Baaghi TV

Tag: لندن ہائی کورٹ

  • لندن ہائی کورٹ کا دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کوسابقہ اہلیہ کو554 ملین پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم

    لندن ہائی کورٹ کا دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کوسابقہ اہلیہ کو554 ملین پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم

    لندن :لندن ہائی کورٹ کا دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کوسابقہ اہلیہ کو554 ملین پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم ،اطلاعات کے مطابق دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کو لندن کی ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ وہ اپنی سابقہ ​​بیوی کے ساتھ اپنے دو بچوں کی تحویل میں ہونے والی خداندانی چپلقش کو طے کرنے کے لیے 554 ملین پاؤنڈ ($733 ملین) سے زیادہ رقم فراہم کریں

    عدالت کا کہنا ہے کہ اردن کے شاہ عبداللہ کی سوتیلی بہن شہزادی حیا بنت الحسین اور اس جوڑے کے دو بچوں کو ملنے والے بڑے ایوارڈ کا بڑا حصہ ان کی زندگی بھر کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے

    لندن ہائی کورٹ کے جج نے حکم سناتے ہوئے کہا کہ یہ رقم صرف "سابقہ اہلیہ سیکیورٹی کے علاوہ اپنے لیے کوئی ایوارڈ نہیں مانگ رہی ہے”اس کے ساتھ ساتھ جوہتک عزت ہوئی ہے اس کا ازالہ بھی مقصود ہے

    لندن ہائی کورٹ نے شیخ محمد کو ہدایت کی کہ وہ حیا کو اپنی برطانوی رہائش کی دیکھ بھال کے لیے تین ماہ کے اندر 251.5 ملین پاؤنڈز کی یکمشت ادائیگی کرے، اس رقم کو پورا کرنے کے لیے جو اس نے کہا کہ وہ زیورات اور ریس کے گھوڑوں کے لیے واجب الادا ہے، اور اس کے مستقبل کے حفاظتی اخراجات کے لیے بھی یہی حکم ہے

    یاد رہےکہ شیخ محمد جو متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم ہیں، کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ 14 سالہ جلیلہ اور 9 سالہ زید کی تعلیم کے لیے 3 ملین پاؤنڈ اور 9.6 ملین پاؤنڈ بقایا جات میں فراہم کریں۔ اس سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال اور بالغ ہونے پر ان کی حفاظت کے لیے سالانہ 11.2 ملین پاؤنڈ ادا کرے۔

    ان ادائیگیوں کی ضمانت 290 ملین پاؤنڈ سیکیورٹی کے ذریعے دی جائے گی جو HSBC بینک کے پاس ہے۔ ، لندن کے کچھ وکلاء کے خیال میں انگلش فیملی کورٹ کی طرف سے اب تک کا سب سے بڑا عوامی ایوارڈ مانے جانے کے باوجود، حیا نے اصل میں مانگے گئے 1.4 بلین پاؤنڈز میں سے نصف سے بھی کم تقاضا کیا ہے

    تقریباً سات گھنٹے کی گواہی کے دوران، 47 سالہ حیا نے کہا کہ ایک بار کی ایک بڑی ادائیگی صاف وقفے کی اجازت دے گی اور شیخ کی اس پر اور ان کے بچوں کی گرفت کو ختم کر دے گی۔

    "میں واقعی آزاد ہونا چاہتی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ وہ آزاد ہوں،” اس نے عدالت کو بتایا۔

    لندن سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد شیخ کے ایک ترجمان نے کہا کہ انہوں نے "ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ان کے بچوں کو فراہم کیا جائے” اور میڈیا سے کہا کہ وہ ان کی رازداری کا احترام کریں۔ حیا کے وکیل نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ یہ قانونی لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب شہزادی اپریل 2019 میں اپنے ایک محافظ کے ساتھ افیئر شروع کرنے کے بعد، اور اس کے ایک ماہ بعد جب اس نے شیخ سے طلاق کا مطالبہ کیا تھا، اپنی حفاظت کے خوف سے برطانیہ بھاگ گئی۔

    برطانیہ میں ایک ہائی کورٹ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دبئی کے حکمران شیخ محمد المکتوم نے اپنی سابقہ اہلیہ اردن کی شہزادی حیا کا فون ہیک کرنے کا حکم دے کر برطانوی نظامِ انصاف میں مداخلت کی ہے۔

    اس کے علاوہ عدالت کے مطابق طلاق اور تحویل کے کیس میں اُن کے وکلا بیرونیس فیونا شیکلٹن اور نک مینرز کے فونز پر بھی حملے کیے گئے۔شہزادی حیا کا کہنا ہے کہ اس انکشاف نے اُنھیں خوف اور ‘شکار بننے’ کے احساس میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ہائی کورٹ کا فیصلہ شیخ محمد کے لیے دھچکا ہے اور اپنے خاندان کی خواتین سے اُن کے رویے کے متعلق ایک نیا انکشاف ہے۔

    بدھ کی سہ پہر شائع ہونے والے فیصلے میں اس ہیکنگ کو ‘(برطانیہ) کے ملکی فوجداری قانون کی سلسلہ وار خلاف ورزی)’، ‘بنیادی عمومی قانون اور یورپی کنوشن برائے انسانی حقوق’، عدالت کی کارروائی اور ماں کے حقِ انصاف تک رسائی میں مداخلت’ اور سربراہِ مملک کی جانب سے ‘طاقت کا بے جا استعمال’ قرار دیا گیا ہے۔

     

    ہائی کورٹ کے فیملی ڈویژن کے صدر نے پایا کہ ‘ماں (شہزادی حیا)، اُن کے دو وکلا، اُن کے پرسنل اسسٹنٹ اور اُن کے سکیورٹی عملے کے دو اہلکاروں کو جاسوسی کے سافٹ ویئر کے ذریعے یا تو کامیاب ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا یا پھر اس کی کوشش کی گئی۔ یہ سافٹ ویئر پیگاسس کہلاتا ہے اور ایک اسرائیلی کمپنی دی این ایس او گروپ کا ہے۔’

    عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ جاسوسی ‘ شیخ محمد کے ملازمین یا ایجنٹس، امارتِ دبئی یا (متحدہ عرب امارات) نے کی اور یہ جاسوسی والد کے واضح یا اشارتاً حکم کے تحت کی گئی۔’

    حیا نے طلاق کے بعد صلح کی طرف توجہ نہ دی ۔ اس نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی، لیکن ان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کے امیر ترین آدمیوں میں سے ایک کی سابقہ ​​بیوی ہونے کے ناطے اربوں روپے مانگنے کی حقدار تو ہے

    شیخ کے وکیل نائجل ڈائر نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ "ماں کے مالی دعوے، اور جس قدر امداد کی تلاش کی جا رہی ہے، وہ بہت زیادہ ہیں‌
    مگرعدالت نے شیخ محمد کے وکیل کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے یہ رقم فوری ادا کرنے کا حکم دیا تھا

  • کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا۔

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا۔

    لندن :کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا۔،اطلاعات کے مطابق لندن ہائی کورٹ نے پاکستان کے کھرب پتی معروف شخص ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ‌کردیا ہے

     

     

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق ملک ریاض اور اس کے بیٹے علی ریاض کے خلاف لندن ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ ثآبت ہونے پر کہ ملک ریاض نے کرپشن اور دو نمبری سے پیسہ کمایا ، لٰہذا عدالت کسی کرپٹ آدمی کو برطانیہ میں رہنے کا استحقاق نہیں دے سکتی اس لیے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کا ویزہ 10 سال کے لیے کینسل کیا جاتا ہے

    ۔

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی امیگریشن عدالت نے پاکستان کے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے کی ملٹی پل ویزا بحالی کی اپیل مسترد کر دی، کرپشن اور کمرشل بے ضابطگی کے الزامات پر رائل کورٹ آف لندن کی جج نے پراپرٹی ٹائیکون اور ان کے بیٹے کی اپیل مسترد کی،

    ملک ریاض اور اس کے بیٹے علی ریاض کے خلاف عدالت نے برطانوی ھوم آفس کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار ایشیا کا پراپرٹی ٹائیکون ہے،درخواست گزار اور ان کا بیٹا بحریہ ٹاون نامی کمپنی چلا رہے ہیں،

     

    عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا ہے کہ ان کی کمپنی پر کرپشن اور کمرشل بے ضابطگیوں میں ملوث رہی ہے،برطانوی عدالت نے ویزہ منسوخی کو کرپشن کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے،

    واضح رہے کہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے احمد علی ریاض کا 10سال کا ملٹی پل ویزہ برطانوی ھوم آفس نے منسوخ کر رکھا ہے، ملک ریاض اور ان کے بیٹے کی پہلی اپیل17نومبر 2020کو خارج ہوئی تھی جبکہ عدالت نے 10 سال کا ملٹی پل برطانوی ویزا بحال کرنے کی دوسری اپیل بھی خارج کرتے ہوئے ھوم آفس کا فیصلہ برقرار رکھا ۔

     

     

    یاد رہےکہ پہلےبرطانوی کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کی منی لانڈرنگ پکڑی،آج برطانوی عدالت نے کرپشن پر ویزہ منسوخ کیا،

    یہ بھی یاد رہے کہ 2019 میں برطانیہ نے ملک ریاض اور اسکے بیٹے کا دس سالہ ملٹی پل ویزہ منسوخ کر دیا تھا ، جس کے خلاف بہت مہنگے وکلا کی ٹیم کے ساتھ اپیل کی گئی جو اب مسترد کر دی گئی ھے