Baaghi TV

Tag: ماسکو

  • یوکرین پرروسی حملےکو100روزمکمل:برطانیہ،امریکہ اوراتحادیوں نے پیغام جاری کردیا

    یوکرین پرروسی حملےکو100روزمکمل:برطانیہ،امریکہ اوراتحادیوں نے پیغام جاری کردیا

    لندن :ایک طرف یوکرین پر روسی حملے کو 100 روز مکمل ہوگئے اور اس دوران دوسری طرف روسی افواج کے حملے جاری ہیں اور اس نتیجے میں جنگی کارروائیوں میں یوکرین میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 فروری کو یوکرین میں روسی افواج کے داخلے کے بعد سے اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ لاکھوں بے گھر ہیں۔

    امریکا اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین پر روسی حملے کو جنگی جرم قرار دیا ہے اور اس معاملے پر روس کے احتساب کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    امریکی انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے احتساب اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق ہونے والے اجلاس میں کہا کہ ان 100 دنوں میں دنیا نے دیکھا کہ روسی فورسز نے میٹرنٹی اسپتالوں، ٹرین اسٹیشنز، رہائشی عمارتوں اور گھروں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عام شہری بھی مارے گئے۔انہوں نے کہا کہ امریکا یوکرین میں جاری بربریت پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر بین الاقوامی تحقیقات کی تیاری کررہا ہے۔

    دوسری جانب آئر لینڈ کے اٹارنی جنرل نے یوکرین کے معاملے پر امریکی اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہےکہ آئرلینڈ ان 141 ممالک میں سے ایک ہے جس نے یوکرین کا معاملہ فوری طور پر جرائم کی عالمی عدالت کو بھجوایا۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے یوکرین میں جنگ کے 100 ویں دن پر کہا کہ ماسکو کیف اور یوکرائنی حکومت کے مراکز پر قبضہ کرنے کے اپنے ابتدائی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے لیکن ڈونباس میں حکمت عملی سے کامیابی حاصل کر رہا ہے۔

    برطانوی وزارت دفاع نے ٹویٹر اپ ڈیٹ میں کہا، "روس کے اصل منصوبے کے خلاف پیمائش کی گئی، کوئی بھی سٹریٹجک مقاصد حاصل نہیں ہو سکے،” لیکن اس نے کہا کہ وہ مشرق میں حکمت عملی سے کامیابی حاصل کر رہا ہے اور لوہانسک اوبلاست کے 90 فیصد سے زیادہ کو کنٹرول کر رہا ہے۔

    روس تمام لوہانسک پر قبضہ کرنے کے قریب ہے، جو یوکرین کے دو علاقوں میں سے ایک ہے جو ڈونباس کے نام سے مشہور زمین کا ایک حصہ بناتا ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • روس اور شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی تازہ پابندیاں

    روس اور شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی تازہ پابندیاں

    ماسکو:جیسے جیسے امریکہ اور روس کے درمیان حالات کشیدہ ہورہے ہیں امریکہ کی طرف سے سخت پابندیوں کی دھمکیاں بھی بڑھ رہی ہیں امريکا کی جانب سے شمالی کوريا کے خلاف نئی پابندياں، 2 روسی بینک بھی شامل،اطلاعات کے مطابق امریکہ نے شمالی کوريا کے حالیہ میزائل تجربات کے ردعمل میں اس کے خلاف نئی پابندياں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ان دھمکیوں کے اثرات سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہےکہ امریکہ اس وقت روس اور شمالی کوریا کے خلاف سخت اقدامات کرنا چاہتا ہے، یہ وجہ ہےکہ تازہ امريکی پابندیوں کی زد میں دو روسی بينک، ايک شمالی کوریائی کمپنی اور ايک شخص آيا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے شمالی کوريا کے ہتھياروں کے پروگرام ميں معاونت فراہم کی ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کی طرف سے کہاگیا ہے کہ اس حوالے سے امریکی محکمہ خزانہ کی پابنديوں کے زمرے ميں آنے والے روسی بينکوں کے نام بينک اسپٹنک اور فار ايسٹرن بينک ہيں روس کے بینکوں کے ساتھ ساتھ شمالی کوريائی کمپنی کا نام ايئر کاريو ٹريڈنگ کارپوريشن ہے۔یہ بھی کہا جارہا ہےکہ شمالی کوریا کے خلاف امریکہ نے جونگ یونگ نام نامی جس شمالی کوریائی باشندے پر پابندياں عائد کی ہيں اس پر الزام ہے کہ اس نے بيلسٹک ميزائل کی تياری سے منسلک کمپنيوں کے ساتھ تعاون کيا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی پابندیوں کی یہ نئی پيش رفت اقوام متحدہ کی شمالی کوریا پر مزيد پابنديوں کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پر رائے شماری کے ايک دن بعد سامنے آئی ہے۔
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو شمالی کوریا کے خلاف پیش کی گئی امریکی قرارداد کو روس اور چين نے ويٹو کر ديا تھا جس پر امریکہ کی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ شمالی کوریائی عالمی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے رواں برس کے آغاز سے اب تک 16 مختلف میزائل اور جاسوس سیٹلائٹ تجربات کر چکا ہے۔ ان میزائلوں میں امریکہ تک مار کرنے والے بلیسٹک میزائل بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے امریکہ پر خوف کے سائے ہیں اور امریکہ نے انہیں خطرات کے پیش نظر اب روس اور شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیاہے

     

     

  • روس یوکرین جنگ چوتھا مہینہ شروع:جنگ تیز

    روس یوکرین جنگ چوتھا مہینہ شروع:جنگ تیز

    لندن :روس یوکرین جنگ چوتھا مہینہ شروع:جنگ تیز،اطلاعات کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کو اب تک تین ماہ کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے، دوسری طرف امریکہ کی جانب سے روس پر مغربی پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    تازہ ترین رپورٹ کے مطابق يوکرين پر روسی حملے کو چوتھا ماہ لگ گيا، ڈونباس پر حملے تيز کردیے گئے، روس نے يوکرين کے مشرقی ڈونباس خطے ميں لوہانسک پر بمباری اور حملے تيز کرديے ہيں۔

    لوہانسک کے گورنر نے دعویٰ کيا ہے کہ روس نے پورے خطے پر قبضہ کرنے کے مقصد سے مزيد ہزاروں فوجی طلب کرليے ہيں اور شہريوں کے ليے انخلاء کا وقت اب گزر چکا ہے۔

    يوکرين پر روسی حملے کو شروع ہوئے اب چوتھا ماہ شروع ہوگيا ہے۔ يوکرينی صدر وولودمير زيلنسکی نے بتايا کہ تين ماہ ميں روس نے پندرہ سو ميزائل حملے اور تين ہزار سے زائد فضائی حملے کيے ہيں۔ اس جنگ کی وجہ سے اب تک چھ ملين سے زائد يوکرينی شہری بے گھر ہوچکے ہيں۔

    عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں سے صرف روس ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات حقیقت پسند‘ لگنے لگے ہیں مگر نتیجے پر پہنچنے کے لیے اب بھی وقت چاہیے۔

  • یورپی ممالک کےفیصلےامریکا کےاشاروں پرکیےجاتےہیں:روس

    یورپی ممالک کےفیصلےامریکا کےاشاروں پرکیےجاتےہیں:روس

    ماسکو روس نے یورپی یونین اور امریکا پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک کے فیصلے امریکا کے اشاروں پر کیے جاتے ہیں۔

    آج بروزبدھ روس کے ریڈیو اسپٹنک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروف نے کہا کہ یورپ کے فیصلوں اور بیانات کا انتظامی مرکز درحقیقت یورپی اتحاد کے رکن ممالک کی سرزمین پر نہیں ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ ماریا زخاروف کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ذمے داران کے بیانات امریکی ہدایات کے زیر اثر ہوتے ہیں اور اس بات کا جاننا بہت دشوار ہو گیا ہے کہ یورپی یونین کے کون سے فیصلے خود مختار اور آزاد حیثیت سے کیے جاتے ہیں۔

    یورپی ممالک کے فیصلوں کے حوالے سے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا کا کہنا تھا کہ ان کی حکمت عملی کیا ہے، وہ کیا چاہتے ہیں اور کس چیز کے لیے کوشاں ہیں، ان باتوں کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

    رواں سال 24 فروری کو یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے مغربی اتحادی ممالک جن میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سرفہرست ہیں، یوکرین کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور اس دوران روس پر کئی طرح کی کڑی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

    واضح رہے کہ 27 رکن ممالک پر مشتمل یورپی ممالک کے اتحاد یورپی یونین میں شامل اکثر ممالک نے مشرقی یورپی ملک یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی یونین اور نیٹو اتحاد میں شمولیت اختیار کر لے تاہم روس کے نزدیک یہ سرخ لکیر کے مترادف ہے۔

  • روس کا ردعمل، رومانیہ کے 10 سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا

    روس کا ردعمل، رومانیہ کے 10 سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا

    ماسکو:رومانیہ کی جانب سے روسی سفارت کاروں کو نکالے جانے کے جواب میں روس نے بھی گزشتہ روز ماسکو اور مغرب کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی جنگ کے طور پر اپنی سر زمین سے رومانیہ کے 10 سفارت کاروں کو بے دخل کر دیا۔

    روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روس نے یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کی رومانیہ کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ بلغاریہ کے سفارت خانے کے ایک ملازم کو بھی ملک سے نکال دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اپریل کے آخر میں رومانیہ کی وزارت خارجہ نے دس روسی سفارت کاروں کو دارالحکومت بخارسٹ سے ملک بدر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ رومانیہ کا الزام تھا کہ مذکورہ روسی سفارت کاروں نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق کام نہیں کیا۔

    یہ اقدام یوکرین کے شہر بوچا میں مبینہ طور پر اجتماعی قبروں کی دریافت اور قصبے سے روسی فوجیوں کے انخلاء کے بعد شہریوں کے قتل کی خبروں پر پورے یورپی براعظم کے غم و غصے کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے تناظر میں یورپی ممالک سے اب تک 300 سے زائد روسی سفارت کاروں کو بے دخل کیا جا چکا ہے۔

  • روسی افواج نے یوم فتح منانے سے قبل ایک اورحملہ کردیا

    روسی افواج نے یوم فتح منانے سے قبل ایک اورحملہ کردیا

    ماسکو یوکرین جنگ، روسی افواج کی یومِ فتح سے قبل ماریوپول پر مکمل قبضے کی کوششیں جاری ہیں ،اطلاعات کے مطابق روسی افواج نے یوم فتح منانے سے قبل ایک اورحملہ کردیا

    یوکرین کے جنوبی ساحلی شہر ماریوپول کا قبضہ حاصل کرنے کی جنگ اپنے آخری مراحل میں جاری ہے جبکہ روسی افواج کی ہر ممکن کوشش ہے کہ پیر کے روز سے پہلے اسے فتح کر لیا جائے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی افواج پیر کو وکٹری ڈے یا یومِ فتح سے قبل ماریوپول شہر کا مکمل قبضہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو روس 1945ء میں نازی جرمنی کو شکست دینے کی خوشی میں وکٹری ڈے یا یومِ فتح مناتا ہے۔

    ماریوپول کا مکمل قبضہ حاصل کرنے کی صورت میں روس اس ساحلی شہر اور کریمیا کے درمیان زمینی رابطہ قائم کر سکے گا۔ روس نے سال 2014ء میں کریمیا پر قبضہ کیا تھا جو اب بھی روس نواز علیحدگی پسندوں کے زیر انتظام ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کے حکام نے کہا ہے کہ جنوبی ساحلی شہر ماریوپول میں محصور آزوسٹل اسٹیل پلانٹ سے تمام خواتین، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو نکال لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ، انٹرنیشنل کمیٹی فار ریڈ کراس، روس اور یوکرین کے تعاون سے انخلا کا آپریشن مکمل کیا گیا ہے۔

    خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق یوکرینی فوجی اب بھی آزوسٹل اسٹیل پلانٹ میں موجود ہیں جبکہ روسی افواج نے اسٹیل پلانٹ کے اردگرد اپنی گرفت مضبوط کی ہوئی ہے۔

    سابق سویت دور کی اسٹیل مل یوکرینی شہر ماریوپول کا واحد حصہ ہے جو یوکرینی فوج کے قبضے میں ہے۔ ماریوپول کئی ہفتوں سے روسی فوج کی شدید بمباری کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

  • یوکرین نےروس سے اہم شہر واپس چھین لیا

    یوکرین نےروس سے اہم شہر واپس چھین لیا

    کیف :یوکرین نےروس سے اہم شہر واپس چھین لیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے دارالحکومت کئیف کے قریبی شہر ارپن کو روس سے واپس چھین لیا ہے جو 24 فروری کے حملے کے بعد روسی فوجیوں کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے روئٹرز کے مطابق شہر کے میئر اولیکسینڈر مارکشائن نے بیان جاری کیا ’آج ہمارے پاس ایک اچھی خبر ہے، ارپن کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔‘ ایک سینیئر امریکی فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ’سرزمین واپس لینے کی جدوجہد جاری ہے اور مشرقی شہر ٹروسٹیانیٹس، جنوبی سمے ہمارے پاس واپس آ چکے ہیں۔‘

    دوسری جانب آج استنبول میں آمنے سامنے بات چیت کا سلسلہ بحال ہونے جا رہا ہے جو کہ 10 مارچ کو وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد پہلی بار ہو رہا ہے۔ یوکرینی حکام کی جانب سے کسی ٹھوس پیش رفت کا امکان کم ظاہر کیا گیا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ وہ، وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو روسی حملے کے بعد اس کو پیچھے دھکیلے جانے کی علامات ہیں۔ اسی طرح ابھی تک کسی فریق نے روس کے علاقائی مطالبات بشمول کریمیا کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے، جس پر روس نے 2014 میں قبضہ کرتے ہوئے اپنے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔

    اسی طرح دوسرا علاقہ دونبس کا ہے جس کے بارے میں روس کا مطالبہ ہے کہ اس کو علیحدگی پسندوں کے حوالے کیا جائے۔ یوکرینی وزارت داخلہ کے مشیر وادیم ڈینائسنکوف کا کہنا ہے کہ ’میرا نہیں خیال کہ کلیدی معاملے پر کوئی ٹھوس پیش رفت ہو سکے گی۔‘ اس صورت حال میں روس کے زیرنگیں جانے والے یوکرینی شہروں میں پھنسے لوگوں کے لیے کسی ریلیف کا امکان بھی دکھائی نہیں دیتا، جن میں مارپول خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔

    ماریوپول کے میئر کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ 60 ہزار کے قریب لوگ اب بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور روس ان کو نکلنے نہیں دے رہا۔ روسی فوج کی جانب سے پچھلے ہفتے کہا گیا تھا علیحدگی پسندوں کے قبضے میں آنے والے علاقوں کا دائرہ بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، دوسری جانب یوکرین کا کہنا ہے اسے ابھی تک ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے جس سے ظاہر ہو کہ روس نے دارالحکومت کو قبضے میں لینے کا ارادہ ترک کر دیا ہو۔

    کیئف کے میئر ویٹالی کلٹسکوف نے کہا ہے کہ 100 افراد کو قتل کیا جا چکا ہے جن میں چار بچے بھی شامل ہیں جبکہ 82 کثیرمنزلہ عمارتوں کو ملیامیٹ کیا جا چکا ہے تاہم اس کے باوجود ہمارا شہر ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ ان کے مطابق ’ہم روسی فوج کے خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے کے افسانے کو تباہ کر دیا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا کی مضبوط ترین فوجوں میں سے ایک کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ اس کو اپنے اہداف تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

  • روس نے امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا

    روس نے امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا

    ماسکو: روس نے امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی وزارت خارجہ کے مطابق فیصلہ اقوام متحدہ میں روسی سفارت کاروں کی بے دخلی کے بعد کیا گیا، امریکہ کی ہر کارروائی کا مناسب جواب دیا جائے گا، امریکہ نے رواں ماہ اقوام متحدہ میں روسی مشن کے 12 اہلکاروں کو ملک بدر کیا تھا۔

    پولینڈ نےجاسوسی کےالزام میں 45 روسی سفارتکاروں کو ملک بدرکردیا

    24 فروری کو یوکرین پر حملے بعد سے روس کا یہ اقدام واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تیزی سے بگڑتے تعلقات کے لیے تازہ ترین دھچکا ہے۔

    دوسری جانب پولینڈ نے 45 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، پولش وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی سفارتکاروں پر جاسوسی کا الزام ہے، روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 5 دن کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ روس نے پولینڈ کو یوکرین سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے، روس کا کہنا ہے کہ یوکرین میں کسی نیٹو ملک کی فوج سے سامنا ہوا تو سنگین نتائج نکلیں گے۔

    سلامتی کونسل اجلاس میں روس کی قرارداد مسترد ہو گئی ہے، روس نے یوکرین میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی قرارداد پیش کی تھی روس اور چین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، سلامتی کونسل کے دیگر 13 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

    روسی صحافی کا یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے اپنا نوبیل انعام فروخت کرنے کا فیصلہ

    یوکرین کی صورتحال پر نیٹو کا اجلاس آج ہو گا، نیٹو چیف کا کہنا ہے کہ یوکرین کی رکنیت نیٹو سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے پر نہیں ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق روسی فوجیوں نے کھیرسن میں تھیٹر کے ڈائریکٹر کو ’اغوا‘ کر لیا ہے، خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے عینی شاہدین نے بتایا کہ بدھ کی صبح نو روسی فوجی گاڑیاں 62 سالہ اولیکسینڈر کنیگا کے گھر پہنچیں اور انہیں باہر لے گئیں۔

    دوسری جانب یوکرین کے نائب وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کیف لڑائی میں ہلاک ہونے والے روسی فوجیوں کی لاشوں کی شناخت کے لیے چہرے کی شناخت کے سافٹ ویئر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ان کے اہل خانہ کو ان کی موت کی اطلاع دی جائے گی۔

    اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے…

    ادھر یورپی یونین نے یوکرین کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ روس یورپی یونین کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے-

    روسی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے یوکرین کے ساتھ ایک معاہدے کی منظوری دی ہے جس کے تحت وہ کیف کو خفیہ معلومات فراہم کر سکیں گے۔میڈیا رپورٹ میں میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس شیئر نگ میں سیٹلائٹ تصاویر شیئر کی جائیں گی یورپی یونین کے سفیروں کو گزشتہ روز ایک میٹنگ کے دوران اس بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ معاہدہ ایک سال تک جاری رہے گا اور ضرورت پڑنے پر اس کی تجدید کی جا سکتی ہے۔

    تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا یہ معاہدہ صرف یورپی یونین کے ارکان کی اپنی انٹیلی جنس کا احاطہ کرے گا یا انہیں امریکا جیسے کسی تیسرے فریق سے موصول ہونے والی معلومات بھی شیئر کرنے کی اجازت دے گا۔

    واضح رہے کہ یورپی یونین روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی حمایت کر رہی ہے۔

    یورپی یونین کا یوکرین کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کرنے کا فیصلہ:روس غُصے میں آگیا

  • وقت آ گیا ہے  ماسکو یوکرین کی خود مختاری اور سالمیت کو تسلیم کر لے،یوکرینی صدر

    وقت آ گیا ہے ماسکو یوکرین کی خود مختاری اور سالمیت کو تسلیم کر لے،یوکرینی صدر

    یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس فوری طور پر تازہ مذاکرات شروع کرے

    یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ تاخیر کے بغیر تازہ مذاکراتی عمل شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہی واحد راستہ ہے، جس سے روس اپنی غلطیوں سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کر سکتا ہے انہوں نے روسی جارحیت کی وجہ سے یوکرین میں ہونے والی تباہی کو قابل افسوس قرار دیا۔زیلنسکی نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ماسکو حکومت یوکرین کی خود مختاری اور سالمیت کو تسلیم کر لے صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ اس وقت آپ سب مجھے سنیں، خاص طور پر ماسکو کے لوگ۔ ملاقات کا وقت آ گیا ہے بات چيت کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ یوکرین کی علاقائی سالمیت اور انصاف کو بحال کرنے کا وقت آ گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا توروس کا نقصان اتنا زیادہ ہو گا کہ اس نقصان کو پورا کرنے میں آپ کو کئی نسلیں لگ جائیں گی

    دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرین بحران پر بیجنگ تاریخ کے دائیں جانب کھڑا ہے،چین کا موقف زیادہ تر ممالک کی خواہشات کے مطابق ہے، چین کبھی بھی کسی بیرونی جبر یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا،چین کسی بھی بے بنیاد الزام کی مخالفت کرتا ہے، ہم ہمیشہ امن برقرار رکھنے اور جنگ کی مخالفت کے لیے کھڑے رہے ہیں،وقت ثابت کرے گا کہ چین کے دعوے تاریخ کے صحیح رخ پر ہیں، روس پر پابندیاں اشتعال انگیزی ہے، پابندیاں مسائل کا حل نہیں عالمی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے،نیٹو اتحاد کی مشرق کی طرف مزید توسیع نہیں ہونی چاہیے، اس سے روس جیسی جوہری طاقت کو ایک کونے میں دھکیل دیا جائے گا،روسی شہریوں کو بغیر کسی وجہ کے بیرون ملک اثاثوں سے محروم کیا جا رہا ہے، تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ پابندیاں مسائل کو حل نہیں کر سکتیں، پابندیاں صرف عام لوگوں کو نقصان پہنچائیں گی،

    یوکرینی نائب وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یوکرین میں 562 روسی جنگی قیدی ہیں قیدیوں کے ساتھ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے مطابق سلوک کیا جارہا ہے،

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے تاہم جنگ بندی کے حوالے سے ابھی تک کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے

    روس نے 24 فروری کو پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ تاحال جاری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں مغربی ممالک نے اس حملے کے جواب میں روس پر انتہائی سخت معاشی پابندیاں عائد کی ہیں

    امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

    روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے باتھ روم میں پناہ لے لی

    یوکرین اورروس کے درمیان امن مذاکرات شروع،یوکرینی صدر نے بڑا مطالبہ کر دیا

    روس کے یوکرین پر حملوں میں شدت،یوکرینی فوج کا یونٹ تباہ

    یوکرین میں بھارتی طلبا کے ساتھ بدسلوکی،ویڈیو وائرل،مودی پر اپوزیشن کی تنقید

    روسی حملے کے بعد یورپ کے سب سے بڑے نیو کلیئر پاور پلانٹ میں آگ لگ گئی

    یوکرین سے زندہ لوگوں کو لانا مشکل،لاش تو ویسے بھی جہاز میں زیادہ جگہ گھیرتی ہے،رکن اسمبلی کا بیان

    روس یوکرین جنگ نے تیل مزید مہنگا کر دیا

  • امریکی صدرکا پیوٹن کو ”جنگی مجرم” کہنے پر روس کا شدید ردعمل

    امریکی صدرکا پیوٹن کو ”جنگی مجرم” کہنے پر روس کا شدید ردعمل

    امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے روسی صدر پیوٹن کو ”جنگی مجرم” کہنے پر روس نے سخت مذمت کی ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق روس اور یوکرین کی جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اور سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے اس فوجی کارروائی کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو”جنگی مجرم” قرار دیا ہے جس پر روس نے شدید ردعمل دیا ہے-

    امریکی صدر نے روسی صدر پیوٹن کو جنگی مجرم قرار دے دیا

    ولادیمیر پیوٹن کے پریس سکریٹری دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر کی جانب سے صدر پیوٹن کو جنگی مجرم کہنا ناقابل قبول اور ناقابل معافی ہے اور یہ بیان بازی ایک ایسے ملک کا سربراہ کررہا ہے جس کے بموں سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز یوکرین میں روس نے کیف کے ایک تھیٹر اور کھانا لینے کے لیے قطار میں کھڑے عام شہریوں کو نشانہ بنایا تھا یوکرین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روسی افواج نے ماریوپول کے تھیٹر پر ایک بڑا بم گرایا جس سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تھیٹر میں کم از کم 500 افراد موجود تھے۔

    امریکہ کا یوکرین کیلئے مزید 80 کروڑ ڈالر،طیارہ شکن ہتھیار،ڈرون اور1 کروڑگولیاں دینےکا اعلان

    گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافیوں نے اسی تناظر میں امریکی صدر سے پوچھا کہ کیا پیوٹن جنگی مجرم ہیں جس پر انہوں نے پہلے تو کوئی جواب نہیں دیا تاہم دوبارہ پوچھنے پر صدر جوبائیڈن روسی صدر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہاں روسی صدر جنگی مجرم ہیں یہ ناقابل معافی ہے کہ کریملن امن مذاکرات کے دوران جنگ جاری رکھے ہوئے ہے تاہم انہوں نے مزید کوئی وضاحت نہیں کی-

    اسرائیل کی 3 فلسطینیوں کو پھانسی،او آئی سی کی شدید مذمت

    بعدازاں وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ صدر بائیڈن کا بیان یوکرین میں ہسپتالوں سمیت دیگر سویلین عمارتوں پر روسی فوج کے میزائل حملوں کے پس منظر میں ہے ایک غیر ملکی ڈکٹیٹر کے ذریعہ دوسرے ملک میں بربریت اور ہولناک واقعات آپ دیکھ رہے ہیں،جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں ہسپتال تباہ ہورہے ہیں، حاملہ خواتین اور صحافی اور دوسرے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ صدر بائیڈن نے دراصل ایک براہ راست سوال کا جواب دیا-

    جین ساکی نے مزید کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ یوکرین میں روس کے حملوں کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ آیا یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔

    روسی صدر کو لڑائی کا چیلنج ، چیچن سربراہ کی ایلون مسک کو نصیحت