Baaghi TV

Tag: لندن پلان

  • لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بار پھر مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہو گئے ہیں

    نواز شریف نےن لیگ کا صدر منتخب ہونے کے بعد خطاب کیا،نواز شریف نے اپنے خطاب میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے لندن پلان بارے انکشافات کی تصدیق کی، مبشر لقمان کے انٹرویو بارے نواز شریف نے اپنے خطابات میں ذکر کیا اور جو بات مبشر لقمان نے کہی تھی وہی بتائی، نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج عمران خان کے خلاف سچے کیسز ہیں، کونسا ایسا کیس ہے جو غلط ہیں، جھوٹ ہے، ذرا مجھے بتائیں آپ یعنی عمران خان نے تو سیاست ہی ان کے کندھوں پر بیٹھ کر شروع کی، آج آپ وہ ٹیپ سنیں، میں نے بنی گالا میں عمران خان کو کہا کہ آئیں مل کر ملک کی خدمت کریں، مجھے ان کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود ان کے پاس گیا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن پلان کا ذکر کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے ویڈیو کے بارے بھی بات کی جس میں مبشر لقمان نے لندن پلان کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں، مبشر لقمان نے نیا دور کو ایک انٹرویو دیا تھاجس میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ "لندن پلان کے سلسلے کی کئی میٹنگز میں میں خود موجود تھا 2013 میں اسلام آباد میں ملک ریاض کی رہائش گاہ پر وہ، محسن بیگ اور ایک حاضر سروس فوجی افسر موجود تھے جب ملک ریاض کو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام کا فون آیا اور وہ اٹھ کر ان سے ملاقات کے لیے چلے گئے کچھ دیر بعد واپس آئے تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ جنرل ظہیر الاسلام کا پیغام لے کر وزیر اعظم نواز شریف کے پاس جا رہے ہیں،نواز شریف سے ملاقات کر کے لوٹے تو ملک ریاض کے چہرے کے رنگ اڑے ہوئے تھے، انہوں نے بتایا کہ میں نے نواز شریف کو جنرل ظہیر الاسلام کا پیغام دیا کہ استعفیٰ دے دیں ورنہ گرفتاریاں ہوں گی اس پر نواز شریف نے جواب دیا کہ جو کرنا ہے کر لو، میں استعفیٰ نہیں دوں گا، ملک ریاض جب واپس آئے تو غصے میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ نواز شریف آرام سے بیٹھا ہوا ہے اور اسے کوئی فکر ہی نہیں ہے”۔

    نواز شریف نے مبشر لقمان کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان لندن چلے گئے جہاں لندن پلان بنا، صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ میں خود اس میٹنگ میں تھا، میں نے ہی اس ہوٹل کا بل ادا کیا تھا، اس میں طاہر القادری، عمران خان، چوہدری پرویز الہی اور ایک جنرل صاحب تھے، اس کے بعد انہوں نے دھرنا دے دیا ،اس کے بعد دھرنوں کے دوران میرے پاس ایک بندہ بھیجا گیا کہ نواز شریف آپ استعفی دیں اور گھر جائیں، یہ میں آپ کو وہ بتا رہا ہوں جو وزیراعظم پر گزر رہی ہے، ہمارے وزیراعظم ایسی ایسی چیزوں سے گزرے ہیں اور مجھے کہا گیا کہ آپ تیار رہیں، آپ کے ساتھ وہ سلوک کیا جائیگا جس کو آپ یاد رکھیں گے،میں نے انہیں کہا کہ آپ نے جو کرنا ہے کرلیں، نواز شریف کبھی استعفی نہیں د ے گا، اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ میں اس میٹنگ میں بھی موجود تھا، وہ شخص جب آپ سے بات کرنے گیا تو واپس آکر کہتا ہے کہ نواز شریف تو مطمئن اپنی جگہ پر بیٹھا ہے، وہ کہتا ہے جس نے جو کرنا ہے، کرلے، اس کے بعد وہ موصوف جو لندن گئے تھے ظہیر الاسلام کہتے ہیں کہ ہم نے مختلف پارٹی کو ٹرائی کیا، ہم نے تیسری قوت کو اجازت دی، وہ تیسری وقت ہمیں لگا کہ شاید ڈیلیور کرسکتی ہے، وہ سسٹم ہمیں پی ٹی آئی کے اندر نظر آیا۔

    نواز شریف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان باقی سب باتوں کو چھوڑیں، ہمیں طعنہ دینے اور ہم پر انگلی اٹھانے سے پہلے بتائیں کیا وہ تیسری قوت آپ نہیں تھے، اگر وہ آپ نہیں تھے میں سیاست سے ریٹائر ہو کر گھر جانے کو تیار ہوں، میں سیاست چھوڑ دوں گا، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تیسری قوت کا اشارہ آپ کی طرف نہیں تھا تو میں سیاست بھی چھوڑنے کو تیار ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ انہی لوگوں نے آپ کی سیاست کی بنیاد رکھی، ہماری حکومت کا تختہ بھی آپ نے الٹوایا ان کی لوگوں کی مدد سے، ان کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے تھے کہ وزیراعظم ہاوس کے سامنے دھرنا ہو رہاہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف تمھارے گلے میں رسہ ڈلا کر کھینج کر تمہیں باہر لائیں گے، کس کی ایما پر اتنی بڑی بڑی دھمکیاں دے رہے تھے، کیا یہ وہی ایمپائر کی انگلی نہیں تھی جس کا عمران خان بار بار ذکر کرتے ہیں۔ عمران خان ان باتوں کا جواب دیں گے تو اس کے بعد آپ ہم سے بات کرنا، آپ کے کیس میں کوئی میرٹ نہیں، آپ ان لوگوں کی پیداوار ہیں، 2018 کے الیکشن میں جو ہوا، ان لوگوں کے ساتھ ساتھ اس کے بھی آپ ذمہ دار ہیں، ہم 28 مئی والے ہیں، 9 مئی والے نہیں ہیں۔

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    لاہور: سینئیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ لندن میں عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا-

    نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں میزبان عاصمہ شیرازی سے گفتگو میں سینئیر صحافی و اینکر پرسن اور تجزیہ کار مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لندن میں عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، چوہدری برادران الگ جگہ کرائے پر لے کر رہے تاکہ کسی کو پتا نہ چلے، جنرل ظہیرالاسلام سے میری لندن میں ملاقات نہیں ہوئی نہ میں نے ان کو وہاں پر دیکھا نا میرے علم میں ہے کہ وہ وہاں تھے یا نہیں تھے،وہ شاید الگ سے لیڈرز سے ملے ہوں گے میرے سے ان کی ملاقات لندن میں تو نہیں ہوئی،میری ان سے آخری ملاقات کراچی کو ر کمانڈ ر ہاؤس میں ہوئی تھی-

    https://x.com/asmashirazi/status/1792605004349526133

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لندن پلان میں تو میں نے انہیں (جنرل ظہیرالاسلام) نہیں آبزرو کیا، جہاں تک تعلق ہے ان کو قریب لانے کا تو اس میں جو اہم کردار جس نے ادا کیا ہے وہ میرا خیال ہے وہ جہانگیر خان ترین کا ہے،اگرجہانگیر ترین نا ہوتے تو سب نے ساتھ نہیں ہونا تھا،ان چاروں کے اختلافات اتنے زیادہ تھے کہ آپ کی سوچ ہے،یعنی یہ ایک دوسرے کی طر ف منہ کر کے بات نہیں کر سکتے تھے،سوائے چودھری شجاعت کے،چودھری شجاعت ہی صر ف ایک ایسے شخص ہیں جو کسی بھی حال میں ہر کسی کو قبول کر لیتے تھے،لیکن باقی تو نہیں کرتے تھے، چودھری پرویز الہی کسی اپارٹمنٹ میں ٹھہرے ہوئے تھے میں ہوٹل میں ٹھہرا تھا ہر کسی کی نظر ہوتی ہے وہاں سے انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ میں بھی وہاں تھا،طاہر القادری بھی کسی ہوٹل میں نہیں ٹھہرے ان کی آرگنائزیشن کے ایک صاحب سے میں نے خاص پوچھا تھا،تو ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا تھا کہ میں تو کبھی کسی ہوٹل میں نہیں ٹھہرا،میں اپنے ساتھیوں کے پاس ہی ٹھہرتا ہوں-

    پی ٹی آئی کی حکومت معیشت کو جس گہری کھائی میں پھینک کر گئی ہے،سیف …

    ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ مجھے عمران خان نے بلایا تھا وہاں،میں وہاں اپنی چھٹیوں پر تھا،میرا ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ رابطہ شفقت والا تھا طاہری القادری نے وہاں ایک کانفرنس ر کھی ہو ئی تھی مجھے انہوں نے چیف اسپیکر لیا ہوا تھا-

    https://x.com/asmashirazi/status/1792599760349589945

    مبشرلقمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لندن میں پلان بنا نہیں بلکہ لندن میں پلان پایہ تکمیل تک پہنچا جہاں وہ ساری جماعتیں جو ایک دوسرے کی سخت مخالف تھیں ایک ساتھ بیٹھ گئیں اور مقصد نواز شریف حکومت کا خاتمہ تھا۔

    اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تعیناتی کیخلاف دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر

    میڈیا پرسنز کے عدالتوں میں مفت مقدمات لڑیں گے ، لطیف کھوسہ