Baaghi TV

Tag: مارگلہ ہلز

  • جتنی بربادی خیبر پختونخواہ میں مارگلہ ہلز میں ہوئی سوچ نہیں سکتے،جسٹس مسرت ہلالی

    جتنی بربادی خیبر پختونخواہ میں مارگلہ ہلز میں ہوئی سوچ نہیں سکتے،جسٹس مسرت ہلالی

    سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز میں غیر قانونی تعمیرات قائم ہونے پر سی ڈی اے سے رپورٹ طلب کرلی ہے

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مارگلہ ہلز پر غیر قانونی تعمیرات کے کیس کی سماعت کی،سی ڈی اے وکیل اور ڈی جی ماحولیات عدالت میں پیش ہوئے، مونال ریسٹورنٹ کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی بینچ کے حکم پر ہمارے ریسٹورینٹ کو گرا دیا گیا مگر مارگلہ ہلز میں ابھی 134 کے قریب ہوٹل ریسٹورینٹس اور کھوکھے قائم ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مارگلہ ہلز پروٹیکٹڈ ایریا ہے، وہاں ہر قسم کی تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے،جسٹس مظہر نے استفسار کیا کہ ابھی کتنی غیر قانونی تعمیرات مارگلہ ہلز میں قائم ہیں، وکیل میونسپل کارپوریش نے بتایا کہ مارگلہ ہلز پر 80 سے 132 تعمیرات باقی ہیں جب کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں اسلام آباد کلب بھی آجاتا ہے، جسٹس نعیم نے کہا کہ 1960 کے ماسٹرپلان میں سپریم کورٹ بھی مارگلہ نیشنل پارک کی حدود میں تعمیر ہوا، سی ڈی اے پہلے مونال کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کو دیکھ لے

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف مونال کےلیے تھا؟ عدالت نےمارگلہ ہلز میں تعمیرات سے متعلق اصول طے کردیا ہے، سی ڈی اے اپنا کام کیوں نہیں کرتا؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سی ڈی اے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کیوں کر رہا ہے؟ڈی جی ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ مارگلہ ہلز میں ابھی 50 سے زاہد کھوکھے چل رہے ہیں جو مارگلہ ہلز میں ماحولیاتی مسائل کا سبب بن رہے ہیں، عدالتی احکامات میں کھوکھوں کو گرانے سے روک دیا گیا تھا۔ آئینی بینچ نے سی ڈی اے سے مارگلہ ہلز میں غیر قانونی تعمیرات پر رپورٹ طلب کرلی۔

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ: مارگلہ ہلز نیشنل غیر قانونی تعمیرات کیس میں دلچسپ صورتحال سامنے آئی ہے،وکیل میونسپل کارپوریشن نے کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں اسلام آباد کلب بھی آجاتا ہے ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ بات مارگلہ ہلز کی ہوتی ہے آپ سپریم کورٹ اسلام آباد کلب چلے جاتے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جتنی بربادی خیبر پختونخواہ میں مارگلہ ہلز میں ہوئی سوچ نہیں سکتے،ناران جاکر دیکھیں وہاں کیا حال ہے،

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    اسلام آباد: مونال ریسٹورنٹ کا نام تبدیل کرکے "مارگلہ ویو پوائنٹ” رکھ دیا گیا

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں کمرشل سرگرمیوں کو روکنے کا تاریخی فیصلہ

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

  • جولائی کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں بارشوں کی پیشگوئی

    جولائی کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں بارشوں کی پیشگوئی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا

    اجلاس کی صدارت سینیٹر شیری رحمان نے کی،وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم بھی اجلاس میں شریک ہوئیں،ڈی جی محکمہ موسمیات اور چیئرمین این ڈی ایم اے بھی اجلاس میں شریک ہوئے، رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں حکومتی سپورٹ کا ایک بہترین ذریعہ ہیں،مون سون سے متعلق تمام اداروں کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہے،تمام صوبوں میں مون سون سے متعلق اقدامات کیے جا رہے ہیں،

    ہوا کے دباؤ کے باعث مون سون میں زیادہ بارشوں کا امکان ہے،چیئرمین این ڈی ایم اے
    چیئرمین این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جون جولائی میں درجہ حرارت پہلے کی نسبت زیادہ رہا، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہر سال درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے،بحریہ عرب میں ہوا کا شدید دباؤ ہے،ہوا کے دباؤ کے باعث مون سون میں زیادہ بارشوں کا امکان ہے،مون سون کا اسپیل بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے کا امکان ہے،جولائی کے پہلے ہفتے میں کچھ مقامات پر ہیوی شاور کے واقعات ہوئے، این ای او سی 6 سے 8 ماہ پہلے ڈیزاسٹرز کی پیشگوئی کرسکتا ہے،جولائی کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں بارشوں کی پیشگوئی ہے،بھارتی دریاوں سے پانی کا بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے،جولائی اگست میں چاروں صوبوں میں بارشوں کا امکان ہے،جولائی کے دوسرے ہفتے اور اگست کے تیسرے ہفتے میں پنجاب میں بارش کا امکان ہے،جولائی کے دوسرے ہفتے اور چوتھے ہفتے میں سندھ میں بارش کا امکان ہے،محکمہ موسمیات کے آلات پرانے ہوچکے ہیں، سینیٹر قرت العین مری نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ دس دس دن اپ ڈیٹ نہیں ہوتی، ڈی جی محکمہ موسمیات نے کہا کہ ہماری ویب سائٹ روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ ہوتی ہے،شیری رحمان نے کہا کہ گرانٹس نہ ہونے کی وجہ سے آلات اپ ڈیٹ نہیں ہیں، محکمہ موسمیات کے آلات اپ ڈیٹ کرنے کیلئے بھاری فنڈز چاہیے تھے،2022 کے سیلاب کے بعد تمام فنڈز سیلاب متاثرہ علاقوں کے لئےمختص کرلیے ،

    مون سون میں سیلاب کا ممکنہ خدشہ،وزارت موسمیاتی تبدیلی نے صوبوں سے ریلیف میٹیریل کی لسٹ مانگ لی،رومینہ خورشید عالم نےکہا کہ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹیز کو سیلاب کی صورت میں کن اشیاء کی ضرورت ہوگی، صوبائی حکومتوں، پی ڈی ایم ایز سے ضروری اشیاء کی لسٹ مانگی ہے، صوبائی حکومتوں اور اتھارٹیز کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ دریاوں میں پانی کے بہاو بڑھنے کا اندازہ لگایا جارہا ہے،2022 کے سیلاب کو مدنظر رکھ کر دریاوں کے پھیلاو کا تخمینہ لگایا گیا ہے،دریاوں کے ممکنہ پھیلاو کا ڈیٹا صوبائی حکومتوں کیساتھ شیئر کردیا گیا، کونسی این جی او کو کیا سامان تقسیم کرنا ہے، طے کرلیا گیا ہے،

    این ڈی ایم اے نے نیشنل انفراسٹرکچر کی آڈٹ کی تجویز دے دی،این ڈی ایم اے نے صوبائی حکومتوں کو مراسلہ لکھ دیا،چیئرمین این ڈی ایم اے نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کو بریفنگ دی اور کہا کہ رہائشی عمارتوں ، کمرشل عمارتوں کا آڈٹ کروایا جائے، این ڈی ایم اے نے نیشنل ہائی ویز اور پلوں کے آڈٹ کروانے کی تجویز دی ہے،یہ پتہ لگانا ضروری ہے کہ گزشتہ سیلاب سے انفراسٹرکچر کو کیا نقصان پہنچا،

    مارگلہ ہلز میں 22 آگ لگنے کے واقعات،22 جولائی سے شجرکاری مہم شروع کرینگے،چیئرمین سی ڈی اے
    محمد علی رندھاوا چیئرمین سی ڈی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مارگلہ ہلز میں 22 آگ لگنے کے واقعات ہیٹ ویو کے دوران ہوئے،کچھ چھوٹی اور کچھ بڑے پیمانے پر آگ تھی،ہمیں مارگلہ ہلز کا تحفظ کرنا ہے، ہم مارگلہ ہلز کے لیے ماہرین کو لا رہے ہیں،ہم نے 11 کے قریب ایف آئی آر بھی کروائیں،شیری رحمان نے کہا کہ آگ لگ کیوں رہی ہے وجہ بتائیں ممبران کو بتائیں، چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات کچھ نیچرل تھی اور کچھ جان بوجھ کر لگائی گئی،ہم تفصیلی انکوائری کی طرف جا رہے ہیں،تین بندے گرفتار کیے ہیں،
    وزارت موسمیاتی تبدیلی سے بھی بات چیت ہے معاملے پر،این ڈی ایم اے سے بھی ماہرین لے رہے ہیں،مارگلہ ہلز پر شجرکاری کی ضرورت ہے اور یہ ہماری اولین ترجیح ہے،پھل دار درخت اور سایہ دار درخت لگے گا،سفیدہ اور میلبری ہم نہیں لگا رہے، شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں ایک بڑا سب سے پراجیکٹ ہے اور وہ ہے مینگرروز،کاربن ایک الگ سبجیکٹ ہے،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ جکرانڈہ، شیشم، نیم کے درخت لگا رہے ہیں،اور بھی متعدد درخت ہیں جلد ہی تمام تفصیلات فراہم کریں گے،ہم اس بار صرف مارگلہ ہلز پر شجرکاری کریں گے،22 جولائی سے شجرکاری مہم مارگلہ ہلز پر شروع کریں گے،

    ممبر کمیٹی ڈاکٹر زرقا نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور محکمہ جنگلات میں کتنے لوگ ہیں جو درختوں کے بارے میں جانتے ہیں، میں نے اپنی جیب سے ڈیڑھ لاکھ درخت مری ہلز میں لگوائے،شیری رحمان نے کہا کہ ہمیں کمیٹی اجلاسوں کے لیے 31 جولائی سے پہلے بکنگ کروانا ہوگی،چیئرپرسن اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ رائنا سعید نے کہا کہ ایک ایکو لوجیکل پلان کی ضرورت ہے ہمیں، رائنا سعید نے کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی،

    موسمیاتی شعبے میں سرمایہ کاری سے ماحولیات کے تحفظ میں مدد ملے گی، صدر مملکت

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    موسمیاتی تبدیلی،پرواز میں ہچکولے،رخ موڈ دیا گیا، 30 مسافر زخمی

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مائننگ پر تشویش کا اظہار

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مائننگ پر تشویش کا اظہار

    سپریم کورٹ ،جنگلات کی زمینوں پر قبضے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے مارگلہ ہلز میں مائننگ پر تشویش کا اظہارکیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی طرف والے مارگلہ کے پہاڑوں پر درخت نظر آتے ہیں، مارگلہ ہلز کی دوسری طرف مائننگ ہو رہی ہے، جنگلات کی زمینوں پر تجاویزات قائم کی جا رہی ہیں،حکومتیں درخت لگانے کیلئے کیا اقدامات کر رہی ہیں، صوبائی حکومتیں بتائیں کتنے درخت بیچے گئے، اب تک کتنے درخت لگائے جا چکے ہیں،کیا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت محکمہ جنگلات کی زمین لیز پر دی جا رہی ہے، صوبائی حکومتوں کے وکلاء نےجواب دیا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں تمام لیزز منسوخ کر دی گئی ہیں،

    عدالت نے چاروں صوبوں سے جنگلات کی زمینوں کو واگراز کرنے سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں ،جنگلات کی زمینوں کو واگراز کرواکر کتنے درخت لگائے گئے، تفصیلات طلب کر لی گئیں،عدالت نے مارگلہ کے پہاڑوں پر مائننگ کے بارے میں تفصیلات طلب کر لیں کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی گئی

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

  • مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کےخلاف اپیل کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کےخلاف اپیل کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے دارالحکومت میں مارگلہ ہلز پر قائم مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کےخلاف مونال کی اپیل پر نمبر لگا کراپیل کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔

    باغی ٹی وی :دوران سماعت مونال کے وکیل نے نمبرلگانے کے بعد اپیلوں پرآج ہی سماعت کرنے کی استدعا کی، جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آگیا ہے؟ مونال کے وکیل کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلہ ملا نہ ہی مختصر حکمنامہ کی تصدیق شدہ نقل ملی۔ کیس فائل فیصلہ دینے والے جج کے چیمبر میں ہے اس لیے نقل نہیں مل سکی۔

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    عدالت فیصلے کی تصدیق شدہ نقل کے بغیر ہی سماعت کر لے، اپیل کیساتھ لگائی گئی فیصلے کی نقل ہائیکورٹ کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے۔

    یاد رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے مونال ریسٹورنٹ کو جنوری میں سیل کرنے کا حکم دیا تھا، عدالت نے سی ڈی اے کو نیوی گالف کورس کا قبضہ لینے اورسیکرٹری دفاع ‏کوتجاوزات کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا تھا چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے مارگلہ ہلزنیشنل پارک میں غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کیسز پرسماعت کی تھی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کیسز پر سماعت کے دوران یہ حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ نیشنل پارک ایریا محفوظ شدہ علاقہ ہے، اس میں کوئی سرگرمی نہیں ہو سکتی، نیشنل پارک ایریا میں کوئی گھاس بھی نہیں کاٹ سکتا۔

    مونال ریسٹورنٹ کا توسیعی حصہ گرا دیا جائے،سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ جاری

