سینئر صحافی اور اینکر پرسن پروگرام کھرا سچ مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اگر ملک میں انارکی والی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے تو ایسی صورتحال میں مارشل لاء لگ گیا جو ممکن نہیں تو عالمی سطح پر کوئی ردعمل آسکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں علی سرور نقوی نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ مارشل لاء لگتے دیکھا ہے، لہذا میرا خیال ہے کہ عالمی ردعمل فوری طور پر اس چیز کے خلاف ہوتا ہے.
علی سرور نقوی نے کہا کہ بظاہر تو ردعمل دیئے جاتے مگر پس پردہ اور معاملات ہوتے ہیں اور بڑی طاقتیں تو اس میں ملوث بھی رہتی ہیں، مثال کے طور پر مصر، ارجنٹینا، سری لنکا جیسے ممالک میں بھی معاشی مسائل ہیں لیکن وہاں ملٹری کا اتنا زور نہیں ہے لہذا میں نہیں جانتا کہ اس وقت کیا ہوگا تاہم ابھی بھی صورت حال کو کنٹرول کیا جائے تو حال بہتر ہوسکتا ہے.
واپڈا نے احتجاجا کام کرنا چھوڑ دیا تو ہم کیا کریں گے کے جواب ممیں ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو ان کو ایک قانونی دفعہ کے تحت دباؤ ڈال کر کام کروا سکتے ہیں اس پر معروف اینکر نے کہا کہ وہ تو ساڑھے پانچ لاکھ ملازمین ہیں واپڈا کے ہم تو پی آئی اے کے 16 ہزار ملازمیں کو نہیں سنبھال سکتے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویلاگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے توقع تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطل کر دی ہے،اسکی دو وجہ ہیں ،سپریم کورٹ نے جو ریمارکس دیئے تھے اسکے بعد ماتحت عدالت کس طرح سپریم کورٹ کی امیدوں کے خلاف فیصلہ دے،اس فیصلے میں دوچیزیں ہیں، کہ سزا معطل ، جب تک تحریری فیصلہ نہیں آتا تب تک سزا رہے گی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں دو چیزیں ہیں ایک ہے جرم اور دوسرا ہے سزا، اس نے مال سرکار میں مداخلت کی اور اس نے پیسے بٹورے، یہ اسکا جرم ثابت ہو گیا،جرم کی سزا جو جج دلاور نے دی تھی وہ دی تھی تین سال،عدالت نے سزا کو معطل کیا ہے، جرم کو نہیں، عدالت جرم کو معطل نہیں کر سکتی، جرم جب وہیں پر ہے اور سزا وہیں پر ہے ،تو اب عدالت نے یہ تعین کرنا ہے کہ تین سال کی سزا غلط ہے اصل میں ہونی کتنی چاہئے،ہونی چاہئے یا نہیں ہونی چاہئے، لیکن جرم وہیں پر ہے، اسلئے عمران خان نہ الیکشن لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی پارٹی کے چیئرمین رہ سکتے ہیں اور نہ ہی ٹی وی پر آ سکتے ہیں کیونکہ وہ سزا یافتہ ہیں، اگر اسکو ختم کروانا ہے تو نئے سرے سے عمران خان کو اپیل دائر کرنا پڑے گی،مجرم ہونے کے خلاف اپیل جب وہ دائر کرےگا تو پھر کیس ایک مہینہ، ایک سال یا جب تک چلتا ہے پھر تعین ہو گا کہ وہ جرم رہتا ہے یا نہیں، جو لوگ خوشیاں منا رہے ہیں وہ یہ سن لیں کہ اگلے الیکشن میں عمران خان نہیں ہیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی ٹیم اٹک جیل میں پہنچی اور عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ ایف آئی اے والے عمران خان کو اٹک جیل میں ہی رکھتے ہیں یا اپنی کسی جیل میں لے کر جاتے ہیں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشرلقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو بڑی اہم خبریں ہیں، ایک طرف تیاری ہو رہی ہے کہ نگران کابینہ میں اب مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے، تین کم از کم ایڈوائزر اور آ رہے ہیں، ایک سابق جرنیل، ایک سابق بیوروکریٹ، تیسرا ہو سکتا ہے سابق صحافی ہو یا جج، وہاں پر یہ تیاری ہو رہی کہ کابینہ کو بڑھانا، اسکا مطلب لمبا عرصہ چلنا ہے،لانگ ٹرم حکومت ہو گی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر سے امریکی سفیر کی ملاقات ہوئی اور لمبی مشاورت ہوئی، اتنی لمبی کہ چار پانچ بار چائے منگائی گئی، پریس ریلیز میں کہا گیا کہ امریکی سفیر نے کہا آئین کے مطابق وقت پر الیکشن ہوں گے، امریکہ سے شفاف الیکشن کے لیئے جو مدد چاہئے وہ ملے گی، دوسری خبر آج کی کہ صدر نے آج چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لئے بلوایا تھا تو اس نے انکار کر دیا، ہمارے ملک کا چیف الیکشن کمشنر اپنےصدر کو نہیں ملنا چاہتا ، لکھ کر انکار کر رہا ہے،لیکن دوسرے ملک کے سفیر کو ملنے کے لئے ٹائم بھی نکال رہا، بریفنگ بھی دے رہا، یہ کیا وجہ ہے؟ اگر آئینی طور پر ملنا تھا کہ فارن آفس میں کوئی درخواست گئی؟ ملنے کا طریقہ کار ہےکہ فارن آفس کو لکھیں گے وجہ بتائیں گے اور فارن آفس اگر صحیح سمجھتا ہے تو وہ بتائے گا کہ فلاں سفیر ملنا چاہتا ہے آ کر مل لیں ، ملاقات فارن آفس میں ہوتی اور وہاں فارن آفس کا نمائندہ موجودہوتا ہے،یہاں تو فارن آفس کو کوئی ریکوئسٹ نہیں آئی، اسکے بغیر لمبی چوڑی میٹنگ ہوئی، اسکے بعد پریس ریلیز دے دی گئی، کیا مدد کرنے کی بات کی گئی؟ کیا وہ الیکشن کمیشن کو 12 ارب یا 20 ارب دے گا؟ سیکورٹی دے گا؟ اور اگر دے گا تو بدلے میں کچھ تو مانگے گا، وہ کیا مانگے گا؟ یہ کچھ نہیں پتہ، کسی کو نہیں پتہ، کیونکہ فارن آفس کو نہیں پتہ، اس سارے واقعہ کے بعد صدر مملکت کو چیف الیکشن کمشنر نے کہہ دیا کہ میں نہیں مل سکتا، میں کئی دنوں سے کہہ رہا ہوں کمزور آدمی، چھوٹے آدمی کے لئے یہاںکوئی قانون نہیں، اگر پاکستان کا سفیر امریکہ میں چیف الیکشن کمشنر کو ملنے کی کوشش کرے تو وہ ایمبسڈر فارغ ہو جائے گا، اسی وقت آفس سے لیٹر آ جائے گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کاکڑ صاحب ہمارے وزیراعظم ہیں، وہ تقریریں اچھی کر رہے ہیں،کیا فارن آفس امریکی نمائندے کو بلا کر احتجاج کرے گا کہ بغیر بتائے یہ ملاقات کیوں ہوئی؟ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ میرے ویلاگ کے بعد فارن آفس اپنے لیٹر، فائل بنائے گا تا کہ کاغذی کاروائی پوری ہو، الیکشن کی ڈیمانڈ اس وقت تحریک انصاف کی ہے، کس نے پاکستان میں سی پیک کو رکوایا، کس نے پاکستان کے سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف میں گروی رکھوایا؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل چیف جسٹس نے پوری کوشش کی کہ توشہ خانہ کیس میں ہاوی ہوں اور اسکا فیصلہ مرضی کا ہائیکورٹ سے نکلوائیں، اسی لئے کہا کہ فیصلہ کرو اور دو بجے ہمارے پاس آو، اسلئے کہا کہ جو فیصلہ ہو گا اسکے بعد ہم سن لیں گے،جھوٹ اتنا ہو گیا کہ بابر اعوان نے ٹویٹ کی کہ میں عمران خان کو ملا، اور عمران خان نے کہا کہ قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھ رہا ہوں، وہ ترجمہ ہی پڑھ رہا ہو گا، قرات عمران خان نہیں پڑھ سکتا، 12 سال سے تو حضرت عمر کی زندگی پر لیکچر دے رہا تھا عمران خان اور کتاب وہ اب پڑھ رہا ہے، اسکو تو کتاب لکھنے کی ضرورت ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دشمن چاند پر پہنچ گیا اور ہم یہیں بیٹھے چن چڑھا رہے ہیں، مجھے لگتا ہے سارے چاند پر پہنچیں گے اور ہم کہیں گے زمین پر ہم اکیلے ہی رہ گئے، اب ہم ہی سپر پاور ہیں،
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اب صاحب بہاد ر نے کہہ دیا الیکشن جلدی ہونے چاہئے کاکڑ صاحب اور ہمنوا جو کابینہ بڑھانے کے بارے سوچ رہے ہیں وہ اب یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ صاحب بہادر کو جواب کیا دینا ہے؟ سرپرائزنگ بات کہ صدر جب کہہ رہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے کیوں انکار کیا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارف علوی نے کل جو کیا اس کو کل سے میں بھی دیکھ رہا تھا، کچھ وی لاگ دیکھے، رپورٹس دیکھیں،اور وہ چینلز پر،ہر جگہ ایک لائن مجھے نظر آئی کیونکہ سب لاجک سے بات کر رہے ہیں،بل کس کو دیا، کس سے لیا، ایکشن کیوں نہیں لیا، اس پر کتنے دن چپ کیوں رہے، آج کا دن یاد کیوں آیا؟ یہ لاجیکل سوال ہیں، لیکن کبھی پی ٹی آئی نے لاجک سے بات کی ہے؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عارف علوی کو ٹویٹ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ سوال ہے، اسکو پتہ ہے کہ قانون اس نے بنوایا ہے، آخر میں اس نے کہا کہ میں معافی مانگنا چاہتا ہوں تا کہ کل کو قریشی یا عمران خان باہر نکلیں تو یہ نہ کہیں کہ کیوں دستخط کئے، عارف علوی اور عمر عطا بندیال کے مابین یہ گٹھ جوڑ ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک سال کی تمام کارکردگی کو دیکھیں تو پہلے اینٹی امریکیہ،پھر سازشی بیانیہ، پھر اسکے بعد روس یوکرین، اسکے بعد آئی ایم ایف کو خط، شوکت ترین کی آڈیو لیک ہوئی،پھر آئی ایم ایف کا آنا اور عمران خان کو ملنا، آج تک کبھی آئی ایم ایف والے کسی اپوزیشن لیڈر کو نہیں ملے، جمائما کا پورا ایکٹو ہونا اور قریشی کا تمام سفیروں کو ملنا، پھر دو لابنگ فرمز ہائیر کرنا،یورپی ،امریکی اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کرنا کہ پاکستان میں مداخلت کریں، یہ سب دیکھیں تو سب سمجھ آ جائے گی، ایک عدالت نے سزا سنائی اور عمران خان جیل پہنچ گئے،عدالت سزا سنائے تو پھر کوئی معافی نہیں، جب آپ 57 بار پیشی پر نہ جائیں، عدالت کو پھر فیصلہ سنانا ہی پڑا، اب عدالتوں پر تنقید کیوں جب خود پیش ہی نہ ہوئے،مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ عارف علوی عمران خان کا ٹاؤٹ ہے، اس نے دفتر میں آفییشل انکوائرئ نہیں کی،ذمہ دار کون ہے، ایکشن نہیں لیا، بس ایک ٹویٹ کر دی،ایوان صدر ایک محل نما ڈھانچہ ہے، وہاں پر صرف یہ نہیں کہ صدر بیٹھتا ہے اور دوسرے کمرے میں اسکی سونے کی جگہ، بلکہ وہاں اربوں روپے خرچ ہوتا ہے، وہاں ہر منسٹری کا متعلقہ سٹاف ہوتا ہے، لا منسٹری کو دیکھنے کے لئے جو بندہ ہیڈ کر رہا ہے وہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ہے، بریفنگ کے بعد صدر فیصلے کرتے ہیں، سینکڑوں بلز پر سائن اور واپس بھی کر چکے ہیں ،یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ طریقہ نہیں پتہ، کیوںکہ ایک عرصہ ہو گیا انکو،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عارف علوی نے تین کام کئے، ایک پاکستان کو ڈیمج کیا،دوسرا انہوں نے کہا عمران خان ،قریشی اندر ہے تو میں تو باہرہوں،کل جب میں یہاں سے جاؤں گا تو تحریک انصاف کو لیڈ کرنے کی کوشش کروں گا،بشریٰ بی بی اب تحریک انصاف کی قیادت کرنے کی دوڑ میں شامل ہے،
استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان، فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،
پروگرام کھرا سچ میں میزبان ،سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آپ کوالیفائڈ ڈاکٹر ہیں کیا آپ کو نہیں لگتا تھا اپنے لیڈر کو دیکھ کر کہ وہ ڈرگ لیتا ہے، جواب دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پتہ تو ہمیں تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پہلی لڑائی اسی بات پر تھی کہ نشہ آور تمام لوازمات جو بنی گالہ میں میرا لیڈر استعمال کرتا تھا، کہا گیا تھا کہ اس کو چھوڑا جائے،پہلے تین مہینے اس نے چھوڑا تھا، تین ماہ اس نے کسی نشہ آور کو ہاتھ نہیں لگایا،اسکو کہا گیا تھا کہ بطور وزیراعظم آپ کو نشہ نہیں کرنا چاہئے ،اگر یہ سامنے آ گیا تو قوم کے لئے بہت بڑا سانحہ ہو گا، تین ماہ تک عمران خان نے نشے سے خود کو دور رکھا، تین ماہ بعد جو طور طریقے تھے وہ دوبارہ اختیار کئے،
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ کمٹمنٹ کو وائلیٹ کیا گیا ہے، جس پر عمران خان نے برا منایا کہ میرے گھر تک، بیڈ روم تک، ریڈ لائن کراس کی ہیں، اسکا مطلب ہے کہ ہر جگہ مجھے مانیٹر کیا جا رہا ہے، جس پر کہا گیا کہ وزیراعظم کی سیکورٹی یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے، آپ وزیراعظم ہیں، ہمیں یہ کرنا ہے، یہ آپکا جو رول ہے اسکو ہر حال میں قوم کے مسیحا اور لیڈر کے طور پر ایک فزیکلی فٹ اور مینٹلی ویل ہونا چاہئے،وزیراعظم کا بیڈ روم بگ نہیں تھا، سپلائی کی جو چین تھی وہ کسی کی مانیٹرنگ میں تھی اور وہ ایکسپوز ہو گئی تھی،تین ماہ سپلائی چین ٹوٹی تھی لیکن اسکے بعد اسی طرح آگے بڑھتی گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان جیل میں ہیں، کیا وہ گھر میں ہیں کہ انکو سب سہولیات دی جائیں، آصف زرداری سات سال جیل میں رہے، کسی سے ملنے، بات کرنے کی اجازت نہیں تھی، جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں، جن چیزوں کی عادت ہوتی ہے اور وہ نہ ملیں تو وہی جیل ہے، عمران خان جیل میں ہے، بشریٰ بی بی کے رونے کا سوال کوئی ٹونا، ٹوٹکا ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سب کی خواہش ہے کہ نواز شریف آ جائے، لیکن نواز شریف ابھی تک ٹو مائینڈ پر ہیں، نواز شریف کی سائیکی کو سمجھنے کی ضرورت ہے،نواز شریف بہت زیادہ بیگم کلثوم نواز پر فیصلوں کے لئے ٹرسٹ کرتے تھے، وہ ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرتی تھیں، پہلے میان صاحب اپنے والد صاحب سے ایڈوائس لیتے تھے، اب میان صاحب اکیلے ہیں اور انکو لوگوں کی ایڈوائس پر اعتبار نہیں، جس دن انکو اعتبار ہوا، اس دن وہ آئیں گے، وہ ایک دن بھی جیل نہیں جانا چاہتے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اگر واپس نہیں آتے تو پھر الیکشن میں کیا ہو گا، کچھ نہیں کہا جا سکتا، پٹرول کی قیمت بڑھ رہی ہے، جس کے بعد پی ڈی ایم کی کمر ٹوٹ گئی،یہ حلقوں میں مہنگائی کی وجہ سے نہیں جا سکتے،چیف جسٹس بندیال کو حقیقت کو سمجھنا اور دیکھنا چاہئے، الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنا ہے کہ الیکشن کب ہونے ہیں، یہ سپریم کورٹ نے طے نہیں کرنا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا مستقبل جیل جیل،جیل جیل ہی ہے، عمران خان کوشش کر رہے ہیں کہ ڈیل ہو جائے اور دو سال کے لئے باہر چلے جائیں، کہہ رہے ہیں چھوڑ دیں تو اچھا بچہ بن جاؤں گا، آپکی مرضی کے مطابق زندگی جیوں گا، لیکن عمران خان اس سٹیج پر آ گئے کہ کسی کو انکی بات پر یقین نہیں، عمران خان کے ہاتھ سے پارٹی نکل گئی ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشرلقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویلاگ میں کہا ہے کہ لندن میں حنا پرویز بٹ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ بھی سو کالڈ پاکستانی تھے، عمران خان کی یہ ٹریننگ ہے کہ اس طرح کی حرکتیں کرنی ہیں، لندن میں قوانین سخت ہیں، اس میں معافی نہیں ہے، ٹویٹر پر دیکھ لیں، سوشل میڈیا دیکھیں جس طرح کی زبان یہ استعمال کرتے ہیں، کوئی بات نہیں ، عمران خان کی بہنیں جب لندن جائیں گے تو ہو سکتا ہے انکو بھی ایسا ہی رویہ برداشت کرنا پڑے، لیکن جب انکو خود پر بات آتی ہے تو اخلاقیات یاد آ جاتی ہیں، دوسروں کے لئے انکے نزدیک کوئی اخلاقیات نہیں، یہ ہمارے ملک کا المیہ ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لندن میں اظہار رائے کی آزادی ہے، آپکو کیا پتہ کون کہاں کا رہنے والا ہے، وہاں پر وکیل کریں، عدالت جائیں،پولیس کو رپورٹ کریں ؟ لندن میں تو چوری کا پرچہ نہیں ہوتا، رپورٹ ہوتی ہے صرف، اس وقت لندن کے برے حالات ہیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم آئے ہیں یہ مڈل کلاس کے آدمی ہیں اور بلوچستان کی نمائندگی کر رہے ہیں اسلئے وہاں کے سردار پریشان ہیں، کہ لوگ اب نہیں سنیں گے، یہ جن لوگوں کو سرداروں نے دبا کر رکھا ہے انکی مدد کرے گا، اختر مینگل نے جو کیا وہ میں نے سنا کہ نواز شریف کے کہنے پر ہی کیا، جمہوریت قتل کرنے کی بات ہے ، جمہوریت کا نام لیا جاتا ہے،اگر جمہوریت پسند ہوتے تو فوری الیکشن کروا دیتے، ایک دوسرے پر لوگوں کو اعتبار نہیں،یہ واحد ملک ہے جس کو نگران حکومت چاہئے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پرویز الہیٰ کے بیٹے کو جب عقل آ جائے گی وہ باہر آ جائیں گے،پرویز الہیٰ بدنصیب آدمی ہے، بیٹا یورپ میں اور باپ جیل میں ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر کہا ہے کہ افشاں لطیف کا نام بھی سنا ہو گا ، پچھلے دو ڈھائی سالوں سے وہ پریس کانفرنس کر رہی ہیں، مسئلہ ہے ایک یتیم خانے کا، ایک بچیوں کے یتیم خانے کا ،وہاں سے لڑکیاں غائب ہوتی ہیں اور بیچی جاتی ہیں، انہوں نے الزام لگائے، عمران خان پر ، بشریٰ پر اور انکے وزیروں پر بھی الزام لگائے،
مبشر لقمان نے افشاں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ الزامات کا تو سب کو پتہ ہے، سابقہ وزیراعظم اور انکی اہلیہ پر کس طرح الزام لگا رہی ہیں، جس کے جواب میں کاشانہ کی سپریڈنڈٹ،افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ یہ وہ سیکنڈل ہے جو 2019 میں اسوقت منظر عام پر آیا جب تھانہ ٹاؤن شپ کی پولیس نے صوبائی وزیرقانون راجہ بشارت کی ایما پر کاشانہ کا مین گیٹ توڑا، مجھے بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا، تھانے لے جا کر میرے شوہر پر جسمانی تشدد کیا گیا، مجھے تھپڑ مارے گئے گالیاں دی گیں اور مجبور کیا گیا کہ پنجاب کے وزرا کے حق میں بیان لکھ کر دوں،
افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ 4 اپریل 2019 کو کاشانہ کی انچارج تعینات ہوئی، اس سے پہلے ایک واقعہ ایسا ہوا تھا جس پر ہم خاموش نہیں رہ سکے، ایک رات چار بجے وزیراعلیٰ کا سیکورٹی افسر کاشانہ میں داخل ہوا، یہ وہ شخص ہے جو کم عمر بچیوں کو ادارے سے باہر لے کر جاتا تھا، جو بچیاں واپس گئیں تو وہ کبھی کاشانہ میں واپس نہیں آئیں، کاشانہ کے ساتھ ٹیکنیکل کالج ہے ،شادی ہال ہے اور سامنے پارک ہے، اسلئے دن میں یہ لوگ کچھ نہیں کر سکتے تھے، یہ واقعہ اس وقت ہوا جب میں سپریڈنڈنٹ نہیں تھی، وہاں بچیوں کا کاروبار کروایا جا رہا تھا،یہاں پر سات سال سے اٹھارہ سال تک کی بچیان ہوتی ہیں، جو بچیاں بیچی جاتیں انکا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا، غیر قانونی ڈونیشن دی جاتی تھی، بچیاں وہاں افسران کی آمدنی کا ذریعہ بنتی رہیں، آڈٹ رپورٹ میں لکھا ہوا کہ پانچ بچیاں مس ہوئیں، جعلی شادیوں کے نام پر ان بچیوں کو پیش کیا گیا، حکومتی رپورٹ میں لکھا ہوا کہ شادی کا کوئی ریکار ڈ موجود نہیں نہ ہی لڑکوں کا کوئی ریکارڈ جن سے شادی ہوئی
افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ بشریٰ بیگم میرے کاشانہ میں تعینات ہونے سے پہلے آئی تھیں،بشریٰ بی بی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے رات کے دو بجے بغیر پروٹوکول ،ان آفیشیل بغیر کسی کو بتائے کاشانہ کا دورہ کیا، بچیوں کو اٹھایا گیا اور عثمان بزدار کے ساتھ بٹھایا گیا، بشریٰ بی بی اور عثمان بزدار کے دوروں کے بعد کاشانہ سے بچیاں غائب ہو گئیں، بشریٰ بی بی کے احکامات پر بچیاں کاشانہ سے لے کر جایا جاتی تھیں اور انکو زمان پارک بھی لے جایا جاتا تھا، جب کاشانہ سیکنڈل میڈیا میں آیا تو فوری طور پر بشریٰ نے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ کے ساتھ انصاف کیا جائے گا، تحقیقات کروا کر مجھے چپ کروایا گیا،میں چپ نہیں رہوں گی، میں مافیا کے خلاف آواز اٹھاتی رہوں گی،لاہور ہائیکورٹ میں بھی میں نے رٹ دائر کی تھی، پی ٹی آئی کی ہی حکومت تھی اسوقت، چار سال ہو گئے ابھی تک جواب جمع نہیں کروایا جا سکا، کیس چلتے رہے،اس کیس میں روایتی سست روی ہے، کیس اداروں کی دیانت کو واضح کر رہا ہے کہ کیسے بچیوں کو بیچا گیا،
مبشر لقما ن آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج راجہ ریاض اور وزیراعظم کی متوقع ملاقات تھی جو ملتوی ہوئی ہے، سپریم کورٹ میں بڑی سخت لڑائی ہوئی ہے، سابق صدر سپریم کورٹ بار اور ایک جج کے مابین، راجہ ریاض اور شہباز شریف کی ملاقات میں تاخیر کیوں ہوئی؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہر آدمی اسٹیبلشمنٹ اسٹیبلشمنٹ کرتا رہتا ہے اور ہر چیز کا ذمہ دار اسکو ٹھہراتا ہے،ہر چیز کا فائدہ بھی پہنچ جاتا ہے، اگر آج آپ اسٹیبلشمنٹ ہوں اور آپشن آئیں تو کیا فیصلہ ہونا چاہئے؟ مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں آج بڑی سخت لڑائی ہوئی ہے، اسکو پڑھ کر سن کر "ساس بھی کبھی بہو تھی” سیریل یاد آ گیا، بہو نے ساس بننا ہوتا ہے اور پھر بہو آتی ہے، وہ بھی پھر ساس ہی بنتی ہے لیکن لڑائی پھر بھی رہتی ہے، وکیل ہی جج بنتے ہیں اور مختلف عدالتوں میں تعینات ہوتے ہیں، جج وکیل کی لڑائی کی سمجھ نہیں آتی، بڑی عجیب سی لڑائیاں ہوتی ہیں، انہوں نے کہا کہ پٹھان اور مہاجر کی لڑائی نہیں ہونی چاہئے، پٹھان یہاں کاروبار کرنے آتا ہے اور مہاجر کلائنٹ ہے، ان دونوں میں تضاد نہیں ہونا چاہئے لیکن ہے، وکیل اور جج کا تضاد نہیں ہونا چاہئے، آج سپریم کورٹ میں کھل کر سامنے آیا ہے،جو وکلا اور ججز ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف راجہ ریاض کو ملنا چاہتے ہیں لیکن وہ مصروف ہیں،شہباز شریف پاور میں ہوں تو عزت بھی ایسے دیتے ہیں تو ایسے جیسے اسکو بتا رہے ہیں کہ میں اسکو عزت دے رہا ہوں، راجہ ریاض سے حکومت کرتے ہوئے تو وزیراعظم نہیں ملے، نہ کبھی بلایا، نامزد نگران وزیراعظم کس کا ہے؟ کسی کا نہیں بلکہ دو لوگ ہی فیصلہ کریں گے اور وہ شہباز شریف اور راجہ ریاض ، اگر دونوں نہیں کرسکے تو الیکشن کمیشن کے پاس نام چلے جائیں گے، حکومت بڑی کوشش کرے گی کہ راجہ ریاض سے رابطہ ہو، اگر نہ ہوئی تو پھر الیکشن کمیشن کا ہی فیصلہ ہو گا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ملک کے حالات دیکھیں، ملک ڈوب رہا ہے، قرضے بڑھ رہے ہیں ، آبادی کا تناسب دیکھیں، ترقی کا تناسب دیکھیں، قرضوں کا حجم دیکھیں، لوکل کمپنی یہاں بند ہو رہی ہیں باہر والوں نے کیا کرنا، آج اسمبلی تحلیل ہو رہی اور