Baaghi TV

Tag: لوگ

  • لوگ نئے داماد کی اتنی آؤ بھگت  نہیں کرتے جتنی عمران حکومت نے امریکی سفیر کی کی،خواجہ آصف

    لوگ نئے داماد کی اتنی آؤ بھگت نہیں کرتے جتنی عمران حکومت نے امریکی سفیر کی کی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیرخواجہ آصف نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ اپنے نئے داماد کی اتنی عزت اور آؤ بھگت نہیں کرتے جتنی خیبر پختون خواہ میں عمران خان کی حکومت نے بیرونی سازش والے امریکہ کےسفیرکی ھے. ماشاءاللہ.


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وفاقی وزیر نے امریکی سفیر کے دورہ کے پی کے کے دوران کے پی کے حکومت کی جانب سے امریکی سفیر کو دیئے گئے وی آئی پی پروٹوکول کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں.

    سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے خواجہ آصف کی جانب سے ٹویٹ پر کہا کہ میری خواہیش ہے کہ خیبر پختونخوا کو ریاست مدینہ کا ماڈل بنایا جائے اور امریکہ سفیر کو سامنے بٹھا کر اس غیر ملکی سازش کے خلاف وہ تقریر دہرائی جاتی جو بار بار پاکستانی عوام کو سنائی گئی فواد چودھری کی وہ تقاریر بھی یاد کریں جو انہوں نے واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھنے والوں کے خلاف کیں.

    غلامی نامنظور اور سازش اپنی جگہ،عطیہ کیسے ٹھکراوں،یہ ہے عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کی ہے.ملاقات میں محمود خان نے اپنے چیئرمین کی حکومت کے خلاف” سازش”کر کے ان کی حکومت ختم کرنے والے ملک کے سفیر کو کمال پروٹوکول دیا.

    امریکہ کو برا بھلا اور” ایبسلوٹلی ںاٹ” کہنے والے عمران خان نے کے پی کے میں اپنی حکومت کے ذریعے امریکہ کی جانب سے گاڑیوں کا عطیہ دیکھتے ہی "ایبسلوٹلی ناٹ”کے نعرے کو فورا” ابسلوٹلی یس” میں بدل دیا. امریکہ کی غلامی نامنظور کرنے والے عمران خان اور ان کے وزیراعلی نے امریکہ ہی سے36 گاڑیوں کا عطیہ منظور کر لیا۔

     

    پی ٹی آئی کے 13 اگست کے جلسے کا مقام تبدیل،اب جلسہ لاہور میں ہو گا

     

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جب وزیراعظم تھے تو مسلسل ایک ہی بیانیئے کی گردان الاپتے رہے کہ ہم امریکہ کی غلامی قبول نہیں کریں گے،عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے میری حکومت کے خلاف سازش کی ہے، خان صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے امریکہ کو کہ دیا ہے کہ” ایبسلوٹلی ناٹ”. ایک جانب سابق وزیراعظم عمران خان امریکہ مخالف بھاشن قوم کو دیتے رہے اور دوسری طرف امریکہ سے کے پی کے میں تعاون اور اشتراک کار پر امریکی حکومت کے ممنون ہیں.

  • ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت میں ہمارا کردار — ام عفاف

    ہار اور جیت دو ایسے متضاد پہلو ہیں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. جیت میں انسان اپنے آپ کو خوش قسمت انسان محسوس کرتا ہے اور بڑے جذبات اور جوش وخروش میں ہوتا ہے اور جب انسان ہارتا ہے تو اس کے سبب اعصاب ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور ہار انسان کو بالکل کمزور کردیتی ہے. ہار اور جیت کھیل کا لازمی جز ہیں.

    لیکن اس مشکل مرحلے میں انسان کو ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کو گرنے نہیں دیتی ہے. البتہ اس موقع پر لوگوں کا رویہ بالکل متضاد ہوتا ہے.

    وہ جیتنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہارنے والے کی دل شکنی کرتے ہیں. حالانکہ کسی ایک کی ہار تو لازمی ہے.

    اگر ضمنی الیکشن کی بات کریں تو دونوں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے جیت جیت ہی کی صدائیں بلند تھیں. اس دوران سوشل میڈیا میدانِ جنگ کا منظر پیش کررہا تھا.

    ہر ایک اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے پرجوش دکھائی دے رہا تھا.

    لیکن اب ہم ٹھہر کر یہاں اس چیز کا جائزہ لیں کہ ہمیں ہمیشہ جیت کی خوشیاں ہی مناتے رہنا چاہئے یا ہار کو کھلے دل سے قبول کرنے کے ساتھ ہارنے والے لوگوں کا ساتھ دینا بھی چاہیے. اس پہلو پر ہم یہ سوچیں کہ جب ہمیں الیکشن ہارنے پر خود اتنا افسوس ہے تو ہارنے والے کو کتنا غم ہوگا؟

    کرکٹ، فٹبال یا کبڈی جس کھیل کی بھی بات کرلیں اس میں کھلاڑی کے لئیے میدان میں اتر کر کھیلنا موت اور زندگی کے مترادف ہے اور کھیلتے ہوئے وہ کس قدر ذہنی اور جسمانی اذیت اور مشقت میں ہوتے ہیں ایسے میں ان کو اپنے لوگوں کی اپنائیت اور حوصلے کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور اپنے لوگوں کا رویہ اور حوصلہ ہی ہوتا ہے جس سے انسان مضبوط ہوتا ہے.

    اس موقع پر ہمیں ایک ماں جیسا کردار ادا کرنا چاہیے کہ جب اس کا بیٹا یا بیٹی ہار کر اپنی ماں کی آغوش میں آتے ہیں تو وہ اپنے بچے کو سمیٹ لیتی ہے اسے حوصلہ اور دلاسہ دیتی ہے، جس سے اسے تقویت ملتی ہے اور وہ دوبارہ سے مضبوط ہوتا ہے. اسی طرح کھیلنے والے کے لیے اپنے لوگوں کا رویہ ایک ماں کے رویے کی طرح ہوتا ہے.

    اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم جس طرح کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اسی طرح ہار پر ان کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی کریں تاکہ وہ دوبارہ مضبوط ہو کر اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں نہ کہ حوصلہ شکنی سے بالکل مایوس ہو جائیں یاد رہے حوصلہ شکنی انسان کو کمزور کر تی ہے اور حوصلہ افزائی انسان کو بہت مضبوط کرتی ہے.

  • لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    لوگوں کیلئے آسانی پیدا کریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    "ایک شخص راستے سے اوپر پڑی ہوئی درخت کی ایک شاخ کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس شاخ کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ یہ ان کو ایذا نہ دے تو اس شخص کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔”

    ہمارے گلی محلہ شہر کی سڑکوں پر گہرے کھڈے ہوتے ہیں جس کے باعث ہم یا اور کوئی کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے، گندگی پھیلانے میں ہمارا اپنا ہاتھ ہوتا ہے، گندگی کو اس کے مقام تک پہنچانے کی بجائے ہم کہیں بھی اس کو گرا دیتے ہیں جس سے ماحول خراب اور فضاء میں بیماریوں کے انبار وجود میں آتے ہیں اور اس کا نقصان جانوروں اور انسانوں کو ہوتا ہے،

    ہم اکثر یا روزانہ کی بنیاد پر ایسے حالات کا سامنے کرتے ہیں اور پھر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں لیکن خود ہم یہ کام اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے کتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پریشانیاں خود بخود اور ہمارے کچھ بھی کئے بنا ختم ہوجائے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ جب ہم خود کچھ کرنا نہیں چاہتے تو اس پریشانی سے کسی کو کیا بچانا ہے ہم خود بھی نہیں بچ پاتے اور پھر اکثر اوقات ہمیں ایسی سستی کرنے عوض بھاری نقصان کا سامنا کر پڑجاتا ہے۔

    ہمیں چاہئیے کہ کم از کم اپنے گھر، تعلیمی و شعبہ سے متعلقہ جگہ کے سامنے پڑے کھڈوں کو مرمت، صفائی کا اہتمام، اور رات کے وقت کیلئے روشنی کا انتظام کر دیں ہمارے صرف اک اس عمل سے ہماری گلیاں، محلے، شہر، اور ملک صاف ستھرا، روشن اور حادثات سے کافی محفوظ ہوجائے اور کئی انسانی جانیں محفوظ ہوجائیں گی حادثات و بیماریوں سے۔

  • سیلیکٹڈ بھی دیکھے اور امپورٹڈ  بھی، اب قابل لوگوں کی ضرورت ہے، سراج الحق

    سیلیکٹڈ بھی دیکھے اور امپورٹڈ بھی، اب قابل لوگوں کی ضرورت ہے، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ 75 سال کے تجربات کے بعد کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کے نظام کو قائم کریں؟، رضا باقر صاحب کی طرح لوگوں نے 75 سال سے ملک کو اندھیروں میں رکھا، 22 بار آئی ایم ایف سے ہم نے قرضے لئے، لیکن جیسے جیسے علاج کیا ویسے ویسے مرض بڑھا،اسوقت ہمارے 8 کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

    حکومتی اتحاد کا اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے پر اتفاق،باغی کا پہلےخبر دینے کا اعزاز

    ملک کے معاشی بحران کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہغربت مہنگائی کی وجہ سے لوگ ذہنی تناؤ اور مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں، ذہنی تناؤ کی وجہ سے گھروں میں لڑائی اور ایوانوں میں گالم گلوچ ہے، سیاست دان وہ زبان استمعال کرتے ہیں جو ایک لفنگا بھی استعمال نہیں کرتا، اسوقت جتنے بت اس معاشرے میں موجود ہیں انہوں نے ملک کے وسائل پہ قبضہ کر رکھا ہے، یہاں پر سری لنکا کی طرح مایوس کن ماحول ہے، سیاست کا نشہ اتر جائے گا، لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں گے، پھر حساب کتاب ہوگا اور یوم الحساب ہوگا، کچھ چیزیں بس میں ہوتی ہیں کچھ چیزیں بس میں نہیں ہوتیں،ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ دنیا سے ڈکٹیشن لینا ہے یا دنیا کو کچھ دینا ہے.

     

    وفاق کی جانب سے بجلی مہنگی کرنے کی خبریں درست نہیں. وزیر اطلاعات

     

    سراج الحق نے کہا کہ جس آدمی نے پاکستان بنایا اس نے کہا تھا کہ پاکستان ماڈل بنے گا اور دنیا کو لیڈ کرے گا، اس وقت ملک میں مصنوعی معیشت ہے، سارا نظام قرضوں، سود اور غلط اعداد و شمار پر ہے، موجودہ و سابقہ حکومت جو اعداد و شمار دیتے تھے سب غلط ہیں، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کا مسئلہ معیشت نہیں، انکا بنیادی مسئلہ اپنے مفادات کو محفوظ اور کیسس کو ختم کروایا جائے،35 سال ملک میں جرنیلوں نے حکومت کی انہوں نے بھی ملک کے ساتھ ظلم کیا ہے، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی وجہ سے آج ملک پر ظلم ہو رہا ہے، سیاسی، سماجی، معاشی، لوڈ شیڈنگ سب ان دونوں کی وجہ سے ہے،سب مسائل پیدا کرنے کے بعد یہ مذاق اڑاتے ہیں، شرمندگی کا اظہار نہیں کرتے ،وزرا ء مذاق اڑاتے ہیں کہ چائے ایک پیالی کم کر دو، ایک روٹی کم کر دو.

    انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام، کشمیر کی آزادی، عافیہ کی واپسی، قرضوں سے نجات ن کا ایجنڈا نہیں، معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے، موجودہ سیاست دان تیار نہیں ہیں،مسلسل مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، یہی حکمران ٹولہ بدلتا رہتا ہے مگر نظام وہی رہتا ہے، میری پارٹی میں بے شک شامل نہ ہوں لیکن میری آواز کے ساتھ اس آواز کو ملائیں کہ پاکستان کو اسلامی نظام چاہئے، مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ سود کے بغیر پاکستان چل سکتا ہے، میں نے کے پی کے کو قرض فری صوبہ بنایا تھا، غیر ضروری اخراجات ختم کئے تھے، قرضے کی بنیاد پر ملک کیسے چلائیں گے، تنخواہیں کیسے دیں گے، ترقیاتی کام کیسے کروائیں گے، ریلوے پی آئی اے اور سٹیل مل کو ٹھیک کرنا ہے یا خسارے بھرنے ہیں؟، جو ٹیکس دیتا ہے وہ فٹ پاتھ پر سوتا ہے، ٹیکس لینے والا بادشاہوں کی زندگی گزارتا ہے،اس ملک میں سزا و جزا کا تصور نہیں ہیں، جن پر کیسس ہیں وہ وزیر بھی ہیں، پاناما اور پنڈورا پیپرز میں ان کے نام ہیں،اس حکومت کو مجبور کرنا ہوگا کہ سود کے خلاف دئیے فیصلے کے خلاف جانے کے فیصلے کو واپس لے.

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کی خرابی تمام خرابیوں کی جڑ ہوتی ہے، اس خرابیوں کو ٹھیک نہیں کرتے تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا، ہمیں اپنی معیشت کو اسی طرح ٹھیک کرنا چاہئے جس طرح دیگر فرائض کی انجام دہی کرتے ہیں،سیلیکٹڈ کو بھی دیکھا امپورٹڈ کو بھی دیکھا، اب اس قوم کو قابل لوگوں کی ضرورت ہے جن کی ملک کے ساتھ وابستگی ہو،یہ ملک ہم سب کا ہے، اگر یہ نہیں بچتا تو ہمارے گھر بھی نہیں بچیں گے.

  • لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے،عبدالواحد بلوچ

    لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے،عبدالواحد بلوچ

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گوادر ڈاکٹر عبدالواحد بلوچ نے کہاھےکہ لوگوں کو صحت عامہ کی فراہمی محکمہ صحت کی ذمہ داری ھےاس سلسلے میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف دلجمی اور احسن طریقے سے اپنا فرض منصبی انجام دیں تاکہ لوگوں کو فوری اور بروقت طبی سہولتوں کی فراہمی ممکن ان خیالات کا اظہار انہوں مختلف مراکز صحت کے دورہ کے دوران ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نرسز سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ھے.

    ضلعی افسر صحت نے جن مراکز کا دورہ کیا ان میں بنیادی مراکز صحت شادوبند ، سی ڈی شمبے اسماعیل ، بی ایچ یو گھٹی ڈور اور آر ایچ سی سر بندن شامل ہیں دورہ کے دوران انہوں نے مراکز صحت کے اسٹاف کی حاضریاں چیک کرنے کے ساتھ ساتھ اور دوسرے شعبہ جات کا بھی دورہ کیا اس کے علاؤہ ای پی سینٹر کے شعبے کو چیک کیا انہوں نے محدود اسٹاف کے ساتھ ان سینٹروں کی کارکردگی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا مراکز صحت کو مذید بہتر کیا جائےساتھ میں اسٹاف کو بھی تنبیہ کیا کہ وہ اپنی حاضری کو ہر صورت یقینی بنائیں اور اپنے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کو بہتر سے بہتر صحت کی سہولیات فراہم کریں اور ای پی آئی انچارج کو ہدایت کی کہ اپنی آؤٹ ریچ سیشن کو اور بہتر طریقے سے موثر بنائیں تاکہ ڈسٹرکٹ کے اندر کوئی بھی بچہ بغیر ویکسینیشن کے نہ رہے جو کہ بچوں میں سب سے بہتر اور موثر طریقے سے خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہنے کا بہترین ذریعہ ہے .

    ضلعی افسر صحت نے سینٹروں میں نیوٹریشن پروگرام کی ریکارڈ کو چیک کیا اور اس سلسلے میں ایک بریفنگ میں بھی شرکت کی اور تاکید کی کہ اپنے اپنے کیچمنٹ ایریا پاپولیشن میں کمزور اور خوراک میں کمی کے شکار ہونے والے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ڈھونڈیں اور ان کو UNICEF کی طرف سے دیئے گئے مفت اور صحت مند خوراک کو انہی کمزور بچوں تک پہنچائیں۔ اس انہوں نےکہا کہ ہیسپتال بیلانگ، اسٹاف کوارٹرز اور اسٹاف کی کمی کا ایک جامع رپورٹ بنا کر سیکٹری ہیلتھ کو ارسال کیا گیا ہے اور ساتھ میں مطالبہ کیا کہ ڈسٹرکٹ کے اندر خالی پوسٹوں کو جلد سے جلد پر کیا جائے تاکہ ہیلتھ سینٹرز کو اسٹاف کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے جو اس وقت بہت بڑا مسلہ ہے اور خاص طور پر آر ایچ سی سر بندن جہاں اس وقت کوئی ڈاکٹر پوسٹ نہیں ہے اور آر ایچ سی کو اسٹاف کی بھی کمی کا سامنا ہے ۔

    سر بندن دورے کے دوران انہوں نے ملیریا اسپرے کی دوائیاں سر بندن کے کونسلر کے حوالے کیے اور ہر طرح کی تعاون کی یقین دہائی کرائی اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر کے اندر غیر استعمال جمع شدہ پانی کا جائزہ لیا تاکہ ان جگہوں میں جلد سے ملیریا اور ڈینگی مچھر کی افزائش کو کنٹرول کرنے کے لیے larvaeciding کی جائے ۔

  • نئی قیمتوں پر عوام میں تشویش

    نئی قیمتوں پر عوام میں تشویش

    قصور
    عوامی حلقوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کرتے ہوئے اسے مہنگائی کے مارے عوام پر ایک اور ظلم و زیادتی قرار دیا ہے۔حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے حکومت آئی ایم ایف کے سامنے مکمل طور پر سرنگوں ہو چکی ہے اور اسے مہنگائی کے مارے عوام کی بے بسی کا کوئی احساس نہیں ہے
    ان خیالات کااظہار قصور کے شہریوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر گفتگو کرتے ہوئے کیا شہریوں نے مزیدکہا کہ عید قربان سے قبل پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5روپے 40پیسے، ڈیزل 2روپے 54پیسے، لائٹ ڈیزل 1روپے 72پیسے اور مٹی کے تیل میں 1روپے 39پیسے اضافہ کر کے حکومت نے انتہائی ظالمانہ اقدام کیا ہے۔ حکومت اس اضافے کو فوری واپس لے اور دیگر اشیا ئے ضروریہ کی قیمتیں بھی کم کی جائیں۔حکومت مسلسل عوام کوجھوٹی تسلیاں دے رہی ہے اور ریلیف کیلئے عملی طورپر کچھ نہیں کررہی ہے اگر حکومت عوام کونہیں ریلیف دے سکتی ہے توعوام کاوقت ضائع کیے بغیرحکومت چھوڑکرگھرچلے گائے ایک طرف وزیراعظم صاحب کہتے ہیں گھبرانا نہیں تو دوسری جانب لوگ حالات کے مارے خودکشی کرنے پرمجبور ہیں حکومت ہوش کے ناخن لیں اور اپنا قبلہ درست کرے ورنہ ہماراہاتھ اور حکمرانوں کے گریبان ہو گے