    چیف جسٹس ہائی کورٹ نے استفسار کیا تھا کہ مونال کی 8 ہزار ایکڑ زمین کا دعویٰ کون کر رہا ہے؟ اس عدالت کو نیشنل پارک کا تحفظ کرنا ہے، وہ 8 ہزار ایکڑ زمین اب نیشنل پارک ایریا کا حصہ ہے، جسے اب 1979 کے قانون کے تحت مینج کیا جائے گا مسلح افواج خودمختار ادارے نہیں ہیں، تمام آرمڈ فورسز کو وزارت دفاع کنٹرول کرتی ہے اور سیکریٹری دفاع یہاں موجود ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ یہ عدالت وسیع عوامی مفاد کا تحفظ کرے گی، مسلح افواج کومتنازعہ نہیں بنانے دیگی، وفاقی حکومت کی زمین پرکوئی گھاس بھی نہیں کاٹ سکتا، سب سے پہلے خود کا احتساب کرنا ہے، لاقانونیت کی وجہ سے غریب غریب رہ گیا۔

    فورسزکے 3 سیکٹرزمیں قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو نتائج سنگین ہونگے،عدالت

    عدالت عالیہ نے حکم دیا تھا کہ مونال کی لیز ختم ہو چکی ہے تو اسے سیل کریں، ساتھ ہی تحفظ ماحولیات کے ادارے کو تعمیرات سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی نشان دہی جلد مکمل کرنے اور ملیٹری ڈائریکٹوریٹ فارمز کا 8 ہزار ایکڑ اراضی پر دعویٰ بھی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیاتھا کہ 8 ہزار ایکڑ زمین مارگلہ نیشنل پارک کا حصہ سمجھی جائے۔

    بعد ازاں 13 جنوری کو پاک بحریہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیوی سیلنگ کلب گرانے اور پاکستان نیول فارمز کی اراضی تحویل میں لینے کے ساتھ ساتھ نیول گالف کورس کو کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کی تحویل میں دینے کے فیصلے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی تھی۔

    انٹراکورٹ اپیل پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دورکنی اسپیشل بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس پر 7 فروری کو سماعت پرعدالت نے مونال ریسٹورنٹ کا سامان اٹھانے کی مہلت دیے بغیر قبضہ مقامی انتظامیہ کو دینے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس حوالے سے مناسب تحریری حکم نامہ جاری کر دیں گے-

  • قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال ہے،عدالت

    قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال ہے،عدالت

    قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،مارگلہ نیشنل پارک کی اراضی پر تجاوزات کے کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا، تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ معاون خصوصی ملک امین اسلم کی سربراہی میں عدالتی حکم پر تشکیل کردہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی،،کمیٹی کی رپورٹ اسلام آبادمیں قانون کی حکمرانی کی ابتر حالت کی عکاسی کرتی ہے،مارگلہ نیشنل پارک کے تحفظ میں ناکامی کے ماحولیاتی اثرات آنے والی نسلوں پر پڑیں گے رپورٹ میں نقشے میں مارگلہ نیشنل پارک کے غیر قانونی تجاوز کردہ علاقوں کی نشاندہی کی گئی تجاوزات کی گئی جگہوں میں بحریہ ہیڈ کوارٹر اور نیول گالف کلب بھی شامل ہے،مارگلہ نیشنل پارک میں 8603 ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ کی قانونی حیثیت سے مطمئن نہ کروایاجاسکا ،غیر قانونی تجاوزات اور ریگولیٹری اتھارٹیز کی غیر فعالیت نے مفاد عامہ کے اہم سوالات کو جنم دیا،اسلام آبادمیں قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال کی غیر معمولی عکاسی ہے،اٹارنی جنرل، چیئرمین سی ڈی اے اور ملک امین اسلم ذاتی طور پر پیش ہوں، تینوں افراد بتائیں اسلام آباد میں قوانین کا نفاذ کیوں نہیں کیا جا رہا ؟ ایگزیکٹو اتھارٹیز کیوں مارگلہ نیشنل پارک پر تجاوزات کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہیں ریماؤنٹ ویٹرنری اینڈ فارمز ڈائریکٹوریٹ کو 8603 ایکڑ زمین کی مبینہ الاٹمنٹ آئین کی خلاف ورزی ہے،الاٹمنٹس بظاہر سی ڈی اے اور اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈیننس کی بھی خلاف ورزی ہیں کیس کی آئندہ سماعت 11جنوری 2022 کو ہو گی،

    میرا کچرا،میری ذمہ داری،برطانوی ہائی کمشنر ایک بار پھر مارگلہ کی پہاڑیوں پر پہنچ گئے

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد