Baaghi TV

Tag: مبشر لقمان

  • اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت بڑے اچھوں اچھوں کے بجلی اور مہنگائی نے کڑاکے نکال دیے ہیں ۔ جس سے پوچھو وہ بجلی کا بل پکڑ ے رو تا دیکھائی دے رہا ہے ۔ کوئی اپنا زیور بیچ رہا ہے ۔ کوئی کولر ، کوئی اے سی ،کوئی فریج، غرض بجلی کا بل دینے کے لیے اب عوام کو چیزیں بیچنا پڑ رہی ہیں ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ ملک ڈوب رہا ہے اور گاڑی ہاتھ سے چھوٹ رہی ہے۔ غریب زندہ رہنے کی جستجو میں ہے۔ بجلی کے بل دیکھ کر ملک میں درجنوں افراد ہارٹ اٹیک کا نشانہ بن چکے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس کے مطابق کراچی میں شدید لوڈ شیڈنگ پر نہ صرف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں بلکہ جہانگیر روڈ، پٹیل پاڑہ کا رہائشی نوکری پیشہ شخص تاج محمد کو لوڈ شیڈنگ کے باعث رات تین بجے دل کا دورہ پڑا، جس سے وہ انتقال کر گیا جو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا اور کرائے کے گھر میں رہتا تھا۔ مگر حکومت نے بےحس ہو کر کل پھر بجلی بم گرا دیا ہے ۔ میں بتاوں یہ ایک لاوا پک رہا ہے ۔ اور آتش فشاں کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ اس وقت عوام کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ احتجاج کہاں اور کس کے خلاف کرنا ہے ۔ ابھی تو صرف بجلی دفاتر کے باہر ہی دھاوے بولے جا رہے ہیں لائن مین سمیت ایس ڈی اوز کو مارا جا رہا ہے ۔ پر یو نہی اگر اشرفیہ عوام کا معاشی قتل کرتی رہی تو کچھ بعید نہیں کہ سری لنکا یا حالیہ کینیا جیسے احتجاج پاکستان میں بھی ہوجائیں ۔ کیونکہ صورتحال یہ ہے کہ بجلی کا فی یونٹ بنیادی ٹیرف اڑتالیس روپے چوراسی پیسے مقرر کیا گیا ہے اس میں اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس ڈالیں تو ستاون روپے اور ایڈجسمنٹ کے بعد فی یونٹ پنسٹھ روپے کا ہو جائے گا ۔ اب اتنی مہنگی بجلی سے اشرافیہ تو کوئی فرق نہیں پڑنا کیونکہ ان کی بجلی، گیس، پیٹرول ،علاج ،گھومنے پھرنے کے تمام خرچے توعوام کی جیبوں سے نکالے ٹیکسوں سے ادا کیے جاتے ہین ۔ پر عوام نے اب یا تومر جانا ہے یا پھر اپنا رخ اس اشرافیہ کر طرف کر لینا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو دنیا بھر کے ممالک کی اشرافیہ بےرحم ہوتی ہے۔ مگر پاکستانی اشرافیہ گمینگی کے کسی اعلی ترین درجے پر فائز ہے ۔ اب تو میرے جیسوں کے گھر بھی اے سی چلتا ہے تو پسینہ خشک ہونے کے بجائے مزید پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے ساتھ ہی دل کی ڈھرکنیں تیز ہوجاتی ہیں ۔ پھر ملک کے غریبوں کی خبریں تو میڈیا پر آتی ہی نہیں مگر اداکارہ نشو بیگم بھی اپنے بجلی کے بل پر سخت سیخ پا ہیں جن کا ایک ماہ کا ایک لاکھ روپے کا بجلی بل آیا ہے۔ مشہور اداکار راشد محمود نے تو اپنا بجلی کا بل دیکھ کر اللہ سے موت مانگ لی ہے اور کہا ہے کہ اگر حکمران ہمیں کچھ نہیں دے سکتے تو ہم سے ہماری زندگیاں کیوں چھین رہے ہیں۔ سوچیں بجلی بلوں کے باعث یہ مشہور لوگ بھی بلبلا اٹھے ہیں اور کروڑوں غریب جن کی میڈیا میں خبریں نہیں آتیں ان کا کیا حال ہے۔ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔اسی لیے تو میں میڈیا پر حیران ہوں کہ سب کے سب فلاسفر بنے ہوئے ہیں ۔ سیاست کی ماں بہن ایک کر رہے ہیں حالانکہ اصل ایشو یہ ہے ۔ کہ اس پر بات کی جائے حکومت سمیت آئی پی پیز اور وزیر خزانہ کو آڑے ہاتھوں لیا جائے ۔ ان کے کپڑے اتارے جائیں ۔ رپورٹرز سمیت اینکرز کو چوکوں چوراہوں میں جا کر عوام کے دکھ ، درد اور تکالیف کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھے لوگوں تک پہنچنا چاہیئے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے جب کل میں نے بھارت کی سٹرکوں پر ورلڈ کپ جیتنے پر جشن اور پاکستان میں عوام کو پیڑول پمپوں کے باہر لائنوں میں لگے دھکے کھاتےدیکھا ہے ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی ابھی نہیں لگائی، مطلب لگائی ضرور جائے گی۔ لیوی نہ لگانے کے باوجود حکومت نے یکم جولائی سے مہنگائی کے ستائے عوام پر پٹرول بم گرانے سے گریز نہیں کیا اور پٹرول ساڑھے سات روپے، ڈیزل ساڑھے نو روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں دس روپے اضافہ کر دیا ہے۔ آپ دیکھیں وزیر خزانہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ نئے ٹیکسوں سے لوگ دباؤ میں ہیں۔ پر کرتے کچھ نہیں ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کو چاہیئے کہ قوم کو بتائیں کہ وہ جس شدت کے ساتھ ٹیکس لینے کی بات کر رہے ہیں اس کے جواب میں ٹیکس ادا کرنے والوں کو کیا دے رہے ہیں، کیا وزیر خزانہ قوم کو بتائیں گے کہ مخصوص شعبوں کو ٹیکس میں رعایت دینے سے خزانے پر بڑھنے والا بوجھ کون اٹھائے گا۔ کیا وزیر خزانہ قوم کو بتا سکتے ہیں کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کیوں نہیں کیے، کیوں اربوں کے فنڈز اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو جاری ہوں گے، کیا خون پسینے کی کمائی ٹیکس میں اس لیے جمع کروائی جائے گی کہ وفاقی و صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی اپنا سیاسی مستقبل محفوظ بنا سکیں۔ کیا یہ تنخواہ دار طبقے پر حکومتی ظلم نہیں ہے۔ جو ٹیکس دیتا نہیں حکومت میں اس سے ٹیکس لینے کی طاقت نہیں اور جو ٹیکس دیتے ہیں ان پر مزید بوجھ کے سوا حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں تو پھر یہ نظام حکومت کس کام کا ہے، کیا یہ عوام کے لیے ہے یا پھر یہ مخصوص طبقے کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھاکہ حقیقت میں لوگ ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور حکومت ان پر ٹیکسوں کا مزید دباؤ بڑھاتی جا رہی ہے۔ دیگر حکومتی ٹیکسوں کے برعکس بجلی کے بلوں پر ہی تیرہ چودہ ٹیکس حکومت پہلے ہی وصول کر رہی ہے۔ حکومت کے ادارے بجلی عوام کو فروخت کر کے بھاری منافع کما رہے ہیں۔ اس لیے ڈرنا چاہے اس وقت سے جب خیبر سے گوادر تک پاکستان کے بیشتر شہروں میں مختلف مقامات پر بجلی متاثرین ٹولیوں کی صورت میں جمع ہونا شروع ہوں گے ۔ پھر پولیس کے بس میں بھی ان ٹولیوں کو روکنا ممکن نہیں ہوگا ۔ عام آدمی ٹیکس دیتا رہے ، حکمران اور سرکاری افسران مراعات لیتے رہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ عام آدمی دھکے کھاتا رہے اور حکمران طبقہ مزے کرتا رہے۔ اب بجٹ میں جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے کیا ملک کے کروڑوں لوگ اس بوجھ کو اٹھانے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ یقینا یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔ لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں۔ بجلی کے بلوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔اگر حکومتی اخراجات، مراعات پر بات کی جائے تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان حکمرانوں کو آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہے۔ کہ حکومت کو عوام پر ٹیکس لگانے کے بجائے اپنے اخراجات کم کرنے چاہییں۔ قرضہ لیکر پانچ سو ارب روپے ایم این اے اور ایم پی ایز کو بانٹا جائیگا جو ماضی میں بھی غلط تھا، ان پیسوں میں سے ایک تہائی کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے۔ ڈیزل اور ایل پی جی کی اسمگلنگ روک کر ٹیکس جمع کریں تو کوئی اور ٹیکس لینے کی ضرورت نا پڑے، ملک میں ایک طبقہ ہے جس کی آدھی آمدن حکومت لے جائے گی، ایسا دنیا میں وہاں ہوتا ہے جہاں پیدائش سے لیکر مرنے تک کی انسان کی تمام بنیادی ذمہ داریاں حکومت لیتی ہے۔

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

  • اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقما ن نے کہا ہے کہ ایک طرف امریکہ ہو یا یو این ورکنگ گروپ کا مطالبہ کپتان کے لیے اچھی خبریں آرہی ہیں ۔ مگر دوسری جانب پی ٹی آئی میں لوگ لڑ لڑ پاگل ہورہے ہیں بلکہ یوں کہا جا ئے کہ ۔ایٹ کتے کی لڑائی جاری ہے ۔ویسے اس میں لڑائی میں کتے کا تو مجھے پتہ ہے ایٹ کا آپ نے پتہ کرنا ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلے خوش خبریوں پر بات کر لیتے ہیں ۔ امریکہ کے بعد اقوام متحدہ بھی عمران خان کے حق میں کھول کر سامنے آگیا ہے یار دوست اس کو پی ٹی آئی کی خوش قسمتی قرار دے رہے ہیں حالانکہ میری نظر میں عمران کےا چھے رابطوں سمیت ان کی پہنچ کہاں کہاں تک ہے ۔ اس کی زندہ مثال ہے ۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ پاکستان کے چہرے پر کالک تھوپنے کے اس منصوبے میں پی۔ٹی۔آئی کو بھارت، امریکہ اور اسرائیل کا بھرپور تعاون حاصل ہے ۔ ایک چیز میں پہلے بتا دوں کہ میں موجودہ حکومت کا حمایتی نہیں ہوں۔ پر نواز شریف کے برعکس، سی پیک اور بی۔آر۔آئی کو عمران خان نے سرد خانے میں ڈال کر چین دشمن طاقتوں کے دل میں نرم گوشہ پہلے ہی بنا رکھا ہے۔ جبکہ زلفی بخاری اور شہباز گل تو چین دشمنی کے سرخیل ہیں ۔ پی ٹی آءی کی حکومت میں ان کے چین میں کسی وفود کے ساتھ جانے پر بھی پابندی تھی ۔ اور یہ پابندی چین کی جانب سے تھی ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹوری کی طرف واپس آئیں تو بتایا جا رہا ہے کہ یو این ورکنگ گروپ کا یہ بیان ذلفی بخاری کی کارکردگی کی وجہ ہے جو انھوں نے نامور لا فرم کے ذریعے اقوام متحدہ میں پٹیشن دائر کروائی اور اس کے بعد کا رزلٹ آپکے سامنے ہے ۔ جبکہ امریکہ میں جو پاکستان کے خلاف بل پاس کیا گیا اس کے پیچھے شہباز گل کے ہاتھ بتائے جاتے ہیں ۔ بہرحال وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عمران خان کی گرفتاری اور مقدمات پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا ہے ۔ جبکہ عون چوہدری نے تمام تانے بانے وہاں ملا دیے جو کہ اکثر عمران خا ن پر الزام لگتا رہتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سینئرزکو کہنا چاہتا ہوں ان مگرمچھوں کو بے نقاب کریں، مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ آپ کے لنکس کس کےساتھ ہیں؟ آپ کون ہوتے ہیں پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے؟ یہ لوگ پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف مہم چلاتے ہيں۔ پی آر فرم حاصل کرنے کے پیسے کہاں سے آتے ہیں ؟ جہاں سے آپ کو پیسہ مل رہا ہے ایک ایک اکاؤنٹ کو عوام کے سامنے لاؤں گا، پی ٹی آئی کے لوگوں کو کہ رہا ہوں کہ آپ استعمال ہورہے ہیں، ان کو مقصد صرف اتنا ہے کہ ملک میں انتشار پھیلے آگ لگے ۔ یہ بڑے سنگین الزام ہیں اس پر تحریک انصاف کو ضرور ردعمل دینا چاہیے ۔ کیونکہ پیسے کے حوالے سے فارن فنڈنگ کیس میں پہلے بھی باتیں ہوتی رہیں کہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت انڈیا اور اسرائیل سے فنڈنگ آتی رہی ہے جبکہ ان کے مخالفین یہاں تک الزام لگاتے رہے ہیں کہ شوکت خانم کے ذریعے اکٹھی کی جانی والی فنڈنگ سیاست کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے ۔ پر یہ جواب تب ہی دیا جا سکتا ہے جب پی ٹی آئی میں آپسی رسہ کشی ختم ہو ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ڈ ب و کو کوئی ٹاسک ملا ہوا ہے،کوئی بعید نہیں اس سب کے پیچھے خود عمران خان ہے، جتنا میں عمران خان کوجانتا ہوں اتنا کوئی نہیں جانتا، عمران خان نے دو گروپس کو بلایا مجھے نہیں لگتا معاملہ حل کرے گا، 22 سال جہانگیر ترین، قریشی اور علیم کی لڑائی ختم کروائی تھی، جب ایران سعودی عرب کی صلح کروانے جا رہا تھا تو میں نے کہا تھا پہلے ترین اور قریشی کی لڑائی تو ختم کر وا دو، چالاکیاں اس کی دیکھیں،جیل میں بیٹھ کر کیا کر رہا ہے،دو روز قبل تحریک انصا ف کی کور کمیٹی نے اعلان کیا تھا جو بھی پارٹی قیادت پر تنقید کرتا ہے سخت جواب دیا جائے گا، پارٹی چھوڑنے والوں کو پارٹی پر تنقید ،تبصرے کرنے کا کوئی حق نہیں، رؤف حسن پر الزام لگ رہے وہ تو خود 5 لاکھ تنخواہ لے رہے، شیر افضل مروت نے فواد کو جواب دیا اور کہا کہ ایسے بھاگ رہا تھا جیسے ہتھنی بھاگ رہی تھی، بات تو صحیح کی ہے شیر افضل مروت نے،یہ ایٹم سانگ چلتے رہیں گے، جس طرح کا یہ بندہ ہے فواد عنقریب بات گالم گلوچ تک جائے گی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے لیے ایک خطرہ بڑھتا دیکھ رہا ہوں کہ بجلی کے بلوں پر کچھ جماعتوں نے سیاست کرنے ٹھان لی ہے ۔ اور یہ وہ جماعتیں ہیں کہ ویسے تو یہ اتنی سیٹیں نہیں جیتیں ۔ مگر ان کے ورکرز دھرنا دینے ، جلاو گھیراو کرنے ، جلسے کرنا ، جلو س نکالنے میں بڑے تیز ہیں ۔ اور ایک بار یہ اسلام آباد پہنچ گے تو حکومت کے لیے بڑا درد سر بن جایں گے ۔ ابھی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بارہ جولائی کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ مرکزی مسلم لیگ ان کا بھی اس سے ملتا جلتا اعلان میں نے سنا ہے ۔ فرض کریں اگر یہ اسلام آباد میں اچھا پاور شو کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور دوسرے مرحلے میں جے یوآی سمیت دیگر مذہبی سمیت اپوزیشن جماعتیں اس میں شمولیت کا اعلان کر دیتی ہیں ۔ تو بات بجلی کے بلوں سے سیاسی مطالبات تک بھی پہنچ سکتی ہے کیونکہ جے یو آئی کے بعد عوامی نیشنل پارٹی نے بھی ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے ۔ تو اگلے دوماہ میں کب کیا ہوجاے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے ۔

    تمباکو نوشی کے خاتمے کےحوالے سے پالیسیز پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے،یوسف رضاگیلانی

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • کھلاڑی "پارٹیز” میں جانے کے ڈالر لیتے رہے،مبشر لقمان کی بات کی تصدیق

    کھلاڑی "پارٹیز” میں جانے کے ڈالر لیتے رہے،مبشر لقمان کی بات کی تصدیق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکا اور بھارت سے میچ ہاری، بعد ازاں سپرایٹ تک نہ پہنچ سکی اور واپسی کی راہ لی

    قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے شائقین کرکٹ کو مایوس کیا،ایسے میں شائقین کرکٹ نے سوشل میڈیا پر اپنا غصہ نکالاتو وہیں یہ بات سامنے آئی کہ کھلاڑیوں کی توجہ کرکٹ کی بجائے”پارٹیز” پر تھی اور کھلاڑی رات کو دو دو بجے تک ہوٹلوں میں پارٹیز میں شریک رہے ، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی امریکا میں ڈالروں میں کمائی کر رہے ہیں وہ تو وہاں سیلفی لینے کے بھی ڈالر لے رہے ہیں،پارٹیز میں شریک ہونے کے بھی ڈالر لئے جا رہے ہیں، مبشر لقمان نے نجی ٹی وی پر سوال اٹھایا تھا کہ کرکٹرز نے امریکہ میں ایک ایک تصویر کے کئی ڈالرز لیے ہیں تو کیا وہ ظاہر بھی کریں گے؟

