Baaghi TV

Tag: لڑاکا طیارہ

  • سعودی عرب کا لڑاکا طیارہ تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ

    سعودی عرب کا لڑاکا طیارہ تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ

    سعودی عرب کا لڑاکا طیارہ تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا-

    باغی ٹی وی: سعودی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ پیر کی شام 15 بج کر 44 منٹ پر رائل سعودی ایئر فورس کا "ٹورنیڈو” قسم کا لڑاکا طیارہ تربیتی علاقے میں معمول کے تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہوگیا یہ تربیتی علاقہ ظہران میں کنگ عبدالعزیز ایئر بیس کے تحت ہے۔

    ترکی المالکی نے لائف چیئر استعمال کرنے کے بعد فضائی عملے کے زندہ بچ جانے کی تصدیق کی اورکہاکہ طیارے کےحادثے کے نتیجے میں زمین پر بھی کوئی زخمی نہیں ہوا ایک تحقیقاتی کمیٹی نے حادثے کی وجوہات کی تفصیلات جاننے کے لیے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔

    آسٹریلیا کے ساحل کے قریب فوجی ہیلی کاپٹر گر کرتباہ

    قبل ازیں آسٹریلیا کے ساحل کے قریب فوجی ہیلی کاپٹر گر کرتباہ ہوگیا، ہیلی کاپٹر میں 20 امریکی میرینز سوار تھے، آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانی نے "افسوسناک” واقعہ قرار دیا ہیلی کاپٹر میں20 امریکی میرینز سوار تھے، جو جنگی مشقوں کا حصہ تھا آسٹریلیا کی وزارت دفاع نے کہا کہ حادثہ آسٹریلیا، امریکا، مشرقی تیمور، انڈونیشیا اور فلپائن کی سالانہ مشقوں کے دوران پیش آیا،آسٹریلین ڈیفنس فورس (اے ڈی ایف) نے کہا کہ ہیلی کاپٹر میں کوئی آسٹریلوی اہلکار سوار نہیں تھا ابتدائی مرحلے پر ہماری توجہ ہیلی کاپٹر میں سوار افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

    امریکا میں پاکستانی ڈاکٹرکو دہشتگردی کےالزام میں سزا سنادی گئی

    البانی نے، پہلے سے طے شدہ پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے، حادثے یا بچاؤ کی کوششوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ حکومت اور دفاع کے ایک محکمے کے طور پر ہماری توجہ واقعے کے ردعمل پر ہے اور اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ اس مشکل وقت میں ہر طرح کی مدد اور مدد کی جائے۔

    ایران : بس کھائی میں جاگری ،10 افراد ہلاک اور 8 زخمی

  • 20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    بیجنگ: چین کے جدید ترین ہائپرسونک لڑاکا طیارہ جس کا ڈیزائن 20 سال پہلے امریکی ادارے ’ناسا‘ نے مسترد کردیا تھا لیکن اب چین اسی ڈیزائن پر بہت تیزی سے کام کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، یہ ڈیزائن 1990 کے عشرے میں ’ناسا‘ سے وابستہ چینی نژاد چیف انجینئر منگ ہانگ تانگ نے بنایا تھا جسے امریکی حکام نے مسترد کردیا لیکن چین میں اس ڈیزائن نے بڑھتی ہوئی توجہ مبذول کرائی ہےکچھ چینی خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں چینی محققین کا خاتمہ چین کے ہائپرسونک ہتھیاروں کے پروگرام کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا-

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    سال 2000 میں امریکا اور چین میں تناؤ بڑھنے کے بعد منگ ہانگ تانگ سمیت درجنوں چینی ماہرین اپنے وطن واپس آگئے؛ اور تقریباً اسی زمانے میں چین نے بھی ہائپرسونک طیارے کے منصوبے پر کام کا آغاز کردیا اس طیارے کے پروٹوٹائپ انجن کی آزمائشیں کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں البتہ یہ اپنی تکمیل سے بہت دور ہے۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    یہ ’ناسا‘ کے متروک ’ایکس 47 سی‘ (X-47C) منصوبے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس کے تحت پروفیسر تانگ جو کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں ناسا کے ہائپرسونک پروگرام کے چیف انجینئر تھے نے دو مرحلوں والا طیارہ ڈیزائن کیا تھا پہلے مرحلے میں اس کے انجن،عام ٹربا ئن جیٹ انجن کی طرح کام کرتے ہوئے اسے مناسب بلندی پر پہنچا تے پھر تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کے لیے یہ ’ہائپر سونک موڈ‘ میں چلے جاتے اور طیارے کی رفتار آواز سے پانچ گنا زیادہ ہوجاتی۔

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    اس پر بوئنگ کارپوریشن میں ’مینٹا ایکس 47 سی‘ پروگرام کے عنوان سے ابتدائی کام ہوا تھا لیکن بعض تکنیکی اور مالیاتی وجوہ کی بناء پر ناسا نے یہ منصوبہ منسوخ کرد یا اب تک چینی ہائپرسونک طیا رے کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ اس کے انجنوں کو جیا نگسو، چین میں واقع ’نا نجنگ یونیورسٹی آف ایئروناٹکس اینڈ ایسٹروناٹکس‘ کی جدید ہوائی سرنگ (وِنڈ ٹنل) میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے یہ ہوائی سرنگ، طیاروں اور میزائلوں کے پروٹوٹائپس کو آواز سے 4 تا 8 گنا رفتار پر آزمانے کی صلاحیت رکھتی ہے توقع ہے کہ اس کامیابی کے بعد چینی ہائپرسونک طیارے کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ہر وہ چیز جو آواز سے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ رفتار سے حرکت کرسکے، اسے تکنیکی زبان میں ’ہائپرسونک‘ کہا جاتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار