Baaghi TV

Tag: لکھنو

  • شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

    شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

    بھارت میں ایک خاتون نے شوہر کے مزاحیہ انداز میں انہیں ’بندریا‘ کہنے پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    یہ افسوسناک واقعہ بھارت اترپردیش کے شہر لکھنؤ کے اندرا نگر علاقے میں پیش آیا،ابتدائی تحقیقات کے مطابق گھر کا ماحول خوشگوار تھا اور ہنسی مذاق جاری تھا۔ اسی دوران شوہر نے مزاحیہ انداز میں اپنی اہلیہ کو ’بندریا‘ کہہ دیا، جس سے تنو سنگھ شدید صدمے کا شکار ہو گئیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی۔

    رپورٹس کے مطابق تنو سنگھ ماڈل بننے کی خواہشمند تھیں اور اپنے جسمانی حسن کے حوالے سے بہت حساس تھیں۔ وہ اپنے شوہر راہول سنگھ کے ساتھ اندرا نگر میں رہائش پذیر تھیں تنو کی بہن انجلی نے بتایا کہ بدھ کی شام خاندان والے سیتا پور میں ایک رشتہ دار کے گھر سے واپس آئے۔ گھر پہنچنے کے بعد سب لو گ ادھر ادھر بیٹھے خوشگوار ہنسی مذاق میں مصروف تھے، اسی دوران شوہر نے مذاقاً تنو کو ’بندریا‘ کہا، جس سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو گئیں اور غصے میں اپنے کمرے میں چلی گئیں۔

    ابتدائی طور پر خاندان کے افراد یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ جلد معمول پر آجائیں گی، اس لیے کسی نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی تقریباً ایک گھنٹے بعد، جب کھانے کے لیے بلایا گیا اور کوئی جواب نہ آیا، تو گھر والوں نے کمرے میں جا کر دیکھا کہ تنو کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی تنو اپنے کیریئر اور جسمانی حسن کے حوالے سے بہت حساس تھیں اور اسی وجہ سے شوہر کے مذاق کو برداشت نہیں کر پائیں، جس کا نتیجہ یہ افسوسناک واقعہ نکلا۔

    پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں معاملہ خاندان کے اندر ہلکی پھلکی جھڑپ اور مذاق کی وجہ سے دل برداشتگی کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے۔

  • شخص نے ناجائز تعلقا ت کے شبے میں  اپنی بیوی اور دو بچوں کو  قتل کر دیا

    شخص نے ناجائز تعلقا ت کے شبے میں اپنی بیوی اور دو بچوں کو قتل کر دیا

    لکھنو:شخص نے ناجائز تعلقا ت کے شبے میں اپنی بیوی اور دو بچوں کو قتل کر دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈٖیاکے مطابق سراوان نگر میں 32 سالہ رام لگان نے اپنی 30 سالہ بیوی جیوتی کو اپنے بچوں کے سامنے ناجائز تعلقات کے شبے میں گلہ گھونٹ کر مار دیا اس کے بعد اس نے اپنے دونوں بچوں چھ سالہ پائل اور تین سالہ آنند کو کرائے کے گھر میں مار دیا تاکہ وہ پولیس کے سامنے کچھ بول نہ سکیں۔

    ڈپٹی کمشنر پولیس ٹی ایس سنگھ کے مطابق رام لگان کی شادی کو سات سال ہوئے تھے، اور اسے شک تھا کہ اس کی بیوی کے ناجائز تعلقات ہیں اور جب وہ فون پر بات کرتی تھی تو وہ اس کی جاسوسی کرتا تھا اس وجہ سے اکثر ان کے درمیان جھگڑا ہوتا تھا 28 مارچ کی رات بھی ان کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد اس نے بیوی اور بچوں کو قتل کر دیاملزم نے تہرے قتل کے بعد رات اسی کمرے میں گزاری، وہ اگلی صبح روانہ ہوا اور رات کو واپس آیا، اس کا یہ معمول تین دن تک جاری رہا یہاں-

