Baaghi TV

Tag: مبشر لقمان

  • 9 مئی کو ایک سال، زخم ابھی تازہ،عمران کا جوابی وار،معافی نہیں ملے گی؟

    9 مئی کو ایک سال، زخم ابھی تازہ،عمران کا جوابی وار،معافی نہیں ملے گی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نومئی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ زخم ہے جو شاید آنے والے کئی سالوں تک نہیں بھر پائے گا، اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ جنہوں نے نومئی کا واقعہ کیا انکو ابھی تک احساس ہی نہیں کہ انہوں نے پاکستان اور پاکستان کے اداروں کو کتنا نقصان پہنچایا،وہ تو اس اصول پر چل رہے کہ ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں،یہاں تک کہ جس ملک کے وہ ٹارزن بنے ہوئے اسکو بھی پس پشت ڈال دیا اور ایک شخص کو تمام معاملات کا محور بنا دیا،کبھی یہ کہتے ہیں عمران نہیں تو پاکستان کا کیا کرنا،کبھی ایٹمی اثاثوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ، کبھی معیشت تباہ کرنے کی کوشش کرتے، کبھی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے،نومئی کو ایک سال ہونے کو، عوام کے ذہنوں میں سوال کہ نو مئی کے ذمہ دار،سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں کیوں نہیں لایا گیا، انہیں عبرت کا نشان کیوں نہیں بنایا گیا اور ریاستی ادارے واقعہ میں ملوث ملزمان سے رعایت کیوں برت رہے ہیں، جو لوگ بانی پاکستان، جی ایچ کیو کو نہ چھوڑیں،عسکری تنصیبات کو آگ لگا دیں، پاکستان کی سالمیت کو خطرے میں ڈالیں، وہ نوجوان جو نعرہ تکبیر بلند کر کے عسکری تنصیبات کو آگ لگائیں کیا انکے لئے کوئی رعایت برتی جا سکتی ہے، کیا انکو معاف کیا جا سکتا ہے؟

    نومئی اچانک نہیں ہوا، کئی سالوں کی تربیت ،ذہن سازی تھی، مبشر لقمان
    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ نو مئی ، ایک دن اچانک سے نہیں ہو گیا، اسکے پیچھے کئی سالوں کی تربیت تھی، ایک لاوا تھا جو پھٹ پڑا، یہ وہی لوگ تھے جو کچھ عرصہ قبل پارلیمنٹ ،پی ٹی وی پر حملہ آور ہوئے، اور پارلیمنٹ ہاؤس پر اپنے کپڑے سکھانے کے لئے ڈالے، ریاست کا مذاق بنایا، 2014 میں یہی لوگ تھے جنہوں نے 126 دن کا دھرنا دیا، جس کا آغاز 14 اگست کو لانگ مارچ سے کیا اور پھر ریاست کو یرغمال بنا کر بیٹھ گئے، اس دھرنے میں صرف ڈی جے بٹ کا بل 15 کروڑ کا نقصان ہوا تھا،اس دھرنے سے معیشت کو اربوں کا نقصان ہوا، چینی صدر کا دورہ کینسل ہوا ،لیکن تحریک انصاف کو کیا ملا، کچھ بھی نہیں، کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ لانگ مارچ کا اعلان،تب ریاست خاموش تھی، اگر تب بھی کوئی بڑی کاروائی ہوتی تو حالات مختلف ہوتے،لیکن ریاست کے خاموش ہونے کی وجہ تھی کہ پرانے لاڈلوں سے جان چھوٹ رہی تھی اور ایک نئے لاڈلے کو لانے کی تیاری ہو رہی تھی، آگے چلیں ایک بار پھر اسلام آباد مارچ کیا گیا، اس بارسارے وسائل خیبر پختونخوا حکومت کے استعمال ہوئے، اسلام آباد کے درخت جلائے گئے، میٹرو سٹیشن کو نقصان پہنچایا گیا،مزید نقصان ہونے سے قبل ہی ایک دن میں یہ دھرنا ختم ہوا، پھر ایک اور لانگ مارچ لاہور سے اسلام آباد، جس میں خاتون صحافی کینیٹر کے نیچے آ گئی،پانچ چھ لاشیں بچھ گئیں، خونی لانگ مارچ،پھر بھی جاری رہا، پھر یہی تربیت نومئی کو کام آئی،جب ہر بڑے شہر میں دنگے ہوئے، ریاستی املاک کو توڑا گیا، پشاور میں ٹینک تک سڑک پر لائے گئے، میانوالی میں جہازوں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی، پی ٹی آئی نے ابھی تک کچھ نہیں سیکھا،

    ریاست نومئی کو نہیں بھولی، پی ٹی آئی نے دہشتگرد گروپوں کی طرح بچوں کی ذہن سازی کی، مبشر لقمان
    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی اور کہا انتشاری ٹولےکو کوئی معافی نہیں ہو گی نہ ہی انتشاری ٹولے کے ساتھ کوئی مذاکرات ہوں گے،اور اگر مذاکرات کرنے ہیں تو صرف سیاسی لوگوں سے بات چیت ہو گی، اس پریس کانفرنس کی آواز مجھے لگتا ہے کہ جس طرح نومئی کے واقعات کا وہ ذکر رہے تھے اور واضح کر رہے تھے کہ نومئی کے ذمہ داران کو سزا ملے گی، ریاست اس واقعے کو نہیں بھولی، اس واقعہ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو استعمال کیا گیا، انکی ذہن سازی کی گئی اور انکو ریاست کے سامنے کھڑا کر دیا گیا،پریس کانفرنس سے واضح ہوا کہ چھوٹے بچوں کو بھی سزا ملے گی، دہشت گرد گروپ چھوٹے بچوں کی ذہن سازی کرتے ہیں اور انکو مرنے کے لئے بھیجتے ہیں یہاں تو سیاسی ادارے نے ایسا کام کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صدق دل سے یہ معافی مانگیں تو پھر دیکھا جا سکتا ہے ، لیکن انکے رویئے سے لگ رہا ہے کہ یہ معافی نہیں مانگیں گے رؤف حسن نے پریس کانفرنس میں پھر الزامات لگائے اور کہا کہ نومئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا، سوشل میڈیا پی ٹی آئی کا اس پریس کانفرنس کے خلاف کھڑا ہو گیا، حماد اظہر نے بھی کہا کہ ادارے اب ہماری پریس کانفرنس سننے کا بھی حوصلہ کریں، اسکے بعد عمران خان کا جیل سے پیغام جاری ہوا کہ مجھے نو مئی کو فوجی دستے نے اسلام آباد سے اغوا کیا ، عمران خان نے گرفتار کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا،تحریک انصاف نومئی کو اون کرنے کو تیار نہیں تو پھر کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے،کیا انہوں نے ویڈیو نہیں دیکھیں جس میں آزادی کے نعرے لگائے جا رہے ہیں، صنم جاوید کہہ رہی ہیں کہ کینٹ جا کر احتجاج کریں، ویڈیو سامنے آئیں آرمی کی گاڑیوں کو روکا گیا، شیشے توڑے گئے،پتھر مارے گئے، جی ایچ کیو کا دروازہ توڑ رہے ہیں کیا وہ ویڈیو جعلی ہیں؟پشاور ریڈیو سٹیشن کی بلڈنگ کو آگے لگانے کی ویڈیو جعلی ہے؟ علی امین گنڈا پور بندوقیں لانے کی بات کر رہے ہیں کیا وہ ویڈیو جعلی ہیں؟ فیصل آباد میں آئی ایس آئی دفاتر کے باہر احتجاج کیا جاتا ہے، تمام ویڈیو ثبوتوں کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ نومئی سے تحریک انصاف کا تعلق نہیں.

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    نو مئی جلاؤ گھیراؤ، پہلا فیصلہ آ گیا، 51 ملزمان کو ملی سزا

    عمران خان سے ملنے اب اڈیالہ نہیں آؤنگا،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

  • ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ سال قبل جب میں نے پہلی بار پروگرام کیا تھا کہ ایڈن نامی سوسائٹی میں کوئی بھی انویسٹ نہ کیجیے گا اسوقت لوگوں نے میرا مذاق اڑایا، اس وقت ایڈن کے مالک زندہ تھے اور انہوں نے مجھے مختلف ذرائع سے رشوت کی پیشکش کی، میں نے نہیں رشوت لی اور پھر میں نے دو تین پروگرام کر دیئے،پھر ایڈن میں جو متاثرین تھے اسکو بھی سامنے لے آیا، اسکے باوجود لوگ یقین کر لیتے ہیں کیونکہ ہمیں عادت ہےہم لاٹری کا ٹکٹ خرید کرسمجھتے ہیں لاٹری نکل آئے گی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب پنجاب میں اس وقت ہزاروں ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں،اور ان میں بہت بڑی تعداد جعلی ہے، آج میں‌بتاؤں کہ جب ایڈن کا مسئلہ ہو گیا تو سارے لوگ روتے میرے پاس آتے تھے کہ آپ فون کر دیں ہمیں پیمنٹ یاپلاٹس مل جائے گا،لوگ پہلے عقل استعمال نہیں کرتے، اب الرحمان ڈیویلپرز ایک اور نام آ رہا ہے میرے پاس،الرحمان ڈیویلپرز بڑا مشہور نام ہے یہ سکیم ہے، انکی جانب سے شہریوں کی جمع پونجی لوٹنے کے مکروہ دھندے کا انکشاف ہے، اربن سٹی کے نام پر شہریوں کو گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے لوٹا جا رہا ہے، اسےجی ٹی روڈ پر بتایا جا رہاہے اور اس طرح فروخت کیا جا رہا ہے، جی ٹی روڈ پر جس مقام پر مین گیٹ بتایا جاتا ہے وہ جگہ ڈسٹرکٹ حکومت نے سیل کر دی ہے، وزیر داخلہ پاکستان محسن نقوی جاتے جاتے اختیارات ایل ڈی اے کو دے گئے تھے، بحرحال الرحمان ڈیویلپرز نے ایل ڈی اے کے افسران سے ملی بھگت کے بعد اس گیٹ کو ڈی سیل کر دیا، اور عدلیہ کے سخت احکامات کے باوجود جنگلات بھی کاٹ دیئے، محکمہ جنگلات کو درخواستیں دی گئیں لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی، ایڈورٹائز منٹ میں دکھایا جا رہا کہ مکڈونلڈ کا گیٹ یہ سامنے ہے یہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ میکڈونلڈ ایک دوسری ہاؤسنگ سوسائٹی کے سامنے ہے،

    https://youtu.be/sUvsJ6dk474

    پنجاب کا وزیر فارغ، بابر ستار پھنس گئے
    مبشر لقمان کامزید کہنا تھا کہ پنجاب کا ایک وزیر کابینہ کا بدلنے والا ہے، اس پر کافی شکایات آ چکی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب ایک آدھ دن میں ایکشن کر لیں گی یا ویلاگ کے بعد کاروائی تھوڑا مؤخر کی جائے، جسٹس بابر ستار نے ایک افی ڈیوٹ دے دیا جس میں کہا کہ بیوی اور بچے فارن نیشنل،امریکن نیشنل ہیں میں خود گرین کارڈ ہولڈر ہوں، گرین کارڈ کیا ہے؟ بابر ستار اگر سمجھتے ہیں کہ وہ باہر کی ریزیڈنسی رکھیں گے اور جج یہاں رہیں گے تو کافی سیریس ایشو ہے، اب کسی کو کچھ ثابت نہیں کرنا،سندھ میں دو ایسی مثالیں ہیں جہاں ججز بن رہے تھےایک کے پاس گرین کارڈ اور ایک کے پاس نیشنلٹی تھی، انکو کہا گیا تھا کہ سرنڈر کریں دونوں نے سرنڈر کیا اور پھر جج بنے،ہائیکورٹ کا جج بننے کے لئے گرین کارڈ ہولڈر نہیں ہو سکتے تو کیسے بابر ستار جج رہ سکتے ہیں، جن لوگوں نے اپنے بیوی بچوں‌کو پاکستان سے باہر سیٹل کر دیا ہے،جو رہتے ہی باہر ہیں وہ یہاں پر کیوں جج بننا چاہتے ہیں، یہان پر کوئی فوجی، اینکر بن کر رہے، پیسے آپ نے یہاں کمانے، ھکومتیں یہاں کرنی اور بچوں کا مستقبل باہر بہتر ہے،ایسے لوگوں کے ساتھ عدلیہ کیا کرے گی؟اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف ایک لیٹر آ گیا ہو ماتحت عدلیہ نے لکھا اور کہا کہ وہ بہت دخل اندازی کرتے ہیں،جن سیشن ججز کو وہ فیور کرتے ہیں انکے نام بھی دے دیئے، اگر ہم بات نہیں مانتے تو مشکلات ہوتی ہیں، دیکھتے ہیں اس پر کیا ایکشن ہوتا ہے،رجسٹرار ہائیکورٹ نے وہ خط ریسیو کر لیا ہے اور اندراج بھی ہو گیا ہے،ان دو ججز پرکیا ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اربن سٹی کا یہاں مسئلہ ختم نہیں ہوتا، ایک رپورٹ آئی ہے ،یہ بلڈنگ انسپکٹر نے شائع کی ہے،اربن سٹی والے وہ زمین جو بیچ رہے ہیں وہ اپروو ہی نہیں، یہ لاہور کے اندر نہیں شیخوپورہ کی ہے، فائنل جب رجسٹری ایل ڈی اے کی ملے گی تو پھر چیخیں نہیں مارنا، ہو گا کچھ نہیں کیونکہ بھائی صاحب ایک ٹی وی چینل کے مالک بھی ہیں،پچھلے کافی عرصے میں ریئل سٹیٹ والوں نے چینل، اخبار لے لئے، جب وہ چینل کے مالکان بن جاتے ہیں تو کس چینل میں ہمت ہے کہ انکے خلاف کوئی پروگرام کرے، کس اینکر میں اتنی ہمت ہے کہ انکے خلاف کوئی پروگرام کرے، میرے پاس پورے ڈاکومنٹ ہیں، اربن سٹی کے لئے میرا فورم حاضر ہے، انکا چینل پبلک نیوز ہے، اب جب الرحمان ڈیولپرز میں پیسے ڈوبیں گے تو پھر گلہ نہ کرنا، سرکاری لوگوں نے کتنی رشوت لی ہو گی؟ پلاٹ بنانے کے لئے درخت کاٹ دیئے گئے،

    الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    شہر یار آفریدی پی ٹی آئی قیادت پر پھٹ پڑے

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    تنویر الیاس کی سینٹورس پر قبضے کی کوشش،گارڈ ز پر حملہ، مقدمہ درج

    عمران خان کی "اکڑ” ختم، مذاکرات کے لئے مان گئے

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشیل پر وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے پولیس وردی پہننے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جب صبح تصویر دیکھی تو وہ سلامی کے چبوترے پر سلامی لے رہی تھیں، پہلے مجھے لگا فینسی ڈریس شو ہو رہا ہے،میں نے سوچا کسی سکول میں چلی گئی ہیں میڈم اور وہاں فینسی ڈریس شو میں ہیں، پھر پیچھے دیکھا تو ڈاکٹر عثمان انور نظر آئے جو آئی جی پنجاب ہیں،وہ بھی یونیفارم میں ہیں، اگر فینسی ڈریس شو ہوتا تو عثمان انور نے ساڑھی پہنی ہوتی، یہ بچگانہ حرکت ہے، اسکی تعریف کریں یا نہ کریں یہ بچگانہ حرکت ہے، ابھی خرم دستگیر ٹی وی پر کہہ رہے تھے کہ اس سے پولیس کا مورال بلند ہو گا، پولیس کو مورال بلند کرنا ہے تو شہید نوجوانوں کی بیواؤں کے پاس جائیں، روز ایک گھنٹہ مختص کر لیں،وہ تو سمجھ میں آتا ہے یہ تو کوئی اندر کی خواہشات ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج مجھے سمجھ میں آ گیا کہ کیپٹن صفدر سے مریم نواز نے شادی کیوں کی تھی، یونیفارم میں دیکھا ہو گا اور یونیفارم پسند ہے تو شادی کی ہو گی، نواز شریف کی تصویر بھی دیکھی ہو گی وہ بھی پولیس یونیفارم میں ہے، آپ وزیراعلیٰ ہیں، چیف ایگزیکٹو ہیں، میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ پولیس وردی میں کیوں آئیں،اس پر سائیکالوجسٹ ہی کوئی بتا سکتا ہے کہ اس طرح کیوں کیا،مریم کے والد آئی جی پنجاب یا ڈی ایس پی تو نہیں تھے والدکے نقش قدم پر چلتے ہوئے تو وزیراعلیٰ بنی ہیں،میں نے دیکھا کہ مریم گاڑی میں کھڑی ہیں سلوٹ لے رہی ہیں اور ہر تین گز کے فاصلے پر بڑا سا پوسٹر لگا ہوا ہے جس پر خوش آمدید مریم نواز، لکھا ہوا ہے،کس قسم کی یہ تقریب ہے پولیس والوں کو بھی اپنی عزت کروانی چاہئے ،یہ جو خود نمائی کا شوق ہے اسکو بچگانہ ہی کہہ سکتا ہوں اور کچھ نہیں کہہ سکتا.

    اداروں کی یونیفارم پہننا خلافِ قانون،محترمہ عملی کام بھی کریں، بیرسٹر سیف

    مریم کی پولیس وردی پر تنقید کرنیوالوں نےبرقعے کی آڑ میں دھندہ چلایا ،عظمیٰ بخاری

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    پولیس وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیٹی تھی مگر مجھے بھی خود کو ثابت کرنا پڑا،مریم نواز

  • ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوئی مانےیا نہ مانے، کسی کو اچھا لگے یا برا، پاکستان میں ضمنی انتخابات کا میلہ لٹ چکا، فتح کا تاج مسلم لیگ ن کے سر ہے، حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا،پنجاب کا شمار سب سے بڑے صوبے کا ہوتا ہے،پنجاب مسلم لیگ ن کا سیاسی قلعہ اور مرکز رہا ہے، 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی جانب سے ن لیگ کے اس قلعے میں شگاف ڈالے گئے لیکن بزدار کے ہاتھ میں دے کر صوبہ پاؤں پر کلہاڑی ماری گئی، وہ روایتی سیاست سے بے خبر تھے،بزدار کی خراب اور فرسودہ کارکردگی تحریک انصاف کی غلطی ثابت ہوئی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ موجودہ ہار کے پیچھے ن لیگ کی کارکردگی اور تحریک انصاف کی نااہلی کا یکساں ہاتھ ہے، جنرل انتخابات کے بعد کسی وزیراعلیٰ کے عملی کام نظر آئیں گے تو وہ صرف مریم نواز کے آئیں گے، ایئر ایمبولینس کاکام کیا تو تنقید کی گئی،رمضان پیکج پر تنقید کی گئی تاہم وہ لاکھوں گھرانوں میں راشن پہنچانے میں کامیاب ہوئیں ، تحریک انصاف کی کارکردگی مایوس رہی، بیانیہ عوامی مسائل نہیں صرف عمران خان کی رہائی ہے،عوامی مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں تو عوام نظر انداز کر دیتی ہے، حقیقت میں تحریک انصاف حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں وہ اپنی سیاست کا بیڑہ غرق کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی بزدار ڈھونڈ لیتی ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک وقت تھا کہ مریم نواز انتخابات لڑنے کے لئے اہل نہیں تھیں،اور اب وہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی صوبے کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن چکی ہیں، وہ شریف خاندان کی چوتھی شخصیت وزیراعلیٰ ہیںَ حالات بتا رہے کہ نواز شریف کی سیاسی میراث کی اصل وارث مریم ہی ہوں گی جس کی انہوں نے قیمت بھی ادا کی ہے والد کے پانامہ کیس میں ہٹائے جانے کے بعد سات سال قبل مریم نے سیاست میں انٹری ماری، حالیہ انتخابات میں مریم نے انتخابی سیاست میں قدم رکھا،اس دوران چیف آرگنائزر بھی بنیں، جیل بھی گئیں،اور انتخابی مہم بھی چلائی،عمران خان نے مینار پاکستان پر جلسہ کیا اور نوجوانوں کو جمع کر کے سب کو حیران کیا، اس اثر کو زائل کرنے کے لئے مریم کو میدان میں لانا پڑا،مریم نے سوشل میڈیا، میڈیا پر توجہ مرکوز کی، مریم نے جارحانہ انداز اپنایا ہوا تھا انکے بارے یہ تاثر ہے کہ انکو مشکل فیصلے کرنے آتے ہیں وہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدہ نہیں رہیں، مریم کے لئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پھولوں کی سیج نہیں انکو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بزدار نہیں، مریم اصول کی بات کرتی ہیں، ڈکٹیشن نہیں لیتی، ضمنی انتخابات کی بات کی جائے توسوشل میڈیا دیکھ کر لگ رہا تھا کہ تحریک انصاف جیت جائے گی تا ہم ن لیگ اور اتحادیوں نے میدان مار لیا،تحریک انصاف اس کو دھاندلی کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے، دس سیٹوں پر صوبائی میں ن لیگ جیتی، پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ کو بدترین شکست ہوئی،پاکستان میں ہر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات سننے کو ملتے ہیں،انٹرنیٹ بندش کے الزامات سامنے آ رہے ہیں کسی بھی جگہ حکومتی وزرا نے جلسوں سے خطاب نہیں کیا ،ترقیاتی منصوبے نہیں چلے، ن لیگ اپنے کارکنان کو نکالنے میں کامیاب رہی تا ہم تحریک انصاف کے ووٹر اس ضمنی الیکشن میں گھر میں‌رہے، سوشل میڈیا پر بھی کوئی خاص مہم نہیں تھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز اپنے منصب کا دفاع کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ضمنی انتخابات کو بڑا معرکہ سمجھا جاتا ہے، موجودہ الیکشن میں خاموشی ضرور رہی ہے لیکن نتائج بیانیے کی تردید کرتے ہیں، ضمنی الیکشن ایک ٹیسٹ کیس تھا جس میں ن لیگ کامیاب ہو گئی،حکومت میں آنے کے بعد ووٹر کو ایک امید کی کرن نظر آئی، جس طرح رمضان میں چیک اینڈ بیلنس رکھا گیا پنجاب میں، وزارت اعلیٰ کا حلف لینے کے بعد مریم نے جس طرح عوامی فلاح کے منصوبوں پر کام شروع کیا، مفت وائی فائی، ہسپتالوں کے دورے، مستحق طلبا کو مالی امداد،اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جانے کے مواقع، سود سے پاک قرضے، ہنرمندتربیت، الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کے منصوبے، یہ سب لوگ سن رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں،

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • رپورٹ آ گئی، لاپتہ افراد کہاں ہیں، کہانی کھل گئی

    رپورٹ آ گئی، لاپتہ افراد کہاں ہیں، کہانی کھل گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کےلاپتہ افرادکے معاملے پر حکومتی اداروں کے ملوث ہونے کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا،یہ معاملہ چار دہائیوں پر محیط ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر کام شروع کیا جا رہا ہے، کمیٹی کی از سر نو تشکیل دے رہے ہیں،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے حوالہ سے پاکستان میں بہت شور مچ رہا ہے،پروپیگنڈہ میں حقیقت گم ہو کر رہ گئی ہے، پاکستان میں لاپتہ افراد میں زیادہ تر وہ ہیں جو اپنے گھر چھوڑ کر عسکری تنظیم میں شامل ہو جاتے ہیں یا تو وہ مارے جاتے ہیں یا پھر گھر والوں سے رابطے منقطع کرلیتے ہیں، کئی وہ لوگ بھی ہیں جو بیرون ملک ہجرت کر جاتے ہیں، لاپتہ افراد یہ عالمی مسئلہ ہے،پاکستان میں لاپتہ افراد کے مقابلے میں امریکہ بھارت جرمنی و دیگر ممالک میں تناسب بہت زیادہ ہے، لاپتہ افراد میں بین الاقوامی کمیشن کی رپورٹ ہے، تنازعات کی وجہ سے مختلف ممالک میں لاپتہ افراد بارے لکھا گیا ہے، 86 ہزار میکسیکو میں لاپتہ ہوئے، عراق میں ڈھائی لاکھ سے دس لاکھ لاپتہ ہیں،ان ممالک کے فیکٹ پر توجہ دی جائے تو پاکستان نے دہشت گردی کا خمیازہ اٹھایا ہے، حکومت پاکستان نے لاپتہ افراد کے خاندانوں کی بحالی کے لئے معاشی پیکج بھی دیا ہے، اموات کے بعد لاشوں کو ٹھکانے والے دو اداروں ایدھی اور چھیپا کے مطابق دو سالوں میں 35 ہزار نامعلوم لاشیں ملی ہیں،اختر مینگل نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان سے 5006 افراد لاپتہ ہیں، بعد میں سامنے آٰیا کہ 685 افراد کی گمشدگی کی تصدیق ہوئی، بلوچستان میں را نوجوانوں‌کو استعمال کرتی ہے، دشمن مہرنگ بلوچ جیسوں‌کو استعمال کر رہی ہے، حالانکہ اسکے والد کی موت پر ریاست نے مدد بھی کی تھی، ریاست کوئی عداوت یا انتقام کا مظاہرہ نہیں کرتی،پاکستان دہشت گردی کی لعنت سے نبردآزما ہے،ایرانی سرزمین پر حملہ دہشت گردوں کو بھر پور جواب تھا،عوام کی مایوسی، غربت کا فائدہ دہشت گرد اٹھاتے ہیں، ایرانی سرزمین پر پاکستا ن نے دہشت گرد مارے تھے جو بی ایل ایف کے تھے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لاپتہ افراد میں سے بہت سے لاپتہ لاپتہ نہیں بلکہ دہشت گرد بن چکے ہیں، معاشی طور پر ملک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • سہیل احمد سے ملاقات اور آفتاب اقبال سےلڑائی کی کہانی

    سہیل احمد سے ملاقات اور آفتاب اقبال سےلڑائی کی کہانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوشش ہو رہی ہےکہ پیپلز پارٹی کو منا لیا جائے کہ وہ حکومت میں شامل ہو،پیپلز پارٹی آتی ہے یا نہیں یہ سوالیہ نشان ہے لیکن محنت شروع ہو چکی ہے، لوگ چاہ رہے ہیں کہ وہ حکومت کا حصہ بنیں کیونکہ اگر پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ بنے گی تو حکومت لانگ ٹرم چلے گی.

