Baaghi TV

Tag: لاڈلا

  • جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے  پورے نہ ہونے سے خطرہ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    ہمارے سیاستدانوں کی تاریخ کیا لکھی جائے گی ؟ ملک مقروض،عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم،مہنگائی ، بے روزگاری عروج پرہے اور یہ ایک دسرے کو غدار ،سیکورٹی رسک ، انڈیا کا یار، یہودی ایجنٹ ، امریکی ایجنٹ گردانتے ہیں اور اب بات لاڈلا تک پہنچ چکی ہے،یاد رکھیے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی لاڈلا نہیں،اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی یہ سرزمین اور عوام ہیں اسی سرزمین کی سلامتی کی خاطر اسٹیبلشمنٹ قربانیاں دیتی ہے،موجودہ دور میں قومی سلامتی کی تعریف وسیع ہو گئی ہے اور معیشت اس کا ایک بڑا حصہ ہے،فوج کا ساتھ ہر طبقہ فکر کے لوگ دیتے ہیں،تب ہی فوج کا جذبہ جوان رہتا ہے اور وہ کامیاب ہوتی ہے، فوجی کے جذبات دل و دماغ میں پرورش پاتے ہیں اور جنگ کے موقع پر وہا ں کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔

    فوج کے نیچے سے تو سیاستدان زمین کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں،سیاستدان چاہتے ہیں ، فوج آئین اور قانون کے تحت ان کی تابع رہے،یہ بات درست ہے لیکن سیاستدان بھی تو اپنا قبلہ درست رکھیں،فوج کو اپنا ہی سمجھیں اس کی وجہ سے ملک قائم ہے اوریہ فوج ہی ملکی سلامتی کی ذمہ دار ہے، جمہوریت کو فوج نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہے ۔ خدارا اپنی فوج سے غیریت مت برتیے، سیاستدانوں کو لاڈلاکی سیاست سے بالاتر ہو کر ملکی اور قومی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا،نواز شریف اگر لاڈلے ہوتے تو تین بار وزارت عظمٰی سے کیوں نکالے جاتے ؟نواز شریف کے خلاف کرپشن کی داستانیں آج طوطا میںا کہانیاں ثابت ہورہی ہیں، ان کے ا دوار میں کئی میگا پراجیکٹس آج قومی اثاثے ثابت ہو رہے ہیں، جن میں موٹر ویز سرفہرست ہیں، ایٹمی طاقت کا اظہارقومی دفاع کی علامت بن چکا ہے،

    سیاستدانوں کے لئے بھٹو کی پھانسی، محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل ، نواز شریف کی اقتدار میں انٹری اور ایگزٹ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں اور مقتدر حلقوں میں نوازشریف کی حب الوطنی اور عالمی تناظر میں اہمیت روز روشن کی طرح واضع ہو چکی ہے ،تمام سیاسی قوتوں کو ذاتیات سے بالاتر ہو کر ملکی اور قومی مفادات کودیکھنا ہو گا، ورنہ ذر ا سوچئے اگر جمہوریت کی پری نے مکھڑا پھیر لیا تو پھر کیا ہو گا؟ نواز شریف کیسا لاڈلا ہے 2002 ، 2008 اور 2018 کا الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا، 2013 عدالتی حکم پر الیکشن لڑا،اب فیصلہ عوام کریں لاڈلاکون ہے ؟

  • نواز کو نکالا گیا،مجھے بھی نکالنا چاہتے ہیں تو میں بھی تیار ہوں،وزیراعظم

    نواز کو نکالا گیا،مجھے بھی نکالنا چاہتے ہیں تو میں بھی تیار ہوں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے اعتعماد کاووٹ لینے کے بعد پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس اعتماد کیلئے قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں،وزیراعظم نے اپنی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا نام لے کر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ اس ایوان کے اعتماد کا مان رکھوں گا،2018میں اس ملک کی معیشت بہترین تھی،پانچ سال گرز گئے متنازع الیکشن دھاندلی کی تحقیق نہیں ہوسکی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سائفر کے ذریعے امریکہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، پاکستان کیلئے بہت جلد سستا پٹرول مہیا کرینگےجناب اسپیکر پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے ،میرا فرض ہے کہ میں پارلیمان کے فیصلے کا احترام کروں،جناب اسپیکر یہ ہو نہیں سکتا کہ پارلیمان آئین بنائے،آئین بنانے کا اختیار صرف پارلیمان کو ہے،آج پارلیمان نے میرے پہ ا عتماد کا اظہار کر دیا ہے،نواز شریف کو بدقسمتی سے نااہل کر دیا گیا،اگر یہ مجھے بھی نکالنا چاہتے ہیں تو میں اس کے لیے بھی میں تیار ہوں،پارٹی کے لوگ مجھے سیاست کے معاملے میں اچھی آگاہی دیتے ہیں،جناب اسپیکر بات چیت کا ایجنڈا کیا ہے ؟ایجنڈا یہ ہونا چاہئیے کہ پورے پاکستان میں ایک دن الیکشن ہوجناب اسپیکر عدات ہر بار پنجاب میں انتخابات کی بات کیوں کرتی ہے،جناب اسپیکر اس ہاؤس میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جنہوں نے پندرہ سال جیلیں کاٹی ہیں ،نیب نیازی نے مل کر کر نوازشریف کی بیٹی کو گرفتار کیا،جناب اسپیکر پاکستان کے خلاف بدترین سازشیں بوئیں،ہمیں اس ملک کو بنانے کی جو ذمہ داری دی گئی اس کو پورا کرنے دیا جائے،ہمیں بے کار کی الجھنوں میں نہ ڈالا جائے،ملک میں دہرے معیار نے نظام عدل کا دفن کیا،  بیٹیوں کے گھروں کو پولیس نے گھیر ے میں لیا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک لاڈلے کیلئے سوموٹو آجاتا ہے آج پارلیمان کی آئنی حیثیت کو چیلنج کیا جا رہا ہے، اس پارلیمان کی آئنی طاقت کوئی نہیں چھین سکتا،

    قومی اسمبلی مییں مولانا اسعد محمود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر وزیر اعظم کو مبارکباد دیتا ہوں،ہم اپنے ملک کے آئین کی حفاظت کررہے ہیں،پاکستان میں ایک اسرائیلی نمائندہ اپنے نظریات کے مطابق کام کررہا ہے، سیاستدانوں کے مزکرات پر اصولی طور پر اتفاق کرتے ہیں،یکطرفہ فیصلے کے بعد پارلیمان حرکت میں آئی،سیاستدانوں کے مزاکرات کسی دباؤ میں نہیں ہونے چاہیں،

    شاہد خاقان عباسی بھی وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کے لئے موجود تھے ،وزیر اعظم نے 180 ارکان کی حمایت حاصل کرلی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے اعتماد کا ووٹ لے لیا ،اعتماد کے ووٹ کےلیے 172 اراکین کی ضرورت تھی،اسپیکر نے اعلان کیا کہ 180 ارکان نے وزیراعظم شہباز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا ،وزیراعظم کو ایوان کے اراکین کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہے ۔آج مفتی عبد الشکور زندہ ہوتے تو یہ تعداد 181 ہوتی،ووٹ دینے والے تمام اراکین کے نام قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر ڈالیں،اسپیکر کے اعلان ہوتے ہی ایوان میں شیر شیر کے نعرے لگ گئے ،اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض، چیئرمین پی اے سی نور عالم خان سمیت دیگر پی ٹی آئی ممبران ایوان میں موجود تھے

    وزیراعظم کے قومی اسمبلی میں پہلے سے 6 ووٹ بڑھ گئے ،وزیراعظم شہباز شریف 2022 میں 174ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئے تھے، وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ میں 180 اراکین کی حمایت حاصل ہوئی ،ضمنی انتخابات میں عبدالقادر مندوخیل، علی موسی گیلانی اور عبدالرحیم بلوچ رکن منتخب ہوئے دو آزاد اراکین کی وزیراعظم کو حمایت حاصل ہوئی،بی اے پی کی زبیدہ جلال بھی حکومتی بنچز پر آگئیں مسلم لیگ ن نے ضمنی انتخابات میں ایک مزید سیٹ جیتی ،شائستہ پرویز جیت کر آئین اور ان کی جگہ مخصوص نشست پر شکیلہ لقمان آگئی

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    ،جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

    ،وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث