Baaghi TV

Tag: ماڈل کورٹس

  • چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک بھر کے لیے بہت بڑا حکم جاری کردیا، کیا ہے یہ حکم ؟ ہرکوئی جان کر داد دینے لگا

    چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک بھر کے لیے بہت بڑا حکم جاری کردیا، کیا ہے یہ حکم ؟ ہرکوئی جان کر داد دینے لگا

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مقدمات کو جلد سے جلد نبٹانے کے لیے ملک بھر میں نئی ماڈل کورٹس کے قیام کا حکم صادر کردیا ہے ، اطلاعات کے مطابق ملک بھر کی ماڈل کورٹس میں مقدمات کے تیز ترین فیصلوں کا ریکارڈ، کارکردگی دیکھتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے مزید ماڈل کورٹس کے قیام کا حکم جاری کردیا ہے۔

    ماڈل کورٹس کے فوائد کے پیش نظر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو تین روز میں نئی ماڈل کورٹس قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر پر مزید ایک نئی ماڈل کورٹ قائم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی طرف سے ہدایت کےمطابق نئی قائم کردہ ماڈل کورٹس کچھ اس طرح کام کریں گی ، ڈویژنل سطح پر قائم ہونے والی ماڈل کورٹس قتل اور منشیات کے مقدمات کی سماعت کریں گی، ہر ضلع میں دیوانی اپیلوں اور فوجداری مقدمات کی سماعت کیلئے بھی مزید ماڈل کورٹس بنیں گی۔

    پاکستان میں مقدمات کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے ماڈل کورٹس نے یکم اپریل 2019 میں اپنے کام کا آغاز کیا، اب تک پاکستان کی 373 ماڈل کورٹس 36 ہزار 881 مقدمات کے فیصلے کرچکی ہیں جبکہ 98 ہزار 647 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔ نئی عدالتوں کے قیام کے بعد اس کی رپورٹ چیف جسٹس آف پاکستان کو پیش کی جائے گی۔

  • جلد انصاف کی فراہمی نئے ریکارڈ قائم

    جلد انصاف کی فراہمی نئے ریکارڈ قائم

    اسلام آباد:انصاف کی فراہمی اور جلد فراہمی کا منصوبہ کامیابی سے جاری وساری ہے، اطلاعات کے مطابق آج مورخہ 11 ستمبر 2019 کو ملک بھر میں قائم 373 ماڈل کورٹس نے مجموعی طور پر 350 سے زائد گواہان کے بیانات قلمبند کیے۔

    ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ سیل سہیل ناصر کی جانب جاری ایک بیانیے میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں قائم 167 کورٹس نے پنجاب میں قتل کے 9 اور منشیات کے 35، اسلام آباد میں منشیات کا 1، سندھ میں قتل کے7 اور منشیات کے8، خیبر پختونخواہ میں قتل کے 4 اور منشیات کے9 جب کہ بلوچستان میں قتل کے 1 مقدمے کا فیصلہ ہوا۔

    ماڈل کورٹس میں ایک مجرم کو سزائے موت، 5 کو عمر قید، 9 کو کل 12 سال 6 ماہ اور 15 دن قید جب کہ 4454800 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔دوسری طرف پاکستان بھر میں قائم 96 سول ایپلٹ ماڈل کورٹس نے آج مجموعی طور پر 192 دیوانی، خاندانی کرائے اور نگرانی کی درخواستوں پر فیصلے سنائے۔

    ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ سیل سہیل ناصر کی جانب جاری ایک بیانیے میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں قائم کی گئی 110 ماڈل مجسٹریٹس عدالتوں نے بھی 85 مقدمات کے فیصلے کیے اور مجموعی طور پر 16مجرمان کو 16سال 1 ماہ قید اور 542339 روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔

  • ماڈل کورٹس ، کامیاب منصوبہ ؛ 5 ماہ میں منشیات، قتل کے 12 ہزار سے زائد کیسز کا فیصلہ کیا

    ماڈل کورٹس ، کامیاب منصوبہ ؛ 5 ماہ میں منشیات، قتل کے 12 ہزار سے زائد کیسز کا فیصلہ کیا

    کراچی: پاکستان میں ماڈل کورٹس کا منصوبہ اور فارمولا کامیاب ہوچکا ، جب سے ماڈل کورٹس نے کام کرنا شروع کیا ہے ، ہزاروں کی تعداد میں لٹکے ہوئے فیصلے گھنٹوں اور دنوں میں ہوگئے ، ان کورٹس کے تیز ترین فیصلوں کے حوالے سے جو تازہ رپورٹ آئی ہے اس کے مطابق ملک بھر ممیں قائم 167 ماڈل عدالتوں میں 5 ماہ کے عرصے میں تیز ٹرائل کرتے ہوئے قتل، منشیات کے 12 ہزار 584 کیسز کا فیصلہ کیا گیا یکم اپریل کو قائم ہونے والی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس نے قتل کے 4 ہزار 897 اور منشیات کے 7 ہزار 687 کا تیز ترین ٹرائل کر کے فیصلہ کیا۔رپورٹ کے مطابق دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان تمام کیسز کی کارروائی کے دوران 55 ہزار 619 گواہاں سے جرح کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق ماڈل کورٹس کے فیصلوں کو اگر وفاقی دارالحکومت سے لیا جائے تو اسلام آباد جنوبی کی ماڈل کورٹ کے ڈسٹرک اینڈ سیشن جج سہیل ناصر نے سب سے زیادہ 69 قتل کیسز کا فیصلہ کیا جس کے بعد قمبر شہداد کوٹ ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج غلام قادر تونیو نے 60 قتل کیسز کا فیصلہ کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان آصف سیعد کھوسہ 167 میں سے 24 ماڈل کورٹس کے پریزائڈنگ افسران کو ضلعی سطح پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں کیسز کا فیصلہ کرنے پر اعزاز سے نوازیں گے۔

    ذرائع کے مطابق چارسدہ کی ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج (اے ایس جے) ارباب سہیل حامد نے منشیات کے سب سے زیادہ 135 کیسز جبکہ ملیر ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نوید احمد سومرو نے 132 کیسز اور میانوالی ماڈل کورٹ کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج راجہ محمد اجمل خان نے منشیات کے 118 کیسز کا فیصلہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق تیسری کیٹیگری میں اے ایس جے ارباب سہیل حامد (چارسدہ) نے منشیات کے 185 کیسز، ملیر کے اے ایس جے نوید احمد سومرو قتل اور منشیات کے 180 اور اسلام آباد کے ڈسٹرک سیشن جج سہیل ناصر نے اس قسم کے 167 مقدمات نمٹائے۔

    ماڈل کورٹس کے فیصلوں کی تازہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں شہداد کوٹ نے غلام قادر تونیو نے قتل کے سب سے زیادہ 60 کیسز، کراچی وسطی کے لیاقت علی کھوسو نے 50 جبکہ ملیر کے اے ایس جے نوید احمد سومرو نے 48 کیسز کا فیصلہ سنایا۔

    سندھ ،اسلام آباد کی طرف صوبہ خیبرپختونخوا میں 2 خواتین ایڈیشنل اینڈ سیشن ججز، مرداد کی نادیہ سید اور ایبٹ آباد کی زینب ریحام نے سب سے زیادہ قتل کے مقدمات کا فیصلہ کیا جن کی تعداد بالترتیب 55 اور 51 ہے۔

    ذرائع کےمطابق دوسری جانب بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی کے اے ایس جے اسداللہ کاکڑ نے سب سے زیادہ 47 قتل کیسز، برکھان کے اے ایس جے ظفر جان نے 29 جبکہ لورالائی کے ڈسٹرک جج منیر احمد نے 21 مقدمات نمٹائے، یاد رہے کہ جب سے ماڈل کورٹس نے فیصلے دینے شروع کیئے ہیں‌ دوسری عدالتوں پر بوجھ کم ہو گیا اور وہ بھی پہلےسے بہتر کام کررہی ہیں