Baaghi TV

Tag: مالی بے ضابطگیوں

  • شبر زیدی  کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ درج

    شبر زیدی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ درج

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیئرمین شبر زیدی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایف آئی آر ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں درج کی گئی، جس میں شبر زیدی پر بطور چیئرمین ایف بی آر اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے اور بھاری مالی ادائیگیوں کی غیر قانونی منظوری دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ میں 16 ارب روپے کی غیر مجاز ادائیگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم مختلف نجی کمپنیوں، جن میں حبیب بینک لمیٹڈ، اینگرو کارپوریشن، ڈی جی خان سیمنٹ اور دیگر ادارے شامل ہیں، کو ری فنڈز کی مد میں ادا کی گئی۔

    تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادائیگیاں ایف بی آر کے قوانین اور مالی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایف بی آر کے بعض افسران اور بینک حکام نے بھی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ایف آئی اے نے مقدمہ درج ہونے کے بعد متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جبکہ تحقیقات کا دائرہ کار اُن کمپنیوں تک بھی بڑھائے جانے کا امکان ہے جنہیں مبینہ طور پر غیر قانونی ری فنڈز دیے گئے

    سندھ میں ڈینگی کے وار ، 2 اموات اور 1,558 نئے کیسز رپورٹ

    بھارت کو چابہار بندرگاہ آپریشن پر 6 ماہ کی پابندیوں سے استثنیٰ؟

    بھارت کو چابہار بندرگاہ آپریشن پر 6 ماہ کی پابندیوں سے استثنیٰ؟

    سرحدی کشیدگی، پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات دوبارہ شروع

  • بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مالی بے ضابطگیوں کی خبریں درست نہیں، ترجمان

    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مالی بے ضابطگیوں کی خبریں درست نہیں، ترجمان

    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ نے آڈٹ رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آڈٹ رپورٹ کے چند نکات کو غلط انداز سے پیش کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)کے ترجمان نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے، حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ایک خبر میں مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے معمول کی آڈٹ رپورٹ کے بعض نکات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی)کی جانب سے تمام سرکاری اداروں کا آڈٹ معمول کا حصہ ہوتا ہے ابتدائی آڈٹ مشاہدات ابتدائی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان پر کئی مراحل میں غور و خوض کیا جاتا ہے جن میں محکمانہ اکاونٹس کمیٹی (ڈی اے سی)کی سطح پر ہونے والی مشاورت بھی شامل ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جہاں ان نکات کو وضاحت، تصحیح یا طریقہ کار میں بہتری کے ذریعے حل کیا جاتا ہے، ڈی اے سی کی سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی جاتی ہے تاکہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جاسکے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ بی آئی ایس پی کے مالی سال 2023-24 کے اکاونٹس سے متعلق آڈٹ اور انسپکشن رپورٹ میں شامل نکات پر بھی اسی طریقہ کار کے تحت غور کیا گیا، ان امور پر 24 دسمبر 2024 اور 21 جنوری 2025 کو منعقدہ ڈی اے سی اجلاسوں میں تفصیلی جائزہ لیا گیا جہاں بی آئی ایس پی نے وضاحتی شواہد اور ضروری ریکارڈ فراہم کیا جنہیں آڈٹ حکام نے تسلیم کر لیا اس دوران کئی اعتراضات کو دور کر دیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق بعض سفارشات پر عمل درآمد کا عمل جاری ہے جن میں طریقہ کار کی مزید بہتری، ڈیٹا کی تطبیق اور پالیسی میں ضروری ترامیم شامل ہیں اس لیے واضح کیا جاتا ہے کہ بی آئی ایس پی مالیاتی امور میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور متعلقہ نگران اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے اس اہم پروگرام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔

    لاہور سے گرفتار ہونے والے خودکش بمبار کے بارے میں اہم انکشافات

    پیپلز پارٹی کا 6 کینال منصوبے کے خلاف 25 مارچ کو احتجاج کا اعلان