Baaghi TV

Tag: ماں

  • مرحوم ماں کو گالی دینے والوں کیخلاف قانونی طور پر ہرحد تک جاؤں گا. سلیم صافی

    مرحوم ماں کو گالی دینے والوں کیخلاف قانونی طور پر ہرحد تک جاؤں گا. سلیم صافی

    معروف صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ میری شکایت پرایف آئی اے نےعمرانی دور کی طرح اسی روز سابق دپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور رہنماء پی ٹی آئی قاسم خان سوری کےگھر پرحملہ آورہونے کے بجائے جواب کے لئے دس دن کا وقت دے دیا ہے. انہوں نے دعوٰی کیا کہ قاسم سوری اورایف آئی اے حکام یادرکھیں کہ میں اپنی زات کے بارے میں بہت کچھ معاف کرسکتا ہوں لیکن مرحوم ماں کو گالیاں دینے والے سے حساب لینے کے لئے (قانونی راستے سے) ہرحد تک جاؤں گا.

    واضح رہے کہ سلیم صافی نے ایک دستاویز بھی اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیا جس میں ایف آئی اے حکام نے محمد قاسم خان سوری کو 2 جنوری 2023 کومطلع کیا تھا جس میں انہیں دس دن کیلئے 11 جنوری تک کا وقت دیا گیا ہے.

    خیال رہے کہ گزشتہ سال 29 دسمبر 2022 کو سلیم صافی نے دعویٰ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "سابق ڈپٹی اسپیکراور تحریک انصاف کے رہنماء قاسم خان سوری نے ٹویٹرپرمیرے ان مرحوم والدین کوگالی دی جنہوں نے مجھے گالی دینا نہیں سکھایا لہذا اسلئے قانونی راستہ اپنایا ہے. انہوں نے مزید کہا "عمرانی دورمیں ایک ایم این اے کی شکایت پر(حالانکہ صفحہ 73پرانکا ذکرنہیں تھا) ایف آئی اے عمران خان کی ایما پرمحسن بیگ کے گھرپرحملہ آورہوئے لہذا اب دیکھنا یہ ہےکہ میری شکایت پرکیا کاروائی ہوتی ہے؟”


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مغلظات پر قاسم سوری کیخلاف سلیم صافی کی قانونی کاروائی
    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق
    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت
    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو درخواست میں جیو نیوز کے سینئر اینکر پرسن سلیم صافی نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو بتایا تھا کہ قاسم سوری نے ٹوئٹر پر نازیبا اور غیراخلاقی کمنٹس کیئے لہذا قاسم سوری کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

  • ماں — نعیم گلزار

    ماں — نعیم گلزار

    بائیس تئیس برس قبل کی بات ہے۔ ماں جی سے لڑائی کے نتیجے میں گھر سے بھاگا اور لاہور جا نکلا۔ وہاں کچھ عرصہ انڈر ورلڈ کے لوگوں کے ہتھے چڑھا رہا۔ پھر کچھ اس ماحول سے اکتاہٹ، کچھ لاہور شہر کی نفسا نفسی اور پھر ماں جی کی یاد۔۔ ان تمام عوامل نے مجبور کیا تو واپس گھر بھاگ آیا۔

    واپس آکر دوبارہ نئے سکول میں داخلہ لیا تو میرا تعارف وکی سے ہوا۔ وکی کا گاؤں میرے گاؤں سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پہ تھا۔ وکی خبطی سا تھا۔ جلدباز طبعیت، ہر وقت کھپتے رہنا، باتیں زیادہ اور پڑھائی کم کرنا، اسکے مزاج کا حصہ تھا۔ البتہ اسکو پیسہ کمانے کا بڑا شوق تھا۔ مجھے جتنی اس سے چڑ ہوتی تھی۔ وہ اتنا ہی میرے قریب ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ مالی حالات بھی اسکے مخدوش سے تھے۔ جسکی وجہ سے وہ کالج نہ جا سکا۔ جبکہ ہم آگے ایف ایس سی میں چلے گئے۔ بعد میں ہنگامہ زیست میں کبھی اسکی خبر ہی نہ لگی کہ وہ کن حالات میں ہے۔ بیس سال بعد اک شادی پہ ملاقات ہوئی تو ایک عدد کار کے ساتھ وہ اب سر ملک وقاص بن چکا تھا۔ شاید کہیں اس نے مقولہ پڑھ لیا تھا۔

    ” علم بڑی دولت ہے۔”

    پھر اسی مقولے کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے کوئی پرائیویٹ سکول بنایا اور بعد میں بناتا ہی چلا گیا۔ استفسار پہ پتہ چلا چھ کے قریب پرائیویٹ سکول اس وقت چلا رہا ہے۔ پیسے کی طلب اب بھی اسکی گفتگو میں واضح جھلک رہی تھی۔ اور بیس سال کے بعد بھی اسکی جلدباز طبعیت میں کوئی ٹھہراؤ نہیں آیا تھا۔ رہائش بھی بیوی بچوں سمیت اس نے شہر میں رکھ لی تھی۔ البتہ اسکی ماں اب بھی گاؤں میں ہی رہ رہی تھی۔

    آج میں اپنے گاؤں سے متصل قصبہ کے مین اڈے پہ کھڑا کچھ خرید و فروخت کر رہا تھا۔ کہ یکایک اک کار میرے پاس آ کر رکی۔ ٹو پیس سوٹ کے ساتھ ملک وقاص صاحب اندر سے برآمد ہوئے۔ مجھے دیکھتے ہی جپھی ڈالی اور کہنے لگا:

    نیمے یار۔۔ اچھا ہوا تو مل گیا۔ مجھے بہت جلدی ہے۔ ماں جی ساتھ گاڑی میں بیٹھی ہیں۔ انکو گاؤں پہنچانے کے لیے کوئی رکشہ کروا دو۔ کچھ دفتری امور نپٹانے ہیں، میں واپس جا رہا ہوں۔ تین سو روپیہ کرایہ میں نے ماں جی کو دے دیا ہے۔

    یہ سن کر میری آنکھیں تو ساکت رہیں البتہ میں نے کار میں جھانکا تو ماں جی کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔۔۔۔!!!!

  • ماں کی خاطرتین بھائیوں نے ایک ساتھ اپنی بیویوں کو طلاق دے دی

    ماں کی خاطرتین بھائیوں نے ایک ساتھ اپنی بیویوں کو طلاق دے دی

    الجزائر سٹی: الجزائر میں 3 بھائیوں نے بوڑھی ماں کو پڑوسیوں کے رحم و کرم پر دیکھ کر اپنی بیویوں کو اسی وقت طلاق دے دی۔

    باغی ٹی وی: "گلف نیوز” کے مطابق الجزائر میں تین بھائی ملازمتوں سے واپس پہنچے تو ضعیف اور بیمار ماں کو پڑوسیوں کے رحم و کرم پر پایا جو انھیں نہلا رہے تھے تینوں بھائیوں نے اپنی بیویوں سے ماں کی خدمت نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو معاملہ تکرار تک آن پہنچا جس پر تینوں بھائیوں نے اسی وقت اپنی بیویوں کو طلاق دیدی۔

    بھارت سےرہا ہوکرآنےوالا بزرگ شہری ایدھی فاؤنڈیشن کےحوالے

    پولیس کے مطابق عمومی طور پر ماں کی خدمت کے لیے ان کی بیٹی آیا کرتی تھیں لیکن ان کے شوہر کو کینسر ہوجانے کے باعث وہ اس ہفتے نہ آسکیں۔

    جس پر بیٹوں نے اپنی بیویوں کو کہا کہ ماں کو نہلا کر صاف ستھرے کپڑے پہنا دینا جس پر انہوں نے مبینہ طور پر انکار کر دیا لیکن بیویوں نے اپنی ساس کو پڑوسیوں کے حوالے کردیا اور خود سو گئیں۔

    شمالی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،شدید فائرنگ کے تبادلے میں1 جوان شہید ،5 دہشتگرد ہلاک

    واضح رہے کہ حال ہی میں ملائیشیا میں خاندانی امور اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی خواتین کی نائب وزیرسیتی زیلا محمد یوسف نے مردوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی "ضدی” بیویوں کی پٹائی کریں ان کا کہنا تھا کہ بیویوں کی مار پیٹ انہیں درست کرنے، ان کے رویے بدلنے اور مشتعل ہونے سے بچائے گا یہ سزا ان کے ضدی پن اور اشتعال انگیز رویے کی وجہ سے تادیبی طور پر دی جائے۔

    ملائیشیا کی نائب وزیرکا شوہروں کو "ضدی” بیویوں کی پٹائی کا مشورہ، عوامی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل

    انہوں نے شوہروں کو سب سے پہلے مشورہ دیا کہ وہ اپنی "ضد” بیویوں سے بات کر کے انہیں تادیب سکھایا کریں اگر بیویاں بات چیت کے سمجھانے سے اپنے رویےسے باز نہ آئیں تو پھر انہیں تین دن کے لیے چھوڑ دیں۔اگر بیوی پھر بھی قابو میں رہے تو مرد سختی کے لیے ان پر ہاتھ اٹھا سکتے ہیں۔

  • ایک ماں ہے بیوی ہے ، ایک بچہ ہے ریاست ساتھ ہوتی تو در بدر نا پھر رہے ہوتے،عدالت

    ایک ماں ہے بیوی ہے ، ایک بچہ ہے ریاست ساتھ ہوتی تو در بدر نا پھر رہے ہوتے،عدالت

    سپریم کورٹ میں لاپتہ شہری کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    عدالت نے کہا کہ گیارہ مئی 2012 میں درخواست گزار کا شوہر لاپتہ ہوا،درخواست گزار کا کہنا ہے اسکے شوہر کو اٹھایا گیا درخواست گزار سپریم کورٹ سمیت دیگر فورمز سے رجوع کر چکی ہے،سپریم کورٹ 15 مئی 2013 کو معاملہ کمیشن کے سپرد کرکے نمٹا چکی ہے، سیکیورٹی ادارے جوابات میں کہہ چکی ہیں کہ لاپتہ شہری انکی تحویل میں نہیں ہمارے سامنے لاپتہ افراد کمیشن فریق نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل لاپتہ افراد کمیشن سے تفصیلات لیکر فراہم کریں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل بتائیں لاپتہ افراد کمیشن میں اب تک کیا کارروائی ہوئی؟

    قبل ازیں اسلام آ باد ہائیکورٹ میں لاپتہ صحافی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو متاثرہ فیملی کو سننے کی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل بتائیں کب وزیراعظم اور کابینہ متاثرہ فیملی کو سن کر مطمئن کریں گے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ متاثرہ فیملی کو مطمئن کریں کہ ریاست اس میں شامل نہیں،عدالت نے کہا کہ اگر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے پیر تک تاریخ نہ بتائی تو آئندہ سیکریٹری داخلہ پیش ہوں،وفاقی حکومت کی ذ مہ داری ہے کہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے ،ملک میں جبری گمشدگی کا رجحان موجود ہے ،لاپتہ شہری کی بازیابی بھی یقینی بنانا وفاقی حکومت کی زمہ داری ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کوئی رول آف لاء نہیں یہاں یا تو یہاں جبری گمشدگی نا ہوتی ہو پھر بات کریں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بازیابی درخواست پر سماعت کی ،لاپتہ مدثر نارو کی فیملی کی جانب سے وکیل ایمان مزاری ، عثمان وڑائچ عدالت میں پیش ہوئے وزارت دفاع کا نمائندہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے کہا کہ دو منٹ اگر مل جائیں تو حقائق سامنے رکھوں گا ،اس کیس کے حقائق مختلف ہیں ،عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ پڑھنے کی ہدایت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تو جبری گمشدگیاں نا ہو رہی ہوں تو پھر ہم اس طرف نا جائیں لیکن ایسا نہیں ہے، یہ واقعہ کب کا ہے ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ 20 اگست 2018 کا واقعہ ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ وزیراعظم اس وقت کون تھا ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان ہی تھے اسی روز چارج لیا تھا ،متاثرہ فیملی نے ماہرہ ساجد کیس کی روشنی میں بیان حلفی جمع کرا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماں ہے بیوی ہے اور ایک بچہ ہے ریاست ساتھ ہوتی تو در بدر نا پھر رہے ہوتے، ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے کہا کہ آدھ منٹ مجھے سن لیں اس کیس میں ڈی پی مانسہرہ کی رپورٹ ہے،یہ دریائے کنہار کے کنارے واک کر رہے تھے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھوڑ دیں ڈی پی او کو ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بولنے سے روک دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فیملی مطمئن نہیں وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی زمہ داری ہے کہ ان کو مطمئن کرے، مائرہ ساجد کیس کا فیصلہ بھی عدالت کے سامنے پڑھا گیا کمیشن رپورٹ کے مطابق گمشدہ فیملی کا ماننا ہے کہ ریاست اور اس کی ایجنسیز اس میں ملوث ہوں،عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    انڈس نیوز کی بندش، صحافیوں کا ملک ریاض کے گھر کے باہر دھرنا

    تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ملک ریاض کو کہا جائے،آپ نیوز کے ملازمین کا جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کو خط

    پنجاب پولیس نے ملک ریاض فیملی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، حسان نیازی

    جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

    ملک ریاض کے باپ سے پیسے لے کر نہیں کھاتا، کوئی آسمان سے نہیں اترا کہ بات نا کی جائے، اینکر عمران خان

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیوں ان صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے جو حکومت یا کسی اور کے خلاف رائے دے رہے ہیں،عدالت

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    مقامی صحافیوں کو کان پکڑوا کر تشدد کروانے والا ملزم گرفتار

    حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ عدالت

  • بیٹے کے ہاتھوں والدہ قتل

    بیٹے کے ہاتھوں والدہ قتل

    ایبٹ آباد
    ذہنی معذور بیٹے نے سگی ماں کو چھریاں مار کر زخمی کر دیا زیادہ زخموں کی بدولت جانبر نا ہو سکی اور چل بسی
    تفصیلات کے مطابق تھانہ ڈونگا گلی کی حدود کسالا میں ذھنی معذور بیٹے نے اپنی سگی ماں کو چھریاں مار کر قتل کر دیا ذہنی معذور نے اپنی والدہ کو بے دردی سے چھریاں ماریں جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی چیخ و پکار سن کر گھر والے اکھٹے ہو گئے جنہوں نے ذہنی معذور سے اس کی والدہ کو چھڑوایا تاہم زخمی گہرے ہونے کے باعث عمر رسیدہ خاتون دم توڑ گئی پولیس تھانہ کسالا اطلاع ملتے ھی جاۓ وقوعہ پر پہنچ گٸی اور ذہنی معذور کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی لواحقين نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرو ادیا ھے

  • ماں کے بعد مدعیہ بہن بھی قتل

    ماں کے بعد مدعیہ بہن بھی قتل

    قصور
    پتوکی چونیاں روڈ پر افسوس ناک واقعہ
    گزشتہ روز ماں کے قتل اور بہن پر فاٸرنگ کے مقدمہ کی مدعیہ زینب بی بی کو بھی قتل کر دیا گیا
    تفصیلات کے مطابو پرانی منڈی پتوکی مزمل بازار میں جاٸیداد کی لالچ میں بیٹے نے اپنے بہنوٸی کےساتھ مل کر پہلے ماں کو قتل کیا تھا مقتولہ زینب بی بی اپنی ماں کے قتل اور اپنی بہن کے مقدمہ میں مدعیہ تھی چند روز قبل سگے بیٹے عظیم نے اپنے بہنوٸی اور اسکے بھاٸی کے ساتھ مل کر اپنی ماں اور بہن پر فاٸرنگ کی تھی ماں موقع پر جانبحق جبکہ بہن شدید زخمی ہوئی تھی تینوں ملزمان ندیم مبین اور عظیم 21.2.2020 سے فرار ہیں
    ملزمان نے مقدمہ کی مدعیہ زینب بی بی کو بھی فاٸرنگ کر کے قتل کر دیا
    پولیس مصروف کاروائی ہے

  • عورت، اسلام کے سایہ عافیت میں ۔۔۔ محمد طاہر

    عورت، اسلام کے سایہ عافیت میں ۔۔۔ محمد طاہر

    ظہور اسلام سے قبل مختلف معاشروں اور اقوام کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جہاں انسانی اقدار کی پامالی عام سی بات بن کر رہ گئی تهی خاص طور پر عورت کو تو انتہائی مظلومیت اور بے بسی کی تصویر بنا دیا گیا تها۔ بیٹی کے وجود کو تضحیک کا نشان سمجها جاتا تها۔ عورت کی ذات ذلت، حقارت اور تجارت تینوں منڈیوں کے لیے فراواں تهی۔ وہ تباہی وبربادی کا باعث اور نحوست کی علامت قرار دی جا چکی تهی۔
    دنیا میں کوئی ایسانہ تها جو عورت کے حق میں آواز بلند کرتا اور نہ کوئی ایسی قوم تهی جو عورت کی حمایت میں آواز اٹھاتی، بلکہ ان معاشروں کا تو عالم یہ تهاکہ قبائل کے روح رواں اور مصلحین کے ساتھ ساتھ اقوام خود بهی عورت کی اہانت و تضحیک پر کمر بستہ نظر آتے تهے۔
    کسی کے ہاں لڑکی کی پیدائش ہوجاتی تو اس لڑکی کا والد اس کو اپنے ساتھ لے جا کر اپنے ہاتهوں سے گڑھا کھود کر اپنی بچی کو اس میں زندہ دفن کر دیتا لیکن یہ صرف ماضی کی بات نہیں آج بھی بعض گھرانے ایسے ہیں جہاں دورِ جہالت کی طرح اب بهی ایک معصوم جان کا قتل کردیا جاتا ہے یا اس کو کچرا دان یا دریا میں پھینک دیا جاتا ہے۔
    اسلام ہمیں صرف مرد ہی نہیں بلکہ عورت کے بارے میں بهی بتاتا ہے۔ مر کی طرح عورت کے لیے بھی حقوق کا تعین کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے ایک عالمگیر ضابطہ حیات واخلاق اور دین رحمت کو نازل کیا جس کی تعلیمات کا محور صرف مرد کی ذات نہ تھی بلکہ عورت بهی اسی طرح قابل التفات تهی جس طرح مرد تھا۔ اس احترام نے عورت کو قعر ذلت سے نکال کر عزت و احترام کے بلند مقام پر فائز کیا اس نے مغرب کی طرح عورت کو آزادی دے کر نہ اسے شتر بے مہار چھوڑا، نہ دیگر معاشروں کی طرح اس پر پابندیوں اور سختیوں کے قفل لگائے ہیں، بلکہ اعتدال اور میانہ روی میں رہتے ہوئےاس کے دائرہ کار کی وضاحت کی ہے۔
    نبی رحمت جناب محمد ﷺ نے عورت کی مختلف پہلوؤں سے عزت و حیثیت کو اجاگر کیا۔ وہ ماں ہے تو اس کے حقوق کو باپ کی نسبت تین گنا بڑها کر بیان کیا۔ ماں کی خدمت گزاری اور اطاعت کے عوض جنت کا مژدہ سنایا۔ بیٹی کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا، بلکہ جو شخص اسلامی تعلیمات کے مطابق بیٹی کی پرورش اور تربیت کرے اس کو قیامت کے دن اپنی معیت اور جنت میں داخلے کی بشارت دی۔
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی ، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔ (صحیح المسلم 6695)
    میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا اور ان دونوں کے تعلق میں پیار و محبت اور الفت و مودت کو خاص اہمیت دی۔بیوی اپنے شوہر کی محکوم اور غلام نہیں بلکہ رفیق حیات ہے اور خانگی زندگی کو باہم مشورے اور اتفاق رائے سے چلانے کی تائید کی۔ تاریخ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ قرونِ اولٰی کی نامور اور بلند کردار مسلمان جواتین نے صالح معاشرے کی تشکیل اور معاشرتی اقدار کے فروغ کے لیے قابل ذکر خدمات سرانجام دی ہیں۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا تربیت اولاد کے لیے اور حالات سے مایوس اور بھٹکی ہوئی خواتین کے لئے روشنی کا مینار ہیں۔ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کا کسمپرسی
    اور فقرو فاقہ کے ایام میں اولاد کی پرورش اور کردار سازی کرنا ایک بہترین نمونہ ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا احکام و مسائل اور دینی و علمی راہنمائی کے لیے ایک دانش گاہ اور مرکز علم و عرفان کی حیثیت رکهتی ہیں۔ ام الشہداءسیدہ خنسا رضی اللہ عنہا کی کوکھ سے جنم لینے والے نامور اور دلاور بیٹوں نے شجاعت و بسالت کی زریں داستان رقم کی ہے۔ سیدہ خولہ ازور رضی اللہ عنہا میدان کارزار میں سر پر عمامہ باندھے بہادری کے جوہر دکها کر مردانِ کارزار کو شرمندہ کر دیتی ہیں۔
    تاریخ اسلام ایسے سنہرے واقعات اور زریں داستانوں سے بھری پڑی ہے جو قیامت تک آنے والی خواتین کے لیے نشان راہ بن کر قوموں کے عروج اور تعمیر و ترقی کے لیے سمت اور راستے کا تعین کرتی ہیں۔۔۔۔۔
    آج کے اس دور میں ہماری ماؤں بہنوں کو چاہیے وہ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات اور سیرت صحابیات اور ان کی سیرت کا مطالعہ کریں اور اس پر عمل کریں نہ کہ مغرب کی اندھی تہذیب کی طرف جائیں۔
    بقول اقبال
    خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ
    سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

  • ماں، ایک عظیم نعمت ۔۔۔ ملک صداقت فرحان

    ماں، ایک عظیم نعمت ۔۔۔ ملک صداقت فرحان

    عورت کو ماں کے روپ میں سب سے زیادہ عزت و مقام حاصل ہے۔ ماں کے روپ میں عورت کا کردار ہمیشہ سے زبردست اور قابل تعریف رہا ۔ اگر عورت کو اللہ پاک ماں نہ بناتا تو شاید آج دنیا آباد نہ ہوتی۔ دنیا میں موجود کوئی ایسی جاندار چیز نہیں جو ماں کے بغیر وجود میں آئی ہو۔ ماں اللہ پاک کی عظیم نعمت ہے۔ ماں اتنی عظیم نعمت ہے کہ دنیا کی کوئی بھی نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
    نپولین بونا پاٹ کا کہنا تھا کہ ”مسرتوں کے ہجوم اور خوشیوں کے تلاطم میں ماں کی عظمت کو دیکھو“۔ چارلس ڈکنز کا کہنا تھا کہ ”ماں کا پیار سب سے خوبصورت اور بہترین ہے“۔ فردوسی کا کہنا تھا کہ ”اگر مجھ سے ماں چھین لی جائے تو میں پاگل ہوجاﺅں گا“۔ افلاطون کا کہنا تھا کہ ”ماں باپ سے زیادہ شفیق ہوتی ہے“۔ حضرت لقمان علیہ السلام کا قول ہے کہ ”ماں کا پیار کسی کو بتانے اور سکھانے کا نہیں“۔ سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ”تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے“۔
    ماں کے ہم پر بہت سے احسانات ہیں جو کہ ہم کبھی بھی نہیں چکا سکتے۔ انسان اگر جوان ہوتا ہے تو ماں کی دیکھ بھال کی بدولت۔ انسان اگر دنیا میں سر اٹھا کر چلتا ہے تو صرف ماں کی کی ہوئی اچھی تربیت کی بدولت۔ اگر انسان ماں کے احسانات کو بھول کر اس کے ساتھ بدسلوکی کرے تو اس جیسا بدبخت انسان کوئی نہیں۔ اگر کوئی انسان ماں کی خدمت کرے اس کا احترام کرے تو اس جیسا خوش نصیب انسان بھی کوئی نہیں۔ ماں کی خدمت کرنے والوں میں سب سے بڑا نام حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا ہے۔ حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ بننے کی خواہش دل میں لیے پھرتے تھے مگر بزرگ ماں کی موجودگی کی وجہ سے اس عظیم سعادت سے محروم رہے۔ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس ایک شخص آئے گا جس کا تعلق یمن کے شہر قرن سے ہوگا ماں کا خدمت گزار ہوگا اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کروانا“ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سے ہوئی تو انہوں نے ان سے اپنے لیے دعا کروائی۔ تاریخ میں اور بھی بہت سے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے ماں کی خدمت کی اور خوب عزت پائی۔ ماں کبھی بچوں کو بد دعا نہیں دیتی۔
    مشہور واقعہ ہے احمد پور شرقیہ کا کہ ایک ماں نے اپنے بیٹے سے کچھ پیسے مانگے تو اس نے ماں کو مارا ماں زمین پر گرگئی زمین پر بیٹھے ہوئے اس خاتون نے دعا کی کہ اےاللہ اس سے ناراض نہ ہونا اس سے راضی ہو اس پر رحم کر۔ ماں بد دعا نہیں دیتی بچے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے انجام کو پہنچتے ہیں۔ ماں اگر دعا کرے تو اس کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ آپ کو چاہیے کہ زندگی میں اگے بڑھنے کے لیے ماں کی دعائیں لیں۔ قران پاک میں اللہ پاک تین مقامات پر ماں کے ساتھ احسان کا حکم دیتا ہے۔
    ہمیں چاہیے کہ ماں کا احترام کریں، ان کی خدمت کریں ، ان کی فرمانبرداری کریں۔ اے اللہ پاک سب کو ماں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما اور ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جو ماں کی خدمت کی بدولت عروج تک پہنچے۔ اللہ ہمیں اچھا بیٹا بننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