    کراچی: ڈکیتی کے واقعات میں ایک شخص جاں بحق،حساس ادارے کے افسر سمیت 2 زخمی

    مالک مکان نے محسوس کیا کہ اس کے گھر سے بدبو آرہی ہے، دروازہ بند نہیں تھا اور جب وہ گھر میں داخل ہوا تو تینوں لاشیں بوری میں بند تھیں،مالک مکان نے پولیس کو کال کی پولیس نے سے گرفتار کر لیا اور اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا،رام لگان پرہجوم علاقے کی وجہ سے لاشیں نہیں نکال سکا تھا اور اس نے اپنے پڑوسیوں کو بتایا تھا کہ ان کا خاندان ہولی منانے کے لیے کسی رشتے دار کے گھر گیا ہے، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔

    دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی میزائل حملے،سفارتکاروں سمیت 8 ا فراد ہلاک

  • ٹرین کی بوگی میں آگ لگنے سے دس مسافروں کی موت

    ٹرین کی بوگی میں آگ لگنے سے دس مسافروں کی موت

    بھارت میں ایک بار پھر ٹرین حادثہ پیش آئے، مسافر ٹرین کی بوگی میں آگ لگنے سے دس مسافروں کی موت ہو گئی ہے جبکہ 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں

    واقعہ لکھنو،رامیشورم ایکسپریس میں پیش آیا، ٹورسٹ ٹرین میں کل 55 مسافر سوار تھے جن میں سے 10 اترپردیش کے رہائشی تھے، مدورائی سٹیشن پر ٹرین کی بوگی میں آگ لگی، واقعہ ہفتے کے صبح پانچ بجے کے قریب پیش آیا، ٹرین میں مسافروں نے چائے بنانے کے لئے سلنڈر کا استعمال کیا، اسی دوران ٹرین کو آگ لگ گئی، فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ کو بجھایا، واقعہ میں دس افراد کی موت ہوئی، مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے،

    حادثے کا شکار ٹرین کے مسافروں نے 17 اگست سے اپنا سفر شروع کیا تھا، وہ اتوار کو دوسری ٹرین پر لکھنو جا رہے تھے، سدرن ریلوے نے ٹرین حادثے میں مرنیوالوں کے لواحقین کو دس لاکھ امداد دینے کا اعلان کیا ہے وہیں زخمیوں کو پانچ لاکھ دیئے جائیں گے، ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہی سامنے آیا ہے کہ آگ سلنڈر جلانے کے بعد لگی جو پھیلتی چلی گئی،

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت میں ایک ٹرین حادثہ پیش آیا تھا تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی تھیں جس میں تین سو کے قریب ہلاکتیں ہوئی تھیں،حادثہ پر راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں جب بھی ٹرین حادثہ ہوا، وزیر ریلوے نے زمہ داری قبول کی اور استعفی دیا ، اب موجودہ وزیر ریلوے کو استعفیٰ دینا چاہئے، ادھو دھڑے گروپ کے رہنما سنجے راوت نے بھی ٹرین حادثے پربھارتی وزیر اعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے وزیر اعظم کے لئے ایک کھلونا بن گیا ہے وزیر اعظم صرف ہری جھنڈی دکھاتے رہتے ہیں

    پنجاب کے شہر میں دو خواجہ سراؤں کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

  • باپ کے ساتھ ذاتی دشمنی پرشخص نے تین بچوں کو کار تلے کچل دیا

    باپ کے ساتھ ذاتی دشمنی پرشخص نے تین بچوں کو کار تلے کچل دیا

    بھارت میں دشمنی کی آڑ میں شخص نے تین بچوں کو اپنی گاڑی تلے روند ڈالا جس دوران تینوں بچے شدید زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر لکھنؤ کے ملیح آباد علاقے میں پیش آیا ایف آئی آر کے مطابق، وریندر عرف سیتارام سندھاروا گاؤں کے قاضی کھیڑا میں رہتا ہے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک گاڑی کے ڈرائیور نے باپ سے ذاتی دشمنی پر اس کے بچوں کو گاڑی سےروندنے کی کوشش کی جس کی ویڈیو سی سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہوگئی۔

    بچوں کے باپ وریندر عرف سیتارام نے ملزم گووندا کیخلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے جس کے مطابق سیتارام کے 3 بچے جن میں شیوانی، سنیہا اور کرشنا گھر کے قریب مارکیٹ کیلئے جارہے تھے کہ جہاں ملزم گووندا نے ان پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی حادثے میں تینوں بچے شدید زخمی ہوئے ہیں جو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    برطانیہ نے آئندہ مالی سال 2024-25 کیلئے پاکستان کی مالی امداد تین گنا بڑھا دی

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایک اور ویڈیو بھی منظر عام پر آئی جس میں گووندا بچوں کو گاڑی سے ٹکر مارنے کے بعد بھاگ رہا ہے تاہم موقع پر موجود لوگوں نے گووندا کو پکڑ لیا پولیس نے گووندا کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ملزم کیخلاف مزید قانونی کارروائی کی جارہی ہے-

    پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے ایک ٹویٹ میں لکھنؤ پولیس نے کہا کہ پولیس اسٹیشن ملیح آباد میں الزامات درج کر لیے گئے ہیں، ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد پیشگی قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

    سعودی ولی عہد اور ترک صدر کے درمیان باضابطہ بات چیت،کئی دو طرفہ معاہدوں پر …

  • مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی اپنے معاصرین میں اپنی شاعری کے نئے رنگوں اور دکھ درد کی بے شمار صورتوں میں لپٹی ہوئی زندگی کے سبب سب سے الگ نظر آتے ہیں۔ یگانہ کا نام مرزا واجد حسین تھا پہلے یاس تخلص کرتے تھے بعد میں یگانہ تخلص اختیار کیا۔ ان کی پیدائش 17 اکتوبر 1884ء کو محلہ مغلپورہ عظیم آباد میں ہوئی۔

    1903 میں کلکتہ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ تنگیِ حالات کے سبب تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے۔ 1904ء میں واجد علی شاہ کے نواسے شہزادہ میرزا محمد مقمیم بہادر کے انگریزی کے اتالیق مقرر ہوئے۔ مگر یہاں کی آب وہوا یگانہ کو راس نہیں آئی اور وہ عظیم آباد لوٹ آئے۔

    عظیم آباد میں بھی ان کی بیماری کا سلسلہ جاری رہا اس لئے تبدیلی آب وہوا کے لئے 1905ء میں انھوں نے لکھنؤ کا رخ کیا۔ یہاں کی آب وہوا اور اس شہر کی رنگا رنگ دلچسپیوں نے یگانہ کو کچھ ایسا متأثر کیا کہ پھریہیں کے ہورہے، یہیں شادی کی اور یہیں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ تلاش معاش کیلئے لاہور اور حیدرآباد گئے بھی گئے لیکن لوٹ کر لکھنؤ ہی آئے۔

    ابتدائی کچھ برسوں تک تو یگانہ کے تعلقات لکھنؤ کے شعراء وادباء کے ساتھ خوشگوار رہے، انہیں مشاعروں میں بلایا جاتا اور یگانہ اپنی تہہ دار شاعری اور خوش الحانی کی بنا پر خوب داد وصول کرتے لیکن دھیرے دھیرے یگانہ کی مقبولیت لکھنوی شعراء کو کھلنے لگی۔ وہ یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی غیرلکھنوی لکھنؤ کے ادبی معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے۔ اس لیے یگانہ کے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں۔ ان کے لیے معاشی مشکلیں پیدا کی جانے لگیں۔ اس دشمنی کی انتہا تو اس وقت ہوئی جب یگا نہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کچھ ایسی رباعیاں کہہ دی تھیں جن کی وجہ سے سخت مذہبی خیالات رکھنے والوں کو تکلیف ہوئی۔

    اس موقع کا فائدہ اٹھا کریگانہ کے مخالفین نے ان کے خلاف ایسی فضا تیار کی کہ مذہبی جوش وجنون رکھنے والے یگانہ کو لکھنؤ کی گلیوں میں کھیچ لائے، چہرے پر سیاہی پوت کران کا جلوس نکالا اور طرح طرح کی غیرانسانی حرکتیں کیں۔لکھنؤ کے اس ادبی معاشرے میں یگانہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اس سوچ کے خلاف لڑنا تھا جس کے تحت کوئی فرد یا گروہ زبان وادب اور علم کو اپنی جاگیر سمجھنے لگتا ہے۔

    یگانہ کی شاعری کی داستان لکھنؤ میں کی جانے والی ایک ایسی شاعری کی داستان ہے جو وہاں کی گھسی پٹی اور روایتی شاعری کو رد کرکے فکر وخیال اور زبان کے نئے ذا ئقوں کو قائم کرنے کی طرف مائل تھی۔ لکھنؤ میں یگانہ کے معاصرین ایک خاص انداز اور ایک خاص روایت کی شاعری کی نقل اڑانے میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے یہاں نہ کوئی نیا خیال تھا اور نہ ہی زبان کا کوئی نیا ذائقہ وہ داغ و مصحفی کی بنائی ہوئی لکیروں پر چل رہے تھے۔

    لکھنؤ میں یگانہ کی آمد نے وہاں کے ادبی معاشرے میں ایک ہلچل سی پیدا کردی۔ یہ ہلچل صرف شاعری کی سطح پر ہی نہیں تھی بلکہ یگانہ نے اس وقت میں رائج بہت سے ادبی تصورات ومزعومات پر بھی ضرب لگائی اور ساتھ ہی لکھنو کے اہلِ زبان ہونے کے روایتی تصور کو بھی رد کیا۔ غالب کی شاعری پر یگا نہ کے سخت ترین اعتراضات بھی اس وقت کے ادبی ماحول میں حد سے بڑھی ہوئی غالب پرستی کا نتیجہ تھے۔

    یگانہ کی شاعری آپ پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ وہ زبان اور خیالات کی سطح پر شاعری کو کن نئے تجربوں سے گزار رہے تھے۔ یگانہ نے بیسوی صدی کے تمام تر تہذیبی، سماجی اور فرد کے اپنے داخلی مسائل کوجس انداز میں چھوا اور ایک بڑے سیاق میں جس طور پرغزل کا حصہ بنایا، اس طرح ان کے عہد کے کسی اور شاعرکے یہاں نظر نہیں آتا۔ یہی تجربات آگے چل کر جدید اردو غزل کا پیش خیمہ بنے۔

    یگانہ کی کتابیں : شعری مجموعے : نشتر یاس، آیات وجدانی، ترانہ، گنجینہ۔ دیگر : چراغ سخن، غالب شکن۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
    مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

    کشش لکھنؤ ارے توبہ
    پھر وہی ہم وہی امین آباد

    درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے
    وہم کی کیا دوا کرے کوئی

    کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی
    کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

    موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی
    لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

    واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا
    یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

    سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
    سر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا

    خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
    خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا

    وہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ
    مگر لازم نہیں ہر ایک پر یکساں اثر ہونا

    خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گا
    گرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پر

    دیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے
    آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجئے

    پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
    اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

    شربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل
    غم کھاتے کھاتے منہ کا مزہ تک بگڑ گیا
    جیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہو
    کس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے

    پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا
    خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا

    بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا
    خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

    کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
    دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی

    پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکش
    اب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا

    غالب اور میرزا یگانہؔ کا
    آج کیا فیصلہ کرے کوئی

    مفلسی میں مزاج شاہانہ
    کس مرض کی دوا کرے کوئی

    کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہو
    دل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیں

    نہ دین کے ہوئے محسن ہم اور نہ دنیا کے
    بتوں سے ہم نہ ملے اور ہمیں خدا نہ ملا

    مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
    پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

    جھانکنے تاکنے کا وقت گیا
    اب وہ ہم ہیں نہ وہ زمانہ ہے

    پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
    اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا

    آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے
    کل کی ہے بات کہ آباد تھے دیوانوں سے

    خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں
    خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

    صبر کرنا سخت مشکل ہے تڑپنا سہل ہے
    اپنے بس کا کام کر لیتا ہوں آساں دیکھ کر

    دیر و حرم بھی ڈھ گئے جب دل نہیں رہا
    سب دیکھتے ہی دیکھتے ویرانہ ہو گیا

    مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
    بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا

    باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آ
    ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے

    دور سے دیکھنے کا یاسؔ گنہ گار ہوں میں
    آشنا تک نہ ہوئے لب کبھی پیمانے سے

    دنیا کے ساتھ دین کی بیگار الاماں
    انسان آدمی نہ ہوا جانور ہوا

    مرتے دم تک تری تلوار کا دم بھرتے رہے
    حق ادا ہو نہ سکا پھر بھی وفاداروں سے

    نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس
    بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے

    دنیا سے یاسؔ جانے کو جی چاہتا نہیں
    اللہ رے حسن گلشن ناپائیدار کا

    رنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے
    پھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا

    کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
    اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے

    حسن ذاتی بھی چھپائے سے کہیں چھپتا ہے
    سات پردوں سے عیاں شاہد معنی ہوگا

    یگانہؔ وہی فاتح لکھنؤ ہیں
    دل سنگ و آہن میں گھر کرنے والے

    پردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ
    سچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے

    ساقی میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق
    عرش بریں میں اور ترے آستانے میں

    فردا کو دور ہی سے ہمارا سلام ہے
    دل اپنا شام ہی سے چراغ سحر ہوا

    یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبار
    مہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گا

    ہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ
    بیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا

    بے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریں
    کہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے

    یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
    یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں

    امتیاز صورت و معنی سے بیگانہ ہوا
    آئنے کو آئنہ حیراں کو حیراں دیکھ کر

  • اسلحہ ڈیلر نے فیس بک لائیو آکر خودکشی کر لی

    اسلحہ ڈیلر نے فیس بک لائیو آکر خودکشی کر لی

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں اسلحے کے ایک ڈیلر نے فیس بک پر لائیو آکر خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق فیس بک لائیو آکر خودکشی کرنے والے شخص نند لال گپتا کی اترپردیش میں اسٹیشن ملگودام روڈ پر اسلحہ کی دکان تھی فیس بک پر نند لال گپتا نے کہا کہ قرض لوٹانے کے باوجود کچھ افراد ہراساں کر رہے ہیں۔

    ہمسائےملک میں کثیرمنزلہ عمارت میں بھیانک آگ،15 افراد جل گئے

    پولیس ذرائع نے بتایا کہ اسٹیشن روڈ کے رہنے والے نند لال گپتا کا اسی علاقے میں گن ہاؤس تھا فیس بک لائیو پر خودکشی کرنے سے قبل 45 سالہ نند لال گپتا نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی سے اہل خانہ کی کفالت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت تنگ آکر زندگی کا خاتمہ کر رہا ہوں۔

    سوشل میڈیا صارفین نے فیس بک لائیو پوسٹ پر کمنٹس میں اسلحہ ڈیلر کو خودکشی کرنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن نند لال گپتا نے خود کو گولی مارلی۔ انھیں اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

    معروف بزنس مین محمد لاکھانی کی گاڑی پر فائرنگ

    پولیس نے لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے بھجوا دی،اے ایس پی درگا پرساد تیواری نے بتایا کہ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے خاندان کی جانب سے درخواست جمع کرانے کے بعد قانونی کاروائی کی جائے گی،سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے گا جبکہ فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر رہی ہیں،رپورٹ کے مطابق کاروائی کی جائے گی-

    پشاور دھماکا:صوبے میں ایک روزہ سوگ ،قومی پرچم سرنگوں

  • اردو زبان کی معروف شاعرہ عائشہ ایوب

    اردو زبان کی معروف شاعرہ عائشہ ایوب

    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا
    اور وہ مجھ میں اپنا قصہ چھوڑ گیا

    عائشہ ایوب نئی نسل کی شاعرات میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ آپ 18 جنوری 1983ء کو ممبئی میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم ممبئی اور سعودی عرب میں حاصل کی۔ فی الحال کئی سال سے لکھنؤ میں مقیم ہیں اورمختلف ادبی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ رہ کر اپنی خدمات انجام دے رہی رہیں۔ اردو شاعری سے شغف آپ کو بچپن ہی سے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے” مخاطب فاؤنڈیشن ” کی بنیاد ڈالی اور اس کے ذریعے اردو کو فروغ دینے میں پیش پیش رہتی ہیں۔

    جہاں تک آپ کی شاعری کا تعلق ہے آپ نے اپنے تجربات اور احساسات کو خوبصورت انداز میں شعری پیراہن میں ڈھال کر اظہار کے وسیلے کو احساس کی گرمی سے مالامال کیا اور اپنی آزاد و پابند شاعری میں احتجاج کے لہجے کے ساتھ نسائی احساسات و جذبات کو بھی خوبصورتی کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    عجلت میں وہ دیکھو کیا کیا چھوڑ گیا
    اپنی باتیں اپنا چہرہ چھوڑ گیا
    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا
    اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا
    خواب زدہ تھا باتیں کرتا رہتا تھا
    رونے والوں کو بھی ہنستا چھوڑ گیا
    دل کے اک کونے میں آہیں رکھی ہیں
    جانے والا اپنا حصہ چھوڑ گیا
    جتنی یادیں لے کے ہم کو مرنا تھا
    اتنی سانسیں دے کے زندہ چھوڑ گیا
    دیواروں سے لگ کے رو لیتے ہوں گے
    جن کو ان کا سایا تنہا چھوڑ گیا
    کمرے سے جس دن اس کی تصویر ہٹی
    آئینے نے دیکھ کے پوچھا چھوڑ گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اگر وہ خود ہی بچھڑ جانے کی دعا کرے گا
    تو اس سے بڑھ کے مرے ساتھ کوئی کیا کرے گا
    سنا ہے آج وہ مرہم پہ چوٹ رکھے گا
    مجھی سے مجھ کو بھلانے کا مشورہ کرے گا
    ترس رہی ہیں یہ آنکھیں اس ایک منظر کو
    جہاں سے لوٹ کے آنے کا دکھ ہوا کرے گا
    اگر یہ پھول ہے میری بلا سے مرجھائے
    اگر یہ زخم ہے مالک اسے ہرا کرے گا
    میں جانتی ہوں کہ جتنا خفا بھی ہو جائے
    وہ میرے شہر میں آیا تو رابطہ کرے گا
    میں اس سے اور محبت سے پیش آؤں گی
    جو میرے حق میں کوئی عائشہؔ برا کرے گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تم سے آتا نہیں جدا ہونا
    تم مری آخری سزا ہونا
    جس کو تم روز دکھ ہی جاتے ہو
    اس کی قسمت ہے آئنہ ہونا
    اس کے ہونے کی یہ گواہی ہے
    ان درختوں کا یوں ہرا ہونا
    کتنا مشکل ہے بچپنا اب تو
    کتنا آسان تھا بڑا ہونا
    میں تو حل ہوں کسی کی مشکل کا
    مجھ کو آیا نہ مسئلہ ہونا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے
    بہت سا غم اکٹھا کر لیا ہے
    ہمیں ہم سے بچانے کون آتا
    سو اب خود سے کنارہ کر لیا ہے
    مری تنہائی کا عالم تو دیکھو
    زمانے بھر کو یکجا کر لیا ہے
    تجھے جانے کی جلدی تھی سو خود سے
    ترے حصے کا شکوہ کر لیا ہے
    نہیں مانگیں گے تجھ کو اب دعا میں
    خدا سے ہم نے جھگڑا کر لیا ہے
    ترستے ہیں جسے ملنے کی خاطر
    اسی کو اپنی دنیا کر لیا ہے
    وہ کیا ہے عشق ہم نے اب کی جاناں
    تکلف میں زیادہ کر لیا ہے
    اندھیروں میں تو رکھتے ہی تھے خود کو
    اجالوں میں بھی تنہا کر لیا ہے
    کھلے پنجرے میں بھی جس کو ہے وحشت
    یہ دل ایسا پرندہ کر لیا ہے

  • بھارت: یوپی میں تہواروں سے قبل مذہبی مقامات سے 11000 لاؤڈاسپیکر اتار دیئے گئے

    بھارت: یوپی میں تہواروں سے قبل مذہبی مقامات سے 11000 لاؤڈاسپیکر اتار دیئے گئے

    لکھنو: یوپی میں مذہبی مقامات سے 11000 لاؤڈاسپیکر اتار دیئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق عید، اکشے ترتیا اور دیگر تہواروں سے پہلے لاؤڈ اسپیکر کے خلاف مہم شروع ہو گئی ہے یہ مہم یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کے حکم کے بعد شروع کی گئی ہے ، کہ کسی کو مذہبی تقریبات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ہندو انتہاپسندوں کا خوف: دلت نوجوان پولیس حصار میں دلہن بیاہنے پہنچ گیا

    یوپی پولیس کے اے ڈی جی لاء آرڈر پرشانت کمار نے کہا کہ مذہب کی آڑ میں انتشار پھیلانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا لوگ اب میرٹھ میں بھی مہم کرنے کے لیے تیار تھے۔ ہم نے اجازت نہیں دی، متھرا میں بھی ایسی کوشش ہو رہی تھی، ہم نے روک دیا۔

    رپورٹ کے مطابق یوپی کے علاقے سیتا پور، رائے بریلی، سہارنپور میں مندر اور مسجد دونوں سے لاؤڈ سپیکر ہٹائے جا رہے ہیں۔ پولیس کے کہنے پر الہ آباد کے مشہور ہنومان مندر کے لاؤڈ سپیکر کی آواز کم کر دی گئی اور الہ آباد کی جامع مسجد کے لاؤڈ سپیکر کو اتار دیا گیا ہے۔

    بھارت کی معروف سماجی کارکن وموٹیویشنل اسپیکرسبری مالا نے اسلام قبول کرلیا

    بھارتی میڈیا کے مطابق صدر مسجد کمیٹی الہ آباد مولانا جاوید عارفی نے کہا کہ انتظامیہ نے سب کیا، ہم ساتھ ہیں۔ ہم نے لاؤڈ سپیکر کو بھی کم کر دیا ہے اور ہٹا دیا بھی ہے نئی گائیڈ لائن کے مطابق کام کرنا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق مذہبی مقامات سے 11,000 لاؤڈ اسپیکر ہٹائے گئےہیں جب کہ 35,000 کی آواز کم کی گئی ہے.

    واضح ہوکہ یوپی میں لاؤڈ اسپیکر کے خلاف مہم اس وقت شروع ہوئی جب چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے عہدیداروں سے کہا کہ ہر کسی کو اپنے مذہبی نظریے کے مطابق عبادت کے طریقہ کار پر عمل کرنے کی آزادی ہے لیکن لوگوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ایسا کرنے سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔

    بی جے پی نے دہلی کے 40 گاؤں کے مسلم نام تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا لیا