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ موٹروے سے میں اسلام آباد آیا، راستے میں طوفانی بارش تھی، ٹھہر ٹھہر کر پہنچنا پڑا، سہیل احمد اور آفتاب اقبال کی لڑائی بارے سوال پر مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ سہیل احمد تو ایک بڑا نام ہیں جتنے وہ قابل ہیں ٹیلنٹڈ ہیں میں نے کبھی سہیل احمد کو غرور کرتے نہیں دیکھا، سالہا سال سے جانتا ہوں، آفتاب اقبال کو بھی جانتا ہوں، آفتاب اقبال بھی انتہائی ٹیلنٹڈ آدمی ہے، جو اس کے ٹیلنٹ کو نہیں مانے گا وہ بیوقوف ہے، آفتاب اقبال نے‌ٹاک شوز،انفورٹینمنٹ میں جو جدت ڈالی وہ اسے قبل نہیں تھی، بہت سے لوگوں نے آفتاب کو کاپی کرنے کی کوشش کی لیکن نہیں کر سکے، آفتاب سے ایک شدیداعتراض مجھے بھی ہے، میں نے جب پوڈ کاسٹ دیکھا تو سہیل احمد کو کال کی اور کہا کہ بہت اچھاکیا ہے، انہوں نےکہا کہ ملیں گے تو بات کریں گے، میری ان سے ملاقات میاں اسلم کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں ہوئی، پچاس لوگوں کے بیچ تو بات نہیں ہو سکتی، تفصیلی بات نہیں ہو سکی، لیکن آفتاب اقبال کی صلاحیتوں کے باوجود میرا اختلاف یہ ہے کہ مذاق اڑانے یا مذاق کرنے میں کبھی فرق نہیں سمجھا، اسکے ارد گرد جو لوگ ہیں ان میں اتنی ہمت نہیں کہ اس کو پوائنٹ آؤٹ کریں، اسکے بھائی جنید کو بھی ہمت نہیں، ایک مثال دیتا ہوں کہ ڈمی میوزیم اس نے بنایا، جیو سے ہر چینل تک،چودھری شجاعت کا شروع کیا تھا پھر ہر ایک کا، میں کہتا ہوں کہ اگر یہ مذاق ہے تو چینل کےمالک کی ڈمی بھی بناؤ، جس چینل پر ہو اس کے مالک کی بنا کر دیکھو پھر ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ ایک مذاق ہے،ایک ڈمی اپنے والد ، بھائی، بچوں کی بناؤ پھر ہم مانیں گے کہ تم مذاق کر رہے ہو، اس طرح تو تم تضحیک کر رہے ہو، مبشر لقمان کی ڈمی بنا دی، نازیباکلمات کہلوا دیے، تمہاری نظر میں مذاق میری نظر میں گری ہوئی چیز ہے، یہ آفتاب کو احساس نہیں رہتا، آفتاب اور سہیل احمد دونوں کی بہت زیادہ پاکستان کے میڈیا میں کنٹریبیوشن ہے، دونوں کی لڑائی زیادہ دیر نہیں رہنی چاہئے،لیکن آفتاب کو اس میں پہل کرنی پڑے گی،اس نے جواب دیا میں نے نہیں دیکھا، لیکن آفتاب کو نہیں کرنا چاہئے تھا، آفتاب اقبال کو خندہ پیشانی سے پیش آنا چاہئے ، اسکا آفتاب اقبال سے بہت تعلق ہے،میں نے تو سہیل اقبال کو فون کیا تھا کہ میں ان سے ایگری کرتا ہوں، میں خود دکھی ہوں میری ذاتی وجہ ہے

    میاں اسلم اقبال کی بیٹی کی شادی میں کیا دیکھا؟ مبشر لقمان نے بتا دیا
    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو امید نہیں تھی کہ میاں اسلم آئیں گے بیٹی کی شادی میں ،مجیب الرحمان شامی، جنید سلیم، سہیل احمد، ایاز امیر،و دیگر لوگ ہم موجود تھے، پی ٹی آئی کے لوگ بھی تھے، میاں عامر بھی وہاں موجود تھے، میاں اسلم سے ہم سب کا ایک تعلق ہے، ہمارے دوستانہ نہیں بلکہ برادرانہ مراسم ہیں، اس نے ہمیشہ احسن طریقے سے اپنی دوستیوں کو نبھایا ، سارے اس بات پر افسوس کر رہے تھے کہ کاش وہ آ جائیں،پھر پتہ چلا کہ میاں اسلم آ گئے، انکو راہداری ضمانت ملی ہوئی تھی، انکی بیٹی کی شادی کی تین چار بار پہلے بھی تاریخ آگے ہوئی، میاں اسلم اقبال جب ملے تو رونا شروع ہو گئے،باپ تو ہر ایک ہے ہم میں سے، ایک باپ تو سمجھتا ہے کہ بیٹی کے رخصتی کے دن ہونا ہے یا نہیں،یا اسکی کیا خواہش ہو سکتی بیٹی کی رخصتی کے موقع پر، میں وہان‌پر جب نکل کر آیا تو اگلے دن مجھے پتہ چلا کہ وہاں پولیس نے چھاپہ مارا، یہ بہت ہی چھوٹی حرکت کی پنجاب پولیس نے، لاہورمیں روز شادیاں ہوتی ہیں پنجاب پولیس کیا ہر ایک کو اجازت دیتی ہے؟ میں نے مجیب الرحمان شامی کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مریم نواز وہاں چلی جاتیں،تو فاصلے قربتوں میں تبدیل ہو جاتے، ہم معاشرے میں عزت کرنا بھول چکے ہیں ،اللہ تعالیٰ میاں اسلم اقبال کی بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھے جس مشکل میں اسکی رخصتی ہوئی پتی نہیں اسکے دل پر کیا گزر رہی ہو گی، انکے لئےبہت دعائیں ہیں.

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عید سے قبل میں نے آپکو بتایا تھا کہ میرا ایک حادثہ ہوا ہے،جس میں بچہ میری گاڑی کو آ کر لگا تھا پھر اسکو میں خود اپنی کار اور پھر ایمبولینس میں لے کر ہسپتال گیا تھا،پہلے ایک اور دوسرے ہسپتال گیا تھا لوگوں نے سوال کئے کہ ڈی ایچ اے میں ہی کیوں نہیں علاج کروایا تو اسکا جواب یہ ہے کہ جب حادثہ ہوتا ہے تو اسکی میڈیکو لیگل رپورٹ بنتی ہے جو سرکاری ہسپتال بنتی ہے،ڈی ایچ اے سے ایل جی ایچ تک آنے کے لئے مجھے 50 یا 55 منٹ لگے تھے اور ایمبولینس کو فالو کر رہا تھا ایمبولینس کا سائرن بج رہا تھا یہ نہیں لوگ ہٹ نہیں رہے تھے لیکن ٹریفک بہت زیادہ تھی اس دن میں سوچ رہا تھا کہ ہم انڈر پاسز، پلوں پر پیسے لگا رہے، صحت پر لگانے چاہیے، ایئر ایمبولینس ہوتی تو میں پیسے دے کو بچے کو لے کر چلا جاتا، مجھے کوئی خوف تو نہ ہوتا، مجھے ڈر لگا ہوا تھا کہ کہیں انٹرنل بلیڈنگ نہ ہو رہی ہو، جب ڈاکٹر نے کہا کہ نارمل فریکچر ہے اور کوئی زخم نہیں ہے تو میں نے نوافل پڑھے، اس دن سے میں ریسرچ کر رہا تھا، اب بچہ ڈسچارج ہو گیا ہے لیکن ہماری ریسرچ چل رہی ہے،

    مبشر لقمان کا مزیدکہنا تھا کہ ہر روز وزیراعلیٰ پنجاب کی خبر نظروں کے سامنے آ جاتی ہے کبھی تندور پر پہنچ جاتی ہیں، کبھی کسی مظلوم کے گھر ،کبھی کسی پولیس سٹیشن،مریم کی اتنی موومنٹ ہے عملی طور پر بھی کوئی قدم اٹھایا جا رہا یا نہیں، میں یہ سوچ رہا تھا، ن لیگ نے وزیراعلیٰ بنانا تھا اچھا کیا، میری ذاتی رائے میں جن لوگوں نے عثمان بزدارکو سہہ لیا، ان لوگوں کو بالکل توفیق ہمت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ دنیا میں کسی اور وزیراعلیٰ ،پرنسپل سیکرٹری کے اوپر بات کریں کیونکہ وہی ضمیر کے سوئے ہونے کی کافی گواہی دے رہے ہیں، بحرحال ،مریم نواز کی طرف سے ایک ایئر ایمبولینس کی ویڈیو میرے سامنے آئی، میرا اس میں انٹرسٹ ہے، مجھے ایوی ایشن انڈسٹری سے عشق ہے میں پائلٹ بھی ہوں جہاز اڑاتا بھی ہوں، ایک سے زائد قسم کے اڑائے ہیں، بلکہ میں نے تو جہاز رکھا ہوا بھی ہے مجھے اس بات کا بھی اعزاز حاصل ہے، سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا، یہ موڑ ستر سال سے ختم نہیں ہو رہا اسکے پیچھے وہ رویہ ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ اچھا کام ہم لوگ کریں اسکے علاوہ کوئی کرے تو ہم اتنی برائیاں کریں کہ اسکی اچھائی کو بھی برائی میں تبدیل کر دیں، میٹر و شہباز شریف نے بنائی، اسکو جنگلہ بس کہا گیا پھر کے پی کے میں بننا شروع ہو گئی، اللہ معاف کر دے، میں نے لوگوں سے معافی مانگ لی ہے، وہاں جو میٹرو تھی اور یہاں کی اسکی قیمت،کوالٹی،ٹائم لائن کا کوئی مقابلہ نہیں تھا ، ہماری عادت ہے کہ اچھے کام میں کیڑے نکالنے ہیں، کھوکھلے نعروں سے لوگوں کو پاگل بنایا جا تا رہا اب حالات یہ ہیں کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں، ہمیں اچھا کام کرنے والوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرنی پڑے گی خواہ وہ کسی جماعت سے ہوں، تا کہ انکو حوصلہ ہو اور مزید اچھا کام کریں ،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ایئر ایمبولینس کو دیکھا، مریض کو لیٹے دیکھا تو تشویش ہوئی ، پتہ چلا کہ یہ ایئر ایمبولنس ہے ایک فلائٹ چیک کرنے کے لئےکی، ڈاکٹر رضوان نصیر کی تصویر دیکھی میں انکو اچھی طرح جانتا ہوںَ،رضوان نصیر کو دیکھ کر جب میں نے ایئر ایمبولینس بارے پڑھا تو بہت دلچسپی ہوئی، انہوں نے ریسکیو 1122 کے لئے بہت کام کیا، پرویز الہیٰ کے زمانے میں یہ شروع ہوئی تھی، بڑی محنت سے ریسکیو والے کام کر رہے تھے، پھر پچھلے دور حکومت میں توریسکیو 1122 والوں کا کباڑہ ہو گیا،انکوپیسے نہیں ملتے تھے اب پھر اسی ٹیم کو دوبارہ سے اٹھایا گیا ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ لوگ کب لگائے گئے تھے بلکہ انہی سے کام لیا جا رہا ہے، ایک ٹیکنیکل ایڈوائز ایئر ایمبولینس بارے ضرور دوں گا، مریم نواز پہلی پنجاب کی خاتون وزیراعلیٰ کا اعزاز، یہ منفرد کاموں سے یاد رہے گا ، ایئر ایمبولینس منفرد کام ہے، مریم نے مشکل وقت میں پارٹی کو سنبھالا، ہر آدمی اس کی تعریف کیے بنا نہیں رہ سکتا، پچھلے الیکشن میں کراؤڈ پلر یا تو نواز شریف ہیں یا پھر مریم نواز، کیا مشکل وقت میں صوبے کو سنبھال لیں گی؟ عمران خان نے بطور وزیراعظم پارٹی کے بیانیے پر نظر رکھی اور ملک کو تباہ کیا، کیا مریم صوبے کو تاریخی ترقی کا تحفہ دینے میں کامیاب ہوں گی، یہ سوال ہے، مریم نے وزارت اعلیٰ کے منصب سنبھالا تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ مریم کے لئے اعزاز کی بات تھی کہ ایک خاتون وزیراعلیٰ کو چنا گیا، مریم منفرد کام کر رہی ہیں، ایک ایسی وزیراعلیٰ ہیں جو بزدار کی طرح کٹھ پتلی نہیں بلکہ خود مختار ہیں، جو سوچا ہے اس پر عمل کرنا ہے، صحت کا شعبہ انتہائی اہم ہے، سب سے بڑے صوبے میں ایئر ایمبولینس سروس کاآغاز انتہائی اچھا قدم ہے لیکن افسوس انتشا ر پسند عناصر اس پر بھی سیاست کرنی ہے،خواہ مخواہ اس پر تنقید کی جا رہی ہے، پاکستان میں ٹریفک کا نظام تو اتنا مؤثر نہیں آئے روز سنتے ہیں کہ مریض ٹریفک جام کی وجہ سے وفات پا گیا، یہ ایئر ایمبولینس ایک شخص، ایک فرد کی جان بچا لے تو یہ انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے اب ایک جہاز پھر دو ہوں گے، ہر ضلع کے لئے الگ ہو گا پھر مریض کو ٹریفک مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا،مریض کو جلد از جلد ایمرجنسی امداد کو یقینی بنایا جائے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں بہاولپور، ڈی جی خان، اٹک یا دیگر شہروں کے جو ہسپتال ہیں،جب تک انکو ٹھیک کریں گے تو پتہ نہیں کتنے ارب روپے چاہئے، جب تک ڈی ایچ کیوز،ٹی ایچ کیوز صحیح نہیں ہوتے تولوڈ لاہور پر آئے گا ،یا تو اتنے ڈالر پاکستان آ جائیں کہ سب ہسپتال صحیح ہو جائیں،ایئر ایمبولینس ایک فرق ہو گا جو پیارے کو گھر والوں کو ساتھ رہنے دے سکتا ہے، ان سے پوچھیں جن کو امید ہے کہ اگر ضرورت پڑ جائے تو انکےلئے یہ سہولت موجود ہے، ایک ایڈوائز ضرور کروں گا جو جہاز لے رہے ہیں ، سنگل انجن جہاز سستا مل جائے گا ، وہ فٹبال گراؤنڈ سے بھی ٹیک آف کر سکے گا، وہ ہاکی گراؤنڈ میں بھی لینڈ کر سکتا ہے، اسکی قیمت آدھی ہو جائےگی، کیونکہ سنگل انجن ہے، میں ایئر ایمبولینس سے بہت متاثر ہوا ہوں، اس سے نہ صرف جانیں بچیں گی بلکہ لوگوں کو روزگار بھی ملے گا، ایک جان بھی بچ جاتی ہے تو اللہ اجر دے گا،

    شہر یار آفریدی پی ٹی آئی قیادت پر پھٹ پڑے

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

  • مولانا فضل الرحمان تپ گئے  نواز شریف کے خلاف پلان؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    مولانا فضل الرحمان تپ گئے نواز شریف کے خلاف پلان؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نواز شریف پر تپے ہوئے ہیں اور وہ تحریک چلائیں گے،

    نجی ٹی وی جی ٹی وی پر اینکر غریدہ فاروقی نے سوال کیا کہ چھ ججز کا معاملہ، کیا تحریک انصاف کے مطالبے پر فل کورٹ بنا دینا چاہئے یا کمیشن سنے، سوال کے جواب میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں آپکو بتاؤں یہ معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل میں لکھا ہے کہ جس کی کوئی لیگل حیثیت نہیں، پنڈورا باکس کھولا ہے میڈیا میں ساری چیزیں اچھالنے کا،جہاں تک اپوزیشن کی بات ہے دھماچوکڑی ہو گی، مولانا فضل الرحمان بہت سیریس اور تپے ہوئے ہیں،وہ کسی قسم کے کمپرومائز کے حق میں نہیں، وہ نواز شریف اور پھر اسٹیبلشمنٹ پر تپے ہوئے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف نے انکے مقابلے میں امیدوار کھڑے کئے تھے، حالانکہ پی ڈی ایم کے چیئرمین وہ تھے،انکا رائیٹ تھا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ حکومت جب تک خود نہ جانا چاہے نہیں جا سکتی، ان ہاؤس تبدیلی ہو نہیں سکتی، عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں ریلیف ملا، ثابت ہوتا ہے کہ ان کے وکیل نالائق تھے، یہی چارجز تھے کہ مجھےیعنی مبشر لقمان کو دو سال سزا ملی تھی،ان کے وکیل نے نہ ضمانت مانگی بلکہ کیس کو فالو ہی نہیں کیا، اس کیس کا اڑ جانا کوئی بڑی بات نہیں،

    سگریٹ جلانے کے لئے ماچس نہ دینے پر 21 سالہ نوجوان قتل

    ٹاٹا موٹرز کی کینٹین میں سموسوں سے کنڈوم،تمباکو،پتھرنکل آئے،مقدمہ درج

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

  • خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی ویڈیو میں جن چیزوں پر بات ہو گی وہ کافی حساس اور منفرد ہیں، عام روٹین میں اس پر بات نہیں کرتے تا ہم اس طرح خاموشی سے نہیں بیٹھا جا سکتا کسی نہ کسی کو بات کرنی ہو گی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک ویڈیو میں نے دیکھی جو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے، بزرگ ایک آدمی کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں، اس آدمی کے ہاتھ میں موبائل ہے کچھ دیر بعد وہ شخص دعویٰ کرتا ہے کہ اس بزرگ کے صرف ہاتھ تھامنے سے اسکا موبائل فون چارج ہو گیا ہے،یہ اپنی نوعیت کی پہلی ویڈیو نہیں ، پنڈی کے مضافات سے ایک بزرگ حق خطیب کے نام سے ہیں، انکی بھی اس طرح کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ہیں،ان سب پر آج بات کروں‌گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس بزرگ کی بات کرتے ہیں جو ہاتھ سے موبائل چارج کرتے ہیں، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مولانا الیاس قادری صاحب ایک بندے کا موبائل ہاتھ میںتھامتے ہیں دس سے 15 منٹ یہ ہاتھ میں رہتا ہے اور جنوری سے مارچ تک موبائل چارج کرنے کی نوبت نہیں آئی بلکہ موبائل خود چارج رہتا ہے،کیا سائنسی طور پر اس کو تسلیم کیا جا سکتا ہے کیا موبائل بننے والی کمپنیاں، اربوں لگا کر پلانٹ بنانے والی وہ اس بات کو تسلیم کریں گی، بابا جی کے ہاتھ میں کونسی لیز ہیں کہ دنیا کو پتہ نہیں چلتا، جو موبائل فون بنا رہے ہیں انکو بھی نہیں پتہ، جو موبائل بنا رہے ہیں وہ بابا جی کی خدمات کیوں نہیں لیتے ، تا کہ موبائل چارج نہ کرنا پڑے، لوگوں کا بڑا مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا، اگر واقعی انمیں طاقت ہے تو پاکستان کی بجلی کا مسئلہ حل کر دیں ، پاکستان کے گردشی قرضے میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے، اگر بابا جی کچھ دن اپنی ٹیکنالوجی ادھاد دے دیں تو پاکستان کے مسئلے حل ہو جائیں گے، بجلی گیس کا مسئلہ حل ہو جائے گا،پٹرول ڈیزل سے پلانٹ چلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، لائن لاسزکے نقصان سے بھی بچ سکیں گے، ایران سے جو ترلے کر رہے ہیں، اس سے بھی بچ جائیں گے، پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ فی الوقت اس شخص سے رابطہ کیا جائے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بابا جی نے ایک اور ریسرچ کی ہے کہ اگر آپ ٹی وی دیکھتے ہیں تو جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں،دماغ کے خلیے کمزور ہو جاتے ہیں، ٹی وی کی شعاعیں دماغ کو کمزور کرتی ہیں، یاد پڑتا ہے ٹی وی کو شیطانی ڈبہ کہا جاتا تھا،لاؤڈ سپیکر پر پابندی تھی، پوری مہم ٹیکنالوجی کے خلاف چلتی تھی، اس کے باوجود بابا جی کا اپنا ٹی وی چینل ہے اس پرتقریریں کرتے ہیں، انکااپنا یوٹیوب چینل ہے کیا اس سے وہ شعاعیں نہیں نکلتیں جس سے دماغ کو نقصان پہنچتا ہے

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    مذہبی، مسلکی، لسانی منافرت پھیلانے والے 462 سوشل میڈیا اکاونٹس بند

    غریدہ فاروقی کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم، حکومت کا نوٹس

    عدالت کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے فحش مواد ہٹانے کا حکم

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

  • مبشر لقمان کی گاڑی کے نیچے بچہ آ گیا، ہسپتال میں باپ آیا تو کیا ہوا؟

    مبشر لقمان کی گاڑی کے نیچے بچہ آ گیا، ہسپتال میں باپ آیا تو کیا ہوا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہاہے کہ کل میرا ایک ایکسیڈینٹ ہو گیا،میں ریکارڈنگ سے جا رہا تھا اسوقت ہوا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل میں جب یہاں سے نکلا، افطاری کا وقت تھا ، گیٹ سے تقریبا سو گز دور تھا تو سیدھی طرف گھر کے باہر افطاری کا انتظام کیا ہوا تھا، بیس پچیس لوگ سڑک پر ہی بیٹھے ہوئے تھے ایک بچہ بھاگتا ہوا آیا، شکر ہے میری سپیڈ نہیں تھی، وہ آ کر گاڑی کولگا اور گر گیا، میں نے فوری گاڑی روکی، اور دیکھا اسکی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی، وہ درد میں تھا، تقریبا اسکی دس سال عمر تھی، اسکو گاڑی میں بٹھایا اور ڈی ایچ اے فیز سکس کے ہسپتال میں لے گیا، میں نے پھر پیچھے لڑکا بھجوایا کہ اس کا کوئی جاننے والا ہو، وہ ہمیں ملا اور پتہ چلا کہ والد اور والدہ دونوں جاب کرتے ہیں، والد گجومتہ میں درزی کا کام کرتے ہیں، دونوں کو اطلاع کروائی، ڈاکٹر نے بچے کو فرسٹ ایڈ دی، جب میں ہسپتال میں تھا بچہ رو رہا تھا، اسے درد تھی ، اسکا وہاں نہ ماں ہے نہ باپ، وہ آدمی کھڑا ہے اسکے سامنے جس کی گاڑی سے لگا ، میں نے کہا بیٹا حوصلہ کریں، وہ مجھے کہتا ہے کہ سر جی فکرنہ کریں مجھے کوئی تکلیف نہیں،میں بہت متاثر ہوا کہ ماں نے کیسا بیٹا پیدا کیا جو اتنا دلیر ہے، اسکے بعد ڈی ایچ اے میڈیکل کمپلیکس کاڈاکٹر ،سٹاف بھاگ بھاگ کر بچے کو طبی امداد دے رہے تھے کہ انجکشن لانا ہے،یہ کرنا وہ کرنا، ہمیں انکو بتانے کی ضرورت نہیں پڑ رہی تھی، رات کو میں یہ سوچ رہا تھا کہ کتنی اچھائیاں بھی ہوئی ہیں، ڈاکٹر نے کہا کہ اسکو جنرل ہسپتال لے کر جانا پڑے گا،اسکو آرتھوپیڈک مسئلہ ہو گیا ہے، یہ سیریس مسئلہ ہو سکتا ہے، ہم نے ایمبولینس کروائی اور جنرل ہسپتال بچے کو لے کر آئے، اتنی دیر میں بچے کے والد بھی پہنچ گئے، جنرل ہسپتال جب میں آیا تو جو عام تاثر ہوتا ہے کہ سرکاری ہسپتال میں خوار ہونا پڑے گا،راستے میں میں نے پروڈیوسر کو کالز کیں کہ پتہ کریں وہاں کون ہے،میں ہسپتال پہنچا تو وہاں کافی ینگ ڈاکٹر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نےفوری کیس کو اٹینڈ کیا، ایک لمحے کو میرا خیال تھا کہ مجھے دیکھ کر یہ کر رہے ہیں لیکن اسی اثنا میں پانچ چھ مریض آئے میں دیکھ رہا ہوں، ایک بس سے گر گیا،ایک سائیکل والے کو گاڑی مار کر بھاگ گئی، موٹر سائیکل والے کو گاڑی والے نے مارا، میڈیکل سٹاف ہر ایک کو اٹینڈ کر رہا تھا،میں یہ سوچ رہا تھا کہ ہم پاکستان کی اتنی برائیاں کرتے ہیں،یہاں پر انکو کوئی نہیں دیکھ رہا، مریضوں کا کوئی والی وارث موقع پر نہیں لیکن وہ بھاگ بھاگ کر مریضوں کو دیکھ رہے ہیں،ا نہوں نے بتایا کہ بچے کو فریکچر ہوا ہے لیکن کوئی مسئلہ نہیں ، بچے کے والد بھی آ گئے میں سوچ رہا تھا وہ غصے ہوں گے،وہ آتے ہی بیٹے کو ملا،پیار کیا، حال پوچھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے بڑی مہربانی ،حادثہ تو ہو سکتا ہے ، آپ میرے بچے کو ہسپتال لے کر آ گئے، میں نے کہا یہ تو میں نے کرنا تھا، سب کچھ ہو گیا، رات کو دس بجے میں وہاں سے فارغ ہوا،ہسپتال والوں نے کہا کہ صبح دیکھتے ہیں کہ آپریٹ تو نہیں کرنا اسکا، میں واپس آیا ابھی بیٹھا ہی ہوں،میں سب کا رویہ دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھاکہ یہ کتنے پازیٹو لوگ ہیں پھر بھی ہم ہر بار برائیاں کرتے ہیں، مجھے بچے کے والد کا فون آیا کہ پولیس آ گئی ہے اور وہ تنگ کر رہی ہے کہ میڈیکو لیگل کرنا ہے اور اسکی رپورٹ ہونی ہے، اس وقت میں دوستوں کو بتا چکا تھا جن کو ملنا تھا کہ نہیں مل سکتا، میں نے گھر بھی بتا دیا تھا، دو تین دوستوں نے کہا کہ پولیس پیسے بنانا چاہ رہی ہے یا اسکا باپ ایسا کر رہا ہے، میں نے کہا میں آتا ہوں میں دوبارہ جنرل ہسپتال گیا، ہم ڈپٹی میڈیکل سپریڈنٹ کے کمرے میں بیٹھے ہیں، پولیس والوں نے کہا سوری سر، آپ مائینڈ نہ کریں حادثہ ہوا، اسکی رپورٹ ہو گی، میں نے کہا بالکل کریں ،آپ کا فرض ہے،انہوں نے اس کے والد کے آگے فون رکھے تو والد نے کہاکہ میں نے رپورٹ نہیں کرنی، ایک حادثہ ہوا ہے،لیکن یہ صاحب جن کو میں نہیں جانتا،یہ میرے بچے کے ساتھ آئے کھڑے بھی رہے، جان بوجھ کر نہیں ہوا، یہ حادثہ ہی ہوا، انہوں نے کہا سائن کر دیں، بچے کے والدنے بھی انگوٹھا لگا دیا، والدہ نے بھی کہا کہ ہم نے بھی کرنا، پولیس والے نے کہا کہ یہ کوئی نہ سمجھے کہ عید ہے ہم عیدی پوری کر رہے ہیں یہ ہماری ڈیوٹی ہے، میری ایم ایس سے بات ہوئی انہوں نےکہا کہ ہم مریض کو سہولیات دے رہے ہیں لیکن قانونی طریقہ اپنانا ہو گا، آج صبح مجھے پتہ چلا کہ بچہ ٹھیک ہے، ان چیزوں کی ضرورت نہیں پڑی جو ہم سوچ رہے تھے، پوری رات میں اس وجہ سے سو نہیں سکا، مجھے بار بار اس بچے کا خیال آ رہا تھا،

    مبشر لقمان کا مزید کہناتھا کہ اس سارے حادثے کو میں صبح سوچ رہا تھا، حادثہ ہوا، اور مختلف لوگوں سے واسطہ پڑا، سب لوگوں نے انتہائی پازیٹو رسپانس دیا، کسی نے پیسے بنانے کی کوشش نہیں کی،کسی نے فرائض سے غفلت نہیں برتا، میں یہ سوچ رہا تھا کہ ہم اکثر ٹی وی پر کہتے ہیں کہ پاکستانی قوم بیکار ہے، سبزی گوشت والا چوری کر رہا ہے، میڈیں، ڈرائیور ڈنڈی مار رہے ہیں، کل مجھے احساس ہوا کہ ہم غلط ہیں، پاکستان میں اچھے لوگ بھی ہیں،اللہ بچے کو شفا یاب کرے اور اسکے والدین کو سکھ دکھائے،اس پورے واقعہ نے میرا ذہن بدل دیا، کل تک ہم سوچتے تھے کہ ہر آدمی پاکستان میں دہاڑی لگانے کی کوشش میں ہے تو کل 11 لوگوں نے مجھے غلط ثابت کیا، اب عید سے ایک دن پہلے میں کہہ سکتا ہوں پاکستان زندہ باد.

    اچھرہ میں خاتون کو بچانے والی اے ایس پی شہربانو نقوی کی آرمی چیف سے ملاقات

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    پسند کی شادی، عدالت نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے