Baaghi TV

Tag: مارکیٹ

  • ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    سرمایہ دار ہمیشہ کم آمدنی والے غریب افراد کو سہانے خواب دیکھا کر لوٹتے ہیں. ایک غریب شخص جس کی زندگی کی خواہش اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے اپنی ملکیتی جگہ پر رہائش اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے یا مزید بہتر کرنے کے لئے ذرائع آمدن میں اضافہ ہے. ان کو سرمایہ دار لالچ میں مبتلا کر کے، ان کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ان کی کم کاروباری سمجھ بوجھ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں.

    کئی اللہ کے نیک بندے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے پاس موجود سرمایہ، گھر کے زیورات بیچ کر اور لوگوں سے ادھار لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور دھوکے کی صورت میں اپنے سرمائے سے محروم ہونے کے علاوہ لوگوں کے مقروض بھی ہو جاتے ہیں. اور قرض خواہوں کے روز روز کے تقاضوں سے گھبرا کر وہ بعض اوقات انتہائی قدم بھی اٹھا لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں خراب کر لیتے ہیں.

    سرمایہ داروں کے فراڈ کے کئی طریقوں میں سے ایک طریقہ جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر غریب عوام کو لوٹنا ہے. یہ یاد رہے کہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی جعلی نہیں ہوتی لیکن ان کی اکثریت جعل ساز ہی ہوتی ہے.یہ شروع میں ہزار یا دو ہزار کنال سستی زمین خرید کر وہاں تعمیراتی مشینری منتقل کر دیتے ہیں.ہاؤسنگ سوسائٹی کی ایک یا دو خوبصورت سی مین انٹری بنا دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ سوسائٹی کے شروع میں ہی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مرکزی آفس بنا دیا جاتا ہے.

    پھر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیری مہم شروع کر دی جاتی ہے. کاغذات میں ہاؤسنگ سوسائٹی میں مسجد، پارک، سکول، کشادہ مرکزی سڑکیں اور لنک روڈ، کمرشل ایریا، بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونا، ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپنی ذاتی سیکیورٹی، پانی کی وافر مقدار میں فراہمی الغرض دنیا کی ہر سہولت فراہم کی جاتی ہے.

    تعمیراتی مشینری کو دیکھا کر بتایا جاتا ہے کہ ڈیویلپمنٹ زور و شور سے جاری ہے. ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کے ریٹ مقرر کئے جاتے ہیں. اس کے بعد شروع میں پراپرٹی ڈیلرز کو زیادہ منافع پر رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی فائلیں مناسب تعداد میں فراہم کی جاتی ہیں. وہ اپنے منافع کے لالچ میں اپنے انوسٹر کو بتاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں فائلیں خرید لیں.

    ساری فائلیں جب انوسٹر اٹھا لیتا ہے تو مارکیٹ میں فائلیں شارٹ ہونے کی وجہ سے بلیک میں بکتی ہیں اور یہاں سے چھوٹے انوسٹر، تنخواہ دار یا چھوٹے کاروباری شخص کی بدنصیبی شروع ہوتی ہے. وہ منافع کمانے، اپنی ذاتی رہائش بنانے یا اپنی بچت محفوظ رکھنے کے لئے پلاٹ کی فائلیں خرید لیتا ہے اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق تھوڑی تھوڑی کر کے فائلیں مارکیٹ میں فروخت کرتے رہتے ہیں.

    چھوٹے انوسٹر کو اس وقت دھچکہ لگتا ہے جب اس کی فائلیں فروخت نہیں ہوتی اور اسے پلاٹ کی پہلی یا، دوسری قسط دینی پڑ جاتی ہے اور وہ اپنا سرمایہ ڈوبنے سے بچانے کے لئے فائلیں نقصان پر فروخت کر دیتا ہے جبکہ جو لوگ اپنے رہنے کے لئے وہاں پلاٹ لیتے ہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کر پلاٹ کی قسطیں بھرتے رہتے ہیں.

    اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے لوگوں کے جمع شدہ پیسوں سے تھوڑا بہت سوسائٹی میں ترقیاتی کام بھی کراتے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو آس امید لگی رہتی ہے کہ سست روی سے سہی لیکن کام ہو رہا ہے اور سوسائٹی لوکل ایجنٹوں کے ساتھ مل کر اپنی خرید سے کئی گنا زیادہ جگہ (مثلاً اگر دو ہزار کنال جگہ خریدی تو دس ہزار کنال بیچ دی) فروخت کر دیتی ہے.

    کیونکہ سوسائٹی گورنمنٹ سے منظور شدہ نہیں ہوتی تو اس کا کوئی نقشہ بھی نہیں ہوتا اس وجہ سے لوگوں کو اپنے پلاٹس کی نشاندہی بھی نہیں ہوتی. سوسائٹی والے لوگوں کو یہی تسلی دیتے رہتے ہیں کہ جس ترتیب سے فائلیں فروخت ہوئی اسی ترتیب سے سیکٹر بنا کر آپ کو پلاٹ الاٹ کر دئیے جائیں گے.

    اس دوران وہ حکومتی محکموں کا منہ ہر ممکن طریقے سے بند رکھتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ اب ہم اس علاقے سے عوام کو مزید نہیں لوٹ سکتے تو وہ محکموں کا خرچہ بند کر دیتے ہیں کچھ دن بعد اخبارات میں آ جاتا ہے کہ مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی بغیر این او سی کے بنی ہے اور اس میں لین دین کرنے والا خود ذمہ دار ہو گا اور جب یہ خبر پڑھ کر لوگ سوسائٹی کے دفتر جاتے ہیں تو وہاں ان کی رام کہانی سننے والا کوئی نہیں ہوتا اور لوگوں کی عمر بھر کی کمائی لٹ جاتی ہے.

    اس فراڈ سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کوشش کریں مکمل قیمت ادا کر کے پلاٹ خریدیں اور اپنے نام رجسٹری کرائیں اگر سوسائٹی میں پلاٹ لینا ہے تو گورنمنٹ کی منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہی پلاٹ لیں.

  • اونچی اڑان کے بعد مارکیٹ سے ڈالر غائب

    اونچی اڑان کے بعد مارکیٹ سے ڈالر غائب

    اونچی اڑان کے بعد مارکیٹ سے ڈالر غائب
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے پہلے روز ڈالر نے اونچی پرواز پکڑ لی ہے

    ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے، انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 182روپے سے بھی تجاوز کرگئی ہے انٹربینک میں کاروبارکے دوران ڈالر کی قیمت میں 52 پیسے اضافہ ہوا جس سے اس کی قیمت 182 روپے 30 پیسے تک جا پہنچی

    چھ روز قبل انٹربینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں 48 پیسے کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد 181.73 روپے پرآ گیا تھا جو تاریخ کی بلند ترین سطح تھی اسٹیٹ بینک کے مطابق فروری میں ملکی تجارتی خسارہ جنوری کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہو کر 2 ارب 31 کروڑ ڈالر رہا فروری میں ملکی درآمدات 5 ارب 16 کروڑ ڈالر رہیں جبکہ جنوری میں ملکی درآمدات 6 ارب 31 کروڑ ڈالر تھیں

    دوسری جانب ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بعد ڈالر مارکیٹ سے غائب ، ڈالر کی ادائیگی کے لئے اضافی قیمت طلب کی جا رہی ہے، ڈالر مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گیا ہے، ڈیلروں نے ڈالر مقررہ قیمت سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے، ڈالر مارکیٹ سے غائب ہونے کی فی الوقت کوئی وجہ سامنے نہیں آئی تا ہم مارکیٹ میں اسوقت ڈالر کی قلت ہے، ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد آج ڈالر کی مارکیٹ میں قلت نظر آ رہی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر سمگل کیا جا رہا ہے ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے اور روپے کی قدر میں کمی سے ادائیگیوں میں عدم تواز ن پیدا ہو گا بیرونی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیوں میں مزید اضافہ ہو گا

  • شوگر ملوں سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی کیس پر جواب طلب

    شوگر ملوں سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی کیس پر جواب طلب

    شوگر ملوں سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی کیس پر جواب طلب

    جہانگیر ترین سمیت دیگر کی شوگر ملز سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی کا معاملہ

    شوگر ملوں سے مارکیٹ کمیٹی کی فیس وصولی کیس کے خلاف درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی ،عدالت نے پنجاب حکومت ،،سیکرٹری زراعت سمیت دیگر فریقین کو جواب کے لئے 2 فروری تک مہلت دے دی عدالت نے شوگرز ملز سے مارکیٹ کمیٹیوں کی فیس وصولی روکنے کے حکم میں توسیع برقرار رکھی عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء کو دلائل دینے کی ہدایت کر دی،

    جسٹس شاہد وحید نے جے ڈی ڈبلیو سمیت دیگرز شوگرز ملز کی درخواستوں پر سماعت کی ،ہنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل راجہ عارف پیش ہوئے ،۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ پنجاب حکومت ، سیکرٹری زراعت سمیت دیگرز کے جواب کے لئے مہلت دی جائے

    شوگر ملز کی درخواستوں میں پنجاب حکومت، سیکرٹری زراعت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف رکھا گیا ہے کہ مارکیٹ کمیٹیوں کی فیس وصولی کی جاتی رہی ہے،پنجاب حکومت نے مارکیٹ کمیٹیوں کی جانب سے فیس وصولی کے لئے نیا قانون بنادیا ہے، سیکرٹری زراعت نے مارکیٹ کمیٹیوں کے فیس وصولی کے متعلق 2 اگست، 7 اگست اور 7 جولائی2021کو نوٹیفکیشن جاری کئے، مسیکرٹری زراعت کی جانب سے جاری کئے گئے تینوں نوٹیفکیشن خلاف قانون ہیں،عدالت مارکیٹ کمٹیوں کی فیس وصولی کے متعلق 2 اگست، 7 اگست اور 7 جولائی کے نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے، اکیس کے حتمی فیصلے تک مارکیٹ کمٹیوں کی فیس وصولی کے متعلق 2 اگست,7 اگست اور 7جولائی کے نوٹفکیشن معطل کئے جائیں

    جہانگیر ترین فیصلہ کر لیں پارٹی میں رہنا ہے یا نہیں، میرے ساتھ بھی زیادتی ہوتی رہی،پی ٹی آئی رہنما برس پڑے

    جہانگیر ترین گروپ کی آج کس شخصیت سے ملاقات طے؟ پنجاب میں تہلکہ مچ گیا

    جہانگیر ترین گروپ کا آج ہونے والا اجلاس ایک بار پھر موخر

    جہانگیر ترین بارے رپورٹ وزیراعظم کو پیش،اہم شخصیت کا بڑا دعویٰ

    وزیراعظم نے جہانگیر ترین بارے کیا رپورٹ مانگی تھی؟ بیرسٹر علی ظفر کا انکشاف

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین بارے درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    بریکنگ..شہزاد اکبر کھل کر جہانگیر ترین گروپ کیخلاف آ گئے، مقدمہ درج کروا دیا

    جہانگیر ترین کیخلاف کاروائی سے پہلے عدالت کو بتانا ہو گا،عدالت کا حکم، درخواست ضمانت واپس

    جہانگیر ترین کی شوگر ملز کے‌ حوالہ سے درخواست کیوں مسترد ہوئی؟ تحریری فیصلہ جاری

    شوگر مافیا کے سامنے بے بس تھے،رمضان میں چینی کی قیمتیں کتنی بڑھائی جا رہی تھیں؟ شہزاد اکبر

    وکلا پڑھے بغیر ہر چیز کو چیلنج کر دیتے ہیں، رمضان شوگر مل کیس میں عدالت کے ریمارکس

    ٹیکس کے نفاذ کے بعد شوگر ملز کاٹیکس دو گنا بڑھ گیا، شہزاد اکبر

  • کھوکھوں سے مارکیٹ کو آگ لگ گئی

    کھوکھوں سے مارکیٹ کو آگ لگ گئی

    قصور
    کھوکھوں سے پوری مارکیٹ کو آگ لگ گئی لاکھوں کا نقصان ہو گیا
    تفصیلات کے مطابق رات گئے پتوکی پرانی غلہ منڈی میں کھوکھا جات کو شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگ گئی جس سے متعدد کھوکھا جات سڑ کر خاکستر ہوگئے جس کی بدولت دوکان داروں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہو گیا
    خاکستر کھوکھا جات میں کپڑے ،پلاسٹک ،کتابوں کی جلد کی دوکانیں زد میں آئی
    ریسکیو 1122 ٹیمیں آگ پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام رہیں جس سے
    آگ کی شدت میں کئی گنا اضافہ تاہم کافی دیر بعد رات کے آخری پہر مقامی لوگوں نے ریسکیو 1122 کے ساتھ مل کر آگ پر قابو پایا

  • مارکیٹ مالک نے کرائے معاف کر دیئے

    مارکیٹ مالک نے کرائے معاف کر دیئے

    قصور الہ آباد میں حاجی بشیر المعروف مشیناں والے نے اپنی مارکیٹ کے دکانداروں کا کرایہ معاف کر دیا کرایہ داروں کی دعائیں
    تفصیلات کے مطابق حاجی بشیر احمد المعروف مشیناں والے نے اپنی مارکیٹ کے تمام کرایہ داروں کو دکانوں کا دو ماہ کا کرسیہ کرونا کی وجہ سے معاف کر دیا ہے
    مارکیٹ کے دکانداروں نے حاجی صاحب کو دعیروں دعائی دیں اور کہا کہ یہ ہوتی ہے انسان پروری اور خوف خدا جو انسانوں کی مجبوریوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ مجبوریوں میں تعاون فی سبیل اللّٰہ کرتے ہیں اللہ پاک حاجی بشیر صاحب اور ان کی فیملی پر مزید رحمتیں نازل فرمائے