Baaghi TV

Tag: مبشر لقمان

  • صدر مملکت کا نوٹفکیشن آرڈر بڑا عجیب،کیا یہ اصلی یا دوسرا بھی جعلی،مبشر لقمان کے تلخ سوال

    صدر مملکت کا نوٹفکیشن آرڈر بڑا عجیب،کیا یہ اصلی یا دوسرا بھی جعلی،مبشر لقمان کے تلخ سوال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں آج جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز کے حوالہ سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں،بنا تاریخ کے نوٹفکیشن ملنے پر مبشر لقمان وزیراعظم و صدارتی سیکرٹریٹ کے افسران پر برس پڑے،وزیر اطلاعات عطاتارڑ سے جواب مانگ لیا.

    ان خیالات کا اظہار مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشل پر ایک وی لاگ میں کیا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بڑا ہی عجیب لگ رہا ہے مجھے یہ پروگرام کرتے ہوئے، یہ چھوٹا سا پروگرام ہے لیکن ٹاپ بریکنگ لے کر آ رہا ہوں یہ اس نوٹفکیشن کے مطابق ہے جس پر ہم سب نے مبارکباد دی، ٹی وی پر آ کر بھی مبارکباددی کہ یہ پاکستان کے لئے بہت اچھا ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہماری اشرافیہ نالائق ہے یا چالاک ہے،میری سمجھ سے بالاتر ہے، یہ نوٹفکیشن کیا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں تو لگتا ہے کہ یہ نوٹفکیشن غلط ہے، آپ مجھے بتائیں کہ یہ نوٹفکیشن صحیح ہے یا پہلے کی طرح غلط ہے، جس طرح اعزاز سید نے خبر دی تو بعد میں کہا گیا کہ یہ فیک ہے، بحرحال اس کے بعد نوٹفکیشن آ گیا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری چڑیل نے کہا کہ نوٹفکیشن دیکھا جس پر میں نے کہا میں نے کیا دیکھنا جنہوں نے دیکھنا ہے وہ دیکھیں، محسن نقوی، فیصل واوڈا خوش ہوں گے اور لوگ بھی خوش ہوں گے،چڑیل کے دوبارہ کہنے پر میں نے پھر نوٹفکیشن دیکھا ،نوٹفکیشن بڑا سادہ ہے،سات لائنز ہیں ٹوٹل،اس موقع پر مبشر لقمان نے نوٹفکیشن پڑھ کر سنایا.آخری لائن میں مہینہ کے ساتھ تاریخ نہیں لکھی گئی جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2025 ہے لیکن تاریخ کون سی؟ تاریخ نہیں لکھی گئی، اب اس پر بحث ہو گی کہ کونسی تاریخ ہے آج کی ہی یا پہلے کی،یا کب کی، دوسرا نوٹفکیشن ہے ایئر چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا،اس میں بھی تاریخ نہیں لکھی گئی،یہ کس قسم کا نوٹفکیشن ہے، یہ مجھے واٹس ایپ پر سارے ملے، ہو سکتا ہے کسی نے مجھے غلط بھیج دیا ہو تاہم میری درخواست ہے عطا تارڑ سے کیونکہ وہ وزیر اطلاعات ہیں کہ مجھے بتا دیجیے گا کہ اس پر تاریخ ہے ہی یا نہیں یا میرے پاس جو ہے وہ غلط ہے، اگر اس پر تاریخ نہیں ہے تو اسکی لیگل ویلیو کیا ہے،یہ فوری نافذ ہو گا یا پھر دوبارہ تاریخ لکھی جائے گی اور صدر کے دستخط ہوں گے،یا دوبارہ سے نیا نوٹفکیشن ہونا ہے، یہ کس چکر میں ہمیں ڈال دیا مجھے یاد ہے جب جنرل باجوہ کا نوٹفکیشن ہونا تھا اسوقت بہت چکر پڑے تھے،آصف سعید کھوسہ نے بھی سپریم کورٹ بلا لیا تھا،پھر نوٹفکیشن لکھ کر دیا گیا اور پھر آیا،میرے خیال سے اب دوبارہ یہ نوٹفکیشن ایک لائن کے انکو لکھ کر بھیجنے پڑیں گے پھر دستخط ہوں گے،کیونکہ خود سے ہمارے وزیراعظم ہاؤس میں پتہ نہیں کس کی ذمہ داری ہے کیونکہ میں نے وزیراعظم سیکرٹریٹ یا صدارتی سیکرٹریٹ میں کام نہیں کیا، اب پتہ نہیں کس کی غلطی ہے لامنسٹری کی غلطی ہے یا کسی اور کی، جو بھی ہے مذاق بنا دیا ہے کیوں ایسی حرکتیں کرتے ہیں آپ لوگ،

    مبشر لقمان کا مزید کہناتھا کہ ایک دو لائنوں والا نوٹفکیشن صحیح نکال نہیں سکتے لیکن 25 کروڑ آبادی والا ملک چلائیں گے،اب اس کو خسارے سے،ا ندھیروں سے نکالیں گے ،معاشی ترقی کریں گے، میں اس پر کیا کہوں، مجھے غصہ نہ چڑھے تو کیا ہو.اور اگر یہ غلط ہے، میرے پاس غلط نوٹفکیشن آیا ہے تو میری تصحیح کر لیجے گا .اللہ اس ملک کو اپنی امان میں رکھے.

    جنرل عاصم منیر کی تقرری ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    صدر مملکت نے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کی منظوری دے دی

  • کبوتر پکڑ لیا،سرنڈر مودی کے ساتھ ہاتھ ہوگیا، گودی میڈیا ہلکان

    کبوتر پکڑ لیا،سرنڈر مودی کے ساتھ ہاتھ ہوگیا، گودی میڈیا ہلکان

    مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں بھارت کی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے کو بے نقاب کیا ہے۔

    انہوں نے ایک تازہ بریکنگ نیوز کا ذکر کیا جس میں بھارت نے ایک پاکستانی کبوتر کو پکڑ کر اس کے پاؤں سے کچھ پرچیاں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ بھارت کا میڈیا ان پرچیوں کو پاکستان کی طرف سے دھمکی کے طور پر پیش کر رہا تھا، لیکن یہ جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں بھارتی عوام کے درمیان مذاق کا باعث بن گئیں۔لقمان نے بتایا کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے اس کبوتر کو پکڑنے کا کریڈٹ ایسے لیا جیسے انہوں نے کسی فوجی حملے کو ناکام بنایا ہو، لیکن حقیقت میں کچھ نہیں ملا۔ جب اس جھوٹ کا پردہ چاک ہوا، تو بھارتی سوشل میڈیا پر اس کبوتر کی تصاویر وائرل ہو گئیں، اور عوام نے بھارتی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا۔

    وی لاگ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ بھارت کی گودی میڈیا پاکستان کے خلاف مزید جھوٹے پروپیگنڈے پھیلا رہا ہے اور پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن جب چین نے پاکستان کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کیا، تو بھارتی میڈیا کی یہ سازشیں بے نقاب ہو گئیں۔لقمان نے کہا کہ مودی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کرکٹ اور ہاکی کے میچز پر زور دینے کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف جھوٹے بیانات دینے کی کوشش کر رہا ہے، مگر اب بھارت کے عوام بھی ان جھوٹوں کا مذاق اُڑانے لگے ہیں۔

    آخر میں مبشر لقمان نے امبانی اور دوسرے بھارتی بزنس ٹائیکونز کی جانب سے مودی کی قیادت پر سوالات اٹھانے کا ذکر کیا، اور کہا کہ وہ اب مودی کو سپورٹ کرنے کے بجائے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے حامی بن چکے ہیں۔


    صدر مملکت نے 11واں نیشنل فنانس کمیشن تشکیل دے دیا

    انڈیا بنا دھوبی کا کتا،چین سے تجارت کی بھیک، روس بھی آنکھیں دیکھانے لگا

    بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورت حال پر این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    بلوچستان میں منفی پروپیگنڈا ناکام ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

  • حمیرا اصغر ایک ماہ پہلے نہیں گزشتہ برس اکتوبر میں ہی مر گئی تھی،مبشر لقمان کا انکشاف

    حمیرا اصغر ایک ماہ پہلے نہیں گزشتہ برس اکتوبر میں ہی مر گئی تھی،مبشر لقمان کا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حمیرااصغر کی پراسرار طریقے سے لاش ملی ہے، پولیس نے کہہ دیا کہ ایک مہینہ پرانی لاش ہے، لواحقین سامنے نہیں آ رہے، میں نے کچھ لوگوں سے باتیں کیں، چند گھنٹے میں مجھے وہ پتہ چل گیا جو پولیس کو نہیں پتہ، اس کی موت پچھلے سال اکتوبر میں ہوئی ہے،میں یہ بڑا سوچ کر کہہ رہا ہوں، اکتوبر یا ستمبر کے آخر میں موت ہوئی ہے، اسکے بعد کا کسی کو پتہ نہیں تھا لواحقین نے لاش لینے سے انکار کر دیا، سامنے کوئی نہیں آ رہا تو پولیس نے کہا مٹی ڈالو کیس ختم کرو کیونکہ اس کیس میں انکم تو ہو نہیں رہی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نےکہا کہ ہم ویڈیو شیئر کرتے ہیں جس پر میں نے کہا کہ مجھے ویڈیو نہ شیئر کریں، کوئی بھی ماں باپ اس طرح کی خبر سن کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے،بجائے اس کے کہ ہم ویڈیو دیکھتے رہیں،حمیرا پچھلے دس سالوں سے کچھ سٹوڈیو میں آنا جانا تھا ایکٹنگ کر رہی تھی، لوگ کہتے تھے کہ اس کو شوق تھا لیکن بیچاری شاید لمیٹڈ تھی اپنی سکلز میں،اور اس کو بڑے موقع نہیں ملے، زندگی کا بڑا موقع تماشا میں ملا، پہلی باری فیم سامنے آیا اور لوگ اس کو جاننا شروع ہو گئے، ابھی بھی جب اس کی موت کی خبریں سامنے آئی ہیں تو تماشا میں لڑائی کی ویڈیو پھر وائرل ہو رہی ہے

    مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ حمیرا کے باپ نے کہہ دیا کہ میں نے قطع تعلق کر دیا تھا لاش بھی نہیں لینی، میں کیا کہوں اسکے لئے میرے پاس لفظ نہیں،پتھر صفت انسان ہو گا یہ، انسان کے گھرمیں‌ رہنے والے جانور کی موت ہو جائے تو بندہ ہل جاتا ہے بجائے اس کے کہ اپنا خون جدا ہو اور انسان ایسا کرے، قطع تعلقی کہ وجہ اداکار بننا ہی ہو سکتا ہے، اگر وہ چلی گئی تو اس نے کتنی مشکلیں جھیلیں ،اگر کسی سے تعلق ہوتا تو نوبت ہی نہ آتی،اسکو سر چھپانے کی اور جگہ ملتی، اس نے اپنے آخری رابطوں میں دوستوں سے کہا تھا کہ میں آج کل بہت پریشان ہوں، اسکو شاید کہیں سے دھمکیاں مل رہی تھیں.

  • پہلگام ڈرامہ،  ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    پہلگام ڈرامہ، ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    بھارت میں مودی سرکار اپنی ناکامیوں، ظلم و جبر، کرپشن اور انتہاپسندانہ پالیسیاں چھپانے کی کوشش کرتی ہے تو ایک نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، کبھی پلوامہ، کبھی اوڑی، اور اب "پہلگام”لیکن اس بار بھارت کو منہ کی کھانا پڑی، کیونکہ پاکستان نے نہ صرف ہر الزام کا دنداں شکن جواب دیا بلکہ اتحاد، جرأت اور حب الوطنی کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ دشمن کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ بھارت نے حسبِ عادت انگلی پاکستان کی طرف اٹھائی، تو پاکستانی قوم نے جواب دیا "اگر جنگ مسلط کی گئی تو تمہیں وہ سبق سکھائیں گے جو تمہاری آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی!”افواجِ پاکستان نے کمر کس لی، سیاستدانوں نے اختلافات بھلا کر ایک آواز میں بات کی، میڈیا نے دلیرانہ انداز اپنایا، اور عوام پاکستان نے سوشل میڈیا کو مورچہ بنا کر دشمن کے پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا۔

    اس جنگ میں سچائی کے سپاہیوں کی صفِ اول میں ایک نام نمایاں ہے،مبشر لقمان ، وہ اینکر، وہ صحافی، جسے نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ جھکایا جا سکتا ہے،پہلگام واقعے کے فوراً بعد مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل "مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل” پر مسلسل پروگرامز کر کے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا۔ مودی سرکار کے جھوٹ، بھارتی میڈیا کے جھانسے، آر ایس ایس کے ایجنڈے، اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ ان کے پروگرام "کھرا سچ” نے وہ سچ دکھایا جو بھارتی عوام سے چھپایا جا رہا تھا۔بھارت، جسے خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہنے کا زعم ہے، سچ برداشت نہیں کر سکا۔ مودی سرکار نے مبشر لقمان سمیت کئی پاکستانی صحافیوں کے یوٹیوب چینلز بھارت میں بند کر دیے۔یہ صرف ایک یوٹیوب چینل کی بندش نہیں، یہ آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے کی شرمناک کوشش ہے.ایک طرف بھارت دنیا کو آزادی کا سبق دیتا ہے، دوسری طرف سچ سننے کی سکت نہیں رکھتا۔ جو سوال کرتا ہے، جو آئینہ دکھاتا ہے، جو حق بولتا ہے ، اس کی آواز بند کر دی جاتی ہے۔لیکن یاد رکھو مودی،سچ کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا

    کھرا سچ کبھی نہیں جھکتا،پاکستان کے دلیر صحافی، عوام اور افواج ایک پیج پر ہیں۔ ہمارا پیغام صاف ہے "اگر تم جنگ چاہتے ہو، تو ہم میدان میں آنے کو تیار ہیں! لیکن سچ سے مت بھاگو، سچ کو سنو”مبشر لقمان جیسے صحافی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی کی علامت ہیں۔ اور جب تک ایسے چراغ روشن ہیں، پاکستان کا موقف دنیا تک پہنچتا رہے گا، چاہے تم کتنے ہی چینل بند کرو، کتنے ہی پراپیگنڈے کرو ..”کھرا سچ” ہمیشہ بولے گا، گونجے گا، اور تمہاری نیندیں حرام کرتا رہے گا

    مودی کا سچ پر وار،مبشر لقمان کا چینل بھارت میں بند،پاکستانی صحافیوں کا شدید ردعمل

    بھارت کو "کھرا سچ”ہضم نہ ہوا، مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بند کر دیا

    پہلگام حملہ، اینکر پرسن مبشر لقمان نے انڈین میڈیا او رحکومت کا جھو ٹ بے نقاب کر دیا

    قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کا مبشر لقمان نے کیا افتتاح

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • امریکی طیارہ حادثہ،چند لمحے قبل کیا ہوا، اہم انکشاف،مرنے والوں میں پاکستانی شامل

    امریکی طیارہ حادثہ،چند لمحے قبل کیا ہوا، اہم انکشاف،مرنے والوں میں پاکستانی شامل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پرسوں رات کو ایک بڑا خوفناک حادثہ ہوا واشنگٹن ڈی سی میں جس میں آرمی ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارہ آپس میں ٹکرا گئے اور دریا میں گر گئے، 67 افراد دونوں پر سوار تھے اور کوئی بھی زندہ نہیں بچا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل میں بیٹھا تھا تو لوگ کہہ رہے تھے ایکٹ آف ٹیرارزم تھا، یہ پتہ کریں کہ ائر ٹریفک کنٹرولر کون تھا مسلمان تھا کالا تھا گورا، یا ایل جی بی ٹی کیو کا ممبر، یہ سب بیکار کی باتیں، واشنگٹن ڈی سی ہے، پوری دنیا کا یہ پاور ہاؤس ہے، پوری دنیا یہ جگہ کنٹرول کرتی ہے،ہوا کیا ، ایک پرواز جو ٹیک آف ہوئی اس نے واشنگٹن ڈی سی میں آنا تھا، کبھی آپ واشنگٹن ڈی سی گئے ہیں دیکھا ہو تو…میں جب پہلی بار گیا تھا تو 23 برس کا تھا، مجھے دوست نے دکھایا اور کہا کہ دیکھیں دریا کے پاس رن وے ہے، ایئر پورٹ ہے، پل کے اوپر جہاز جاتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہیں، واشنگٹن ڈی سی کا ایئر پورٹ رات دس یا گیارہ بجے نو فلائی زون بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہاں وائیٹ ہاؤس بھی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جو ہوا وہ تو بڑی انہونی بات ہے، بہت بڑا حادثہ ہے، جب یہ جہاز آ رہا تھا تو ایئر ٹریفک کنٹرولر کی آڈیو جو جہاز اور ہیلی کاپٹر والے سے ہوئی، اسکو پہلے دن ہی ریلیز کر دیا گیا تھا، وہ ہمارے سول ایوی ایشن والوں کی طرح نہیں کہ ہم صرف قیاس آرائیاں کرتے رہیں،بلیک ہاک یہ ایک کوریڈور راؤڈ فور کہتے ہیں وہ ایئر پورٹ کے ساتھ ہے وہاں درجنوں ہیلی کاپٹر اڑ رہے ہوتے ہیں، پولیس کے ہیلی کاپٹر، ایمبولنسز وہ وہاں سے اڑ رہے ہوتے ہیں، ایئر کرافٹ میں ایسا سسٹم ہوتا ہے جو کسی جہاز کے قریب آنے پر وارننگ دیتا ہے اور گائیڈ بھی کرتا ہے دائیں بائیں یا اوپرنیچے مڑیں، چند سیکنڈ میں حادثہ ہوناہوتا ہے، ہزار فٹ تک ،15 سو پر بھی گائیڈ کیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد 1000 فٹ سے نیچے سسٹم گائیڈ نہیں کرتا،کیونکہ جہاز فائنل پر ہوتا ہے، لینڈنگ گیئر کھلا ہوتا ہے، فیلڈ ان سائٹ ہے، اس وقت سسٹم جو نیچے لگا ہے وہ ممکنہ طور پر بتائے کہ نیچے کوئی ہے، لیکن پائلٹ کے لئے ممکن نہیں کیونکہ اس کا فوکس رن وے پر ہوتا ہے جہاں لینڈ کر رہا ہوتا ہے.جہاز جب ایئر پورٹ کی حدود میں آ جاتا ہے اور ایئر پورٹ کا ٹاور کنٹرول کرتا ہے تو نیچے جہاز بہت ہوتے ہیں، ٹی کیٹ سسٹم الرٹ کر رہا ہو تو دس جہاز بھی ہوں تو وہ وارننگ دے رہا ہو گا،لیکن پھر قریب لینڈنگ کے وہ کام نہیں کرتا، لیکن فوجی ہیلی کاپٹر کے اندر ایک سسٹم ہوتا ہے اے ڈی ایس بی جس کے اندر جی پی ایس بھی ہوتا ہے ،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کا ٹرانسپانڈر بند تھا جو سگنل دے رہا تھا،ٹرانسپانڈر کیوں بند تھا ،وہ اس وقت بند ہوتا ہے جب لا انفورسمنٹ والے فلائی کر رہے ہوتے ہیں ،کوئی ایکٹوٹی ہو تو بند کر دیتے تا کہ ٹریک نہ ہو، کسی کو پتہ نہ چلے کہ اس ڈائریکشن پر ہیلی آ رہا، اس کی سیلنگ ہے، اس کو 300 فٹ سے اوپر نہیں ہونا چاہئے تھا، اس نے چھ بار کورس بدلا،مجھے لگ رہا ہے کہ ہیلی کاپٹر کا پائلٹ ٹرینی تھا،یہ ٹریننگ کر رہا تھا اور ٹرانسپانڈر آف کرنا ، اس کا روٹین ٹریننگ کا حصہ تھا، اتنے مصروف ایئر پورٹ پروہ کیوں ٹریننگ کر رہے ہیں یہ میری عقل سے باہر ہے، میرا خیال ہے اور کوئی بات بنتی نہیں ہے،ایئر ٹریفک نے کہا کہ ایئرکرافٹ دیکھ رہے ہو تو اس نے کہا کہ ہاں مجھے نظر آ رہا یہاں پر ایک ہیومن ایرر ہے، اس لئے کہ واشنگٹن ڈی سی رات کے وقت جگمگا رہا ہوتا ہے، اس علاقے میں ہر طرح کی لائٹ ہوتی ہے،سب کچھ جل رہا ہے، ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے شاید دوسرے جہاز کو دیکھا اور سمجھا کہ مجھے اس بارے الرٹ کیا گیا، اسکے دس سیکنڈ بعد دونوں آپس میں ٹکرا گئے،جہاز کے تو تین حصے ہو گئے، ہیلی کاپٹر الٹا ہو کر نیچے گرا، وہاں ٹھنڈ ہے،پانی میں برف جمی ہوئی، مائنس ون ڈگری درجہ حرارت، اگر کوئی بچا بھی ہوتو اس ٹھنڈے پانی میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا، اتنی ٹھنڈ ہے کہ دس دن قبل ٹرمپ کی حلف برداری اسی علاقے میں اوپن ہونی تھی لیکن پھر ٹھنڈ کی وجہ سے ان ڈور کر دی گئی،

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ہوابازی کے حفاظتی معیار کا جائزہ لیا جائے گا، وائیٹ ہاؤس

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ابتدائی تحقیقات،ہیلی کاپٹر کی اڑان پر اٹھے سوالات

    واشنگٹن حادثہ،ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور میں عملہ کی کمی،ہیلی کاپٹر روٹ سے ہٹا،تحقیقات جاری

    واشنگٹن فضائی حادثہ،بھارتی نژاد خاتون،دولہا پائلٹ،سکیٹنگ چیمپئنز سمیت دیگر ہلاک

    واشنگٹن فضائی حادثہ،پاکستانی خاتون بھی جاں بحق

    امریکا میں طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، بلیک باکس برآمد

    واشنگٹن فضائی حادثہ،یقین ہو گیا کوئی زندہ نہیں بچا،ریکوری آپریشن جاری،حکام کی بریفنگ

    واشنگٹن فضائی حادثہ،عینی شاہد نے منظر انتہائی ہولناک قرار دیا

    واشنگٹن فضائی حادثہ،عارضی مردہ خانہ قائم،30 لاشیں مل گئیں

    واشنگٹن فضائی حادثہ، 67 افراد میں سے ابھی تک ایک بھی زندہ نہ ملا

    برطانوی وزیرِ اعظم کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر افسوس کا اظہار

    واشنگٹن،پیچیدہ فضائی نظام میں فضائی حادثہ کس طرح پیش آیا؟ماہرین نے سرجوڑ لئے

    واشنگٹن فضائی حادثہ، فضائی حدود کی تنگی،روشنیاں،پائلٹ کنفیوژن کا شکار

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،سیاہ رات،شدید سردی،پانی میں برف،ایک ایک انچ کی تلاشی

    واشنگٹن فضائی حادثہ،ممکنہ انسانی غلطی،کوئی زندہ نہیں بچے گا،حکام مایوس

    واشنگٹن ڈی سی میں فضائی تصادم،تباہ ہونے والےطیاروں کی تفصیلات

    واشنگٹن طیاہ حادثہ،ملبے،مسافروں کی تلاش،امدادی عملے کو مشکلات

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،لواحقین ایئر پورٹ پہنچ گئے،دل دہلا دینے والی تفصیلات

    وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن ڈی سی میں فضائی حادثے پر اظہار افسوس

    واشنگٹن،طیارہ حادثے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی گفتگو سامنے آگئی

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان خوفناک تصادم

    اسکیٹنگ کمیونٹی کے 14 ارکان فضائی حادثے میں ہلاک

  • سیف علی خان کیس،نئی ویڈیولیک،کرینہ کپور کہاں تھیں،سیف کے جسم پر نشان

    سیف علی خان کیس،نئی ویڈیولیک،کرینہ کپور کہاں تھیں،سیف کے جسم پر نشان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سیف علی خان میں بہت سی چیزیں سامنے آئی ہیں، بھارتی میڈیا اب یہ کہنا شروع ہو گیا کہ چھری جو ماری گئی وہ چھری نہیں ہے،اس دوران مبشر لقمان نے بھارتی میڈیا کے کلپ بھی چلائے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سچائی ماری گئی ہے، سچائی قتل ہوئی، سیف علی خان نے جھوٹ بولے، کرینہ نے جھوٹ بولے، گھر والے، نوکر، ہسپتال کے ڈاکٹرجھوٹ بول رہے ہیں، سب سے بڑھ کر ممبئی پولیس جھوٹ بول رہی ہے، سچ جوبول رہے ہیں وہ لوگ ہیں جن کو بے گناہ پکڑا گیا، سیف الاسلام جس کو ممبئی پولیس نے پکڑا ہوا ہے، اس پر کافی بات ہو چکی ہے، ویڈیو میں آنے والی شکل مختلف ہے، عمر کا بھی فرق ہے،ممبئی پولیس نے ایک دوسرے کو سرٹفکیٹ بھی دے دیئے، شاباش بھی دے دی ،یہ سب کچھ ہو گیا ہے،تو دوباتیں ذہن میں آتی ہیں کہ یہ کیا کس نے ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بینفشری مجھے سیف لگتا ہے، یا تو وہ جھوٹ بول رہے یا کور اپ کر رہے، یا ان کی آپس میں لڑائی ہوئی، ڈرگز کا اثر ہو سکتا ہے لیکن ممبئی میں دوست مجھے کچھ اور بات رہے ہیں،مجھے کم از کم تین لوگ یہ بات بتا چکے جو بتانے لگا ہوں ،جب تین لوگ ایک ہی بات کریں تو کچھ نہ کچھ تو ہے وہ کہتے ہیں بندہ آیا تھا اور ان کا جانا پہچانا تھا، وہ انکا ڈیلر تھا اور اس کو پیسے دینے تھے انہوں نے، اس پر لڑائی جھگڑا ہوا، بات یہ ہے کہ اس نے کیا اٹھایا، میڈ نے کہا کہ اس نے ایک کروڑ مانگا، کرینہ کہتی کہ اسکی جیولری کو ہاتھ تک نہ لگایا، نہ پینٹنگ کو، نہ کسی اور چیز کو، لے کر کیا گیا،میچنگ جوتے، اپنے کپڑوں سے میچنگ جوتے، اس کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک کیمرہ جوتے چوری دکھا رہا ہے،یہ چل رہا ہے، اس کے علاوہ اس اپارٹمنٹ کے جتنے کیمرے ہیں انکی کوئی فوٹیج نہیں، چار، پانچ فلور کے کیمرے نہیں چل رہے، فلور نمبر پانچ اور چھ کے دو کیمرے چل رہے جو سیڑھیاں چڑھتے، اترتے دکھائی دے رہا، دو ایسے لوگ ہیں جن کی ٹاپ سیکورٹی ہے، ان کی سیکورٹی والوں کو نہیں پتہ، ڈیڑھ گھنٹے کے وقفے سے سیف رکشہ پر ہسپتال پہنچتے ہیں،تیمور انکو لے کر جا رہا تھا لیکن رپورٹ میں افسر زیدی کا نام آ گیا، افسر زیدی تو دبئی میں ہے، اس نے بیان دیا کہ میں تو تھا ہی نہیں میرا نام آ گیا، وہ بھی جھوٹ ہو گیا، سب سے بڑھ کر یہ ڈاکٹر نے جو کلیم کئے کہ کمر میں چھری، چاقو ٹوٹا ہوا ہے،ڈھائی انچ سٹیل اندر ہو تو کئی ماہ تک ہل نہیں سکتے، چیخیں نکلیں گی، یہ تو ایسے ہسپتال سے نکلا جیسے چھلاوا، ڈاکٹر پر یہ بھی الزام لگ گیا،کہ انہوں نے پہلے ہی دن انشورنش کلیم فائل کر دی، 35 لاکھ کی پاکستان کروڑ کے قریب بنتا ہے،آدھے گھنٹے میں انشورنس کے پیسے بھی مل گئے، بڑی جلدی انشورنس کلیم ہو گئی، ادائیگی ہو گئی، کوئی سوال نہیں پوچھا گیا،کمال کی سروس ہے،

    سیف علی ٰخان حملہ کیس،پولیس نے "خاتون” کو بھی کیا گرفتار

    سیف علی خان نکلے سخت سیکوٹی میں گھر سے باہر

    سیف علی خان کے علاج کیلئے25 لاکھ ، میڈیکل کلیم کی منظوری پر سوالات اٹھ گئے

    سیف علی خان کیس : ممبئی پولیس کی تحقیقات ایک نئے موڑ میں داخل

    سیف علی خان حملہ،پولیس نے ملزم اور سیف کے خون آلود کپڑے تحویل میں لےلئے

  • کرینہ کپور نے سیف کو کیوں چھریاں ماریں؟ہسپتال رپورٹ،مزید سوالات

    کرینہ کپور نے سیف کو کیوں چھریاں ماریں؟ہسپتال رپورٹ،مزید سوالات

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میری چڑیل انڈیا گئی ہوئی تھی،وہاں سے سیف علی خان پر حملے کی اندر کی خبر لے کر آئی ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چڑیل خبر لے آئی اور اصل خبر مجھے دے دی، سیف علی خان، کرینہ کپور،جو حملہ ہوا،ممبئی پولیس جو ڈھونڈ رہی ہے، میری چڑیل وہ سب لے آئی، دو نمبریاں کر رہے، میڈیا میں کچھ اور بیان کچھ اور، میں رپورٹ سیف علی خان کی میڈیکل کی شیئر کرتا ہوں اس میں اس کے زخموں بارے لکھا اور لکھا کہ ہسپتال میں جو لے کر آیا بندہ اس کا نام افسر ہے، ابھی تک افسر نام کا بندہ کہیں بھی نہیں ہے،کسی بھی بیان میں، نہ پولیس کے، نہ ڈاکٹر کے، ابھی تک جو جھگڑے ہو رہے تھے وہ یہ کہ تیمور لے کر گیایا جہانگیر،یا کوئی اور،تصویریں تو چھوٹے بیٹے کی تھیں کہ تیمور رکشے ہپر سیف کو لے کر گیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ ہسپتال ڈیڑھ دو منٹ دور ہے، اب ڈھائی بجے وہ نکلے، رکشے میں بیٹھے، سڑکیں خالی،ٹریفک جام نہیں، کرفیو نہین اور وہ سیدھا اسے ہسپتال لے کر گیا، لیکن ہسپتال کہہ رہا کہ یہ چار بج کر 11 منٹ پر ہمارے پاس آئے، چڑیل کی رپورٹ بڑی خوفناک ہے، افسر نامی بندہ سیف کو لے کر آیا، 5 ڈاکٹر جنہوں نےپریس کو بتایا تھا کہ اسکا چھوٹا بیٹا آیا تھا،وہ اب کدھر ہے، یہ افسر کون ہے،کہاں سے آ گیا، کون بندہ ہے، یہ رکشہ ڈرائیور بھی نہیں ہے، اس کا نام کچھ اور ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سیف علی خان نے آج پولیس کو بیان دے دیا ہے اور کچھ چینل کو خرید بھی لیا گیا ہے جس طرح آج تک،وہ کہہ رہا ہے کہ ہر ایک رپورٹ میچ کر رہی ہے،لگ بھگ ہر چیز میچ کر رہی ہے حالانکہ کسی کی سٹیٹمنٹ میچ نہیں کر رہی، ڈاکٹر نے جو پہلے سٹیٹمنٹ دی اور جو میڈیکل رپورٹ آئی اس میں تضاد ہے، میرا تمام بھارتی میڈیا کو چیلنج ہے کہ میری یہ رپورٹ، میڈیکل رپورٹ فیک ہے یا غلط ہے،اگر بھارتی میڈیا میں سے کوئی بھی کہہ دے کہ یہ رپورٹ غلط ہے تو میں مانتا ہوں، بہت بڑا چیلنج دے رہا ہوں مجھے چڑیل پر اعتبار ہے وہ صحیح کاغذ لے کر آئی ہے،رپورٹ میں انٹری کا ٹائم اور نام دیکھئے گا جو لے کر آیا، ان دونوں چیزوں سے پچھلی ساری رپورٹ غلط ثابت ہوں گی، سیف علی خان نےیہ بیان دیا کہ میں اور کرینہ اپنے بیڈ روم میں تھے ہمیں نیچے سے چیخوں کی اواز ائی ہم دونوں نیچے گئے وہاں ایک اجنبی کمرے میں تھا اور بیٹا میرا رو رہا تھا، میڈ اونچی آواز میں بات کر رہی تھی میں نے پکڑنے کی کوشش کی،میں اور کرینہ……یہ سیف علی خان کہہ رہا ہے پولیس کو بیان میں، کہ کرینہ اور میں ایک ساتھ نیچے آئے، اگر یہ لوگ اوپر تھے تو ریا کپور،کرشنا کپور کیسے پوسٹ کر رہی تھیں کہ ہم پارٹی میں تھے،اس وقت انسٹا پر پوسٹ وہ کر رہی تھیں، ڈھائی بجے، سوا دو بجے انہوں نے انسٹا پر پوسٹ کی، آدھا میڈیا بھارت کا یہ بتاتا تھا کہ کرینہ وہاں نہیں تھی پارٹی میں تھی، کرشمہ کا گھر قریب ہی ہے کرینہ کے گھر کے تو وہ وہاں تھی، سونم ،ریا بھی وہاں تھیں، میں کہہ رہا تھا کہ ایسا نہیں ہے،کرینہ کمرے میں موجود تھی، اس کا حلیہ دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا ویڈیو میں جو وہ گارڈ سے باتیں کرتے نظر آ رہی وہ حلیہ پارٹی والا نہیں ہے،اسکو تو اگر موت کا فرشتہ بتا کر آئے گا توپہلے یہ میک اپ کرے گی

    مبشر لقمان کامزید کہنا تھاکہ ممبئی پولیس یہ کہہ رہی ہے کہ ہم نے جو تحقیقات کی جتنے بھی چوکیدار تھے وہ سو رہے تھے،یہ بات سمجھ آتی ہے؟ ہضم ہو رہی ہے کہ ایک نہیں دو نہیں چھ گارڈ بلڈنگ کے ایک ساتھ سو رہے ہیں،ایک ساتھ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں باجماعت ہو کر،یہ باجماعت سونے کا پہلی بار سنا،پھر کسی نے نہیں دیکھا اس کو جو سیڑھی سے چڑھ رہا ہے اور پائپ کے راستے سے اوپر جا رہا ہے،پورے ممبئی میں کوئی نہیں دیکھ رہا،جن لوگوں کی دو کی تصویریں پہلے دکھاتے رہے وہ لوگ کون تھے،اور وہ وہاں پر کیا کر رہے تھے رات کو ڈھائی بجے،یہ ملزم بنگلہ دیش سے آیا اور ریسلر ہے یہ پروفیشنل، سیف علی خان کے اپارٹمنٹ میں چوری کی نیت سے آیا اس پر چوری کا پرچہ کاٹا گیا، اغواکی کوشش، اقدام قتل کا نہیں کاٹا گیا،اس نےچوری کرنی تھی تو 12 ویں منرل پر کیوں گیا، پہلی دوسری منزل پر کر لیتا، اسکو خواب ائی تھی کہ سیف علی خان کے گھر جانا ہے، کرینہ نے خود بیان دیا کہ میری جیولیری کو ہاتھ تک نہیں لگایا ،کچھ نہیں اٹھایا،جوتے پہنے اس نے وہاں سے اٹھا کر،اور پھر دوبارہ غائب ہو گیا، کمرے میں بند کیا لیکن دوبارہ سے غائب ہو گیا، سب کچھ ہو گیا کسی نے گھر میں سے پولیس کو کال نہیں کی،پولیس کو کسی نے نہیں بتایا، کرینہ گھر میں ہے، دوسرے لوگ گھر میں ہیں ، ملزم نے چوری نہیں کی، چوری کی نیت کا پرچہ کٹا لیکن چوری نہیں ہوئی تو چوری کا پرچہ کیسے کٹ گیا، اسکے بعد وہ غائب ہوا، 12 فلور وہ پھر نیچے آیا تب بھی گارڈ سوتے رہے.

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • ارنب گوسوامی واحد اینکر جو سیف علی خان کیس حل کرنے کے قریب ہے،مبشر لقمان

    ارنب گوسوامی واحد اینکر جو سیف علی خان کیس حل کرنے کے قریب ہے،مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ارنب گوسوامی بھارت کا واحد اینکر ہے جو سیف علی خان پر حملے کے کیس کو حل کرنے کے قریب ہے؟ کیا کرینہ کپور کا اس سے کچھ تعلق ہے؟ کیا وہ کچھ جانتی ہیں؟ جلد ہی وقت یہ بتائے گا۔ "بھوتوں کی باتیں”۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مبشر لقمان نے سیف علی خان پر حملے کے بارے میں اپنے خیال کا اظہار کیا اور بھارت کے مشہور اینکر ارنب گوسوامی کی تعریف کی اور کہا کہ وہ واحد اینکر ہیں جو سیف علی خان پر حملے کے کیس کو حل کرنے کے قریب ہیں۔مبشر لقمان سیف علی خان پر حملے کو لے کر متعدد وی لاگ بھی کر چکے ہیں اور انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کہیں نہ کہیں کچھ چھپایا جا رہا ہے، سیف علی خان پر حملہ ہوا تو کرینہ گھر میں تھی، ملازم گھر میں‌تھے، کسی نے حملہ آور کو نہ پکڑا، ہسپتال چھوٹا بیٹا لے کر گیا، گاڑی چلانے کے لئے ڈرائیور نہیں تھا تو رکشے پر سیف علی خان کو جانا پڑا، مبشر لقمان سوا اٹھا چکے ہیں کہ اس کیس میں کرینہ کپور کا کوئی تعلق ہو سکتا ہے، کیا وہ کچھ جانتی ہیں؟

    مبشر لقمان نے اس بیان کے ذریعے اس کیس پر مزید روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے ،مبشر لقمان کا خیال ہے کہ ارنب گوسوامی اس معاملے کو جلد ہی حل کر لیں گے، لیکن اس میں کرینہ کپور کا کردار ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔

    سیف علی خان پر گھر میں حملہ ہوا تھا ،پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں اس کے والد کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا بے قصور ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے اور پولیس کی جانب سے گرفتار ملزم کا چہرہ بھی نہیں مل رہا، جس وجہ سے پولیس تحقیقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں.

    واضح رہے کہ 16 جنوری کو رات 3 بجے کے قریب سیف علی خان کے ممبئی کے باندرا والے گھر میں ڈکیتی کی کوشش کی گئی جسے اداکار نے مزاحمت کرکے ناکام بنایا،مزاحمت کے دوران سیف علی خان پر چاقو سے حملہ کیا گیا جس سے انہیں 6 زخم آئے جن میں سے 2 کافی گہرے تھے جبکہ ایک زخم ریڑھ کی ہڈی کے قریب ترین تھا،سیف علی خان کو زخمی ہونے کے بعد گھر کی گاڑی کے بجائے رکشہ میں مقامی اسپتال پہنچایا گیا،اسپتال پہنچنے پر سیف کا آپریشن کرکے ان کی ریڑھ کی ہڈی سے چاقو کا 2.5 انچ کا ٹکڑا نکالا گیا اور اداکار کو تقریباً 6 دن کے بعد منگل کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب

    باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب

    باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے

    باغی ٹی وی کی 13 وی سالگرہ کے موقع پر لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب منعقد کی گئی،کھرا سچ کے دفتر 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز و کرنٹ افیئرز سینئر صحافی محمد عثمان کے ہمراہ مہمانوں نے کیک کاٹا، سی ای او باغی ٹی وی ، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان اچانک اسلام آباد روانگی کی وجہ سے تقریب میں شریک نہ ہو سکے،کیک کاٹنے کی تقریب میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،معروف لکھاری،دانشور ریاض احمد احسان،آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم علی، لکھاری و مصنف اعجاز الحق عثمانی، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان، ایگزیکٹو پروڈیوسر کھرا سچ نوید شیخ،محمد عبداللہ، حنظلہ عماد سمیت دیگر شریک ہوئے،شرکاء نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،

    اس موقع پر سی ای او باغی ٹی وی ،سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ باغی ٹی وی کا آغاز اس وقت کیا تھا جب ہمارا مؤقف کوئی چھاپنے کو تیار نہیں تھا، ہمارے خلاف خبریں نشر ہوتیں لیکن ہمارامؤقف نہیں لیا جاتا تھا اس وجہ سے باغی ٹی وی کا آغاز کیا اور آج 13 برسوں تک کامیابی سے سفر جاری ہے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ باغی ٹی وی کی ایڈیٹوریل پالیسی انتہائی واضح اور پاکستانیت پر مبنی ہے،ہم سب کی خبریں شائع کرتے ہیں تا ہم کسی بھی مذہب فرقے کے خلاف کوئی خبر شائع نہیں کی جاتی، مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ باغی ٹی وی پاکستان کے ڈیجیٹل میڈیا میں ایک بڑا نام ہے اور باغی ٹی وی نے اپنے آپ کو منوایا ہے، باغی ٹی وی مزید ترقی کرے گا، اس میں باغی ٹی وی کی ٹیم کا کردار انتہائی اہم ہے، مبشر لقمان نے باغی ٹی وی کی ٹیم ایڈیٹر ممتاز اعوان، ایڈیٹر باغی ٹی وی انگلش سنیہ حسن، سوشل میڈیا ہیڈ عبداللہ آصف، ازلفہ عبداللہ، نور فاطمہ، انچارج نمائندگان باغی ٹی وی ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی سمیت تمام ٹیم کے کردار کو سراہا اور کہا کہ علاقائی نمائندے بھی باغی ٹی وی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اندرون سندھ، جنوبی پنجاب ، خیبر پختونخوا کے کئی شہروں میں باغی ٹی وی کے نمائندگان موجود ہیں، مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ باغی ٹی وی پانچ زبانوں میں کام کر رہا ہے، اردو، انگلش،چائنیز، پشتو، دری، اور یہ اعزاز صرف باغی ٹی وی کو ہی حاصل ہے ،پاکستان میں کوئی بھی میڈیا کا ادارہ پانچ زبانوں میں کام نہیں کر رہا،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں تقریب میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں.

    اس موقع پر ڈائریکٹر نیوز و کرنٹ افیئرز محمد عثمان نے بہترین کارکردگی پر ٹیم کے اراکین اور لکھاریوں کو سرٹفکیٹ دیئے، آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم علی، مصنف و لکھاری اعجاز الحق عثمانی کو بہترین لکھاری کا سرٹفکیٹ دیا گیا، باغی ٹی وی کی ٹیم کے اراکین ممتاز اعوان، سنیہ حسین،نوید شیخ، محمد عبداللہ، جویریہ ،سعد فاروق، نور فاطمہ،ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی،محمد نعمان کو سرٹفکیٹ دیا گیا، سال 2024 میں علاقائی نمائندگان کی جانب سے بہترین کارکردگی پر اوچ شریف بہاولپور سے باغی ٹی وی کے نمائندہ کو "رپورٹر آف دی ایئر” کا سرٹفکیٹ جاری کیا گیا،تقریب کے اختتام پر ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا.

    ejaz

    باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان نے 13برس قبل باغی ٹی وی کا آغاز کیا جس کا سفر اب بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے ،ڈیجیٹیل میڈیا کے سب سے بڑے ادارے باغی ٹی وی نے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 13 سال مکمل کرلیے ہیں‌،باغی ٹی وی کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی، باغی ٹی وی نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں-

    اردو ۔انگلش. پشتو.دری، چائنیز پانچ زبانوں میں باغی ٹی وی کی نشریات چل رہی ہیں ،باغی ٹی وی کا یوٹیوب چینل دنیا بھر میں مقبول ہے ۔ہر سال رمضان المبارک میں باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح لائیو نشر کی جاتی ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج کی کوریج کرنے پر حکومت کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود باغی ٹی وی نے کوریج جاری رکھی ۔حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی کوریج کی ویڈیوباغی ٹی وی کے یوٹیوب سے ڈیلیٹ بھی کروائی گئی ہیں ۔تحریک لبیک کی کوریج کی وجہ سے باغی ٹی وی ٹویٹر کا بلیو ٹک بھی ختم کروایا گیا ہے-

    باغی ٹی وی نام کی مناسبت سے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں ظلم جبر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ ریاست پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو باغی ٹی وی صحافتی میدان میں ہر وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار نے بھی باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کی بلکہ درجنوں بار مودی سرکار کے زیر اثر ہیکرز کی جانب سے باغی ٹی وی کی ویب سائٹ ہیک کرنے کی ناکام کوشش بھی کی گئی-

    باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے، روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین وتاریخی بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،مسلم لیگ ن کی رہنما،سابق رکن اسمبلی مہوش سلطانہ، سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد، دعوت اسلامی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ عثمان عطاری، اسلام آباد سے سینئر صحافی پروفیسر طاہر نعیم ملک،کراچی سے ملک ضمیر،ہیلپنگ ہینڈ کے میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری،آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم علی،ڈرامہ رائیٹر، آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن کی سینئر ناب صدر ریحانہ عثمانی،اپوا کی ممبر نرگس نور، المصطفیٰ ٹرسٹ کے رکن محمد نواز کھرل،حامد رضا،مرکزی مسلم لیگ کےخوشاب سے رہنما ،سید جوادہاشمی،لاہور سے صحافی جان محمد رمضان، دارالسلام کے میڈیا ہیڈ ارشاد احمد ارشد، ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ ضلع تلہ گنگ کے چیئرمین ملک امتیاز لاوہ، تلہ گنگ پریس کلب کے وائس چیئرمین ملک ارشد کوٹگلہ،سمیت دیگر نے مبارکباد کے پیغامات بھجوائے اور نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باغی ٹی وی نے معاشرے میں حقیقی اور مثبت صحافت کو فروغ دیا جس کا سہرا مبشر لقمان کے سر جاتا ہے، امید کرتے ہیں کہ باغی ٹی وی کا سفر کامیابی سے جاری و ساری رہے گا.

    قبل ازیں باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ کے موقع پر قصور،گوجرانوالہ، سیالکوٹ،ڈیرہ غازی خان، لنڈی کوتل،تلہ گنگ، ٹھٹھہ،تنگوانی، میرپور ماتھیلو و دیگر شہروں میں کیک کاٹا گیا.

    تلہ گنگ:باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر شاندار تقریب کا انعقاد

    باغی ٹی وی، ہمارا محسن

    گوجرانوالہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب منعقد، کیک کاٹا گیا

    ڈیرہ غازی خان: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا شاندار انعقاد

    میرپور ماتھیلو: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب کا انعقاد

    ٹھٹھہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا کیک عوامی پریس کلب مکلی میں کاٹا گیا

    گوجرہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر عبدالرحمن جٹ کو اعزاز

    قصور: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب، کیک کاٹا گیا

    سیالکوٹ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ بیورو آفس میں منائی گئی

    سرائیکی ادب کے پروفیسر ڈاکٹر الطاف ڈاھر کو باغی ٹی وی کی جانب سے خدمات کے اعتراف میں سرٹیفکیٹ

    لنڈی کوتل پریس کلب میں باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب منعقد ہوئی

    تنگوانی: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا پریس کلب میں کیک کاٹاگیا

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    صحافت کے سرخیل کو 62 ویں اور باغی ٹی وی کو 13 ویں سالگرہ مبارک،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

  • پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟  مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    میں پیسے سے کیوں پیار کرتا ہوں جس کی وجہ سے کامیابی کے نئے نئے راستے کھلتے ہیں، ٹیڈ ٹاک پلیٹ فارم 2025 میں زندگی کے مقاصد کی تکمیل میں ذہنی اصولوں پر بات کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیا پیسے کی دوڑ میں مصروف ہے لیکِن ہم ایسے کاموں میں مصروف عمل ہیں کہ دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایلیٹ کلاس آج بھی ماں کی مامتا جیسے اشتہاروں کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں، معاشرے کو بیہودہ سکرپٹ کے ذریعے ایسا ڈرامہ دیا جا رہا ہے کہ وہاں تخلیقاتی ذہن کا تصور ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے طالب علموں کو زر یعنی دولت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ زندگی میں پیسہ بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے تو آپ اپنی ماں کا علاج نہیں کروا سکتے، آپ خوشیاں نہیں خرید سکتے، آپ اپنے بچوں کی بہتر روزگار کی سہولیات تلاش نہیں کر سکتے، لہذا زندگی میں پیسہ ہے تو آپ کی زندگی میں سکوں کی لہر دوڑنا شروع ہو جائے گی۔

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی اس تقریب میں ” سنو کہانی میری زبانی ” لکھنے والی مصنفہ سعدیہ سرمد، اداکار افتخار احمد عرف افی سمیت دیگر ماڈلز موجود تھیں۔ ٹیڈ ٹاک پلیٹ فارم پر مستقبل کے معماروں یعنی طالب علموں نے خود سے تمام انتظامات مکمل کیے تھے۔ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے طالب علموں کی اس کاوش کی تعریف کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگر آپ کو ابھی اس پر شک ہے کہ پیسہ کیوں ضروری ہے تو اپنے اشرافیہ کو دیکھ لیں جو سب کچھ اپنی مرضی کا کرتے ہیں اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خوبصورتی میں کوئی کمی ہے اور کوئی تم سے پیار نہیں کرے گی تو بیٹا یہ آپ کی سوچ درست نہیں آپ پیسہ اکٹھا کرنے کے قابل بن جاؤ پیار آنے والی خود کر لے گی۔

    ted
    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کالا شاہ کاکو کیمپس میں ٹیڈ ٹاک پلیٹ فارم پر طالب علموں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زندگی صرف ایک ہی چیز کا نام ہے اور وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر آپ میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو آپ اپنی زندگی میں ان قیمتی رنگوں سے محروم ہو جائیں گے جن کے خواب آپ نے کبھی دیکھے تھے۔

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی تقریر کا موضوع تھا ” وائے آئی لو منی ” یعنی مجھے پیسے سے پیار کیوں ہے ؟۔ مبشر لقمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پیسہ ہی وہ واحد چیز ہے جس کی وجہ سے آپ کی معاشرے میں عزت کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ پیسے والوں سے سخت نفرت کرتے ہیں جو کہ غلط ہے ، جب بیمار ہوتے ہیں تو پیسے والے ملک ریاض کو ہی کال کرتے ہیں کہ میری والدہ یا والد ٹھیک نہیں ان کا علاج کروانے کیلئے مدد کریں۔ لہذا پیسے والوں پر تنقید نہیں بلکہ ان کی طرح پیسہ کمانے والے بنو۔ انہوں نے پاک کلام قرآن مجید کی آیات مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دعا کریں کہ یا اللہ پہلے میری دنیا بہتر بنا پھر میری آخرت۔ لہذا پیسہ دنیا کو بہتر کرنے کیلئے بھی ضروری ہے۔ مبشر لقمان نے اختتامی الفاظ میں حیران کن فیکٹ بتایا کہ ہم لوگ محنت کرتے کرتے مر جاتے ہیں لیکن اپنے اوپر پیسہ خرچ نہیں کرتے۔ اپنے اوپر پیسہ خرچ کرو اللّٰہ اور دے گا اس ذات پر یقین رکھو۔ انہوں نے اپنی زندگی کی کامیابی کی کہانی بھی بتائی، اور یہ بھی بتایا کہ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ میرے اخراجات یعنی خرچے بڑھا دے انہوں نے کہا میں یہ دعا اس لیے کرتا ہوں کہ اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہوا ہے لہذا جس نے خرچے بڑھانے ہیں وہ اس حساب سے مجھے یقین ہے کہ رزق بھی دے گا۔

    تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان نے خوبصورت واقعہ کے ذریعے طالب علموں کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں رواج بن چکا ہے کہ قانون کی پرواہ کرنے والا کو یہاں لٹکایا جاتا ہے اور جو قانون پاؤں تلے مسل دیتے ہیں ان کو ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے