Baaghi TV

Tag: مارٹن کوپر

  • میری ایجاد کردہ ڈیوائس اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہے،موبائل فون کے موجد کا اعتراف

    میری ایجاد کردہ ڈیوائس اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہے،موبائل فون کے موجد کا اعتراف

    پچاس سال قبل موبائل فون ایجاد کرنے والے امریکی انجینئر مارٹن کوپر نے اعتراف کیا کہ ان کی ایجاد کردہ یہ ڈیوائسز اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : اے ایف پی کے مطابق موبائل فون کے موجد اور 94 سالہ امریکی انجینئر مارٹن کوپرنےکہا کہ ہم سب کی جیبوں میں جو صاف ستھرا آلہ ہے اس میں تقریباً لامحدود صلاحیت موجود ہے مجھے لگتا ہے یہ ایک دن بیماریوں پر قابو پانے کے لیے بھی مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی ایجاد کردہ یہ ڈیوائسز اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اس ڈیوائس کے استعمال میں بہت زیادہ وقت صرف کر رہے ہیں لیکن لوگ اسے ایک جنون کی طرح استعمال کررہےانہوں نے مزید کہا کہ اپنی ایجاد میں لوگوں کا جنون دیکھ کر دھچکا لگتا ہے مسئلہ یہ ہے کہ لوگ موبائل فون کی اسکرین کو بہت زیادہ دیکھتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ حیران رہ گئے جب انہوں نے ایک شخص کو سڑک پار کرتے ہوئے اپنے سیل فون کو دیکھتے ہوئے دیکھا یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لوگوں کے دماغ موبائل فون کی وجہ سےماؤف ہو چکے ہیں مارٹن کوپر نےطنزیہ انداز میں مزید کہا کہ کچھ لوگوں کے اوپر کاریں چڑھ جانے کے بعد انہیں سمجھ آ جائے گا۔

    خیال رہے مارٹن کوپر خود ایپل کا جدید ترین آئی فون ماڈل استعمال کرتے ہیں اور ایپل واچ اور ہیڈ فون بھی پہنتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لاکھوں موبائل ایپس کا ہونا بہت زیادہ ہوسکتا ہے میں کبھی نہیں سمجھوں گا کہ سیل فون کا استعمال ایسے کیا جائے جس طرح میرے پوتے اور پڑپوتے کرتے ہیں۔

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    واضح رہے کہ دنیا کا پہلا موبائل فون موٹرولا کا ڈینا ٹیک 8000 ایکس تھا جسے 1983 میں اس کمپنی کے ایک سنیئر عہدیدار مارٹن کوپر نے تیار کیا تھا کوپر نے تاریخ میں سیل فون کا استعمال کرتے ہوئے پہلی کامیاب موبائل فون کال 3 اپریل 1973 کو اس وقت کی تھی جب وہ "Motorola” کمپنی میں کام کررہےتھےموٹرولا کمپنی نے اپنی حریف کمپنیوں کے قابلے میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔

    1970 کی دہائی کے اوائل میں مارٹن کوپر نے سیمی کنڈکٹرز، ٹرانزسٹرز، فلٹرز اور اینٹینا کے ماہرین کی ایک ٹیم کو اکٹھا کیا جو پہلا سیل فون دنیا کے سامنے لانے کے لیے تین ماہ تک چوبیس گھنٹے کام کرتے رہے تھے۔ اس فون میں صرف 30 نمبروں کو اسٹور کیا جاسکتا تھا جب کہ اس کا وزن 1.1 کلو گرام جس سے 30 منٹ تک بات کی جاسکتی ہے کوپر نے اپنی نئی ایجاد کا جشن اپنے حریف بیل سسٹم کے ڈائریکٹر جوئیل اینجل کو فون کر کے منایا تھا موٹرولا موبائل فونز کے پہلے تجارتی ورژن کی قیمت 5 ہزار ڈالر تھی۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

  • دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 3 اپریل 1973 کو 50 سال قبل نیویارک کے شہریوں نے ایک درمیانی عمر کے شخص کو سڑک پر ایک اینٹ جیسے بڑے پلاسٹک فون ہر بات کرتے ہوئے دیکھا تھا یہ موٹرولا کے ملازم مارٹن کوپر تھے اور انہوں نےایک پروٹوٹائپ موبائل ڈیوائس سے پہلی کال کی تھی مارٹن کوپر نے مین ہیٹن کے وسط میں کھڑے ہو کر نیو جرسی میں بیل لیبز کے ہیڈ کوارٹر کو کال کی-

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    کوپر نیویارک شہر میں 53 اور 54 ویں اسٹریٹ کے درمیان سکستھ ایونیو پر 900 میگا ہرٹز بیس اسٹیشن کے قریب کھڑے ہوئے اور بیل کے ہیڈ کوارٹر کو کال کی قطع نظر، یہ کال موبائل ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک بڑا قدم تھا،اب مارٹن کوپر 94 سال کے ہوچکے ہیں اور انہیں پہلی فون کال کے بارے میں زیادہ تفصیلات یاد نہیں۔

    مارٹن کوپر کو موبائل فون کا بانی تصور کیا جاتا ہے اور 2 اپریل 1973 کو کال کے لیے پروٹوٹائپ موبائل ڈیوائس کو استعمال کیا گیا تھا مارٹن کوپر نے موبائل فون کو اس لیے تیار کیا تھا تاکہ ڈاکٹروں اور اسپتال کےعملے کے درمیان رابطوں کو بہتر بنایا جاسکےاس وقت انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ ڈیوائس کس حد تک دنیا کو بدل کر رکھ دے گی۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    ڈینا ٹیک 8000 ایکس نامی اس ڈیوائس کی تیاری پر 10 کروڑ ڈالرز خرچ ہوئے تھے اور وہ اگلے 10 برسوں تک مارکیٹ میں پیش کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکی تھی جب اس فون کو 1983 میں پیش کیا گیا تواسےدنیا کا پہلا موبائل فون قراردیا گیا تھا جس کا وزن ایک کلوگرام سے زیادہ تھا۔

    اسے چارج کرنے کے لیے 10 گھنٹے لگتے تھے اور محض 30 منٹ تک بات کرنا ہی ممکن تھا جس کے بعد دوبارہ چارج کرنا پڑتا تھااس کی قیمت 4 ہزار ڈالرزرکھی گئی تھی جو موجودہ عہدکے 11 ہزار 500 ڈالرز(32 لاکھ پاکستانی روپے سےزائد) کے برابر ہےبیشتر کمپنیوں نے ہی اس فون کو خریدا تھا تاکہ عملے سے دفتر سے باہر بھی رابطہ کرنا ممکن ہو جائے۔

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    دنیا کا پہلا اسمارٹ فون 16 اگست 1994 کو معروف کمپنی آئی بی ایم نے متعارف کرایا تھا جس کا نام پہلے انیگلر رکھا گیا مگر بعد میں اسے سائمن پرسنل کمیونیکٹر کہا جانے لگا یہ مارکیٹ میں دستیاب پہلا ٹچ اسکرین فون تھا جسے اسٹائلوس یا انگلی کی مدد سے آسانی سے استعمال کیا جا سکتا تھا جبکہ اس میں کیلنڈر، کیلکولیٹر، ایڈریس بک اور نوٹ پیڈ جیسے فنکشن انسٹال تھے۔