Baaghi TV

Tag: لفٹ

  • اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوسرے فلور سے لفٹ گراؤنڈ فلور پر جاگری

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوسرے فلور سے لفٹ گراؤنڈ فلور پر جاگری

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت کے دوسرے فلور سے لفٹ گراؤنڈ فلور پر جاگری۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک لفٹ حادثے کا شکار ہو گئی اطلاعات کے مطابق لفٹ دوسرے فلور سے نیچے آتے ہوئے اچانک گر گئی چھ لوگوں کی گنجائش والی لفٹ میں وکلاء سمیت سات افراد موجود تھے، تاہم خوش قسمتی سے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا، تاہم فوری طور پر ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے لفٹ میں پھنسے افراد کو باہر نکال لیا،لفٹ مین نے گرنے والی لفٹ کو چابی کے ذریعے کھولا اور لوگوں کو اس میں باہر نکالا،انتظامیہ کی جانب سے لفٹ کی خرابی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    چیمپیئنز ٹرافی 2025 :آسٹریلیا کے بڑے کھلاڑی ٹورنامنٹ سے باہر

    واضح رہے کہ ہائی کورٹ میں لفٹ خرابی کا یہ دوسرا واقع پیش آیا، اس سے پہلے لطیف کھوسہ سمیت 11 لوگ لفٹ میں پھنس گئے تھے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے دیگر صوبوں کیلئےہونہار سکالر شپ سکیم کی منظوری

  • ریسکیو ٹیم نے لفٹ کھول لی، لطیف کھوسہ و دیگر باہر آ گئے

    ریسکیو ٹیم نے لفٹ کھول لی، لطیف کھوسہ و دیگر باہر آ گئے

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی لفٹ میں پھنس گئے

    لطیف کھوسہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں پیش ہوئے تھے، اب لطیف کھوسہ لفٹ میں پھنس گئے، دیگر وکلاء بھی اندر بند ہو گئے تھے، معاون وکیل سوزین جہاں نے لفٹ کے باہر احتجاج کیا اور کہا کہ 15 منٹ سے کھوسہ صاحب لفٹ کے اندر بند ہیں،خان صاحب کو تو اندر بند رکھا ہے اب وکلاء کو بھی بند کردیا ہے، 20 لوگ لطیف کھوسہ کے ساتھ ہیں، اندر پنکھا بھی موجود نہیں،

    لطیف کھوسہ چالیس منٹ لفٹ کے اندر موجود رہے، وکلا نے لفٹ کھولنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، ہائیکورٹ عملے کی جانب سے لطیف کھوسہ کو لفٹ سے نکالا نہ جا سکا ،لطیف کھوسہ کی زائد عمری کے باعث وکلاء میں اضطراب کی کیفیت تھی، وکلا کا کہنا ہے کہ لطیف کھوسہ کی عمر 70 سال سے زائد ہے، لفٹ میں پنکھا بھی موجود نہیں، 

    ریسکیو ٹیم اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچی اور اسکے بعد ریسکیو عملے نے کاروائی کرتے ہوئے لفٹ کھول لی ،لطیف کھوسہ اور دیگر لوگ لفٹ سے باہر آ گئے، لطیف کھوسہ تقریبا 45 منٹ تک دیگر وکلا کے ہمراہ لفٹ میں پھنسے رہے ،لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا کو 45 منٹ بعد لفٹ سے نکال لیا گیا ،نعیم حیدر پنجوتھا، علی اعجاز بٹر سمیت پندرہ افراد کو بحفاظت باہر نکالا گیا ،تمام افراد چیف جسٹس کی کورٹ سے نکل کر تھرڈ فلور پر لفٹ میں سوار ہوئے،لفٹ گراؤنڈ فلور پر آنے کے بجائے سیکنڈ فلور پر پھنس گئی تھی ،بارہ بجے لفٹ میں سوار ہونے والے دس سے زائد وکلا کو 12:45 پر لفٹ سے نکالا گیا

    صحافی ثاقب بشیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سردار لطیف کھوسہ سمیت دس سے زائد وکلا اسلام آباد ہائیکورٹ کی لفٹ پچھلے آدھے گھنٹے سے پھنس ہوئے ہائی کورٹ انتظامیہ کے پاس ان کا نکالنے کا کوئی انتظام نہیں، بعد ازاں ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ تمام وکلا کو لفٹ سے بحفاظت نکال لیا گیا

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہائی کورٹ کی لفٹ میں پھس گئے ہیں،سانس بند ہو رہا ہے،ابھی تک کوئی بندہ نہیں آرہا اوپر سے سے لائٹ بھی بند کر دی گئی ہے ,بار بار کال کر رہے انتظامیہ کو لیکن آدھے گھنٹے سے ہماری طرف کو ئی نہیں آرہا.سانس بند ہو رہا.

    صحافی اعزاز سید کہتے ہیں کہ لطیف کھوسہ کو اپنے کم و بیش 19 ساتھیوں سمیت لفٹ سے نکال لیا گیا ۔ لفٹ میں استعداد سے زائد افراد سوار تھے ۔

    سپریم کورٹ بار کا لفٹ خرابی کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں پیش آنے والے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، عابد زبیری کا کہنا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ سردار لطیف خان کھوسہ سمیت دیگر وکلاء جو لفٹ میں پھنسے تھے بغیر کسی نقصان کے بچ گئے، چیف جسٹس اسلام باد ہائی کورٹ سے لفٹ خرابی کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں،

    عمران خان کی قانونی ٹیم کے اراکین کو لفٹ میں محصور کرنے پرپی ٹی آئی کا تحقیقات کا مطالبہ
    پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی واقعہ پر اہم اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سینئر قانون دان لطیف کھوسہ سمیت چیئرمین عمران خان کی قانونی ٹیم کو حبسِ بے جا میں رکھنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، پی ٹی آئی نے لطیف کھوسہ اور چیئرمین عمران خان کی قانونی ٹیم کے اراکین کو لفٹ میں محصور کرنے اور حبسِ بے جا میں رکھنے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ صدرِمملکت اور چیف جسٹس آف پاکستان معاملے کی فوری تحقیقات کا اہتمام کریں اور ذمہ داروں کا کڑا محاسبہ کریں،پاکستان تحریک انصاف آئین و قانون پر سختی سے کاربند، اشتعال و انتشار کی بجائے خود کو جمہوری معیار پر سیاسی جدوجہد تک محدود رکھے ہوئے ہے،تحریک انصاف کی آئین، جمہوریت اور ریاست سے ٹھوس وابستگی کو کمزوری شمار کرتے ہوئے اسے بدترین ریاستی شرانگیزیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے،پہلے چیئرمین تحریک انصاف کو تاریخ کے بدترین جعلی ٹرائل کے ذریعے سزا سنائی گئی اور تمام بنیادی حقوق سے محروم کرکے جیل میں قید کیا گیا، اب انہیں نشانہ انتقام بنانے اور تحریک انصاف کو سیاسی عمل سے باہر کرنے کیلئے ان کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ بار بار التواء کا شکار کیا جارہا ہے،آج سینئر قانون دان لطیف کھوسہ سمیت چیئرمین کی قانونی ٹیم کے اراکین کو ہائیکورٹ کی لفٹ میں پون گھنٹے سے زائد تک محصور رکھ کر ہراساں کرنے کی بھی کوشش کی گئی، صدرِمملکت بطور سربراہِ ریاست اور چیف جسٹس آف پاکستان عدلیہ کے سربراہ کے طور پر ملک میں جاری بدترین ریاستی شرانگیزیوں کا نوٹس لیں،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    lift

  • ڈاکوؤں کا نیا طریقہ واردات،عوام کو محتاط رہنے کی اپیل

    ڈاکوؤں کا نیا طریقہ واردات،عوام کو محتاط رہنے کی اپیل

    قصور
    ڈاکوؤں کا نیا طریقہ واردات ،
    ضلع بھر سے سوشل میڈیا پہ دوستی کے بعد ملاقات و گاڑی میں لفٹ دینے کے بہانے اغواء کرکے بذریعہ جاز کیش رقم منگوانے کی وارداتیں،عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر سے گزشتہ چند ماہ سے ایسی بہت سی وارداتیں سامنے آئی ہیں کہ جن میں فیسبک و دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پہ دوستی کرکے ملاقات کا بہانہ کرکے اور راہ چلتے لوگوں کو گاڑی میں لفٹ دینے کا بہانہ کرکے اغواء کرکے اپنی گاڑی میں اسلحہ کے زور پر بٹھا لیا جاتا ہے اور اسی مغوی کے موبائل اکاؤنٹ سے پیسے منگوائے جاتے ہیں اور فوری کسی دوسری دکان پہ جاکر یا اے ٹی ایم سے رقم نکلوا لی جاتی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی ثبوت باقی نا رہے
    اب تک کی سامنے آنے والی وارداتوں میں مغوی پر تشدد تو کیا گیا مگر بذریعہ موبائل اکاؤنٹ پیسے منگوا کر مطلوبہ بندے کو چھوڑ دیا جاتا رہا ہے تاہم عوام سے محتاط رہنے کی اپیل ہے تاکہ تشدد اور مالی نقصان سے بچا جا سکے