Baaghi TV

Tag: لداخ

  • بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لداخ میں چین کی جانب سے بھارتی زمین پر قبضے کے بعد بھارت میں چین کے خلاف بڑی مہم چلائی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے

    ہندو انتہا پسندوں نے چینی مصنوعات جلا کر بھی بائیکاٹ کا پیغام دیا تا ہم اب ایک حیران کن رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے سامنے آنے کے بعد بھارت کی سیاسی قیادت اور عوام مودی سرکار پر سیخ پا ہو چکے ہیں،مودی سرکار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بھارتی مصنوعات کو ترک کیا جائے تا ہم بھارت پھنس چکا ہے اور چینی مصنوعات کے بائیکاٹ سے بھارت کا اپنا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران چین سے طبی درآمدات میں 75 فیصد اضافہ ہوا، چینی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم کے باوجود چینی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، یہ نہ صرف ان نعروں جو چین کی مصنوعات کی بائیکاٹ کے لئے لگائے گئے تھے پر سوالیہ نشان بلکہ بھارت کو خود کفیل بنانے کی مہم کے لئے بھی بہت بڑا جھٹکا ہے

    بھارت اور چین کے مابین لداخ تنازعہ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے، چین نے نہ صرف بھارتی زمین پر قبضہ کیا بلکہ بھارتی فوج کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں انکی تصاویر بھی وائرل کیں ، بھارتی سیاسی رہنما چین سے بائیکاٹ کا کہتے رہے اور مودی سرکار سے سچ پوچھتے رہے کہ مودی سرکار نے بھارتی فوجی کیوں مروائے؟ تا ہم اب یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد مودی سرکار خاموش ہے کہ چین کے ساتھ تنازعہ کے باوجود، جب چین بھارت کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں تھا چین سے طبی سامان کی درآمدات میں اتنا اضافہ کیوں ہوا،رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک برس سال 2020-21 میں بھارت نے سب سے زیادہ طبی سامان چین سے درآمد کیا اور چین کو بھارت میں سب سے زیادہ سامان درآمد کرنے کے حوالہ سے پہلا نمبر مل گیا، اس سے قبل امریکہ اور جرمنی سے بھارت زیادہ طبی مصنوعات درآمد کرتا تھا، اب چین نے امریکہ اور جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑدیا،

    خبر رساں ادارے کے مطابق چین سے میڈٹیک اور میڈیکل ڈیوائس کی درآمدات میں 75 فیصد اضافہ ہوا اس میں آکسی میٹر، ڈائگناسٹک انسٹرومنٹ، ڈیجیٹل تھرمامیٹر اور کیمیکل ریجنٹ کی تعداد بہت زیادہ ہے ،

    چین کے ساتھ تنازعہ کو لےکر بھارتی اپوزیشن جماعتیں مودی سرکار پر تنقید کرتی رہتی ہیں، گزشتہ دنوں کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد تنازعہ کے حوالہ سے مودی سرکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے تھا کہ چین نے ڈوکلام کے پاس تین گاؤں بنا لئے، مودی سرکار نے بھارت کی قومی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے، مودی کی خاموشی سے بھارت کی سالمیت خطرے میں ہے ،کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے بھارتی مسلح افواج کی حوصلہ افزائی کی بجائے ہمت کم کر دی، چین نے کیوں گاؤں بسائے، چینی دراندازی کے باوجود مودی سرکار خاموش ہے، مودی پردے کے پیچھے چھپنے کی بجائے جواب دیں چینی فوجی سرگرمیوں پر نئے سیٹلائٹ تصویر گزشتہ ایک سال میں بھوٹانی علاقہ میں چینی گاؤں کی مبینہ تعمیر کو دکھاتے ہیں، کئی نئے گاؤں کو تقریباً 100 اسکوائر کلومیٹر (25 ہزار ایکڑ) کے علاقہ میں پھیلا ہوا دیکھا جاتا ہے ان گاؤں کی تعمیر مئی 2020 اور نومبر 2021 کے درمیان کی گئی ہے

