Baaghi TV

Tag: ماحولیات

  • ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی کوآرڈینیشن رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اوزون کی تہہ کے تحفظ کے اہم پہلو پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، انسانی سرگرمیاں اوزون کی تہہ کے خاتمے کا باعث بنی ہیں، جس کے نتیجے میں اوزون سوراخ میں وسعت آ رہی ہے اور شدید خطرات لاحق تھے۔ تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ اقوام متحدہ کے ویانا کنونشن اور اس کے مونٹریال پروٹوکول کی چھتری کے تحت، عالمی کوششیں اوزون کے سوراخ کو زیادہ سے زیادہ حد تک بحال کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر مونٹریال پروٹوکول اور ایچ سی ایف سی کنٹرول پر کسٹم اور انفورسمنٹ افسران کے تربیتی پروگرام کے موقع پر وزارت موسمیاتی تبدیلی کے نیشنل اوزون یونٹ سے خطاب کر رہی تھیں۔

    اوزون کی تہہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اوزون کی تہہ زمین پر زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمیں سورج کی نقصان دہ تابکاری سے بچاتا ہے، صحت کے سنگین مسائل جیسے کہ جلد کے کینسر اور موتیابند سے بچاتا ہے اور ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کی حفاظت کرتا ہے۔پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کے کنونشنز پر عملدرآمد کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے ان معاہدوں میں ایک اہم فریق کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے 1992 میں مونٹریال پروٹوکول کی توثیق کی، جو اوزون کو ختم کرنے والے مادوں (ODS) کو مرحلہ وار ختم کرنے کے ہمارے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان نے اس شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اس اقدام کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان نے 1996 میں ایک وقف شدہ نیشنل اوزون یونٹ (NOU) قائم کیا۔ یہ یونٹ پاکستان کسٹمز، ریفریجریشن اور ایئر کنڈیشننگ انڈسٹری، وزارت تجارت، تکنیکی ماہرین اور انجینئرز، درآمد کنندگان اور تاجروں کے ساتھ اپنی مشترکہ کوششوں کے ذریعے۔ مونٹریال پروٹوکول کے دس مراحل کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا، پاکستان نے 2009 تک اوزون کو ختم کرنے والے مادوں کی پہلی جنریشں کو مرحلہ وار ختم کیا، اور جنوری 2020 تک ایچ سی ایف سی میں 50 فیصد کمی حاصل کی۔ ہم 2025 تک 67.5 فیصد کمی کے ہدف کی طرف کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہماری کامیابیوں میں متعدد دوستانہ ٹیکنالوجیز کے ذریعے صنعتوں کو اوزون میں تبدیل کرنا شامل ہے۔ ہم اپنے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستقبل کے اہداف کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ کسٹم افسران کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا، کسٹم افسران ضوابط کے سخت نفاذ اور غیر قانونی درآمدات کو روکنے کے ذریعے اوزون کو ختم کرنے والے مادوں کے انتظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی چوکسی اور مہارت اوزون کی تہہ کی حفاظت اور دوبارہ تخلیق کرنے، ماحولیات اور صحت عامہ دونوں کے تحفظ کے لیے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے۔ یہ تربیت انتہائی اہم ہے کیونکہ او ڈی ایس( ODS) کی غیر قانونی تجارت کی نگرانی اور روک تھام میں کسٹم اور نافذ کرنے والے افسران کا کردار ضروری ہے۔ ان کی کوششیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ہماری سرحدیں اور بازار اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والے مادوں سے پاک رہیں۔ مجموعی طور پر، 2,500 سے زیادہ تکنیکی ماہرین اور 300 سے زیادہ کسٹم افسران کی تربیت کے ذریعے نیشنل اوزون یونٹ( NOU) نے او ڈی ایس کو مو ثر طریقے سے سنبھالنے اور ان کو منظم کرنے کی ہماری قومی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اپنے عزم کو دہراتے ہوئے وزیراعظم کی کوآرڈینیٹرنے کہا کہ ہمارا سفر یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں۔ ہم اب کیگالی ترمیم ( Kigali Amendme) کے تحت آنے والے ایچ ایف سی فیز ڈاون کی تیاری کر رہے ہیں۔ وزارت کے موسمیاتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا، وزارت کے نیشنل اوزون یونٹ نے Hima-Vertay اور Clasp کے ساتھ مل کر، کولنگ مصنوعات سے وابستہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے پاکستان کولنگ ایکشن پلان تیار کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ عالمی یوم ماحولیات 2024 کے سلسلے میں اس تربیت کا انعقاد حقیقی اور عملی لحاظ سے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ہمارے عزم کا ثبوت ہے۔ یہ ایک مشترکہ کوشش ہے، جو مانٹریال پروٹوکول کے اصولوں کے لیے ہمارے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ وہ موجودہ حکومت کے عزم کا اعادہ کرنا چاہیں گی، جس کی رہنمائی وزیر اعظم کے آب و ہوا کی کارروائی کے لیے غیر متزلزل عزم کے تحت ہے۔ اوزون کی تہہ کے تحفظ میں ہماری اجتماعی کوششیں ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ہماری لگن کی عکاسی کرتی ہیں۔ آئیے ہم مل کر کام کرتے رہیں، عالمی یوم ماحولیات 2024 کے تھیم سے متاثر ہو کر، آنے والی نسلوں کے لیے اپنے سیارے کی حفاظت کریں۔

  • موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈ قائم کرنے پراتفاق

    موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈ قائم کرنے پراتفاق

    شرم الشیخ:پاکستان کی کوششیں کے بعد موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت فنڈ قائم کرنے پر اتفاق کر لیا گیا۔

    اقوام متحدہ کے تحت کوپ 27 اجلاس میں ماحولیاتی نقصان کے ازالے کے لیے فنڈ قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا، مصر کے شہر شرم الشیخ میں دو ہفتے سے جاری کانفرنس میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک نے مالدار اور آلودگی پھیلانے والے ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں پہنچنے والی تباہی کی تلافی کی جائے، دو ہفتوں کے مذاکرات کے بعد مطالبہ منظور کر لیا گیا۔

    اس سے پہلے خبر ایجنسی سے گفتگو میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا تھا کہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ کمزور لوگوں کے لیے ایک مثال ہو گا، کمزور متحد ہو جائیں تو ناممکنات کی رکاوٹیں بھی ختم کر سکتے ہیں۔

    مصرمیں ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کیلئے جاری کوپ27 کانفرنس میں یورپی یونین کی جانب سے ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کا مسودہ مسترد کر دیا گیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق کانفرنس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق امور پراختلافات آخری وقت تک برقرار ہیں۔

    کانفرنس میں گلوبل وارمنگ ایک اعشاریہ پانچ ڈگری تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم گیسوں کے اخراج میں کمی کی یقین دہانی میں تاحال کوئی کامیابی نہیں ہو پائی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ماحولیاتی سانحات کا شکار ترقی پذیرملکوں کو فنڈ دینے کے معاملے پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں، فنڈز کی کمی اور نقصان فنڈ پر بات طے ہوگئی مگر مندوبین نے تاحال اس کی توثیق نہیں کی۔ساتھ ہی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے پر رقم دینے والے امیر ممالک کا تعین کرنے کیلئے بھی شرائط طے نہیں ہوسکی ہیں۔

    فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کا کہنا ہے کہ واحد فنڈ کے قیام کی تجویز نامناسب اور ناکافی ہے، جب مشکل درپیش ہو تو فنڈ قائم کیا جاتا ہے۔مصر میں جاری ماحولیاتی کانفرنس میں تاحال یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ فنڈ کی گورننس کون کرے گا اور رقم کون ادا کرے گا؟

    واضح رہے کہ مصرمیں 2 ہفتے سے جاری کوپ 27 کانفرنس میں تقریباً 2 سو ممالک کے مندوبین شریک ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • پاکستان زندہ باد : اقوام متحدہ میں ایک مرتبہ پھربڑا اعزاز مل گیا

    پاکستان زندہ باد : اقوام متحدہ میں ایک مرتبہ پھربڑا اعزاز مل گیا

    اسلام آباد:پاکستان زندہ باد : اقوام متحدہ میں ایک مرتبہ پھربڑا اعزاز مل گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان کو اقوام متحدہ میں ایک مرتبہ پھر ماحولیاتی لیڈرشپ مل گئی اور پاکستان عشرہ ماحولیات میں 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کرنے میں بازی لے گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ٹین بلین ٹری سونامی منصوبے کی پھر سے اقوام متحدہ اسمبلی میں گونج سنائی دی اور پاکستان کو اقوام متحدہ میں ایک مرتبہ پھر ماحولیاتی لیڈرشپ مل گئی۔

    یواین ماحولیات اسمبلی نے پاکستان سمیت 3ممالک کو ماحولیات لیڈر ملک قرار دیا، جس میں پاکستان کے علاوہ جرمنی اور ایل سلواڈور شامل ہیں۔

    ایل سلواڈور کو عشرہ ماحولیات منانے کا آئیڈیا دینے اور جرمنی کو ماحولیات پر زیادہ سرمایہ کاری میں کرنے پر لیڈر شپ ملی جبکہ پاکستان عشرہ ماحولیات میں 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کرنے میں بازی لے گیا۔پاکستان ٹین بلین ٹری سونامی منصوبہ کو دنیا بھر میں ماڈل کے طور پر پیش کرے گا۔

    اقوام متحدہ ماحولیاتی اسمبلی میں دنیا بھر کے ماحولیات وزیر شریک ہوئے ، اسمبلی میں معاون خصوصی ملک اسلم کو خطاب کا موقع دیا گیا۔

    ملک امین اسلم نے کہا کہ وزیر اعظم کے ماحولیاتی وژن میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے ، پاکستان نے پائیدار ترقی کے لئے ماحول کے خلاف جنگ ختم کی، ہم نے ماحولیات میں سرمایہ کاری کی تو ہمیں اس کا معاشی فائدہ ملا۔

  • چینی صدر کا ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی پر زور

    چینی صدر کا ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی پر زور

    بیجنگ چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ چین کو وسائل کی کمی اور ماحولیاتی انحطاط کی قیمت پر کبھی بھی معیشت کو ترقی نہیں دینی چاہیے اور نہ ہی ماحول کے تحفظ کیلئے ملک کو ترقی کی قربانی دینی چاہیے۔

    شی جن پھنگ نے ان خیالات کا اظہار پیر کے روزعالمی اقتصادی فورم 2022 کے ورچوئل اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شی جن پھنگ نے ماحولیات کی قیمت پر معاشی ترقی کو "مچھلی حاصل کرنے کیلئے تالاب کو خشک کرنا” اور ماحولیات کے تحفظ کیلئے ترقی کی قربانی کو "مچھلی پکڑنے کیلئے درخت پر چڑھنا” قرار دیا۔

    شی نے کہا کہ ہمارے اس فلسفے کی رہنمائی میں کہ "صاف پانی اور سرسبز پہاڑ سونے اور چاندی کی طرح قیمتی ہیں” چین اپنے پہاڑوں، دریاؤں، جنگلات، کھیتوں، جھیلوں، گھاس کے میدانوں اور صحراؤں کا مجموعی ماحولیاتی تحفظ اور ان کی منظم نگرانی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین ماحولیاتی نظام کے تحفظ، آلودگی کی روک تھام اور انسداد کو تیز کرنے اور اپنے لوگوں کے رہنے اور کام کرنے کے ماحول کو بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

    پیر کے روز ورلڈ اکنامک فورم کے بانی اور ایگزیکٹو چیئرمین کلاز شواب کی دعوت پر بیجنگ سے ورلڈ اکنامک فورم 2022 کے ورچوئل اجلاس میں شرکت کی اور اہم خطاب کیا۔ یہ شی جن پھنگ کی رواں برس پہلی اہم کثیر الجہتی سفارتی تقریب میں شرکت بھی ہے۔اس سے قبل چینی صدر ورلڈ اکنامک فورم جسے ڈیووس فورم بھی کہا جاتا ہے، سے دو مرتبہ خطاب کر چکے ہیں۔ جس میں انہوں نے دنیا کو "اقتصادی عالمگیریت” اور "کثیرالجہتی ” کے حوالے سے چین کے خیالات اور تجاویز سے روشناس کروایا ، جسے رائے عامہ کی جانب سے نمایاں پزیرائی ملی ہے۔

    پولیس نے 9 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش ناکام بنا دی

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

  • میاواکی جنگل ، ماحولیاتی اور عوامی مسائل، ترجیحات کیا ہیں – محمد نعیم شہزاد

    میاواکی جنگل ، ماحولیاتی اور عوامی مسائل، ترجیحات کیا ہیں – محمد نعیم شہزاد

    میاواکی جنگل ، ماحولیاتی اور عوامی مسائل، ترجیحات کیا ہیں
    محمد نعیم شہزاد

    ماحولیات پر انسانی عوامل کے اثرات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی کرتی دنیا فطرت سے بہت دور ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں تباہ کن ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور ہمارے لیے مشکلات کھڑی کر دیتی ہیں۔ انھیں مشکلات میں سے ایک سموگ بھی ہے ۔ گزشتہ کچھ برسوں سے پاکستان کے بڑے شہر لاہور میں صورتحال دگرگوں رہی اور شہری سموگ کی وجہ سے پریشان رہے۔ ان حالات کو قابو کرنے کے لیے حکومت نے شجر کاری اور جنگلات لگانے کی مہم کا آغاز کیا جو بہت خوش آئند اقدام ہے۔ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب دس ارب درخت لگانے کا خواب رکھتے ہیں اس کی تکمیل کے لیے انھوں نے لاہور میں میاواکی جنگلاتی منصوبے کا افتتاح بھی کر دیا ہے۔

    مرحوم جاپانی نباتاتی ماہر اکیرا میاواکی کی طرف سے شروع کی گئی ایک تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ، جنگل 12.5 ایکڑ پر محیط ہے اور اس میں 165،000 سے زیادہ پودے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ متوقع طور پر درختوں کے عام رفتار کی نسبت 10 گنا تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے ۔ 10 ملین آبادی کا یہ بڑا شہر حالیہ برسوں میں سموگ کی لپیٹ میں آیا ہے جس نے سکولوں کو بند کرنے پر مجبور کیا ہے اور اسے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ایک بنا دیا ہے۔

    جب سے 2018 میں درخت لگانے کی مہم شروع ہوئی ہے ، ملک میں 1 ارب مزید درخت لگائے گئے ہیں اور مون سون کے موسم میں مزید 500 ملین پودے لگائے جا رہے ہیں۔

    یقیناً یہ ایک مثبت اصلاحی اقدام ہے اور عوام نے اس کا بھرپور استقبال بھی کیا ہے اور اس سال یوم آزادی پر ہر گھر کی طرف سے ایک درخت اگانے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔ اور عوامی طور پر شعور بیدار کیا جا رہا ہے کہ یوم آزادی پر ہر سال لوگ جھنڈے، بیجز، جھنڈیاں اور دیگر اشیاء پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں جن سے سوائے خوش طبعی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا مگر ایک درخت اگانے سے ہمارے ماحول میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔ فضائی آلودگی کم ہوگی اور سموگ جیسی مصیبت سے بھی جان چھوٹے گی۔

    شجر کاری اور جنگلات کا پھیلاؤ یقیناً حکومت کا احسن اقدام ہیں مگر ماحولیاتی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ حکومت کو عوامی مسائل پر بھی توجہ دینی چاہیے ورنہ یہ مسائل حکومت کی مقبولیت کو بری طرح گرا دیں گے اوردوسری سیاسی جماعتیں مہنگائی جیسے ناسور کا فائدہ اٹھا کر حکومت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکیں گے۔ موجودہ وقت کا سب سے بڑا عوامی مسئلہ حد سے بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ پھل، سبزی، گراسری، پیٹرولیم مصنوعات کسی بھی چیز کی قیمتیں کنٹرول میں نہیں ہیں ۔ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں اپنانی چاہئیں جو عوام دوست ہوں اور عوام کو ریلیف بھی دیں ۔ یہ عوام ہی ہیں جو کسی بھی جمہوری حکومت کی طاقت بنتے ہیں۔ ڈلیور کیے بغیر محض گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام لا کر عوام کو خوش نہ کیا جا سکے گا۔ عوام حقیقی اور معنوی تبدیلی چاہتے ہیں۔ نا انصافی اور ظلم کے نظام کی تبدیلی، وی آئی پی کلچر کی تبدیلی، اختیارات کے ناجائز تصرف رکھنے اور بوسیدہ بیوروکریسی کے نظام میں تبدیلی۔

    تبدیلی کا نعرہ لگانا اور اس نعرے سے عوام کو مائل کرنا بہت اچھا تجربہ رہا مگر عوام کو اس سے مایوس کر دینا ایک ایسا تلخ تجربہ ہو گا جس کا تصور بھی ناممکن ہے۔ وزیراعظم صاحب کو فی الفور عوامی ریلیف کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی اور اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ان پر عمل درآمد بھی شروع کر دینی چاہیے۔

    محمد نعیم شہزاد

  • ملتان :وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میڈیا سے اہم گفتگو،ترجیحات سے  آگاہ کر دیا

    ملتان :وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میڈیا سے اہم گفتگو،ترجیحات سے آگاہ کر دیا

    ملتان : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں کہ کل میری امریکہ کے وزیر خارجہ سیکریٹری لنکن سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ انہوں نے لنکن کو ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ سیکرٹری لنکن کے تجربات خطے کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کو وزیراعظم عمران کی ترجیحات سے متلعق تفصیلی آگاہ کیا۔ افغان عمل، دہشت گردی ، ماحولیات اور کلائمیٹ چینج پر عمران خان کے ویژن سے آگاہ کیا ہے