Baaghi TV

Tag: لاک ڈاون

  • دکانیں زبردستی بند کروانے پر نگران وزیراعلیٰ کا نوٹس

    دکانیں زبردستی بند کروانے پر نگران وزیراعلیٰ کا نوٹس

    وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے بعض علاقوں میں مارکیٹیں اور دکانوں زبردستی بند کرانے کے واقعہ کا سخت نوٹس لے لیا

    پنجاب حکومت کی جانب سے آج 10نومبر کو مارکیٹیں اور دکانیں بند کرانے کا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا،نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سموگ کی وجہ سے صرف ہفتے کے روز(11نومبر)کو دکانیں اور مارکیٹیں بندرکھنے کا فیصلہ کیا،بارش اور حکومت پنجاب کے اقدامات کے باعث آج سموگ میں نمایاں کمی آئی ہے،میں ذاتی طور پر اور پنجاب حکومت کی جانب سے تعاون پر تاجربرادری کا شکریہ ادا کرتا ہوں،سموگ سے نمٹنا ایک قومی ذمہ داری ہے اور ہم نے لاہور اور اپنے شہروں کو رہنے کے قابل بنانا ہے،اس ضمن میں حکومتی اقدامات کا ساتھ پورے معاشرے کو دینا ہو گا،تبھی ہم اس آفت سے نبرد آزما ہو سکیں گے،

    واضح رہے کہ سموگ کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد آج پولیس نے لاہور کے کئی علاقوں میں زبردستی دکانیں بند کروا دی تھیں جس پر تاجر رہنما نعیم میر کا کہنا تھا کہ اسموگ کے پیش نظر حکومت نے چار دن سمارٹ لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا۔ کمشنر لاھور سے مزاکراتی عمل کے نتیجے میں 9 اور 10 نومبر کو کاروبار کھلے رکھنے پر اتفاق ھوا۔ 11اور 12نومبر کو مارکیٹیں بند کرنے پر بھی اتفاق ھوا۔حکومت نے نوٹفکیشن جاری کردیا۔آج بروز جمعہ 10 نومبر مارکیٹوں کو بند کرنے کے لئے پولیس نے دھاوا بول دیا۔ یہ حکومت کے نوٹفکیشن اور ھماری انڈرسٹینڈنگ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔بارش ھوجانے کی صورت میں سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ آج بارش بھی ہوئی اور لاھور کا ائیر کوالٹی انڈیکس بہتر ھوگیا۔ حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرے۔ حکومت اپنی کریڈیبیلٹی خراب نہ کرے۔ اگر حکومت کے جھوٹ بولنے کا تاثر عام ھوگیا تو ہم کبھی بھی اعتبار نہ کریں گے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن فی الفور ختم کرنے کا اعلان کیا جائے۔

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    دوسری جانب صوبائی وزیر ماحولیات بلال افضل کا کہنا ہے کہ آج ہونے والی بارش کے باعث لاہور کا ایئر کوالٹی انڈکس صاف اور نچلی سطح پر آگیا ،سمارٹ لاک ڈاؤن اور بارشوں سے ہم توقع کر سکتے ہیں کہ اگلے ہفتے ہمارا اے کیو آئی نچلی سطح پر رہے گا، سمارٹ لاک ڈاؤن ابھی جاری ہے ، اگلے 3دن انوائرمینٹ کافی صاف ہو جائے گا،جس سے ہمارا ائیر کوالٹی انڈکس نچلی سطح پر رہے گا،

    سمارٹ لاک ڈاؤن ختم نہیں ہو گا،ہفتہ اور اتوار کو سمارٹ لاک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا، سمارٹ لاک ڈائون اور بارشوں سے اگلے ہفتے آلودگی کم رہے گی،صوبائی وزیر ماحولیات بلال افضل کا کہنا ہے کہ بارش کے باعث لاہور کا ائیر کوالٹی انڈکس صاف اور 60کی نچلی سطح پر آ گیا،

    جمعہ کومارکیٹیں کھلی ہونی تھیں لیکن پولیس نے تاجروں کو ڈرایا دھمکایا،نعیم میر
    لاہورپریس کلب میں آل پاکستان انجمن تاجران کے چیرمین سپریم کونسل نعیم میر نے لاہور میں مارکیٹوں کی بندش کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج لاہور کے تمام تاجر پریس کلب میں اکٹھے ہوئے ہیں وزیراعلی نے چھٹی کا اعلان کیا اور بعدازاں مارکیٹوں کی چھٹی کا فیصلہ بعد میں کیا،کمشنر لاہور اور دیگر حکام کی جانب سے بات چیت کی اور جمعہ کو کاروبار کی اجازت ملی،لیکن رات ساڑھے بارہ ہمارے مختلف مارکیٹ صدور کو کال کیے گئے کہ فلاں ایس پی کے سامنے پیش ہوں،صبح ہم سے پہلے پولیس مارکیٹوں میں پہنچ چکی تھی،تاجروں کو ڈرایا دھمکایا گیا،جو کاروائی کی گئی وہ وزیراعلی کے علم میں لائے بغیر کی گئی،جمعہ والے دن دیگر شہروں سے ہول سیل مارکیٹ سے خریداری کے لیے دوسرے شہروں سے لوگ آے ہیں،پولیس نے گارڈ اور ہمارے لوگوں کے ساتھ زبردستی کی، تاجروں کو دھمکایا اور ایف آئی آر کا کہا، وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک پیغام ملا کہ کاروبار کرنے کی اجازت ہے، پولیس کی جانب سے کاروائیوں پر لاعلمی کا اظہار کیا،وزیر اعلیٰ کا بیان اور پولیس کی کاروائی دو متضاد کام ہیں،پولیس باس ہے یا وزیر اعلیٰ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی، ہم نے دوبارہ دکانیں کھولیں ، ابھی بھی کہیں کہیں پولیس گردی ہو رہی ہے،جمعے کا دن لاہور کے لیے بہت اہم ہے پنجاب کے دیگر اضلاع سے لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں، آج کا سارا دن اسی لڑائی جھگڑے میں ضائع ہو گیا،کاروبار کہاں جاری رہا کاروبار تو وڑ گیا، ہم مطالبہ کرتے ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب سے آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر بارش ہو جاتی ہے ایئر کوالٹی انڈیکس بہتر ہو جاتا ہے تو لاک ڈاؤن ختم کر دیں گے، آج صبح بارش ہوئی اب سمارٹ لاک ڈاؤن کا بنیادی جواز ختم ہو گیا ، کل کا لاک ڈاؤن فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کریں، آئی جی صاحب نے پولیس کا جو سافٹ امیج بنا کر دیا وہ آج نظر نہیں آیا، آج پورے لاہور میں شفقت چیمہ نظر آتا رہا، پولیس اپنے کام تو کر نہیں پا رہی کرائم کنٹرول ہو نہیں رہا، سموگ کے خاتمے کے لیے آپ کو دوبارہ ہمارے ساتھ ملنا پڑے گا،ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے ہم نے اس مسئلے کو باہمی مشاورت سے کام ہو سکتا ہے،زبردستی مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے،

  • کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم

    کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم

    لندن:کورونا شاید اب کورونا نہ رہے:یورپین ممالک میں‌ ایک بحث:ماسک کی پابندی ختم،اطلاعات کےمطابق اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس سیزن کے وائرل فلو کی طرح COVID-19 کو ایک عام بیماری قرار دیتےہوئے اس کے حوالے سے یورپین برادری کی ایک متفقہ رائے لینے کے لیے رابطے شروع کردیئے ہیں‌

    "صورتحال وہ نہیں ہے جس کا ہم نے ایک سال پہلے سامنا کیا تھا،” سانچیز نے اسپین کے کیڈینا ایس ای آر کے ساتھ ایک ریڈیو میٹنگ میں کہا۔ "میرے خیال میں ہمیں اب تک جس وبائی بیماری کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے ہمیں COVID کے ارتقاء کا ایک مقامی بیماری کی طرف جائزہ لینا ہوگا۔”

    ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات اٹھانے سے اس بات کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کورونا اب وبائی مرض نہیں بلکہ موسمیاتی اور عارضی بیماری کے طور پردیکھا جائے گا، جیسا کہ یہ اس وقت موسمی انفلوئنزا کا سراغ لگاتا ہے،

    اسپین کی طرف سے دباؤ اسی طرح یوروپی ممالک کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو اس بیماری میں بُری طرح مبتلاہیں‌ ، جیسا کہ جرمنی جو ایک شدید حفاظتی ٹیکوں کا آرڈر پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ، اور فرانس ، جہاں صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ انہیں غیر ویکسین شدہ افراد کو "پریشان” کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ ویکسین لگوا کر دوسروں کے لیے مسائل پیدا کرنے سے دور رہیں‌

    اسپین کی اس تنظیم کی طرف سے کیے گئے اقدامات اس فریم ورک اس کی عکاسی کرتا ہے جو ملک میں انفلوئنزا کے بھڑک اٹھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بیماری کی لہروں کا اندازہ لگانے اور ان پر رد عمل ظاہر کرنے کے لیے منتخب ماہرین سے ٹیسٹ کی معلومات کا استعمال کرتا ہے

    اسپینی حکام کا کہنا ہے کہ اس کو فلو کی حیثیت سے ڈیل کیا جائے گا اور ملک میں جو سخت پابندیاں ہیں ان کو ختم کردیا جائے گا تاکہ عوام الناس آزادانہ چل پھر سکیں اور اس سلسلے میں ماسک کی پابندی کو بالکل ختم کردیا جائے گا لیکن اس کےلیے پہلے یورپین ممالک کے ساتھ مشاورت ضروری ہے

  • کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون اوراب فلورونا:بھارت کے بندہونے کا خطرہ:دہلی میں لاک ڈاون شروع

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون اوراب فلورونا:بھارت کے بندہونے کا خطرہ:دہلی میں لاک ڈاون شروع

    نئی دہلی. ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے ایک بار پھر پابندیوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ خود راجدھانی دہلی میں بھی مسلسل بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے پیش نظر پابندیاں دوبارہ سخت کر دی گئی ہیں۔

    اس کے تحت ویک اینڈ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر میں گھر سے کام کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے جبکہ پرائیویٹ دفاتر میں اہلکاروں کی حاضری پچاس فیصد رکھی گئی ہے۔

    ہلاکت خیز کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے دہلی حکومت نے ویک اینڈ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ہفتہ اور اتوار کو رات کے کرفیو کے علاوہ دن کا کرفیو بھی ہوگا

    دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے منگل کو یہ اطلاع دی انہوں نے کہا کہ ویک اینڈ کرفیو لگانے کا فیصلہ ڈی ڈی ایم اے کے اجلاس میں کیا گیا انہوں نے کہا کہ ضروری خدمات کے علاوہ باقی سب پر کرفیو کا نفاذ ہوگا

    انہوں نے کہا کہ میٹرو اور بس کو 50 فیصد گنجائش پر چلانے کے فیصلے کے بعد دیکھا گیا کہ بس اسٹاپ اور میٹرو اسٹیشن کے سپر اسپریڈر بننے کاخدشہ ہے اس لیے اب بس اور میٹرو صد فیصد گنجائش کے ساتھ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بس اور میٹرو میں ہر ایک کے لیے ماسک پہننا لازمی ہو گا۔

    نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے اب گھر سے کام کریں گے، جب کہ 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ پرائیویٹ دفاتر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ضرورت کے وقت ہی گھروں سے باہر نکلیں۔ کورونا کے گائیڈ لائن پر سختی سے عمل کریں اور ماسک پہنیں۔

    ممبئی میں بھی کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے پیش نظر ممبئی کے میئر کشاری پیڈنیکر نے واضح کیا ہے کہ اگر کیس 20 ہزار سے اوپر جاتے ہیں تو لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے گا۔ یہاں وبا کی وجہ سے کچھ عرصہ قبل کھلنے والے سکول دوبارہ بند کیے جا رہے ہیں۔

    مہاراشٹر میں بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے اسکولوں کو ایک بار پھر بند کرنا پڑا ہے۔ ایک طالب علم کی ماں نے بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ اسکول بند کر دیا گیا ہے۔ سمارٹ فون نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بیٹا آن لائن کلاسز لینے سے قاصر ہے۔ اس سے اس کی پڑھائی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دہلی میں بڑھتی سردی اور کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے اسکول پہلے ہی بند کر دیے گئے ہیں۔

    دہلی میں اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیس بھی اس کی وجہ بن گئے ہیں۔ ملک میں جس طرح سے کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں، اس کا نیا ویریئنٹ اومیکرون بھی اس میں شامل ہے۔ اس کی منتقلی کی رفتار اب تک سامنے آنے والے تمام ویریئنٹس سے بہت زیادہ ہے۔

    تاہم، دہلی میں ایمس نے اپنے تمام فیکلٹی ممبران کو فوری طور پر ڈیوٹی میں شامل ہونے کو کہا ہے۔ ایمس نے موسم سرما کی چھٹیوں کے باقی دنوں (5 جنوری سے 10 جنوری) کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔

  • لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

    لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

    لندن :.لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا ،اطلاعات کے مطابق برطانوی ماہرین نےلاک ڈآؤن میں تحقیق کرکے ایک نیا انقلاب برپا کردیا ہے ، اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ ماہرین نے 550 جانور دریافت کرکے تحقیق میں ایک نیا باب کا اضافہ کردیا ہے

    ایک گول مٹول سا بھنورا، پنکھے نما حلق والی چھپکلی اور ایک دیوہیکل چوہا جیسی نئی انواع سال 2021 میں دریافت ہوئی ہیں۔یہ تمام دریافتیں برطانیہ کے نیچرل ہسٹری میوزیم کے ماہرین نے کی ہیں جو کووڈ 19 کی خوفناک وبا کے باوجود منظرِ عام پرآئی ہیں۔ اس میوزیم کو وائٹ نامی جزیرے پر دو گوشت خور ڈائنوسار کے آثار بھی ملے ہیں جنہیں سب سے بڑی دریافت کہا جاسکتا ہے۔

    ایک اور دریافت کو چیف ڈریگن کا نام دیا گیا ہے جو ایک طرح کا ڈائنوسار تھا لیکن اس کی جسامت مرغی جتنی تھی۔ اگرچہ برطانیہ میں ڈائنوسار کی دریافت کی تاریخ 150 سال پرانی ہے لیکن میوزیم سے وابستہ سائنسداں سوسانا میڈمنٹ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باوجود جدید تحقیق ہوئی، دنیا بھر سے ڈیٹا ملا اور نت نئی دریافتیں ہوئیں جن میں ڈائنوسار سرِفہرست ہیں۔

    کورونا وبا میں باہرنہ جانے کی وجہ سے سائنسدانوں نے میوزیم کے ان آثار کو دیکھا جو ایک عرصے سے لکڑیوں کے باکس یا ڈسپلے میں رکھے تھے۔ فرصت کی وجہ سے ان پر دن رات غور کیا گیا اور زمین کے ماضی اور حال سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں نئی انواع سامنے آئیں جن میں پرندے، حشرات، پودے اور دیگر جانور شامل ہیں۔

    ان میں سے بعض جانور کے آثار یا فاسل 60 سال سے رکھے ہوئے تھے لیکن ان پر نگاہ نہیں گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میوزیم کے سائنسدانوں نے اسے لاک ڈاؤن پراجیکٹ کا نام دیا ہے۔ بلاشبہ یہ زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ وہ بحران میں مفید اور تحقیقی کام کرتی رہتی ہیں۔

  • برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے

    برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے

    لندن: برطانیہ:چند گھنٹوں میں‌ اومی کرون کے 93 ہزار سے زائد کیسز:ہرطرف خوف اوربے بسی کے ڈیرے ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں ڈیلٹا سے 70 گنا زیادہ خطرناک کورونا کے اومیکران ویریئنٹ نے تباہی پھیلا دی ،ایک ہی دن میں 93ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آگئے ،

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک دن پہلے انگلینڈ میں 88ہزار کیسز سامنے آئے تھے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلینڈ میں اب تک کورونا سے متاثر افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے،عالمی موذی مرض سے برطانیہ میں ایک لاکھ 47ہزار افراد موت کو گلے لگا چکے ہیں ۔

    سکاٹ لینڈ کے وزیر نکولا اسٹور جیون نے کہا ہے کہ اومیکران ویریئنٹ اب ملک میں موثر ویریئنٹ بن چکا ہے۔ ایک ہفتے پہلے جس سونامی کو لے کر میں نے وارننگ دی تھی، وہ اب آچکا ہے۔ دوسری طرف اومیکرون کی حالیہ تباہی کو دیکھتے ہوئے برطانیہ بھر میں 26 دسمبر کے بعد نائٹ کلبوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

    ادھر دوسری طرف ان خطرات کے پیش نظر جان لیوا عالمی وبا کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے برطانیہ میں حکومتی اقدامات کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا، بل کے مطابق نائٹ کلب اور بعض دیگر مقامات پر داخلے کیلئے ویکسینشن کا ثبوت یا کورونا کا منفی نتیجہ دکھانا ہوگا۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں ماسک، سیلف آئسولیشن کی جگہ روزانہ لٹرل فلو ٹسٹ اور کوویڈ پاسپورٹ پر الگ الگ ووٹنگ ہوئی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں نائٹ کلب، سینما، تھیٹرز اور میوزیم میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت کے 97 ارکان پارلیمنٹ کی مخالفت کے باوجود حکومت نے تمام بل منظور کرالئیے، 97 ارکان نے کووڈ پاسپورٹ کے معاملے پر مخالفت کی۔ 2019 کے الیکشن کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو پارٹی ارکان کی طرف سے بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ اومی کرون سے ایک ہلاکت کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ اس سے قبل برطانوی وزیر صحت نے کہا تھا کہ اومیکرون ویرینٹ کے پھیلاؤ کی شرح تو غیرمعمولی ہے، لیکن ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

  • حکومت پنجاب کا لاک ڈاون پرسختی سے عملدرآمد کروانے کا فیصلہ.

    حکومت پنجاب کا لاک ڈاون پرسختی سے عملدرآمد کروانے کا فیصلہ.

    پیر کے بعد سے مارکیٹیں کھلنے پر ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ. مارکیٹوں کی تین دن بند ش کے فیصلے پر بھی سختی سے عمل کروایاجائےگا. افسوس ہے کہ لاک ڈاون نرمی کے دوران اکثر بازاروں میں ایس اوپیز پر عمل نہیں کیاگیا، مارکیٹوں میں معمول سے زیادہ رش اور ایس اوپیز کی کھلی خلاف ورزی نظر آئی . یہ دوکاندروں کی ذمہ داری تھی کہ ایس اوپیز پر سختی سے عمل کرتے اورکراتے ،وزیرقانون. جمعہ ،ہفتہ ،اتوار تین دن بازار مارکیٹس کو بند رہنا ہے. ان تین دن میں سختی سے عمل کرایاجائے گا کسی کو سہولت نہیں ملے گی. آئندہ پیر سے مارکیٹس کھلنے پرایس او پیز کی خلاف ورزی ہوئی تو حکومت ایکشن پرمجبور ہوگی.صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت.

  • ضلع اوکاڑہ میں لاک ڈاون کی خلاف ورزیاں

    ضلع اوکاڑہ میں لاک ڈاون کی خلاف ورزیاں

    ضلع اوکاڑہ(علی حسین مرزا) ضلع اوکاڑہ میں لاک ڈاون پر عمل نہیں ہورہا۔ بہت سی ایسی دکانیں ہیں جنہیں بند رکھنے کا حکم ہے لیکن ان کو کھول لیا جاتا ہے اور گاہک بھگتا کر ان کو بند کردیا جاتا ہے اور نظر بچا کر پھر کھول لیا جاتا ہے۔ کھولنے اور بند کرنیکا یہ عمل شام 5 بجے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ دیگر پابندیوں اور احتیاطوں کو بھی خودبخود جواز ملتا جارہا ہے۔

  • لاک ڈاون اور چاروں طرف پھیلا بھوک کا عفریت از فیصل ندیم

    میری زندگی میں اور شائد اس سے بہت پہلے تک دنیا نے ان حالات کا سامنا نہیں کیا کرونا وائرس نے گویا ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اپنی توپوں اور میزائلوں سے دنیا کے بیشمار ملکوں کو تباہ و برباد کردینے والے دنیا کے بڑے بڑے طاقتور ممالک بھی کرونا کے سامنے ڈھیر ہوچکے ہیں امریکہ جسے دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے اس کے سب جدید شہر نیویارک کے جدید ترین ہسپتالوں کے انتہائی قابل ڈاکٹر آنکھوں میں آنسو لئے بے بسی کا اظہار کررہے ہیں ایسے میں پاکستان جیسا ملک بھی جو پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے کرونا کے خلاف اپنی جنگ لڑنے میں مصروف ہے بیس کروڑ لوگوں کا ملک وسائل کی کمی کے باوجود ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ اپنی عوام کو اس مہیب خطرے سے بچایا جاسکے اس مقصد کیلئے ملک کے کونے کونے میں قرنطینہ سینٹر اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن چونکہ یہ مرض افراد میں ایک سے دوسرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جائے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالہ سے مسلسل اقدامات کررہی ہیں مساجد مندر چرچ تعلیمی ادارے شاپنگ سینٹرز ہوٹل ریستوران کارخانے کاروبار پبلک ٹرانسپورٹ جہاز ٹرین سب ہی بند کیا گیا ہے یہ ٹھیک ہے سماجی فاصلہ رکھنا اس مہلک بیماری کا شکار ہونے سے بچنے کیلئے ضروری ہے اور اس کیلئے یہ سب اقدامات بھی ضروری ہیں لیکن ان اقدامات سے ایک اور بہت بڑا خطرہ جنم لے رہا ہے یہ وہی خطرہ ہے جس کی جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب بار بار اشارہ کرتے رہے ہیں اور وہ ہے بھوک ۔۔۔۔

    ہر طرح کا کاروبار زندگی مفلوج ہونے سے مزدور طبقہ تو فوری طور پر بری طرح متاثر ہوگیا اور بیروزگاری کے پہلے دن سے روز کمانے اور روز کھانے والے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے لیکن زیادہ بڑا مسئلہ گزرتے دنوں کے ساتھ سفید پوش طبقہ بھی بیروزگاری کا عفریت تلے دب کر روزی روٹی کی تنگی کا شکار ہونا ہے بھوک کے اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے
    یہ پاکستان کے عوام کی مستقل بدقسمتی ہے کہ وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سیاسی قیادت کی موقع اور مفاد پرستی کے سبب درست منصوبہ بندی کے ساتھ کئے گئے دیرپا اور دور رس اقدامات سے ہمیشہ محروم رہے ہیں جس کا نتیجہ ملک میں ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار و افتراق کی صورت میں نکلتا رہا ہے آج بھی کہ جب ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے ہم قومی اتفاق رائے سے محروم ہیں وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی کا زبردست فقدان ہے اس مہیب خطرے سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر زور زیادہ ہے ایسے میں پاکستانی عوام پریشان ہیں کرونا وائرس اور بھوک کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کیا راستہ اختیار کریں

    پاکستان کے عوام دنیا میں فلاحی کاموں پر شائد سب سے زیادہ خرچ کرنے والی قوم ہیں اب بھی بیشمار لوگ اس حوالہ سے میدان عمل میں موجود ہیں ماسک سینیٹائزر کھانا اور خشک راشن کی تقسیم کا عمل بھی ہر طرف جاری ہے لیکن اس بار ضرورت شائد اتنی زیادہ ہے کہ روایتی طریقوں سے اس آفت کا مقابلہ ممکن ہی نہیں ہے
    سب سے پہلے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی اتفاق رائے سے کرونا کے مقابلے کی تحریک کو آگے بڑھائیں انفرادی طور پر کی جانے والی تمام کوششوں کو مربوط کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے کہ مستحق افراد تک کم از کم خوراک ضرور پہنچائی جاسکے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے پھندوں میں پھنسے ہمارے ملک کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ سارے ملک کو بٹھا کر کھلا سکے اس کار خیر میں مخیر حضرات کو شامل کرنا انتہائ ضروری ہے لیکن سیاستدانوں پر عمومی بد اعتمادی اس کار خیر کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اس رکاوٹ کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا پاکستان میں عوامی سطح پر احترام کیا جاتا ہے انہیں آگے لاکر ان کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے اگلا کام جو اس سے بہت زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ علاقے جو اب تک کرونا سے محفوظ ہیں انہیں پوائنٹ آؤٹ کرکے علیحدہ کیا جائے ان میں بیرونی آمد و رفت کو سوائے اجناس کی ترسیل کے نظام کے بند کیا جائے اور پھر انہیں ہر طرح کی سرگرمی کیلئے کھولا جائے تاکہ کاروبار زندگی کو چلا کر لوگوں کی روزی روٹی کا بندوبست کیا جاسکے تمام بڑے کارخانوں اور فیکٹریز کو کھولا جائے ان میں احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کام شروع کیا جائے تاکہ جہاں ہم اپنے لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرکے بھوک کا مقابلہ کرسکیں وہیں دنیا سے مہنگے داموں اشیائے ضرورت خریدنے کے بجائے اپنے پاس ان کی پروڈکشن شروع کرسکیں یہ طے ہے کہ کرونا وائرس سے نجات دنوں میں ممکن نہیں ہے چین جیسے باوسائل اور جدید ملک کو بھی اس خطرے سے نمٹتے چوتھا مہینہ ہے تو ہم جیسے معاشی طور پر کمزور اور غریب ملک کو شائد اس خطرے سے نمٹنے کیلئے زیادہ وقت درکار ہوگا اس لئے یہ ممکن نہیں کہ سارے ملک کو بند رکھ کر ملک میں بھوک سے بدحال لوگوں کا جم غفیر جمع کرلیا جائے اللہ نہ کرے بھوک کے بڑھنے سے ملک افراتفری اور انتشار کی طرف بھی جاسکتا ہے اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہوگی جان لیجئے قیادت کی اہلیت کا اصل اندازہ ہمیشہ مشکلات میں ہوتا ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ اس کڑے وقت میں ملکی اور صوبائی قیادت اپنے اوسان قابو میں رکھے اپنی عمومی سیاسی ضروریات سے قطع نظر ہوکر ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان اور اس کی عوام کا تحفظ ممکن ہو پاکستانی قوم کو بھی اس وقت میں ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ذاتی اور انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کام کرنا ہوگا اپنے اردگرد موجود اپنے ضرورت مند پاکستانی بھائیوں کی بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب مدد کرنا ہوگی مجھے کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہم نے کامیابی کے ساتھ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرلیا تو ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا

    خیر اندیش
    فیصل ندیم