Baaghi TV

Tag: لی مونڈے

  • بھارت کی جانب سے   ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    بھارت کی جانب سے ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    فرانس کے اخبار ’لی مونڈے‘ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی کو جنوبی ایشیا کے امن اور آبی سلامتی کے لیے ’خطرناک ترین موڑ‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو بڑے خطرے اورتشویش سے آگاہ کیا ہے۔

    پیر کو اخبار نے اپنی شائع شدہ ایک تفصیلی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا یہ آبی تنازع اب صرف ان 2 جوہری ممالک تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے بھیانک اثرات پورے خطے کے امن، معیشت اور ماحولیات پر مرتب ہو سکتے ہیں عالمی مبصرین اس رپورٹ کو خطے میں ابھرتے ہوئے ایک نئے بحران کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

    فرانسیسی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اپریل 2025 میں رونما ہونے والے ’پہلگام واقعے‘ کے بعد نئی دہلی نے اپنے رویے میں جارحانہ تبدیلی لائی اور پانی کو ایک سفارتی و سیاسی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ کوئی ایسا دستاویز نہیں جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کر سکے، اس تاریخی معاہدے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم صرف اور صرف دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) کی باہمی رضامندی اور دستخطوں سے ہی ممکن ہے عالمی ثالثی عدالت‘ کا مؤقف اس معاملے پر بالکل واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی مکمل طور پر مؤثر، قانونی اور نافذ العمل ہے اور کوئی بھی ملک بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر اس سے انحراف نہیں کر سکتا۔

    اخبار نے بھارتی ہٹ دھرمی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کو ’ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا‘ (پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار) فراہم نہ کرنا بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے بروقت سیلابی انتباہ جاری کرنا اور آبی خطرات کا مؤثر انتظام کرنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ستمبر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا تھا، جس کے تحت 3 مشرقی دریا بھارت اور 3 مغربی دریا پاکستان کو دیے گئے تھے۔ تاریخی طور پر یہ معاہدہ جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا، لیکن حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی تعمیر نے شدید قانونی اور تکنیکی تنازعات کھڑے کر دیے ہیں، جنہیں پاکستان اپنے آبی حقوق پر ڈاکہ تصور کرتا ہے۔

    فرانسیسی اخبار نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کسانوں اور مقامی آبادی پر پڑنے والے تباہ کن اثرات پر بھی روشنی ڈالی،رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی کے غیر متوقع اخراج یا بندش کے باعث اچانک آنے والے سیلابوں نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور زرعی زمینوں پر ریت کی موٹی تہیں جم جانے سے وہ بنجر ہو رہی ہیں خاص طور پر ’دریائے چناب‘ کے کناروں پر آباد ہزاروں خاندانوں کو اپنے مویشیوں، تیار فصلوں اور گھریلو املاک کے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے ایک بڑا انسانی اور معاشی المیہ جنم لے رہا ہے۔

    اخبار’لی مونڈے‘نے اس حساس معاملے پر پاکستان کے اصولی اور قانونی مؤقف کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام آباد نے واضح کر دیا ہے کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو ایک ‘سنگین اشتعال انگیزی’ اور جارحیت تصور کیا جائے گااخبار نے بھارتی سیاسی قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پانی جیسے اہم قدرتی وسیلے کو سیاست کی نذر کرنے کی بدترین مثال قرار دیا، جبکہ دوسری طرف پاکستان کی جانب سے بھارت کی ان دھمکیوں کو ‘واٹر ٹیررازم’ (آبی دہشت گردی) کا نام دیے جانے کے مؤقف کو بھی عالمی منظر نامے پر پیش کیا ہے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خدشات محض روایتی سیاسی بیان بازی نہیں ہیں، بلکہ یہ براہِ راست انسانی حقوق، زراعت، غذائی تحفظ اور ملک کی بقا سے جڑے ہوئے ہیں یہ حقیقت انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ زراعت اور آبپاشی کا پورا نظام دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر انحصار کرتا ہے چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس لیے ان دریاؤں کے پانی میں کوئی بھی غیر قانونی تبدیلی پوری ملکی معیشت کو زمین بوس کر سکتی ہے اور کروڑوں انسانوں کو قحط سالی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

    اس جیو پولیٹیکل تنازع کا ایک اور دلچسپ اور اہم رخ پیش کرتے ہوئے ’لی مونڈے‘ نے نشاندہی کی ہے کہ جو سلوک بھارت پاکستان کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے، خود بھارت کو بھی بعینہ اسی قسم کے خطرات کا سامنا ہے بھارت کو بالائی علاقے کے ملک چین کی جانب سے پانی کے دباؤ کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں اور اسے ’دریائے برہم پترا‘ کے حوالے سے بالکل وہی تشویش درپیش ہے جو پاکستان کو دریائے سندھ کے طاس کے بارے میں ہے اگر بھارت یکطرفہ اقدامات کی روایت قائم کرتا ہے، تو وہ چین کے ہاتھوں اپنے ہی جال میں پھنس سکتا ہے۔

    اخبار نے خبردار کیا ہے کہ آبی تنازع اب محض 2 ممالک کا دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ اب پوری علاقائی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام کا ایک بڑا معاملہ بن چکا ہے‘موسمیاتی تبدیلی’، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ اور دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کے دستیاب وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے ان حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سائنسی اور سفارتی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا شفاف اور بروقت تبادلہ ناگزیر ہے، ورنہ یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی آبی قوانین اور زیریں دھارے کے ممالک کے حقوق کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن نظیر قائم کر دیں گے عالمی سطح پر اب پانی کو جنگ، سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرنے کے پاکستانی مؤقف کو بھرپور توجہ اور تائید حاصل ہو رہی ہے۔