    مبشر لقمان کی جانب سے کھلاڑیوں کے ڈالر لینے کی بات کی تصدیق آج دیگر میڈیا اداروں نے بھی کر دی، مبشر لقمان جو بات کئی روز قبل کر چکے تھے، آج پاکستان کے معروف میڈیا کے ادارے جنگ اور جیو نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا کہ امریکا میں کھلاڑی پارٹیز میں شریک ہونے کے لئے ڈالر لیتے رہے،جیو ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "2 جون کی رات 11 بج کر 30 منٹ سے 1 بجے کے دوران پارٹیز کے لیے مشہور ’CAVALLI ریسٹورنٹ‘ میں قومی ٹیم کے 5 کھلاڑیوں عماد وسیم، محمد عامر، حارث رؤف ، شاداب خان اور عثمان خان نے ایک پروگرام میں شرکت کی، اس پروگرام کے پروموٹر ’شکاری‘ کے مطابق اس پروگرام میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کو دو سے ڈھائی ہزار ڈالرز ادا کیے گئے اور آرگنائزر نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آنے والوں سے 25 ڈالرز فی کس لیے، جب یہ بات پاکستانی میڈیا میں موضوع بحث بنی، تو کھلاڑیوں نے پروموٹر شکاری سے کہا کہ اب بات پھیل گئی ہے، پروگرام باہر کے بجائے کسی کے گھر پر رکھا جائے، اگر 4 کھلاڑیوں کو 2 ہزار ڈالرز تک بھی مل گئے، تو شاپنگ کے پیسے نکل جائیں گے”۔

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پچھلے دو دن سے کچھ دوست بڑے پریشان ہیں،میسج کال کر رہے ہیں کہ کیس ہونے والا ہے، این ڈی ٹی وی کا یا کوئی کسی اور کا کلپ فارورڈ کر رہا ہے کہ میرے بارے میں کیا کہا گیا، یہ کہا گیا کہ پی سی بی کے ذرائع کہہ رہے ہیں کہ ہم یوٹیوبر ،اینکرز اور کچھ سابق کرکٹرز کے اوپر احاطہ کرنے لگے ہیں کہ وہ کیسے کہہ رہے ہیں، ثبوت دیں یا ہر جانہ دیں، بہت اچھی بات ہے، یہ پی سی بی کی آفیشیل سٹیٹمنٹ نہیں ہے، ذرائع کی خبر ہے، جب پی سی بی کی آفیشیل خبر آئے گی پھر بات کروں گا .

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک اور بات سوچی ہے کہ کیا ہم چھوٹی عدالتوں میں کیس لڑتے رہیں گے، نہ تو یہ پہلا کیس اور نہ ہی آخری کیس ہو گا، میں کام کرتا رہوں گا تو بہت لوگوں کو تکلیف ہو گی،اگر میں کمپرومائیز کرلوں تو کوئی کیس نہیں ہو گا، ایسا کرتے ہیں میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے درخواست کرتا ہوں ، اس وی لاگ کے ذریعے اور ایک درخواست بھی دائر کر دیتا ہوں، پاکستان کی سب سے قابل احترام عدالت کے پاس چلے جاتے ہیں کہ اس پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، کیونکہ یہ پہلی سیریز نہیں جس میں سبکی ہوئی،باتیں ہوئی،یہ دوسری سیریز نہیں، ہر سیریز کے بعد، ہر ٹورنامنٹ کے بعد یہ چیزیں سامنے آتی ہیں، شور ہوتا ہے، لوگوں کے احساسات سے کھیلا جاتا ہے، لوگ دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں لیکن انکے پھر دل ٹوٹتے ہیں، یہ سب کچھ جوڈیشیل کمیشن میں واضح ہونا چاہئے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس قیوم مرحوم انکا جو کمیشن تھا اس میں انہوں نے کئی کھلاڑیوں کے بارے میں باتیں کیں لیکن سزا صرف ایک کو دی تھی، پھر سب نے اسے کہا تھا کہ چپ کر جاؤ ابھی، اس کمیشن کے اقتباسات سامنے رکھوں تو حیران ہو جائیں گے، انضمام الحق کے بارے میں کمیشن میں لکھا تھا کہ انہیں انیزیا کا اٹیک تھا کوئی بات یاد نہیں آ رہی تھی، وقار یونس کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ میں نے تو میچ فکسنگ کا کبھی سنا ہی نہیں، پھر اس کمیشن نے انکو تنبیہ کی، اس کے اوپر تھوڑی بہت باتیں کرنی شروع کیں، کورٹ نے کافی کرکٹر کے بارے آبزرویشنز دی تھی، 14 میں سے 11 پر آبزرویشن آ رہی تھی تو اسکا کیا مطلب ہے کہ ایک آدھ آدمی غلط نہیں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے،جوڈیشل کمیشن کا مطلب ہے کہ جتنے بھی کھلاڑی ہیں ابھی کے یا پرانے،انکے جتنے بھی رشتے دار ہیں ان سب کے اثاثوں کی چھان بین ہونی چاہئے، نیب کو بتانا چاہئے،سورس آف انکم چیک ہونا چاہئے،یا تو ٹیکس نہیں دیا، یا منی ٹریل نہیں دی،کسی بھی صورت میں ایسا کام قابل معافی نہیں، سپریم کورٹ چلتے ہیں، میں بھی ، آپ بھی آ جائیں، سپریم کورٹ کئی چیزوں کی بانڈریز بنا دے، کہ اگر چیئرمین پی سی بی لگانا ہے تو اسکا کرائیٹیریا کیا ہونا چاہئے، ایم ڈی کون ہونا چاہئے، ڈائریکٹر پی ایس ایل کس کو ہونا چاہئے اور قابلیت کیا ہونا چاہئے،پاکستان میں کتنے بڑے بڑے کرکٹر ہیں، مشتاق محمد لے لیں، محمد صادق، ظہیر عباس، جاوید میانداد، ہمارے مایہ ناز کرکٹر ہیں، ان پر فخر ہے، انکو آگے آنا چاہئے وہ بتائیں کیا انکو کھیل کا نہیں پتہ،آج کے زمانے کو اگر مبشر لقمان جانتا ہے تو جاوید میانداد کیوں نہیں جانتا،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • بابراعظم  کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بابراعظم کے حوالہ سے ویڈیو میں میں نے جو بات کی اور لوگ جو سمجھ رہے ہیں اس میں آسمان زمین کا فرق ہے

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری ویڈیو جس کو ہر آدمی کوٹ کر رہا ہے، میں جاہل لوگوں کی باتوں کا جواب نہیں دینا چاہتا،انہوں نے میری ویڈیو نہیں دیکھی، میں نے یہ بات کی کہ بابراعظم کو بھائی نے گاڑی گفٹ کی اور اس کی فیملی نے ویڈیو بھی اپلوڈ کی، اب مجھے بابر اعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن نہیں پتہ چل رہا، مجھے وہ بتا دیں تا کہ میں چپ ہو جاؤں، اگر بابراعظم کے بھائی کی اتنی آمدن ہے کہ وہ آٹھ کروڑ یا چار پانچ کروڑ کی گاڑی گفٹ کر سکتا ہے اور وہ ڈیکلیئرڈ ہے تو پھر میرا اور آپکا بات کرنا نہیں بنتا لیکن اگربابر نے ہی اسکو پیسے دیئے،اور بھائی نے گفٹ کا نام دے دیا، بابر کے ٹیکس ریٹرن میں بھی نہیں اور بھائی کے بھی،میری کہی ہوئی بات کیا ہے، لوگوں کی سمجھی ہوئی بات کیا ہے،دونوں میں آسمان زمین کا فرق ہے، میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا اور کہا تھا کہ انکو مار پڑے گی اور یہ یہ ہو گا،یہ سپر ایٹ میں نہیں جائیں گے

    محسن نقوی کرکٹ کو نہیں سمجھتے اس لیے انہیں عہدہ نہیں رکھنا چاہیے،مبشر لقمان
    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کرکٹ کو نہیں سمجھتے اس لیے انہیں یہ عہدہ نہیں رکھنا چاہیے،کرکٹرز نے امریکہ میں ایک ایک تصویر کے کئی ڈالرز لیے ہیں تو کیا وہ ظاہر بھی کریں گے، کل سلمان بٹ نے جی این این پرمیرے متعلق بات کی ،سلمان بٹ میں ہمت ہوتی ،واقعی وہ کسی کا نمک حلال ہوتا یا نمک حلالی کی ہوتی،توبتاتا لوگوں کو،میرے آگے قرآن اٹھا کر اس نے کہاتھا کہ اس نے سپاٹ فکسنگ نہیں کی ہے.اور کل وہ ڈیفنڈ کر رہا ہے اسکو، چور کیا کرے گا، دوسری کی چوری نہیں ڈیفنڈ نہیں کرے گا،محسن نقوی کو کرکٹ کا نہیں پتہ،جو کرکٹ کو سمجھتا ہو،ظہیر عباس،ماجد خان، صادق محمد کی طرز کی لوگ جو کرکٹ اور منیجمنٹ کو سمجھتے ہوں ایسے لوگ چیئرمین پی سی بی ہونے چاہئے، محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں، چار پانچ انکے چینل ہیں اور بھی انکے بزنس ہیں تو ایسے میں سارے کام مشکل ہوتے ہیں.

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    لڑکیاں بھی ہندوستانی اور افسر بھی انڈین ، پھر "ہنی ٹریپنگ” کا الزام آئی ایس آئی پر کیوں ؟؟؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل بھارتی میڈیا بلکہ گودی میڈیا کا پسندیدہ موضوع ہنی ٹریپ ہے ۔ آپ اس گودی میڈیا کی رپورٹنگ دیکھیں گے تو محسوس ہوگا کہ ہر بھارتی افسر کو عورت کے ذریعے کمپرومائز کیا جا سکتا ہے ۔مطلب اس نے پتہ نہیں کون سے ۔سادھو کی دی دوائی کھا لی ہے ۔ کہ وہ راسپوٹین بن گیا ہے ۔ حالانکہ خود جو بالی وڈ نے فلمیں بنا دی ہیں ان کے مطابق تو ان کا اصل مسئلہ ان کی بیگمات کی بے راہ روی ہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہرحال جو منظر کشی کی گئی ہے اس کے مطابق بھارتی فوج کے بڑےبڑے میجر جنرل رینک ، برئیگیڈ ر رینک کے افسر ہوں یا پھر ڈی آرڈی او کے سائنسدان بس ایک میسج کی مار ہیں ۔ یہاں تک تو کہانی سمجھ آتی ہے ۔ پر اب ان کا الزام ہے کہ ا س سب کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے ۔ بلکہ یہ تو یہاں تک کہانی سنا رہے ہیں کہ آئی ایس آئی اتنی ایڈوانس ہوچکی ہے کہ اس کام کے لیے لڑکیاں بھی بھارتی ہائر کی جا رہی ہیں ۔ پر یہ سب بکواس اور جھوٹ ہے ۔ یہ سچ ہے کہ بھارتی افسران ناڑے کے ڈھیلے ہیں اور ایک برہنہ تصویر کے لیے ملکی راز بیچنے میں دیر نہیں لگاتے مگر یہ سراسر جھوٹ ہے کہ بھارتی لڑکیوں کو ہائر کیا جاتا ہے ۔اچھا یہاں میں بڑے ادب اور احترام سے کہنا چاہوں گا کہ افسروں سمیت عورتیں بھی بھارت ہی کی بک رہی ہیں ۔ اور میں آپکو بتاوں بھارت کے پاس کون سا ایسا راز ہے جو پاکستانی آئی ایس آئی نے چرانا ہے ۔ آئے روز فائٹر جیٹ بھارت کے زمین بوس ہوتے ہیں میزائل ان کے چلنےسے پہلے ٹھوس ہوجاتے ہیں ۔ پھر جس دفاعی نظام اور برہوموس پر ان کو ناز ہے ۔ اس کو پاکستان نے ابھی نندن کو چائے پلا کر دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم کہاں ہیں اور یہ بھارتی کہاں ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہرحال یہ ایک لمبی لسٹ ہے جو بھارتی افسران اپنے ملکی راز پتہ نہیں کس کس ملک کی عورت کو بیچ چکے ہیں ۔ اور الزام پاکستان پر آتا ہے۔ ان کی ۔را۔ کو پتہ لگانا چاہیے کہیں اس کے پیچھے سی آئی اے ، ایم آئی سکس نہ ہوں ۔کیونکہ اکانامک ٹائمز کی اسٹوری کے مطابق بھارت کا روس سے لیا ہوا ایس ۔ فور ہنڈر کا دفاعی نظام کمپرومائز ہوچکا ہے ۔ یہ معاہدہ جب ہو رہا تھا تو اس سے تو امریکہ سمیت یورپ کو چڑ تھی کہ روس سے کیوں سامان خرید رہے ہو ۔ خریدنا ہی ہے تو ان سے خریدو ۔ پاکستانی آئی ایس آئی کو ایسے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔دراصل چلیں میں آپکو پہلے ہی بتا دیتا ہوں یہ بھارتی کچھ بالی وڈ سے زیادہ ہی متا ثر ہوگئے ہیں ۔ انھوں نے سلمان اور شاہ رخ خان کو کچھ زیادہ ہی آئیڈلائز کر لیا ہے۔ کہ آئی ایس آئی دیپکا اور کترینہ کیف جیسی حسیناؤں کو بھیجے گی ان کو قابو کرنے کے لیے ۔ حالانکہ ان سب افسران کی شکل رجنی کانت جیسی ہے ۔ ایک اور چیز بڑی مزیدار سامنے آئی ہے کہ ان میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جن کا تعلق بی جے پی سے ہے یا ماضی میں یہ آر ایس ایس سے وابستہ رہے ہیں ۔ تو اس پوائنٹ کو لے کر کانگریس جو مودی سمیت حکومت کے کپڑے اتار رہی ہے ۔ وہ الامان الحفیظ ہے ۔ اسی لیے آسان طریقہ بھارتی حکومت سمیت گودی میڈیا کے لیے ایک ہی ہے کہ بھارت میں کچھ بھی ہو اس کے تانے بانے پاکستان اور آئی ایس آئی سے جوڑ دو ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے سب دیکھنے والوں کے لیے مفت مشورہ ہے کہ کسی انڈین آفیسر کا نمبر مل جائے تو آپ نے بس ایک میسج ہی کرنا ہے اور اگر ویڈیو چیٹ کرلی پھر تو چاہے آپ اسکی پچھلی ہزار سال کی راشی نکلوا لیں ۔ یعنی جو مرضی راز نکلوا لیں ۔اور اگر آپ ہزار ڈالر کہیں ان افسران کو رشوت لگادیں تو پھر دیکھیں ان کی پھرتیاں ۔ براہموس اور ایس فور ہنڈر کے راز کیا پورے پورے میزائل لا کر آپکےقدموں میں رکھ دیں گے ۔ ویسے یہ سیکس اسکینڈل بھارتی فوج میں کوئی نئے نہیں ہیں ۔ ایک پوری تاریخ ہے ۔ بالی وڈ خود اس پر فلمیں بنا چکا ہے ۔ بھارتی نیوی میں تو کوئی افسر اپنے بیوی آگے پیش نہیں کرتا تو ترقی ہی نہیں ملتی اور یہ ایک عام کلچر ہے وہاں پر ۔ پھر وائف سویپنگ کے بغیر تو بھارتی فوج میں آپ آگے نہیں بڑھ سکتے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ اہم واقعات آپکو بتاتا ہوں ۔ سات مئی دوہزار تئیس کو انڈین ریاست مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی سکواڈ ۔اے ٹی ایس۔ نے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ۔ڈی آر ڈی او۔ کے ایک سائنسدان کو گرفتار کیا۔ ان پر پاکستان کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اے ٹی ایس نے کہا ہے کہ یہ ۔ہنی ٹریپ۔کا معاملہ ہے اور پردیپ کورولکر نامی ایک سینیئر سائنسدان، جو پونے میں کام کرتے تھے، ایک نوجوان لڑکی سے واٹس ایپ اور ویڈیو کالز کے ذریعے رابطے میں تھے۔پھر تصویریں ، ویڈیوز پتہ نہیں کیا کیا بھیجتے رہے ۔ اس لڑکی کو لندن میں ملنے کی تیاری بھی کی ۔ پلان بھی بنایا مگر اپنے آپ میں بنے ٹائیگر کا یہ پلان پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پایا اور پہلے ہی بھارتی ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ گیا ۔ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے اس قسم کا معاملہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ دوسال قبل یعنی نومبردوہزار بائیس میں دلی پولیس نے مبینہ طور پر انڈین وزارت خارجہ کے لیے کام کرنے والے ایک ڈرائیور کو اس وقت گرفتار کیا جب سکیورٹی ایجنسیوں نے پولیس کو الرٹ کیا کہ ڈرائیور ۔ہنی ٹریپ۔ ہو کر کسی کو خفیہ معلومات فراہم کر رہا تھا۔ اس وقت تقریبا آٹھ سو کے قریب ایسے بھارتی افسران ہیں جن پر انکوائری چل رہی ہے اور یہ فوج سمیت میزائل پروگرام اور ایٹمی پروگرام سے وابستہ لوگ ہیں ۔مطلب آسوٹھ ایک بہت بڑا فگر ہے ۔ آپ اندازہ کریں یہ انڈینز ناڑے کے کتنے ڈھیلے تھے ۔ پھر انیس سو اسی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ۔۔را۔۔ کے ایک افسر جو۔۔ایل ٹی ٹی ای۔۔ کے معاملات دیکھتے تھے، ایک امریکی ایئر ہوسٹس کی زلفِ گرہ گیر کے ایسے اسیر ہوئے کہ ان کے فرشتوں کو بھی پتہ نہ چلا کہ محترمہ ۔سی آئی اے۔ کی ایجنٹ ہیں اور انہیں استعمال کررہی ہیں۔ جب تک انہیں خبر ہوتی، وہ جیل کی کوٹھری تک پہنچ چکے تھے۔۔ اسی طرح دوہزار چار میں ایک امریکی خاتون دو بھارتی افسروں ۔ پال اور داس گیتا۔ سے ملیں، ان سے پینگیں بڑھائیں ، پھر ان افسروں کے لیپ ٹاپ ایسے غائب ہوئے کہ آج تک نہیں ملے۔ جبکہ قانوناً حساس اطلاعات آفس سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ بہرحال دونوں حضرات جیل کی ہوا کھارہے ہیں۔ ایسے واقعات کی کمی نہیں،دوہزار نو میں سُکھ جندر سنگھ نامی افسر کو ایئر کرافٹ کے سودے کے لیے ماسکو بھیجا گیا مگرآپ سودے کو بھلا کر ایک روسی خاتون کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پائے گئے۔ راجستھان کے ایک فوجی افسر بنگلہ دیشی خاتون کے ساتھ ۔۔فیس بک۔۔پر دوستی کرتے نظر آئے۔ تفتیش پر پتہ چلا کہ محترمہ ان سے ملنے کئی بار راجستھان کا بارڈر کراس کرکے ہندوستان آچکی ہیں۔ ایک ایسی ہی حسینہ ڈھاکہ کے تربیتی کالج میں ایک ہندوستانی افسر کو پھنسا چکی تھیں۔ خوش قسمتی سے نوجوان افسر کو اس کے ضمیر کی آواز نے بچالیا۔ اس نے فوراً اپنے باس کو خبر کی اور افسر کو ہندوستان واپس بلالیا گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر آج سے ایک دہائی قبل کی بات ہے جب اسلام آباد میں تعینات انڈین فارن سروس کی پریس انفارمیشن سیکرٹری مادھوری گپتا کا معاملہ اس وقت اہمیت کا مرکز بن گیا جب دوہزار دس میں دہلی پولیس کے سپیشل سیل نے ان پر ۔پاکستان کی خفیہ ایجنسی، آئی ایس آئی۔ کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام لگایا۔ انھیں اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دوہزار اٹھارہ میں ایک ذیلی عدالت نے انھیں تین سال کی سزا سنائی لیکن ساتھ ہی انھیں ضمانت پر رہا بھی کر دیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا۔مادھوری گپتا نے وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے افسران اور ان کے خاندان کے افراد کی پاکستانی جاسوسوں کو تعیناتی کی معلومات دی تھیں۔ بہرحال دوہزار اکیس میں چونسٹھ سالہ مادھوری گپتا کی موت کے بعد یہ معاملہ بھی ختم ہوگیا۔ درحقیقت ۔ہنی ٹریپنگ۔ کا عمل رومانوی یا جنسی تعلق بنا کر ہدف سے معلومات نکالنا ہے۔ یہ معلومات یا تو بڑی رقم کے لین دین کے لیے استعمال ہوتی ہیں یا پھر سیاسی وجوہات کی بناء پر ان میں جاسوسی شامل ہوتی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں انڈیا سمیت کئی ممالک میں ۔۔ہنی ٹریپ۔۔ کے کئی کیسز بھی سامنے آئے ہیں، جہاں غیر قانونی وصولی یا بلیک میلنگ کے الزامات عائد کیے گئے۔پھر۔۔ بی رمن۔۔ کی کتاب ۔۔دی کاو بوائز آف را: ڈاؤن میموری لین۔۔ بھی اس جانب اشارہ کرتی ہے۔ اس کے مطابق ماسکو میں تعینات ایک نوجوان انڈین سفارت کار کو ایک روسی رقاصہ سے پیار ہو جاتا ہے۔ جب روس کی انٹیلیجنس ایجنسی کے جی بی نے اس ڈانسر کے ذریعے اس سفارت کار سے کچھ معلومات لینا چاہی تو اس نے صاف انکار کر دیا اور دلی آ کر وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو ساری بات بتا دی۔ سفارت کار کو زیادہ محتاط رہنے کی تنبیہ کے ساتھ معاف کر دیا گیا لیکن اس کے بعد سے انڈین فارن سروس کے تمام افسران کو ۔دوسرے ممالک میں ایسے کسی بھی فتنے سے بچنے کی ہدایت دی گئی، جو آج تک جاری ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کہانیاں تو بہت ہیں مگر قصہ مختصر، جنسی بے راہ روی کسی کو نہیں بخشتی۔ اگرآپ اقتدار کے نشے میں چور ہوس کا شکارہیں تو جلدآپ کا زوال یقینی ہے۔ کیونکہ حسن کا مایاجال اتنا دلفریب اور توبہ شکن ہوتا ہے کہ آدمی سب کچھ بھول کر اس کا اسیر ہوجاتا ہے۔ بات جو بھی ہو، یہ طے ہے کہ صدیوں سے شہد کی یہ مکھیاں بڑے پیار سے شہد کے میٹھے گھونٹ اپنے شکار کے حلق میں انڈیل رہی ہیں اوران کے شکار شہد چکھتے ہی ایسے مدہوش ہوجاتے ہیں کہ انہیں دنیا ومافیہا کی خبر نہیں رہتی۔ یاد رہتا ہے تو صرف ان مکھیوں کا تعاقب اوران کی اطاعت۔ اپ اس دیوانگی کو ۔ ہنی ٹریپ ۔۔ کہنا چاہیں تو کہیں لیں ۔

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان کا ورلڈ کپ سے آوٹ ہونا کرکٹ کے لیے المیہ ہےیہ میں نہیں دنیا کے بڑے بڑے کرکٹر ز اور اسپورٹس تجزیہ کار کہہ رہے ہیں ۔ پر ایک چیز پر یہ سب بھی متفق ہیں کہ پاکستان کے باہر ہونے پر دکھ ہوا لیکن پاکستان کا کرکٹ سسٹم اس کا ذمے دار ہے ۔ جہاں ہر بجن سنگھ گیری کرسٹن کو مشورہ دے رہے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ وقت ضائع نہ کریں ہندوستان واپس آجائیں۔ تو سہواگ کا ماننا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے لیے میری ٹیم میں بابر اعظم کی جگہ نہیں۔ مائیکل وان ، ناصر حسین ، وریندر سہواگ ، سری کانت سب پاکستان کرکٹ کو لے کر پریشان بھی ہیں اور مشورہ دیتے ہوئے بھی دیکھائی دیتے ہیں کہ اگر کل صبح آپکو بابر اعظم ، شاہین شاہ آفریدی ، محمد رضوان ، شاداب خان کی انڈیا ، آسٹریلیا ، انگلینڈ کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی سلیکشن کرنی ہو تو ان کی جگہ ہی نہیں بنتی ۔ کیونکہ ٹی ٹوئنٹی میں جو اسٹرائیک ریٹ درکار ہے یہ اس پر کھیلتے نہیں ہیں ۔ پھر چاہے بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی میں ویرات کوہلی سے زیادہ رنز کیوں نہ بنا رکھے ہوں اس سے فرق نہیں پڑتا ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر ایک وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آج تک میچ کتنے جتوائے ۔ کتنی ٹرافیاں وہ گھر لے کر آئے ۔ کیونکہ یہ پاکستان کی اجتماعی کامیابی کو ترجیح دینے کے بجائے ذاتی سنگ میل کو ترجیح دیتے رہے ہین ۔ اصل میں تو پاکستان کرکٹ ٹیم کا لیول اور کیلیبر اب ایسوسی ایٹ ٹیمز والا بھی نہیں رہا۔پرتنخواہیں اور مراعات ہم ان کو انڈیا ، انگلینڈ اور آسٹریلیا والی دے رہے ہیں بلکہ کچھ پلیئر ز کو تو کرکٹ بورڈ نے باقاعدہ داماد بنا یا ہوا ہے ۔اگر جلد کوئی بہتری نہ لائی گئی تو مجھے لگتا ہے کہ کچھ ہی سالوں میں پاکستانی کرکٹ فینز اس بات کی خوشی منایا کریں گے کہ پاکستان ٹیم نے ورلڈ کپ کے کوالیفائینگ راؤنڈ میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آئر لینڈ،زمبابوے،کینیڈا،امریکہ،یوگنڈا،افغانستان پاکستان سے بہتر ہو گئی ہیں ۔پاکستان کو اب کرکٹ ایسی ٹیموں کے خلاف ہی کھیلنی چاہئیے۔حارث رؤف کو دیکھ لیں۔کھیلا بھی نہیں جاتا ہے،ٹیم کو میچز بھی ہروانے ہیں،اور اوپر سے فینز سے بھاگ بھاگ کے لڑ بھی رہا ہے۔کسی نے جو بھی کہا ہو کیا انٹرنیشنل کرکٹر ایسا کرتے ہیں۔ میں نے تو آج تک نہیں دیکھا ۔ اس حوالے سے احمد شہزاد نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے فاسٹ بولر حارث رؤف سے ہمدردی کے لیے سوشل میڈیا پر جو پوسٹیں لگائیں وہ انہیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں خراب کارکردگی پر قوم سے معافی مانگنے کے لیے بھی لگانی چاہیے تھیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت جو سب سے بڑا سوال ہے وہ یہ کہ اگر بابر اعظم کپتان نہیں رہتے تو کیا ان کی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں جگہ بنتی ہے ۔ اب اس حوالے سے متضاد قسم کی خبریں گردش میں ہیں ۔ ایک تو کہا جا رہا ہے کہ کپتان بابر برقرار رہیں گے باقی ٹیم سے سات سے آٹھ لوگوں کی چھٹی کر دی جائے گی ۔ اور بابر اعظم ڈومیسٹک کھیلنا شروع کر دیں گے جہاں وہ نئے ٹیلنٹ کو پنپین گے اور ٹیم میں نئے لوگون کو شامل کریں گے ۔ مجھے اس کہانی پر کوئی اتنا زیادہ بھروسہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر ٹیلنٹ ہنٹ بابر نے ہی کرنا ہے تو پھر سلیکٹرز کی کیا ضرور ت ہے ۔ اور بابر اتنا ہی قابل ہوتا تو کم ازکم ابرار احمد کو ضرور موقع دیتا ۔ مگر ٹیم میں ہوتے ہوئے بھی مسٹری اسپنر بابر الیون میں اس لئے نہیں کھیلا کہ وہ بابر اعظم کی پرانی فرنچائز کے شہر کا ہے، کیسی شرمناک حقیقت ہے ، شان مسعود اور سعود شکیل شجرِ ممنوعہ اور چار اوپنرز ٹیم کے ساتھ گئے مڈل آرڈر خالی، سونے سوہگہ یہ کہ چار اوپنرز کے ہوتے ہوئے بھی دو مڈل آرڈر بیٹسمین بابر اور رضوان اوپننگ کر رہے تھے، اوپنرز مڈل آرڈر میں تھے، کوئی تیاری نہیں، کوچ نے ٹورنامنٹ میں ہی ٹیم کو پہلی مرتبہ جوائن کیا، ورلڈ کپ سے پہلے کوئی کنڈیشننگ میچ نہیں، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ یہ کھیلنےضرور گئے تھے لیکن کرکٹ میچ نہیں۔سیاست کھیلنے گئے تھے ۔ شریکوں اور رقیبوں سے اپنے پرانے اسکور برابر کرنے گئے ۔ کیونکہ بابر اعظم کا گروپ اور سوشل میڈیا بہت پاور فل ہے، پہلے اس نے اپنے فرسٹ کزنز عمراکمل، کامران اکمل اور عدنان اکمل کو باہر کرایا اور اب پورے پٹھان گروپ کے خلاف کمپین چل رہی ہےاور سارا ملبہ ان پر ڈالنے اور بابر اینڈ کو۔ کو "کلین چٹ” دینے کا کام ہو رہا ہے، گھوم پھر کر ہونا یہی ہے کہ یہی نا اہل ٹیم پر مسلط رہیں گے، گزشتہ سال انڈیا میں شرمناک شکست کے بعد بھی ٹیم میں دکھاوے کیلئے وقتی تبدیلیاں ہوئی تھیں لیکن اس ورلڈ کپ میں پھر وہی ٹیم، وہی ناکام کپتان، وہی ڈرپوک ٹک ٹک اوپنرز بابر اور رضوان، اور اس سے برا رزلٹ۔ پھر بابر اعظم کا بحیثیتِ کپتان پی ایس ایل میں بھی ریکارڈ دیکھ لیں، کراچی کا بھٹہ بٹھا کر اب زلمی پر طبع آزمائی کر رہا ہے۔تو جناب اگر پچھلی بار کی طرح صرف خانہ پوری کرکے بابر کو ہی کپتان رکھا گیا۔ تو اس ملک میں کرکٹ کا اللہ حافظ سمجھیں ۔ بلکہ ۔ انا لله و انا الیه راجعون ۔ پڑھ لینا ۔

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

  • چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عید سے دو دن قبل میں نے ایک چینل جوائن کیا ٹیلن نیوز، وہاں میں دفتر گیا ہوا تھا باہر نکل رہا تھا تو کچھ خواجہ سرا ملے اور انہوں نےکہا کہ مبشر صاحب ہم استقبال کی تیاری کر رہے ہیں، بتائیں کب آنا ہے، جس پرمیں نے پوچھا کہ کس کا استقبال، تو انہوں نے کہا بابر اعظم کا استقبال،اور پاکستانی ٹیم کا استقبال،ہم نے جس طرح کا استقبال کرنا وہ پھر دنیا دیکھے گی،مجھے ایک بار شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ ،ایک شی میل کو ان سے شکایت تھی میں نے اسکا انٹرویو کیاتھا،جس پر شیخ رشید احمد نے بڑا گلہ کیا ،اور کہا کہ خواجہ سرا بڑے خطرناک ہوتے ہیں یہ گالیاں عورتوں والی نکالتے ہیں لیکن ہاتھ انکے مردوں والے ہوتے ہیں، اب مجھے شیخ رشید کی بات سمجھ آئی کہ وہ خواجہ سرا کس طرح کا بابراعظم کا استقبال کرنا چاہتے ہیں،انکو بھی پتہ چل گیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کیسی ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیم کے کچھ لوگ پاکستان پہنچ گئے،جو رہ گئے وہ کچھ دن تک آئیں گے، وہ الگ الگ آ رہے تا کہ عوام سے چھپا جا سکے، اب مختلف انکشافات ہو رہے ہیں،چڑیل بھی آج کل بڑی ایکٹو ہے، اس نے بتایاکہ بابر اعظم اور بکیوں کا تعلق ہے ، میں نے پوچھا کیا تعلق ہے؟ تو کہا گیا کہ وہاب ریاض کاباپ کون ہے؟ عمر اکمل کا سسر کون ہے؟ وسیم اکرم کا بھائی کون ہے، کیا ان سب کو جانتے نہیں،انضمام کس کے لئے کام کرتا ہے،سایا کارپوریشن نے کیسے بلیک میل کیا سب کو، چھمک چھلو جو نئی وارداتی ہے اس بارے اظہر محمود ہی بتا سکتا ہے کہ وہ کہاں سے ملی تھی، مشتاق صاحب کی فگر ہیں، میں نے کہا مشی، وہ تو بڑے اچھے آدمی ہیں، داڑھی رکھی ہوئی میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پہلے نماز پڑھوں گا پھر کافی پیوں گا، چڑیل نے کہا میرا منہ نہ کھلوائیں ان کے کرتوت کچھ اور ہیں،یہ سایا کارپوریشن کا مین ریکروٹر تھا جو اچھا کھیلتا وہ سایا والوں کے ساتھ سائن کروا لیتا، آئی پی ایل ہو ،پی ایس ایل ہو یا کہیں بھی کوئی کرکٹ ہو،سٹہ ہو گا، آئی سی سی میں بھی سٹہ ہوتا ہے، جب لوگ سوچتے ہیں کہ میری تو ایک سال یا کچھ عرصہ کرکٹ رہ گئی تو وہ ایسی ٹیم سے ہار جاتی جو نکمی ترین ہوتی، اب کوئی سوچ سکتا تھا کہ پاکستان افغانستان سے ہار جائے گا؟بکیز نے اسکا ریٹ لگایاہوا ہے ،یعنی افغانستان پر بیٹ کی تو آپ کروڑ پتی، ابھی ہمیں کیا پتہ کون کون بک میں ہے، کوئی سوچ سکتا ہے کہ نیدرلینڈ،آئرلینڈ سے پاکستان ہار سکتا ہے، یہ ورلڈ چیمپیئن ٹیم ہے، کوئی سوچ سکتا ہے کہ امریکا سے میچ ہار جائیں گے جو اپنا پہلا میچ کھیلے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تھوڑا دن پہلے بابر اعظم کی نئی ای ٹرون گاڑی آ گئی،بابر اعظم نے کہا بھائی نے گفٹ کی، کل سے میں لگا ہوا تھا کہ اسکا بھائی کرتا کیا ہے کہ سات آٹھ کروڑ کی گاڑی گفٹ کر رہا ہے، پتہ چلا کہ ٹھینگا کرتا ہے، چڑیل نے کہا کہ میچ ہاریں گے تو گاڑی تو آئے گی ہی سہی، ڈی ایچ اے میں گھر ، آسٹریلیا میں پلاٹ نہیں آئیں گے تو کس کے آئیں گے، یہ سب کے بارے میں ہے، پاکستانی ٹیم میں کون کون بکی ہے، سب کو پتہ ہے، بورڈ کو بلیک میل کیا گیا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شاہین آفریدی کو بابر نے ہٹوایا، شاہین اکیلا تھوڑا ہے اسکے پیچھے شاہد آفریدی ہے، شاہین آفریدی کی انجری کے بعد واپسی ہوئی تو وہ صحیح پرفارم نہیں کر رہا تھا ، انہوں نے فوری کہا کہ محمد عامر کو لے آؤ، یہ وہی شاہین آفریدی ہے جو کہتا تھاکہ مر جاؤں گا محمد عامر کے ساتھ نہیں کھیلوں گا، لیکن اسے لایا گیا، محسن نقوی کو کہا گیا،محمد عامر کو واپس لائے اور پہلا اوور دیا، تا کہ شاہین آفریدی کو گالیاں نہ پڑیں کوئی اسکو برا بھلا نہ کہے، حارث رؤف کو دیکھ لیں،

  • پاکستانی ٹیم واپسی کیلیے تیار،پی سی بی کے اندر کرپشن عروج پر

    پاکستانی ٹیم واپسی کیلیے تیار،پی سی بی کے اندر کرپشن عروج پر

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ لگتایہ ہے فلوریڈا سے جو خبریں آ رہی ہیں کہ پاکستان کی ٹیم کا مستقبل بادلوں کے رحم و کرم پر ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب مجھے لگ رہا ہے کہ یہ میچ بغیر کھیلے ایک ایک پوائنٹ دو ٹیموں کو مل گیا، ایسے میں پاکستانی ٹیم نماز عید اور قربانی پھر یہاں‌کرے گی،لندن سے مجھے سرفراز نواز نے جوائن کیا ہے، کرکٹ کی دنیا کے بہت بڑے سٹار ہیں.ایک رن دے کر انہوں نے سات وکٹ حاصل کی تھیں وہ بھی سب کو یاد ہے،سرفراز صاحب ہمارے ہیرو ہیں، پاکستان کا سر فخر سے آپ نے بلند کیا ہے.میرے تو ہیروز ہیں آپ،مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اس کرکٹ ٹیم کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ قابل نہیں رہے کہ انکو اچھےکام میں یاد کیا جائے

    سرفراز نواز کا کہنا تھا کہ کرکٹ کی تباہی عمران خان کے دور میں شروع ہوئی، حقیقت یہی ہے، اس نے تمام ڈیپارٹمنٹ بند کر دئے، وہ آسٹریلین رول ادھر لے کر آیا، آسڑیلیا کی آبادی صرف پانچ چھ کروڑ ہے، اس نے کرکٹ کو تباہ کر دیا ہے،مزید رمیز راجہ صاحب نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، ایک ارب روپیہ یوتھ پر خرچ کر دیا اور یوتھ نکلی ہی نہیں ،یہ کلبوں پر خرچ کرنا چاہیے تھا، اسکے بعد نجم سیٹھی آئے،انہوں نے بڑی اکھاڑ بچھاڑ کیں یہ بھی بے شمار تباہیاں کر کے گئے.وہاب ریاض کو پھر لگایا گیا ،پھر بٹ کو لے آئے ایک اور جواریا، یہ بس مال بنانے کے چکر میں تھے، موجودہ چیئرمین کو بھی لکھ کر بھیجا یہی چیزیں ،جوا گروپ کے آدمیوں کو نہ لائیں، مجھے اب پتہ چلا ہے کہ دوستی یاری ہے،میں نے 55 سال کا جو تجربہ ہے وہ لکھ کر بھیج دیتا ہوں اب ان کی مرضی ہے کیا کرنا ہے، عامر سہیل اور محمد اکرم کو ایڈوائزر کھنے کا میں نے کہا تھا کہ یہ معاملات کو دیکھیں گے، یہ سب کو جانتے ہیں اور اچھا گائیڈ کریں گے لیکن انکو نہیں رکھا گیا، چیئرمین صاحب نے جو سیلکیشن ہوئی اس کو کینسل کر دیا، کہ یہ مجھے نہیں پسند ، پی سی بی میں دوستی یاری چل رہی، وہاب ریاض کہاں کا تجربہ کار ہے، اس سے پہلے آسٹریلیا جو ٹیم بھیجی اسکا حشر دیکھ لیں،ساری چیزیں سامنے ہیں، جو کوچ لے کر آتے ہیں مکی آرتھر کو لے کر آئے، موجودہ کوچ کو بھی دیکھ لیں، انہوں نے کب جوائن کیا، کوچ کو بہت کچھ کرنا پڑتا ہے لیکن یہ نہیں کر رہے، انڈیا کا کوچ سب کچھ کر رہا ہوتا ہے،ہمارے کچھ نہیں کرتے، اس طرح کی چیزیں چل رہی ہیں

    سرفراز نواز کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین صاحب کہتے ہیں کہ سرجری کرنی ہے، کرنا ہے تو آپریشن کریں، کلین اپ کریں تب جاکر معاملے بہتر ہوں گے،جو اہل لوگ ہیں قابل لوگ ہیں وہ لے کر آئیں،

  • محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ اوربھی بہت دکھ ہیں ۔غلطی سے آپ کبھی اخبار اٹھا کر صرف جرائم کا صفحہ پڑھ لیں ۔ بس پھر آپ کانوں کو بھی ہاتھ لگائیں گے اور دعائیں بھی کریں گے کہ خدانخواستہ کبھی آپ یا آپکا جاننے والا اس سپچوئیشن میں نہ پھنسے ۔

    مبشر لقما ن آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہناتھا کہ بہرحال گزشتہ روز مجھےسے اخبار اٹھانے کی غلطی ہوگی اور سیدھا میں نے جرائم کا صفحہ کھول لیا کہ دیکھوں توصحیح ملک میں چل کیا رہا ہے پھر کیا تھا ۔ وہ وہ انکشافات ہوئے کہ کرکٹ میں ہار ، بجٹ ، سیاست کے مسائل یہ سب کچھ بہت چھوٹا لگنے لگے اور اصل بڑے مسائل یہ معاشرتی مسائل لگنے لگے ۔ بہرحال ایک اسٹوری تو میں نے کئی دنوں سے سن رکھی تھی کہ کراچی میں سیکورٹی گارڈ نے ٹک ٹاکر کو گولی مار دی ۔ اب جناب معاملہ یہ ہے کہ یہ کیسسز بڑھنا شروع ہوگئے ہیں ایک واقعہ تو اسی ہفتے لاہور میں ہوگیا جہاں سیکورٹی گارڈ نے اپنی مالک کو گولی مار دی پھر ایک اور واقعہ کراچی میں پھر رپورٹ ہوگیا ۔ پتہ نہیں پولیس اور حکومت کب جاگیں گے ۔ کہ عجیب ملک ہے کہ لوگ اپنے محافظوں کے ہاتھوں قتل ہونے لگے ہیں ۔ ویسے اس گرمی کے موسم میں سخت چھبنے والے کپڑے پہن کر ،بھاری بھرکم بوٹوں کے ساتھ ڈیوٹی کرنا کسی غذاب سے کم نہیں ہے ۔ اور جو معاشی صورتحال چل رہی ہے ۔ پھر جو سیکورٹی کمپنیاں ان لوگوں کا استحصال کرتی ہیں وہ ایک علیحدہ کہانی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی کی ناحق جان لے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی سے شروع کریں تو سخی حسن سرینا موبائل مارکیٹ کے سکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کر کے ٹک ٹاکر کو قتل کر دیا۔ اسی وقت پولیس نے گارڈ کو گرفتار کرکے کلاشنکوف اپنے قبضے میں لے لی ہے ۔ مقتول دو بچوں کا باپ اور بے روزگار تھا جو گزر بسر کے لیے ٹک ٹاک اور وی لاگنگ کرتا تھا۔ جو اسٹوری رپورٹ ہوئی ہے اس کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے والا شخص مارکیٹ میں دکانداروں اور دیگر افراد سے پاک بھارت کرکٹ میچ کے حوالے سے ان کی رائے جاننے کے لیے ویڈیو بنا رہا تھا اور جاتے ہوئے اس نے سیکیورٹی گارڈ سے بھی میچ کے حوالے سے سوال کیا لیکن اچانک اس نے گالی دی اور اسلحہ لوڈ کرکے سعد کو گولی مار دی ۔ تاہم مارکیٹ کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران ٹک ٹاکر کا رویہ اچھا تھا ایسی کوئی بات نہیں دیکھی جو ناگوار ہو۔مقتول سعد احمد کے بارے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی ملنسار اور لوگوں کے کام آنے والا تھا، مقتول والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور بفرزون کا ہی رہائشی تھا جس نے چند ماہ قبل ہی ٹک ٹاک اور وی لاگنگ کا کام شروع کیا تھا۔ پھر واقعہ کی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے جس میں سیکیورٹی گارڈ احمد گل ولد زواتا خان کو انتہائی قریب سے سعد احمد کو گولی کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ سیکیورٹی گارڈ احمد گل نے ابتدائی طور پر بتایا کہ نوجوان ٹک ٹاک بناتے ہوئے میری طرف اشارے کررہا تھا۔ عین ممکن ہے کہ یہ شخص ذہنی مریض ہو ۔ کسی کلچرل شاک کا شکار ہو ۔ مطلب کسی دور دراز کے ایسے علاقے سے ہو جہاں یہ چیزیں عام نہیں اور کراچی جیسے بڑے شہر اور وہ بھی موبائل مارکیٹ میں آکر یہ سب کچھ اس کے لیے قابل قبول نہ ہو ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میرے ایک دوست ہیں جو فوج میں ہیں تو جب ان کی لاہور میں پوسٹنگ تھی تو انھوں نے ایک دن بتایا کہ جو لوگ دور درازعلاقوں یا باڈر سے ڈیوٹی کرکے جب لاہور آتے ہیں تو اکثر سے سڑک پار نہیں کی جاتی ۔ ایکسڈنٹ سمیت اور بہت سے مسائل ہیں جن کا ان کو سامنا کرنا پڑتا ہے اور سیٹ ہونے میں کئی ماہ لگتے ہیں ۔ بہرحال سعد احمد کے اہلخانہ احتجاج کر رہے ہیں کبھی پریس کلب جا رہے ہیں تو کبھی کہیں ۔ کہ ہمیں انصاف دیا جائے ۔ پر ان کو کون بتائے اور سمجھائے اس ملک میں عام بندےکو انصاف کہاں ملتا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جس کمپنی کے لیے یہ سیکورٹی گارڈ احمد گل کام کرتا تھا اس کا لائسنس کینسل ہوتا ۔ جس دوکان پر یہ کھڑا ہو تاتھا اس کے مالک پر پرچہ ہوتا ۔ جبکہ ریاست سعد احمد کے اہلخانہ اور اس کمپنی سمیت دوکاندار سے اچھی خاصی رقم بطور ہرجانہ لے کر دیتی ۔ جبکہ قتل کرنے والے گارڈ کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی اور جلد سے جلد ۔ یہ نہیں کہ دس دس سال بیس بیس سال کیس سیشن کورٹس میں چلتا ۔ پھر ہائی کورٹس جاتا ، پھر سپریم کورٹ ۔ جو عام معمول ہے پاکستان میں ۔ اسی لیے میں نے کہا ہے کہ غریب اور عام بندے کے لیے کوئی انصاف نہیں ہے اس ملک میں ۔آپ دیکھیں جب چور اور ڈکیت آتے ہیں تو ان گارڈ ز سے گولی چلتی نہیں اور عام معصوموں کی یہ جانیں لے رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ تحقیقات میں گارڈ احمد گل کی سیکیورٹی کمپنی تعاون سے گریز کررہی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جواب نہیں دے رہے ،آفرین ہے ویسے پولیس والوں پر بھی یہاں ڈنڈا نہیں چلا رہے کوئی عام یا سادہ بندہ ہوتا توڈنڈے مار مار بندہ مار دیتے ۔اس کے گھر والوں کو اٹھا لیتے ۔ بڑے بندے کو دیکھ کر پتہ نہیں پولیس والوں کی کیوں سیٹی گم ہوجاتی ہے ۔ بہرحال سیکیورٹی کمپنی سے کسی بھی شخص نے بیان ریکارڈ نہیں کرایا، بس اتنا معلوم ہوسکا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ احمد گل چار ماہ قبل سرینا موبائل مارکیٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ واقعہ تو میڈیا پر آنے کے بعد نظر میں آگیا ۔ میں آپکو بتاؤں اور بھی بہت سے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔ جیسےکراچی میں ہی سیکورٹی گارڈ نے کچرا چننے والے بچے کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔ پھر ماڈل کالونی کی رہائشی عمارت کے سکیورٹی گارڈ نے جھگڑے کے دوران ساتھی گارڈ پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں دوسرا گارڈ زخمی ہوگیا۔اور دو دن پہلے لاہور کی غالب مارکیٹ میں سکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کرکے اپنی ہی نجی سکیورٹی کمپنی کے مالک کو قتل کردیا ۔ جس کے بعد گارڈ کو گرفتار کرلیا گیا ۔ گرفتار گارڈ نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ نجی سکیورٹی کمپنی کا مالک ملازمین پر سختی کرتا تھا۔پولیس نے سکیورٹی گارڈ مدنی جلیل کا بیان ریکارڈ کرلیا ہے ، جس میں سکیورٹی گارڈ نے نجی کمپنی کے مالک غلام رسول پر جادوٹونے کا الزام لگا دیا ہے ۔ کہ صبح اٹھتا تو منہ سے خون آتا اور کہیں بھی مجھے نوکری نہیں ملتی تھی۔ پانچ سال پہلے نجی کمپنی میں کام کرتا تھا مالک نے نکالا تو اسکے بعد کام نہیں ملا۔ پولیس نے ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد تفتیش کے لئے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا۔واقعہ کی کلوز سرکٹ فوٹیج میں دیکھا گیاہے کہ مقتول غلام رسول اپنی گاڑی پر دفتر کے سامنے پہنچ کر گاڑی کی ڈکی سے سامان نکال رہا تھا، اسی دوران سکیورٹی گارڈ مدنی نے آکر مقتول سے ہاتھ ملایا اور ڈکی سے مقتول کی گن نکال کر فائرنگ کر دی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام واقعات اسی ماہ کے ہیں ۔ یقیقنا اس کے علاوہ بھی ہوں گے ۔ مگر آپ کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری حکومت ہر معاملے میں سوئی ہوئی ہے ۔ کسی کواسلحہ دیکر کھڑے کر دینا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ سب سے پہلے ماہانہ بنیاد پر اس کا دماغی معائنہ بہت ضروری ہے ۔ پھر اسلحہ صرف ایسی جگہوں پر گارڈ نے پاس ہونا چاہیئے جہاں چوری ڈکیتی کا خطرہ ہو ۔یا کسی کی جان کو خطر ہ ہو ۔ جیسے بینک ، جیولری شاپس یا جہاں بہت زیادہ پیسہ کا لین دین ہوتا ہو ۔ یہ ہر جگہ گارڈ کو گن دیکر کھڑے کردینے کا کوئی تک نہیں ہے ۔ پھر وفاقی سمیت صوبائی حکومتوں نے عام بندے کی تنخواہ اب تو سینتس ہزار مقرر کردی ہے ۔ جوکہ مجھے معلوم ہے کوئی بھی سیکورٹی کمپنی گارڈ کو نہیں دیتی ۔ پھر اس سخت موسم میں گرم کپڑے، بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ کا نہ ہونا ، بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی ۔ یہ سب عوامل مل کر کسی بھی جرم کا سبب بن سکتے ہیں یہ مت سمجھیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا اس کے پاس اسلحہ اور اس اسلحہ کا رخ وہ کب آپ کی طرف موڑ دے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ فورا ان سیکورٹی کمپنیوں کو پراپرریگولیٹ کیا جائے ۔ ان کے بھرتی کے نظام کی سخت سے سخت نگرانی کی جائے ۔ اور سخت چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے ۔ پر مسئلہ یہ ہے کہ نقوی صاحب تو کرکٹ کے معاملہ میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو کیا معلوم کہ ملک میں چل کیا رہا ہے ۔ بہرحال کم ازکم صوبوں کو اس حوالےسے لازمی قانون سازی کرنی چاہیے ۔

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں