Baaghi TV

Tag: ماحولیاتی تبدیلی

  • ماحولیاتی تبدیلی کجھور کی صعنت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے،سعید غنی

    ماحولیاتی تبدیلی کجھور کی صعنت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے،سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ دنیا بھر کو درپیش ہے، ماحولیاتی تبدیلی کجھور کی صعنت کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے-

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی،نے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقد ہونے والے دوسرے پاکستان انٹرنیشنل کجھور فیسٹول سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کیا اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کی،تقریب سے سی سی او ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی محمد فیض احمد، قونصل جنرل یو اے ای ڈاکٹر بخیت العتیق و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ کجھور فیسٹول کا افتتاح کرنا میرے لیے باعث افتخار ہے، کجھور فیسٹول ہمارے خلیجی ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کا ثبوت بھی ہے،سندھ کے کئی علاقوں میں بہترین کجھور پیدا کی جاتی ہے اور ہمارے یہاں کجھور سے بے شمار چیزیں بنائی جا رہی ہیں۔

    سعید غنی نے کہا کہ کجھور کی صعنت کو کئی مسائل کا سامنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کجھور کی صعنت کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، حکومت نے کجھور سے دیگر مصنوعات کے ریسرچ سینٹر بنائے ہیں کجھور فیسٹول کا مقصد دیگر ممالک میں کجھور کی ایکسپورٹ کو فروغ دینے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔

    پاکستان نے بھارت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، عطا اللہ تارڑ

    سعید غنی نے کہا کہ میں متحدہ عرب امارات حکومت، سفیر اور قونصل جنرل کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس فیسٹیول کے انعقاد سے سندھ اور پاکستان بھر کے کسانوں کو رابطے بڑھانے کے موقع فراہم کئے ہیں، جس سے پاکستان کے نہ صرف کاشتکاروں کو فائدہ ہو گا بلکہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بھی بڑھیں گے، سندھ حکومت اس ایکسپو کی معاونت کیلئے موجود ہے۔

    بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ دنیا بھر کو درپیش ہے مختلف بین الاقوامی ریسرچرز یہاں آئے ہوئے ہیں بین الاقوامی ماہرین سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے طریقہ ہائے کار سیکھیں گےپوری دنیا نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے اقوامِ متحدہ نے بھی اس کی مذمت کی ہے آج اسرائیل پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا ہے اب تمام مسلمان ممالک ممکنہ طور پر کوئی پالیسی مرتب کریں گے۔

    جرمنی:اسلام مخالف ریلی میں چاقو سے حملہ کرنے والے افغان شخص کو عمر قید کی سزا

  • بڑھتے درجہ حرارت سے عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے،ماہرین

    بڑھتے درجہ حرارت سے عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے،ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں 4 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوتا ہے تو ایک عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے، جو پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے ”Environmental Research Letters“ میں شائع تحقیق میں آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ عالمی حدت کے معیشت پر اثرات کو اب تک بہت کم اندازہ لگایا گیا تھا اس تحقیق کے مطابق، اگر درجہ حرارت میں 4 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوتا ہے تو ایک عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے، جو پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر درجہ حرارت میں صرف 2 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوتا ہے تو عالمی جی ڈی پی فی کس میں 16 فیصد کمی ہو سکتی ہے، جو پہلے کے 1.4 فیصد کے تخمینے سے کہیں زیادہ ہے،یہ تحقیق اقتصادی ماڈلز میں ایک اہم خامی کی نشاند ہی کرتی ہے جو عالمی ماحولیاتی پالیسی کی بنیاد ہے اور اس سے کاربن کے سابقہ معیارات پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

    پنجاب پولیس کی خاتون افسر نے عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا

    تحقیق کے مطابق اگر تمام ممالک اپنے قریبی اور طویل مدتی ماحولیاتی اہداف حاصل بھی کر لیتے ہیں، تب بھی عالمی درجہ حرارت میں 2.1 ڈگری سیلسیس تک اضافہ متوقع ہے یہ خطرناک پیش گوئیاں عالمی اقتصادی استحکام اور دنیا بھر میں افراد کی دولت پر موسمیاتی تبدیلیو ں کے سنگین اثرات کو اجاگر کرتی ہیں۔

    نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈی پٹ مین، جو تحقیق کے شریک مصنف بھی ہیں، انہوں نے ”دی گارڈین“ سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب معاملہ شدت اختیار کرتا ہے تو اصل نقصان سامنے آتا ہے، یہ صرف اوسط درجہ حرارت کی بات نہیں ہے ممالک کو اپنی اقتصادی کمزوریوں کا درست اندازہ لگانے اور اخراج کو کم کرنے کے لیے، اقتصادی ماڈلز کو موسمیاتی شدت اور اس کے سپلائی چینز پر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ازسر نو مرتب کرنا ہوگا۔

    عامر خان کی سابقہ دونوں اہلیہ کی ایک ساتھ عید منانے کی تصاویر وائرل

    کچھ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ عالمی حدت کے اثرات جزوی طور پر کچھ ٹھنڈے علاقوں، جیسے کہ کینیڈا، روس اور شمالی یورپ میں فائدہ پہنچا سکتے ہیں لیکن ماہر نیل کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت کے ذریعے تمام معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، لہٰذا اس کا نقصان ہر ملک کو ہوگا۔

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ماحولیاتی پالیسی کے ماہر پروفیسر فرینک جوزو، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ معیاری ماڈلز فرض کرتے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے کسی علاقے میں زراعت ممکن نہیں رہے گی، تو دنیا کے کسی دوسرے حصے میں اس کی پیداوار میں اضافہ ہو جائے گا۔

    سیف علی خان حملہ کیس،ملزم کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ماڈلز یہ تاثر دیتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں عالمی معیشت پر کوئی بڑا اثر نہیں ڈالیں گی، جو کہ حقیقت میں فزیکل امپیکٹ سائنس اور اقتصادی باہمی انحصار کی بہتر تفہیم کے برخلاف ہےیہ تحقیق دنیا بھر کے ممالک کو خبردار کر رہی ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اقتصادی اثرات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنے ماحولیاتی اہداف پر فوری عمل کریں۔

  • موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے ایک آزاد اور مضبوط عدلیہ کی ضرورت ہے،جسٹس منصور

    موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے ایک آزاد اور مضبوط عدلیہ کی ضرورت ہے،جسٹس منصور

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہےپاکستان دنیا کے پانچ ممالک میں شامل ہے جنہیں موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی : کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ”بریتھ پاکستان“ کے عنوان سے منعقدہ عالمی موسمیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تباہی کے تناظر میں فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے اور دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمی حالات، گلیشیئرز کے پگھلاؤ، پانی کی قلت اور تباہ کن سیلابوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قدرتی آفت نے ملک کے ایک تہائی حصے کو ڈبو دیا تھا، جس کے نتیجے میں 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور پاکستان کو 30 ارب ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا شدید گرمی کی لہر، خشک سالی اور جیکب آباد جیسےعلاقوں میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت بعض مقامات کو ناقابل رہائش بنا رہے ہیں موسمیاتی تبدیلی کے باعث صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں، جبکہ توانائی اور پانی کے وسائل پر بھی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کلائمیٹ چینج ایک بڑا چیلنج ہے، صو بو ں کو ان کا شئیر دینا چاہیے، علی امین گنڈا پور

