Baaghi TV

Tag: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی جی سی یونیورسٹی لاہور کے طلبہ سے ملاقات

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی جی سی یونیورسٹی لاہور کے طلبہ سے ملاقات

    ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں شرکت کی، جس میں آپریشن بنیان مرصوص (معرکہ حق) اور سیکیورٹی سے متعلق اہم قومی موضوعات پر گفتگو کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، اس خصوصی نشست میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کے آپریشن سندور کو ناکام بنانے اور آپریشن بنیان مرصوص میں حاصل کی گئی فتح کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے معرکہ حق کے دوران پاکستانی نوجوانوں کے جذبے، حب الوطنی اور قومی شعور کو سراہا اور کہا کہ قوم کے یہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں جو ہر محاذ پر اپنے وطن کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    نشست کے دوران طلبہ نے معاشرتی، قومی اور سیکیورٹی امور پر کھل کر سوالات کیے، جن کے جوابات ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیل سے دیے۔اختتامی لمحات میں طلبہ نے ملی نغمہ پیش کر کے پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو قومی اتحاد اور حب الوطنی کی بہترین عکاسی تھی۔ طلبہ نے اس نشست کو ایک مثبت اور رہنمائی سے بھرپور تجربہ قرار دیا اور مستقبل میں ایسی مزید ملاقاتوں کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

    اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا کرتارپور گردوارے کا دورہ

    ورلڈ یونیورسٹی گیمز 2025: جرمنی میں پاکستانی دستے کے 2 ایتھلیٹس لاپتا

    سوشل میڈیا اداروں سےدہشت گرد تنظیموں کے اکاؤنٹس فوری بندکرنے کا مطالبہ

  • بھارت نے پانی روکا تو ردعمل دہائیوں تک محسوس کیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت نے پانی روکا تو ردعمل دہائیوں تک محسوس کیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اس کا ردعمل اتنا سخت ہوگا کہ اس کے اثرات سالوں اور دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ”کوئی پاگل ہی 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا پانی روکنے کا سوچ سکتا ہے۔ بھارت میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ایسا اقدام کرے۔”انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے پہلے ہی بھارت کو دوٹوک مؤقف دے دیا گیا ہے، اور پاک فوج کو مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج سیاسی حکومت کے احکامات کی مکمل پاسداری کرتی ہے اور جنگ بندی کا احترام جاری رکھے گی، تاہم اگر خلاف ورزی کی گئی تو ردعمل فوری اور موقع پر دیا جائے گا۔جواب صرف ان ہی مقامات پر ہوگا جہاں سے خلاف ورزی کی گئی ہوگی۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے انکشاف کیا کہ بھارت کا جو چھٹا طیارہ حالیہ کارروائیوں میں گرا ہے، وہ میراج 2000 تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، چاہتے تو مزید کارروائی کر سکتے تھے، مگر ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ تمام پاکستانی فضائی اڈے مکمل طور پر فعال ہیں اور پاک فضائیہ کے پاس وہ صلاحیت موجود ہے کہ کسی بھی حملے کے بعد فوری ردعمل دے سکے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کی کشمیر پالیسی کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا ظلم و جبر اور کشمیر کو اندرونی مسئلہ بنانے کی کوشش دنیا نے رد کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک بھارت بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس خطے میں تنازع کی آگ بھڑکنے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔”

    بھارت کے خلاف کامیابی نواز شریف کی ہدایت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے: ایاز صادق

    پی ایس ایل 10: بارش کے باعث لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کا میچ 13 اوورز تک محدود

    غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، 214 گھنٹوں میں شہداء کی تعداد 125 ہوگئی

    افغان ٹرانزٹ پر ناجائز منافع خوری روکنے کے لیے 10 فیصد پروسیسنگ فیس عائد

    شاہد آفریدی کا لائن آف کنٹرول کا دورہ، کشمیری عوام اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

  • بھارت کا بیانیہ جھوٹا، پہلگام واقعے کا کوئی ثبوت نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت کا بیانیہ جھوٹا، پہلگام واقعے کا کوئی ثبوت نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان پاک افواج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انٹرنیشنل میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات عائد کیے، اور انہی الزامات کی بنیاد پر شہری علاقوں پر حملے کیے جن میں 33 بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی کے سینئر افسران کے ساتھ نیوز کانفرنس کرترے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلگام واقعے کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان پر سیاسی اور عسکری دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، مگر اس واقعے کے حوالے سے بھارت کا مؤقف ناقابلِ یقین، غیر منطقی اور ثبوت سے عاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ بھارتی زمین پر پیش آیا، جہاں سے سرحد کا فاصلہ 230 کلومیٹر ہے اور پولیس کی جائے وقوعہ پر موجودگی اور فوری ایف آئی آر کا اندراج انسانی طور پر ممکن نہیں تھا۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ واقعے کے صرف 10 منٹ بعد پولیس پہنچتی ہے، تفتیش مکمل کرتی ہے اور ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے، یہ سب کچھ ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعہ اتنا اچانک تھا تو بھارت نے اتنی جلدی الزام کیسے عائد کر دیا؟، انہوں نے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا ہینڈلز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے چند ہی منٹوں بعد پاکستان کو ملوث قرار دینا پہلے سے طے شدہ بیانیے کا حصہ ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے ماضی کے واقعات جیسے چتی سنگھ پورہ (2000) اور پلوامہ حملہ (2019) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی تاریخ رہی ہے کہ وہ دہشتگردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ بیانیہ نیا نہیں، ہر بار الیکشن یا داخلی سیاسی فائدے کے لیے بھارت پاکستان کو نشانہ بناتا ہے۔”انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اپنے سوشل میڈیا پر ہزاروں اکاؤنٹس بند کیے اور پاکستان کے بیانیے کو دبانے کے لیے ڈیجیٹل سنسرشپ کا سہارا لیا۔ ساتھ ہی، پاکستان نے شفاف تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن کی پیشکش کی، مگر بھارت نے اسے مسترد کر دیا۔

    پاکستان میں بھارتی مداخلت اور دہشتگردی

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان میں دہشتگردی کی حمایت کر رہا ہے بلکہ بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کو ہتھیار، تربیت اور فنڈنگ فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو اور جعفر ایکسپریس حملے کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ثبوت واضح ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے بھیجے گئے 100 سے زائد دہشتگرد پاکستان میں داخل ہوئے، جن میں سے 71 کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تمام کارروائی کا مقصد پاکستان میں انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں سے توجہ ہٹانا تھا۔

    6 اور 7 مئی کے حملے: 33 شہید، 62 زخمی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے جن میں 33 افراد شہید اور 62 زخمی ہوئے۔ شہداء میں 7 خواتین اور 5 بچے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے جنگی طیاروں نے حملے کیے، جن میں سے تین رافیل، ایک مگ 29 اور ایک ایس یو 30 طیارہ مار گرایا گیا۔ پاکستان نے صرف بھارتی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور شہری آبادی کو بچانے کے لیے انتہائی احتیاط سے کام لیا۔

    نتیجہ: سچ کو تسلیم کریں، الزام تراشی بند کریں

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ "ڈرامے بازی” بند کرے اور اگر واقعی کوئی ثبوت ہے تو وہ آزاد کمیشن کے سامنے پیش کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    مختلف شہروں میں بھارتی 77ڈرون سے 5 شہری شہید،22 زخمی

    مختلف شہروں میں بھارتی 77ڈرون سے 5 شہری شہید،22 زخمی

    لیپا میڈیکل سینٹر پر بھارتی بمباری، شہری زیرِ زمین بنکرز میں منتقل

    بھارتی میڈیا صحافت کے بجائے کارٹون نیٹ ورک لگتا ہے، شاہد آفریدی