Baaghi TV

Tag: ماہرین صحت

  • قربانی کا گوشت جانور ذبح ہونے کے کتنی دیر بعد پکانا چاہیے؟

    قربانی کا گوشت جانور ذبح ہونے کے کتنی دیر بعد پکانا چاہیے؟

    عید الاضحیٰ کی خوشیاں عید کے مخصوص کھانوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں، ایسے موقعے پربہت سے لوگ گوشت کے ذائقوں میں محو ہو جاتے ہیں۔

    اس دوران اپنے نظام ہاضمہ کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ زیادہ گوشت اور معمولات سے ہٹ کر غذا کا استعمال معدے کی شکایتیں اور ہاضمے کے مسائل پیدا کرسکتا ہے ایک فرد کو دن کے24 گھنٹوں میں صرف آدھا سے ایک پاؤ گوشت ہی کھانا چاہیے، زیادہ گوشت کھانے سے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ قربانی کے گوشت کو فوری نہیں پکانا چاہیے گوشت کو ایک دو گھنٹے رکھیں پھر ہنڈیا چڑھائیں جب گوشت اچھی طرح گل جائے تو اسے خوب چبا چبا کر کھائیں،طبی ماہرین کہتے ہیں کہ عیدالاضحیٰ پر گوشت ضرور کھائیں لیکن ہاتھ ذرا ہلکا رکھیں۔

    ماہرینِ کا گوشت اور چٹ پٹے پکوانوں پر ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ

    قربانی کے بعد جانوروں کی آلائشیں گلی محلے میں نہیں بلکہ کچراکنڈی میں پہنچائیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں ورنہ متعدد امراض پھوٹ سکتے ہیں ماہرین کے مطابق قربانی کے گوشت میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے اس لیے ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر سمیت دل کے امراض میں مبتلا افراد کو خاص احتیاط کرنی چاہیے۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گوشت پروٹین کا اہم ذریعہ ہے، لیکن اس میں موجود چربی کی زیادتی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے لہذا عید کے دوران معتدل اور متوازن غذا کھانا ضروری ہے،عید کے دسترخوان پر کچی سبزیاں، دہی، پودینہ اور ہری مرچ کا رائتہ شامل کریں یہ ہاضمے کے نظام کو بہتر بناتا ہے اور معدے کی صحت کے لیے مفید ہے،کھانے کے درمیان کم از کم 8 گھنٹے کا وقفہ رکھیں تاکہ ہاضمہ آرام سے کام کرے۔

    قربانی کے جانوروں کی 70 لاکھ کھالیں جمع ہونے کا امکان

    یاد رکھیں عید کی خوشیاں گوشت اور ذائقے کے ساتھ مکمل ہوتی ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی صحت کا بھی خیال رکھیں گوشت کے ساتھ سبزیوں، دالوں اور پانی کا استعمال کریں تاکہ نظام ہاضمہ متوازن اور صحت مند رہے۔

  • بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت

    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت

    ماہرین صحت نے بچوں کے لیے مصنوعی دودھ پربھاری ٹیکس لگانے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: وفاقی وزارت صحت کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کے لیے آگاہی سیشن رکھا گیا جس میں صرف ایک سینیٹر سحر کامران نے شرکت کی آگاہی سیشن کے دوران ماہر امراض اطفال اورپاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کےرہنما پروفیسرجمال رضا نےکہا کہ پاکستان میں بچوں کے مصنوعی دودھ کی قیمت اور معیار کو جانچنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہےکہ فارمولا دودھ کی درآمد پرپابندی لگائی جائے، پاکستان بچوں کے مصنوعی دودھ کی درآمد پر 40 کروڑ ڈالر خرچ کرتا ہے۔

    ذکا اشرف کا ہائرڈ ماڈٌل پر تبصرہ،اے سی سی کا ردعمل سامنے آگیا

    ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹربصیر اچکزئی کا کہنا تھا کہ قرآن میں ماؤں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو 2 سال تک دودھ پلائیں جبکہ سینیٹر سحرکامران کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی طرح فارمولا ملک پر بھی بھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیے، پاکستان میں عوامی مقامات پر دودھ پلانے والی ماؤں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، بچوں کے مصنوعی دودھ سے متعلق سخت قوانین بنانےکی ضرورت ہے۔

    کیا ڈبے کا دودھ بچوں کے لیے صحت بخش ہے؟

    2018 میں کی گئی ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ڈبے کا دودھ بچوں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا،نیویارک یونیورسٹی اورکنیکٹیکٹ یونیو ر سٹی کے محققین نے والدین کو انتباہ کیا تھا کہ فارمولا ملک یا ڈبے والا دودھ بچوں کو پلانے سے گریز کریں کیونکہ ان میں موجود مٹھاس صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی …

    اس تحقیق کے دوران حکام کو مشورہ دیا گیا تھا کہ کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کے ڈبوں پر لگے لیبل میں واضح لکھنا چاہیے کہ یہ ایف ڈی اے (امریکی محکمہ صحت) کا تجویز کردہ نہیں اور اس میں غیر صحت بخش اجزاء ہو سکتے ہیں،بچوں کے اس طرح کے مشروبات غیر ضر وری اور صحت بخش کے اثرات کو زائل کرسکتے ہیں۔

    تحقیق میں کہا گیا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جانی چاہیے جن سے واضح ہوسکے کہ بچوں کے ایسے مشروبات کیا ہوتے ہیں اور کیونکہ ان کا مشورہ نہیں دیا جاسکتا محققین نے دریافت کیا کہ بچوں کے لیے دو قسم کے مشروبات یا دودھ ہوتے ہیں ایک وہ فارمولا ملک، جو 9 ماہ سے 2 سال کے بچوں کو اس وقت دیئے جاتے ہیں، جب ماں کا دودھ چھڑایا جاتا ہے دوسرا ایک سال سے 3 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تیار کیے جانے والا دودھ۔

    قطر سے ایل این جی کارگو پاکستان پہنچ گئے

    محققین کا کہنا تھا کہ ایسے بیشتر مشروبات بنیادی طور پر پاﺅڈر ملک ، کورن سرپ، ویجیٹیبل آئل اور ایڈڈ مٹھاس پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ ان میں نمک کی مقدار زیادہ اور پروٹین کی سطح گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم ہوتی ہےتمام کمپنیاں ان مشروبات کو بچوں کی نشوونما اور غذائی ضروریات کے لیے فائدہ مند قرار دیتی ہیں۔

    مگر عالمی ادارہ صحت مشورہ دے چکا ہے کہ ایک سال کی عمر سے بچوں کو فارمولا ملک کی بجائے گائے کا دودھ صحت بخش غذاﺅں کے امتزاج کے ساتھ دیا جانا چاہیے بچوں کے مشروبات غیرضروری اور غیرموزوں ہوتے ہیں جبکہ گائے کے دودھ اور تازہ خوراک کے مقابلے میں فائدہ مند بھی نہیں ہوتے۔

    لیہ اراضی سکینڈل،عمران خان آج پیش نہ ہوئے تو ہو گی کاروائی

  • حکومت غیر متعدی بیماریوں  سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے     ماہرین

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر متعدی امراض سے جاں بحق اور معذور ہوجانے والے افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ان سے بچاؤ کے لیے بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی طرز کے اقدامات اٹھائے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ملکی و غیر ملکی ماہرین صحت نے پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کی 19ویں سالانہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں سوسائٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ابرار احمد کا کہنا تھا کہ حکومت غیر متعدی امراض خاص طور پر ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے نمٹنے اور بچاؤ کے لیے بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی طرز کے اقدامات اٹھائے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت غیر متعدی امراض خاص طور پر ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور کینسر سمیت گردوں کی بیماریوں کے سیلاب کا خطرہ ہے اور اگر فوری طور پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پاکستان میں نوجوان افراد میں مرنے اور معذور ہونے کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا ڈاکٹروں کی تنظیمیں تحقیق اور شعور بیدار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن جب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس کام کے لیے تعاون نہیں کریں گی غیر متعدی امراض سے بچاؤ ممکن نہیں ہے اب وقت آگیا ہے کہ ذیابیطس اور دل کی بیماریوں پر بھی اتنی ہی توجہ دی جائے جتنی حفاظتی ٹیکہ جات اور متعدی امراض سے بچاؤ کے لیے دی جاتی ہے، پاکستان کے ہسپتالوں میں اتنی سکت نہیں ہے کہ بڑھتے ہوئے مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    پروفیسر ڈاکٹر ابرار احمد نے کہا کہ 3 کروڑ 30 لاکھ ذیابیطس کے مریضوں کے ساتھ پاکستان میں دل، گردوں اور آنکھوں کی بیماریوں کے افراد کی تعداد کروڑوں میں پہنچ جائے گی جس سے نمٹنا کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امپیریل کالج لندن کے ذیابیطس سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر نیاز خان کا کہنا تھا کہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کی اوسط عمر باقی لوگوں کے مقابلے میں 10 سال کم ہوتی ہے جبکہ ایسے مریضوں میں دل کی بیماریوں کی شرح دگنی ہوجاتی ہے۔

    دبئی ذیابیطس سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر حامد فاروقی کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے دوران ٹیکنالوجی کی مدد سے ذیابیطس کے مریضوں کی دیکھ بھال کی گئی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کی جانیں بچ سکیں ٹیلی میڈیسن اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ذیابیطس سمیت دیگر نان کمیونیکیبل ڈیزیز (متعدی امراض) میں مبتلا افراد کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    کانفرنس سے برطانوی ماہر رچرڈ کوئنٹن سمیت دیگر ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے خطاب کیاماہرین نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ حکومت غیر متعدی امراض خاص طور پر ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے نمٹنے اور بچاؤ کے لیے بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی طرز کے اقدامات اٹھائے۔

    کانفرنس کے دوران مختلف اداروں اور پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے مابین باہمی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