Baaghi TV

Tag: مان

  • شراب کیلئے پیسے نہ دینے پر بیٹے نے ماں کو آگ لگا دی

    شراب کیلئے پیسے نہ دینے پر بیٹے نے ماں کو آگ لگا دی

    بھارتی ریاست کیرالہ میں سفاک بیٹے نے شراب کے پیسے نہ دینے پر ماں کو آگ لگا دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 75 سالہ ماں کو بیٹے نے آگ لگا دی، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ضعیف خاتون کو طبی امداد کے لیے فوری اسپتال منتقل کر دیا۔

    اسپتال انتظامیہ کے مطابق متاثرہ خاتون کا جسم 70 فیصد تک جھلس چکا ہے جس کے باعث ان کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

    پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کے بیٹے منوج کو گرفتار کر لیا جبکہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ منوج نے شراب کے لیے پیسے نہ دینے پر اپنی ماں پر مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگائی تھی۔

    ادھر ایک اور واقعہ میں بھارت میں ٹارگٹ کلنگ کی نئی نوعیت کا معاملہ سامنے آیا ہے، انجان راہگیر نے لفٹ مانگ کر موٹر سائیکل سوار کی کمر میں زہر کا انجکشن لگا دیا۔

    بھارتی ریاست تلنگانہ میں ایک چونا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جو پولیس کیلئے بھی معمہ بن گیا، ملزم نے پہلے موٹر سائیکل سوار سے لفٹ مانگی اور پھر اس کی پیٹھ پر انجکشن لگا دیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق48سالہ شیخ جمال نامی کسان گاؤں سے اپنی بیٹی کے گھر جارہا تھا کہ راستے میں سنسان جگہ پر دو راہ گیروں نے اس سے لفٹ مانگی۔

    ملزمان کا کہنا تھا کہ ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا ہے اور اگر انہیں لفٹ مل جائے تو وہ پیٹرول لاسکیں گے۔ دو میں سے ایک شخص جمال کی موٹر سائیکل پر بیٹھ گیا کچھ دور جانے کے بعد پیچھے بیٹھے شخص نے جمال کی پیٹھ پر کوئی نوکیلی چیز چبھوئی۔

    انجکشن لگتے ہی جمال کو چکر آنے لگے تو اس نے موٹر سائیکل روک دی۔ جمال نے اس شخص سے پوچھنے کی کوشش کی کہ وہ کون ہے اور اس نے ایسا کیوں کیا؟

    اسی دوران ملزم پیچھے سے دوسری موٹر سائیکل پر آنے والے ساتھی کے ساتھ بیٹھ کر فرار ہوگیا اور جمال زیادہ چکر آنے کی وجہ سے وہیں گرگیا۔

    اتفاق سے کچھ دیر میں آس پاس لوگ جمع ہوگئے تو جمال نے غنودگی کے عالم میں ساری تفصیل بتائی، بعد ازاں جمال کے کہنے پر اسے پانی پلایا جسے پینے کے بعد جمال کی حالت مزید خراب ہوگئی اور وہ بے ہوش ہوگیا۔

    جمال کو فوری طور پر قریبی اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکا تھا جس کی تصدیق اسپتال کے ڈاکٹروں نے کردی۔

  • روجھان:پانیوں میں ڈوبتی ممتابچوں کےلیے راشن لینےآئی:راشن تونہ مل سکا جان چلی گئی

    روجھان:پانیوں میں ڈوبتی ممتابچوں کےلیے راشن لینےآئی:راشن تونہ مل سکا جان چلی گئی

    راجن پور:روجھان:پانیوں میں ڈوبتی ممتابچوں کے لیے راشن لینے آئی:راشن تونہ مل سکا جان چلی گئی،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پرایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک خاتون کی لاش ایک رکشے میں پڑی ہے اوراس کو اس کے گھرواپس پہنچانے کے لیے دریائے سندھ کے لہروں کے سپرد کرنے کے لیے کسی کشتی کا انتظارکیا جارہا ہے

     

     

    اس حوالے سے وہاں موجود الخدمت فاونڈیشن کے ایک رضا کارنے اس بے بس ماں کی بے بسی پرخون کے آنسو روتے ہوئے ایک منظرنامہ پیش کیا ہے ،خدائی مخلوق کا یہ رضا کاربتا رہا ہے کہ یہ رکشے پرموجود لاش اس ماں کی ہے جو گہرے پانیوں میں سے ہوتی ہوئی راجن پورکی تحصیل روجھان کی یہ بدقسمت ماں اپنے بھوکے پیاسے بچوں کے لیے راشن لینے کے لیے یہاں پہنچی تھی

    اس رضا کار نے یہاں کا منظربیان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کویہ امید دلا کرکہ میں آپ کے لیے ابھی روٹی اور کھانے پینے کا سامان لے کرآتی ہوں آپ انتظار کریں ، اپنے بچوں کے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے انتظارپر لگا دیا ، یہ خاتون جو کہ روجھان کے علاقے سے دریائے سندھ کی ظالم لہروں سے کھیلتی ہوئی ، غوطے کھاتی ہوئے جب راشن لینے کے لیے دریا کے اس پارآئی تو راشن نہ مل سکا ،

    پتہ نہیں کہ اس ماں پراس وقت کیا بیتی ہوگی ، وہ اپنے بھوکے پیاسے بچوں کو جو امیدیں دلا کرآئی تھی وہ امیدیں دم توڑ چکی تھیں ، شایدیہ ممتا اپنے بچوں کی بھوک اورپیاس پرضط نہ کرسکی اوراسی پریشانی میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملی

    الخدمت کے یہ رضا کاربتاتے ہیں کہ بدقسمتی ہے انسانیت کے لیے کہ جن کو کھانے پینے کےلیے کچھ نہیں ملتا مگردوسری طرف حکمرانوں کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے آنیاں جانیاں جاری ہیں اور میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں مگراس ماں کا کیا قصورہے کہ جسے اپنے بھوکے پیاسے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی نہ مل سکی

    خدائی مخلوق کے اس کارکن کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس ملک میں غریب اور بے بس مزید غریب سے غریب تر ہوگیا ہ مگرحکمران ہیں کہ جن کوعوام کی فکر نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ روجھان کا علاقہ جس کی 5 ، 6 لاکھ آبادی ہے ، اس کی غریب مائیں اپنے بچوں کے لیے روٹی پانی کی خاطراپنی جانیں قربان کررہی ہیں‌، آخر یہ ظلم کب تک ہوتا رہے گا ، کیا یہ غریب عوام ایسے ہی حکمرانوں‌ کی بے حسی کا شکار ہوں گی یا پھرکوئی انقلاب آئے گا اور غریبوں اوربے بسوں کی آواز بن جائے گا