    کانگریس کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ مودی سرکار نے کبھی سچ نہیں بولا، اب پینٹا گون کی ایک رپورٹ نے بھی تصدیق کر دی ہے، پینٹا گون نے امریکی کانگریس کو ایک سالانہ رپورٹ دی ہے جس میں کہا گیا کہ بھارتی علاقے ارونا چل پردیش کے اندر چین نے دراندازی کی ہے، چین نے ایک گاؤں کی تعمیر کی ہے اور یہ گاؤں چین کے لئے فوجی جنگی چھاؤنی کے طور پر استعمال ہو گا ،چین نے کم از کم 100 سے زائد گھروں کی تعمیر کی جو کثیرالمنزلہ بھی ہیں

    دوسری جانب چین نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا، امریکہ بھی دیکھتا رہ گیا، چین دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا ،امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق عالمی دولت دو دہائیوں میں 156 کھرب سے بڑھ کر 514 کھرب ڈالرز تک پہنچ گئی ہے جس میں سے چین کی دولت 120 کھرب ڈالرز اور امریکا کی دولت 90 کھرب ڈالرز ہے دنیا بھر کی دولت کا دوتہائی حصہ صرف 10 فیصد اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے جبکہ عالمی دولت کا 68 فیصد حصہ رئیل اسٹیٹ سے منسلک ہے

    بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق دس ممالک کی قومی بیلنس شیٹس کا جائزہ لیا گیا ہے جو دنیا کی 60 فیصد سے زیادہ آمدنی کی نمائندگی کرتے ہیں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران عالمی مجموعی مالیت میں چین کا تقریباً ایک تہائی فائدہ ہے۔دنیا بھر میں مجموعی مالیت 2020 میں 514 ٹریلین ڈالر تک بڑھ گئی، جو 2000 میں 156 ٹریلین ڈالر تھی۔ بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں ممالک میں دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں دو تہائی سے زیادہ دولت 10 فیصد امیر ترین گھرانوں کے پاس ہے، اور ان کا حصہ بڑھ رہا ہے۔

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    ایرانی ہیکرز کا اسرائیلی فوج پر بڑا حملہ

    قبل ازیں بھارت کے زیر انتظام لداخ میں کنٹرول لائن پر چین اور بھارت کی افواج کے درمیان ایک بار پھر جھڑپ کے بعد چائنہ نے بھارتی فوجیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کردیں جس میں فوجیوں کو زخمی حالت میں دکھایا گیا ہے

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

    چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

    چین اور بھارت کے مابین بھی لداخ کے حوالہ سے کشیدگی میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، چین نے بھارتی کرنل سمیت 20 فوجیوں کو مار دیا تھا، بھارت چین کے معاملے پر خاموش رہا،کبھی دھمکیاں بھی دیتا رہا لیکن چین بھی بھارت کو منہ توڑ جواب دیتا رہا،چین نے گھس کر بھارتی زمین پر لداخ میں قبضہ کیا جس کو تاحال بھارت چھڑا نہیں سکا،

    لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے

    مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان

    لداخ سے ذرائع کے مطابق گھس کر مارنے کی بھڑکیں مارنے والے بھارت کی آج کل بولتی بند ہے، اس کی وجہ سکم اور لداخ کی سرحد پر چینی فوج کی وہ نقل وحرکت ہے جس سے بھارتی فوج اور مودی سرکار کے ہوش اڑ گئے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    لداخ ،کشمیر تنازعہ پر ہم بھارت کے ساتھ ہیں، امریکہ کا دوٹوک اعلان

    چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال خطرناک ہے، بھارتی آرمی چیف کی لداخ میں بات چیت

    چین نے دیا بھارت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا،لداخ کے بعد ارونا چل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ کر دیا

    سرد موسم ،لداخ میں بھارتی فوج مشکل میں،بھارتی فوجی حکام نے چین کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے

    پاکستان اور چین کے دفاعی یونٹس پر سائبر حملے کرنے والا بھارتی گروہ بے نقاب

  • چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب

    چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب

    آج سے ڈیڑھ سال قبل ملک کی ایک بڑی دعوتی، فلاحی ، دفاعی جماعت کی قیادت و اثاثے بھارتی و بین الاقوامی دباؤ پر بند کر دئیے گئے ، ملکی ناقص معاشی صورتحال کی وجہ سے تحویل میں لیے گئے جماعت کے اداروں کا بوجھ اٹھانا حکومت کیلئے مسئلہ بن چکا ہے ، لاکھوں غرباء مساکین بے آسرا ہو گئے محض اس بات پر کہ شاید عالمی قوتیں اور بھارت خوش ہو جائے ، شاید ہمارے وجود کو تسلیم کر لیا جائے، شاید ہم اچھے ہمسائے بن جائیں ، شاید معاشی پابندیاں کم ہو جائیں،شاید ایف اے ٹی ایف کوئی رعایت کر دے مگر مہینوں گزرنے کے بعد بھی۔۔۔۔۔

    5 اگست سے کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن اور سینکڑوں جوانوں کی شہادت ، ایل او سی پر مسلسل فائرنگ اور آزاد کشمیر کے شہریوں کی شہادتیں، بلوچستان میں آرمی پر حملے اور فوجی جوانوں کی شہادتیں، چند دن قبل کراچی کی طرف بھارتی فضائیہ کی اڑانیں، بھارتی قیادت کی مسلسل پاکستان پر حملے کی دھمکیاں۔۔۔۔۔۔

    اور دشمن کی چہار اطراف جارحیت کے مقابل ماشاءاللہ دفاعی حکمت عملی میں پہلے جماعت کے سربراہ اور اب باقیماندہ قیادت کو سزائیں و جرمانے۔

    اللہ ہمارے فیصلہ سازوں پر رحم کرے اور درست فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ آمین

  • کشمیر و بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرنے والے مودی کو لداخ میں چینی قبضے پر سانپ سونگھ گیا از طہ منیب

    تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی خیمے گاڑ دئیے ، پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار کیے ھو بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ، دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ معاہدہے کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔

    کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔

    چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی،یہ وہی فوج ہے نے کشمیر میں میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔

  • "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر:  محمد عبداللہ

    "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے پہلے بھی اس موضوع پر تفصیل سے لکھا تھا ابھی پھر بتائے دیتے ہیں کہ یہ بات حقیقت ہے کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو آج باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے اور کشمیر کو دو یونٹس کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیا ہے. اس پر ہمارے لوگ بہت ہی افسردہ ہیں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کا افسردہ ہونا بنتا ہے لیکن افسردگی، غم و غصے اور مایوسی میں فرق ہونا چاہیے ایسے نہیں ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا ہے اور وہاں کی حریت قیادت نے یا عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے.

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    دیکھیں کشمیر پر بھارت کا قبضہ کوئی پچھلے 87 روز سے نہیں ہوا بلکہ ستر سال سے جاری ہے تو کیا کبھی آزادانہ ترنگا لہرا پایا بھارت کشمیر کے کسی بھی علاقے میں؟ کیا جموں و کشمیر کی عوام نے بھارت کے اس قبضے کو تسلیم کیا؟ کیا انہوں نے بھارتی مراعات اور پیکجزو آفرز کو قبول کیا ہو؟ جب ماضی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور کشمیری ڈٹے رہے اور سبز ہلالی پرچم کو لہراتے رہے تو یاد رکھیں کشمیر میں کل بھی سبز ہلالی لہراتا تھا اور آئندہ بھی سبز ہلالی ہی لہرائے گا ان شاءاللہ، بھارتی ترنگے کے لیے نہ کل کشمیر میں جگہ تھی نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی جگہ ہوگی. سر دست مسئلہ یہ ہے بھارت نے اس ساری بدمعاشی کے لیے وقت چنا ہے وہ کشمیریوں کے وکیل پاکستان کے لیے مشکل ترین وقت ہے. اندرونی خلفشار سب کے سامنے ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جو بچی کچھی بات اور سفارتی اور عالمی سطح پر جو کوششیں ہو رہی تھیں وہ بھی گرفتاریوں، رہائیوں، دھرنوں اور نام نہاد آزادی کے مارچوں کی نظر ہوگئیں اور مسئلہ کشمیر بیک فٹ پر چلا گیا.

    "علی گڑھ یونی ورسٹی کا اسکالر اور مجاہدین کا کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    دوسرا بہت بڑا ایشو ان حالات میں پاکستان کی بدخال معیشت ہے اتنے تنگ معاشی اور سیاسی ابتری کے حالات میں آپ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے. تیسری بات کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سے بھارت نے فائدہ اٹھایا کہ جب تک امریکہ یہاں ہے اسی ٹائم کے اندر اندر یہ فیصلہ لے لو وگرنہ امریکہ کے جانے کے بعد تو بھارت کو دہلی کے لالے پڑے ہونگے، تیسری اور سب سے اہم چیز جو پاکستان کا سب سے اہم ہتھیار تھا وہ ایف اے ٹی ایف کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے کوئی سلسلہ ایسا نہیں جو پاکستان شروع کرسکتا ہو. پاکستان کے لیے یہ نہایت کٹھن دن ہیں اور بھارت نے انہی دنوں کا انتخاب کرکے کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرکے اپنے اندر ضم کرنا چاہا ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا یہ کشمیر نہ نگلا جائے گا اور نہ اگلا جائے بھارت اور بالآخر یہ ممبئی سے شملہ تک پھیلا بھارت ٹکڑوں اور حصوں میں بٹے گا. منی پورہ کی آزادی کی اعلان ہوچکا، خالصتان موومٹ تیزی سے جاری ہے اور کرتارپور کوریڈور اس میں نہایت اہم سنگ میل ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہمارے اینڈ سے ہونا چاہیے کہ مایوس نہ ہوں اور ڈٹے رہیں مسلسل آواز بلند کرتے رہیں اور جو قوتیں اور گماشتے کشمیر ایشو سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ان کو کامیاب نہ ہونے دیں. جب کشمیر کی حریت قیادت پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتی ہے اور پاکستان پر اعتماد کرتی ہے تو پاکستان کا جذباتی نوجوان کیوں نہیں سمجھتا. ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ یہ ایمانی اور عقیدے کی کمزوریاں ہی ہیں جو ہم زمینی حقائق کی بات کرکے دلاسے دیتے اور دلاتے ہیں اگر دل ایمان سے بھرپور ہوں تو ابابیلیں بھی ہاتھیوں کو شکست دیتی ہیں اللہ کی مدد سے.
    ہمارے اداروں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اتنے نازک اور سنجیدہ حالات میں جب غیر سنجیدگی اور لاپرواہی دکھائی جاتی ہے شمشیر و سناں پر طاؤس و رباب کو ترجیح دی جاتی ہے تو قوم کا غصہ فطری ہے.

    <img src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2019/10/IMG_20191031_133721-271×300.jpg” alt=”محمد عبداللہ” width=”271″ height=”300″ class=”size-medium wp-image-112485″ /> محمد عبداللہ

  • "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز سے کشمیر کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کو لے کر کچھ لوگ بہت پریشان ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو باضابطہ طور پر ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کیا جا رہا ہے کشمیر اور لداخ کے مابین تو اس کی وجہ سے یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا. دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کام اسی دن ہوگیا تھا جس دن بھارت کی فاشسٹ اور متشدد حکومت نے اپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا تھا اور کرفیو عائد کیا تھا. لیکن تقریباً تین ماہ کے اس کرفیو میں جب وادی میں مواصلات و رابطے کے سبھی ذریعے بند تھے اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس تک معطل تھی تو کیا بھارت وادی میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوگیا تو اس کا جواب سو فیصد نفی میں آتا ہے. اگرچہ کشمیر کی بزرگ حریت قیادت مقید ہے لیکن تحریک آزادی کشمیر کی کمانڈ جن سرپھرے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ان کا اپنا مضبوط نظام ہے وہ سبھی مواصلاتی ذرائع کی بندش کے باوجود جہاں چاہتے ہیں جمع ہوتے ہیں کرفیو توڑتے ہیں بھارت سرکار کی ظالمانہ بندشوں کو چیلنج کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں اسی طرح تحریک آزادی کے وہ بیٹے جو بھارتی مسلح افواج سے برسر پیکار ہیں وہ بھی خاموش نہیں ہیں اگر ہم تک اطلاعات نہیں پہنچ رہیں تو یہ اور بات ہے. باقی رہی بات کشمیر کو تقسیم کرنے اور وہاں ہندو پنڈتوں کو جائدادیں دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی تو یہ بات خوش آئند نہیں ہے لیکن جب ہم افغانستان والے ایشو سے مماثلت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں سترہ اٹھارہ سالوں میں امریکہ ناٹو اور خود افغانی افواج کی مدد کے باوجود بھی آج اس کیفیت میں ہے کہ امارات اسلامی جب چاہتی ہے کابل کو لرزا کر رکھ دیتی ہے ماسوائے کابل کے تو بات ہی الگ ہے تو یہ صاف بات ہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر جب بات میدانوں اور جوانوں کی آتی ہے تو پھر مدد بھی آسمانوں سے آتی ہے. اس سے سارے معاملے میں جس پر بہت زیادہ افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ کچھ ٹھیک بھی ہے وہ ہے پاکستان کا کردار کہ وہ کیا ہے. جذباتیت سے ہٹ کر اگر ہم حقائق پر بات کریں تو عرض ہے کہ پاکستان جو اہل کشمیر کا سب سے بڑا وکیل تھا وہ فقط تقاریر اور سفارت کاری تک محدود ہے (یہی بات کشمیر کا درد رکھنے والوں کے لیے دکھ کا باعث ہے). کشمیر کے لیے اٹھنے والی آوازوں اور بڑھنے والے قدموں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے. لیکن اس سارے معاملے میں اہل نظر لوگوں کے ہاں باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت مکمل طور پر بے بس ہے، پاکستان کے پاس اہل کشمیر کی نصرت و مدد کا سوائے سفارتی اور اخلاقی مدد کے کوئی آپشن نہیں بچا ہے. عالمی حالات اور پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی صورت جکڑ بندیاں سب کے سامنے ہیں. رہی سہی کسر پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے پوری کردی ہے. جب پاکستان اقوام عالم میں کشمیر کا مسئلہ اچھی طرح سے اٹھا رہا تھا اور دنیا کا بڑا حصہ کشمیر کی طرف متوجہ ہو رہا تھا اور دنیا کے کونے کونے سے کشمیر کے حق میں بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں تھیں تو پاکستان میں مفاداتی سیاست کے گماشتوں نے حکومت اور میڈیا کی مکمل توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی اور کشمیر ایشو ہمیشہ کی طرح پس پشت ڈال دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں. تقریباً پچھلے ایک ماہ سے دھرنوں، عدالتی ریلیف، این آر او، بیماریوں کے ڈراموں نے مسئلہ کشمیر کو ذرائع ابلاغ اور سرکاری زبانوں سے مکمل طور بلیک آؤٹ کردیا ہے. جب بحثیت قوم ہی ہم مفادات کے پجاری ہیں تو پھر اہل کشمیر کے دکھ درد پر افسوس سے کیا حاصل…