تین ماہ بعد الیکشن ہونے ہیں، اور اگر الیکشن آگے لے کر جاتے ہیں تو آگے بھی کئی مسائل ہوں گے، آئینی بحران بھی شروع ہو سکتا ہے، اسوقت اس ملک کو چلانے کا کوئی آسان حل نہیں ، ہماری سیاسی جماعتوں اور سیاسی حکمرانوں نے سب کو ایک دوسرے سے بد ظن کیا ہے،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں جب ریکارڈنگ کر رہا تھا تو اطلاع آئی کہ عمران خان سے وکیل کی جیل میں ملاقات ہوئی اور لائحہ عمل طے کیا گیا کہ اب قانونی طور پر کیا کرنا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ضمانت کی کوئی بات نہیں ہوئی، کیونکہ ضمانت انکے وکیلوں کو بھی پتہ ہے نہیں ہو سکتی، اسکی اپیل میں جا سکتے ہیں اور اپیل سپریم کورٹ میں نہیں ہو گی، بلکہ سپیرئر کورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جا کر وہ اپیل کر سکتے ہیں، اس اپیل میں ری ٹرائل ہو گا، بیانات ہوں گے، گواہ آئیں گے، ڈیفنس آئے گا، توشہ خانہ کا ریکارڈ آئے گا، اس میں اگر عدالت نے فیصلہ کیا کہ یہ کیس صحیح ہے تو پھر یہ سمجھیں کہ جیل کی مدت پر نظر ثانی ہو سکتی ہے، دو سال، تین سال ، چھ سال یا جتنا بھی ٹائم ہو، حتمی طور پر تو اب عدالت ہی بتائے گی،ہم نہیں بتا سکتے،سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ ہو رہا ہے مختلف، میں نے صبح دیکھا کہ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے کہ عمران خان فرش پر سویا، تہجد پڑی، چہل قدمی کی اور ہشاش بشاش تھے، رونا پھر کس بات کا رو رہے ہیں کہ وکیلوں کو بھی نہیں ملنے دیا جا رہا، قریشی، عمر ایوب نے یہ بات کی اور کہا کہ میڈیکل سہولیات مکمل نہیں ہمیں عمران خان کی صحت کے ھوالہ سے تشویش ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو بیماری کونس ہے جس کی وجہ سے وہ نہیں رہ سکتا؟ ابھی تو دو ماہ جیل میں ہونے کی بجائے، دو دن ہوئے ہیں اور یہ حال ہے کہ سب رو رہے ہیں، گاڑی میں عمران خان کی گرفتاری کی تصویر دیکھ کر اب سمجھ آئی کہ وہ کالا چشمہ کیوں پہنتا ہے؟ خمار گرفتاری سے نہیں آتا، کسی اور چیز سے آتا ہے، جبران الیاس کی قیادت میں ایک جھوٹی بریگیڈ ہے، جج دلاور کے خلاف بھی عجیب قسم کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، عمران خان نے لوگوں کو ٹرینڈ کیا کہ اتنا جھوٹ بولو کہ لوگ سچ جاننے لگ جائیں ،وکیل کہتے ہیں کہ ڈیڑھ ماہ میں ضمانت ہو جائے گی، نہیں ہو سکتی ، اور اگر ہو بھی جائے تو باقی کیسز بھی چل رہے ہیں، اس میں بھی سزائیں ہونی ہیں، یہ جو وقت ہے، اگست کا مہینہ، یہ عمران کے لئے بہت برا ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی غائب ہے، زمان پارک میں کسی نے انہیں نہیں دیکھا دو دن سے بتیاں بھی نہیں جلیں، جو لوگ وہاں رہتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ایک بلب تک بھی نہیں چل رہا، کوئی کہتا ہے کہ حراست میں لیتے ہوئے عمران خان کو مارا گیا، خان کا کک کیا کہتا ہے؟ کس پر اعتبار کریں؟ مار پیٹ ہو سکتی ہے اتنے بڑے آدمی کی ، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا