنجاب سے متعلق 7کیسز نمٹائے گئے ، کمیشن کے ہیڈ آفس اسلام آباد اور سب آفس کراچی میں معمول کے مطابق سماعتیں کی گئیں۔ کمیشن نے لاپتہ افراد کی باضابطہ جامع فہرست کے علاوہ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کی جانب سے صوبہ بلوچستان سے متعلق لاپتہ افراد کی ایک پرانی فہرست جمع کروائی گئی ،

    ذرائع کے مطبق تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اکثر کیسز میں لاپتہ افراد سے متعلق معلومات /دستاویزات ناکافی ہیں جو کہ لاپتہ فرد کی تلاش کے لئے بہت ضروری ہیں تاہم کمیشن نے ان مقدمات کے تناظر میں متعلقہ فریقوں سے رپورٹس طلب کر لی ہیں جس میں ان کا نام، والدین، لاپتہ ہونے والے علاقے ،تحصیل سے متعلق معلومات طلب کی گئیں ۔اس تناظر میں ڈپٹی کمشنر ضلع کیچ ، آواران اور پنجگور نے اپنا جواب بھیجا اور بعض لاپتہ افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کی تصدیق سے متعلق کمیشن کو سرٹیفکیٹ بھیجے ۔

    ادھر ذرائع کے مطابق 748لاپتہ افراد کے اپنے گھروں کو واپس آنے کی اطلاعات ہیں ۔ بلوچستان کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کا معاملہ بھی کمیشن نے وزارت داخلہ بلوچستان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ ا ٹھایا ہے ۔ابتدائی نوٹس کے بعد یہ دیکھا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش میں تیزی کے لئے کمیشن کے ایک رکن کی ریجنل آفس کوئٹہ میں موجودگی ضروری ہے، اس تناظر میں کوئٹہ میں کمیشن کا ریجنل آفس قائم کر دیا گیا ہے جس نے 15نومبر 2021سے کمیشن کے سینئر ممبر اور ریجنل آفس کے انجارچ جسٹس فضل الرحمن کی سر براہی میں کام شروع کر دیا ہے حالانکہ ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں بھی ان کی خدمات کی اشد ضرورت ہے ۔بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نومبر 2021کے 15دنوں کے دوران 60سے زائد لاپتہ افراد کو تلاش کیا گیا ہے ۔

    کمیشن کی طرف سے جاری حقائق کے مطابق بلوچستان کے بی ایریا سے تعلق رکھنے والے 808لاپتہ افراد کو تلاش کیا گیا ہے جو کہ اپنے گھر وں میں واپس پہنچ گئے ہیں باقی رہ جانے والے لاپتہ افراد کی تلاش کے لئے کوششیں جاری ہیں ۔ کمیشن کے چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال کی انتھک کوششوں اور شاندار قیادت میں 6047کیسز کو نمٹانا ممکن ہوا ہے ۔گھروں کو واپس لوٹنے والے لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے چیئرمین کمیشن جسٹس جاوید اقبال کا دلی شکریہ ادا کیا ہے ،

     

     

    اسی طرح لاپتہ افراد کمیشن اقوام متحدہ کے لاپتہ افراد سے متعلق ورکنگ گروپ کے ہر اجلاس کے بعد اس کی رپورٹس پر جواب دیتا ہے ، کمیشن کو وزارت خارجہ کے ذریعے اس ورکنگ گروپ کے 20سے 29ستمبر 2021کو ہونے والے 125ویں اجلاس کی رپورٹ موصول ہو گئی ہے ۔ ورکنگ گروپ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لاپتہ افراد قومی کمیشن کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹس کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف 13کیسز کو فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے جبکہ 15لاپتہ افراد جو کہ افغانی ہیں اور 1985سے 1990کے دوران لاپتہ ہوئے تھے یہ کیسز لاپتہ افراد قومی کمیشن ، وزارت داخلہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس اور وزارت خارجہ اور جنیوا میں پاکستان کے مستقل مشن کی کوششوں سے افغانستان کی جانب منتقل کر دیئے گئے ہیں۔