Baaghi TV

Tag: لیاقت علی خان قائد ملت

  • ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

    ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی قیادت میں لیاقت علی خان کی 73 ویں یوم شہادت کے موقع پر مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی.

    ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے لیاقت علی خان کے تہترویں یومِ شہادت پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی کاس کہنا تھا کہلیاقت علی خان نے جان، مال اور اسباب وطن پر قربان کرکے تاریخ میں خود کو امر کیا، لیاقت علی خان کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں.لیاقت علی خان کے قتل کے محرکات سامنے نہ آنا المیہ ہے، ہمیں ترقی پسند پاکستان کے لیے لیاقت علی خان کے وژن پر عمل کرنا ہوگا، لیاقت علی خان کے نظریات سے اتحاد اور ترقی کا سبق لینا ہوگا، لیاقت علی خان کی جدوجہد آج بھی ہماری رہنمائی کا ذریعہ ہے.

    واضح رہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہیدِ ملّت لیاقت علی خان کی 73 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1896 کو ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر سے جبکہ 1918 میں ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کی. بعد ازاں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔1923 میں ہندوستان واپس آکر لیاقت علی خان نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا اور مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔وہ 1946 میں مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل بنے جبکہ قائد اعظم کے دست راست بھی رہے. قیام پاکستان کی جدوجہد میں بابائے قوم کا بھرپور ساتھ نبھایا۔1948 میں قائد اعظم کی وفات کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر قوم کے نگہبان بنے۔16اکتوبر 1951 کو ایک جلسے کے دوران قائدِ اعظم کے معتمد اور نہایت قریبی ساتھی اور ملک کے پہلے وزیرِاعظم کو شہید کردیا گیا تھا۔

    ایس سی او اجلاس،پاکستان کا اعزاز،تجاویز منظورکی گئیں،اسحاق ڈار

    سندھ میں میٹرک اور انٹر میں گریڈنگ پالیسی متعارف

  • یکم اکتوبر تاریخ کے آئینے میں‌ ، آج شہیدِ ملت لیاقت علی خان کا یوم پیدائش منایا جارہا ہے

    یکم اکتوبر تاریخ کے آئینے میں‌ ، آج شہیدِ ملت لیاقت علی خان کا یوم پیدائش منایا جارہا ہے

    کراچی: یکم اکتوبر تاریخ کے آئینے میں‌،آج شہیدِ ملت لیاقت علی خان کا یوم پیدائش منایا جارہا ہے،پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم شہید ملت لیاقت علی خان کا آج 124واں یوم پیدائش ہے۔قائد ملت یکم اکتوبر اٹھارہ سو پچانوے کو بھارتی پنجاب کے گاؤں کرنال میں پیدا ہوئے ،

    قائد ملت کی تاریخ زندگی کچھ یوں ہے کہ لیاقت علی خان یکم اکتوبر1895 کو بھارتی پنجاب کے گاؤں کرنال میں پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علاوہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ چلے گئے۔

    برطانیہ سے واپسی پر سن 1923 میں ہندوستان واپس آتے ہی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی، لیاقت علی خان اپنی خداداد صلاحیتوں کے باعث جلد ہی قائداعظم کے قریب ہوگئے اور تحریک پاکستان کے دوران ہر اہم سیاسی معاملے میں قائداعظم کی معاونت کی۔

     

    1933 میں بیگم رعنا لیاقت علی خان سےشادی ہوگئی ، قائد ملت لیاقت علی خان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہےکہ وہ برٹش حکومت کی عبوری حکومت کے پہلے وزیرِ خزانہ بھی منتخب ہوئے، قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم کا اعزاز بھی لیاقت علی خان کے حصے میں آیا ، لیاقت علی خان کی نامزدگی کسی شرپسند کو برداشت نہ ہوسکی یوں مملکت خداداد پاکستان کے خلاف سازشیں ابتدا میں ہی شروع ہو گئی تھیں۔

    “21 افراد ہلاک 50 زخمی ، ہندو یاتری بس حادثہ کا شکارہوگئے ، ہر طرف خون ہی خون” لاک ہے

    21 افراد ہلاک 50 زخمی ، ہندو یاتری بس حادثہ کا شکارہوگئے ، ہر طرف خون ہی خون

    قائد ملت لیاقت علی خان کے حوالے سے اکتوبر کا مہینہ بہت اہم ہے ، اسی مہینے کی یکم تاریخ‌کو پیدا ہوائے اور اسی اکتوبر کی16 تاریخ کو 1951 میں لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں ایک جلسے کے دوران خطاب کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔

    “کمال سفارتکاری ، کرتارپورراہداری ، من موہن سنگھ کی پاکستان آنے کی ہے اب باری” لاک ہے

    کمال سفارتکاری ، کرتارپورراہداری ، من موہن سنگھ کی پاکستان آنے کی ہے اب باری

    تاریخ پاکستان بتاتی ہےکہ راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک جلسہ عام میں اس وقت پیش آیا، جب لیاقت علی خان خطاب کے لیے ڈائس پر پہنچے،اس دوران سید اکبر نامی شخص نے ان پر ریوالور سے گولیاں برسانا شروع کردیں،ان کے آخری الفاظ تھے “خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘، شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کو پولیس نے گولیوں سے اڑا دیا۔

    “جنگ نہ ہونے دیں گے—– از تحریر اٹل بہاری واجپائی ، سابق وزیراعظم کی جنگ نہ کرنے کی خواہش” لاک ہے

    جنگ نہ ہونے دیں گے—– از تحریر اٹل بہاری واجپائی ، سابق وزیراعظم کی جنگ نہ کرنے کی خواہش

    قائد ملت کی عظیم شہادت پر قوم بہت بڑے صدمے سے دوچار ہوگئی ، قوم نے اپنے اس عظیم رہنما کی یاد میں راولپنڈی کے کمپنی باغ کو ’’لیاقت باغ‘‘ کے نام سے منسوب کر دیا گیا، لیاقت علی خان کو کراچی میں مزار قائد کے احاطے میں دفن کیا گیا۔