Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ بار

  • لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن کا تنازع، خاتون اور مرد وکلا میں ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل

    لاہور ہائیکورٹ بار الیکشن کا تنازع، خاتون اور مرد وکلا میں ہاتھا پائی، ویڈیو وائرل

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے حالیہ انتخابات کے نتائج پر پیدا ہونے والے تنازع کے دوران وکلا کے دو گروپوں میں ہاتھا پائی بھی دیکھنے میں آئی۔

    آزاد گروپ کے سربراہ احسن لون اور ان کے حامیوں نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد کیانی ہال میں جنرل ہاؤس کا اجلاس طلب کیا گیا اجلاس کے دوران دونوں گروپوں کے رہنما اور وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی، جہاں ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

    صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب چند وکلا کے درمیان تلخ کلامی ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی وکلا نے ایک دوسرے پر لاتوں اور گھونسوں سے حملہ کیا اسی دوران ایک خاتون وکیل اور ایک سینئر وکیل رہنما کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر موقع پر موجود ایک مرد وکیل نے خاتون وکیل کو تھپڑ مارے،اس دوران سینئر وکلا منع کرتے رہے بعد ازاں سینئر وکلا کی مزاحمت سے صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔

    اسحاق ڈار اور بحرینی وزیر خارجہ کاخطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    پنجاب: تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

  • لاہور ہائیکورٹ بار کی فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کیلئے درخواست

    لاہور ہائیکورٹ بار کی فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کیلئے درخواست

    اسلام آباد:لاہور ہائی کورٹ بار نے فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

    لاہور ہائی کورٹ بار نے درخواست میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا 7 مئی کا فیصلہ آئین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانا آرٹیکل 10A اور 175(3) کے خلاف ہے۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں شفاف ٹرائل اوراپیل کا حق نہیں اور منصفانہ سماعت ممکن نہیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے،لاہور ہائیکورٹ بار نے استدعا کی ہے کہ تاریخ میں کبھی شہریوں پر فوجی عدالتوں کا اطلاق نہیں ہوا لہٰذا سپریم کورٹ فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کالعدم قرار دے۔

    خیبرپختونخوا کا بجٹ پیش،ماہانہ اجرت ،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

    اسرائیلی حملے سے قبل ایران میں موساد کمانڈوز کی کارروائیاں سامنے آگئیں،ویڈیوز

    اسرائیل کا ایران پر حملہ، ایران اور عراق سمیت کئی ممالک نے فضائی حدود بند کردیں

  • لاہور بار انتخابات، حامد خان گروپ کے آصف نسوانہ صدر منتخب

    لاہور بار انتخابات، حامد خان گروپ کے آصف نسوانہ صدر منتخب

    لاہور ہائیکورٹ بار کے حالیہ انتخابات میں حامد خان گروپ کے امیدوار آصف نسوانہ نے شاندار کامیابی حاصل کر لی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آصف نسوانہ نے 7050 ووٹ حاصل کر کے اپنے حریف، عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار ثاقب اکرم گوندل کو شکست دی، جنہوں نے 6460 ووٹ حاصل کیے۔انتخابات کے نتیجے کے بعد وکلا نے آصف نسوانہ کو بھرپور طریقے سے مبارکباد دی اور اس موقع پر بار روم میں جشن کا سماں رہا۔وکلاء نے نومنتخب صدر آصف نسوانہ کو پھولوں کے ہار پہنائے اور ان کے حق میں نعرے بازی کی۔ وکلاء کی جانب سے ایک دوسرے کو بھی کامیابی کی مبارکباد دی گئی۔

    بار کے انتخابات میں ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی بھرپور انداز میں استعمال کیا، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت اور وکلاء کی سرگرمیوں میں دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔یہ کامیابی آصف نسوانہ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گی، اور ان کے گروپ کے لئے ایک نئی سیاسی طاقت کی نمائندگی کرے گی۔اس کامیابی پر آصف نسوانہ نے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اپنے تمام ووٹرز اور سپورٹرز کا شکریہ ادا کیا۔

    انگلینڈ آسٹریلیا میچ میں بھارتی ترانہ چل گیا، پی سی بی کا احتجاج، وضاحت طلب

    اہلِ کراچی کیلئے اچھی خبر،3دن میں 3موسم انجوائے کریں

    لیک سٹی کے اشتراک سے گھڑ دوڑ ڈربی کل ہوگی

    امریکہ پھر پاکستان کے قریب، بڑی پیش رفت,آرمی چیف کا دورہ برطانیہ، بڑی سفارتی فتح!

  • ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط کے بعد پاکستان بھر کی بار کونسل متحرک ہو گئی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ بار، لاہور ہائیکورٹ بار، بلوچستان ہائیکورٹ بار، اسلام آباد بار کا مؤقف سامنے آیا ہے.

    ججز کا خط، اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا انکوائری اور ملوث افراد کیخلاف کاروائی کا مطالبہ
    اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی کابینہ کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت ریاست علی آزاد ایڈ و و کیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن منعقد ہوا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 معز زججز صاحبان کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کو جاری کئے گئے خط میں انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے بے جا مداخلت کی بابت مراسلہ ارسال کیا گیا ہے اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا موقف در ج ذیل ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن ملک میں قانون کی حکمرانی، آئین کی بالا دستی اور آزاد اور خود مختار عدلیہ پر یقین رکھتی ہے۔ اس ضمن میں اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن قابل احترام چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کروائی جائے اور جو لوگ اس معاملے میں ملوث میں انکے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کسی بھی ادارے کی دوسرے ادارے میں مداخلت کی بھر پور مذمت کرتی ہے،اسلام آباد با ئیکورٹ بار ایسوسی ایشن عدلیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ آزاد قانون اور آئین کے مطابق فیصلوں کو بے خوف وخطر یقینی بنایا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسویسی ایشن ججز صاحبان کے اس اقدام کو سراہتی ہے جو انہوں نے دلیری اور بہادری کا مظاہر ہ کیا یہ کہ وہ ملک اور قومیں ترقی نہیں کرتیں جو رول آف لاء کی پاسداری نہ کرتی ہیں،یہ کہ مستقبل میں غیر قانونی اقدام کو روکنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن اگر ضرورت پڑی تو عدلیہ کی آزادی کی خاطرہراول دستہ ثابت ہو گی اور ہر وہ اقدام اٹھائے گی جو آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ضروری ہوگا، اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن عدلیہ کی آزادی کی خاطر وکلا نمائندہ کنونش، ملک گیرو کلاء کنونشن بھوک ہڑتال اورتحریک سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔

    اسلام آباد بار کا ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط پر گہری تشویش کا اظہار
    اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے بھی ججز کے خط کے بعد اعلامیہ جاری کیا ہے،اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن راجہ محمد شکیل عباسی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کو آئین کا بنیادی وصف سمجھتی ہے. نظام عدل و انصاف پر عوام الناس کا اعتماد عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری سے وابستہ ہے۔ عدلیہ کی آزادی پر حرف نظام عدل و انصاف اور معاشرے کیلئے شدید نقصان دہ ہے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن آئین و قانون کی عملداری، عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کے اصولوں کے ساتھ کھڑی ہے،اسلام آباد بار ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ ججز کے پیشہ وارانہ امور کی آزادانہ ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ تاکہ آئین کے مطابق بنیادی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی بلا تفریق فراہمی ممکن ہو سکے

    عدلیہ کے کام میں مداخلت قانون کی حکمرانی ،عدلیہ کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے،لاہور ہائیکورٹ بار
    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھے جانے پر اعلامیہ سامنے آیا ہے، لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہمیشہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، جمہوری نظام اور سویلین کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائی ہے۔پاکستان کو ایک انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا ہے جس میں ان مقاصد کو شدید خطرات لاحق ہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ معزز ججوں کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط سے واضح ہو گیا ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی عدلیہ اور عدالتی انتظامیہ کے کام میں مداخلت قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہے، ہم اسلام آباد کے چھ ججز کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایجنسیز کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت کیے جانے کے سچ کو بےنقاب کیا،ہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس اقدام کو قابل تعریف نہیں سمجھتے جنہوں نے اپنے ججز کی حفاظت کے لیے کسی قسم کے عملی اقدامات بروئے کار نہیں لائے۔ ہم حساس اداروں کی جانب سے عدلیہ کے فیصلوں میں مداخلت اور اثر انداز ہونے کی پرزور مزمت کرتے ہیں، ہم حساس اداروں کے اپنی مرضی کے فیصلے لکھوانے کے عدلیہ پر دباؤ کی سخت مزمت کرتے ہیں۔ ہم فی الفور ان حساس اداروں کی شخصیات کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جنہوں نے آئین اور قانون کو پامال کیا۔پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل ے بعض منتخب اراکین کے ساتھ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر منتخب عہدیداروں نے اس وقت اور پاکستان میں ہر جگہ عدلیہ کی آزادی کے دفاع میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ہم سپریم جوڈیشل کونسل سے ان ججوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جو ایسی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور اس طرح ملک میں انصاف کی انتظامیہ کو تباہ کر رہے ہیں۔ ہم چیف جسٹس سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ عدالتوں کے ساتھ ساتھ ماتحت عدالتوں کے ججوں کے تحفظ کے لیے کام کریں گے تاکہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور ایسے حالات اور ماحول پیدا کیا جا سکے جس میں جج بغیر کسی خوف اور حمایت کے انصاف فراہم کر سکیں۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن لاہور میں وکلاء کا قومی کنونشن منعقد کرے گی،ہم عدلیہ کی آزادی، آزادانہ اور منصفانہ آئینی انتظام اور قانون کی حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں.

    ججز کا خط، چیف جسٹس آف پاکستان فوری طور پر سوموٹو نوٹس لیں،بلوچستان بار کونسل
    بلوچستان بار کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے خط میں اداروں کی جانب سے عدالتوں میں مبینہ مداخلت کے معاملات پر چیف جسٹس آف پاکستان سے سومو ٹو لینے کا مطالبہ کیا ہے،بلوچستان بار کونسل نے اپنے ایک بیان میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جججز کی جانب سے لکھے گئے خط میں اداروں کی جانب سے عدالتوں میں مبینہ مداخلت کی معاملات پر تحفظات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے حجزکا خط تشویش ناک عمل ہے جو کہ آزاد عدلیہ پر ایک قدغن ہے، اس سے قبل بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی نے خفیہ اداروں کی جانب سے مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا تھا اس وقت کے سپریم جوڈیشل کونسل نے خفیہ اداروں کی جانب سے مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا تھا، اس وقت کے سپریم جوڈیشل کونسل نے خفیہ اداروں کے مداخلت پر تحقیقات کے بجائے معزز جج کو نوکری سے برخاست کیا اور سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو مسترد کر کے معزز جج کو بحال کیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا حالیہ خط اور اداروں کی جانب سے عدالتی امور میں مداخلت قابل مذمت ہے جو کہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس کا فوری طور پر سوموٹو نوٹس لیں بیان میں پاکستان بار کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر ملک گیر وکلاء نمائندگان کا نفرنس ،اجلاس طلب کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں.

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

  • میری تقریر کے دوران عمران خان کے نعرے لگے جس پر مجھے خوشی ہوئی،بلاول

    میری تقریر کے دوران عمران خان کے نعرے لگے جس پر مجھے خوشی ہوئی،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے لاہور ہائیکورٹ بار میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ امید ہے قائد عوام اور اس ملک کے عوام کو انصاف ملے گا،

    بلاول زرداری آئین کی گولڈن جوبلی کےموقع پر لاہورہائیکورٹ میں خطاب کرنےپہنچے تو وکلاء کی جانب سے انکا شاندار استقبال کیا گیا ، بلاول کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاورکی گئیں،خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہماری 2 نسلیں انصاف مانگنے یہاں آتی رہی ہیں، آج تک لاہور ہائیکورٹ کو کرائم سین کی صورت میں دیکھا جاتا ہے،امید ہے قائد عوام کو اتنے عرصے بعد انصاف ملے گا،آصف علی زراری کا 12 سال پہلے کا ریفرنس آج سنا جارہا ہے،

    بلاول زرداری کے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان کے نعرے لگے جس پر بلاول کا کہنا تھا کہ میں آیا ہوں تو آپ عمران خان کے نعرے لگا رہے تھے، مجھے خوشی ہوئی، میری تقریر کے دوران عمران خان کے نعرے لگے جس پر مجھے خوشی ہوئی،میں سیاسی لیڈر سے مختلف رائے رکھ سکتا ہوں لیکن میں سیاسی کارکن کا احترام کرتا ہوں خواہ وہ پیپلز پارٹی سے ہوں، ن لیگ سے یا تحریک انصاف سے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آج میں فخر کے ساتھ گولڈن جوبلی نہیں منا سکتا، نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی بیوقوف بنانے کی کوشش کرے تو اسکی بات نہ مانیں، ملک کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے، ہم نے حق چھیننا ہے تا کہ ملک کو،عوام کو مہنگائی، غربت، بے روزگاری سے بچا سکیں، سیلاب سے کتنے خاندان متاثر ہوئے، شرمناک حقیقت ہے کہ پاکستان کی حکومتیں، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے لڑتی رہیں لیکن سیلاب متاثرین کی مدد نہ کر سکیں،عمران خان کے بعد جو معاشی ٹیم آئی وہ بھی مہنگائی پر قابو نہ کر سکی،یہ میرا ملک ہے، آپ کا ملک ہے، ملکر اس ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں، نوجوان نسل کے پاس امید ہے، انکو ہم مایوس نہیں کرنا چاہتے، آج نہیں تو کل ہم مشکل سے نکلیں گے، وہ وعدے جو قائد عوام نے کئے تھے میں اور آپ ملکر وہ وعدے پورے کریں گے،اس موقع پر وکلا کی جانب سے وزیراعظم بلاول کے نعرے لگائے گئے،

    خواتین اگر اسی لگن سے کام کرتی رہیں گی تو جیت انشااللہ پیپلزپارٹی کی ہی ہوگی،

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

  • لاہور ہائیکورٹ بار ‘ وکلا کی چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پر سخت تنقید

    لاہور ہائیکورٹ بار ‘ وکلا کی چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پر سخت تنقید

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ بار ‘ کے وکلا نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائزعیسی صاحب جب تمھاراوقت آئے گاپھر کوئی نہیں سُنے گا،روگے،ایسے ججوں کی قبروں پر-

    باغی ٹی وی : لاہور بار ہائیکورٹ کے وکلا نے کہا کہ جس دور سے ہم آج گزر رہے ہیں پہلے کبھی اتنا سخت اور تنگ دور تھا ہی نہیں اور جس طرح اسٹینڈ آج کی کابیینہ نے لیا ہے شاید کسی کو لینا نہیں پڑا ،وجہ اس کی یہ ہے کہ جب پہلا مارشل لا لگایا تھا نا تو اس وقت جسٹس بشیرجیسے مکروہ لوگ چیف جسٹس تھے تو انہوں نے نظریہ ضرورت لے کر آگئے،اس کے بعد مشرف کا دور آیا اور شیخ ریاض چیف جسٹس تھے اور ان کے کار خاص افتخار چوہدری تھے وہ نظریہ مہا مہا ضرورت لے کر آ گئے،اور وہ کچھ دے دیا ظفر علی شاہ کیس میں کہ تین سال مشرف کی مزید توثیق کر دی ،نظریہ ضرورت پیچھے رہ گیا اب ہمارے محترم نظریہ فوجداری کے ساتھ کر رہے ہیں اشرف المخلوقات ہیں یہ اپنے نظریے بنا رہے ہیں اپنے قانون بنا رہے ہیں اور اپنے نظریے بنا رہے ہیں وہ جو قانون اور آئین کی کتابیں ہم پڑھ رہے ہیں نا وہ ان کویاد نہیں ہیں،ان کو وہ چیزیں یاد ہیں جو ان کے اپنے ذہن میں آتی ہیں ،افسوس ہے کہ ان لوگوں کی خاطر ہمارے وکلا نے جانیں دی ہیں خون دیا ہے اس کا صلہ کیا دیا افتخار محمد چودھری جب آپ آیا تو آپ اپنے رفقا کو نوازا کرپشن کی خزانے بڑھے اس کو کسی نے پوچھا تو وہ ڈنڈا لے کر کھڑا ہو گیا کہ آپ کون ہوتے ہیں میری کرپشن پر بات کرنے والے ،قاضی صاحب آپ کو سلام آپ پر بات آئی آپ پر بھی وہی حرکت دہرائی ہم بے وقوف نکلے ہم آپ کے ساتھ ادھر تقریریں کرتے رہے آپ کو تحفظ دیتے رہے کہ نہیں جی قاضی صاحب آئیں گے یہ بڑے جوشیلے ہیں کہتے ہیں جی میں رول آف لاء آئین کی بات کرتا ہوں اور کیا کیا آپ نے آئین کی بات آپ تو ان سے بھی آج جیسے حالات تو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے آج جیسی غربتیں کبھی پامال ہوئی ہی نہیں جاتے ہیں دندناتے ہوئے اور جب ہم آپ سے کچھ کہتے ہیں اپنا نقطہ نظریہ بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں ثبوت لاؤ ثبوت کیا لانا ہوتا ؟یاد رکھو جب وقت کا دھارا بدلتا ہے تو پھر ثبوت نہیں ہوتے میں آپ کویاد کراتا ہوں ان ججوں کو جن ججوں نے یہاں معاشرے میں ظلم کئے ان کے ساتھ کیا ہوا مولوی مشتاق کے جنازے پہ کیا ہوا اس کی قبر پہ کیا ہوا یہ اللہ کا نظام ہے ظالم کو اللہ پکڑتا ہے چودھری افتخار کو دیکھو اس کے ساتھ کیا ہوا اس کا جنازہ نہیں لوگوں نے پڑھا اس کی قبر پر لوگ جوتے مارتے ہیں وہا ں پر پہرا بٹھایا ہوا ہے کوئی اللہ کا خوف کھاؤ ، انہوں نے چیف جسٹس پر اشعار بھی پڑھے کہ: تیری گفتار پہ حیرت ، تیرے کرادر پہ خاک، قاضئی است تیرے عدل کے دربار پر خاک ،قاضی صاحب آپ بہت زیادہ پڑھتے ہیں آپ بہت زیادہ آیات پڑھ کر سناتے ہیں ہمیں ،قاضی صاحب قرآن و سنت کی باتیں کرتے ہیں او ذرا سوچو تو سہی سنت ہے کیا سنت وہ ہے جس کو نبھانا پڑتا ہے دعوی جو تمہارا ہے وہ عملاٌ بھی دکھاؤ، آؤ ذرا سنت کے تقاضے بھی بنھاؤ ،حضور کے فرمان دیکھو ورنہ دیکھو مولوی مشتاق کا حشر تمہارے لئے تیار ہے،اور میں اچھے ججز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں-

  • جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیرکی تقریب

    جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیرکی تقریب

    جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیرکی تقریب
    لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاک کشمیر لائرز فورم نے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے مظلوم کشمیری قوم سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلاء تنظیمیں غاصب بھار ت کے ظلم و دہشت گردی کا شکار اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ گزشتہ برسوں کی طرح امسال بھی پانچ فروری کا دن بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔

    لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد مقصود بٹر، نائب صدر مدثر عباس مگھیانہ، پاک کشمیر لائرز فورم کے صدر رانا عبدالحفیظ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری خواجہ محسن عباس،پاک کشمیر لائرز فورم پنجاب کے صدر محمد احسن ورک، خالد مسعود سندھوصدر پاک کشمیر لائرز فورم ہائی کورٹ بار، جنرل سیکرٹری پاک کشمیر لائرز فورم ہائی کورٹ بار مہر عبدالشکور ایڈووکیٹ، اورلاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے فنانس سیکرٹری فیصل توقیرایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بھارت کے ظلم و بربریت پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں اور ان کی رپورٹوں نے بھارت کے نام نہاد جمہوری ملک ہونے کے دعوی کوبری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

    وکلاءتنظیمیں بھارت کے کشمیر پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی قبضہ کی مذمت کرتی ہیں اور اقوام متحدہ و دیگر اداروں سے اپیل کرتی ہیں کہ فوری طور پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ختم کروایا اور انڈیا کے ظلم و ستم کو روکا جائے۔ وکلاءرہنماﺅںنے کہا کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں تقاریب کا ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان کی عوام اور کشمیریوں کے درمیان الفت و محبت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ پاکستان ہمیشہ سے کشمیریوں کے ساتھ ہے اور ان شاءاللہ رہے گا۔مشکل وقت میں پاکستانی قوم کشمیریوں کو کسی طور تنہا نہیں چھوڑے گی۔

    جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیر مکمل جوش و خروش سے منایا گیا۔اس سلسلے میں ایک واک کا اہتمام کیا گیا جس میں وایس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق، ڈایریکٹر سٹوڈنٹس افیر، ڈایریکٹر ایکڈیمکس سمیت تمام فکیلٹی ممبران، کوآرڈینیٹرز، ڈینز، ایچ او ڈیز، اور مختلف شعبہ جات کی طالبات نے بھرپور شرکت کرتے ہوے کشمیر میں ہونے والے مظالم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ مختلف بینرز، پلے کارڈرز اور پوسٹرز پر کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گی تھی۔

    وی سی جی سی ڈبلیو یو ایف پرو فیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق نے اپنا میسج ریکارڈ کرواتے ہوے کہا کہ مسلہ کشمیر کے حل میں آج تک کسی بھی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا، جبکہ خواتین بہترطور پر مسایل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اس مسلے کے حل کے لیے نا صرف عملی میدان میں اپنی خدمات پیش کریں بلکہ اپنے خاوند، بھایی اور بیٹوں کے لیے ایک مشیر کی حثیت سے بھی اس مسلے کے حل پر تجاویز دیں اور انکی صحیح راہنمائی کریں۔ تا کہ پر امن طریقے سے کشمیری عوام کے مسایل کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    محکمہ انسانی حقوق اور فیسز آف پاکستان کے اشتراک سے بین المذاہب امن اور ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد گورنر ہاؤس لاہور میں کیا گیا صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی مختلف ممبران پنجاب اسمبلی، بشپس اور پادریز وغیرہ نے بھی شرکت کی ،سربراہ فیسز آف پاکستان جاوید ولیم اور انٹر فیتھ کونسل کے نوجوان بھی شریک تھے تمام مقررین نے معاشرے میں عدم برداشت کے خاتمے پر زور دیا سیکرٹری انسانی حقوق ندیم الرحمان نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئیے ندیم الرحمان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت سے روشناس کرانا ہوگا۔
    صوبائی وزیر اقلیتی اموراعجاز عالم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تکمیل میں مذہبی اقلیتوں کا کلیدی کردار رہاہے۔ پنجاب حکومت یکم فروری سے ہفتہ انٹرفیتھ بھرپور طریقے سے منارہی ہے۔ تشدد کے خاتمے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا۔ پنجاب میں پہلی بار بین المذاہب ہم آہنگی کی پالیسی بنائی گئی۔
    پنجاب کے اس اقدام کو سپریم کورٹ نے بھی سراہا۔ دیگر صوبوں میں بھی اسی طرح کی پالیسیاں متعارف کرائی جارہی ہیں۔
    صوبائی وزیر نے معصوم کشمیریوں کی آواز بھی بلند کی اور کہا کہ بہت جلد کشمیر کی عوام بھارت کے جبر کے باوجود آزادی حاصل کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔

    کانفرنس میں انٹرفیتھ کے فروغ بارے ایک پینل ڈسکشن کا اہتمام بھی کیا گیا ، نوجوانوں نے بین المذاہب کو فروغ دینے کے لیے بہت سے آئیڈیاز پیش کیے ، تمام مقررین نےجاوید ولیم بالخصوص فیسز آف پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ، کانفرنس کے اختتام پر سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندگان میں خصوصی شیلڈز تقسیم کی گئیں ،وطن عزیز پاکستان کی ترقی اور کشمیر کی آزادی کے لیے دعا بھی کرائی گئی۔

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، سینیٹ کا ایک اجلاس کشمیر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    سینیٹ اجلاس،ہندو خاتون رکن نے کی صدارت ،کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور

    بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات،بھارت کی معاونت تھی،ترجمان دفتر خارجہ