Baaghi TV

Tag: لیبیا

  • پاکستان،لیبیا دفاعی معاہدہ  دو اہم پہلوؤں کا عکاس

    پاکستان،لیبیا دفاعی معاہدہ دو اہم پہلوؤں کا عکاس

    پاکستان نے لیبیا کے ساتھ روایتی اسلحہ اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی کے لیے ایک کثیر ارب ڈالر کا بڑا برآمدی معاہدہ طے کر لیا ہے، جسے دفاعی اور معاشی حلقوں میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کی دفاعی صنعت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ برآمدات پر مبنی، خود کفیل معیشت کے وژن کی عملی تعبیر بھی سمجھا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس بڑے دفاعی معاہدے سے دو بنیادی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ اول، یہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی معاشی پالیسیوں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے، جنہوں نے ملکی معیشت کو درآمدات کے بجائے برآمدات کے ذریعے مستحکم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی۔ دوم، یہ معاہدہ ایک جانب پاکستان کی اندرونی صنعتی اور تکنیکی مہارت کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور سپاہی سفارتکار مدبرانہ ریاستی بصیرت کی عکاسی کرتا ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنی مقامی صنعتی بنیاد کی ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ کان کنی اور معدنیات، مصنوعی ذہانت (AI)، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کرپٹو ٹیکنالوجیز، بڑے پیمانے کی صنعت کاری، زراعت اور جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں پیش رفت نے پاکستان کو خطے میں ایک ابھرتی ہوئی صنعتی طاقت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ انہی کوششوں کا عملی مظاہرہ حال ہی میں معرکہ حق دیکھنے میں آیا، جہاں پاکستان کی مقامی دفاعی مصنوعات کو ملکی و غیر ملکی ماہرین کی جانب سے بھرپور سراہا گیا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی کئی ممالک کو روایتی اسلحہ اور دفاعی سازوسامان فراہم کرتا رہا ہے، تاہم لیبیا کے ساتھ طے پانے والا یہ معاہدہ اپنے حجم، وسعت اور مالی اثرات کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کامیابی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی غیر معمولی عسکری سفارتکاری اور عالمی سطح پر مؤثر روابط کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    لیبیا پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے عائد اسلحہ پابندی کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے متعدد بڑے مغربی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک لیبیا کو اسلحہ اور عسکری سازوسامان فراہم کرتے آ رہے ہیں۔ اس تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ کاغذی طور پر پابندی موجود ہے، مگر عملی طور پر یہ مختلف وجوہات کی بنا پر غیر مؤثر رہی ہے، خصوصاً اس لیے کہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مختلف فریقین کے درمیان اسلحے کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے پاکستان نے باضابطہ طور پر خود کو روایتی اسلحہ اور دفاعی سازوسامان کے نمایاں عالمی برآمد کنندگان کے کلب میں شامل کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف ملکی معیشت کے لیے زرمبادلہ کے نئے ذرائع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کے دفاعی شعبے کو عالمی سطح پر مزید مستحکم مقام دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

  • پاکستان اور لیبیا کے درمیان 4.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور لیبیا کے درمیان 4.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور لیبیا کے درمیان 4.6 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں-

    دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں مبینہ طور پر 16 JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارے،12 سپر مشاق ٹرینر ہوائی جہاز، 44 حیدر مین جنگی ٹینک، جدید انفنٹری مارٹر سسٹم، 1 کثیر مقصدی بحری جہاز شامل ہیں،جبکہ لیبیا کی مسلح افواج کے لیے تربیت بھی معاہدے میں شامل ہیں-

    قبل ازیں چیف آف ڈیفنس فورسز ،آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر لیبیا کے سرکاری دورے کے دوران لیبیائی عرب مسلح افواج کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل خلیفہ بالقاسم حفتر اور لیبیائی عرب مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آمد پر لیبیائی مسلح افواج کے ایک چاک و چوبند دستے نے فیلڈ مارشل کو گارڈ آف آنر پیش کیا،فیلڈ مارشل اور خلیفہ حفتر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی و عسکری تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں اطراف نے تربیت، استعداد کار میں اضافے اور دہشت گردی کے خاتمے کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر لیبیا کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا،فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر نے پاک مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

  • لیبیا کے مسلح افواج کے کمانڈر کا جی ایچ کیو کا دورہ ،فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    لیبیا کے مسلح افواج کے کمانڈر کا جی ایچ کیو کا دورہ ،فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    لیبیا کے مسلح افواج کے کمانڈر نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ،ملاقات میں دفاعی صنعتی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ برائے تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لیبیائی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے ملاقات کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور دفاعی تعاون سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا،فریقین کے مابین جدید سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دفاعی صنعت میں تعاون اور تکنیکی مہارتوں کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔

    جی ایچ کیو آمد پر لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے یادگار شہداء پر پھول چڑھا کر پاک فوج کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    اسلا م میں جن واقعات پرسزائے موت ہے وہ قانون رہنا چاہیے،وزیر قانون

    کرائے کی عمارت میں چلنے والے سرکاری اسکول بند کرنے پر غور

    ڈیوو پاک موٹرز کا تعلیمی تعاون، بابا گورو نانک یونیورسٹی کو جدید مشینیں فراہم

  • لیبیا : تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے پاکستانیوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    لیبیا : تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے پاکستانیوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    لیبیا میں تارکین وطن کی ایک اور کشتی ڈوب گئی، حادثے میں گیارہ لاشیں نکال لی گئی ہیں-

    باغی ٹی وی: لیبیا میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے وزارت خارجہ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا کے مشرقی علاقے میں سیریت شہر کے قریب ہراوا کوسٹ میں کشتی کو حادثہ 12 اپریل کو پیش آیاحادثے کے مقام سے اب تک گیارہ لاشیں نکالی جاچکی ہیں جن میں سے چار پاکستانیوں کی ہیں۔

    پاکستانی سفارتخانے کی ایک ٹیم نے سیریت شہر کا دورہ کر کے واقعہ کی معلومات حاصل کیں اور قومی دستاویزات سے چار لاشوں کی پاکستانیوں کے طور پر شناخت کر لی ہے،ان میں سے تین کا تعلق منڈی بہاؤالدین اور ایک کا گوجرانوالہ سے ہے۔

    یو اے ای کا قانون سازی، عدالتی نظام اور انتظامی امور کو اے آئی سے مربوط کرنے کا فیصلہ

    رپورٹ کے مطابق زاہد محمود ولد لیاقت علی کا تعلق گوجرانوالہ جبکہ سمیر علی ولد راجہ عبدالقدیر، سید علی حسین ولد شفقت الحسنین اور آصف علی ولد نذر محمد کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے ہے اس کے علاوہ دو لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی، جبکہ پانچ نعشیں مصری شہریوں کی ہیں۔

    پی ایس ایل 10: لاہور قلندرز کے آصف آفریدی کونسا منفرد ریکارڈ بنانا چاہتے ہیں؟

  • لیبیا کشتی حادثہ : جاں بحق 6 پاکستانیوں کی میتیں وطن  پہنچ گئیں

    لیبیا کشتی حادثہ : جاں بحق 6 پاکستانیوں کی میتیں وطن پہنچ گئیں

    اسلام آباد: لیبیا کشتی حادثہ میں جاں بحق 6 پاکستانیوں کی میتیں وطن واپس پہنچ گئیں-

    باغی ٹی وی :وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس ریاض حسین پیرزادہ نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر میتیں وصول کیں،اس موقع پر انہوں نے کہا کہ افسوسناک حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں شریک ہیں، 5 فروری کو پیش آئے سانحے نے ملک کے کئی خاندانوں کو سوگ میں ڈالا، حکومت متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہر سطح پر کھڑی ہے۔

    وزیرہاؤسنگ نے کہا کہ تمام ضروری انتظامات کیے ہیں کہ متوفین کے جسد خاکی ان عزیزوں تک پہنچائے جا سکیں، باقی جاں بحق افراد کی میتیں بھی جلد وطن واپس لائیں گے، زندہ بچ جانے والے 37 پاکستانیوں کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں، یہ وقت سبق سکھاتا ہے کہ غیرقانونی ذرائع سے یورپ جانے کی کوشش کتنی خطرناک ہوسکتی ہے نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسے خطرناک را ستے اختیار نہ کریں اور قانونی ذرائع کے ذریعے ہی بیرون ملک جانے کی کوشش کریں ۔

    امریکا:ائیر پورٹ پر دو طیارے حادثے سے بال بال بچ گئے

    دفترخارجہ کے مطابق لیبیا میں کشتی ڈوبنے والوں میں 16 پاکستانی شامل تھے، 6 لاشوں کو آج لیبیا سے اسلام آباد منتقل کیا جائے گالیبیا کشتی حادثے میں پاراچنار کے 5 افراد کی میتیں آج لائی جائیں گی-

    سابق وفاقی وزیر اوورسیز ساجد حسین نے بتایا کہ لیبیا کشتی حادثے میں پاراچنار کے 5 افراد کی میتیں آج لائی جائیں گی، میتوں میں پاراچنار کے مصور حسین ، شعیب علی، عابد حسین، مصائب حسین اور ضلع اورکزئی سے تعلّق رکھنے والے محمد علی شاہ شامل ہیں، باقی میتیں بھی اسلام آباد سے پاراچنار لائی جائیں گی، پشاور سے میتیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پارا چنار لائیں جائیں گی۔

    وفاقی کابینہ میں توسیع، آج 10 سے 12 وزرا کےحلف اٹھانے کا امکان

    واضح رہے کہ 5 فروری کو لیبیا سے سمندر کے راستے اٹلی جانے والے کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا جس میں 26 پاکستانی جاں بحق ہوگئے تھے جن میں 16 کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ 10 تاحال لاپتہ ہے۔

  • لیبیا کشتی حادثہ:  زخمیوں میں 1 ہسپتال میں اور 33 پولیس کی تحویل میں ہیں،دفتر خارجہ

    لیبیا کشتی حادثہ: زخمیوں میں 1 ہسپتال میں اور 33 پولیس کی تحویل میں ہیں،دفتر خارجہ

    ‏لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی حادثے کا معاملے پر ترجما ن دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ ٹیم نے مقامی حکام اور زاویہ ہسپتال سے ملاقات کے بعد معلومات اکٹھی کر لیں ہیں-

    باغی ٹی وی : ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ لیبیا کے ساحل پر کشتی الٹنے کی خبر کے بعد طرابلس میں پاکستانی سفارتخانے کی ٹیم نے زاویہ شہر کا دورہ کیا ،پاکستانی سفارتخانہ ٹیم نے مقامی حکام اور زاویہ ہسپتال سے ملاقات کے بعد معلومات اکٹھی کر لیں،غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق کشتی میں 63 پاکستانی سوار تھے-

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اب تک 16 لاشیں نکالی جا چکی ہیں ،لاشوں کی پاکستانی شہریت کی بنیاد پر شناخت کی گئی ہے،حادثے میں 37 لوگ زندہ بچ گئے ہیں ،زخمیوں میں 1 ہسپتال میں اور 33 پولیس کی تحویل میں ہیں،اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں 10 کے قریب پاکستانی لاپتہ ہیں-

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق زندہ بچ جانے والوں میں سے تین طرابلس میں ہیں ،سفارت خانہ بچ جانے والوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے،طرابلس میں سفارت خانہ مزید معلومات اکٹھا کرنے اور مقامی حکام سے رابطہ برقرار رکھنے کے عمل میں ہے-

  • لیبیا:سیلاب کے بعد لاشیں نکالنے والی ٹیموں کا ہولناک سانحہ کا انکشاف

    لیبیا:سیلاب کے بعد لاشیں نکالنے والی ٹیموں کا ہولناک سانحہ کا انکشاف

    لیبیا میں سیلاب کے بعد لاشیں نکالنے والی غیر ملکی امدادی ٹیموں کے متعدد غوطہ خوروں نے لیبیا کے شہر درنہ کی بندرگاہ پر ایک ہولناک سانحہ کا انکشاف کیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق لیبیا میں آنے والے بدترین سیلاب کی تباہ کاریاں تاحال جاری ہیں اور ایک ہفتے بعد بھی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے اقوام متحدہ لیبیا میں 11 ہزار 300 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کرچکی ہے اور سیلاب سے متاثرہ لیبیا کے شہر درنہ میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے مطابق لیبیا میں 10 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ اور 40 ہزار بے گھر ہیں، ہلاکتوں کی تعداد میں آنے والے دنوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے سیلاب سے متاثرہ لیبیا کو اقوام متحدہ، یورپ، مشرقی وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے امداد پہنچائی جا رہی ہے۔

    نامورمیڈیا گروپ کا مالک جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی اور منی لانڈرنگ میں ملوث،7 ارب روپے برآمد

    دوسری جانب لیبیا کے میڈیا کے مطابق ریسکیو غوطہ خوروں نے تصدیق کی ہے کہ بڑی تعداد میں لاشیں درنہ کی بندر گاہ میں 12 میٹر کی گہرائی میں پھنسی ہوئی ہیں اور ان میں سے کچھ "اپنی گاڑیوں کے اندر” ہیں اس سے طوفان کے اچانک اور تباہ کن ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، لاشوں کی بھیانک حالت بتاتی ہے کہ پانی کی تباہی کی رفتار کے باعث سوار اپنی کاریں بھی نہیں چھوڑ سکے۔

    لیبیا کے اٹارنی جنرل الصدیق الصور نے درنہ ڈیموں کے ٹوٹنے کی تباہی کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا عزم کیا ہے جب کہ حکام نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو الگ تھلگ کرنے کے اقدامات کا انکشاف کیا ہے، تحقیقات دونوں ڈیموں کی دیکھ بھال کے لیے مختص کیے گئے۔

    جیمز ٹیلی اسکوپ نےستارے کی پیدائش کیمرے میں محفوظ کرلی

    دریں اثناء لیبیا کے نامزد وزیر اعظم اسامہ حماد نے کہا کہ حکام احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن میں درنہ کے متاثرہ علاقوں کو باقی علاقوں سے الگ تھلگ کرنا شامل ہے۔

    بحیرہ روم کے طوفان "ڈینیل” کے نتیجے میں ہونے والی شدید بارشوں نے گذشتہ ہفتے کے شروع میں مشرقی لیبیا میں جان لیوا سیلاب اور طوفانی بارشوں کا باعث بنا۔ اس کےنتیجے میں دو ڈیم ٹوٹ گئے جو بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنا ہے۔

    بیرسٹر محمد علی سیف پی ٹی آئی کے وکلا پینل میں شامل

  • سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرگئی

    سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرگئی

    لیبیا کی ہلال احمر نے سیلاب متاثرین کی ایک خوفناک تعداد کے بارے میں بتایا ہے۔ ہلال احمر کے مطابق سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 11,000 سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ لاپتہ افراد کی تعداد تقریباً 20,000 تک پہنچ گئی ہے، لیبیا کی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ سیلاب سے تقریباً 2000 لاشیں سمندر میں بہہ گئیں۔

    جبکہ دریں اثنا لیبیا میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے جمعرات کے روز شہریوں اور امدادی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ مشرقی لیبیا کے شہر درنہ میں آنے والے سیلاب کے بعد جنگ کی دھماکا خیز باقیات کو پانی سے بھرے علاقوں میں نئے مقامات پر منتقل کرنے کے بعد محتاط رہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ جاری
    جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں بلکہ شمولیت ہے. چیئرمین سینیٹ
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    عالمی ادارے کے مطابق کمیٹی نے اپنے فیس بک پیج پر کہا کہ یہ معلوم ہے کہ درنہ جنگ کی دھماکا خیز باقیات سے آلودہ شہر ہے اور سیلاب کی وجہ سے باقیات کو ان کے سابقہ مقامات سے شہر بھر کے علاقوں میں منتقل کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ دھماکہ خیز مواد اب بھی خطرناک ہے اور شہریوں اور امدادی کارکنوں سے کہا کہ وہ محتاط رہیں اور مشکوک جگہوں پر نشانیاں لگائیں تاکہ دوسروں کو خبردار کیا جا سکے اور حکام کو مطلع کیا جا سکے۔

  • لیبیا میں طوفان سے تباہی،ہلاکتیں 20 ہزار ہونے کا خدشہ

    لیبیا میں طوفان سے تباہی،ہلاکتیں 20 ہزار ہونے کا خدشہ

    لیبیا میں آنے والے سیلاب نے ہر جانب تباہی مچائی ہوئی ہے، اہم شہر درنا کا چوتھائی حصہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے، سیلابی ریلے میں ہزاروں افراد بہہ چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی: بحیرہ روم سے متصل ایک شہر کی جانب آنے والے پانی کے بہاؤ نے تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں شہر کے ڈیم ٹوٹ گئے، کثیر المنزلہ عمارتیں منہدم ہوگئیں، ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں،درنا شہر کے میئر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے اضلاع کی تعداد کی بنیاد پر شہر میں ہلاکتوں کی تخمینہ تعداد 18ہزار سے 20ہزار کے درمیان ہوسکتی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق ہلاکتیں 8 ہزار تک جا پہنچی ہیں ، سیلاب کے بعد سے 10 ہزار سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں، سیلاب کے بعد ساحل اور شہر کی سڑکوں پر لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں لیبیا کی حکومت نے شمال مشرقی ساحلوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جبکہ عالمی تنظیموں سے امداد کی اپیل بھی کر دی ہے۔

    ویتنام کےدارالحکومت میں رہائشی اپارٹمنٹ میں آتشزدگی، بچوں سیمت 54 افراد ہلاک

    وزارت داخلہ کے ترجمان لیفٹیننٹ طارق الخراز نے بدھ کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بحیرہ روم کے شہر میں اب تک 3,840 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں سے 3,190 کی پہلے دن تدفین کی جاچکی ہے، ان میں 400 غیر ملکی تھے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق سوڈان اور مصر سے تھا۔

    مشرقی لیبیا میں ایوی ایشن کے وزیر ہچم ابو چکیوت نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اب تک 5,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ تعداد نمایاں طور پر بڑھنے کا امکان ہے اور یہ دوگنی بھی ہوسکتی ہے۔

    ملکی معیشت کی بہتری کیلئے آرمی چیف عاصم منیر کی کاوشوں کے بھارت میں بھی …

    حکام نے لاپتہ افراد کی تعداد 10 ہزار بتائی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے کہا کہ یہ تعداد کم از کم 5000 ہے سمندر کے کنارے کپڑے، کھلونے، فرنیچر، جوتے اور دیگر سامان بکھرا پڑا، جو گھر سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں-

  • لیبیا میں طوفان اورسیلاب سےاموات میں اضافہ،سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں

    لیبیا میں طوفان اورسیلاب سےاموات میں اضافہ،سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں

    لیبیا میں طوفان اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا رکھی ہے، جس کے نتیجے میں اموات کی تعداد 5 ہزار 200 ہوگئی، ان ہی حالات کے پیش نظرسڑکیں لاشوں سے بھر گئیں ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے، بڑی تعداد میں اموات ہونے کے ساتھ سیلابی ریلوں میں 10 ہزار افراد لاپتا ہوگئے ہیں طوفان اور سیلاب کی تباہی کے 36 گھنٹے بعد منگل کو ہی ساحلی شہر تک بیرونی امداد پہنچنا شروع ہوئی تھی سیلاب نے ڈیرنا تک رسائی کی کئی سڑکوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا۔

    مشرقی لیبیا کے وزیر صحت نے بتایا کہ ایک ہزار سے زیادہ لاشیں جمع کی گئیں، جن میں 700 لاشیں بھی شامل ہیں جنہیں اب تک دفنایا جا چکا ہےدیرنا کی ایمبولینس اتھارٹی نے موجودہ ہلاکتوں کی تعداد 2,300 بتائی ہے، دیرنا شہر کی متعدد کالونیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں، دیرنا اور قریبی علاقوں میں زیادہ تباہی ڈیم ٹوٹنے سے ہوئی۔

    چین میں سیلاب سے فارم سےدرجنوں مگر مچھ فرار،شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین

    یہ تباہی اتوار کی رات دیرنا اور مشرقی لیبیا کے دیگر حصوں میں ہوئی جیسے ہی طوفان نے ساحل کو ٹکرایا، دیرنا کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی اور محسوس کیا کہ شہر کے باہر ڈیم ٹوٹ چکے ہیں۔

    طوفان مشرقی لیبیا کے دیگر علاقوں سے ٹکرایا، جن میں بیدا قصبہ بھی شامل ہے۔حکومت کی جانب سے فیس بک پر شیئر کی گئی فوٹیج کے مطابق مرکزی اسپتال بیدا کا میڈیکل سینٹر سیلاب میں ڈوب گیا اور مریضوں کو وہاں سے نکالنا پڑا،جن دیگر قصبوں کو نقصان پہنچا ان میں سوسا، المرج اور شحط شامل ہیں۔ بن غازی اور مشرقی لیبیا کے دیگر مقامات پر سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے اور اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    لیبیا کے وزیر داخلہ عصام ابوزریبہ نے بتایا کہ سمندری طوفان کی تباہ کاریوں کے باعث حکومت نے بین الاقوامی اور مقامی ایجنسیوں سے فوری امداد کی اپیل کی ہے،سمندری طوفان کے باعث لیبیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کردی گئی ہیں۔