Baaghi TV

Tag: مادر ملت

  • آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات منایا جارہا ہے

    آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات منایا جارہا ہے

    کراچی: قائداعظم محمد علی جناح کی بہن اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 56 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی: حصولِ پاکستان کی جدوجہد میں مسلمان عورتوں میں زندگی کی نئی روح پھونکنے والی مادرِ ملت محترمہ فاطمہ کو دنیا سے رخصت ہوئے 56 سال گزر گئے، فاطمہ جناح 31 جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں فاطمہ جناح بچپن سے زندگی کے آخری لمحات تک اپنے بھائی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ رہیں اور قوم کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیامادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح 73 برس کی عمر میں 9 جولائی 1967 کو کراچی میں وفات پاگئیں، وہ اپنے عظیم بھائی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک ہیں،جہاں‌ ہر سال ان کی برسی کے موقع پر خصوصی طور پر لوگ فاتحہ خوانی کے لیے جاتے ہیں۔

    پاکستان کی عظیم خاتون رہنماء مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی قومی خدمات کی کہیں نظیر نہیں ملتی، انہوں نے اپنے بھائی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ وطن عزیزاور پاکستانی قوم کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی،فاطمہ جناح نے قائدِاعظم کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے برصغیر کی مسلمان خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے حصولِ پاکستان کی منزل کو آسان بنایا اور ان کی گراں قدر خدمات پر انھیں مادرِ ملت کا خطاب دیا گیا-

    محترمہ فاطمہ جناح نے کراچی میں قائم قائد اعظم ہاؤس میں اپنی زندگی کے 17 برس گزارے، یہ جگہ ماضی میں فلیگ اسٹاف ہاؤس کہلاتی تھی،قائد اعظم محمد علی جناح 1944 سے تا وفات اسی میں رہائش پذیر رہے، جبکہ ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح یہاں 1964 تک رہائش پذیر رہیں۔ یہ عمارت حکومت پاکستان نے 1985ء میں اپنی تحویل میں لے لی،محترمہ فاطمہ جناح نے سابق صدر جنرل (ر) ایوب خان کے خلاف اسی عمارت سے الیکشن لڑا، ان کا انتخابی نشان لالٹین اب بھی یہاں محفوظ ہے۔

    ان کے ڈریسنگ روم میں آج بھی محترمہ کے زیر استعمال پرفیوم اور بیڈ روم میں ان کی چپل اور دیگرسامان بھی موجود ہے۔ جن گاڑیوں میں انہوں نے سفر کیا وہ بھی اس میوزیم میں محفوظ کی گئی ہیں۔

  • مادر ملت کا ٹیزر ، سجل علی کے مداح ہوئے دیوانے

    مادر ملت کا ٹیزر ، سجل علی کے مداح ہوئے دیوانے

    ورسٹائل اداکارہ سجل علی ایک تاریخ ساز کردار ادا کرنے جا رہی ہیں ، وہ کردار مادر ملت فاطمہ جناح کا ہے۔ ایسے کردار اور کہانیاں کم ہی آج کے کسی آرٹسٹ کے ہاتھ لگتی ہیں ۔ تاہم سجل علی خوش نصیب ہیں کہ کیرئیر کے اس موڑ پر ان کو مادر ملت فاطمہ جناح کا کردار کرنے کا موقع میسر آیا ہے۔ سجل علی نے جب سے مادر ملت کا ٹیزر اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ سے شئیر کیا ہے ان کے مداح کافی پرجوش ہیں۔اس ٹیزر میں سجل علی کی صرف ایک معمولی سی جھلک نظر آئی ہے ان کے مداح اس معمولی سی جھلک کو دیکھ کر حیران رہ رہے گئے ہیں

    گمان کیا جا رہا ہے سجل علی نے مادر ملت کے کردار سے یقینا انصاف کیا ہوگا۔ اس ٹیزر کے بعد سجل علی کے مداح کافی بے تاب ہیں اور اس کی ریلیز کے منتظر ہیں۔ سجل علی کے کیرئیر پر نظر ڈالی جائے تو انہوں نے ہمیشہ چیلجنگ کردار کئے ہیں اور ان کے ہر کردار کو انکے پرستاروں نے بے حد سراہا ہے۔ سجل علی نے جمائمہ گولڈ سمتھ کے ساتھ اپنا پہلا انٹرنیشنل پراجیکٹ بھی کیا ہے اس میں ان کے ساتھ انڈین اداکارہ شبانہ اعظمی بھی نظر آئیں گی۔ سجل علی اس پراجیکٹ کی شوٹنگ کروا چکی ہیں‌، فلم کب ریلیز ہوگی اس حوالے اسے تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں.

  • سجل علی فاطمہ جناح کا کردار کریں گی

    سجل علی فاطمہ جناح کا کردار کریں گی

    ورسٹائل اداکارہ سجل علی فاطمہ جناح کا کردار ادا کریں گی کہا جا رہا ہے کہ سجل علی تقسیم کے وقتوں پر بننے والی سیریز میں مادر ملت فاطمہ جناح کا کردار ادا کریں گی. اس سیریز میں ان کے ساتھ سمعیہ ممتاز اور سندس فرحان بھی ہوں گی. کہا جا رہا ہےکہ سجل علی اس کردار کو کرنے کے لئے کافی محنت اور تیاری کررہی ہیں. سجل علی پہلی پاکستانی فنکارہ ہوں گی جو فاطمہ جناح کا کردار کرنے جا رہی ہیں.ان کے مداح سجل علی کو فاطمہ جناح کے کردار میں

    دیکھنے کے لئے کافی پر جوش ہیں. فلم کی کہانی دانیال کے افضال نے لکھی ہے جبکہ ڈائریکشن بھی انہی کی ہے. تین سیریز پر مشتمل ہر سیزن 15 اقساط پر مشتمل ہو گا. پہلے سیزن میں فاطمہ جناح کا بچپن اور جوانی دکھائی جائیگی. قیام پاکستان سے قبل متحدہ ہندوستان کے حالات کی بھی منظر کشی کی جائیگی. سجل علی کا ہر پراجیکٹ‌دوسرے سے مختلف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے پرستار ان کے نئے پراجیکٹس کے منتظر ہوتے ہیں وہ جانتے ہیں‌کہ یقینا سجل ان کے لئے کچھ نیا لیکر نئے روپ میں سامنے آئیں گی. سجل علی تو فاطمہ جناح کا کردار کررہی ہیں اس سے پہلے خبریں آچکی ہیں‌کہ اداکارہ مہوش حیات بے نظیر بھٹو کا کردار کریں گی. دیکھنا یہ ہے کہ نوجوان نسل کی نمائندہ یہ فنکارائیں اتنی بڑی شخصیات کا کردار کس طور نبھاتی ہیں اور دیکھنے والے ان کو کیا ریسپانس دیتے ہیں.

  • محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

    محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

    بانی پاکستان کی ہمشیرہ و مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہےتاہم اس حوالے سےملک بھر میں مختلف سیاسی و سما جی تنظیموں کے زیراہتمام تقاریب کا ناعقاد کیا جا رہا ہے جن میں مادرملت کی زندگی، ملک وملت کیلیے عظیم خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ 30جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، محترمہ فاطمہ جناح قائد اعظم محمد علی جناح کے بہن بھائیوں میں ان کے سب سے زیادہ قریب تھیں 1919 میں یونیورسٹی آف کلکتہ سے انہوں نے ڈینٹل سرجن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ممبئی میں باقاعدہ پریکٹس کی ان کی شادی 1918 میں ہوئی تھی۔ لیکن جب 1929 میں ان کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو وہ اپنا نجی کلینک بند کرکے بھائی کے گھر منتقل ہوگئیں۔

    بھائی محمد علی جناح کے گھر منتقل ہونے کے بعد انہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا محترمہ فاطمہ جناح نے بھائی محمدعلی جناح کیساتھ ملکر آزادی تحریک میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ فاطمہ جناح آزاد وطن کے حصول کیلئے پیش پیش رہیں۔

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے تحریک پاکستان کے دوران نہ صرف مسلم خواتین کی رہنمائی کی بلکہ قائداعظم محمد علی جناح کی بھرپور اخلاقی مدد کرتے ہوئے نئے وطن کے حصول کے مشن میں‌ عملی طور پر ان کے ساتھ رہیں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے برصغیر کی مسلم خواتین کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کر کے حصول پاکستان کی منزل کو آسان بنایا۔ قائداعظم کے شانہ بشانہ رہ کر ان کا حوصلہ بڑھاتیں اور سیاسی معاملات میں انھیں قابل عمل مشورے دیتیں۔ ان کی ذات میں بھی وہی اصول اور قائدانہ صلاحیت تھی جو قدرت نے ان کے بھائی کو ودیعت کر رکھی تھی-

    انھوں نے 1965 میں متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے منصب صدارت کیلیے ایوب خان کا مقابلہ کیا لیکن کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں، محترمہ فاطمہ جناح 9 جولائی 1967 کو انتقال کر گئیں۔

  • مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کا یوم وفات

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کا یوم وفات

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی 54 ویں برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ 30جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، محترمہ فاطمہ جناح قائد اعظم محمد علی جناح کے بہن بھائیوں میں ان کے سب سے زیادہ قریب تھیں 1919 میں یونیورسٹی آف کلکتہ سے انہوں نے ڈینٹل سرجن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ممبئی میں باقاعدہ پریکٹس کی ان کی شادی 1918 میں ہوئی تھی۔ لیکن جب 1929 میں ان کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو وہ اپنا نجی کلینک بند کرکے بھائی کے گھر منتقل ہوگئیں۔

    بھائی محمد علی جناح کے گھر منتقل ہونے کے بعد انہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا محترمہ فاطمہ جناح نے بھائی محمدعلی جناح کیساتھ ملکر آزادی تحریک میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ فاطمہ جناح آزاد وطن کے حصول کیلئے پیش پیش رہیں۔

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے تحریک پاکستان کے دوران نہ صرف مسلم خواتین کی رہنمائی کی بلکہ قائداعظم محمد علی جناح کی بھرپور اخلاقی مدد کرتے ہوئے نئے وطن کے حصول کے مشن میں‌ عملی طور پر ان کے ساتھ رہیں۔

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے برصغیر کی مسلم خواتین کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کر کے حصول پاکستان کی منزل کو آسان بنایا۔ قائداعظم کے شانہ بشانہ رہ کر ان کا حوصلہ بڑھاتیں اور سیاسی معاملات میں انھیں قابل عمل مشورے دیتیں۔ ان کی ذات میں بھی وہی اصول اور قائدانہ صلاحیت تھی جو قدرت نے ان کے بھائی کو ودیعت کر رکھی تھی-

    پاکستان بننے کے بعد بھی اپنے بھائی کی طرح محترمہ میدان عمل میں متحرک رہیں۔ قائداعظم کی وفات کے بعد قوم کو مایوسی کی کیفیت نے گھیرا تو آپ نے اہل وطن کی رہنمائی کی۔ قوم کو دوبارہ سے قائد کا پیغام یاد کروایا اور اپنی تقاریر سے ان میں نئی روح پھونک دی۔ بانی پاکستان کے انتقال کے بعد فاطمہ جناح، عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگئیں، مگر 1964 میں جب جمہوریت کے بجائے ملک میں آمریت کی جڑیں پھیلنے لگیں تو وہ ایک مرتبہ پھر عملی طور پر میدان میں اتر آئیں۔

    جنرل ایوب خان نے جب 1965 میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا تو فاطمہ جناح کو حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے اپنا مشترکہ امیدوار نامزد کیا آپ نے 1964 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا، 9 جولائی 1967 کو 73 برس کی عمر میں دار فانی سے کوچ کر گئیں، وصیت کے مطابق آ پ کو بھائی قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے پہلو میں دفن کیا گیا-