Baaghi TV

Tag: لوک سبھا

  • پاکستان کا خوف:بھارت نے دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ کر دیا

    پاکستان کا خوف:بھارت نے دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ کر دیا

    نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کے ساتھ مئی میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد اپنے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔

    بھارتی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2026-27 کے لیے مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے دفاع کے لیے 85 ارب 40 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

    لوک سبھا میں پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق دفاعی اخراجات میں اضافے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا حصول، ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کی خریداری، اور دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق اس بجٹ کے ذریعے خریداری کے عمل کو آسان بنانے اور وسائل کے بہتر استعمال پر بھی توجہ دی جائے گی۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق ہتھیاروں اور دفاعی آلات کی خریداری کے لیے مختص رقم میں 21.84 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ دفاعی سروسز کے روزمرہ اخراجات، ایندھن، مرمت اور تنخواہوں کی مد میں بھی اضافی فنڈز رکھے گئے ہیں۔

    بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاعی بجٹ میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بھارت کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید بہتری آئے گی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث 15 فیصد اضافہ عملی طور پر محدود اثر رکھتا ہے۔

    یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ سال مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع سامنے آیا تھا یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد پاکستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جسے اس نے ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا۔

  • بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

    بھارتی سیاست میں ایک نیا تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان دیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں میں شدید احتجاج دیکھنے کو ملا۔

    جمعرات کو پارلیمنٹ میں اس تنازعے پر ہنگامہ بڑھ گیا، اور اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے "مکڑ دروازے” پر شدید احتجاج کیا۔ اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی پر الزام ہے کہ انہوں نے دو بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کو دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ارکان زخمی ہو گئے۔بی جے پی کے دو ارکان پارلیمنٹ، پرتھاپ سرنگی اور مکیش راجپوت، پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے اس تصادم میں زخمی ہو گئے۔ مکیش راجپوت کو شدید چوٹیں آئیں اور انہیں دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال کے مطابق، پرتھاپ سرنگی کو بھی سر میں شدید چوٹ آئی تھی اور انہیں بھی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

    پرتھاپ سرنگی نے واقعہ کے بارے میں بتایا، "راہل گاندھی نے ایک ایم پی کو دھکیل دیا، اور وہ مجھ پر گر گیا جس سے میں گر گیا۔ میں سیڑھیوں کے قریب کھڑا تھا جب راہل گاندھی آیا اور اس ایم پی کو دھکیل دیا جس کے نتیجے میں وہ مجھ پر جا گرا۔”

    راہل گاندھی نے بی جے پی ارکان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کی عمارت کے داخلی دروازے کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں دھکیلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور بی جے پی کے ارکان مجھے روکنے، دھکیلنے اور دھمکانے کی کوشش کر رہے تھے۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مالیکار جن کھڑگے اور پریانکا گاندھی کو بھی دھکیل دیا گیا تھا، تو انہوں نے جواب دیا، "ایسا ہوا ہے، مگر ہمیں ان دھکیلنے کی حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

    بی جے پی اور کانگریس کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات
    بی جے پی اور کانگریس دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں کہ مخالف فریق نے پارلیمنٹ میں تشویش پیدا کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ بی جے پی ارکان کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی اور اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے داخلی راستے پر ان پر حملہ کیا، جبکہ اپوزیشن نے بی جے پی پر الزامات عائد کیے کہ وہ پارلیمنٹ میں امبیڈکر کے حوالے سے امیت شاہ کے بیانات کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    یہ تمام واقعات وزیر داخلہ امیت شاہ کے بی آر امبیڈکر سے متعلق ایک بیان کے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "امبیڈکر اب فیشن بن چکے ہیں”۔ اس بیان پر اپوزیشن جماعتیں شدید ناراض ہو گئیں اور انہوں نے امیت شاہ سے معافی کی درخواست کی۔ اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس اور انڈیا اتحاد کے ارکان نے امیت شاہ کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کیا اور ان کی استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

    انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں بی آر امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے احتجاج کیا اور "جے بھیم” اور "امیت شاہ معافی مانگو” کے نعرے لگائے۔ احتجاج کے دوران، کانگریس کے مالیکار جن کھڑگے، راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے نیلے رنگ کے کپڑے پہن کر احتجاج میں شرکت کی۔ یہ نیلا رنگ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے جڑا ہوا ہے، جو بھارت کے آئین کے معمار تھے۔دوسری طرف، بی جے پی کے اراکین نے بھی پارلیمنٹ میں مارچ کیا اور اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ امبیڈکر کی توہین کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو امبیڈکر کے حوالے سے اپنے رویے پر معافی مانگنی چاہیے۔

    اس ہنگامے کے بعد، لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی کو معطل کر دیا گیا۔ اپوزیشن نے امیت شاہ سے معافی کا مطالبہ کیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بات کی۔ اس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں دونوں جانب سے شدید نعرے بازی کا سامنا رہا۔

    مکیش راجپوت، جو اس واقعہ کے دوران زخمی ہوئے، بی جے پی کے ایک نمایاں رکن پارلیمنٹ ہیں اور فی الحال اتر پردیش کے فریدآباد سے لوک سبھا کے ممبر ہیں۔ انہوں نے حالیہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار، نوال کشور شکیا کو شکست دی تھی۔ راجپوت نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے اور ان کی سیاسی سرگرمیاں خاصی فعال ہیں۔

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    بھارت:بھکاریوں کو بھیک دینے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

  • اسد الدین اویسی نے  لوک سبھا میں جے فلسطین اور اللہ اکبر کے نعرے لگادئیے

    اسد الدین اویسی نے لوک سبھا میں جے فلسطین اور اللہ اکبر کے نعرے لگادئیے

    نئی دہلی: بھارتی سیاست دان اسد الدین اویسی نے لوک سبھا کی رکنیت کا حلف اٹھاتے ہوئے جے فلسطین اور اللہ اکبر کے نعرے لگادئیے۔

    بھارت لوک سبھا کےہونے والے اجلاس میں نو منتخب اراکین کی حلف برداری جاری تھی کہ اسی دوران حلف برداری کے لیے ریاست تلنگانہ سے منتخب رکن اسد الدین اویسی کا نام پکارا گیااسد الدین اویسی جب ڈائس کی جانب بڑھنے لگے تو ایوان میں جے شری رام کے نعرے سنائی دئیے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اسد الدین اویسی نے اردو میں حلف پڑھا اور آخر میں ’جے بھیم، جے میم، جے تلنگانہ، جے فلسطین، تکبیر اللہ اکبر‘ کہا،’جے بھیم، جے میم‘ کا نعرہ ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگایا جاتا ہے جو سمجھتی ہیں کہ بھارت میں دلتوں اور مسلمانوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔

    عادل راجہ، صابر شاکر سمیت 6 یوٹیوبرز اور صحافیوں کی جائیدادیں ضبط اور شناختی کارڈ …

    حکمران اتحاد کی جانب سے حلف کے بعد نعرے لگانے پر اسد الدین اویسی پر سخت تنقید کی جارہی ہے اور کئی اراکین نے اس اقدام کو خلاف آئین بھی قرار دیا ہےپارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ ان کے اقدام کو خلاف آئین قرار دینے والے اس حوالے آئین کی شق بتائیں بعدازاں لوک سبھا کے اسپیکر نے اسد الدین اویسی کی جانب سے لگائے جانے والے نعروں کو ایوان کی کارروائی سے حذف کروادیا۔

    خیال رہے کہ اسدالدین اویسی نے حالیہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی امیدوار مادھوی لاٹھا کو سوا تین لاکھ سے زائد وٹوں سے شکست دی تھی۔

    چین: خلا میں بھیجے گئے راکٹ کا مبینہ ملبہ دیہات میں گر گیا

  • راہول گاندھی کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے قرارداد منظور

    راہول گاندھی کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے قرارداد منظور

    نئی دہلی: بھارتی سیاسی جماعت کانگریس نے پارٹی رہنما راہول گاندھی کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے قرارداد منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس ورکنگ کمیٹی نے پارٹی رہنما راہول گاندھی کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے قرارداد منظور کی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پارٹی رہنما کماری سیلجا نے کہا کہ پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی یہ خواہش ہےکہ راہول گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھالیں۔

    گزشتہ ماہ 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر موصول

    کانگریس کے سینئر رہنما اور نومنتخب رکن کے سی وینگوپال نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے اتفاق رائے سے راہول گاندھی سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داریاں لیں،ورکنگ کمیٹی کی قرارداد میں الیکشن مہم میں راہول گاندھی کی انتھک محنت کو بھی سراہا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کے اتحاد این ڈی اے نے حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل کیں جس کے بعد نریندر مودی تیسری مرتبہ بھارت کے وزیراعظم بنیں گے جب کہ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ نے مودی کے مینڈیٹ کو بڑا جھٹکا دیا اور لوک سبھا کی 234 نشستیں جیتیں،جبکہ راہول گاندھی نے رائے بریلی اور کیریلا کے علاقے ویاناد سے کامیابی حاصل کی۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سےملاقات

    دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اتحاد، نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے ) کے قانون سازوں کی جانب سے نریندر مودی کو باضابطہ طور پر تیسری بار وزیراعظم نامزد کر دیا گیا،جس کے بعد بھارتی صدر دروپدی مرمو نے مودی کو کل اتوار کو حکومت سازی کی دعوت دے دی ہے،نریندر مودی جواہر لال نہرو کے بعد تیسری بار وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے والے دوسرے بھارتی سیاستدان ہوں گے۔

    نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے اجلاس میں نریندر مودی نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا اور خاص طور پر کانگریس پارٹی کا نام لے کر تنقید کا نشانہ بنایا، مودی نے اس بات کا خیال بھی نہیں رکھا کہ انتخابات اب ختم ہوچکے ہیں اور اس اہم موقع پر جب انہیں تیسری بار وزیراعظم نامزد کیا جارہا ہے، وہ جمہوریت کی کامیابی کی بات کرنے کے بجائے اپوزیشن پرتنقید کرتے رہے، شاید انہیں لگتا ہے کہ نئی لوک سبھا میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے تک وہ غیر محفوظ ہیں۔

    چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے قطر کا دورہ کیا

  • بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والے بھگت سنگھ کے پیروکار نکلے،جسمانی ریمانڈ منظور

    بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والے بھگت سنگھ کے پیروکار نکلے،جسمانی ریمانڈ منظور

    بھارتی پارلیمنٹ میں گزشتہ روز دو افراد کے گھسنے کے واقعہ پر آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامہ آرائی کی جس پر ایوانوں‌کی کاروائی ملتوی کر دی گئی،ملزمان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا

    بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ناقص سکیورٹی کے معاملے پر زبردست ہنگامہ آرائی کی، لوک سبھا میں ارکان پارلیمنٹ نے نعرے بازی کرتے ہوئے ہنگامہ کیا،جس کی وجہ سے اسپیکر اوم برلا کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی،ایوان کی کاروائی شرو ع ہوئی تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کھڑے ہو گئے اور ایوان کی سیکورٹی کو لے کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، اراکین سپیکر کی کرسی کے سامنےبھی آ گئے جس پر سپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا

    راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ آرائی کی اور وزیر داخلہ سے وضاحت طلب کی، کانگریس، ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو، اے اے پی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ سیکورٹی کے مسئلہ پر بحث کے دوران نعرے لگاتے رہے،ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن کو اسپیکر نے فوری طور پر ایوان سے نکلنے کا حکم دیا تھاجس کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی اسپیکر کی نشست کے بالکل سامنے کنویں میں آگئے اور نعرے بازی شروع کردی.

    دوسری جانب لوک سبھا میں سیکورٹی میں غفلت برتنے والے عملے کے آٹھ افراد کو معطل کر دیا گیا ہے، ابتدائی تحقیقات میں آٹھ اراکین سیکورٹی کوتاہی کے ذمہ دار قرار پائے،

    لوک سبھا کے اندر اور باہر سے گرفتار چاروں ملزمان کو آج پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے ملزمان کے 15 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تا ہم عدالت نے سات دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،پراسکیوشن نے چاروں ملزمان پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے،

    گزشتہ روز لوک سبھا کے اندر سے دو اور باہرسے دو افراد کوگرفتار کیا گیا تھا، ان سے تحقیقات جاری ہیں، تا ہم اس واقعہ میں دو اور ملزم بھی ہیں جو انکے ساتھ تھے،ایک میاں بیوی گھر سے ملزمان کے ساتھ رابطے میں تھے ،میاں کو گرفتار کر لیا گیا تا ہم خاتون ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکی،پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ساگر شرما لکھنو کا رہائشی ہے، ڈی منورنج کرناٹک سے ہے، پارلیمنٹ کے باہر سے گرفتار خاتون نیلم حصار کی رہائشی ہے،امول شندےلاتور کا رہائشی ہے،ساگر اور ڈی منورنجن نے وزیٹر پاس بی جےپی رکن اسمبلی پرتاپ سہما کے نام پر لئے تھے،پولیس کے مطابق سب ملزمان نے آن لائن میٹنگ کی اور پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ بنایا،اب تک ملزمان کے کسی دہشت گرد گروپ سے تعلق کے کوئی شواہد نہیں ملے،

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کرنیوالی نیلم کون؟
    نیلم کی عمر 42 سال ہے اور وہ استاد ہے، سول سروسز بھی پڑھ رہی ہے،نیلم ہریانہ کے ضلع جنڈ ضلع کے گاؤں گھسو خورد کی رہائشی ہے، اور وہ پچھلے چھ ماہ سے حصار میں مقیم تھی، وہ سول سروس امتحان کی تیاری کر رہی ہے،نیلم کے گاؤں اور حصار میں جہاں وہ مقیم تھی ،قریبی افراد کا کہنا ہے کہ نیلم کو سیاست سے دلچسپی تھی تاہم پارلیمنٹ کے باہر احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے، نیلم کے چھوٹے بھائی رام نواس کا کہنا ہے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ نیلم دہلی گئی ہے،وہ پیر کو گھر آئی تھی اور منگل کو واپس چلی گئی، ہم نے سمجھا حصار گئی لیکن وہ ہمیں بتائے بغیر ہی دہلی پہنچ گئی،نیلم نے کسان تحریک کے احتجاج میں بھی شرکت کی تھی، میرے ایک بڑے بھائی ہیں اور والدین ہیں، والدحلوائی ہیں جبکہ بھائی دودھ کا کام کرتے ہیں.

    indian

    ساگر کے والد بڑھئی، بیٹا جھگڑالو نہیں ہے،والدہ
    پارلیمنٹ کی وزیٹر گیلری میں چھلانگ لگانے والے دو افراد میں سے ساگر لکھنو کا رہائشی ہے، ساگر کا خاندان عالم باغ کے علاقے رام نگر میں ایک کرائے کے گھر میں رہتا ہے،لکھنو پولیس تحقیقات کے لئے ساگر کے گھر گئی، ساگر کی ماں رانی شرما نے پولیس کو بتایا کہ ساگر کہہ کر نکلا تھاکہ وہ احتجاج کرے گا، ساگر کی چھوٹی بہن کا کہنا تھا کہ بھائی چار دن قبل دہلی گیا تھا تا ہم کچھ بتایا نہیں تھا، وہ دو ماہ گھر رہا ہے اور دو ماہ قبل بنگلورو سے واپس آیا تھا،ساگر کا خاندان 15 برسوں سے لکھنو میں رہ رہا ہے، ساگر کے والد روشن لال بڑھئی ہیں،ساگر کی ماں کے مطابق ان کےبیٹے نے کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کیا،ساگر کی ایک ہی بہن ہے ،ساگر کی والدہ کا کہنا تھا کہ ساگر بہت سادہ ہے پتہ نہیں دہلی کیسے پہنچا،ہم نہیں جانتے،ساگر کے دہلی پہنچنے پر ساگر کے پڑوسی بھی حیران تھے

    indian

    بیٹے نے غلط کیا تو پھانسی دے دیں، والد ڈی منورنجن
    ڈی منورنجن کرناٹک کے میسور کارہائشی ہے، منورنجن نے 2016 میں انجینئرنگ میں بیچلر مکمل کیا،اس کے بعد اس نے دہلی اور بنگلور کی کچھ کمپنیوں میں ملازمت بھی کی تا ہم اب وہ خاندان کے ساتھ کھیتی باڑی کا کام کر رہا تھا،منورنجن کے والد دیوراجے گوڑا کا کہنا ہے کہ اگر میرےبیٹے نے غلط کیا تو بے شک اسے پھانسی دے دیں ، پارلیمنٹ ہماری ہے جس کو بنانے میں گاندھی اور نہرو جیسے رہنماؤں نے محنت کی تھی، تاہم منورنجن کے والد کا یہ بھی کہنا تھا کہ انکا بیٹا سچا اور ایماندار ہے،اس کی خواہش تھی کہ وہ معاشرے کےلئے اچھے کام کرے، دوسروں کے کام آئے،

    بھارتی فوج میں بھرتی کا کہہ کر امول شندے پارلیمنٹ پہنچ گیا
    امول شندے جس کی عمر 25 برس ہے اور وہ مہاراشٹر کے جری گاؤں کا باسی ہے،امول شندے نےگریجویشن تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے، اس نے بھارتی فوج اور پولیس میں بھرتی کے لئے امتحان کی تیاری بھی کی ہے،امول کے والدین اور دو بھائی ہیں، جو مزدوری کرتے ہیں، امول اپنے گھر بتا کر نکلا تھا کہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کے لئے جا رہا ہے، وہ پہلے بھی نوکری کی تلاش کے لئے کئی بار گھر سے جا چکا تھا اس لئے گھر والوں کو کسی قسم کا شک نہیں ہوا،

    وکی شرما کے گھر ہوئی تھی ساری منصوبہ بندی
    لوک سبھا کے اندر اور باہر احتجاج کرنیوالے ساگر، منورنجن،نیلم اور امول شندے دہلی جانے سے قبل گروگرام میں مقیم رہے،للت جا بھی انکے ہمراہ تھا، یہ گروگرام کے سیکٹر سات میں‌وکی کے گھر وہاں ٹھہرے تھے ،وکی شرما کا تعلق حصار سے ہے، نیلم بھی گزشتہ چھ ماہ سے حصار میں ہی رہ رہی تھی،دہلی پولیس کے مطابق وکی شرما اور انکی اہلیہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،لوک سبھا کے اندر اور باہر احتجاج کرنیوالے وکی شرما کے دوست ہیں،ملزمان جب احتجاج کے لئے گئے تو انکے موبائل ہو سکتا ہے یہاں وکی کے گھر چھوڑ کر گئے ہیں، اور یہیں منصوبہ بندی کی گئی ہو،پولیس اس ضمن میں تحقیقات کر رہی ہے.

    بے روزگاری،منی پور تشددجیسے واقعات سے پریشان تھے،ملزمان کا بیان
    ملزمان دہلی پولیس کی تحویل میں ہیں، ملزمان نے پولیس کو بیان میں کہا کہ وہ بھارت میں بے روزگاری،کسانوں کے مسائل،منی پورتشدد جیسے واقعات سے پریشان تھے اور احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے تھے،ایوان میں جان بوجھ کر رنگین دھویں کا استعمال کیا جو زہریلا نہیں تھا، صرف اراکین کی توجہ مبذول کروانی تھی کہ وہ مسائل پر بات کریں،ویسے ہماری بات کوئی نہیں سنتا اس لئے یہ طریقہ اپنایا اور سوچا کہ حکومت کو پیغام دیا جائے کہ مسائل حل کریں، تاہم تحقیقاتی ادارے یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ انکے پیچھے کسی کا ہاتھ تو نہیں تھا،

    دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ گرفتار پانچوں ملزمان فیس بک پر بھگت سنگھ نامی ایک گروپ کا حصہ تھے، اور سب ملزمان تقریبا ایک سال سے آپس میں رابطے میں تھے.

    کسی اپوزیشن رکن نے پاس دیئے ہوتے تو غدار قرار پاتا،رکن کانگریس
    لوک سبھا میں احتجاج کرنیوالے اور گیس پھینکنے والے افراد کو پکڑنے والے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گرجیت سنگھ اوجلا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مسلمان یا سِکھ ہوتا تو نہ جانے کیا ہو جات؟ اس لیے یہی کہوں گا کہ ایسے لوگوں کو ذات اور مذہب سے ہٹ کر دیکھیں یہ ملک سب کا ہے،نئی پارلیمنٹ میں سیکورٹی کے حوالہ سے خامیاں ہیں، جنہیں دور کر نے کی ضرورت ہے، سیکورٹی کے معاملے پر ہم سب متحد ہیں،انہوں نے بی جے پی کے رکن جس کے پاس لے کر ملزمان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر کسی اپوزیشن کے رکن نے انکو پاس دلائے ہوتے تو اب تک غدار قرار دیا جا چکا ہوتا،مجھے نہیں لگتا کہ جان بوجھ کو رکن پارلیمنٹ نے پاس دئے، غلطی بھی ہو سکتی، ہم بھی پاس بنواتے ہیں، تاہم واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے،انہوں نے ملزمان کو پکڑنے کے حوالہ سے بتایا کہ ایک ملزم کو میں نے اکیلے پکڑا،اس نے اچانک سے کچھ نکالا ، بعد میں دھواں پھیلا تو پتہ چلا کہ وہ اسموک بم تھا، اسکے پاس کچھ خطرناک بھی ہو سکتا تھا،سیکورٹی کے حوالہ سے چوکس رہنا ہو گا،

    پارلیمنٹ ہاؤس واقعہ کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے، پولیس کے مطابق سنسد مارگ پولیس اسٹیشن میں دفعہ 120B (مجرمانہ سازش)، 452 (بغیر اجازت کے داخلہ)، 153 (فساد برپا کرنے کے ارادے سے جان بوجھ کر اکسانا)، 186 (سرکاری ملازم کو کام کرنے سے روکنا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 16 اور 18 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی پارلیمنٹ میں سیکیورٹی کی ناقص صورتحال،لوک سبھا سیشن کے دوران 2 افراد عمارت میں گھس آئے تھے،بھارتی پارلیمان لوک سبھا کے اندر 2 افراد نے گیلری سے نیچے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر گیس خارج کرنے والی چیزیں پھینک دیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اندر گھسنے والے افراد کے پاس اسموک بم بھی تھے، بھگدڑ مچنے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا،تاہم بھارت کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا تھا،تاہم بعد میں بھارت کے وزارت داخلہ کے سابق افسر انڈر سیکرٹری آر وی ایس مانی نے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے پیچھے خود بھارتی حکومت کا ہاتھ تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف سخت قوانین پارلیمان سے منظور کروائے جا سکیں.

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    فیس بک نے ٹرمپ کی الیکشن مہم کے اشتہارات ہٹا دئیے

    ہم نسل پرستی کے خلاف سیاہ فام برادری کے ساتھ ہیں، فیس بک کے مالک نے قانونی معاونت کیلئے دس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا

    تشدد کو کم کرنے کیلئے فیس بک نے اپنی پالیسی ریوو کرنے کا اعلان کر دیا

    فیس بک کے ذریعے دو بھارتیوں نے چند روپوں کے عوض دیں آئی ایس آئی کو بھارتی فوج کی حساس معلومات، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    فیس بک، گوگل، ٹویٹر ڈس انفارمیشن کے خلاف کیے گئے اقدامات کی ماہانہ رپورٹ دیا کریں، یورپی یونین کا مطالبہ

    ٹرمپ کی ٹویٹ پر فیکٹ چیک لگانے پر یورپی یونین نے ٹویٹر کی حمایت کر دی

    بی جے پی بھارت میں فیس بک اور واٹس اپ کو کنٹرول کر کے نفرت پھیلا رہی ہے، راہول گاندھی

  • دوران اجلاس بھارتی پارلیمنٹ میں دو افراد گھس گئے

    دوران اجلاس بھارتی پارلیمنٹ میں دو افراد گھس گئے

    بھارتی پارلیمنٹ میں سیکیورٹی کی ناقص صورتحال،لوک سبھا سیشن کے دوران 2 افراد عمارت میں گھس آئے،

    بھارتی پارلیمان لوک سبھا کے اندر 2 افراد نے گیلری سے نیچے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر گیس خارج کرنے والی چیزیں پھینک دیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اندر گھسنے والے افراد کے پاس اسموک بم بھی تھے، بھگدڑ مچنے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا، پارلیمنٹ ارکان نے سیکیورٹی کی ناقص صورتحال پر سوال اٹھا دیے،

    بھارتی پارلیمان لوک سبھا میں اجلاس جاری تھا جب دو افراد جو وزیٹر گیلری میں موجود تھے نے چھلانگ لگائی، جس کے بعد اجلاس میں افرا تفری مچ گئی،دونوں افراد نے وزیٹر گیلری سے چھلانگ لگائی، تاہم سیکورٹی اداروں نے کاروائی کرتے ہوئے دونوں افراد کو گرفتار کر لیا، پارلیمنٹ میں گھسنے والے دونوں افراد وزیٹر گیلری سے ہوتے ہوئے اراکین اسمبلی کی کرسیوں تک پہنچ گئے تھے،انہوں نے اس دوران کسی سپرے کا بھی استعمال کیا اور نعرے بھی لگائے، اس مبینہ حملے کے بعد لوک سبھا کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا

    لوک سبھا کے اجلاس میں موجود کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چوھدری کا کہنا تھا کہ دو افراد گیلری سے کودے اور کوئی چیز پھینکی جس سے گیس نکل رہی تھی، انکو اراکین اسمبلی نے پکڑا اور سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے کیا، ایوان کی کاروائی دو بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے، کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ یہ سیکورٹی کی خلاف ورزی ہے، آج ہی ہم نے ان لوگوں کی برسی منائی جنہوں نے 2001 میں پارلیمنٹ حملہ میں اپنی جانیں دی تھیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریبا ایک بج کر دو منٹ پر دو افراد پارلیمنٹ میں گھسے تو پکڑ و پکڑو کی آوازیں آئیں،ان میں سے ایک کی شناخت ساگر کے طور پرہوئی ہے،دونوں افراد میسور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ کے نام پر سیکورٹی پاس لے کر وزیٹر گیلری میں پہنچے تھے، دونوں افراد نے اپنے جوتوں میں گیس والے بم چھپا رکھے تھے جو انہوں نے ایوان میں پھینکے، جس سے ایوان میں دھواں دھواں ہو گیا،

    بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والوں کی شناخت ہو گئی،ایوان کے باہر سے بھی خاتون سمیت دو افراد گرفتار
    لوک سبھا کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے واقعہ کے بارے میں اراکین کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، دہلی پولیس کی بھی ہدایات دی گئی ہیں،ایوان میں جو دھواں تھا وہ زہریلا نہیں بلکہ عام دھواں تھا، اسلئے خطے کی کوئی بات نہیں ہے ،ہم نے حملہ آوروں کو پکڑ لیا ہے، ایک کا نام ساگر اور دوسرے کا نام منورنجن ہے،ان دو افراد کے ساتھ دو اور افراد کو بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، پولیس کے مطابق 42 سالہ نیلم اور 25 سالہ امول شندے کو گرفتار کیا گیا ہے جو ان ملزمان کے ساتھی ہیں جنہوں نے ایوان میں دھواں چھوڑا تھا

    اراکین اسمبلی نے واقعہ پر شدید احتجاج کیا اور ناقص سیکورٹی پر سوال اٹھائے، رکن اسمبلی دانش علی کا کہنا تھا کہ پارلیمان کی سیکورٹی میں کوتاہی ایک سنگین معاملہ ہے،سماج وادی پارٹی کے ایم پی ایس ٹی حسن کا کہنا تھا کہ آج جو ہوا المیہ ہے، اسی طرح سیکورٹی میں کوتاہی برتی گئی تو کل کوئی اپنے جوتے میں بم لے کر بھی آسکتا ہے،بی جے پی کی رکن ستیہ پال سنگھ کا کہنا تھا کہ جب ہم ان افراد کو پکڑنے گئےتو انہوں نے گیس کا چھڑکاؤ کیا، تحقیقات ہونی چاہئے کہ وہ کون تھے اور گیس کیسے اندر لے کر پہنچے، مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بننی چاہئے،

    لوک سبھا کی سیکورٹی میں سنگین غفلت،کوتاہی پر سپیکر نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے مکمل رپورٹ طلب کی ہے، اور سیکورٹی مزید سخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزیٹر گیلری کے پاسز پر بھی پابندی لگا دی ہے،سپیکر لوک سبھا نے آج شام پارلیمانی جماعتوں کا ایک اجلاس بھی طلب کیا ہے جس میں پارلیمان کی سیکورٹی بارے مزید مشاورت کی جائے گی،

    واضح رہے کہ 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا،تاہم بھارت کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا تھا،تاہم بعد میں بھارت کے وزارت داخلہ کے سابق افسر انڈر سیکرٹری آر وی ایس مانی نے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے پیچھے خود بھارتی حکومت کا ہاتھ تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف سخت قوانین پارلیمان سے منظور کروائے جا سکیں.

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    فیس بک نے ٹرمپ کی الیکشن مہم کے اشتہارات ہٹا دئیے

    ہم نسل پرستی کے خلاف سیاہ فام برادری کے ساتھ ہیں، فیس بک کے مالک نے قانونی معاونت کیلئے دس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا

    تشدد کو کم کرنے کیلئے فیس بک نے اپنی پالیسی ریوو کرنے کا اعلان کر دیا

    فیس بک کے ذریعے دو بھارتیوں نے چند روپوں کے عوض دیں آئی ایس آئی کو بھارتی فوج کی حساس معلومات، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    فیس بک، گوگل، ٹویٹر ڈس انفارمیشن کے خلاف کیے گئے اقدامات کی ماہانہ رپورٹ دیا کریں، یورپی یونین کا مطالبہ

    ٹرمپ کی ٹویٹ پر فیکٹ چیک لگانے پر یورپی یونین نے ٹویٹر کی حمایت کر دی

    بی جے پی بھارت میں فیس بک اور واٹس اپ کو کنٹرول کر کے نفرت پھیلا رہی ہے، راہول گاندھی

  • الیکشن سے قبل  ساڑھے 700 کروڑ روپے  برآمد ہونے پر ہنگامہ مچ گیا

    الیکشن سے قبل ساڑھے 700 کروڑ روپے برآمد ہونے پر ہنگامہ مچ گیا

    رات تقریباً ساڑھے دس بجے پولیس اہلکاروں نے ایک مشکوک ٹرک کو روکا تو ٹرک کو چیکنگ کے دوران اہم انکشاف ہوا ہے کیونکہ ٹرک میں 750 کروڑ روپے کی نقد رقم برآمد ہوئی ہے خیال رہے کہ الیکشن سے پہلے ساڑھے 700 کروڑ روپے کی اتنی بڑی رقم برآمد ہونے پر ہنگامہ مچ گیا ہے اور خیال رہے کہ بھارتی ریاست تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کی تاریخ طے ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کے ساتھ ریاستی پولیس بھی چوکس ہے اور اسی لیے آنے جانے والے ہر ٹرک کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

    تاہم واضح رہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق جس سڑک سے یہ ٹرک گزر رہا تھا اسے عام طور پر اسمگلرز استعمال کرتے ہیں، اسی لیے وہاں ناکہ بندی کی گئی تھی۔ اور اسی ناکہ بندی کے دوران 750 کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 25 ارب پاکستانی روہے) برآمد ہوئے اور چند گھنٹوں کے سسپنس کے بعد معاملہ ختم ہو گیا کیونکہ یہ رقم یونین بینک آف انڈیا کی تھی، اور اسے کیرالہ سے حیدرآباد منتقل کیا جا رہا تھا۔

    جبکہ تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے تمام قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ ٹرک کو بینک حکام کی تصدیق کے بعد آگے کے سفر کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا اور وکاس راج نے کہا، ’750 کروڑ روپے نقد لے کر جانے والا ٹرک کچھ گھنٹوں تک سرخیوں میں رہا، لیکن آخر کار ہمیں معلوم ہوا کہ یہ پیسے کی منتقلی تھی۔ تصدیق ہونے کے بعد، پولیس نے ٹرک کو اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست منظور
    نواز شریف کی آمد،چار افراد ایئر پورٹ پر پھول پھینک سکتے،ایوی ایشن کی اجازت
    سابق وزیر قانون اور سینیٹر ایس ایم ظفر وفات پاگئے
    تاہم سی ای او نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کڑی نگرانی کی وجہ سے ریاست میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کا بغور معائنہ کیا جا رہا ہے اور دہلی میں تلنگانہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرنے سے پہلے حیدرآباد کے اپنے حالیہ دورہ کے دوران چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے ریاستی انتخابی عہدیداروں سے کہا تھا کہ وہ گوا اور دیگر مقامات سے مہابوگ نگر کے راستے حیدرآباد تک اسمگلنگ کو روکیں۔ وہ ریاستی پولیس کی طرف سے ’کم‘ نقدی ضبط کرنے سے بھی پریشان تھے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی شکایات کے بعد بھارتی الیکشن کمیشن نے اعلیٰ پولیس افسران، چار کلکٹرز اور سینئر عہدیداروں کا تبادلہ بھی کیا۔

  • بھارتی اراکین پارلیمنٹ کے’تقریباً نصف’اراکین پر جرائم کےالزامات ہیں،سنگاپورکے وزیراعظم کا دعویٰ

    بھارتی اراکین پارلیمنٹ کے’تقریباً نصف’اراکین پر جرائم کےالزامات ہیں،سنگاپورکے وزیراعظم کا دعویٰ

    سنگاپور کے وزیراعظم لی ہسین لونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی لوک سبھا کے ‘تقریباً نصف’ اراکین پر جرائم کے الزامات ہیں،بھارتی اراکین پارلیمنٹ کےحوالے سے یہ بیان سنگاپور کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ایک رکن پر الزامات سے متعلق بحث کے دوران دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے "رائٹرز کے مطابق سنگاپورکے وزیراعظم لی ہسین لونگ نے اراکین اسمبلی کو کام کرنے کے لیے اچھے اقدار اور رویات پر مبنی جمہوری نظام کی ضرورت، حکومت پر عوام کے اعتماد کی اہمیت اور دیگر چیزوں پر بات کی-

    امریکا میں ہزاروں لگژری گاڑیوں سے لدے کارگو بحری جہاز میں آتشزدگی

    لی ہسین لونگ نے کہا کہ اکثر ممالک کی بنیاد رکھی گئی اور آغاز بڑے اخلاقی اقدار اور عظیم رویاکی بنیاد پر ہوا لیکن اس کے بعد بانی رہنماؤں اور بنیادیں رکھنے والی نسل سے ماورا دہائیوں اور نسلوں کے بعد چیزیں بتدریج تبدیل ہوئیں چیزیں مکمل شدت کے ساتھ شروع ہوئیں، جو قیادت آزادی کے لیے لڑی اور جیت گئی تھی وہ عظیم حوصلے اور غیرمعمولی قابلیت کی حامل انفرادی شخصیات تھیں۔

    تاریخی شخصیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لی ہسین لونگ نے کہا کہ وہ آگ کی بھٹی سے گزرے اور عوام اور قوم کی قیادت کی، وہ ڈیوڈ بین گوریئنز، جواہرلال نہرو تھے اور ہمارے اپنے قائدین بھی ہیں انہوں نے اسرائیل اور بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تاہم ان کے بعد کی نسلیں اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔

    عرب امارات کے ورک پرمٹ کے اجراء میں اضافہ ریکارڈ

    سنگاپور کے وزیراعظم نے کہا کہ بین-گوریئن کا اسرائیل اس قدر بدل گیا ہے جہاں دو سال میں 4 دفعہ انتخابات کے باوجود بمشکل ایک حکومت تشکیل پاتی ہے اسرائیل میں سینئر سیاست دانوں اور عہدیداروں کو جرائم کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سے چند جیل جاچکے ہیں۔

    لی ہسین لونگ نے کہا کہ دوسری طرف نہرو کا بھارت اس طرح بن گیا ہے جہاں میڈیا کی رپورٹس کے مطابق لوک سبھا میں تقریباً نصف اراکین کے خلاف جرائم کے الزامات زیر التوا ہیں، جس میں ریپ اور قتل کے الزامات شامل ہیں تاہم ان میں سے کئی سیاسی طور پر عائد کیے گئے الزامات ہیں۔

    بعد ازاں بھارت میں تعینات سنگاپور کے سفیر کو طلب کرکے ان سے وزیراعظم کے بیان کی وضاحت مانگی گئی-

    بھارتی حکمران جماعت کے رہنماؤں کے کویت داخلے پر پابندی کا مطالبہ