Baaghi TV

Tag: لتا منگیشکر

  • کنگنا نے پیسوں کی بڑی پیشکش کیوں ٹھکرائی ؟

    کنگنا نے پیسوں کی بڑی پیشکش کیوں ٹھکرائی ؟

    بالی وڈ‌ اداکارہ کنگنا رناوت جو بہترین اداکارہ تو ہیں لیکن انہوں نے اپنے پورے کیرئیر میں‌کام پر توجہ دینے کی بجائے گوسپس پر زیادہ توجہ رکھی. کنگنا کا نام کئی ہیروز کے ساتھ بھی جڑا لیکن ہرتیک روشن کے ساتھ کنٹرورسی نے ان کے کیرئیر بہت زیادہ ضرب لگائی. کنگنا کوئی بھی لمحہ ہاتھ سے نہیں‌جانے دیتیں کہ جس میں وہ کسی کے حوالے سے ایسی بات نہ کریں کہ جس کی کنٹرورسی نہ بنے. کنگنا رناوت شاید بہت اچھی طرح سے خبروں میں‌رہنے کا ہنر جانتی ہیں. انہوں نے حال ہی میں کہا ہےکہ ان کو پورے کیرئیر کے دوران متعدد مرتبہ شادی بیاہ کی تقریبات پر ڈانس کرنے کی آفر ہوئی بدلے میں بھاری رقم ادا کرنے کی پیشکش بھی ہوئی لیکن انہوں نے

    پیسے کو ترجیح نہیں دی بلکہ یہ دیکھا کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں گانا ان کو زیب نہیں دیتا. کنگنا نے مثال دی کہ بقول آشا بھوسلے لتا منگیشکر کو بھی بڑی رقم کی آفر ہوتی رہی لیکن انہوں نے بھی کبھی کسی شادی کی تقریبات میں پرفارم نہ کیا اور ہمیشہ ایسی آفر کو ٹھکرا دیا. یاد رہے کہ کنگنا رناوت سکینڈلز کوئین بن چکی ہیں اور اب تو ایسا لگنے لگ گیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر کنٹرورسی پیدا کرتی ہیں تاکہ وہ سرخیوں میں‌آئیں .

  • انیل کپور کا لتا منگیشکر کو انکی سالگرہ  پر خراج عقیدت

    انیل کپور کا لتا منگیشکر کو انکی سالگرہ پر خراج عقیدت

    برصغیر کی کوئل کہلائی جانے والی لتا منگیشکر کو بڑے پیمانے پر ہندوستان کی عظیم اور بااثر گلوکاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ آٹھ دہائیوں پر محیط کیریئر میں انہوں نے لاتعداد گانے گائے اور ایک سے زیادہ زبانوں میں گائے. لتا کے گائے ہوئے گیت ہندوستان کی تقریبا ہر دوسری ہیروئین پر پکچرائز ہوئے. بالی وڈ کے اداکار انیل کپور نے انہیں یاد کیا ان کی سالگرہ کے موقع پر انہوں‌ نے ایک آڈیو نوٹ سوشل میڈیا پر جاری کیا اور اس کا کیپشن لکھا کہ ”لتا جی کی یوم پیدائش پر صرف یہ چاہتا ہوں کہ دنیا اس وائس نوٹ کو سنے جو میرے سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک ہے، لتا نہ صرف عظیم گلوکارہ تھیں بلکہ سوچنے سمجھنے والے، حوصلہ افزائی اور دیکھ بھال کرنے والی تھیں ، عظیم لوگ عظیم

    انسان بننا نہیں بھولتے۔لتا منگیشکر 6 فروری 2022 کو 92 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئیں تھیں، کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں انہیں 8 جنوری 2022 کو ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں داخل کرایا گیا.گلوکارہ کی پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ممبئی میں آخری رسومات ادا کی گئیں تھیں۔یاد رہے کہ انیل کپور کے کیرئیر کے آغاز میں انہوں نے جتنی بھی فلمیں کیں اس میں انکی ہیروئینز پر لتا منگیشکر کی ہی آواز ہوتی تھی. یوں لتا منگیشکر نے انیل کپور کی بہت سی فلموں میں گائے.

  • لتا اور رفیع نے پانچ سال تک ایکساتھ کیوں  نہیں گایا؟‌

    لتا اور رفیع نے پانچ سال تک ایکساتھ کیوں نہیں گایا؟‌

    رفیع اور لتا منگیشکر کی ایک ساتھ جوڑی کو بہت زیادہ پسند کیا جانے لگا. ان دونوں کی آواز میں ریکارڈ ہوا گیت کسی بھی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا. ہر موسیقار کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ان کے ساتھ گیت ریکارڈ کرے. دونوں اعلی درجے کے گائیک تھے لیکن اپنی اپنی ذات میں شاید سٹارز بھی تھے.محمد رفیع نہایت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے جبکہ لتا جب کسی بات پہ اکڑ جاتی تھیں تو پھر آسانی سے پیچھے نہیں ہٹتی تھیں. ایک بار ایسا ہوا کہ رائلٹی کی بات چھڑ گئی لتا منگیشکر نے اپنے ساتھ کچھ گلوکاروں‌کو ملا لیا اور ڈیمانڈ کی کہ ہمیں گیتوں کی رائلٹی ملنی چاہیے لیکن محمد رفیع

    نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ اس معاملے میں بہت واضح موقف اپنائے ہوئے تھے کہ جب ہم گانا گانے کا معاوضہ لے لیتے ہیں تو پھر رائلٹی کے چکر میں‌کیوں‌پڑیں، ادھر لتامنگیشکر پوری مہم چلا رہی تھیں. ایک دن مکیش لتا اور رفیع ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے گلوکار مکیش نے رفیع سے پوچھا کہ یہ رائلٹی کا سین کب تک چلے گا تو رفیع بولے اس مہارانی سے پوچھو جو بیٹھی ہوئی ہے لتا کو رفیع کی یہ بات بہت بری لگی انہوں نے کہا کہ یہ کس طرح بات کررہے ہیں، رفیع نے کہا لتا دیکھو اگر یہی سب چلتا رہا تو ہم دونوں ایکساتھ نہیں گا سکیں گے لتا نے کہا کہ آپ کیوں تکلیف کریں گے میں خود ہی آپ کے ساتھ نہ گانے کا اعلان کر دیتی ہوں لہذا اسی شام لتا نے سب موسیقاروں کو کال کرکے کہا کہ میں رفیع ایک ساتھ نہیں‌گائیں گے یوں پانچ سال تک ان دونوں‌ نے ایک دوسرے کے ساتھ نہیں گایا اس کے بعد انڈسٹری کے کچھ لوگوں نے بیچ میں‌پڑ کے دونوں کی صلح کروانے کے ساتھ ساتھ ایک ساتھ گانے کی راہ کو بھی ہموار کیا.

  • لتا منگیشکر کی موت پر بھارتی پرچم سرنگوں، 2 روزہ سوگ کا اعلان

    لتا منگیشکر کی موت پر بھارتی پرچم سرنگوں، 2 روزہ سوگ کا اعلان

    نئی دہلی: عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ لتا منگیشر کے انتقال پر بھارت میں دو روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جس کے دوران قومی پرچم سر نگوں رہے گا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر آج صبح دُنیا سے کوچ کرگئیں، ’نائٹنگل آف انڈیا‘ کے نام سے جانی جانے والی، لتا منگیشکر نے اپنی سُریلی آواز میں گائے ہوئے گانوں کا ایک خزانہ چھوڑا ہے، جو 70 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے کیریئر میں گایا گیا اُن کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، لتا منگیشکر کی آخری رسومات ممبئی کے شیواجی پارک میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی اس کے علاوہ لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی یاد میں ملک بھر میں دو روزہ قومی سوگ منایا جائےگا اور قومی پرچم بھی 6 اور 7 فروری کو سر نگوں رہے گا۔

    لتا منگیشکر کے اہل خانہ کا اُن کی میّت کو دو گھنٹے کے لیے پربھو کنج، گلوکارہ کی رہائش گاہ پر لے کر جانے کا ارادہ ہے، جس کے بعد آخری رسومات سے قبل مداحوں کے لیے آخری دیدار کو ان کی میت کو شیواجی پارک لے جایا جائے گا شیواجی پارک میں گلوکارہ کی آخری رسومات مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ بھارتی وقت کے مطابق آج شام 6 بجکر 30 منٹ پر ادا کی جائیں گی۔

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بالی ووڈ شخصیات نے لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے بیان میں نریندر مودی نے کہا کہ ’میں بہت دُکھی ہوں کیونکہ ہماری لتا دیدی ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں، وہ ہماری قوم میں ایک خلا چھوڑ گئی ہیں جسے پُر نہیں کیا جا سکتا۔آنے والی نسلیں انہیں بھارتی ثقافت کی ایک باوقار شخصیت کے طور پر یاد رکھیں گی، جن کی سُریلی آواز میں لوگوں کو مسحور کرنے کی بے مثال صلاحیت تھی۔


    مودی نے کہا کہ ’لتا دیدی کے گانوں نے طرح طرح کے جذبات کو جنم دیا، انہوں نے کئی دہائیوں تک بھارتی فلمی دنیا کی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھا فلموں کے علاوہ، وہ ہمیشہ بھارت کی ترقی کے بارے میں پُرجوش تھیں، وہ ہمیشہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ بھارت دیکھنا چاہتی تھیں۔


    بھارتی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ میں اسے اپنا اعزاز سمجھتا ہوں کہ مجھے لتا دیدی سے ہمیشہ بے پناہ پیار ملا ہے، اُن کے ساتھ میری بات چیت ناقابل فراموش رہے گی میں لتا دیدی کی موت پر اپنے ہم وطنوں کے ساتھ غمزدہ ہوں اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔

    سلمان خان بھی سُروں کی ملکہ لتا منگیشکر کے انتقال پر غمزدہ ہوگئے ٹوئٹر پر سلمان خان نے لتا منگیشکر کے ساتھ لی گئی اپنی یادگار تصویر شیئر کیٹوئٹر پر شیئر کی گئی تصویر کسی ایوارڈ شو کی ہے جس میں سلمان خان اور لتا منگیشکر اسٹیج پر موجود ہیں اور گلوکارہ مائیک میں کچھ بول رہی ہیں۔


    سلمان خان نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’ہم سب کو ہماری لتا جی کی کمی بہت محسوس ہوگی لیکن آپ کی آواز ہمارے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گی۔


    بالی ووڈ اداکار انیل کپور نے لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر شدید دُکھ کا اظہار کیا ہےٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں انیل کپور نے کہا کہ ’لتا جی کی موت کی خبر سُن کر دل ٹوٹ گیا ہےلتا جی ہمارے دلوں میں ایک ایسی جگہ رکھتی ہیں جو کبھی کوئی اور نہیں لے سکتا لتا جی نے اپنی موسیقی کے ذریعے ہماری زندگیوں پر کتنا گہرا اثر ڈالا ہے۔‘


    بالی ووڈ اداکار اکشے کمار نے بھی بھارتی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں اکشے کمار نے کہا کہ ’میری آواز ہی میری پہچان، اگر یاد رہےہم لتا جی کی سُریلی آواز کو کیسے بھول سکتے ہیں لتا جی کی موت کی خبر پر بہت زیادہ دُکھ ہوا ہے، میں اُن کے اہلخانہ سے اظہارِ تعزیت کرتا ہوں-


    لیجنڈری اداکارہ ہیما مالنی نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ 6 فروری ہمارے لیے ایک سیاہ دن ہے – وہ لیجنڈ جس نے ہمیں گانوں کا خزانہ دیا ہے، ہندوستان کی نائٹنگیل، لتا جی ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ہیں،یہ ہمارے لیے ذاتی طور پر نقصان ہے۔ ایک دوسرے کی تعریف باہمی تھی۔


    لیجنڈری اداکار دھرمیندر دیول نے بھی بھارتی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا کہ ساری دنیا اداس ہے، یقین نہیں آتا لتا جی ہمیں چھوڑ گئیں ہیں !!! ہم آپ کو یاد کریں گے لتا جی ۔
    انوشکا شرما نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں کہا کہ ’خدا خوبصورت آوازوں سے بولتا ہے آج بھارت کے لیے افسوسناک دن ہے کیونکہ ہماری شبلی اپنے فانی جسم سے رخصت ہوگئیں، لتا جی کی آواز نے انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا وہ اپنی موسیقی کے ذریعے ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی، ان کے خاندان، دوستوں اور مداحوں سے میں گہری تعزیت کرتی ہوں-

    پرنیتی چوپڑا نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ’میں نے بھارتی کلاسیکی موسیقی سیکھی لیکن مجھے لتا جی کے گانوں پر ریاض کرنے کی اجازت دی گئی، طالب علموں نے تجربہ کیا کہ آیا ہم وہ گانے گا سکتے ہیں جن کو لتا جی نے گنگنایا تھا لتا جی بھارت کی موسیقی کی میراث ہیں، آپ کا شکریہ لتا جی، گلوکاروں، سامعین، اور خود موسیقی کو متاثر کرنے کے لیے-

    بالی ووڈ اداکارہ بھمی نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں کہا کہ ’آج ایک بہت ہی افسوسناک دن ہے لتا جی کی موت ہم سب کے لیے اور ان کے مداحوں کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے لیکن آپ کا تعاون ہمیشہ زندہ رہے گا۔


    اجے دیوگن نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’میں ہمیشہ لتا جی کے گانوں کی میراث کا مزہ لیتا رہوں گا، ہم کتنے خوش قسمت تھے کہ لتا جی کے گانے سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔


    دیا مرزا نے کہا کہ ’لتا منگیشکر جی کی آواز ہمیشہ بھارت کی آواز رہے گی۔‘


    شبانہ اعظمی نے شدید دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا قومی خزانہ نہیں رہا، لتا جی کی آواز نے ہماری زندگیوں کو روشن کیا لتا جی نے ہمیں غمگین ہونے پر تسلی دی، ہمیں طاقت دی-

    لتا منگیشکرکی موت پرپاکستانی معروف اورسیاسی شخصیات کی جانب سےشدید دُکھ کا اظہار

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد سے 92 سالہ لتا منگیشکر بریچ کینڈی اسپتال کے آئی سی یو میں زیرِ علاج تھیں، ان میں کورونا وائرس کے ساتھ ہی نمونیا کی تشخیص بھی ہوئی تھی۔

    سروں کی ملکہ لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں چل بسیں

    چند روز قبل زیرِ علاج گلوکارہ لتا منگیشکر کی طبیعت دوبارہ بگڑ گئی تھی جس کے بعد انہیں تشویش ناک حالت میں اسپتال میں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھابریچ کینڈی اسپتال سے تعلق رکھنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر پریت صمدانی پچھلے کئی برسوں سے لتا منگیشکر کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔

    حرامانی بھی سیاسی ہوگئیں:عمران خان کے خلاف نوازشریف کی کمپین چلانے لگیں‌

    لتا، جنہیں بھارت کی عظیم پلے بیک گلوکاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، اپنی آواز کے ذریعے زندہ رہیں گی۔ محمد رفیع، کشور کمار اور مکیش کے ساتھ ان کے گانے ہندی سینما کے سب سے یادگار گانوں میں سے ہیں لتا منگیشکر کا تعلق فنکاروں کے خاندان سے تھا۔ اُن کے والد ایک تھیٹر کمپنی چلاتے تھے، لتا کو موسیقی سے لگاؤ تھا۔ بہنوں (لتا اور آشا بھوسلے) نے جب گانا شروع کیا تو ان کا مقصد اپنے والد کی میراث کو آگے بڑھانا تھا۔

    لتا نے اپنے کیریئر کا پہلا گانا ’ناچو یاگڑی، کھیلو ساری مانی ہوس بھری‘ 1942 میں ایک مراٹھی فلم کے لیے ریکارڈ کیا تھا لیکن بدقسمتی سے اس گانے کو فلم کے فائنل کٹ سے ہٹا دیا گیا تھا لتا ایک بار موسیقار نوشاد کے ساتھ ایک گانا ریکارڈ کرتے ہوئے بےہوش ہوگئی تھیں۔ اُنہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ’ہم گرمی کی ایک لمبی دوپہر میں ایک گانا ریکارڈ کر رہے تھے، ان دنوں ریکارڈنگ اسٹوڈیوز میں ایئرکنڈیشن نہیں ہوتے تھے اور فائنل ریکارڈنگ کے دوران چھت کا پنکھا بھی بند کر دیا گیا تھا، میں گرمی کی شدت نہ برداشت کرتے ہوئے بےہوش ہوگئی تھی۔

    لتا منگیشکر نے ایک بار میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے گانے خود نہیں سُنتی ہیں اگر وہ سُنیں تو انہیں اپنی گائیکی میں سو خامیاں نظر آئیں گی لتا کے الفاظ میں، انہوں نے جس بہترین میوزک ڈائریکٹر کے ساتھ کام کیا اور جن کے ساتھ ان کا خاص رشتہ تھا وہ مدن موہن تھے لتا کا 1999 سے 2005 تک رکن پارلیمنٹ کے طور پر ایک مختصر دور رہا۔ وہ 1999 میں راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے لیے نامزد ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنے دور کو ناخوشگوار قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ شامل کیے جانے سے گریزاں تھیں۔

    لتا صرف ایک ہندوستانی گلوکارہ نہیں تھیں۔ اس کی سریلی آواز کے چاہنے والے پوری دنیا میں پائے جا سکتے ہیں۔ انہیں لندن کے مشہور رائل البرٹ ہال میں پرفارم کرنے والی پہلی ہندوستانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ فرانس کی حکومت نے انہیں 2007 میں آفیسر آف دی لیجن آف آنر سے نوازا، جو کہ ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز ہے۔

    گنیز بک آف ریکارڈ کے 1974 کے ایڈیشن نے لتا منگیشکر کو سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ فنکار کے طور پر درج کیا تھا لیکن اس دعوے کا مقابلہ محمد رفیع نے کیا۔ کتاب میں لتا جی کے نام کی فہرست جاری ہے لیکن رفیع کے دعوے کا بھی ذکر ہے۔ اس اندراج کو 1991 میں 2011 تک ہٹا دیا گیا جس میں گنیز نے لتا جی کی بہن آشا بھوسلے کو سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ فنکار کے طور پر رکھا۔

    اپنے طویل کیریئر میں، لتا نے بھارت کے عظیم ترین موسیقاروں اور میوزک ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کیا لیکن انہوں نے کبھی او پی نیئر کے ساتھ کام نہیں کیا لتا منگیشکر نے بھارتی فوج اور قوم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اپنا آخری گانا ’سوگندھ مجھے اس مٹی کی‘ ریکارڈ کیا، جسے میویش پائی نے ترتیب دیا تھا، یہ 30 مارچ 2019 کو جاری کیا گیا تھا۔

    لتا منگیشکر نے شادی نہیں کی اور پوری زندگی اکیلے ہی گزاری لتا منگیشکر نے اپنی ایک طویل عمر بھارتی فلم انڈسٹری کے ساتھ جڑے رہ کر گزاری لیکن اس تمام عرصے میں وہ اپنی نجی زندگی کے حوالے سے ہونے والی قیاس آرائیوں پر خاموش رہیں2013 میں ایک انٹرویو کے دوران گلوکارہ نے زندگی میں محبت، شادی اور بچوں کی اہمیت کے بارے میں بات کی تھی۔

    انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ’محبت نے ان کی زندگی میں کیا کردار ادا کیا اور ان کی زندگی میں خوش قسمت آدمی کون تھا؟ لتا منگیشکر نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’کچھ باتیں صرف دل کو ہی پتہ ہونی چاہئیں اور وہ ان باتوں کو صرف اپنے دل تک ہی محدود رکھنا چاہتی ہیں انہوں نے کہا کہ عورت اس وقت تک ‘نامکمل’ ہے جب تک کہ وہ شادی نہ کرے اور اس کے بچے نہ ہوں تاہم لوگ ہر طرح کی باتیں کرتے ہیں، اس لیے انہیں نظر انداز کرنا سیکھیں گر ایسا نہیں کریں گے تو خوشگوار زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا، منفی اور افسردہ کر دینے والی باتوں کو خود سےدور رکھنا چاہیے‘۔

    لتا منگیشکر نے شادی کے حوالے سے کرن راؤ کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ’کرن راؤ نے اس حوالے سے بہت خوبصورت بات کی ہے کہ انسان کو پہلے اپنے اندر کی خوشی اور مکمل ہونے کے احساس کو تلاش کرنا چاہیے ورنہ صرف شادی یا اولاد سے خود کو مکمل کرنے کا خواب اپنی اہمیت کھو دیتا ہے‘۔

    لتا منگیشکرکی چند یادگار اور نایاب تصاویر:


    لتا منگیشکر کی بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان کے ساتھ گفتگو کی تصویر۔

    لتا منگیشکر نے سابقہ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ تصویر بنوائی۔


    پلے بیک گلوکارہ لتا منگیشکر (دائیں)، آشا بھوسلے (بائیں) اور موسیقار ہردے ناتھ منگیشکر 21 جنوری 1973 کو شانموکھانند ہال میں منعقدہ ہردے ناتھ منگیشکر میوزیکل نائٹ میں پرفارم کر رہے ہیں۔


    بمبئی کے میئر، ڈاکٹر رمیش پربھو نے 14 مارچ 1988 کو بمبئی میونسپل کارپوریشن کے بمبئی کے اندھیری اسپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ ایک پروقار پروگرام میں لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ لتا منگیشکر کو مبارکباد دی۔

    لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ لتا منگیشکر کی اپنے اہلخانہ کے ساتھ تصویر۔


    لتا منگیشکرکی آر ڈی برمن اور راجیش کھنہ کے ساتھ یادگار تصویر-

    تصاویر بشکریہ:بھارتی میڈیا

  • لتا منگیشکرکی موت پرپاکستانی معروف اورسیاسی شخصیات کی جانب سےشدید دُکھ کا اظہار

    لتا منگیشکرکی موت پرپاکستانی معروف اورسیاسی شخصیات کی جانب سےشدید دُکھ کا اظہار

    بھارتی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر پاکستانی معروف ،شوبز اور سیاسی شخصیات کی جانب سے شدید دُکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بھی سُروں کی ملکہ لتا منگیشکر کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا لتا منگیشکر کے انتقال سے موسیقی کی دنیا ایک ایسے گلوکار سے محروم ہوگئی جس نے اپنی سُریلی آواز سے نسلوں کو مسحور کیا۔ میری نسل کے لوگ ان کے خوبصورت گانے سنتے ہوئے بڑے ہوئے جو ہماری یادوں کا حصہ رہیں گے-


    چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ نصف صدی سے زائد عرصہ اپنی آواز کا جادو جگا کر لتا منگیشکر نے کروڑوں انسانوں کو اپنے سنگیت کا گرویدہ بنایا آنجہانی لتا منگیشکر برصغیر میں موسیقی کی ایک پہچان تھیں، فلمی صنعت کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ لتا منگیشکر کے گیت، ان کے نغمے اور سُر کبھی فراموش نہیں کیے جا سکیں گے لتا منگیشکر کی وفات دنیا بھر میں ان کے پرستاروں کے لے ایک گہرا صدمہ ہے۔

    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدارنے گلوکارہ لتا منگیشکر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا لتا منگیشکر کے انتقال سے فن موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ ہوا ہے۔ لتا منگیشکر کا گلوکاری میں کوئی ثانی نہیں تھا۔ سُر، تان کی ملکہ لتا منگیشکر نے فلم نگری پر طویل عرصہ راج کیا۔ لتا منگیشکر نے کئی دہائیوں تک آواز کا جادو جگایا۔

    پاکستان کر کٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے بھی بھارتی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے-


    ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں رمیز راجہ نے کہا کہ ’لتا منگیشکر رحمدلی، عاجزی اور سادگی کی مظہر تھیں اُن کی خوبصورت اور عظمت سے بھرپور شخصیت ہم سب کے لیے ایک سبق تھی اُنہوں نے شدید دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کشور کمار اور اب لتا جی کی موت نے مجھے موسیقی سے محروم کر دیا ہے۔‘


    وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھارتی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کو خوب صورت الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے بیان میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ لتا منگیشکر کا انتقال موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ ہے لتا جی نے عشروں تک سُروں کی دنیا پر حکومت کی، ان کی آواز کا جادو رہتی دنیا تک برقرار رہے گا جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں لتا منگیشکر کو الوداع کہنے والوں کا ہجوم ہے۔

    دوسری جانب گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر پاکستانی فنکاروں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی موت کو موسیقی کی دنیاکا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے۔

    اداکار عمران عباس نے لتا منگیشکر کی موت پر نہایت دکھ اور افسوس کاا ظہار کرتے ہوئے ان کی موت کو موسیقی کی دنیا کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے۔ انہوں نے لتاجی کی ایک یادگار تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا انڈیا کی بلبل نہیں رہیں۔ ان کی آواز پوری کائنات کے لیے خدا کی دی ہوئی نعمت تھی۔ آج ایک دور کے خاتمے کا دن ہے لتا جی آپ نے کئی دہائیوں تک ہمارے دلوں کو فتح کیا اور آنے والے سالوں میں آپ بطور میلوڈی کوئین ہمیشہ راج کرتی رہیں گی۔ الوداع لتا منگیشکر۔ خدا نگہبان ہو تمہارا۔


    اداکار عدنان صدیقی نے لتا منگیشکر کی موت کو موسیقی کی دنیا کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی ناقابل فراموش دھنوں کو سنتے ہوئے بڑے ہوئے۔ سُروں کی ملکہ جو خلا آپ نے چھوڑا ہے وہ کبھی نہیں پُر ہوسکتا۔

    گلوکارہ میشا شفیع، نادیہ حسین، سلمان احمد، اداکارہ ریشم نے لتا منگیشکر کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’ایک باب ختم ہوا‘‘۔ اداکارہ بشریٰ انصاری نے لتا منگیشر کی ایک خوبصورت تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں ہم کیا کریں گے‘‘۔ بشریٰ انصاری نے کہا کہ لتا جی آپ سے ملنے کی خواہش رہ گئی۔

    بالی ووڈ کی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں چل بسیں لتا منگیشکر28 ستمبر 1929 کو اندور میں پیدا ہوئیں لتا منگیشکر کی آخری رسومات پاکستانی وقت کے مطابق آج شام 6 بجے ممبئی کے شیواجی پارک میں ادا کی جائیں گی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق لتامنگیشکر اتوار کی صبح ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں چل بسیں۔ لتا منگیشکر کو 8 جنوری کو ہلکی علامات کے ساتھ کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہیں ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

    بعد ازاں انہیں نمونیا کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) کے وارڈ میں داخل کیا گیا تھا اور وہ تقریباً 20 روز تک وینٹی لیٹر پر رہی تھیں۔

    گزشتہ روز لتا منگیشکر کی حالت ایک بارپھر بگڑنے پر انہیں دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔ بریچ کینڈی اسپتال کے ڈاکٹر پرتت صمدانی نے لتا منگیشکر کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ گلوکارہ اب بھی آئی سی یو میں ہیں اور ڈاکٹرز کی زیر نگرانی رہیں گی۔

    لتا منگیشکر کی بگڑتی حالت کا سن کر اداکارہ شردھا کپور سمیت متعدد بالی ووڈ فنکار ان سے ملنے اسپتال پہنچے تھے۔ جب کہ مادھوری ڈکشٹ، روینہ ٹنڈن سمیت متعدد فنکاروں نے گلوکارہ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی تھی۔

    لتا منگیشکر کی بہن گلوکارہ آشاہ بھوسلے بھی اپنی بہن سے ملنے گزشتہ روز اسپتال پہنچیں تھیں اور ان کی صحت کے بارے میں میڈیا کو بتایا تھا کہ اب لتا دیدی کی حالت مستحکم ہے تاہم لتامنگیشکر جانبر نہ ہوسکیں۔

    پنڈت دینا ناتھ منگیشکر اور شیونتی منگیشکر کی بیٹی لتا کا تعلق موسیقی کے گھرانے سے تھا اس کے والد ایک مشہور مراٹھی موسیقار اور تھیٹر آرٹسٹ تھےکئی ڈراموں میں بطور چائلڈ آرٹسٹ نظر آئیں 13 سال کی عمر میں شوبز کیرئیر شروع کیا-

    تین بہنیں، ایک بھائی اور ماں کے ساتھ گھر میں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ 1942 میں ماسٹر دینا ناتھ دنیا سے گزر گئے اور پورے گھرانے کی ذمہ داری 13 سالہ بچی کے کندھے پر آ پڑی کھیلنے کے دن تھے لیکن زندگی نے فلم سیٹ پہ لا کھڑا کیا۔ میک اپ کی ملمع سازی اور سیٹ کی ہنگامہ خیزی سے ان کا دل کٹتا رہتا۔ بمبئ کے ریلوے سٹیشن ملاد سے سٹوڈیوز کا فاصلہ اچھا خاصا تھا لیکن وہ پیدل آیا جایا کرتیں تاکہ پیسے بچا سکیں رات گئے جب گھر پہنچتی تو ہاتھ میں تھوڑی سی سبزی، ساڑھی کے پلو میں چند سکے اور آنکھ میں ڈھیر سارے آنسو ہوتے۔ یہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی لیکن اگلے دن پیٹ کی بھوک دوبارہ فکمی دنیا کے دوزخ میں لا جھونک دیتی۔

    ان کا نام ہیما تھا جسے دنیا لتا مینگیشکر کے نام سے جانتی ہے ان کے والد تھیٹر کے مشہور اداکار اور کلاسیکل گائیک تھے مراٹھی زبان کی تین فلمیں ناکام ہوئیں جس کے بعد مایوسی، گھٹیا شراب اور موت تک کا فاصلہ پلک جھپکتے میں طے کر لیا۔ اس کڑے وقت میں ماسٹر جی کے دیرینہ دوست ماسٹر وینائیک نے کولہا پور اپنے پاس بلایا اور پھر اپنی کمپنی کے ساتھ بمبئی لے آئے نئی مصیبت یوں پڑی کہ وونائیک بھی چل بسے اور یوں 1948 میں ماسٹر غلام حیدر نے لتا کے سر پہ ہاتھ رکھا۔

    ماسٹر غلام حیدر اس وقت چوٹی کے موسیقار تھے۔ وہ پاکستان سے ایس مکھر جی کی فلم شہید کے لیے موسیقی ترتیب دینے دوبارہ بمبئی گئے اور آرکسٹرا میں کسی کے کہنے پرلتا کو ایک بار سن لینے پر راضی ہو گئے۔ ماسٹر جی شہید فلم کے لیے یہ نئی آواز استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن ایس مکھر جی نے کہا نہیں، اس بچی کی آواز بہت پتلی ہے یہ نہیں چلے گی۔

    ماسٹر غلام حیدر لتا جی کے ساتھ ریلوے سٹیشن کی طرف چل پڑے اور راستے میں اس نئی آواز کی مناسبت سے سگریٹ ٹن پر ایک گیت کی دھن تیار کی جو ان کی دوسری فلم مجبور (1948)میں دل میرا توڑا کے بول کے ساتھ شامل ہوا۔ یہ گیت انل بسواس نے سنا اور اس طرح کھیم چند پرکاش تک نئی آواز کی خبر پہنچی۔

    کمال امرہوی کی فلم محل(1949) ان دنوں بننے کے مرحلے میں تھی کہ ایک دن اس کے موسیقار کھیم چند پرکاش نے کُم کُم کے نام سے مشہور اُمّہ دیوی، اداکارہ جو اچھا گا لیتی تھیں، کو ایک گیت گانے کی پیشکش کی۔ کُم کُم نے کاردار پروڈکشن ہاؤس سے معاہدے کی وجہ سے انکار کر دیا گیت نوآموز لتا کو مل گیا اور اس گیت نے ہندوستانی سینما کی تاریخ بدل کے رکھ دی۔ یہ لتا کا پہلا ہٹ گیت آئے گا آنے والا تھا۔

    لتا منگیشکر نے 1943 میں ریلیز ہونے والی مراٹھی فیچر گجابھاؤ کے لیے اپنا پہلا ہندی گانا "ماتا ایک سپوت کی دنیا بدل دے تو” ریکارڈ کیا۔ جن میں انیل بسواس، شنکر جئے کشن، نوشاد علی اور ایس ڈی برمن کے علاوہ دیگر شامل ہیں لتا منگیشکر پچاس ہزار سے زائد گانے گا چکی ہیں وہ 1974ء سے 1991ء تک گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ریکارڈ ہولڈر کے طور پر شامل رہیں۔ بک کے مطابق وہ دنیا میں سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کرانے والی گلوکارہ ہیں۔

    ماسٹر غلام حیدر نے ایس مکھر جی سے کہا تھا ‘آپ ابھی اس آواز کو چاہے پسند نہ کریں لیکن ایک وقت آئے کا موسیقار اور سرمایہ کار اس آواز کے تلاش میں سر کے بل قطار اندر قطار آئیں گے۔ ‘ یہ بات حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی اور تب لتا نے ادھار چکانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جب لتا جی نے گانا شروع کیا اس وقت فلم سنگیت کو کلاسیکل گلوکار نہایت حقارت سے دیکھتے تھے۔ لتا جی نے ابتدا میں کلاسیکی موسیقی سیکھنا شروع کر دی لیکن جیسے ہی ماسٹر غلام حیدر کو معلوم ہوا انہوں نے پاکستان سے خط لکھا کہ’ آپ یہ کیا کر رہی ہیں؟ آپ کی آواز بہتے ہوئے مدھر دریا کی سی ہے۔ کلاسیکی انداز چناب کی روانی کو مجروح کر دے گا۔

    فلم کی دنیا میں کیسی کیسی ہنگامہ خیر ہوائیں چلیں، کیسے کیسے چہرے بجھ گئے اور کتنے ہی تخلیق کاروں کے سوتے خشک ہو گئے لیکن لتا کی لے اس شور میں کبھی گم نہ ہو سکی۔ کتنی نسلوں نے لتا کی آواز میں محبت کرنا سیکھا، اپنی تنہائی کو مٹایا اور زندگی کا بوجھ اٹھانے میں مدد لی 1989 میں لتا کی عمر 60 برس تھی لیکن ان کا گیت دل دیوانہ بن سجنا کے مانے نا سن کر ایسا لگتا ہے جیسے 20 سالہ لڑکی گا رہی ہے۔ اس گیت کو پچھلے تیس برس کا مقبول ترین گیت سمجھا گیا۔

    50 کی دہائی میں لتا جی نمبر ون تھیں تو نوے کی دہائی میں بھی بہترین گیت انہی کی آواز میں امر ہوئے اگر 1949 میں انہوں نے برسات کے لیے نو گیت گائے تو 51 برس بعد ویر زارا کے لیے بھی اتنے ہی گیت گا کر صدا بہار گلوکارہ ہونے کا عملی ثبوت دیا۔

    1961 کا جب بھارتی فلموں میں مدھر اور رسیلی آواز کی حامل لتا منگیشکر کی آواز کا جادو اپنے پورے عروج پر تھا۔ 32 برس کی لتا منگیشکر کامیابی اور کامرانی کی نئی مثالیں قائم کرنے میں مگن تھیں کہ کسی نے ان کی ایک دن اچانجک طبیعت خراب ہوئی جب ڈاکٹر نے چیک اپ کیا تو انکشاف ہوا انہیں کھانے میں سلو پوائزن دیا جا رہا ہے جس کے بعد ان کا علاج شروع ہوا اور ان کا باورچی اچانک سے غائب ہو گیا-

    گلوکارہ نے دوبارہ تین ماہ بعد کام کا آغاز کیا اور گانا ’بیس سال بعد‘ کا ’کہیں دیپ جلے کہیں دل‘ گایا ۔ لتا منگیشکرنے اس گانے کو ایسا ڈوب کر گایا کہ اس گیت نے انہیں اگلے سال بہترین گلوکار کا فلم فیئر ایوارڈ کا حقدار بنا دیا لتا منگیشکر کو زہر دینے کی سازش میں کون ملوث تھا؟ کس نے، کیوں اور کس کے اشارے پر یہ کارستانی دکھائی؟ اس راز پر سے کبھی پردہ نہیں اٹھا۔ خود منگیشکر خاندان اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کرتا رہا دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی بھی اس باورچی کو ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی گئی جو اس واقعے کے بعد بغیر تنخواہ لیے پراسرار طور پر اڑن چھو ہو گیا تھا۔

    لتا جی کی ایسی بے مثل کامیابی دیکھتے ہوئے کروڑوں لوگ سوچتے ہوں گے کاش وہ لتا مینگیشکر ہوتے۔ جاوید اختر نے جب ان سے پوچھا کہ آپ اگلے جنم میں کیا بننا چاہیں گی تو انہوں نے کہا ‘کچھ بھی، لیکن لتا مینگیشکر نہیں۔’ جی ہاں! سنگھرش کے ابتدائی دنوں کا سایا آسیب کی مانند ساری زندگی لتا جی کا پیچھا کرتا رہا ایک تلخی جو ان کے مزاج کا حصہ بن گئی اور وہ کبھی اپنا نجی جیون سریلا نہ بنا سکیں۔ کروڑوں سماعتوں میں امرت گھولنے والی لتا جی ایسے ذائقہ سے آشنا نہ ہو سکیں جو ان کی تلخی مٹا سکتا-

    انہوں نے ہندی، بنگالی، مراٹھی اور دیگر علاقائی زبانوں میں گانوں کو اپنی آواز دی ہے لتا کو بے شمار ایوارڈز ملے۔ خود ان کا کہنا ہے کہ ان کا سب سے بڑا ایوارڈ لوگوں کا پیار ہے انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، بھارت رتن، پدم بھوشن کے ساتھ ساتھ کئی قومی اور فلم فیئر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔

  • لتا منگیشکرحالت بگڑنے پر دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل

    لتا منگیشکرحالت بگڑنے پر دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل

    مبئی: بالی ووڈ کی لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی حالت بگڑنے پر انہیں دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق لتا منگیشکر کو گزشتہ ماہ 11 جنوری کو کووڈ 19 کے باعث ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا بعد ازاں انہیں نمونیا کی تشخیص کے بعد انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) کے وارڈ میں داخل کیا گیا تھا اور وہ تقریباً 20 روز تک وینٹی لیٹر پر رہی تھیں ڈاکٹرز کی زیر نگرانی رہنے کے بعد گلوکارہ کی حالت میں تھوڑی سی بہتری آئی تھی لیکن اب ان کی حالت ایک بار پھر بگڑنے کی وجہ سے انہیں دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا ہے۔

    گلوکارسونو نگم فیملی سمیت کورونا وائرس کا شکار


    بھارتی میڈیا کے مطابق ڈاکٹرز نے لتا منگیشکر کی حالت کو سیریس قرار دے دیا بریچ کینڈی اسپتال کے ڈاکٹر پرتت صمدانی نے لتا منگیشکر کی حالت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلوکارہ اب بھی آئی سی یو میں ہیں اور ڈاکٹرز کی زیر نگرانی رہیں گی۔

    بالی ووڈ معروف کوریو گرافرنے خود کشی کر لی

    واضح رہے کہ اس سے قبل لتا منگیشکر کے ڈاکٹر نے ان کی حالت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا تھا گلوکارہ کی طبیعت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے ہم دیکھو اورانتظار کرو کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کے لیے دعا کررہے ہیں انہوں نے لوگوں سے بھی لتا جی کے لیے دعا کرنے کی درخواست کی تھی۔

    عامر خان سے خفیہ شادی کی افواہوں پر پریتی زنٹا کا ردعمل

  • لتا منگیشکرمیں کورونا کے بعد نمونیا کی تشخیص

    لتا منگیشکرمیں کورونا کے بعد نمونیا کی تشخیص

    بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان میں نمونیا کی تشخیص بھی ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ لتا کو آئی سی یو میں رکھا گیا ہے، جہاں کورونا کے ساتھ نمونیا کا علاج بھی کیا جارہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ انہیں 10 سے 12 دن اسپتال میں ہی رہنا ہو گا، عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے صحت کی بحالی کو زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

    لتا منگیشکرکی بھانجی نے عوام سے ان کی جلد صحت یابی اور زندگی کی دعا کرنے کی اپیل کی ہے۔

    گلوکارہ لتا منگیشکر بھی کورونا وبا کا شکار ہو گئیں

    یاد رہے کہ گزشتہ روزبھارتی میڈیا نےبتایا تھا کہ لتا منگیشکر میں کورونا وائرس کی معتدل علامات موجود ہیں لتا منگیشکر آئی سی یو میں داخل ہیں لتامنگیشکر کی طبیعت بہتر ہے، اُنہیں احتیاطی طور پر آئی سی یو میں رکھا گیا ہے رپورٹس کے مطابق لتا منگیشکرکوان کی عمر کے پیش نظر اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے۔

    بھارتی گلوکارہ کو 2019 میں بھی سانس کے مسئلے کی وجہ سے اسپتال داخل کرایا گیا تھا۔ لتا نے گزشتہ سال ستمبر میں اپنی 92 ویں سالگرہ منائی تھی۔

    انجیکشن سےخوفزدہ شہری کورونا سے ہلاک

    لتا نے 1942 میں اپنے والد دینا ناتھ منگیشکر کے انتقال کے بعد باقاعدہ گلوکاری شروع کردی تھی۔ دینا ناتھ کی بیٹیوں میں نہ صرف لتا نے سروں کی دنیا میں مقبولیت حاصل کی بلکہ ان کی بہن آشا بھوسلے نے بھی گلوکاری میں اہم مقام حاصل کیا.

    1929 میں پیدا ہونے والی لتا کی آواز سے ان کی عمر کا ذرا بھی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ بھارتی گلوکارہ اب تک 50 ہزار سے زائد گانے گا چکی ہیں، وہ 1974ء سے 1991ء تک گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ریکارڈ ہولڈر کے طور پر شامل رہیں

    کورونا وبا:ملک میں اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

  • گلوکارہ لتا منگیشکر بھی کورونا وبا کا شکار ہو گئیں

    گلوکارہ لتا منگیشکر بھی کورونا وبا کا شکار ہو گئیں

    ممبئی: بھارت کی مشہورگلوکارہ لتا منگیشکر بھی کورونا وبا کا شکار ہو گئیں-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ملک میں کورونا کی لہر میں شدت آتی جارہی ہے ،ممبئی اور دہلی میں اس کا زبردست اثر دیکھا جارہا ہے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے تاہم آج مشہوربھارتی گلوکارہ 92 سالہ لتا منگیشکربھی کورونا کا شکارہوں گئیں گلوکارہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ممبئی کے اسپتال میں داخل کردیا گیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق لتا منگیشکر میں کورونا وائرس کی معتدل علامات موجود ہیں لتا منگیشکر آئی سی یو میں داخل ہیں لتا منگیشکر کی طبیعت بہتر ہے، اُنہیں احتیاطی طور پر آئی سی یو میں رکھا گیا ہے رپورٹس کے مطابق لتا منگیشکرکوان کی عمر کے پیش نظر اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق لتا کو انفیکشن ہونے کے بعد ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے 92 سالہ لتا منگیشکر کی صحت چند ماہ قبل بھی بگڑ گئی تھی۔ نومبر 2019 میں بھی انہیں سانس کی تکلیف کا سامنا رہا تھا-

    رپورٹس کے مطابق دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کا کہنا ہے کہ دہلی میں کووڈ-19 ‘ایک یا دو دن میں’ اپنے عروج پر پہنچ جائے گا، جس کے بعد تیسری لہر میں انفیکشن کے معاملات میں کمی آئے گی بھارتی دارالحکومت میں پیر کو 19,000 سے زیادہ نئے کورونا کیسز درج ہوئے، جو اتوار کے مقابلے میں قدرے کم تھے۔

    جاپان نےکورونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار امریکی فوجی اڈوں کو قرار دے دیا

    دہلی حکومت ہفتے کے آخر میں کرفیو پر دوبارہ غور کرنے کے سوال پر وزیر صحت نے بھارتی میڈیا کو بتایا، "کہ وبا چوٹی پرپہلے ہی پہنچ چکی ہے، یا ایک یا دو دن میں عروج پرلہرآجائے گی اس کے بعد کیسز میں کمی آنی چاہیے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم ایک اور کرفیو نافذ کر دیں، صرف لوگوں کو یاد دلانے کے لیے کہ وہ اپنی سلامتی کو کمزور نہ کریں-

    سینیٹر اعجاز چودھری کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا

    انہوں نے کہا کہ دہلی میں کوڈ19 کے معاملات عام طور پر زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ زیادہ تر بین الاقوامی پروازیں یہاں اترتی ہیں۔اومی کرون صرف اسی وجہ سے دہلی میں تیزی سے پھیلی ہے۔ ایک اچھی علامت یہ ہے کہ اسپتال میں داخل ہونے کی شرح بہت زیادہ نہیں ہے۔ 20,000 کے قریب رجسٹر ہونے کے باوجود۔ روزانہ کیسز، ہسپتال میں صرف 2,000 افراد داخل ہوتے ہیں، جب کہ کوڈ مریضوں کے لیے 12,000 بستر خالی ہیں اسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد اب چھ گنا کم ہے۔ ہسپتالوں میں داخل 2000 میں سے صرف 65 لوگ آئی سی یو میں ہیں۔

    بھارت میں کورونا،فلورونا اوراومی کرون کے حملے:صورتحال قابوسے باہر:سپریم کورٹ میدان…

    دہلی میں اس مہینے کے پہلے 10 دنوں میں گزشتہ پانچ مہینوں میں ہونے والی کل اموات سے زیادہ کود19 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مرنے والوں میں سے زیادہ تر دیگر بیماریوں میں مبتلا تھے یا انہیں ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔

    گلوکارسونو نگم فیملی سمیت کورونا وائرس کا شکار