Baaghi TV

Tag: ماؤنٹ ایورسٹ

  • ماؤنٹ ایورسٹ  سر کرنیوالے لاپتہ کوہِ پیما کی باقیات 100 برس بعد مل گئیں

    ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنیوالے لاپتہ کوہِ پیما کی باقیات 100 برس بعد مل گئیں

    دنیا کی سب سے اونچی ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے والے لاپتہ کوہِ پیما کی باقیات 100 برس بعد مل گئیں،100 سال قبل لاپتہ سینڈی ارون سن 1924 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے نکلے تھے-

    باغی ٹی وی: سینڈی آئروائن کے ہمراہ ان کے ساتھی جارج میلر بھی لاپتہ ہوگئے تھےگزشتہ ماہ ماؤنٹ ایورسٹ ایک ڈاکومنٹری بنانے والی ٹیم کے ارکان کو برف میں چھپا ایک جوتا ملا، تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ ٹیم کو ملنے والا جوتا اور موزہ سینڈی آئروائن کا ہے آئروائن کے پاس کیمرہ تھا جس کی فلم ڈیولپ نہیں ہوسکی، محققین کا کہنا ہے کہ کیمرہ مل گیا تو معلوم ہوگا کہ کیا سینڈی نے چوٹی سرکرلی تھی؟تاہم اب ان کی نشانیاں تقریباً 100 سال بعد منظر عام پر آنے کے بعد اُن کے اہلخانہ نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سینڈی آئروائن کے خاندان نے پاؤں کی شناخت کے لیے اپنا ڈی این اے کا نمونہ دیا ہے جبکہ محققین کو یقین ہے کہ جوتے اور پاؤں آئروائن کے ہی ہیں کیونکہ اس میں آئروائن کے نام کا لیبل بھی لگا ہوا تھاآئروائن کے بھائی کی پڑپوتی جولی سمرز نے اس دریافت کو ”غیرمعمولی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا کہ وہ اپنے دادا چچا ”سینڈی“ کی کوئی نشانی ملنے کی امید چھوڑ چکے تھے۔

    واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے سر ایڈمنڈ نے 1953 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا، اگر سینڈی آئروائن تصاویر میں ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر نظر آگئے تو یہ اعزاز ان کے نام ہوجائے گا۔

  • دنیا کی بلند ترین چوٹی  کی بلندی   میں مسلسل اضافہ

    دنیا کی بلند ترین چوٹی کی بلندی میں مسلسل اضافہ

    دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع چین کی جیو سائنسز یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی بڑھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، بلکہ کوہ ہمالیہ کے اس حصے میں چوٹیاں مسلسل اوپر کی جانب بڑھ رہی ہیں8849 میٹر بلند ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں اردگرد موجود دریاؤں میں آنے والے کٹاؤ کی وجہ سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہزاروں برسوں سے ایسے جغرافیائی عمل سے گزر رہی ہے جس کے باعث اس کی بلندی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے تحقیق کے لیے ماہرین نے کمپیوٹر ماڈلز تیار کیے گئے تھے جن کے ذریعے کوہ ہمالیہ میں بہنے والے دریاؤں کے ارتقا کی جانچ پڑتال کی گئی۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 89 ہزار سال قبل دریائے ارون Kosi دریائی سسٹم کا حصہ بن گیا اور وہ مشرق کی بجائے شمال کی جانب بہنے لگا دریا کے بہنے کے روٹ میں تبدیلی سے ایورسٹ کے قریب دریا میں کٹاؤ بڑھ گیا اور یہ زیادہ بھرنے لگااس وقت زیادہ مقدار میں اضافی پانی دریائے ارون میں بہنے لگا جس کے نتیجے میں تلچھٹ بڑھ گئی جبکہ تہہ میں موجود چٹانیں تیزی سے کٹاؤ کا شکار ہونے لگی اور وادی کی تہہ میں تبدیلیاں آئیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے زمین کی بیرونی پرت کا وزن گھٹ گیا اور اردگرد کی زمین اوپر کی جانب بڑھنے لگی اس کے باعث ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں ہر سال 0.16 ملی میٹر سے 0.53 ملی میٹر کا اضافہ ہوا، یہاں تک کے اس کے اردگرد موجود چوٹیوں کی بلندی بھی بڑھی، چوٹیوں کے بلند ہونے کا یہ عمل ہمیشہ جاری نہیں رہے گا، بلکہ یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دریائی نظام کا توازن دوبارہ تبدیل نہیں ہو جاتا۔

  • ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    امریکی یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہاڑوں پر جمی برف میں انسان کے کھانسنے اور چھینکنے کے جراثیم صدیوں تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی:"ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی یونیورسٹی آف کولاراڈو کے محققین نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے حاصل کردہ مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کیا جس میں انسانوں سے وابستہ جراثیم پائے گئے۔

    پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود …

    ماضی میں محققین نے زمین پر سرد ترین علاقوں میں مٹی کا مطالعہ کیا لیکن اس میں انسانوں سےوابستہ جراثیم کی تعداد نہ ہونے کے برابر پائی گئی اب آرکٹک، انٹارکٹک، اور الپائن ریسرچ میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں امریکی ٹیم نے جدید ترین جین ترتیب دینے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مٹی کا تجزیہ کیانیہ مٹی کے نمونے 2019 میں ایورسٹ مہم کےدوران ماؤنٹ ایورسٹ کےساؤتھ کول سے جمع کیے گئے تھے۔

    ساؤتھ کول ماؤنٹ ایورسٹ اور لوٹسے چوٹی کے درمیان ایک چٹانی فاصلہ ہے،جو کوہ پیماؤں کے لیے دنیا کے بلند ترین پہاڑ پر اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے آخری اسٹاپ ہے۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی کے نمونوں میں ملنے والے یہ جراثیم (Staphylococcus جو کہ فوڈ پوائزننگ اور نمونیا سے منسلک ہے) اور (Streptococcus جو گلے کی سوزش کا سبب بنتا ہے) کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    محقیقن کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی میں جو جراثیم پائےگئے ان میں سے زیادہ تر کو غیر فعال سمجھا جاتا تھا لیکن یہ برفانی حصے میں انسانی سرگرمیوں کے قریب کافی وقت سے محفوظ رہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل کردہ نتائج سے یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ دنیا سے باہر دوسرے منجمد سیاروں پر زندگی کے آثار موجود ہو سکتے ہے۔

    تحقیق میں معلوم ہوا کہ اس مٹی سے جو انسانی جراثیم پائے گئے وہ کوہ پیماؤں کے چھینکنے اور کھانسنے کی صورت میں وہاں محفوظ رہے۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری