اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے 15 جون 2026 کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمیٹی نے مہنگائی، عالمی تیل کی قیمتوں اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا، اس سے قبل اپریل 2026 کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 11.5 فیصد کیا تھا۔
اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی اشاریوں اور جیو پولیٹیکل حالات کا جائزہ لیا، مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں معیشت کیلئے نئے چیلنجز پیدا ہوئے اجلاس میں ایران امریکا معاہدے ، تیل کی گرتی قیمت اور بجٹ اقدامات کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، بیان کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمت کے دباؤ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
معاشی ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کی آخری اور بجٹ کے فوری بعد آنے والی یہ مانیٹری پالیسی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس وقت ملک میں بنیادی شرح سود 11.5 فیصد ہے جبکہ اس سے قبل مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔
مالیاتی ماہرین اور بروکریج ہاؤسز کی آراء شرحِ سود میں اضافے اور اسے برقرار رکھنے (Status Quo) پر برابر منقسم تھیں، تاہم کمیٹی نے محتاط معاشی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔