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ہندوکش و ہمالیہ کے گلیشئیر پر انحصار کرتا ہے یہ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں ملک کو پانی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے دریائے سندھ اور ملکی زرعی نظام کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ملک کو فوڈ ان سیکیورٹی، خشک سالی، ہیٹ ویوو کا سامنا ہے ہمیں کلائمیٹ جسٹس پر کام کرنا ہوگا، موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لئے ایک آزاد عدلیہ اور مضبوط عدلیہ کی ضرورت ہے، کلائمیٹ فائنانس اور کلائمیٹ سائنس کی ضرورت ہے، مقامی سطح پر موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے، کلائمیٹ کورٹ کی بہت ضرورت ہے۔

    چیمپیئنز ٹرافی 2025 :آسٹریلیا کے بڑے کھلاڑی ٹورنامنٹ سے باہر

    جسٹس منصور کا کہنا تھا کہ آلودگی پھیلانے والے بارڈر سے باہر بھی بیٹھے ہیں، کلائمیٹ جسٹس کو ایک وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کلائمیٹ جسٹس میں کمیشن نئی چیز ہے، قرآن پاک میں بھی ماحولیاتی تحفظ کا درس دیا گیا ہےاسلام اصراف سے منع کرتا ہے کلائمیٹ چینج عدالت کا بھی مسئلہ ہے کلائمیٹ چینج کے معاملے میں جوڈیشری کا کام صرف سزائیں دینا نہیں ہے پاکستانی عدالتیں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے حکومت کو ہدایات دیتی رہی ہیں-

    چیمپیئنز ٹرافی 2025 :آسٹریلیا کے بڑے کھلاڑی ٹورنامنٹ سے باہر

    انہوں نے کہا کہ بیرونی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے ہمیں مقامی حل پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے، تاکہ ماحولیاتی بحران سے نمٹنے میں زیادہ مؤثر اقدامات کیے جا سکیں ماحولیاتی احتساب کو یقینی بنانے اور خصوصی ماحولیاتی عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیاتی انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔

    جسٹس منصور نے کہا کہ کلائمیٹ جسٹس آج کل کلائمیٹ فنانس سے جڑی ہوئی ہے دو دن پہلے سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا ہے اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کلائمیٹ فنانسنگ بنیادی حقوق میں شامل ہے، میرے علم میں نہیں کہ تین ارب ڈالر جو سیلاب زدگان کیلئے آئے وہ متاثرین تک پہنچے یا نہیں ہمارے ملک میں کلائمیٹ چینج اتھارٹی اور کلائمیٹ چینج فنڈ نہیں ہے، ایک سائل ہمارے پاس آیا اور کہا کہ 2017ء میں قانون بنا اور قانون بننے کے باوجود تاحال نہ کلائمیٹ چینج اتھارٹی بنی اور نہ ہی فنڈ قائم ہوا۔

    کراچی:حادثات میں اضافہ، غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ ڈمپرز کے خلاف آپریشن کا فیصلہ

  • گرمی کی شدت میں اضافہ،اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردارکردیا

    گرمی کی شدت میں اضافہ،اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردارکردیا

    نیویارک: اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ گرمی کی شدت میں اضافے کا سامنا کرنے کی تیاری کر لے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یورپ سمیت دیگر ملکوں میں گرمی کی شدت نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جبکہ گرمی کی شدت کے باعث کینیڈا کے جنگلات میں 500 سے زائد مقامات پر آگ لگ گئی۔

    چین میں پڑنے والی گرمی نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے برطانیہ کے میٹ آفس کے مطابق، چین میں اتوار کے روز اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جب مغربی سنکیانگ کے علاقے میں پارہ 52.2C (126F) ریکارڈ کیا گیا ادھر جنوبی چین میں سمندری طوفان ٹالِم کی تباہ کاریاں جاری ہیں، 2 لاکھ 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہےطوفان کے باعث پروازوں تعطل کا شکار ہیں جبکہ ماہی گیروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرکے ساحلی اور سیاحتی مقامات کو بند کر دیا گیا ہے، طوفان ویتنام جاتے ہوئے کمزور پڑ گیا ہے۔

    امریکی سفارت کار ہنری کسنجرکی بیجنگ میں چین کے وزیر دفاع سے ملاقات

    جبکہ امریکہ کے شہر فینکس میں بھی گرمی کا 50 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جہاں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا یورپ میں بھی گرمی کی شدید لہر گزشتہ کچھ روز سے جاری ہے،پورے براعظم میں جنگلات میں آگ بھڑکنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں اور جنوبی یورپ کے بڑے حصے ریکارڈ گرمی کی لپیٹ میں ہیں سسلی میں درجہ حرارت 46.3 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہیٹ ویو کے دورانئے کو طویل، زیادہ شدید اور مستقل بنا رہی ہےورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کا کہنا ہے کہ گرمی کی لہریں آنے والے برسوں میں مزید شدید ہو جائیں گی۔

    کیپیٹل ہل حملہ کیس :ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی گرفتاری کا خدشہ

    اٹلی کے دارالحکومت روم میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیاجاپان میں تقریباً 60 افراد ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے بیمار ہوگئے ہیں جبکہ جنوبی کوریا میں کئی دنوں سے جاری طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے مرنے والوں کی تعداد 41 ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب اسپین، یونان اور سوئٹزرلینڈ کے جنگلات میں پھیلی آگ پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ کینیڈا کے جنگلات میں بھی 500 سے زائد مقامات پر لگی آگ بے قابو ہوچکی ہے۔

    پاکستانی مشہور چائے والا ارشد خان نے لندن میں اپنا کیفے کھول لیا

  • جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آنجہانی عمر شریف ایک بار لطیفہ سنا رہے تھے کہ پاکستان میں کہیں گلی میں کتا نظر آ جائے لوگ اُسے پتھر مارنے لگ جاتے ہیں۔ کتا بھی سوچتا ہو گا کہ کتا میں ہوں اور کتے والی حرکتیں یہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں جانوروں پر ظلم کوئی نئی بات نہیں۔ہمارے ہاں ہر وہ جانور جسے کھایا نہ جا سکے اُس پر ظلم کرنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کیا امیر اور کیا غریب۔ امیروں کے ہاں بچوں کی برتھ ڈے پارٹیوں پر کھچوے، مچھلیاں، چوزے اور نہ جانے کیا کیا تحفے میں دیا جاتا ہے۔ اور نا سمجھ بچے جنکو انکی حفاظت کی نہ تو تربیت ہوتی ہے نہ شعور۔ کچھ دن انکے ساتھ کھلونوں کیطرح کھیل کر دلچسپی ختم ہونے پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ننھے جانور بھوک یا غفلت کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔

    اسی طرح آج کل کچھ نو دولتیوں کو شیروں، چیتوں اور ایسے جانوروں کو اپنے گھروں میں رکھنے کا شوق در آیا ہے جو دراصل بنے ہی جنگل کے ماحول کے لیے ہوتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے امیر اور ہمارے ہاں کے امیروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے زمین اسمان کا فرق ہے۔ یہاں جانوروں کو پالنے کا کلچر کم اور فیشن زیادہ ہے۔ تبھی جانور کچھ عرصہ انکے "تہذیب یافتہ” ہونے کی نمائش بن کر مر جاتے ہیں۔

    یہی حال غریبوں کا ہے۔ گدھوں پر اُنکے وزن سے کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ سخت سے سخت کام جانوروں کی بساط سے بڑھ کر لیتے ہیں۔ لاٹھیوں ڈنڈوں سے اُنکا بھرکس بنا دیتے ہیں اور چارہ ضرورت سے کم کھلاتے ہیں۔ ایسے ہی متوسط طبقے کے لوگوں کو کتوں سے خوف آتا ہے۔ گلی کے کتے دیکھ کر انہیں مارنے کو دوڑتے ہیں۔

    ٹی وی ٹاک شوز کے علاوہ مرغوں، کتوں، ریچھ وغیرہ کی لڑائی پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔ ایسے ہی گلی گلی تماشا کرنے والے جانوروں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔

    کراچی میں ہر سال کئی ہزار کتوں کو بے رحمی سے مار دیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے شہروں کا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مارنا حل ہے اُنکی سوچ سے کیا لڑنا کہ ان میں ایک بڑا پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے۔

    یہی رویہ پاکستان میں غیر قانونی شکار کا ہے۔ پرندوں کے جھنڈ سائبیریا سے اتنا سفر طے کر کے آتے ہیں اُنہیں کچھ نہیں ہوتا مگر یہاں کچھ لوگ بندوقیں تانے قطاروں کی قطار میں اُن معصوموں می لاشیں گراتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جیپوں کے سامنے اُنکے مردہ جسموں کی نمائش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں فخر سے سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔ کہاں سے رونا شروع کیا جائے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ آج ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے انسان ہی نہیں چرند پرند سب متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں کئی جانور جن میں چیتا، دریائی کچھوے، تیتر، عقاب یہ سب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ۔

    ماحولیات کی سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان بقا کئی پیچیدہ عوامل کے تحت ایک کڑی میں تمام جانداروں کی بقا سے جُڑی ہے۔ اگر زمین سے شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو دنیا میں کئی سبزیاں اور پھل ختم ہو جائیں گے۔ انسان غزائی قلت کا شکار اور دنیا کی معیشت اربوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہو گی۔ کھانے ہینے کی اشیا غریب ہی نہیں امیروں کی پہنچ سے بھی دور ہو جائیں گی۔

    پاکستان میں جانوروں ہر ظلم کے حوالے سے قانون انگریزوں کے زمانے کا ہے یعنی 1890 کا جسے Prevention of Cruelty to Animal Act کہا جاتا ہے۔ یہ قانون پرانا اور غیر موٹر ہے۔ مثال کے طور ہر اس میں جانوروں پر ظلم کی صورت عائد جرمانے کی رقم پرانے دور کے حساب سے ہے۔ اسی طرح اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جانوروں پر ظلم روکنے کے حوالے سے کوئی پہلو موجود نہیں۔

    ایک خاطر خواہ پیش رفت جو ماضی میں کی گئی وہ حلال اتھارٹی ایکٹ کی تھی جس میں ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنے کی ممانعت کی گئی مگر اس ہر بھی کون عمل کرتا ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور تحفظِ وائلڈ لائف بھی اس قدر فعال نہیں اور آئے روز غیر قانونی شکار ہوتا رہتا ہے۔

    اس تناظر میں سب سے پہلے تو ہمیں جانوروں نے ساتھ اپنے انفرادی رویے اور سوچ کو درست کرنا ہے۔ اس میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، کیا بوڑھے ،کیا جوان اور کیا بچے۔ بحیثیت قوم ہم سب ہی کا رویہ جانوروں کے ساتھ شرمناک ہے۔ کسی معاشرے میں اخلاق کا معیار جانچنا ہو تو یہ دیکھنا کافی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے اپنے جانوورں کے ساتھ کیسا سلوک برتتا ہے۔ اگر ہم بے زبان جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھ سکتے ہیں تو انسانوں کے ساتھ بھی لازماً رکھیں گے۔

    حکومتی سطح پر اس حوالے سے نہ صرف بہتر قانون سازی کی ضرورت ہے بلکہ اسکے عملدرآمد کی بھی۔ اس حوالے سے عام شہری کا بھی فرض بنتا کے کہ وہ جہاں جہاں جانوروں پر ظلم ہوتا دیکھے نہ صرف اسکے خلاف آواز اُٹھائے بلکہ اسے سوشل میڈیا پر اور اداروں کو رپوٹ بھی کرے۔

    اگر ہم جانوروں کے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھا سکتے تو انسانوں کے لئے کیا اُٹھائیں گے؟ پہلے جانوروں کے لیے آواز اُٹھانا سیکھیں، انسانوں کے لئے آواز اُٹھانے کی جرات خود ہی آ جائے گی۔

  • ماحولیاتی تبدیلی شہری علاقوں کیلئے بڑا چیلنج  ہے،سپریم کورٹ

    ماحولیاتی تبدیلی شہری علاقوں کیلئے بڑا چیلنج ہے،سپریم کورٹ

    رہائشی پلاٹ کی کمرشل منتقلی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کو شہری علاقوں کے لیے بڑا چیلنج قرار دے دیا ہے-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ نے رہائشی پلاٹ کی کمرشل منتقلی سے متعلق کیس میں سی ڈی اےکو پلاننگ اور پالیسی سازی میں موسمیاتی تبدیلی کےاثرات کو مدنظررکھنےکاحکم دیتے ہوئےکہاکہ اربن ڈویلپمنٹ پلاننگ کے لیے موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

    آئی ایم ایف ہماری ناک سے لکیریں نکلوا چکا ہے،وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

    سپریم کورٹ کہا کہ موسمیاتی تبدیلی شہریوں کو ان کے گھروں سے بھی محروم کر سکتی ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سےشدید متاثر ہونے والا ملک ہے لہذا انفراسٹرکچر اتنامضبوط ہونا چاہیےکہ شدید بارش، سیلاب اور زلزلے برداشت کر سکے۔

    ضمنی الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو حالات سری لنکا کی طرح ہوں گے،شاہ محمود قریشی

    سپریم کورٹ نےیہ ریماکس بھی دیئےکہ معيشت اورسکیورٹی کا انحصار انفرا اسٹرکچر سسٹم پر منحصر ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر آنکھیں بندکرنے سے بنیادی اقدار برقرار رکھنا ناممکن ہو گا۔

    ملک بھر میں عید الاضحی مذہبی جوش و جذبے سے منائی جا رہی ہے،مسلمان سنت ابراہیمی میں…

  • ٹوئٹرکا ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ٹویٹس کرنیوالوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    ٹوئٹر نے ایسے تما م اشتہارات اور پوسٹس پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے جو کلائمیٹ چینج (عالمی ماحولیاتی تبدیلی) کے خلاف بیانیہ رکھتے ہیں-

    باغی ٹی وی : عالمی یومِ ارض پر ٹوئٹر نے کہا کہ وہ ایسے تمام اشتہارات پر پابندی عائد کررہا ہے جو آب و ہوا میں تبدیلی کے خلاف بیانیہ رکھتے ہیں خواہ وہ اس کےلیے سائنس کا سہارا ہی کیوں نہ لیا گیا ہو۔

    ایلون مسک کی ٹوئٹر کے بعد اب کوکا کولا کمپنی پر بھی نظر

    ٹوئٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو رد کرنے والوں کو ٹوئٹر سے رقم بنانے کا حق نہیں ہونا چاہیے ایسے گمراہ کن اشتہارات عوام کو ماحولیاتی اور موسمیاتی بحران کی اصل اور اہم بحث سے دور کرسکتے ہے۔

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک ٹوئٹر کے نئے مالک بن گئے

    بیان میں مزید کہا گیا کہ آئندہ ماہ ہم ٹوئٹر پر آب و ہوا کے متعلق درست معلومات بھی شامل کریں گے لیکن اینٹی کلائمیٹ اشتہارات ہماری پالیسی کے تحت پابندی کے حصار میں رہیں گے دوسری جانب بعض معلومات پر شک کی صورت میں بین الاقوامی پینل برائے آب وہوائی تبدیلی (آئی پی سی سی) کے ماہرین سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ فیس بک، گوگل اور پنٹرسٹ نے بھی کلائمیٹ چینج کی غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف ایکشن لے رکھا ہے-

    اکاونٹ بحال بھی کر دیا جائے تو بھی ٹوئٹرجوائن نہیں کر وں گا،ڈونلڈ ٹرمپ