Baaghi TV

Tag: مبشر لقمان

  • سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خبریں بڑی آ رہی ہیں، کچھ یہاں ہیں کچھ امریکہ کی ہے،کیلیفورنیا آگ بارے بھی عجیب چیز پتہ چلی ہے،کسی اگلے وی لاگ میں بتاؤں گا کہ آگ کے حوالے سے کیا کیا ہو رہا

    مبشر لقمان آفییشل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سیف علی خان کیس میں چیزیں سامنے نہیں آ رہیں، کرینہ کپور کے خاوند سیف پر کسی نے گھر آ کر چھری کے وار کر کے زخمی کر دیا اور وہ ممبئی کے ہسپتال میں ہیں، ڈاکٹر نے کہا کہ سیف علی خان کی کمر میں اگر دو ملی میٹر اور آگے چاقو لگ جاتا تو وہ مفلوج ہو جاتے، اللہ تعالیٰ ان کو صحت دے،لیکن یہ اوپن شٹ کیس نہیں ہے، انجری کا بھی اور ڈکیتی کا بھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے جب پہلے ویڈیو کی تو مجھے انڈیا سے جاننے والوں کے بڑے میسج آئے کہ یہ کیا کہا، ملزم تو پکڑا گیا، میں نے کہا اگر اقبال جرم کر لے تو دوبارہ کنفرم کر دینا، اب تین دن بعد پتہ چل رہا کہ جو پکڑا تھا وہ ملزم نہیں تھا، انڈین میڈیا ایک بندے کی تصویر دکھا رہا اس نے مفلر لپیٹا ہوا منہ پر،ننگے پیر سیڑھیاں چڑھ رہا تا کہ آواز نہ آئے اور وہ جب واپس اتر رہا ہے تو اس کا مفلر اتر رہا ہے، جوتے پہنے ہوئے بیگ بھی پہنا ہوا، سمجھ میں یہ آتا ہے کہ وہ جلدی میں منہ پر مفلر لگانا بھول گیا، جوتے اسکے بیگ میں ہوں گے وہ اس نے بھاگتے وقت پہن لئے، ممبئی پولیس کی تعریف کرتے رہتے ہیں ، کہ کیس حل کر لے گی، ایک آدمی جس کی تصویر بھی نظر آ گئی اس کا ڈیٹا بیس میں نام پتہ سامنے آنا چاہئے،اور وہ اسکو ڈھونڈ لیں گے لیکن ابھی تک پولیس کا یہ حال ہے وہ ملزم کا نام نہیں معلوم کر سکی،جو تصویر سامنے آ رہی وہ بھی کنفرم نہیں کہ آیا وہی ہے یا کوئی اور، اب یہ پتہ چلا ہے کہ بلڈنگ کی سیکورٹی بہت کمزور،ناکارہ ہے، گارڈ روم تک انٹرکام تک نہیں ہے، کہ اوپر سے پوچھ لیں کہ کوئی ملنے آیا ہے،وہ بھی نہیں ہے،باقی سیکورٹی کا اندازہ لگا لیں کیا ہو گا، وہ آدمی بلڈنگ کی پچھلی طرف سے آیا تو وہ تاریں کاٹ کر اوپر آیا،اندر گیا، باتھ روم میں چھپا ہوا تھا بچے کے باتھ روم میں ، اسکے بعد نرس نے اس کو دیکھا اور سو گئی، نرس پھر اٹھی تو اسکو سایہ نظر آیا وہ پوچھتی کہ کون ہو، تو وہ کہتا کہ چپ رہو، نرس شور مچاتی ہے تو وہ اس پر حملہ کرتا ہے یہ لمبی کہانی ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک چینل پر ایف آئی آر دکھا رہے تھے، مجھے ہندی نہیں پڑنی آتی لیکن میں نے سنا کہ جس وقت یہ ہوا اس وقت کرینہ اور سیف اس وقت گھر کے اندر موجود تھے، تیمور بھی گھر کے اندر موجود تھا اور دیگر نوکر بھی،باقی میڈیا کہتا ہے کہ کرینہ بہنوں، دوستوں کے ساتھ تھی اور پارٹی کر رہی تھی،تھوڑی دیر کے بعد انکی فوٹیج آتی ہے کرینہ کی، وہ لگتا نہیں ہے کہ وہ پارٹی سے آ رہی ہیں، ایسے لگتا ہے کہ سونے کے کپڑے جو انسان نے پہنے ہوتے وہ پہنے ہوئے، گھر میں‌5 گاڑیاں کھڑی تھیں لیکن سیف کو رکشے پر منتقل کیا گیا، الیکٹرک کار ڈرائیو کرنے کا بیٹے کو پتہ نہیں تھا،22 سال کا لڑکا ہو کر گھر کی گاڑی نہیں چلا سکتا، ایسا کیوں ہوا، سیف علی کے لئے رکشے کو روکا گیا اس کا بھی انٹرویو بھی آ گیا،سیف علی کا چھ سالہ بیٹا تیمور اپنے باپ کو ہسپتال لےکر گیا، کمال نہیں ہے،کہ ملزم گیا تو سب سو رہے تھے، ہاتھا پائی ہوئی،گالم گلوچ ہوا، چھریوں سے نرس کو زخمی کیا سب سو رہے تھے، دوسری میڈ پر حملہ ہوا، پھر سیف علی سے کروڑ روپیہ ڈیمانڈ کیا، سارے سو رہے تھے، پھر اس نے سیف پر حملہ کیا اور سات گھاؤ لگا دیئے،چھری مڑ کر ٹوٹ بھی گئی اور یہ سارے سو رہے تھے، سیف کو خون میں لت پت، چھ سالہ بچے نیچے لے کر آتا ہے، گھر میں 5 گاڑیاں، ڈرائیور کوئی نہیں، گھر میں چوکیدار ہیں، نوکرانیاں ہیں لیکن کسی نے سیف کو سہارا دے کر آٹو میں نہیں بٹھایا، رکشے والے نے کہا کہ یہ تھا اور اس کے ساتھ بچہ تھا، جب ہسپتال پہنچا تو اس وقت اس نے کہا کہ میں سیف علی خان ہوں،ڈاکٹر نے بھی یہی رپورٹ کیا کہ چھوٹا بیٹا تیمور باپ کو لے کر آیا،یہ کون لوگ ہیں کہ کوئی گھر والا نہیں آ رہا، بڑا بیٹا، نوکر،ملازمائیں نہیں آ رہیں،گارڈز نہیں آ رہے،کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں آیا،اگلے دن کی فوٹیج آتی ہے کہ کرینہ ہسپتال گئیں اور وہ پوری طرح تیار ہو کر گئیں جیسے کوئی شو ہو،پھر کچھ اور لوگ آتے اور وہ چند چند منٹ رکتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، بیوی کو وہیں کھڑے ہونا چاہئے تھا بہن کو بھی لیکن کوئی نہ رکا.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میڈ کے نام سے ایف آئی آر ہے،اور اب اسی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، پولیس نے دس اور سی بی آئی نے بھی دس ٹیمیں تشکیل دی ہیں،یعنی 20 تحقیقاتی ٹیمیں ملزم کو ڈھونڈ رہی لیکن وہ ان کو نہیں مل رہا، وہ کہ رہے کہ اس نے کپڑے اور رکھے ہوئے تھے اور بدلی کر لئے،…رکیں…سمجھ آ رہی آپ کو کچھ…سو کروڑ کا سیف نے یہ اپارٹمنٹ لیا، سو کروڑ کا مطلب پاکستانی تین سو کروڑ ہو گیا……نئی بلڈنگ ہے، سیکورٹی نہیں ہے، گارڈز کو ہوش نہیں ہے،نئی بلڈنگ میں کوئی آمدورفت کا چیک نہیں ہے، نئی بلڈنگ میں یہ ہی انکو پتہ نہیں چل رہا کہ اندر کیسے گیا اور باہر کیسے آیا،ملزم نے اگر کچھ لینا ہوتا تو بچے تک پہنچ گیا ہوتا تو اسکو یرغمال بنا لیتا لیکن اس نے نہیں کیا،وہ نکلتا ہے تو دروازے سے، دروازہ بھی کھل گیا، کیا اندر کا لاک ہے صرف؟ سیف کا گھر ہے دو تالے نہیں ہیں جس پر اس کے فنگر پرنٹ آئے ہوں، کوئی فرانزک ثبوت، کوئی تو چیز اس نے وہاں چھوڑی ہو گی، اتنا تو پکا نہیں ہو سکتا کہ کچھ نہ چھوڑے،

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے القادر ٹرسٹ کے فیصلے کے حوالے سے نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے غلط خبروں پر ردعمل ظاہر کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اور اینکر پرسن منصور علی خان ایئرپورٹ پر موجود تھے جب انہیں پہلی بار "القادر ٹرسٹ کیس” کے حوالے سے خبر ملی ،بریکنگ نیوز دی گئی کہ عمران خان کو اس کیس میں رہا کر دیا گیا ہے۔ ہم دونوں پرواز میں سوار ہوئے اور جب اترے تو ہم نے یہ سنا کہ تین چینلز نے سب سے پہلے "عمران خان کی رہائی” کی خبر بریک کی تھی۔ تاہم، بعد میں یہ چینلز اپنی خبریں تبدیل کر گئے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212338932084749

    مبشر لقمان نے اس واقعے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت تعجب کی بات ہے کہ تین چینلز اتنی بڑی خبر کیسے بغیر کسی مستند ذریعہ کے نشر کر سکتے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے کوئی گہری سازش یا وجہ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ تین چینلز یکساں طور پر ایسی خبر نشر کریں، جب تک کہ انہیں یہ کہانی ایک ہی ذریعے سے نہ دی گئی ہو۔ ان چینلز کی اس غیر ذمہ دارانہ صحافتی عمل کے پیچھے ایک اور بڑا سوال ہے کہ آیا ان کے پاس اس خبر کی تصدیق کرنے کا کوئی مناسب ذریعہ تھا یا نہیں؟ جب محسن نقوی کے چینل پر ایسی خبر نشر کی جاتی ہے، تو یہ بات زیادہ اہمیت اختیار کرتی ہے کیونکہ محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں اور ان کے چینل کو دیگر چینلز کی نسبت زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212983726362969

    مبشر لقمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ان تمام چینلز پر یہ الزام عائد کیا جائے گا کہ وہ اس خبر کے حوالے سے عدالت کے رپورٹر کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، لیکن اس نوعیت کے جھوٹے یا مسخ شدہ خبریں دینے سے صحافتی معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عدالت نے آج فیصلہ سنا یا ہے اور عمران خان کو 14 برس، بشریٰ بی بی کو سات برس قید کی سزا سنائی ہے، بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا گیا ہے،فیصلہ آنے کے بعد اے آر وائی نے سب سے پہلے عمران خان کی رہائی کی خبر چلا دی، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شمع جونیجوکہتی ہیں کہ پاکستانی الیکٹرونک میڈیا تاریخ کی سب سے بڑی فیک نیوز! آج ARY نے عمران خان کے بری ہونے کی جعلی خبر کیوں چلائی ،تاکہ PTI اسے پروپیگنڈہ کے لئے استعمال کرے اور وہی ہورہا ہے!

    https://x.com/ShamaJunejo/status/1880174060291903779

    دنیا کے سب سے بڑے راکٹ کی آزمائشی پروازایک بار پھر ناکام

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

  • چڑیل مخبری لے آئی،ڈیل آخری مراحل میں، قومی حکومت دور نہیں

    چڑیل مخبری لے آئی،ڈیل آخری مراحل میں، قومی حکومت دور نہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج صبح صبح بڑی خبریں آ گئی ہیں، آج 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ہونا تھا میں صبح اٹھ کر بیٹھ گیا تھا کہ 11 بجے تک فیصلہ آ جائے گا پتہ چلا کہ جج عدالت آ گئے اور اسکے بعد ساڑھے دس بجے واپس چلے گئے، غصے میں تھے اور کہا کہ دو دفعہ ملزم عمران کو بلایالیکن وہ نہیں آئے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چڑیل کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ایک نیاٹواسٹ آ گیا ہے،لیکن آج جب عدالت کی سماعت شروع ہوئی تو جج ناصر جاوید رانا کو کافی اضطراب تھا، انہوں نے دو تین بار ملزم عمران خان کو بلوایا لیکن عمران نہ آئے، اس وجہ سے فیصلہ مؤخر ہو گیا، اب 17 جنوری کو فیصلہ سنایا جائے گا،پی ٹی آئی وکلا کی ٹیم انہوں نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ یہ غلط بات ہے، ہمیں کل بتایا تھا کہ 11 بجے فیصلہ آنا ہے، ہم عدالت پہنچ رہے تھے، تو یہ پہلے کیسے اٹھ کر چلے گئے، ان کے ذہن میں کیا ہے،بشریٰ بھی راستے میں ہے اور عدالت ،جیل آ رہی ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے، اور اس کے اوپر پوری دنیا کی نظریں ہیں، پوری دنیا کے لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ کیا فیصلہ آنا، کیا کیا سزا ہو سکتی ممکنہ طور پر دونوں ملزمان کو،پھر سلمان اکرم راجہ نے اسی پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر کے ساتھ بیان دیا ، اس میں سے آپ کو جواب بھی ملے گا،انہوں نے کہا کہ 15 تاریخ سے مذاکرات شروع ہونے وہ اہم ہیں ہم نہیں چاہتے کوئی ڈیل ہو،لیکن اصول کے مطابق ہونے چاہئے، اب لگتا ہے کہ فیصلہ مؤخر کرنے کا فیصلہ دونوں سائیڈوں سے ہے کہ 15 تاریخ کو دیکھ لیں کیا ہوتا ہے ،پہلی باری یہ بتانے لگا ہوں کہ اگر آپ پی ٹی آئی کے فالورز ہیں تو آپ کے لیے خبر ہے کہ شاید واقعی کچھ پیچھے ہو رہا ہے، اتنا آسان نہیں کہ دو دو دن کے وقفے سے فیصلہ مؤخر کریں پہلے دسمبر میں پھر جنوری کے پہلے ہفتے میں، پھر اب تیسری بار آج مؤخر ہونا، یہ ایسے نہیں ہو رہا، اسکا مطلب ہے کہ کوئی کھچڑی پک رہی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے سلسلے میں عمران رہائی لیتے ہیں تو وہ انکی سیاسی موت ہے،عوام میں تو کہہ رہے کہ کارکنان کی رہائی چاہتے ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ عمران رہائی کے لئے بیتاب ہے، مذاکراتی ٹیم کہتی ہے کہ ہمیں خان صاحب نے نہیں کیا لیکن ہم انکی رہائی کا مطالبہ ضرور کریں گے، ہو سکتا ہے کہ کوئی عبوری حکومت آئے اور اس کو اگلے ایک ڈیڑھ سال الیکشن لے جائے، وہ عبوری حکومت قومی حکومت کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے، اس وقت جو حالات ہیں کوئی بھی جماعت اپوزیشن میں نہیں رہنا چاہتی، کوئی بھی جماعت،سب اقتدار میں آنا چاہتی ہیں،ن لیگ وہ اس وقت سب سے کمزور وکٹ پر ہے کیونکہ بلاول زرداری کی بڑی خواہش ہے کہ وہ وزیراعظم بن جائیں ،پیپلز پارٹی میں بھی بڑے لوگ ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ بلاول وزیراعظم کے طور پر آ سکتے ہیں اب چڑیل جو خبر لےکر آئی وہ کہہ رہی کہ بلاول کے وزیراعظم بننے میں رکاؤٹ آصف زرداری ہیں،آصف زرداری اس وقت صدر پاکستان ہیں، بلاول اگر وزیراعظم بنتے ہیں تو آصف زرداری کو اپنی صدارت چھوڑنا پڑے گی، کیا عمر کے اس حصے میں پہنچ کر اپنی صدارت کو چھوڑیں گے، ذرا سا مشکل ہے، وہ اپنی ٹرم پوری کرنا چاہیں گے، بلاول کی وزیراعظم بننے کی خواہش کے سامنے کوئی رکاوٹ ہے تو وہ انکے گھر میں ہے،لیکن قومی حکومت کب بن سکتی ہے، اگلے ایک دو ماہ میں تو نہیں، کیونکہ مئی میں بجٹ آنا ہے، آئی ایم ایف جا کر ناک کی لکیریں رگڑنی ہیں،یقین دہانیاں کروانی ہیں جو بھی کچھ ہو گا، مئی یا جون، بجٹ آنےکے بعد ہو گا.اسکے لئے کافی لوگوں نے لابنگ شروع کر دی ہے،ایک سابق وفاقی وزیر نے ایک بڑا تھنک ٹینک بنا لیا،کس کے اشارے پر، دو موجودہ حکومت کےو فاقی وزرا بھی بڑے خواہشمند ہیں، فیصل واوڈا سندھ کے وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں،وہ کوشش کر رہے ہیں، انکو پتہ ہے کہ اسکے علاوہ کوئی چانس نہیں ہے،

    امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

  • امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

    امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں کچھ دنوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو فالو کر رہاہوں، وہ روز نیا بیان دے رہے ہیں،کچھ لوگ اس کو مذاق سمجھ رہے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے، امریکہ میں جو صدر منتخب ہوتا ہے اسکے پیچھے بہت بڑا تھنک ٹینک ہوتا ہے، ذہین لوگ ہوتے ہیں جو اسکے لیے ڈیٹا جمع کرتے ہیں پھرپالیسی بیان آتا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جو بیان دے رہے ہیں اس میں سی آئی اے کا بھی ان پٹ ہوتا ہے،اور بھی اداروں کا، اب جو ٹرمپ کے بیانات آ رہے ہیں یہ صرف چار سال کے لئے نہیں ہیں، امریکہ ایک کروٹ لینے لگا ہے، اگلے 15 بیس سال دنیا پر اور خاص کر ہمارے ملک میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے، میں جب اپنے ملک کو دیکھتا ہوں‌تو لوگ اس بات پر لڑ رہے کہ مریم نواز نے یو اے ای کی ولی عہد سے ہاتھ کیسے ملایا،کوئی یہ دیکھ رہا ہے کہ شیر افضل مروت، سلمان اکرم راجہ کی لڑائی کہاں تک جائے گی لیکن ہمیں احساس ہی نہیں اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا پلان پایہ تکمیل تک پہنچ گیا اور 2025 گریٹر اسرائیل کا فیز ٹو مکمل ہو گا جس میں جورڈن کا بیشتر حصہ آئے گا، یمن آئے گا اور کچھ اور علاقے آئیں گے، عرب ممالک کی صحت کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، جو آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہے اسکی آںکھیں کھل جائیں گی اور پھر وقت نہیں ملے گا،

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گلف آف میکسیکو کا نام میں نے گلف آف امریکہ رکھنا ہے، وہ امریکن تاریخ کو ری رائیٹ کر رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اب اسکا نام آئے کہ یہ آدمی آیا اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا دیا، ٹرمپ کو یہ پتہ ہے کہ چین کا ٹیرف کیا ہے، چائنہ کا ٹریڈ امریکہ کے ساتھ ٹریلین آف ڈالر میں ہے،اس کا 68 فیصد چائنہ کا ٹریڈ امریکہ کے ساتھ، باقی پوری دنیا کے ساتھ ہے، آج اگر امریکہ کوئی اس پر چابی کستا ہے تو چائنہ بلبلائے گا، امریکہ روس کو کہتا ہے کہ یوکرین میں جہاں تک آ گئے یہ علاقہ تمہارا، اس پر صبر کرو، تمہاری پابندیاں ختم کر رہے ،لڑائی ختم کرو اور چائنہ سے دور ہو جاؤ کیونکہ اس کو ہم نے سبق سکھانا ہے، پھر کیا ہو گا، ٹرمپ نے کینیڈا کو کہہ دیا ہے کہ کیوں نہ کینیڈا کو امریکہ کے ساتھ ملایا جائے، یہ مذاق کی باتیں نہیں،جب ہیڈ آف سٹیٹ بات کرتا ہے تو اسکے پیچھے بڑی سوچ ہوتی ہے، ٹرمپ نے کہا کہ پانامہ کینال کو لینا ہے،گرین لینڈ کو لینا ہے، گرین لینڈ ڈنمارک کے زیر اثر ہے، اب ڈنمارک میں خوف کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پانامہ کینال اور گرین لینڈ کے لئے ٹرمپ کوشش کر ے گا وہاں امریکن ٹریڈ کر رہے ہیں، انکا خیال ہے کہ یہ بنانے کے پیسے ہم نے دیئے تھے،ٹرمپ کا خیال ہے کہ پانامہ پر قبضہ کریں اور چین کی ٹریڈ روک دیں،جو مرتا ہے مرے، گرین لینڈ کے اوپر بھی سیکورٹی کی بات ہوئی، کہا کہ امریکن سیکورٹی کو خطرہ ہے، اسکی کئی وجوہات ہیں ،جب صدر سیکورٹی کی بات کرے تو ہر امریکی اٹھ کربیٹھ جاتا ہے اور اس کی بات غور سے سنتا ہے،ٹرمپ نے اسرائیل کے لئے بھی کام کرنا ہے، فیز ٹو کے لئے تیار کرنا ہے، 2025 ٹرمپ کا ان چار چیزوں پر نکلے گا، 2026 میں لگتا ہے کہ ابتدائی چار ماہ میں ایران کی باری ہے کہ ہماری مرضی کے مطابق چلو، اسکے بعد پاکستان کی باری ہے، پاکستان کو انگوٹھے کے نیچے کرنا آسان ہے، ایک آئی ایم ایف قسط نہ ملے یا تاخیر ہو ،سعودی عرب تیل نہ دے تو پھر کیا ہو گا، محمد بن سلمان ٹرمپ کا بہترین دوست ہے، آپ بھول جائیں کہ محمد بن سلمان کے ساتھ کیا دوستی ہے کیسے تعلقات ہیں،کیونکہ ہماری اوقات نہیں ہے اس پردوستی جتانے کی،

  • باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    پاکستانی میڈیا کی دنیا میں باغی ٹی وی ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی غیرجانبدارانہ صحافت اور سچائی پر مبنی رپورٹنگ سے اپنا مقام بنایا ہے۔ اس کی بنیاد سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے رکھی تھی، جنہوں نے اپنے طویل تجربے اور صحافتی مہارت کو اس چینل کی بنیاد فراہم کی۔ باغی ٹی وی کا مقصد صرف خبریں فراہم کرنا نہیں بلکہ عوام کو ان مسائل کی حقیقت تک پہنچانا ہے جو ان کی زندگیوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔باغی ٹی وی کا مقصد پاکستانی عوام کو درست اور بے باک خبریں فراہم کرنا تھا۔ چینل نے اپنے آغاز سے ہی اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ عوام تک سچ پہنچانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کرے گا۔ مبشر لقمان، جو خود ایک معروف صحافی اور اینکر ہیں، نے باغی ٹی وی کو متعارف کراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صحافت کا مقصد عوام کو غیرجانبدار اور حقیقت پر مبنی خبریں فراہم کرنا ہے۔باغی ٹی وی نے نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے دیکھنے والوں کو ایک منفرد اور معتبر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ چینل کی پالیسی کے مطابق، صحافتی آزادی اور سچائی کو اہمیت دی جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کا ایک اور اہم پہلو اس کی ملک بھر میں موجود نمائندگی ہے۔ چینل نے مختلف صوبوں اور شہروں میں اپنے نمائندے تعینات کیے ہیں تاکہ وہ مقامی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں، سیاسی تبدیلیوں اور عوامی مسائل کی رپورٹنگ کر سکیں۔ اس کی مقامی سطح پر موجودگی نے اسے ایک مضبوط نیٹ ورک فراہم کیا ہے، جس کی مدد سے وہ اپنے ناظرین تک فوراً اور بر وقت خبریں پہنچا سکتا ہے۔چینل کی یہ نمائندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ باغی ٹی وی کی پہنچ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کے دور دراز علاقوں تک بھی اپنی آواز پہنچا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی نہ صرف شہروں میں بلکہ دیہاتوں میں بھی اپنے ناظرین کی ایک بڑی تعداد رکھتا ہے۔باغی ٹی وی نے پاکستانی صحافیوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کر سکتے ہیں۔ چینل نے ہمیشہ نئے صحافیوں کو موقع دیا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر تحقیق کریں، خبریں جمع کریں اور اپنی رپورٹنگ کی مہارت کو بروئے کار لائیں۔ اس پلیٹ فارم نے نہ صرف تجربہ کار صحافیوں کو جگہ دی ہے بلکہ نئے آنے والے صحافیوں کے لیے بھی ایک بہترین موقع فراہم کیا ہے تاکہ وہ اس چینل کے ذریعے اپنی صحافتی صلاحیتوں کو بہتر کر سکیں۔باغی ٹی وی نے صحافیوں کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کیا ہے جہاں وہ بغیر کسی خوف یا دباؤ کے اپنے خیالات اور خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہاں صحافیوں کو اپنے کام کے لیے مکمل آزادی دی جاتی ہے اور ان کی محنت کو سراہا جاتا ہے، جس سے چینل کا معیار مزید بلند ہوتا ہے۔

    چینل کی رپورٹنگ صرف خبروں تک محدود نہیں ہے بلکہ باغی ٹی وی نے عوامی معاملات، سیاست، معیشت اور معاشرتی مسائل پر بھی گہری نظر رکھی ہے۔ اس چینل پر تجزیاتی پروگرامز اور رپورٹس عوامی مسائل کی گہری سمجھ فراہم کرتے ہیں اور انہیں موجودہ حالات میں بہتر فیصلے کرنے کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے تجزیے اور رپورٹنگ کا انداز بے باک اور حقیقت پر مبنی ہوتا ہے، جو ناظرین کو مکمل طور پر مطمئن کرتا ہے۔باغی ٹی وی کی مقبولیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا مواد اور رپورٹس عوام میں ایک منفرد شناخت بنا چکے ہیں۔ اس کی رپورٹنگ نے اسے عوام کے درمیان ایک معتبر پلیٹ فارم بنایا ہے، جہاں لوگ بغیر کسی دباؤ کے حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ چینل کی مقبولیت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اس کی شفافیت اور سچائی کی پختہ پالیسی ہے۔

    باغی ٹی وی نے پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔ سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت میں اس نے صحافت کے معیار کو بلند کیا ہے اور پاکستانی عوام کو سچ اور حقیقت پر مبنی خبریں فراہم کی ہیں۔ چینل کی ملک بھر میں نمائندگی اور صحافیوں کے لیے بہترین پلیٹ فارم کا ہونا اس کی کامیابی کے اہم ستون ہیں۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک چینل ہے بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں صحافت کی آزادی اور سچائی کو فوقیت دی جاتی ہے

    باغی ٹی وی پر میرے بھی بلاگز باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں، میں باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ پر ان کو مبارک باد پیش کرتی ہوں،یہ نہ صرف ایک میڈیا ادارے کی کامیابی کا دن ہے بلکہ صحافت کے میدان میں اس کے اہم کردار اور بے مثال خدمات کا اعتراف بھی ہے۔باغی ٹی وی نے اپنی جراتمندانہ صحافت حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور بے لاگ تجزیوں کے زریعے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔اس نے ہمیشہ سچائی اور انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کی۔اور اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے ہر موقع پر ظلم، ناانصافی کے خلاف بغاوت کے جذبے کو زندہ رکھا۔

    میں دعاگو ہوں باغی ٹی وی کا یہ سفر مزید کامیابیوں ترقیوں اور خوشحالی سے بھرپور رہے۔آپ اسی طرح حق و سچ کی نمائندگی کرتے رہیں اور صحافت کی دنیا میں نئی مثالیں قائم کرتے رہیں۔سالگرہ کے اس خوشگوار موقع پر باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو ڈھیروں مبارکباد اور نیک تمنائیں

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، جو پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو چکی ہے۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک خبر رساں ادارہ ہے بلکہ یہ پاکستان میں مثبت صحافت، سچائی کی آواز، اور وطن عزیز کے دفاع کے حوالے سے ایک مضبوط ستون کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ اس کی کامیابی کا راز اس کی معیاری اور سچ پر مبنی خبریں، تجزیے اور تجزیاتی پروگرامز میں پوشیدہ ہے، جو عوام کے درمیان اعتماد اور سچائی کے لئے ایک معتبر ذریعہ بنے ہیں۔باغی ٹی وی کا آغاز پاکستان میں ایک ایسے وقت میں ہوا جب ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس چینل نے نہ صرف پاکستان کے بڑے شہروں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے۔ باغی ٹی وی کی خبریں ہمیشہ سچ پر مبنی اور غیر متنازعہ ہوتی ہیں، جس سے عوام میں ایک مثبت اور حقیقت پر مبنی آگاہی پیدا ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان نے اپنی محنت اور قابلیت سے اس چینل کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ ان کی قیادت میں، باغی ٹی وی نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ مبشر لقمان کے صحافتی تجربے اور عزم نے اس ادارے کو پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک معتبر مقام دلایا ہے۔باغی ٹی وی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سچائی کی آواز بن کر اُبھرا ہے۔ اس نے کبھی بھی کسی غیر اخلاقی یا جھوٹی خبر کی نشر کی اجازت نہیں دی، بلکہ ہر خبر کے پیچھے سچائی اور تحقیق کا سہارا لیا ہے۔ اس کے علاوہ، باغی ٹی وی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جب بھی پاکستان دشمن عناصر نے ملک کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا، باغی ٹی وی نے ہمیشہ ان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور وطن عزیز کی سالمیت کا دفاع کیا۔

    باغی ٹی وی نہ صرف قومی سطح پر بلکہ علاقائی مسائل کو بھی اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ملک بھر کے مختلف شہروں میں نمائندے ہیں جو مقامی مسائل کو عالمی سطح پر پیش کرتے ہیں۔ یہ چینل نہ صرف بڑے شہروں کی خبریں دکھاتا ہے بلکہ دور دراز علاقوں کے عوامی مسائل کو بھی اُجاگر کرتا ہے، تاکہ ان مسائل پر توجہ دی جا سکے۔باغی ٹی وی کو ایک سپاہی کا کردار ادا کرنے والا ادارہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے ہر نمائندے نے وطن عزیز کی حرمت کے لئے اپنے قلم کو ہتھیار بنایا ہوا ہے۔ یہ چینل ملکی دفاعی امور، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے بھی آواز اُٹھاتا رہتا ہے۔

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر، ہم سب کو اس کی کامیابیوں اور اس کے صحافتی اصولوں کو سراہتے ہیں، سینئر صحافی اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان نے باغی ٹی وی پر ہمیشہ سچائی، ایمانداری اور ملکی مفادات کو اولین ترجیح دی ہے، اور ان کے اس عزم نے اسے پاکستان میں ایک مضبوط صحافتی ادارہ بنا دیا ۔ آئندہ بھی یہ چینل اپنی اس روش پر گامزن رہے گا، اور پاکستان کی خدمت میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

    malik arshad

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جس کا قلم، حق کے اظہار کا ہتھیار بنا اور لفظوں نے ظلم کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند کیا۔ آج اس باغی کی 13ویں سالگرہ ہے۔باغی ٹی وی ایک ایسا ادارہ ہے جو تیرہ سال قبل حق اور صداقت کی شمع تھامے میدانِ صحافت میں اترا۔ مبشر لقمان جیسے مایہ ناز صحافی کی سرپرستی میں یہ ادارہ ایک ایسے شجر کی مانند پروان چڑھا جو اپنی جڑیں حق و انصاف کی مٹی میں گاڑ چکا ہے۔ آج، تیرہ برس کی شب و روز محنت اور کاوشوں کے بعد، باغی ٹی وی اپنی13ویں سالگرہ منا رہا ہے اور یہ جشن صرف ایک ادارہ کے 13 برسوں کی تکمیل کا نہیں، بلکہ یہ ان تمام جدوجہد اور کاوشوں کا اعتراف ہے جو حق کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش کے خلاف کی گئیں۔

    سن 2021 میں جب میرا قلم باغی ٹی وی کے لیے چلنا شروع ہوا، تو یہ محض ایک اتفاق تھا، لیکن ممتاز اعوان صاحب جیسے مخلص ایڈیٹر کی سرپرستی نے اس سفر کو میری زندگی کا ایک اہم حصہ بنا دیا۔ میری پہلی تحریر جب باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی، تو وہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ میرے خوابوں کی جیت تھی۔ اس کے بعد، باغی ٹی وی نے میرے ہر مضمون، ہر تحریر کو جگہ دی، چاہے وہ حکومت کے حق میں ہو یا خلاف۔ یہ آزادی اور غیر جانبداری اس ادارے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

    باغی سے 4 سالہ رفاقت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ باغی ٹی وی فقط ایک صحافتی ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ جس کا مقصد صرف خبر پہنچانا نہیں بلکہ وہ خبر پہنچانا تھا جو دبائی جا رہی ہو، وہ حقائق اجاگر کرنا جو چھپائے جا رہے ہوں، اور ان مظالم کو بے نقاب کرنا جو خاموشی کی چادر میں لپٹے ہوں۔ جہاں مین اسٹریم میڈیا نے مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنی نظریں جھکا لیں، وہیں باغی ٹی وی نے بغاوت کا علم تھام لیا اور ظلم و جبر کے خلاف بے خوف و خطر آواز اٹھائی۔ اور اس بے باکی کا سہرا بانی "باغی” مبشر لقمان کے سر کو جاتا ہے۔باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب وہ شخصیت ہیں جنہوں نے صحافت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھا۔ ان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے مثبت صحافت کا وہ معیار قائم کیا جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ خبریں صرف تفریح یا خوف کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کو باخبر رکھنے اور انہیں تعلیم دینے کا وسیلہ ہوتی ہیں۔ باغی ٹی وی نے اس بات کو عملی جامہ پہنایا اور اپنی خبروں کو ہمیشہ حقائق پر مبنی اور مثبت انداز میں پیش کیا۔

    باغی ٹی وی نے معاشرتی مسائل پر آواز بلند کرنے میں ہمیشہ اولیت حاصل کی۔ ظلم، جہالت، اور ناانصافی جیسے موضوعات کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ان کے حل کے لیے عوامی شعور کو بھی بیدار کیا۔ چاہے وہ کرونا کی وبا ہو، زلزلے کی تباہی، یا سیلاب کی تباہ کاری، باغی ٹی وی نے نہ صرف نا صرف قارئین کو باخبر رکھا،بلکہ لوگوں کو ایجوکیٹ بھی کیا۔ایک ایسی دنیا میں جہاں خبر کا مطلب صرف پروپیگنڈا ہو، وہاں باغی ٹی وی نے مثبت خبروں کا رجحان متعارف کروایا۔ اس نے عوام کو دکھایا کہ پاکستان میں کئی مثبت ڈیولپمنٹز بھی ہو رہی ہیں اور ان پر بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ مثبت خبریں نہ صرف لوگوں کو امید دیتی ہیں بلکہ انہیں بہتر مستقبل کی کوشش کےلیے بھی مائل کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے تیرہ سالہ سفر کی کہانی صرف ایک ادارے کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ یہ ایک تحریک کی گواہی ہے جس نے ظلم و جبر کے خلاف حق کا علم بلند کیا۔ اس تیرہ سالہ سفر پر باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب ، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب اور ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان بڈانی سمیت دیگر ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی حق اور سچائی کی راہ پر چلتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا رہےگا

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی نے اپنے کامیاب سفر کے ساتھ 13 برس مکمل کر لئے

    باغی ٹی وی کے 13 برس مکمل ہونے پر باغی ٹی وی ٹیم نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،باغی ٹی وی کے بارہ برس مکمل ہونے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں نےبھی مبارکباد کے پیغام بھجوائے ہیں، اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ،

    باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان نے 13برس قبل باغی ٹی وی کا آغاز کیا جس کا سفر اب بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے ،ڈیجیٹیل میڈیا کے سب سے بڑے ادارے باغی ٹی وی نے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 13 سال مکمل کرلیے ہیں‌،باغی ٹی وی کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی، باغی ٹی وی نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں-

    اردو ۔انگلش. پشتو.دری، چائنیز پانچ زبانوں میں باغی ٹی وی کی نشریات چل رہی ہیں ،باغی ٹی وی کا یوٹیوب چینل دنیا بھر میں مقبول ہے ۔ہر سال رمضان المبارک میں باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح لائیو نشر کی جاتی ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج کی کوریج کرنے پر حکومت کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود باغی ٹی وی نے کوریج جاری رکھی ۔حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی کوریج کی ویڈیوباغی ٹی وی کے یوٹیوب سے ڈیلیٹ بھی کروائی گئی ہیں ۔تحریک لبیک کی کوریج کی وجہ سے باغی ٹی وی ٹویٹر کا بلیو ٹک بھی ختم کروایا گیا ہے-

    باغی ٹی وی نام کی مناسبت سے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں ظلم جبر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ ریاست پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو باغی ٹی وی صحافتی میدان میں ہر وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار نے بھی باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کی بلکہ درجنوں بار مودی سرکار کے زیر اثر ہیکرز کی جانب سے باغی ٹی وی کی ویب سائٹ ہیک کرنے کی ناکام کوشش بھی کی گئی-

    baaghitv

    باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے، روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین وتاریخی بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،مسلم لیگ ن کی رہنما،سابق رکن اسمبلی مہوش سلطانہ، سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد، دعوت اسلامی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ عثمان عطاری، اسلام آباد سے سینئر صحافی پروفیسر طاہر نعیم ملک،کراچی سے ملک ضمیر،ہیلپنگ ہینڈ کے میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری،آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم عالی،ڈرامہ رائیٹر، آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن کی سینئر ناب صدر ریحانہ عثمانی،اپوا کی ممبر نرگس نور، المصطفیٰ ٹرسٹ کے رکن محمد نواز کھرل،حامد رضا،مرکزی مسلم لیگ کےخوشاب سے رہنما ،سید جوادہاشمی،لاہور سے صحافی جان محمد رمضان، دارالسلام کے میڈیا ہیڈ ارشاد احمد ارشد، ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ ضلع تلہ گنگ کے چیئرمین ملک امتیاز لاوہ، تلہ گنگ پریس کلب کے وائس چیئرمین ملک ارشد کوٹگلہ،سمیت دیگر نے مبارکباد کے پیغامات بھجوائے اور نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باغی ٹی وی نے معاشرے میں حقیقی اور مثبت صحافت کو فروغ دیا جس کا سہرا مبشر لقمان کے سر جاتا ہے، امید کرتے ہیں کہ باغی ٹی وی کا سفر کامیابی سے جاری و ساری رہے گا.

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

  • بے باک صحافت  کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    پاکستانی صحافت کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی محنت اور عزم سے کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ان کی جرات مندانہ اور بے باک اندازِ صحافت نے انہیں عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام دے دیا۔ ان شخصیات میں سے ایک اہم نام مبشر لقمان کا ہے، جنہوں نے ہمیشہ سچ کی پرچار کی ہے اور کبھی بھی کسی خوف یا دباؤ کے آگے نہ جھکے ہیں نہ بکے ہیں۔ ان کا مشہور پروگرام "کھرا سچ” صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا ہے جس میں وہ سچ کو بے لاگ اور بے دھڑک طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو سچ سے آگاہ کرنا اور ان کے ذہنوں میں موجود مفروضات کو توڑنا ہے۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر ہمیشہ ایک چیلنج کی طرح رہا ہے۔ پاکستان کی صحافتی دنیا میں جہاں اکثر ادارے اور صحافی مختلف دباؤ کا شکار رہتے ہیں، وہاں مبشر لقمان نے کبھی کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا غماز ہے کہ صحافت میں اگر سچ بولنے کا عزم ہو تو آپ تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سچ کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔مبشر لقمان کا یہ جرات مندانہ رویہ نہ صرف پاکستانی میڈیا میں بلکہ جونیئر صحافیوں کے لئے ایک اہم سبق بھی ہے۔ وہ ہمیشہ سچ کے علمبردار بنے رہے ہیں اور سچ کو بیان کرنے میں کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کا یہ بے خوف طرزِ صحافت پاکستان کے نوجوان صحافیوں کے لئے ایک روشن مثال ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے، چاہے اس کے بدلے میں ہمیں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

    پاکستان میں سچ بولنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے آپ کو نہ صرف جرات کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ آپ کو مختلف دباؤ، تنقید، گالیاں اور کبھی کبھار مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مبشر لقمان جیسے صحافی ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، خواہ اس کے لئے انہیں ذاتی یا پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    ہم جیسے لکھاری اور صحافی ہمیشہ مبشر لقمان کے تجزیوں اور رپورٹنگ سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کا دبنگ انداز، عزم اور جرات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحافت صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جس میں سچائی کا پرچار کرنا سب سے اہم ہے۔”کھرا سچ” ایک ایسا پروگرام ہے جس میں مبشر لقمان نہ صرف معاشرتی اور سیاسی معاملات پر گہرے تجزیے پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ان مسائل کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کا یہ پروگرام پاکستانی عوام کے لئے ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے جس سے وہ نہ صرف اپنے ارد گرد کے حالات سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ انہیں ملک کے اہم مسائل کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔یہ پروگرام پاکستانی میڈیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں مبشر لقمان کسی بھی جانب داری یا مفادات کے بغیر صرف اور صرف سچ بولتے ہیں۔ اس میں حقیقت کو کھلے دل سے بیان کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔

    آج سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منا ئی جا رہی ہے، تو ہم ان کے شجاعانہ اور سچے رویے کو سراہتے ہیں، ان کی بے باک صحافت نے نہ صرف میڈیا کے معیار کو بلند کیا ہے بلکہ بہت سے نوجوان صحافیوں کو یہ سکھایا ہے کہ سچ بولنے کا عزم کیا ہوتا ہے۔ ان کی سالگرہ پر ہم انہیں دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیتے ہیں اور ان کی کامیابیوں کی مزید بلندی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند، کامیاب اور خوشحال زندگی دے اور ان کی جرات مندانہ صحافتی کاوشوں کو ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔آمین

    تحریر: محمدمزمل اقبال

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  • میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    آج پاکستان کے معروف سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ مبشر لقمان نہ صرف ایک کامیاب اینکر ہیں بلکہ ان کا شمار پاکستان کے ان چند صحافیوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنی باتوں میں سچائی اور ایمانداری کو مقدم رکھتے ہیں۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر کھری اور بے لاگ بات کرنے سے نہیں ڈرتے، چاہے وہ موضوع کتنا ہی تنازعہ کیوں نہ ہو۔

    مبشر لقمان کی صحافت کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف حکومتوں کے خلاف بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اُن طاقتور لوگوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جو عوام کے حقوق کو پامال کرتے ہیں۔ وہ اپنے پروگراموں میں ہمیشہ سچ اور حق کا علم بلند کرتے ہیں اور اپنے تجزیے اور رپورٹنگ میں کسی قسم کی ترمیم یا مصلحت سے بچتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف سچ کا احاطہ کرنا ہے تاکہ عوام کو حقیقی صورتحال کا پتا چل سکے۔تحقیقاتی صحافت مبشر لقمان کا شیوہ ہے،بنا کسی خوف،لالچ کے انہوں نے سب کی کرپشن کو بے نقاب کیا،

    مبشر لقمان نے اپنے پروگراموں میں پاکستان دشمن قوتوں اور انتہا پسند جماعتوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جنہوں نے ملک کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کی جرات مندی اور بے خوفی کی بدولت کئی سنجیدہ مسائل عوام کے سامنے آ گئے ہیں۔عمران خان کے قریب تر رہنے والے مبشر لقمان نے جب عمران خان اور بشریٰ کی کرپشن دیکھی تو سب سے پہلے آواز بلند کی اور نہ صرف عمران خان،بشریٰ بی بی بلکہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی کرپشن کے حوالے سے مبشر لقمان نے سب سے پہلے پردہ اٹھایا اور قوم کے سامنے انکی حقیقت لے کر آئے،

    مبشر لقمان کی صحافتی خدمات نہ صرف ان کے پروگرامات کی مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ وہ اپنی بے باک رپورٹس کے ذریعے پاکستانی عوام کی نظر میں ایک محنتی اور سچا صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی صحافت میں کبھی بھی ذاتی مفاد یا سیاسی تعلقات کا دخل نہیں رہا، اور یہ ہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔آج ان کی سالگرہ کے موقع پر، ہم سب مبشر لقمان کی طویل زندگی اور کامیاب صحافتی سفر کے لیے دعا گو ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح اپنی جرات مندانہ صحافت کے ذریعے پاکستانی عوام کے سامنے سچ لاتے رہیں گے، تاکہ ہم سب حقیقت سے آگاہ رہیں اور ملک کی ترقی کی راہوں پر قدم رکھ سکیں۔

    مبشر لقمان کا "کھرا سچ”، ان کی محنت اور لگن کا عکاس ہے، اور ان کا یہ عہد کہ وہ ہمیشہ سچائی کو منظر عام پر لائیں گے، ان کے پروگرام کھرا سچ کو عوام میں اتنی مقبولیت ہے کہ لوگ ان کی باتوں کو بے دھڑک سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مبشر لقمان کو ان کی سالگرہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور دعا دیتے ہیں کہ اللہ انہیں ہمیشہ صحت مند رکھے اور ان کے مشن میں کامیاب کرے۔آمین

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    لنڈی کوتل: فلاحی کارکن پر پولیس تشدد، ایس ایچ او عدنان آفریدی معطل