Baaghi TV

Tag: لاہور جلسہ

  • علی امین گنڈاپور کے کنٹینر  سے 3 موبائل فون غائب

    علی امین گنڈاپور کے کنٹینر سے 3 موبائل فون غائب

    لاہور جلسے کے لیے آنے والے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے کنٹینر سے 3 موبائل فون غائب ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: ڈی جے ٹیم کے تین موبائل فون کنٹینر کے اندر سے غائب ہوئے، اس حوالے سے ڈی جے ٹیم نے جیو نیوز کو بتایا کہ تینوں موبائل فونوں میں موسیقی اور پارٹی ترانے موجود تھےڈی جے ٹیم نے پریشانی کا اظہا رکیا تھا کہ لاہور تک کارکنان کو گرمانے کے لیے ان کے پاس موسیقی کا مواد نہیں ہوگا۔

    واضح رہےکہ تاخیر سے جلسہ گاہ پہنچنے پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے لیے تیار کیا گیا کنٹینر استعمال نہ ہو سکا،جس پر جلسہ میں مکمل خطاب نہ کرنے کے باعث کل مکمل بیانیہ دینے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم فارم 47 کو نہیں مناتے اور نہ ان کی آئینی ترامیم ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    ڈاکو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک

    لاہور جلسے میں شرکت کے بعد وزیراعلٰی خیبر پختونخواہ نے گاڑی میں سوار ہونے کے بعد ویڈیو پیغام میں جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ تمام رکاوٹوں کے باوجود جلسہ گاہ پہنچے اور زنداں دلان لاہور کا شکریہ ادا کرتے ہیں،لاہور کے لوگوں نے جلسے میں شرکت کی آج بھی عوام نے فسطائیت کا مقابلہ کیا، میں اپنی تقریر جاری کرنا چاہتا تھا لیکن سگنل کا مسئلہ ہے اس لیے وہ کل اتوار کو اپنا مکمل بیانیہ جاری کریں گے،لاہور کے لوگوں نے جلسے میں شرکت کی آج بھی عوام نے فسطائیت کا مقابلہ کیا، میں اپنی تقریر جاری کرنا چاہتا تھا لیکن سگنل کا مسئلہ ہے اس لیے وہ کل اتوار کو اپنا مکمل بیانیہ جاری کریں گے۔

    ایف بی آر کا کرپٹ افسران کا سراغ لگانے کیلئے ایجنسیوں کی …

  • گنڈا پور کی غنڈہ گردی،رائفل کے بٹ گاڑی کو مارے،شیشے توڑ دیئے

    گنڈا پور کی غنڈہ گردی،رائفل کے بٹ گاڑی کو مارے،شیشے توڑ دیئے

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور لاہور جلسے میں جلسہ کا وقت ختم نہ ہونے تک پہنچ سکے

    علی امین گنڈا پورلاہور کے قریب ہیں، جلسے کا وقت ختم ہونے کے بعد پولیس نے راستے بندکر دیے ہیں جس کی وجہ سے علی امین گنڈا پور کو کارکنان کے ساتھ پیدل سفرکرنا پڑا اس دوران راستوں کی بندش پر علی امین گنڈا پور مشتعل ہو گئے،علی امین گنڈا پور نے راستے میں کھڑی گاڑی کے شیشے توڑ دیئے،علی امین گنڈا پور نے ساتھ موجود سیکورٹی اہلکار سے رائفل لی اور رائفل کے بٹ گاڑی کو مارے جس سے گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے، اس دوران کارکنان نے نعرے لگائے، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے

    پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے علی امین گنڈا پور کی غنڈہ گردی کی ویڈیو ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ فیروزوالہ علی امین غنڈا پور ہاتھ میں رائفل پکڑ کر گاڑیوں کے شیشے توڑنے لگا،یہی انکی اصلیت ہے،ان تمام حرکتوں کے بعد بھی انکو پرامن سیاسی کارکن کہنے والوں کو

    واضح رہے کہ لاہور میں پی ٹی آئی کا جلسہ وقت مقرر وقت ختم ہونے کے بعد مشروط اجازت کی خلاف ورزی پر کاروائی ہوگی ، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مقدمات درج ہونگے، جلسے کی اجازت 3 بجے سے 6 تک تھی، ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ این او سی کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی،جلسہ منتظمین جلسہ کے اختتامی اوقات کار پر عمل کرے. جلسہ ختم کرنے کا وقت چھ بجے تک ہے،جلسہ کو ختم کرنے کے اوقات پر فوری عمل کیا جائے،

    لاہور جلسہ کا وقت ختم،گنڈا پور لاہور نہ پہنچ سکے،پولیس کا ایکشن،داخلی راستے پھر بند

    لاہور جلسہ ،9 مئی کے 12 اشتہاری ملزمان گرفتار

    جلسہ تووڑ گیا، پہلے علی امین گنڈا پور معافی مانگے گا؟

    حماد اظہر جلسہ گاہ پہنچ گئے، حکومت پر کڑی تنقید

    جلسہ میں خالی کرسیاں،مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کو دکھایا آئینہ

    پانچ پانچ ہزار دیہاڑی پر مہاجر کیمپوں میں جلسے کیلئے لوگ لائے جا رہے،انکشاف

    پی ٹی آئی لاہور جلسہ کا وقت شروع،خالی کرسیاں،قیادت نہ پہنچی

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    تحریک فتنہ فساد کا جلسہ،سب راستے کھلے ہیں،عظمیٰ بخاری

  • تحریک فتنہ فساد کا جلسہ،سب راستے کھلے ہیں،عظمیٰ بخاری

    تحریک فتنہ فساد کا جلسہ،سب راستے کھلے ہیں،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ لاہور کی کوئی ایک سڑک بھی بند نہیں تمام تر راستے کُھلے ہیں

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ آج لاہور میں تحریک فتنہ فساد کا جلسہ ہے، جلسے کی تو کوئی بات تو نہیں ہوگی فتنہ فساد ہی ہوگا، مویشی منڈی کو تحریک انصاف سبزی منڈی کہہ رہی تھی چلیں کوئی بات نہیں، انھوں نے صبح کو پل کے نیچے کنٹینر پھنسا دیا، اب کہیں گے ہمارے خلاف سازش ہوگئی،وزیر اعلیٰ پنجاب کا حکم ہے کہ کنٹینر سے کوئی سڑک بند نہیں ہوگی، بندے انھوں نے خود لانے ہیں، ہم ان کی خاطر تواضع پوری طرح کریں گے، رات کو ایک مرتبہ پھر تحریک فساد کا طریقہ دیکھا انھوں نے شیشے توڑے اور جلاؤ گھیراؤ کیا، کیا آگ لگانا بھی سیاسی جماعت کا ٹریک ریکارڈ ہوسکتا ہے، وزیر اعلیٰ کے پی کے ڈنڈا بردار فورس اپنے ساتھ لے کر آرہے ہیں، ان کے پاس اسلحہ بھی موجود ہے،آفیشل وٹس ایپ گروپ علی امین گنڈاپور کا ہے اس پر سب موجود ہے، سرکاری ملازموں کو یہاں پر لا کر حاضریاں لگائیں گے، ہمارے سرکاری ملازمین تو مصروف ہیں وہ کام کررہے ہیں،

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اگر آپ میں سے کسی کی طبیعت خراب ہوئی تو ایئر ایمبولینس کے ساتھ واپس بھجوادیں گے، ایک ہزار ارب کے مقروض صوبے کی 1122 لے کر یہ آرہے ہیں، شیر افضل مروت کو کورونا ہوگیا ہے ، باقی بھی سارے بیمار ہوگئے ہیں، کل انتظامیہ کے ساتھ تحریک انصاف کی قیادت نے ملاقات کی تھی انھوں نے کہا تھا کہ گنڈاپور جلسے میں معافی مانگیں گے، کل سے ناکامی کی فضاء سے جان چھڑانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ چاہتے ہیں یہاں پر حالات خراب ہوں گولی چلے تو ایسا تو نہیں ہوگا، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی، جلسہ گاہ پر اسٹیج کی ذمہ داری ان کے اپنے پاس ہے،

    مریم نواز اگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی پنجاب میں روکنے کی کوشش کر رہی ہے تو ان کا داخلہ بھی روکا جا سکتا ہے، بیرسٹر سیف
    دوسری جانب مشیر خیبر پختونخواہ بیرسٹر سیف نے عظمیٰ بخاری کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز اپنی بلڈ پریشر پر قابو رکھیں،ڈاکٹروں کی ٹیم کو ہر وقت مریم نواز کے پاس ہونا چاہیے،پنجاب میں عوام کا سمندر دیکھ کر شریف خاندان کے اوسان خطا ہے،پنجاب انتظامیہ بدحواسی کا شکار ہو چکی ہے ،پنجاب انتظامیہ نے خود ہی ایس او پیز کی دھجیاں اڑانا شروع کی،اجازت کے باوجود کارکنان کی پکڑ دھکڑ اور راستے بند کرنا شرمناک اقدام ہے،جلسہ ناکام بنانے کے لئے پنجاب حکومت سرگرم ہو چکی ہے، مریم نواز اگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی پنجاب میں روکنے کی کوشش کر رہی ہے تو ان کا داخلہ بھی روکا جا سکتا ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف آج لاہور میں جلسہ کرے گی، لاہور میں کاہنہ میں پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ملی ہے،جلسے میں پی ٹی آئی کے ملک بھر سے کارکنان شریک ہوں گے،جلسے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے، پی ٹی آئی نے جلسے کی تیاریاں و انتظامات مکمل کر لئے ہیں،پنڈال میں ابتک 10 ہزار سے زائد کرسیاں لگ چکی ہیں، پنڈال میں لائٹیں، ڈی جے، ساؤنڈ سسٹم اور جنریٹر بھی پہنچا دیے گئے ہیں تاہم اسٹیج کیلئے لایا جانے والا کنٹینر رنگ روڈ کے انڈر پاس میں سےنہ گزرنے کے باعث تاحال پنڈال میں نہیں پہنچ سکا ہے،پنڈال میں کھانے پینے کی اشیار، پارٹی پرچموں اور ٹوپیوں کے اسٹالز بھی لگائے گئے ہیں،

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

  • پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ،کارکنان ڈنڈوں کے ساتھ،سرکاری وسائل کا استعمال

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ،کارکنان ڈنڈوں کے ساتھ،سرکاری وسائل کا استعمال

    تحریک انصاف آج لاہور میں جلسہ کرے گی، لاہور میں کاہنہ میں پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ملی ہے

    جلسے میں پی ٹی آئی کے ملک بھر سے کارکنان شریک ہوں گے،جلسے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے، پی ٹی آئی نے جلسے کی تیاریاں و انتظامات مکمل کر لئے ہیں،پنڈال میں ابتک 10 ہزار سے زائد کرسیاں لگ چکی ہیں، پنڈال میں لائٹیں، ڈی جے، ساؤنڈ سسٹم اور جنریٹر بھی پہنچا دیے گئے ہیں تاہم اسٹیج کیلئے لایا جانے والا کنٹینر رنگ روڈ کے انڈر پاس میں سےنہ گزرنے کے باعث تاحال پنڈال میں نہیں پہنچ سکا ہے،پنڈال میں کھانے پینے کی اشیار، پارٹی پرچموں اور ٹوپیوں کے اسٹالز بھی لگائے گئے ہیں،

    پی ٹی آئی جلسہ،راستے کھلے رکھیں،قانون ہاتھ میں لیا تو قانون اپنا راستہ لے گا،وزیراعلیٰ پنجاب
    جلسہ گاہ کی طرف جانے والے تمام راستے کھلے ہیں، حکومت نے کوئی راستہ بند نہیں کیا اور کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی،وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے انتظامیہ کو تمام راستے کھلے رکھنے کی ہدایت کی ہے، اور کہا ہے کہ تمام سڑکوں اور موٹر ویز اور رنگ روڈ کو مکمل طورپر کھلا رکھا جائے،سیاسی جماعت کو سیاسی جماعت کی طرح رویہ اپنانا پڑے گا،اگر قانون کو ہاتھ میں لیاگیا تو پھر قانون اپنا راستہ لے گا،عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے،ہمیں پتہ ہے عوام کے جان و مال کی ذمہ داری کیسے نبھانی ہے۔

    جلسہ گاہ کی طرف جانے والے فیروزپور روڈ پر کاہنہ مویشی منڈی جانے والے تمام راستے کھلے ہیں،فیروزپور روڈ سے کاہنہ کی طرف سڑک کے دونوں اطراف کنٹینرز کھڑے ہیں، تاہم لاہور قصور روڈ اور رنگ روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے،جلسے کیلئے خواتین کارکنان آنا شروع ہوگئی ہیں جن کا کہنا ہے کہ اسٹیج کے بغیر بھی جلسہ بریک تھرو والا ہوگا اور خواتین کارکن بھی گرمی کے باوجود جلسہ میں پھرپور شرکت کریں گی۔

    جلسے سے پی ٹی آئی قیادت خطاب کرے گی، تحریک انصاف کو کاہنہ مویشی منڈی میں جلسے کی مشروط اجازت دی گئی ہے، جلسے کے اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ منتظمین اسٹیج، خواتین اور مردوں کے انکلوژر کی سکیورٹی یقینی بنائیں گے اور بھگدڑ روکنے اور مناسب پارکنگ کا انتظام پرائیویٹ سکیورٹی اور رضاکاروں کے ذریعے یقینی بنانا جلسہ منتظمین کی ذمہ داری ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا 8 ستمبرکو اسلام آباد میں کی گئی تقریر پر معافی مانگیں گے،شہر سے باہر سے آنے والے جتھے روزمرہ کے معمولات میں خلل نہیں ڈالیں گے اور جلسےکے دوران ریاست یا اداروں کے خلاف نعرے اور بیانات نہیں دیئے جائیں گے، کوئی اشتہاری مجرم جلسےمیں شرکت یا سٹیج پر نظر نہیں آئے گا بصورت دیگر اشتہاری مجرم کی گرفتاری میں تعاون جلسہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی اور ناکامی کی صورت میں انتظامیہ پر معاونت کا مقدمہ درج ہوگا، جلسے میں کوئی افغان پرچم نہیں لہرایا جائے گا، جلسہ منتظمین فوکل پرسنز نامزد کریں گے، متعلقہ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ایس پی ٹریفک پولیس سےفوکل پرسن رابطہ کریں گے،منتظمین ایس پی ماڈل ٹاؤن اور ایس پی سکیورٹی لاہور سے تعاون کریں گے، ٹریفک پولیس جلسے کے لیے تفصیلی ٹریفک پلان اور ایڈوائزری جاری کرےگی،منتظمین ضلعی پولیس کےساتھ لاہور رنگ روڈ اور کاہنہ میں خاردار تار نصب کریں گے اور جلسہ گاہ کے گردبیرونی دیوار پر خاردار تار اور قنات نصب کریں گے،ہ کسی کو بھی زبردستی اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، کسی کو بھی ڈنڈے لے کر جلسے کے مقام پر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، اسلحے کی نمائش سختی سے منع ہوگی اور آتش بازی کا استعمال نہیں کیا جائے گا،اشتعال انگیزیا گستاخانہ نعرے لگانے کی اجازت نہیں ہوگی،کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت یا کسی ملک سے تعلق رکھنے والے فرد کا پتلا یا جھنڈا جلانے کی اجازت نہیں ہوگی،جلسے کے احاطے اور اردگرد کا سکیورٹی انتظام منتظمین کی ذمہ داری ہوگی، کسی بھی ناگہانی واقعے کی صورت میں منتظمین کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، مجموعی سکیورٹی صورتحال اور مختلف ذرائع سے موصول ہونے والے خطرے کی اطلاعات کے پیش نظر، منتظمین کو دوبارہ خبردار کیا جاتا ہے کہ شرکا اور عوام کی حفاظت کے لیے جلسہ گاہ کے اندر اور باہر تمام ضروری احتیاطی تدابیر کریں۔

    پنجاب حکومت اور پولیس نے بھی جلسہ کے حوالے سے حکمت عملی اختیار کی ہے جس کے تحت رات گئے راولپنڈی پولیس کو خصوصی ٹاسک سونپ دیے گئے ہیں،پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران سے کہا گیا ہے کہ شہر ،کینٹ یا دیہی علاقے سے ریلی کی صورت میں جلسے میں شرکت کے لیے جانے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم انفرادی طور پر جانے والوں کونہیں روکا جائے گا، رات گئے پولیس نے الرٹ ظاہر کرنے کے لیے ضلع بھر میں تحریک انصاف کے سرکردہ رہنماؤں و کارکنوں کے گھروں پر ڈور ناکنگ بھی شروع کردی ڈور ناکنگ مہم میں پولیس تھانوں کی سطح پر تحریک انصاف کے سرکردہ رہنماؤں و کارکنوں کے گھروں پر جاکر ان کے متعلق دریافت کر رہی ہے تاہم اکثر رہنما و کارکن پہلے ہی انڈر گراؤنڈ ہونے میں کامیاب ہوگئے

    لاہور جلسے کے لئے خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل کا استعمال
    علاوہ ازیں تحریک انصاف نے لاہور جلسے کے لئے خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل کا استعمال شروع کر دیا ہے،لاہور جلسے کے لئے سرکاری گاڑیاں صوابی پہنچا دی گئی ہیں، پی ٹی آئی کے جلسے کیلئے ریسکیو، پی ڈی اے اور پی ایم ایس کی گاڑیاں اور دیگر سامان استعمال کیا جا رہا ہے، ابھی سے ریسکیو 1122 کی درجنوں گاڑیاں صوابی پہنچا دی گئی ہیں، گاڑیوں میں ایمبولینسیں، فائر بریگیڈ کی اسنارکلز بھی شامل ہیں جبکہ ان گاڑیوں کے ساتھ عملہ بھی موجود ہے، پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد کرینیں بھی صوابی پہنچائی گئی ہیں جو خیبر پختونخوا کے قافلے کے ساتھ لاہور آئیں گی

    پی ٹی آئی جلسہ، کارکنان ڈنڈے لے کر نکل آئے
    لاہور جلسے کے لیے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے کارکنان آئیں گے، ڈی آئی خان سے کارکن ڈنڈوں کے ساتھ نکل آئے،تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں پی ٹی آئی کارکنان نے ڈنڈے پکڑے ہوئے ہیں، پی ٹی آئی کارکنان ڈنڈوں کے ساتھ جلسے میں شریک ہوں گے،لاہور انتظامیہ نے جلسے کی شرائط میں ڈنڈے لانے سے منع کر رکھا ہے اسکے باوجود کارکنان ڈنڈے لار ہے ہیں،مشیرِ اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ کارکنوں نے لاٹھیاں ذاتی حفاظت اور راستہ صاف کرنے کے لیے اٹھا رکھی ہیں۔

    جلسے سے قبل تمام نظر بندیوں کے احکامات کو کالعدم قرار دینے کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست
    لاہور کے جلسے سے قبل تمام نظر بندیوں کے احکامات کو کالعدم قرار دینے کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،متفرق درخواست سابق ایم پی اے زنیب عمیر نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی نظر بندیوں کے احکامات جاری ہوئےنظر بندیوں کے احکامات قانون اور آئین کے منافی ہیں عدالت فوری نظر بندیوں کے احکامات کو کالعدم قرار دے،نظر بند تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا جائے ،

    لاہور جلسہ،شرکاء کی سکیورٹی کےلیے12ہزار سے زائد افسران واہلکار ڈیوٹی پر مامور
    لاہور پولیس نے کاہنہ جلسہ گاہ کے سکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی الرٹ، چیکنگ جاری ہے، ڈی آئی جی آپریشنز محمد فیصل کامران کا کہنا ہے کہ امن و امان کا قیام اور شہریوں کا تحفظ لاہور پولیس کی اولین ترجیح ہے، لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، شرکاء کی سکیورٹی کےلیے12ہزار سے زائد افسران واہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں ، 15ایس پیز، 63ڈی ایس پیز،165 ایس ایچ اوز/انسپکٹرز سمیت1002 اَپر سب آرڈینیٹس تعینات ہیں،خواتین شرکاء کی چیکنگ کیلئے 324 لیڈیز اہلکار بھی ڈیوٹی پر مامور ہیں،ڈولفن سکواڈ کی ٹیمیں بھی جلسہ گاہ سے ملحقہ شہراؤں پر موثر گشت یقینی بنا رہی ہیں، سیف سٹی کیمروں کی مدد سے جلسہ گاہ اور اطراف مانیٹرنگ کی جا رہی ہے،موٹر سائیکل و گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے ایریا مختص کیا گیا ہے،شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، شہری امن و امان برقرار رکھنے میں لاہور پولیس کا ساتھ دیں،

    نومئی کے اشتہاریوں کی گرفتاری کے لئے پولیس کا”خاص” انتظام
    9 مئی کے اشتہاریوں کی گرفتاریوں کے لئے پولیس نے شکنجہ تیار کر لیا،کاہنہ میں تحریک انصاف کے جلسے سےاشتہاریوں کی گرفتاریوں کا ٹاسک پولیس کو مل گیا ،تحریک انصاف کے جلسے کے اطراف میں فیس ڈیٹیکشن کیمرے نصب کر دئے گئے ،جلسے میں آنے والوں کی شناخت سے اشتہاریوں کی گرفتاری کی جائے گی ،سیف سٹی اتھارٹی کے دفتر میں فیس ڈیٹیکیٹ کرنے والی ٹیمیں تعینات ہیں ،جو اشتہاری یہاں موجود ہوا اسے فوری گرفتار کیا جائے گا ، جو ضمانت پر ہیں اگر انہوں نے کوئی شرانگیزی دوبارہ کی تو انہیں گرفتار کیا جائے گا، جلسہ گاہ کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ،9 مئی کی کیسز کی انویسٹی گیشن ٹیموں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ،

  • پی ٹی آئی کو جلو پارک گراؤنڈ لاہور میں جلسہ کی اجازت مل گئی

    پی ٹی آئی کو جلو پارک گراؤنڈ لاہور میں جلسہ کی اجازت مل گئی

    پی ٹی آئی کو جلو پارک گراؤنڈ لاہور میں جلسہ کی اجازت مل گئی ہے

    ،پنجاب حکومت نےپی ٹی آئی کو جلسے کی مشروط اجازت دی ہے،پی ٹی آئی لاہور کی قیادت گارنٹی دے گی کہ امن و عامہ خراب نہیں ہوگا، جلسے میں پی ٹی آئی رہنماؤں سے تحریری حلف نامہ لیا جائیگا،جلسہ پانچ بجے ختم ہونا چاہئیے۔باہر سے کوئی جتھا آکر لاہور کے کاروبار زندگی کو متاثر نہیں کرے گا۔44 شرائط کی بنیاد ٔپر پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دی گئی ہے،

    لاہور جلسے میں علی امین معافی مانگیں،افغان جتھوں کو لانے کی اجازت نہیں،اشتہاری مجرم آئے تو گرفتارہوں گے،نابالغ بچے نہیں آئیں گے،گاڑیوں کی تلاشی،کوئی ڈنڈا نہیں،پرچم،پتلے نہیں جلائے جائیں گے،جلسے کے لئے شرائط
    پی ٹی آئی کے جلسے کے لئے حکومتی شرائط کے نکات
    پارکس اور باغبانی کی انتظامیہ سے اجازت لینی ہو گی، تمام واجبات ادا کیے جائیں گے۔پی ایچ اے واجبات وصول کرے گا۔ اسٹیج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے منتظمین ذمہ دار ہوں گے،خواتین و حضرات کے انکلوژرز الگ الگ ہوں‌گے، ہنگامی راستے بنائے جائیں گے،بھگدڑ سے بچنے،کنٹرول کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے،پارکینگ کے لئے نجی سیکیورٹی اور رضاکاروں کی خدمات لی جائیں گے، وزیر اعلیٰ، کے پی علی امین گنڈاپور کو چاہیے کہ آٹھ ستمبر کو اسلام آباد جلسے کے دوران جو انہوں نے کہا اس پر لاہور جلسے میں عوامی طور پر معافی مانگیں۔4) شہر سے باہر کے جتھے آکر روزمرہ کے معمولات میں خلل نہیں ڈالیں گے۔ریاست مخالف/ ادارہ مخالف نعرہ بازی اور بیان نہیں ہو گا، اسلام آباد جلسہ میں نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں‌کو اسٹیج پر نہیں آنے دیا جائے گا، کوئی اشتہاری مجرم جلسہ میں شرکت نہیں کرے گا۔ اگر ایسا ہواتوان کی گرفتاری میں سہولت فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔جلسہ، ناکام ہونے کی صورت میں بھڑکانے کے جرم میں گرفتار یاں ہوں گی،کوئی افغان جھنڈا نہیں لہرایا جائے گا اور نہ ہی افغان تنخواہ دار افرادی قوت کو جلسہ میں لایا جائے گا۔منتظمین فوکل پرسن کو نامزد کریں گے جو کوآرڈینیٹ کریں گے۔تمام مقامات پر ٹریفک اور سیکورٹی کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا،منتظمین ایس پی کینٹ اور ایس پی کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ٹریفک پولیس ایک تفصیلی ٹریفک پلان نافذ کرے گی۔ عوام کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار منتظم ہوگا۔پراپرٹی اور پی ایچ اے کی فراہمی کے ایک ماہ کے اندر ادائیگی کرنی ہو گی،16) ڈیک/ساؤنڈ سسٹم کے استعمال کو اس کے تحت ریگولیٹ کیا جائے گا۔جلسہ کے دوران گراؤنڈ کے اندر ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیا جائے۔ جلو پارک گراؤنڈ، لاہور میں کوئی مستقل سٹیج موجود نہیں۔اس لیے کنٹینرز رکھ کر اسٹیج بنایا جائے گا۔سٹیج کے چاروں طرف لوہے کے پائپ لگائے جائیں گے۔منتظم ذمہ داری لے گا کہ کوئی غیر متعلقہ شخص وی آئی پی ایریا میں داخل نہیں ہوگا نہ ہی اسٹیج کے قریب آئے گا، آرگنائزر کی طرف سے فراہم کردہ رضا کارجلسہ کے شرکاء کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ہوں گے،قطاروں کی تشکیل کو یقینی بنائیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ شرکاء داخلی دروازے پر پرامن اور نظم و ضبط کے ساتھ رہیں، منتظم جنریٹر کا انتظام کرے گا۔منتظمین اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نابالغ بچوں کو نہ لایا جائے۔ کسی کو اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔سڑکوں/گلیوں پر کوئی جلوس/ریلی نہیں نکالی جائے گی۔کسی کو بھی ڈنڈوں کے ساتھ پنڈال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی جس سے کسی کا احساس کو مجروح کرنے کا امکان ہو۔ آتش گیر ہتھیاروں کی نمائش اور آتش بازی پر سختی سے پابندی ہوگی۔ منتظمین کی طرف سے کوئی استقبالیہ ڈیسک قائم نہیں کیا جائے گا۔شہر کے کسی بھی حصے میں وال چاکنگ نہیں ہوگی۔34) ہر وقت پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا۔ قابل اعتراض/ جارحانہ نعرے ممنوع ہوں گے۔کسی کو شہر کے اندر جلسہ میں شرکت کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جلسہ میں شرکت کے لیے آنے والی کسی بھی گاڑی/شخص کی پولیس تلاشی لے گی،اس سلسلے میں منتظمین کی طرف سے کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔ کسی سیاسی، مذہبی جماعت یا کسی شخص کا کوئی پتلا/جھنڈا نہیں جلایا جائے گا،

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ افسران نے دو سے آٹھ بجے جلسے کا ٹائم دیا ہے، ہم کہ رہے ہیں کہ رات گیارہ یا بارہ تک ٹائم دیا جائے،

    لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت کی درخواست پر شام پانچ بجے تک فیصلے کا حکم ملنے کے بعد ڈی سی آفس میں اجلاس ہوا،ڈپٹی کمشنر لاہور کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اجلاس میں پولیس رپورٹس اور اسلام آباد جلسے کے بعد کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا اور پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دینے یا نہ دینے کے حوالے سے تجاویز پر بھی غور کیا گیا،

    دوسری جانب لاہور پولیس نے تھری ایم پی او کے تحت تحریک انصاف کے 42 رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کرنے کے لیے مراسلہ لکھ دیا ،اقبال ٹاؤن ڈویژن پولیس کی جانب سے ایک مراسلہ ارسال کیا گیا تھا فہرست میں 42 رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی گئی تھی جن میں میاں اسلم اقبال، میاں محمود الرشید کے بیٹے میاں حسن، مہر واجد کا بھی نام شامل ہے۔فہرست میں وقاص امجد، ندیم بارا سمیت خواتین ورکرز کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں،پولیس نے مراسلے میں الزام عائد کیا کہ یہ افراد افواج پاکستان کیخلاف انتشار پھیلاتے ہیں، یہ لوگوں کو نجی وسرکاری املاک کو نقصان پہچانے کی ترغیب دیتے ہیں، لاء اینڈ آڈر کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے،تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات جاری کیے جائیں۔

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    لاہور میں ہونے والی پی ٹی آئی جلسہ کو ناکام بنانے کے لئے کنٹینرز اٹک پہنچادیئے گئے ہیں،اٹک خورد کے مقام پر درجنوں کنٹینرز کھڑے کردیے گئے ہیں،پنجاب اور خیبر پختونحوا کے بارڈر پر کل صبح روڈ بند کرنے کا امکان ہے،باخبر ذرائع کے مطابق رات کو سڑک بند کرنے کا حکم نہیں ملا ،پولیس کا کہنا تھا کہ اگر صبح حکم ملا تو خیبر پختونحوا کی طرف سے روڈ کو بند کریں گے

  • لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو جلسے کو احتجاج میں بدل دیں گے، لاہور میں ڈیڑھ سال سے جلسہ نہیں کرنے دیا جا رہا،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جمہوریت تباہ کرنے کا مطلب آزادی ختم کرنا ہوتا ہے،جلسہ کرنا ہمارا آئینی حق ہے،سپریم کورٹ جمہوریت اور آزادی کو بچانے کے لیے مینار پاکستان پر جلسہ ہوگا، الیکشن سے پہلے بھی جلسہ نہیں کرنے دیا گیا اور اب بھی روکا جا رہا ہے،اسٹیبلشمنٹ نے اسلام آباد کا جلسہ کرنے کی گارنٹی دی تھی،پاکستان کا حوالہ دیا گیا جس پر ہم نے جلسہ ملتوی کیا،گارنٹی کے باوجود اسلام اباد کے جلسے میں کنٹینرز لگائے گئے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، دنیا میں کیا کبھی کسی نے جلسہ ختم کرنے کا وقت دیا ہے،اسلام آباد کے جلسے سے متعلق ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا،لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے اگر جلسے کی اجازت نہ دی تو مینار پاکستان پر احتجاج کریں گے، ملک کی تاریخ میں پہلی حکومت ہے جو ننگی ہو کر اتنی بے نقاب ہوئی ہے،یہ جمہوریت کی تباہی کر رہے ہیں،مشرف کے مارشل لاء دور میں بھی ایسا نہیں تھا جو اب کیا جارہا ہے،مشرف کا الیکشن انکے مقابلے میں فری اینڈ فیئر تھا،مشرف نے بھی میڈیا اور جلسوں پر پابندی نہیں لگائی،انکی جو بھی درخواستیں وہ سنی جارہی ہیں اور ہماری مسترد ہو رہی ہیں،الیکشن ایڈمنسٹریٹو عمل ہوتا ہے،کمشنر پنڈی نے جو کہا وہ درست ثابت ہوا،کمشنر کے بیان پر تفتیش تو ہونا چاہیئے تھی یہ بھی ہو سکتا ہے وہ غلط ہو،یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ کمشنر کے بیان کی تحقیقات کے بجائے اسے غائب کر دیا جائے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ آئینی ترامیم کا براہ راست بینفشری ہے،وہ توسیع چاہتا ہے،قاضی فائز عیسیٰ الیکشن کا ہر کیس اپنے پاس لے لیتا ہے،قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی نے میرے خلاف بیان دیا اسکو تو ہمارے کیسز سے خود کو الگ کر لینا چاہئے، آج لکیر کے ایک طرف جمہوریت ،ووٹ کو عزت دینے والے اور دوسری طرف بوٹ کو عزت دینے والے ہیں ،8فروری کے الیکشن میں انکی ضمانتیں ضبط ہوئی تھیں،فراڈ کو کور کرنے کیلئے 4ایمپائرزکو ساتھ ملا کر یہ سب کیا جارہا ہے،جلسے سے روکا گیا تو مینار پاکستان پر پوری قوم احتجاج کرے گی، حمودالرحمان کمیشن رپورٹ کی بات اس لئے کرتا ہوں کیونکہ آج بھی ملک میں وہی حالات ہیں،ملک کے یہ حالات مشرف اور ضیاء الحق کے دور میں بھی نہیں تھے،اس وقت بھی پورا مشرقی پاکستان مجیب کے ساتھ کھڑا تھا،یحیی خان نے اپنی ذات اور اقتدار کیلئے مجیب کے خلاف ایکشن لیا،8 فروری کے الیکشن میں واضح ہو گیا تھا کہ قوم کہان کھڑی ہے ،قوم ایک طرف کھڑی ہے اور چھوٹا سا صاحب اقتدار طبقہ جمہوریت اور سپریم کورٹ کو اپنے اقتدار کیلئے تباہ کررہے ہیں،

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

  • لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    پاکستان تحریک انصاف کے مینار پاکستان جلسے کا معاملہ،پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا اجلاس ہوا

    اجلاس کا انعقاد زوم میٹنگ پر کیا گیا، اجلاس میں لاہور تنظیم اور مرکزی قیادت شامل تھی،اجلاس میں جلسے کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل طے نہ کیا جا سکا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جلسے کی اجازت ملنے کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے گا،لاہور تنظیم کا کہنا تھا کہ جلسے کی تیاریاں مکمل ہیں، اجازت ملتے ہی سٹیج لگا دیا جائے،جلسے کی اجازت ملنے کے بعد کارکنان کی شمولیت کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کے پی کے قیادت ہر صورت جلسے میں شرکت کرے گی،

    تحریک انصاف لاہور کی قیادت نے آن لائن اجلاس میں جلسے کی تیاریاں تیز کرنے کا کہہ دیا ،تحریک انصاف لاہور کی قیادت نے تمام رہنماؤں ،ٹکٹ ہولڈر اور سرگرم کارکنان کو مزید اہم ہدایات جاری کر دیں ،لاہور کے ہر حلقے میں جلسے کے حوالے سے بھر پور کمپین میں مزید تیزی کی ہدایت کر دی گئی،پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ لاہور جلسے کے لیے عوام کو موبلائز کرنے کے لیے رہنما میدان میں نکلیں، آج شام تک عدالت کی حکم پر ڈی سی کی جانب سے فیصلے کے بعد مزید ہدایات فوری دی جائیں گی پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت آج شام لاہور جلسے کے حوالے سے مزید پیغام جاری کرے گی،ڈی سی لاہور کی جانب سے اجازت ملنے یا نہ ملنے کے حوالے سے مزید حکمت عملی کارکنان اور عوام کو دی جانے گی

    دوسری جانب نعیم حیدر پنجوتھہ وکلا کے ساتھ لاہور جلسہ گاہ پہنچ گئے، نعیم حیدر کا کہنا تھا کہ جلسہ کی تیاریاں شروع عوام تیار رہے، جلسہ گاہ کے اردگرد راستے بھی کلئیر ہیں اور تمام معاملات کنٹرول میں ہیں عوام ہر صورت جلسہ گاہ پہنچیں،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کا کل لاہور مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ ہے، ابھی تک انتظامیہ نے اجازت نہیں دی، لاہور ہائیکورٹ نے آج شام پانچ بجے تک انتظامیہ کو جلسے کی اجازت کی درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے رکھا ہے.اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ اگر ڈی سی لاہور نے شام 5 بجے تک جلسے کی اجازت نہ دی تو پھر بھی ہم ہر صورت جلسہ کریں گے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ لاہور جلسہ ہر صورت ہو گا، وزرا 2 ہزار، ایم پی اے ایک ہزار، تنظیمی عہدیدار 500 اوریوسی عہدیداروں 100 کارکن لائے گا، سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے کےلئے مشینری ساتھ جائے گی

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    دوسری جانب تحریک انصاف کے لاہور جلسے کو لے کر پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس نے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ کو گرفتارکیا تھا، علی امتیاز وڑائچ 2 گھنٹے پولیس کی حراست میں رہے جس کے بعد پولیس نے انہیں رہا کر دیا،پولیس نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کے گھر بھی چھاپہ مارا، جس پر عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ 16 ماہ پابند سلاسل رہنے کے باوجود پولیس نے میرے گھر ریڈ کیا، تین تھانوں کی پولیس نے میرے گھر پر آدھی رات کو ریڈ کیا، پولیس نے میرے گھر کی تلاشی لی۔فلک جاوید کے والد کو بھی گزشتہ شب رات میں حراست میں لے لیا گیا.

    پی ٹی آئی جلسہ،مینار پاکستان کے گیٹوں کو تالے لگ گئے، شاہی قلعہ بھی بند
    پاکستان تحریک انصاف کے جلسے کا معاملہ ،مینار پاکستان کو سیل کردیا گیا ،پولیس نے مینار پاکستان کے چھ گیٹس کو تالے لگا دیئے،پولیس ذرائع کے مطابق پی ایچ اے حکام کی جانب سے مینار پاکستان گیٹس کو بند کرنے کے احکامات ہیں، مینار پاکستان کے اندر کنٹینرز پہنچا دیئے گئے،مینار پاکستان وزٹ کرنے والوں کو بھی اندر جانے نہیں دیا جارہا،دوسری جانب شاہی قلعہ کو بھی دو روز کے لئے بند کر دیا گیا ہے

  • آج سے نیا گیم پلان شروع ہو جائے گا ،تحریک انصاف کے رہنما کا دعویٰ

    آج سے نیا گیم پلان شروع ہو جائے گا ،تحریک انصاف کے رہنما کا دعویٰ

    آج سے نیا گیم پلان شروع ہو جائے گا ،تحریک انصاف کے رہنما کا دعویٰ
    سابق وزیر خارجہ ، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی ق لیگی رہنما، سپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالہٰی سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں مونس الہٰی اور زین قریشی بھی شریک تھے ملاقات میں سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی پرویزالہٰی نے شاہ محمود قریشی کو لاہور میں کامیاب جلسہ پر مبارکباد دی ،پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ پہلی بار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ پیدل جلسہ گاہ آ رہے تھے، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اورق لیگ مل کر چلنے کا جو عہد کیا تھا وہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے،جی ڈی اے اور ق لیگ نے عمران خان کا مشکل وقت میں ساتھ دیا

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ لاہورجلسے کے بعد آج سے عمران خان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا شروع کیا جائے گا بیرونی سازش کے حقائق کو جھٹلانے کے لیے ہر حربہ استعمال ہوگا، عوام ہوشیار ہو جائے اور جاگتے رہیں، آج سے نیا گیم پلان شروع ہو جائے گا ،

    تحریک انصاف پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ مینار پاکستان پر لاکھوں کے جلسے سے سیاسی مخالفین سکتے کی حالت میںہیں،امپورٹڈ حکومت نے اقتدار میں رہ کر آئندہ عام انتخابات میںنقب لگانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جنہیںکسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،اگر عمران خان نے اسلام آباد کی طرف کال دی تو عوام کا سمندر سازشی ٹولے کو ان کے ایوانوں سمیت بہا لے جائے گا ۔ مینار پاکستان جلسے کے انتظامات میں متحرک کردار ادا کرنے والے رضا کاروں سے اظہار تشکر کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ عوام اور کارکنان کو معلوم تھاکہ عمران خان نے رات نو بجے کے بعد خطاب کرنا ہے لیکن اس کے باوجود وہ روزے کی حالت میں دوپہر سے ہی پنڈال میں پہنچنا شروع ہو گئے جو ان کی عمران خان سے محبت اور عقیدت کامنہ بولتا ثبوت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ایماء پر جلسہ گاہ کی طرف آنے والے مختلف راستوںکو کنٹینر لگا کر بند رکھا گیا لیکن امپورٹڈ حکومت نے دیکھ لیا کہ عوام اورکارکنان نے ان رکاوٹوںکو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا اور کئی کلو میٹر پیدل چل کر جلسہ گاہ پہنچتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں عوام نے مینار پاکستان جلسے میں شرکت کر کے واضح فیصلہ سنا دیا ہے کہ لاہور کس کا قلعہ ہے اور ان شااللہ آئندہ عام انتخابات میں ہمارے سیاسی مخالفین کی ضمانتیں ضبط ہو جائیںگی ۔ انہوںنے مزید کہا کہ جلسے میں خواتین اور فیملیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی جو عمران خان کی جدوجہد کی کامیابی کی دلیل ہے اور وہ دن دور نہیں جب امپورٹڈ حکومت اقتدارسے باہر ہوگی

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

    عمران خان منتخب وزیراعظم تھے مشرف کے ساتھ پلیز موازنہ نہ کریں،عدالت

    وزیراعظم کا انتخاب، تحریک انصاف کی اراکین کو ہدایات جاری

    اپوزیشن کا بڑا یوٹرن، پی ٹی آئی کی ایک حکومت کو خود ہی بچا لیا

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

  • پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ:میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی:عمران خان کا بڑا اعلان

    پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ:میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی:عمران خان کا بڑا اعلان

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور وزیراعظم آزاد خارجہ پالیسی چاہتا تھا، پاکستانی میر صادق اور میر جعفر سے مل کر سازش کی گئی، امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں کریں گے، جب تک زندہ ہوں ان کا مقابلہ کروں گا، دنیا کہہ رہی تھی پاکستان آئی ایم ایف کی غلامی سے آزاد ہو جائے گا، تھری اسٹوجز کے ساتھ مل کر سازش کی گئی، سامراج کے جوتے پالش کرنے والوں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ اللہ تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، لاہور کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں وہ کم ہے، مجھے پتہ تھا کہ لاہور مجھے مایوس نہیں کرے گا، میں نے کبھی اتنے بڑے جلسے کے سامنے خطاب نہیں کیا، یہ اللہ کا خاص کرم ہوتا ہے کہ قوم جاگ جائے، میرے ماں باپ ایک غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، میرے ماں باپ نے پاکستان کی تحریک میں شرکت کی تھی، مجھے بچپن سے بتایا گیا کہ تم خوش قسمت ہو جو آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہو، میرے ماں باپ نے مجھے کہا کہ آپ خوش قسمت ہو کہ آزادملک میں پیدا ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت انہوں نے ہماری حکومت کو نشانہ بنایا، کیا عمران خان نے لندن میں فلیٹ لیے، کوئی فیکٹریاں لگائیں، میرے پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے توشہ خانہ سے کوئی چیزیں لیں، دنیا کہہ رہی تھی پاکستان آئی ایم ایف کی غلامی سے آزاد ہو جائے گا تب ہماری حکومت کو سازش سے گرادیا، نوازشریف، بے نظیر کی حکومت جب بھی گری کرپشن کی وجہ سے گری، مجھ پر توشہ خانہ کیس کا الزام لگایا جا رہا ہے، وزیراعظم، وزرا کو جو بھی تحفہ ملتا ہے وہ توشہ خانہ میں جاتا ہے، ان کے زمانے میں یہ 15 فیصد دے کر تحفہ لے لیتے تھے، ہماری حکومت نے 50 فیصد دے کر تحفے خریدے، میں نے جو بھی تحائف خریدے وہ ریکارڈ پر ہیں، میں اپنا خرچ خود اٹھاتا ہوں، توشہ خانہ کے پیسوں سے میں نے سڑکوں کو ٹھیک کیا، میرا کوئی کیمپ آفس نہیں تھا، اپنے گھر کی دیوار بنانے کے لیے میں نے حکومت سے پیسہ نہیں لیا تھا، پروپیگنڈا کرنے والوں کو چیلنج کرتا ہوں مجھ سے کم پیسہ کسی وزیراعظم نے خرچ نہیں کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے نہ غلامی قبول کرنی ہے نا یہ امپورٹڈ حکومت قبول کرنی ہے، اب سب کو پتہ چلا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کیا ہوتی ہے، باہر مسلط ہونے والی حکومت سلیکٹڈ ہوتی ہے، میں آج لائحہ عمل دوں گا کہ کسی صورت اس حکومت کو قبول نہیں کرونگا، غلاموں اور کرپٹ ترین لوگوں کو کبھی قبول نہیں کروں گا، جوتے پالش کرنے والا آج ہم پر مسلط ہے، جب سے وزیراعظم بنا یہ کوشش تھی کہ ہماری آزاد خارجہ پالیسی بنے، ایسی خارجہ پالیسی جس کے تحت تمام فیصلے اپنے لوگوں کے مفاد کیلئے ہوں، یہ لوگ پاکستانیوں کو حکم دیتے تھے، ایک ٹیلیفون پر ساری باتیں منوا لیتے تھے، ان لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آئی، میں اپنی قوم کیلئے فیصلے کرتا ہوں، غلامی کو قبول نہیں کریں گے، عالمی سطح پر اسلامو فوبیا اور گستاخانہ خاکوں کیخلاف آواز اٹھائی۔

    سابق وزیراعظم نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان میں گیس ختم ہورہی تھی، روس سے گیس معاہدہ کرنا تھا، پٹرول اور ڈیزل کو ہم کم قیمت پر بیچ سکتے تھے، روس جانے کا مقصد عوام کو فائدہ پہنچانا تھا، روس سے ہمیں گندم بھی 30 فیصد کم قیمت پر مل رہی تھی، روس اس لیے گیا تھا اس سے میری عوام کو فائدہ ہونا تھا، مہنگائی میں کمی آنی تھی، ہمیں روس سے 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنی تھی وہ بھی کم قیمت پر مل رہی تھی، ہندوستان امریکا کا قریبی اتحادی ہے، امریکا نے اسے بھی منع کیا کہ تیل نہ خریدو جس پر اس نے انکار کر دیا، چین سے تعلق بھی پسند نہیں آیا اور باہر سے سازش ہونی شروع ہوئی، ہندوستان کی خارجہ پالیسی اپنے لوگوں کیلئے ہے، یہ سازش کبھی مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ملک کے اندر میر جعفر اور میر صادق نہ بیٹھے ہوں، یہاں بھی میر صادق اور میر جعفر بیٹھے ہوئے تھے جنہوں نے بیرونی سازش میں حصہ لیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایکسپورٹس میں ریکارڈ اضافہ کیا، ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا، سب سے بہترین کارکردگی تحریک انصاف کی حکومت کی تھی، ہمارے دور حکومت میں بیرون ملک پاکستانیوں نے 31 ارب ڈالر بھیجے، ہم نے ملکی تاریخ میں ٹیکس کی مد میں سب سے زیادہ پیسہ اکٹھا کیا، سارے برصغیر میں پاکستان میں سب سے کم بے روزگاری تھی، ہم نے کورونا کے دوران بہترین حکمت عملی اختیار کی، کورونا کے دوران ہم نے اپنا ملک بھی بچایا اور اپنی معیشت بھی بچائی، شوگر مافیا کسانوں کو پوری قیمت نہیں دیتا تھا، ہم نے شوگر مافیا کا مقابلہ کیا اور کسانوں کو پیسے دلوائے، پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ 5 فصلوں کی پیداوار پچھلے سال ہم نے کی، دنیا کہہ رہی تھی ہماری معیشت درست راستے پر نکل پڑی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش کی گئی، مشرف نے ایک فون پر گھٹنے ٹیک دیئے، ہر فورم پر کہا یہ ہماری جنگ نہیں، مجھے طالبان خان کہا گیا، فارن پالیسی اپنے لوگوں کے فائدے کے لیے بنائی جاتی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار لوگ شہید ہوئے، جنگ سے 100 ارب ڈالر سے زائد نقصان ہوا، کبھی کوئی کمیشن بنا؟ جب انٹرویو میں مجھ سے اڈے دینے کا پوچھا تو میں نے’ابسولیٹلی ناٹ‘ کہا، میرا جینا مرنا پاکستان ہے، امریکا کے لیے کیوں اپنے لوگوں کو قربان کروں؟ امریکا کو چیری بلاسم بوٹ پالش کرنے والے چاہئیں تھے، شہباز شریف کہتا ہے ہم غلام ہیں آپ کے جوتے پالش کریں گے، کبھی اس لیڈر کو ووٹ نہ دینا جن کی جائیدادیں باہر ہوں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ کبھی سامراج کا پریشر برداشت نہیں کرسکتے، ان کو اس طرح کے کرپٹ غلام پسند ہوتے ہیں، پاکستان میں 400 ڈرون حملے ہوئے، جس ملک کے لیے ہم جنگ لڑ رہے تھے وہی ڈرون حملے کر رہا تھا، ایسی کوئی مثال نہیں ملتی، ڈرون حملوں کے خلاف ایک دفعہ نواز شریف نے مذمت نہیں کی تھی، ڈرون حملوں کے خلاف میں نے ہر جگہ احتجاج کیا، باہر سے سازش پلان ہوئی اور اندر میر جعفر بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے سفیر کو امریکی آفیشل کہتا اگر تم نے عمران خان کو عدم اعتماد میں نہ ہرایا تو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، عدم اعتماد آنے سے پہلے ہی امریکی آفیشل کو پتا تھا، کہتا ہے اگر عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو پاکستان کو معاف کر دیں گے، کیا یہ جرم تھا روس گیا اور اڈے دینے سے انکار کیا؟، کبھی کسی سے ڈکٹیشن نہیں لی۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میں تھا اور سفیر کو میسج دیا گیا، اگلے دن عدم اعتماد اسمبلی میں لے آتے ہیں، سندھ ہاؤس میں 20، 20 کروڑ میں ضمیر بکنے شروع ہو جاتے ہیں، مونس الہیٰ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں باقی سب چلے گئے، بکرا عید کی طرح ان کی بولیاں لگیں، سندھ ہاؤس میں بند کیا گیا، بڑے ادب سے عدالتوں سے پوچھتا ہوں کیا بولیاں لگانا یہ آئین وقانون کے خلاف نہیں ہے؟۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے ووٹ دو یا نہ دو خدا کے واسطے کبھی ضمیر فروشوں کو ووٹ نہ دینا، ضمیر فروشوں کو کسی بھی حلقے میں جیتنے نہ دینا، اگر ضمیر فروش کو جیتنے دیا تو ملک سے غداری کریں گے؟ عدالتیں بھی رات بارہ بجے کھل جاتی ہیں؟ میرے دونوں اسپیکر اسد قیصر، قاسم سوری ہیرو ہیں، آئین کے مطابق پارلیمان سپریم ہے، 30 سال سے ملک لوٹنے والے ڈاکوؤں کو قوم پر مسلط کیا گیا، مغرب میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ضمانت والے شخص کو کوئی چپڑاسی بنا دے، پاکستان میں ایسے شخص کو وزیراعظم بنا دیا گیا، اس کے بیٹے کو چیف منسٹر بنا دیا گیا، چیری بلاسم نے کہا تھا زرداری کا پیٹ پھاڑوں گا؟ نوازشریف نے دو دفعہ آصف زرداری کو جیل میں ڈالا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ زرداری، نواز شریف مل کر فضل الرحمان کو ڈیزل کہتے تھے، اس سے زیادہ ملک پر کیا ظلم ہوگا تھری اسٹوجز کو مسلط کیا گیا، جب تک زندہ ہوں ان کا مقابلہ کروں گا، کبھی ان کو تسلیم نہیں کرونگا، اندازہ نہیں انہوں نے پاکستان پر بہت بڑا ظلم کیا، ایسا کام تو پاکستان پر کوئی ایٹم بم بھی نہیں کرسکتا، پاکستان کیوں عظیم ملک نہیں بن سکا؟ وہ قومیں برباد جو چھوٹے چوروں کو جیل اور بڑے ڈاکوؤں کو نہ پکڑے، شہباز شریف اور اس کے بیٹے کے خلاف 40 ارب کے کرپشن کے کیسز ہیں، ایسے شخص کو وزیراعظم بنا دیا گیا، ایف آئی اے افسران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، شہباز شریف کا بیٹا سلمان شہباز، داماد، نوازشریف کے دونوں بیٹے بھاگ گئے، اسحاق ڈار وزیراعظم کے طیارے میں بیٹھ کر بھاگ گیا، ایسے لوگوں کو ملک پر مسلط کیا جارہا ہے۔

    روس اور چین سے پاکستان کی دوستی پاکستان دشمنوں کوگوارا نہ ہوئی اورسازشیں شروع کردیں ،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم و چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ کسی صورت اس حکومت کو قبول نہیں کروں گا، غلاموں اور کرپشن زدہ لوگوں کی حکومت کبھی قبول نہیں کروں گا۔

    لاہور کے تاریخی مقام مینارِ پاکستان پر تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی اتنی پبلک نہیں دیکھی میں نے لائحہ عمل دینا ہے غلامی قبول کریں گے نہ امپورٹڈحکومت، اب پتہ چلا سلیکٹڈ حکومت کیا ہوتی ہے بیرون ملک سےلوگوں کو سلیکٹ کیا جاتا ہے، پیسہ دے کر، ضمیرخرید کر، جوتے پالش کر کے اس حکومت کو مسلط کیاگیا۔

    آزاد خارجہ پالیسی

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بنا تو میری سب سےبڑی کوشش تھی کہ ہماری آزادخارجہ پالیسی بنے آزادخارجہ پالیسی کا مطلب ہم جوفیصلےکریں اپنےلوگوں کےمفادات کیلئےہوں میں اپنےلوگوں کو کسی دوسرےملک کے مفادات کیلئےقربان نہ کروں یہ لوگ عادی تھےجوپاکستان کودھمکیاں دیتےتھے یہ لوگ ایک فون کال پرباتیں منوا لیتے تھے کبھی کسی سے ڈکٹیشن سےنہیں لی اورنہ کبھی کسی سےڈکٹیشن لوں گا۔

    روس کیوں گیا

    عمران خان نے کہا کہ باہر سےحکم آیا کہ آپ روس کیوں گئے؟ پاکستان میں گیس ختم ہورہی ہے روس ہمیں تیل 30 فیصد کم قیمت پر دے رہا تھا اس کامطلب پٹرول اورفضل الرحمان کو30فیصدکم قیمت پر بیچ سکتےتھے روس سے ہمیں 20لاکھ ٹن گندم درآمدکرنی تھی روس ہمیں گندم بھی20فیصدکم قیمت پردےرہاتھا روس سے آنے والی چیزوں کے ذریعےمہنگائی کم کرسکتاتھا۔

    روس، چین تعلقات، سازش

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ روس ،چین سےتعلقات پسند نہ آئے تو باہر سےسازش شروع ہوئی سازش مکمل نہیں ہوتی جب تک ملک میں میرجعفر،میرصادق موجودنہ ہوں، پاکستان میں بیٹھےمیرصادق، میرجعفروں نے باہر کی سازش میں حصہ لیا اندر تھری اسٹوجیس بیٹھے تھے انہوں نے مل کر ایک حکومت کو گرایا سب سے بہترین پرفارمنس پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی تھی، ہمارے دور میں ایکسپورٹ ریکارڈ پر تھی، معیشت بہتر ہو رہی تھی۔

    ریکارڈ ڈالرز

    انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں 31 ارب ڈالر اوورسیز پاکستانیوں نےبھیجے پاکستان کی تاریخ میں ہم سب سے زیادہ ٹیکس جمع کیا 6ہزار ارب روپے، خطےمیں سب سےکم بےروزگاری پاکستان میں تھی، کوروناوباکےدوران پاکستان کی دنیا بھر میں مثال دی جاتی ہے مثال دی جاتی تھی کوروناوبامیں پاکستان نےاپنےلوگ اورمعیشت بچائی۔

    ایبسلوٹلی ناٹ

    عمران خان نے کہا کہ باہر بیٹھے سامراج کو ایک اور مسئلہ تھا مشرف نے ایک فون کال پر گھٹنےٹیک دیئے تھے مشرف کسی اورجنگ میں ہمیں لےکر گیا میں پہلےدن سےاس فیصلےکیخلاف تھا میں کیوں کہہ رہاتھاکہاس جنگ کیخلاف ہوں؟ کون ساملک کسی اورملک کیلئےاپنےآپ کوقربان کرتاہے کسی اورکی جنگ میں 80ہزار قربانیاں دیں کسی اورکی جنگ میں100ارب ڈالر سے زائد ملک کانقصان ہوا کبھی کوئی کمیشن نہیں بیٹھاکہ تحقیقات کی جائیں، انٹرویو میں سوال کیا گیا کہ کیا آپ امریکا کو اڈے دیں گے پوچھتا ہوں کیا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ میرے سے کسی اور جواب کی امید رکھتےتھے باہر بیٹھے سامراج کوچیری بلاسم چاہیےتھےاس لیے مجھ سے مسئلہ تھا میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے میری باہر کوئی جائیداد نہیں ہے عوام سےکہتا ہوں ان کو ووٹ دو جن کا کچھ بیرون ملک نہ پڑا ہو۔

  • مینار پاکستان میں جاری جلسہ کی کوریج کے دوران تشدد اور زدوکوب:صحافیوں کی طرف سے مذمت

    مینار پاکستان میں جاری جلسہ کی کوریج کے دوران تشدد اور زدوکوب:صحافیوں کی طرف سے مذمت

    لاہور:مینار پاکستان میں جاری جلسہ کی کوریج کے دوران تشدد اور زدوکوب:صحافیوں کی طرف سے مذمت ،اطلاعات کے مطابق الیکٹرانک میڈیارپورٹرزایسوسی ایشن(ایمرا)کےصدرمحمدآصف بٹ،ایمراسیکرٹری سلیم شیخ اور ایمرا باڈی نے ایمرا کےکونسل ممبر اور92 نیوزچینل کےرپورٹرخاورمغل اور ایمرا نیوز چینل رپورٹر راشد کو پاکستان تحریک انصاف کےغنڈہ گرد عناصرکی جانب سےمینار پاکستان میں جاری جلسہ کی کوریج کے دوران تشدد اور زدوکوب کا نشانہ بنانے پر اظہار مذمت کیا ہے۔

    ایمرا صدر محمد آصف بٹ نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہےپی ٹی آئی کے غنڈہ عناصر کی جانب سے 92 نیوز چینل سے وابستہ نوجوان صحافی خاور مغل اور ایمرا نیوز چینل کے رپورٹر راشدوٹوکو صحافتی ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی کے دوران جلسہ گاہ تشدد اور زدوکوب کا نشانہ بنانا انتہائی شرمناک فعل اور قابل مذمت واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔پی ٹی آئی کو پاکستان کی صف اول اور قومی سطح کی سیاسی جماعت بنانے میں صحافتی برادری کا بھرپور کردار رہا ہےجس کی بدولت یہ جماعت برسراقتدار آئی اور عمران خان وزیراعظم پاکستان بنے۔مگر اپنی نااہلی کی وجہ سے اقتدارسےفارغ ہونے کاغم اور غصہ میں صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کرناکسی صورت بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

    ایمرا باڈی نے نوجوان صحافی خاور مغل اور راشدوٹوپر ہونےوالے تشدد پر مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران، صدر پنجاب شفقت محمود اور صدر لاہور شیخ محمود سمیت تمام انتظامی عہدیداران کو وارننگ ہے کہ اپنے غنڈہ گرد عناصرکومیڈیا رپورٹرز اور سٹاف سمیت کسی سے بھی بدتمیزی کرنے سے باز رکھنے کے ساتھ ساتھ نوجوان صحافی خاور مغل کی ساتھ بدتمیزی کرنے والے افراد کی جانب سے معافی مانگیں اور آئندہ ایسے ناخوشگوارواقعات کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کی یقین دہانی کروائیں ورنہ ایمرا باڈی دیگر صحافتی تنظیموں اور صحافی برادری کےہمراہ مل کرآج ہونے والے سیاسی اجتماع کا بائیکاٹ کرے گی۔اور جب تک نوجوان صحافی خاور مغل اوع راشد وٹو سے باضابطہ معذرت نہ کی جائے ہر تقریب کا میڈیا بائیکاٹ کیا جائے گا۔