Baaghi TV

Tag: ماسکو

  • مغرب کا مقابلہ کرنے کیلیے ہمارے پاس بہت سے ہتھیار ہیں، روس کی دھمکی

    مغرب کا مقابلہ کرنے کیلیے ہمارے پاس بہت سے ہتھیار ہیں، روس کی دھمکی

    ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے مغربی ممالک کو دھمکی دی ہے کہ ہمارے پاس کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے بہت سے ہتھیار ہیں۔

    سرکاری ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں روسی صدر پوٹن نے روسی افواج کو متحرک رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک روس کے خلاف نیوکلیئر بلیک میلنگ میں اپنی حدوں سے آگے بڑھ گئے۔

    صدر پوٹن نے مغربی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ روس اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کے دفاع کے لیے تمام وسائل استعمال کرے گا۔ ہمارے پاس مغربی جارحیت کا جواب دینے کے لیے بہت ہتھیار ہیں۔

    روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک نے یوکرین کو جنگ میں دھکیلا جب کہ روس کا مقصد ڈونباس کو آزاد کرانا ہے۔ مغرب یوکرین اور روس کے درمیان امن نہیں چاہتا اور روس یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں کے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔

    خیال رہے کہ صدر پوٹن کی جانب سے روسی افواج کو متحرک کرنے کے اعلان پر روسی وزیر دفاع نے بتایا کہ 3 لاکھ روسی ریزرو فورسز کو متحرک کریں گے۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ:امریکہ دنیا کوخطرات میں دھکیل رہا ہے: پوتن

    مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ:امریکہ دنیا کوخطرات میں دھکیل رہا ہے: پوتن

    ماسکو:روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مغرب کی طرف سے ماسکو پر عائد پابندیوں کو "کم نظری” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔پوتن کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ:امریکہ دنیا کوخطرات میں دھکیل رہا ہے

    پیوتن نے یہ ریمارکس بدھ کو ملک کے مشرق بعید کے بندرگاہی شہر ولادی ووستوک میں ایسٹرن اکنامک فورم سے خطاب کے دوران کہے اور کہا کہ مغرب نے پوری دنیا پر اپنا تسلط مسلط کرنے کی "جارحانہ” کوشش سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

    "وبائی بیماری کی جگہ عالمی نوعیت کے نئے چیلنجز نے لے لی ہے، جو پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے، میں مغرب میں پابندیوں کے رش کے بارے میں بات کر رہا ہوں اور مغرب کی جانب سے دوسرے ممالک پر اپنا طریقہ کار مسلط کرنے کی صریح جارحانہ کوششوں کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ ان کی خودمختاری کو دور کرنا، انہیں ان کی مرضی کے تابع کرنے کے لیے،‘‘ انہوں نے کہا۔

    پوتن نے کہا کہ مغرب بین الاقوامی تعلقات میں "ناقابل واپسی ٹیکٹونک تبدیلیوں” کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہا ہے اور یہ کہ ایشیا پیسیفک خطہ انسانی وسائل، سرمائے اور پیداواری صلاحیتوں کے لیے مقناطیس بن گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود مغربی ممالک پرانے عالمی نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا فائدہ انہیں ہی پہنچا۔

    روسی صدر نے مزید کہا کہ یوکرین میں اس کے فوجی حملے کے جواب میں مغربی پابندیوں کے نفاذ کے بعد روس نے مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں داخل ہونے کے مزید مواقع دیکھے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ روس کو تنہا کر کے کوئی نہیں جیت سکے گا، یہ ناممکن ہے۔

    پوتن نے یہ بھی اصرار کیا کہ یوکرین میں فوجی کارروائیوں کا مقصد روس کی خودمختاری کو مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ یوکرین جاری جنگ کے دوران اناج برآمد کرنے کے قابل ہو۔

    روسی صدر نے یہ بھی متنبہ کیا کہ خوراک کی عالمی منڈی میں مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایک انسانی تباہی آنے والی ہے۔

    24 فروری کو یوکرین میں روس کے "خصوصی فوجی آپریشن” کے آغاز کے بعد سے، امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے ماسکو پر بے مثال پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    جاری جنگ اور یوکرین کی بحیرہ اسود کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی نے یوکرین کو اپنی زرعی مصنوعات کی ترسیل سے روک کر عالمی خوراک کی فراہمی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جولائی میں، روس اور یوکرین نے اقوام متحدہ اور ترکی کے ساتھ اناج کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے پر ایک معاہدہ کیا تھا۔

    روس اور یوکرین مل کر گندم کی عالمی سپلائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھتے ہیں۔خوراک کے بحران کے علاوہ مغرب کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں نے بھی یورپ میں توانائی کے بدترین بحران کو جنم دیا ہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • روسی افواج کے تابڑتوڑحملے یوکرینی افواج کو بھاری جانی ومالی نقصان

    روسی افواج کے تابڑتوڑحملے یوکرینی افواج کو بھاری جانی ومالی نقصان

    ماسکو:یوکرین جنگ کو چھے مہینے ہوگئے لیکن اس جنگ کے عنقریب بند ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اس دوران روسی فوج کی جانب سے یوکرینی فوج کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں‎ نئے اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں ۔

    روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو انجام پانے والی روسی فوج کی ایک روزہ خصوصی کارروائی میں بارہ سو سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔

    روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے اس ایک روزہ خصوصی فوجی آپریشن میں یوکرینی فوج کے چوراسی ٹینک، چھیالیس عام فوجی اورسینتیس بکتر بند اور آٹھ منی ٹرک تباہ کئے ہیں ۔

    دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے یوکرین کے لئے فوجی تربیت کے مشن کے بارے میں یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی خبر دی ہے۔

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بورل نے پراگ میں یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کے موقع پر کہا ہے کہ صورت حال انتہائی ابتر بنی ہوئی ہے ۔ جوزف بورل کا کہنا ہے کہ یورپ، یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے لئے وزرائے دفاع کی اس نشست میں فوجی تربیت کے مشن کے منصوبے کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے کہا کہ فوجی تربیت کے اس مشن کے بارے میں یورپی ملکوں کے وزرائے دفاع کی جانب سے مجموعی طور پر سیاسی مفاہمت کے حصول کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے قبل جوزف بوریل نے کہا تھا کہ یہ بات منطقی نظر آتی ہے کہ جو جنگ اب تک جاری رہی ہے اسے مادی حمایت سے بھی زیادہ دوسری چیزوں کی ضرورت ہے جن میں فوجی تربیت اور فوج کی تعمیر نو کی ضرورت بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ یورپی ملکوں اور خاص طور سے امریکہ نے جنگ یوکرین میں روس کے خلاف پابندیاں عائد اور کیف کو مختلف قسم کے ہتھیار فراہم کر کے نہ صرف یہ کہ جنگ یوکرین کا خاتمہ کرانے میں کوئی مدد و تعاون نہیں کیا بلکہ اس جنگ کی آگ کے شعلے زیادہ سے زیادہ بھڑکانے میں جو کچھ بھی ان سے کرتے بنا وہ انھوں نے انجام دیا تاکہ جنگ و خونریزی کا بازار مسلسل گرم رہے۔

    یہ ایسی حالت میں ہے کہ روس نے بارہا اعلان کیا ہے کہ یورپی ملکوں کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی صرف جنگ طویل ہونے کا باعث بنے گی جبکہ ماسکو نے خبردار بھی کیا ہے کہ روس، یوکرین کو فراہم کئے جانے والے ہتھیاروں کو بھی تباہ کرنے اور ان ہتھیاروں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرے گا۔

  • یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    ماسکو:روس نے یوکرین میں فضائی حملوں کے دوران درجنوں غیرملکی جنگجوؤں اور یوکرینی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    روسی وزارت دفاع کے مطابق، جنوب مشرقی یوکرین میں فضائی حملوں میں 80 سے زائد غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے۔ روسی وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ بہت سے غیرملکی جنگجو نامناسب تربیت اور جنگی تجربہ نہ رکھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    اپریل میں روسی فوج نے اندازہ لگایا تھا کہ یوکرین میں 7000غیرملکی فوجی موجود ہیں تاہم اب ان کی تعداد 3000 سے بھی کم رہ گئی ہے۔

    ادھر روس اور یوکرین کی جنگ کے تناظر میں ترک صدر طیب اردوغان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع روس کے سیاحتی شہر سوچی میں ہوئی۔

    روس یوکرین تنازعہ:توانائی بحران:یورپ کی سلامتی کوخطرات لاحق ہوگئے

    موصولہ رپورٹ کے مطابق، روس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی اورعالمی چیلنجز کے باوجود باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے سمیت اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا اور شام میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کے عزم کا اعادہ کیا۔

    برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کےلیے یوکرینی فوجیوں کواسکاٹ لینڈ میں ٹریننگ دینا شروع

    خیال رہے کہ ترکی کی ثالثی میں گزشتہ ماہ استنبول میں یوکرین، روس اور اقوام متحدہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئی تھی۔

  • سروگیسی کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کے الزام پر 3 سال قید کی سزا

    سروگیسی کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کے الزام پر 3 سال قید کی سزا

    ماسکو: روس میں پہلی مرتبہ سروگیسی کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کے الزام پر عدالت نےماں کو 3 سال قید کی سزا سنادی ہے ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق عدالت کا کہنا ہے کہ 29سالہ تمارا یاندیو نے چینی خاندان کیلئے سروگیسی ماں کی خدمت انجام دے کر سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے جو انسانی اسمگلنگ کے مترادف ہے۔

    عدلت نے نہ صرف 29 سالہ خاتون بلکہ اس سارے عمل کو منظم انداز میں چلانے والی کمپنی ڈیڈیلیا کے مالکان پر بھی فرد جرم عائد کردی ہے۔

    روسی خاتون تمارانے انٹر نیٹ پر اشتہار کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کیں اور 13000ڈالر کی بھاری رقم کے عوض سروگیٹ ماں کا کردار ادا کیا اس عمل سے گزرنے کیلئے خاتون نے 2019 میں کمبوڈیا کا دورہ کیا اور 2020میں روس واپس آکر زچگی کے عمل سے گزریں۔

    واضح رہے کے روس میں سروگیسی کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور اس حوالے بے شمار کلینکس موجود ہیں، تاہم غیر ملکیوں کیلئے انجام دیا جانے والا یہ عمل مجرمانہ غفلت شمار کرتے ہوئے اسے انسانی اسمگلنگ کے برابر قرار دیا جاتا ہے۔

    حال ہی میں روسی پارلیمنٹ میں پاس ہو نے والے ایک بل میں روسی خواتین پر غیرملکیوں کیلئے سروگیسی کے خدمت انجام دینے پر پا بندی ہے۔

    اس عمل میں والدین کا اسپرم اور ایگ حاصل کرکے لیبارٹری میں ایمبریو بنایا جاتا ہے، پھر اسے کسی دوسری خاتون (جو اس جوڑے کے بچے کو جنم دینے کے لیے تیار ہو) کے یوٹرس میں انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔

    پھر 9 ماہ وہ ماں اس جوڑے کے بچے کو اپنی کوکھ میں پالتی ہے، یعنی جینیاتی طور پر بچہ جوڑے کا ہی ہوتا ہے بس بچہ دانی کسی اور کی استعمال کی جاتی ہے، وہ خواتین جن کی عمر زیادہ ہو یا انہیں ہارمونل مسائل ہوں، انہیں ڈاکٹرز سروگیسی کا مشورہ دیتے ہیں۔

    مسلمان رہنماؤں نے سروگیسی کے عمل کو بڑی حد تک غیر قانونی قرار دیا ہے تاہم مسلمانوں کاایک چھوٹا طبقہ یہ دعوی کرتا ہے کہ سروگیسی کا عمل اسلامی قانون سے متصادم نہیں ہے۔

    کیتھولک چرچ عام طور پر سروگیسی کے خلاف ہے جسے وہ غیر اخلاقی پیدائش، شادی اور زندگی کے موضوعات سے متعلق بائبل کے متن کے برخلاف قرار دیتا ہے۔ شوہر اور بیوی کا، جوڑے کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی مداخلت سے (نطفہ یا بیضہ، سروگیٹ یوٹرس کا عطیہ) انتہائی غیر اخلاقی مانا جاتا ہے۔

    ہندو مت اور معاون تولید کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ہے حتیٰ کہ ہندو مذہب کے دیوی دیوتاؤں کے دور میں بھی متھرا کے بادشاہ نے اپنی بہن کو قید کرکے اس کے 6 نومولود بچوں کو قتل کیا تو اس کی بہن دیوکی کے بچے کی پیدائش سروگیسی کے ذریعے ہی ممکن ہوئی۔

  • یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

    یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

    ماسکو:یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں،اطلاعات کے مطابق روس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یوکرائنی فوج کے 200 سے زیادہ ارکان "انسانیت کے امن اور سلامتی کے خلاف جرائم” میں ملوث ہیں۔

    الیگزینڈر باسٹریکن نے اخبار روزیسکایا گزیٹہ کو بتایا کہ 24 فروری کو روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے یوکرین کی جانب سے خلاف ورزیوں پر 400 سے زائد افراد پر مشتمل 1,300 سے زیادہ فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ کل 92 کمانڈروں اور ماتحتوں پر پہلے ہی جرائم کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے مطابق 220 سے زائد مشتبہ افراد، جن میں یوکرین کی مسلح افواج کی اعلیٰ کمان کے نمائندے اور عام شہریوں پر گولیاں چلانے والے فوجی یونٹس کے کمانڈر بھی شامل تھے، امن و سلامتی کے خلاف جرائم میں ملوث تھے۔ بنی نوع انسان کا، جس کی کوئی پابندی نہیں ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 92 یوکرائنی کمانڈروں اور ماتحتوں کے خلاف الزامات درج کیے گئے ہیں، جن میں سے 96 مشتبہ افراد کو مطلوبہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    "یوکرائنی قوم پرستوں کی طرف سے طاقت کے استعمال کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا،” باسٹریکن نے اصرار کرتے ہوئے کہا، "وہ عوامی جمہوریہ ڈونیٹسک اور لوگانسک پر شدید گولہ باری کر رہے ہیں۔ وہ بے دردی سے پرامن شہریوں، سویلین انفراسٹرکچر بشمول بچوں کے اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

    انہوں نے یوکرائنی افواج پر یہ بھی الزام لگایا کہ انہوں نے "اس کے لیے روسی فوج کو مورد الزام ٹھہرانے کے لیے” اپنی ہی سرزمین پر حملہ کیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ماسکو نے اصرار کیا ہے کہ اس کی فوجیں کبھی بھی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، صرف یوکرین کی افواج اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ یوکرائن کی جانب سے حملوں میں 7,000 سے زیادہ شہری تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے، جن میں گھر، اسکول اور کنڈرگارٹن شامل ہیں، 91،000 سے زائد افراد کو متاثرین کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

    برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جارجیا اور ہالینڈ کے شہریوں کے خلاف بھی کرائے کے جنگجوؤں کے طور پر تنازعہ میں ملوث ہونے پر مجرمانہ مقدمات کا آغاز کیا گیا ہے، جبکہ یوکرائنی قوم پرست یونٹوں پر روسی جنگی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، بیرونی ممالک میں روسی سفارت خانوں پر حملے کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات قائم کیئے جائیں گے

  • عالمی پابندیاں بھی روس کی صنعتی ترقی میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں:ترقی کا سفرجاری

    عالمی پابندیاں بھی روس کی صنعتی ترقی میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں:ترقی کا سفرجاری

    ماسکو :عالمی پابندیاں بھی روس کی صنعتی ترقی میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں:ترقی کا سفرجاری ہے اور اس سلسلے میں روس کی ترقی کے سفر کے بارے میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ قومی ماہی گیری کا شعبہ بیرونی پابندیوں کے باوجود پائیدار ترقی جاری رکھے گا۔

    ماسکو میں میڈیا سے بات چشیت کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھا کہ میں آبی حیاتیاتی وسائل کی پیداوار کے حجم کے اچھے نتائج سے متعلق بات کرنا چاہوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ آج بین الاقوامی منڈی میں ہماری سمندری خوراک کی سپلائی بڑھ رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ روسی ماہی گیری کی صنعت پائیدار ترقی کرتی رہے گی اور اپنی مسابقت کو بڑھاتی رہے گی۔

    پابندیوں کے باوجود روسی ماہی گیری صنعت کی ترقی جاری ہے اسی سلسلے میں روسی صدر نے مزید کہا کہ ریاست یقینی طور پر کمپنیوں اور لیبر ٹیموں کو ترجیحی کاموں کے حل کے لیے مطلوبہ اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

    روس کے سربراہ نے کہا کہ یہ گھریلو پیداوار کے وسائل کی بنیادی ترقی ہے اور اس کی وجہ سے اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی ایک وسیع رینج کے ذریعے مقامی مارکیٹ کی کامیابی ہے۔ ایسی مصنوعات “مختلف درجے کی آمدنی والے شہریوں کے لیے سستی ہونی چاہئیں۔

  • روس کا ایک اور یوکرینی شہر پر مکمل قبضے کا دعویٰ

    روس کا ایک اور یوکرینی شہر پر مکمل قبضے کا دعویٰ

    ماسکو: روس نے ایک اور یوکرینی شہر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کر دیا ہے جبکہ سیوروڈونسک کے میئر نے شہر پر روسی قبضے کی تصدیق کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : "الجزیرہ” کے مطابق روس اس وقت یوکرین کے مشرقی حصے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور روسی فوج نے ہفتوں کی لڑائی کے بعد یوکرین کے ایک اور اہم شہر سیوروڈونسک پر مکمل قبضے کر لیا ہے-

    ماسکو کے حامی علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ روسی فوجی اور ان کے اتحادی لسیچانک میں بھی داخل ہو گئے ہیں اور اگر روس اس شہر پر قبضہ کر لیتا ہے تو وہ لوگانسک کے علاقے کا کنٹرول بھی حاصل کر لے گا۔

    مشرقی یوکرائنی شہر کے میئر نے کہا کہ روسی افواج نے سیوروڈونٹسک پر مکمل قبضہ کر لیا ہے، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک یوکرین کے جنگی میدان میں سب سے بڑے دھچکے کی تصدیق ہو گئی ہے جو کہ سٹریٹجک شہر اور یوکرائنی مزاحمت کی تازہ ترین علامت پر قبضہ کرنے کے لیے ہفتوں کی لڑائی کے بعد ہے۔

    سیویروڈونٹسک کا زوال جو کبھی 100,000 سے زیادہ لوگوں کا گھر تھا، اور اب روسی توپخانے کے ذریعے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے گزشتہ ماہ ماریوپول کی بندرگاہ پر قبضہ کرنے کے بعد سے ماسکو کی سب سے بڑی فتح ہے شہر کے زوال نے یوکرین کے مشرق میں میدان جنگ کو تبدیل کر دیا ہے جہاں فائر پاور میں ماسکو کو اب تک صرف تھوڑا فائدہ حاصل ہوا-

    شہر اب روس کے مکمل قبضے میں ہے”شہر کے میئر اولیکسینڈر سٹرائیک نے قومی ٹیلی ویژن پر کہا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی پیچھے رہ گیا وہ اب یوکرین کے زیر قبضہ علاقے تک نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ شہر کو مؤثر طریقے سے منقطع کر دیا گیا تھا۔

    روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ شہر کے ازوٹ کیمیکل پلانٹ کو مزاحمت کے ایک اور مرکز میں تبدیل کرنے کی یوکرین کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ کامیاب جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں، ایل پی آر [لوہانسک پیپلز ریپبلک] کی عوامی ملیشیا کی اکائیوں نے روسی فوجیوں کی مدد سے مکمل طور پر سیویروڈونٹسک اور بوریوسک کے شہروں کو آزاد کرالیا۔

    دوسری جانب یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ سیوروڈونسک سے فوجیوں کو اس لیے واپس بلا رہے ہیں کہ وہاں مزید ہلاکتوں کو روکا جائے۔ ایک ویڈیو پیغام میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے سیوروڈونسک سمیت اپنے شہر روس کے قبضے سے واپس حاصل کر لیں گے۔

    واضح رہے کہ روس کی یوکرین میں جنگ پانچویں مہینے میں داخل ہو گئی ہے اور سیوروڈونسک پر قبضہ ماسکو کے لیے ایک اہم اسٹریٹیجک فتح ہے۔

    افغانستان میں‌زلزلے سے تباہی پررنجیدہ ہیں:بھرپورتعاون جاری رکھیں گے:چین کا افغان طالبان کوپیغام

  • روسی فوجی آپریشن میں اب تک 10ہزارہمارے فوجی ہلاک ،30ہزارزخمی ہوچکے:یوکرین

    روسی فوجی آپریشن میں اب تک 10ہزارہمارے فوجی ہلاک ،30ہزارزخمی ہوچکے:یوکرین

    کیف:روسی فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک 10,000 یوکرائنی فوجی ہلاک اور 30,000 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے دفتر کے مشیر الیکسی آریسٹووچ نے پیر کو تصدیق کرتے ہوئے یوکرین کے اتنے بڑے نقصان کی تفصیلات بتائیں

    "تقریباً 10,000 مارے گئے۔اور ہر تین مین سے ایک فوجی زخمی ہورہا ہے ، اس حوالے سے یہ تفصیلات بتاتے ہوئے اریستووچ نے یوکرین کے صحافی دمتری گورڈن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا اریستووچ نے نشاندہی کی کہ 96 سے 98 فیصد زخمی فوجی واپس فوج میں واپس آ جاتے ہیں۔

    اس سے قبل یوکرائنی وزارت دفاع الیکسی ریزنیکوف نے کہا تھا کہ یوکرین کے ایک دن میں 100 فوجیوں کو ہلاک اور 500 کو زخمی ہورہے ہیں۔ اس کے بعد، یوکرین کے صدر کے دفتر کے سربراہ کے مشیر میخائل پوڈولیاک نے کہا کہ روزانہ 100 سے 200 یوکرائنی فوجی لڑائی میں مارے جا رہے ہیں۔جبکہ حکمران جماعت کے دھڑے کے سرونٹ آف پیپلز کے سربراہ ڈیوڈ اراکامیا نے یوکرین کی مسلح افواج کے روزانہ 200 سے 500 افراد کے نقصانات کا تخمینہ لگایا۔ 10 جون کو، اریستووچ نے پہلی بار یوکرائنی فوجیوں میں ہونے والے کل نقصانات کی تفصیلات بتائیں

    یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 24 فروری کو ڈونباس جمہوریہ کے سربراہوں کی درخواست کے جواب میں، ایک خصوصی فوجی آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ماسکو کے منصوبوں میں یوکرین کے علاقوں پر قبضہ شامل نہیں ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس کا مقصد مشرقی یوروپی ملک کو غیر فوجی بنانا اور اسے ختم کرنا ہے۔

  • ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی جاری

    ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی جاری

    ماسکو :روسی افواج بڑی حکمت عملی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور اب تو روس یوکرین کے ایک بڑے شہرپرقبضہ کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں یوکرین کے ایک شہر میں فوجی پسپا پوگئے جن کو روسی فوج کی جانب سے آخری وارننگ دی گئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روسی فوج نے سیورو دونیسک شہر میں محصور یوکرینی فوجیوں کو آخری انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔روسی افواج بڑے بڑے اسپیکروں کے ذریعے شہر کے مختلف حصوں میں آوازیں دے رہے ہیں ، ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روسی افواج نے سیورو دونیسک کے صنعتی مرکز میں بچ جانے والے یوکرینی فوجیوں کا رابطہ منقطع کرنے کیلئے شہر کے تینوں پلوں کو تباہ کردیا ہے۔

    یوکرینی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس علاقے میں روس کی فوج نے یوکرین کے فوجیوں کو آخری انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر دیں۔

    یوکرین کی فوج نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے پیج میں بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کے فوجی سیورو دونیسک شہر سے پسپا ہوگئے ہیں اور تقریبا 500 سے زائد یوکرینی شہری آزوت کیمیائی کارخانے میں محصور ہوگئے ہیں۔علاوہ ازیں روسی افواج نے سیورو دونیسک کے صنعتی مرکز میں بچ جانے والے یوکرینی فوجیوں کا رابطہ منقطع کرنے کی کوششیں تیز کرتے ہوئے شہر کے تینوں پلوں کو تباہ کردیا ہے۔

    دوسری طرف عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو بیان میں قوم سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ وہ روس کے تباہ کن حملوں کے سامنے ڈٹے رہیں گے اورکبھی بھی ہتھیار نہیں‌ڈالیں گے ۔یوکرینی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مشرقی خطے میں ہونے والی لڑائی آنے والے چند ہفتوں میں باقاعدہ جنگ کا رخ طے کرے گی۔