Baaghi TV

Tag: ماہ رمضان

  • ماہ رمضان کی آمد،ایل پی جی کی دکانوں پر رش،قیمت میں اضافہ

    ماہ رمضان کی آمد،ایل پی جی کی دکانوں پر رش،قیمت میں اضافہ

    قصور
    ماہِ رمضان کی آمد کے باعث ایل پی جی گیس کی دکانوں پر شہریوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ گزشتہ تین دنوں کے دوران ایل پی جی کی قیمتوں میں تین بار اضافہ کر دیا گیا ہے
    جس کے باعث ایل پی جی کی فی کلو قیمت بڑھ کر 350 روپے تک پہنچ گئی ہے
    جس سے شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں
    سحری کے اوقات میں گیس لوڈشیڈنگ کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد سلنڈر استعمال کرنے پر مجبور ہے
    خصوصاً دیہی علاقوں کے مکین جہاں سوئی گیس کی سہولت دستیاب نہیں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور انہیں گھریلو ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے
    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لے کر ایل پی جی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے

  • خیبر پختونخوا کابینہ اجلاس،مستحق افراد کو عید پیکج دینے کی منظوری

    خیبر پختونخوا کابینہ اجلاس،مستحق افراد کو عید پیکج دینے کی منظوری

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا دوسرا اجلاس ہوا،

    اجلاس میں صوبائی کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، آئی جی پی اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی،ضم اضلاع میں پولیس کو گاڑیوں اور دیگر جدید آلات کی فراہمی کیلئے اے ڈی پی اسکیم کی منظوری دے دی گئی، اسکیم کے تحت ضم اضلاع میں پولیس کیلئے 7.67 ارب روپے کی لاگت سے گاڑیاں اور جدید آلات خریدے جائینگے

    اجلاس میں صوبے میں مستحق افراد کو عید پیکج دینے کی منظوری دے دی گئی، پیکج کے تحت صوبائی اسمبلی کے ہر حلقے میں ایک ہزار مستحق افراد کو 10، 10 ہزار روپے دیئے جائینگے،اس پیکج پر 1.15 ارب روپے لاگت آئیگی،کابینہ نے 2050 پولیس شہداء کے خاندانوں کو بھی 10، 10 ہزار روپے عید پیکج دینے کی منظوری دیدی، کابینہ نے سرکاری محکموں میں بھرتیوں کیلئے نجی ٹیسٹنگ ایجنسیوں سے اسکریننگ ٹیسٹ لینے کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دیدی ، کمیٹی 15 دنوں میں سرکاری ٹیسٹنگ ایجنسیوں ایٹا کی استعداد بڑھانے سمیت دیگر متعلقہ معاملات پر حتمی سفارشات پیش کریگی، کابینہ نے ڈیجیٹل رائٹ آف وے پالیسی کی بھی منظوری دیدی، اجلاس میں پاکستان ڈیجیٹل سٹی کے قیام کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور اسپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی کے درمیان معاہدے کی بھی منظوری دیدی،اجلاس میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ایگزیکٹیو کمیٹی ممبران پیڈو کی تعیناتی کیلئے رولز کی منظوری دیدی گئی

    ایف نائن پارک زیادتی کیس؛ مشتبہ پولیس مقابلے کی تحقیقات شروع

     لڑکی کو نیم مردہ حالت میں ساحل پر پھینکا گیا، لڑکی کی موت ساحل پر پڑے پڑے ہوئی

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

  • ماہ رمضان کا پہلا روزہ،تقدس رمضان کو یقینی بنایا جائے

    ماہ رمضان کا پہلا روزہ،تقدس رمضان کو یقینی بنایا جائے

    قصور
    ماہ رمضان کی آمد کے پیش نظر احترام رمضان کی خاطر قانون پہ عمل درآمد لازم کروایا جائے

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح آج قصور میں بھی رمضان المبارک کا پہلا روزہ ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد نے مذہبی عقیدت اور جوش کیساتھ پہلا روزہ رکھا ہے
    شہریوں کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان کے تقدس کو یقینی بنانے کی خاطر ضلعی انتظامیہ تقدس ماہ رمضان کو لازم بنائے اور گلیوں، بازاروں و ہوٹلوں وغیرہ میں سرعام کھانے پینے والوں کو احترام رمضان کا پابند بنائے اور سرعام کھانے پینے والے کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے
    گو کہ دین اسلام میں جبر نہیں مگر دین اسلام کی رو سے ان دنوں سرعام کھانے پینے کی سخت ممانعت ہے سو جو روزہ نہیں رکھ سکتا ان کو اپنے گھروں یا ہوٹلوں میں چار دیواری کے اندر کھانے پینے تک محدود کیا جائے ناکہ و سرعام کھاتے پیتے تقدس رمضان کو پامال کرتے پھریں

  • عید 22 اپریل کو،رویت ہلال کمیٹی نے ایک دن قبل  ویڈیو کیوں ریکارڈ کروائی؟

    عید 22 اپریل کو،رویت ہلال کمیٹی نے ایک دن قبل ویڈیو کیوں ریکارڈ کروائی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان مفتی ناصر الاسلام کی جانب سے ایک دن قبل ہی عید اعلان کی ویڈیو ریکارڈ کروانے پر پھٹ پڑے ہیں،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر میں آپکو یہ کہوں کہ عید ہفتے کے دن ہے تو آپکو کیسے یقین آئے گا؟ مجھے نہیں پتہ کہ یہ ویڈیو کس وقت دیکھیں گے، اج جمعرات اور بیس تاریخ ، دن کا ایک بجا ہے، پہلے سے بتا رہا ہوں کہ کافی لوگ آپ جو مرضی کر لیں کہہ لیں وہ عید ہفتے کو کریں گے، اسکے پیچھے کتنے مکروہ لوگ موجود ہیں، وہ لوگ جنہوں نے اسلام کا مزاق بنا رکھا ہے، دین کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کا مزاق بناتے ہیں، حالانکہ وہ دین کے معاملے میں پڑھے لکھے نہیں ہیں کیونکہ اگر کسی کو احساس ہوتا کہ اسلام کی تعلیمات کیا ہیں تو وہ دین کا مزاق نہ اڑاتا، میں بات کر رہا ہوں مفتی ناصر الاسلام کی جس نے دو دن قبل پیغام ریکارڈ کروا دیا کہ عید ہفتے کو ہو گی،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسکی وجہ کیا ہے، میں کئی سال سے کہہ رہا ہوں،لیکن لوگ بات سنتے نہیں جہاں مزہب آ گیا، مولوی آ گیا وہاں سب چپ ہو گئے، ہم نے جاہل لوگوں کے ہاتھ میں دین دیا ہوا ہے، اتنی کہانیاں ہیں اس میں کہ سوچ بھی نہیں سکتے، 20 تاریخ کی صبح کو میں نے ایک ویڈیو دیکھی، جس نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی، تین چار بار دیکھی کہ یہ ویڈیو میں تاریخ اب کی ہے، پرانی تو نہیں ،لیکن مفتی ناصر الاسلام کشمیر کے ہیں اور رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے اعلان کر رہے ہیں کہ علماء کرام کی بیٹھک کے بعد پتہ چلا کہ کوئی رویت چاند کی نہیں آئی اسلئے عید اب جمعہ کو نہیں ہفتہ کو ہو گی،سوچیں یہ کیا ویڈیو ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپکو حیرانی ہوئی،مجھے نہیں ہوئی کیونکہ مجھے پتہ ہے یہ کام ہوتے ہیں، ایک جگہ پر الگ چاند نظر آتا ہے، کراچی اور پشاور میں چار منٹ کا فرق ہے، نارتھ سے ساؤتھ میں آ جائیں ، دو گھنٹے ، چار گھنٹے کا فرق نہین، ایک دن کا فرق نہیں،پاکستان چھوٹا ملک ہے اور چار منٹ کا اس میں فرق ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پشاور میں الگ اور کراچی میں الگ، کشمیر میں الگ چاند نظر آ رہا ہے، ملک میں تین تین چار چار عیدیں کیسے ہو سکتی ہیں،یہ کوئی بار تھوڑا ہی ہوا، پہلے بھی کئی بار ہو چکا، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے، میری کتاب میں، میرے علم کے مطابق جو شخص دین میں اضافہ کرتا ہے وہ بدعتی ہے اور اسکے لئے کوئی جگہ نہیںَ ، بدعتی بھی وہ جو جان بوجھ کر کرے پھر.جو تعلیم دے رہا ہے، تبلیغ کر رہا ہے، انکی کیا گنجائش ہے ، ہم کتنے لوگوں‌ پر توہین مز ہب کا الزام لگا دیتے ہیں، مجزوب بچی پر الزام لگا دیا گیا، اور کئی واقعات ہو چکے ہیں، کیا یہ لوگ ہمیں بتائیں گے کہ کون کافر ہے، یہ جو سو کالڈ مولوی کر رہا ہے یہ توہین مز ہب نہیں تو اور کیا ہے، جب مفتی رویت کا کہہ رہا ہے اسکے اوپر بات کر رہا ہے، یعنی جتنی انکے پاس شہادتیں آئیں گی، انکو جھٹلانا ہے، کتنی بار ہوا کہ تین سو شہادتیں آئیں اور رویت ہلال کمیٹی نے نہیں مانیں، مسجد قاسم خان پھر الگ سے عید کا اعلان کر دیتی، کہیں روزہ تو کہیں عید، رمضان کے شروع اور عید کے لئے چاند کا مسئلہ، لیکن گیارہ ماہ میں چاند کا کوئی مسئلہ نہیں کیوں؟

    پاکستانی قوم خبردار،مفتی نے چاند دیکھے بنا دن دہاڑے قبل از وقت عید کا اعلان کر دیا

  • ماہ مہمان کی قدر کیجئے،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ماہ مہمان کی قدر کیجئے،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ماہ مہمان کی قدر کیجئے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    روزے کو عربی میں صوم، صیام کہتے ہیں جس کے لغوی معنی ہیں کہ کسی چیز سے اپنے آپ کو روکے رکھنا
    اگر ہم بغور مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ صیام یعنی روزے کا اصل باشرع مقصد و مطلب ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لئے سحری سے نماز مغرب تک خود کو کھانے پینے و نکاح کے باوجود جماع جیسے جائز کام سے روکے رکھنا ہے

    روزوں کی فرضیت کا حکم سنہ 2 ہجری میں تحویل قبلہ کے واقعہ سے کم و بیش دس پندرہ روز بعد نازل ہوا

    آیت صیام شعبان کے مہینے میں نازل ہوئی جس میں رمضان المبارک کو ماہ صیام قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا

    شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ

    البقرة
    رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) راہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے

    اسلام میں ہر عمل کا اجر بتایا گیا کے مگر رمضان کے روزے کا اجر ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالی ہی جانتے ہیں اس بارے یہ حدیث ہے

    ابن آدم کا ہر عمل دوگنا ہوتا ہے، نیکی کا اجر دس سے لیکر سات سو گنا تک جاتا ہے، اللہ عزّوجل نے فرمایا،روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اسکا اجر دوں گا کیونکہ اس میں میرا بندہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑ دیتا ہے روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اسکی افطاری کے وقت اور دوسرے اپنے رب سے ملاقات کے وقت، اسکے ( روزہ دار) منہ کی بو اللہ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے (متفق علیہ )

    اس ماہ رمضان کی حرمت یہ ہے کہ صحیح بخاری میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں

    اللہ رب العزت کی رحمت بہت وسیع ہے وہ تو اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو معاف کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا ہے تاکہ خطاءکار حضرت انسان کی اصلاح کرکے اس کے گناہ معاف فرما کر اسے جنت کا راہی بنایا جائےاسی لئے اللہ رب العزت نے اس ماہ مقدس کو مہمان بنا کر بیجھا تاکہ ہم گناہوں سے بچ سکیں اور نیک اعمال کرکے جنت میں جائیں جس طرح ہم دنیا میں آنے والے مہمان کی خاطر اس کی تکریم کی خاطر اپنے گھر کو صاف کرتے اور گھر کی تزئین و آرائش کرتے ہیں بلکل اسی طرح ہمیں اس ماہ مقدس ماہ مہمان کی آمد سے پہلے اپنے دل کو صاف کرنا چائیے –

    ہر اس برائی سے بچنا چائیے جس سے ہمیں اسلام نے منع فرمایا ہے تاکہ آنے والا مہمان ماہ صیام کو پتہ چلے کہ ہم اسکا خوب شاندار استقبال اس کی عزت و تکریم میں کر رہے ہیں جس طرح ایک خوش اخلاق مہمان جاتے ہوئے گھر کے چھوٹے بچوں کو یاں پھر کسی اور کو تحفتاً کچھ نقدی جا اور چیز جا کر جاتے ہیں بلکل اسی طرح یہ ماہ مہمان ہمیں جاتے ہیں اپنی صحیح اسلامی خاطر تواضع کے عیوض متقی اور پرہیز گار بنا کر جاتا ہے اور عید الفطر جیسی خوشی و متقی بن جانے پہ جنت کی بشارت دے کر جاتا ہے اب آگے ہماری مرضی ہے کہ ہم ماہ مقدس ماہ رمضان کے جانے کے بعد بھی اسی عقیدے پہ چل کر جنت کے پکے حق دار رہتے ہیں کہ نہیں-

    ماہ رمضان کے اندر جس طرح ہم اپنے گھر والوں کے لئے عمدہ سے عمدہ کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں ویسے ہی ہمیں چائیے کہ اپنے پڑوسیوں عزیزوں رشتہ داروں کا بھی خیال رکھیں جو مالی طور پہ کمزور ہیں ان کی مدد کی جائے تاکہ وہ بھی اچھے طریقے سے سیر ہو کر روزہ رکھیں اور افطار کریں کیونکہ آپ کے صدقہ خیرات کے علاوہ عام مالی مدد کا سب سے پہلا مستحق آپکا اپنا بہن بھائی پھر اسے کے بعد آپکا ہمسایہ و گلی محلے والا اور رشتہ دار ہیں اس کے بعد دیگر جماعتیں و لوگ آتے ہیں اگر قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں تو صدقے خیرات کے اولین حقدار یہی لوگ ہیں مگر افسوس آج ہم لاکھوں روپیہ لگا کر افطار پارٹیاں تو کرتے ہیں مگر اصل حقدار ان افطار پارٹیوں کے قریب بھی نہیں دیکھے جاتے-

    میں افطار پارٹیوں کے خلاف نہیں مگر ایک بات یاد کرواتا چلو آپ نے اگر اپنے اصل حقدار تک اس کا حق نہیں پہنچایا اور اس کے بغیر آپ پہلے سے مالی مستحق دوستوں یاروں کی افطار پارٹیاں کر رہے ہیں تو یاد رکھیں روز قیامت اس پہ پوچھ ہو گی اور رب کی طرف سے پکڑ بھی ہو گی افطار پارٹیاں ضرور کیجئے مگر اس سے پہلے اصل حقداروں تک اس کا حق پہنچائیے-

    سوچیں اصل حقداروں کا حق مار کر کسی اور کو راضی کرکے ہم رب کو راضی کر سکیں گے؟ہر گز نہیں باقی روزہ دار کی افطاری کروانا بہت بڑا ثواب ہے اس بارے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے

    حضرت زید بن خالد رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی روزے دار کو افطار کروائے یا کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کروائے تو اسے بھی اس کے مثل اجر ملے گا (بیہقی)

    آخر میں ایک بار پھر یاد کروا دو پہلے اپنے اصل حقدار راضی کرو ان کا حق ان تک پہنچاؤ پھر لاکھوں کروڑوں لگا کر افطار پارٹیاں کرو اور ان افطار پارٹیوں میں بھی غریب غرباء کو یاد رکھواللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

  • ‏شبِ قدر کی فضیلت  تحریر: محمد اسعد لعل

    ‏شبِ قدر کی فضیلت تحریر: محمد اسعد لعل

    شبِ قدر کے بارے میں فرمایا جاتا ہے کہ شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ قرآنِ مجید کی سورۃ القدر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ایک غیر معمولی اور فیصلوں کی رات میں نازل کیا گیا۔ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔)
    اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، وہ کتاب جس نے قیامت تک لوگوں کو خبردار کرنا ہے, جب نازل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ اس کے لیے میں نے رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا۔ اور یہ رمضان کا مہینہ ہے جس میں وہ رات آئی، جس کو قرآنِ مجید نے "لیلۃالقدر”سے تعبیر کیا، ایک اور جگہ سورۃ الدخان میں” لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ”(برکت والی رات) سے تعبیر کیا۔ اور بتایا کہ تم اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔
    وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ
    یہ ہزار مہینے سے اللہ کے ہاں بہتر رات ہے، بلکہ مزید اللہ تعالیٰ نے اس کی تشریح کی ہے کہ اس میں ملائکہ اور روح الامین اترتے ہیں۔ اور جب یہ رات آتی ہے تو صبح تک سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے۔ یہ اس رات کی فضیلت ہے۔
    جس طریقے سے اس دنیا کے ساتھ معاملے کے لیے اللہ نے فرشتوں کو ذمہ داریاں دے رکھی ہیں بالکل اسی طرح کائنات کے بعض معاملات کے لیےخاص خاص دن بھی مقرر کر رکھے ہیں۔
    قرآنِ مجید کے نزول کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ بھی اسی طرح کی ایک رات میں نازل ہو گا، یعنی وہ رات جو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے فیصلوں کے لیے مقرر کر رکھی ہے جس میں فرشتے اور روح الامین وہ فیصلے لے کر زمین پر آتے ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ سلامتی کی رات بنا دیتے ہیں۔
    حضرت محمدﷺ کو بعد میں یہ بتایا گیا کہ قرآن مجید رمضان میں نازل کیا گیا تھا۔ سورۃ القدر قرآن کی پہلی سورت نہیں ہے، یہ کافی بعد میں نازل ہوئی تھی۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ "ہم نے اس کو اُس فیصلوں والی رات میں نازل کیا تھا جو بڑی عظیم رات ہے۔”
    ظاہر ہے یہ جو اس رات کی غیر معمولی حیثیت بتائی گئی ہے تو آپﷺ کے دل میں بھی یہ چیز پیدا ہوئی کہ ایک بندہ مومن کی حیثیت سے میں یہ تلاش کروں کہ وہ رحمت، برکت اور فیصلوں کی رات کب آتی ہے۔ اللہ نے بتا دیا کہ وہ رات رمضان میں آئی تھی، یہ بھی بتا دیا کہ اس میں قرآن نازل ہوا تھا۔ چنانچہ آپﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا، ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو یاد رہ جاتا ہے۔ ایک وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو متنبہ کر دیا جائے تو وہ چیز ہمیشہ کے لیے یاد رہتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد کسی بات کے بارے میں بتایا جائے تو آدمی پلٹ کے پیچھے دیکھتا ہے اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ کب کی بات ہے، تو اس کے بارے میں آپ ﷺ کو یہ خیال ہوا کہ غالباً رمضان کے آخری عشرے کی کوئی طاق رات تھی۔
    اگر آپ کو معلوم ہو کہ ایسی رات جس میں کائنات کے پروردگار کی عنایت ہو گی، جس میں فیصلے ہوتے ہیں، جس کی اتنی بڑی عظمت ہے تو ایک بندہ مومن کی حیثیت سے آپ اس رات کو تلاش کریں گے۔ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ آپ یہ کوشش کریں گے کہ جب وہ رات آئے، جب وہ رحمت کی گھڑی آئے تو آپ جاگ رہے ہوں، آپ خدا کو یاد کر رہے ہوں، آپ خدا کی عنایتوں کے طلب گار ہوں اور آپ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوں۔ یہ فطری خواہش ہے، چنانچہ آپﷺ کے دل میں بھی یہ پیدا ہوئی اور آپﷺ عام طور پر اس کا اہتمام کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے رمضان کے اس عشرے کو اپنے لیے اعتکاف کے لیے مقرر کیا۔
    یہ رات دعا کی قبولیت کی رات ہے، اپنے لئے، دوست و احباب کے لئے اور والدین کے لئے دعا مغفرت کرنی چاہیے، اس رات میں دعا میں مشغول ہونا سب سے بہتر ہے اور دعاؤں میں سب سے بہتر وہ دعا ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے۔
    اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
    اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا، کرم کرنے والا ہے، تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔
    https://t.co/mBQmJwgVeU‎
    ‎@iamAsadLal

  • ماہ رمضان میں غریبوں کی مدد کرنی چاہئیے

    ماہ رمضان میں غریبوں کی مدد کرنی چاہئیے

    قصور
    الہ آباد
    رمضان المبارک کی خوشیوں میں غرباء کو یاد رکھا جائے سہری اور افطاری میں روزہ داروں کے لئے انتظامات کروائے جائیں ان خیالات کا اظہار قاری عبد الجبار دانش اور حافظ عثمان فیصل نے مشترکہ بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ رمضان کا مہینہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اس مبارک ماہ میں شیطان کو قید کر دیا جاتاہے اور ہر طرف خدا تعالیٰ کی رحمت اور برکت کا سماں ہوتا ہے نیکیوں کے اس موسم بہار میں غریب اور حقدار لوگوں کو بھی یاد رکھا جائے اور ان کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ ان کے لئے سہری اور افطاری کا انتظام بھی کیا جائے جو کہ بہت بڑی نیکی ہے روزے کا اجر اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے روزے دار کے لئے جنت میں داخلے کے لئے ایک الگ دروازہ ہو گا جس میں صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے

  • ماہ رمضان کے تقاضے، تحریر: پروفیسر زید حارث

    ماہ رمضان کے تقاضے، تحریر: پروفیسر زید حارث

    رمضان مسلمانوں کی جسمانی و روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مبارک اور مقدس مہینے کا ایک اہم تربیتی پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے مخلص کرے اور یہ اخلاص اس کے دل میں موجود ہو۔

    محترم قارئین: ہم درج ذیل سطور میں ان احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جو اس پہلو کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے ساتھ کوئی جھگڑا کرے تو کہہ دو کہ "میں روزے سے ہوں "۔ ایک مسلمان روزے کی حالت میں اپنے آپ کو اس قدر متواضع بنا لے اور دوسرے انسان کے حق میں ایسا نرم ہو۔

    اور حدیث مبارکہ میں یہ ذکر نہیں کہ کوئی مسلمان گالی دے بلکہ فرمایا; فإن شتمه أحد ” اگر اس کو کوئی بھی گالی دے تو وہ کہے : میں روزہ دار ہوں۔ بلکہ بعض روایات میں فرمایا کہ ” اگر اس سے کوئی لڑائی بھی کرے یعنی معاشرے میں رہنے والا ہر فرد صرف اس کی برائی اور زیادتی سے محفوظ ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ زیادتی کرنے والے کو بھی جواب مسکراہٹ میں ملے گا۔ایک انسانی معاشرے کو ایسا شاندار حسن فراہم کرنے والی عبادت روزہ ہے کہ روزہ رکھنے والا پورا مہینہ اس بات پہ اپنی تربیت کرے کہ زیادتی گالی کا جواب پتھر سے نہیں بلکہ اخلاق کی اعلی اقدار کا مظاہرہ کرکے دیا جائے۔دنیا میں اس کردار سے بڑھ کر اعلی کردار کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن افسوس کہ زندگی کے کئی رمضان گزارنے کے باوجود ہم اس کردار سے عاری اور ہمارا معاشرہ ان اقدار سے محروم نظر آتا ہے۔ دوسری حدیث میں تو روزہ ایک مسلمان کی زندگی کو صداقت و اخلاص کے اعلی معیار پہ لے جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة أن يدع طعامه و شرابه ".

    روزہ ایک مسلمان کی زندگی کے قول و فعل میں صداقت و سچائی پیدا کر دیتا ہے اور اگر ایک روزے دار اپنے اقوال یا اعمال میں سچائی کا رنگ پیدا نہیں کرتا تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔کیا ہم اپنے اقوال میں ہمیشہ سچ بولتے ہیں؟

    ہم تکلفا کہہ دیتے ہیں کہ نہیں جی مجھے بھوک نہیں میں نے کھانا کھا لیا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہم مشورہ دینے میں بھی بہت زیادہ جھوٹ کا استعمال کر جاتے ہیں۔ بالخصوص دفاتر میں یا آفس میں افسر اور ذمہ دار کو مشورہ دینے کا وقت ہو تو ہم اپنا قیمتی اور خیرخواہی کا مشورہ نہیں بلکہ اس کے مزاج اور اس کی پسند کا خیال کرتے ہوئے اس کی رائے کا موافقت کرتے رہتے ہیں حالانکہ ہم جانتے بوجھتے ہوئے ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں کے دروازے اور کچہریوں کے ٹیبل گواہوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ہماری گواہی کا اثر کیا ہو گا۔ ہمیں صرف پیسہ کمانے سے غرض ہے۔

    اس طرح کی کئی ایک مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ ہمیں رمضان کی ابتدا ہی سے اپنے نفس کی تربیت پہ محنت کرنا ہو گی تاکہ رمضان کے آخر میں عبادات میں واضح تبدیلی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد میں بھی تبدیلی کا واضح اثر ہمارے تعاملات اور سلوک میں موجود ہو۔ رمضان کا مقدس مہینہ حقوق العباد کی ادائیگی پہ ترغیب دیتے ہوئے ہمیں اس بات کا بھی درس دیتا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد غرباء اور فقراء مساکین کا مالی تعاون کریں ۔صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں تیز آندھی سے بھی زیادہ رفتار سے سخاوت کرتے تھے۔

    تو اس سخاوت سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ بہت زیادہ مال ودولت کی ملکیت کے بعد ہی اس پہ عمل ہو سکتا ہے۔

    بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کی حالت تو واضح ہے کہ بہت زیادہ وافر غذا یا مال میسر نہیں تھا ۔ اس کے باوجود جو کچھ موجود ہو اس میں سے اللہ کے رستے میں دیتے رہنا اور اپنے مال کو پاک کرنا اور اللہ کے بندوں کی پریشانی کو خوشی اور مسرت میں بدل دینا رمضان کا شعار ہے۔اسی طرح روزے دار کو افطاری کروانا بھی ایک روزے دار کے اجر کی مقدار کے برابر ہے۔

    اس میں بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ ان لوگوں کو افطاری کروائی جائے جو مستحق ہیں۔ اس طرح رمضان کے مقدس مہینے میں ہم لوگوں کی بھوک دور کر کے اس معاشرے میں عدل اور اخوت کا ایک خوبصورت منظر پیش کر سکتے ہیں ۔ یہ مہینہ حقوق اللہ میں مسابقت اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اپنی کمی و کوتاہی کو دور کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