Baaghi TV

Tag: مبشر لقمان

  • سدھر جاؤ، وقت تیزی سے نکل رہا ہے

    سدھر جاؤ، وقت تیزی سے نکل رہا ہے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ رات دبئی سے واپس پہنچا ہوں اور بڑی خبریں ملی ہیں

    سینئر صحافی مشبر لقمان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ نورمقدم قتل کیس میں آج دلائل مکمل ہو گئے ہیں اور اگلے ہفتے فیصلے کا امکان ہے، پولیس نے اس میں بہت گند کی،سب سامنے ہے، درندہ قانون کے ہاتھوں سے نہیں بچ سکے گا، سیشن کورٹ سزا دیتی ہے تو وہ اگلی عدالت میں جائے گا، عدالت کی بات ہو رہی ہے تو عدالت میں محسن بیگ کا کیس بھی لگا ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ نے سماعت کی،محسن بیگ پر تشدد کیا گیا اسکی پسلیاں ٹوٹ گئین، ناک پر بھی زخم، انکو سزا دینے کا مطلب سارے میڈیا کو سزا دینا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ سادہ لباس میں لوگ آئے، خود گھر والوں نے پولیس کو فون کیا کہ ہمارے گھر ڈاکو آ گئے انکو پکڑیں، عدالت اس کیس میں بھی جلد از جلد فیصلہ کرے گی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے بہت زیادہ مسائل ہیں اور خاص کر ان لوگوں کے مسائل ہیں جو پاکستان میں انویسمنٹ کرتے ہیں، ہمارا بھی عجیب المیہ ہے کہ اگر کسی شیخ نے انویسمنٹ کرنی ہو تو ون ونڈو آپریشن شروع کر دیتے اور اگر کسی اپنے ملک کے شہری نے کرنی تو پھر ایئرپورٹ سے ہی ٹیکسی والے اسے لوٹنے شروع کر دیتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب قومیں اپنی غلطیاں نہ مانیں تو وہ پھر مٹ جاتی ہیں،کئی قومیں آئیں اور مت گئیں، تاریخ بھری پڑی ہے،دبئی میں پاکستانی ہیں جو اپنی انویسمنٹ افریقہ لے کر جا رہے ہیں، پاکستان کے انویسٹر پاکستان میں انویسٹ کرتے ہوئے گھبرا رہے ہیں ،حکومت نے اگر سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں نہیں لیتا پالیسی بنانے میں تو وہ پالیسی کبھی دیرپا نہیں ہو گی، جو پانچ سال عوام سے جھوٹ بولے اسکو پانچ سال کے لئے اور حکومت دے دیں اور جو حکومت کو بے نقاب کریں اسکو پانچ سال کے لئے اندر کر دیں،

  • جیت کی کہانی، لاہور قلندر کی زبانی، دل جیتنے کے بعد میچ کیسے جیتے؟

    جیت کی کہانی، لاہور قلندر کی زبانی، دل جیتنے کے بعد میچ کیسے جیتے؟

    جیت کی کہانی، لاہور قلندر کی زبانی، دل جیتنے کے بعد میچ کیسے جیتے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ایس ایل چل رہا ہے ،ہم مانیں یا نہ مانیں اسکا کریڈٹ نجم سیٹھی کو دینا پڑے گا،پی ایس ایل میں ایک ہی ٹیم ہے جس کے ساتھ ہمارا دل ہے اور وہ کچھ عرصے سے ہماری امیدوں پر پوری اتر رہی ہے، لاہور قلندر،قلندر کے خلاف ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ،رانا عاطف لاہور قلندر کے روح رواں ہمارے ساتھ ہیں

    رانا عاطف نے مبشر لقمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دو وجوہات ہیں ایک تو آپ لاہوریئے ہیں اور لاہور لاہور کو بالخٌصوص اور پھر پاکستان کو جتنا اون کرتے ہیں کوئی کم ہی کرتا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کراچی کنگ کی مارکیٹنگ تین تلوار کے اس سائڈ پر ہے، قلندر نہر کے اس سائڈ پر ہے کچی آبادی والے جو لاہوریئے ہیں جو لاہور کو لہوڑ کہتے ہیں ان لوگوں میں ہے، رانا عاطف کا کہنا تھا کہ جب ہم نے فرنچائز لی تھی تو ہم نے سوچا تھا کہ یوتھ کو اور جن لوگوں تک ایکسیس نہیں ان تک دینی ہے، ہم نے ایسے لوگوں کو ساتھ جوڑا، پانچ لاکھ بچوں پر ہم لوگوں نے ٹرائل کیا،ایک عام آدمی کو امید کی کرن دلائی، ایسے پلیٹ فارم بہت کم ہیں اسلئے لوگوں نے پیار دیا، ٹیم کی گراؤنڈ مین اس طرح پرفارمنس نہیں آئی پھر بھی لوگ قلندر سے پیار کرتے ہیں

    سی ای او لاہور قلندر رانا عاطف کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا کام تھا ٹیم بنانا اور اسکی قیادت ینگ بچے کے ہاتھ میں دے دی ہمیں امید ہے کہ ٹیم آگے جائے گی،میچ ہم ہارے بھی کیونکہ ہار جیت گیم کا حصہ ہے،جیت پر قوم یکجا ہوتی ہے، ورلڈ کپ میں بھی قوم کا جزبہ دیکھنے میں ملتا ہے

    رانا عاطف کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد ایک ہے، جب ایک ہی طرح سوچتے ہوں ایک ہی ویژن ہو تو پھر کنٹریکٹ نہیں ہوتے، اچھے پلیئر ہیں مزید اچھے لانے کی کوشش کریں گے،ہم ڈائریکٹلی کسی کو بھی اپروچ نہیں کر سکتے،

  • دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑا معرکہ تیار،روس،امریکہ، برطانیہ نے فوجیں لگا دیں

    دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑا معرکہ تیار،روس،امریکہ، برطانیہ نے فوجیں لگا دیں

    دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑا معرکہ تیار،روس،امریکہ، برطانیہ نے فوجیں لگا دیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہم اپنے اندرونی مسائل مہنگائی ، بے روزگاری ، آئی ایم ایف ، اسٹیٹ بینک اور نواز شریف کی بیماری میں اتنا پھنسے ہوئے ہیں کہ ہم کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک نئی جنگ کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں ۔ اور اس جنگ کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلنے والے ہیں اس تنازعہ کا نام ہے ۔۔۔ یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب ؟؟؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ اس سلسلے میں بھی دنیا دو حصوں میں بٹی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ایک جانب مغرب ہے تو دوسری طرف مشرق ۔ ابھی تو ہر کوئی یہ خدشہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ جنگ ٹلتی نہیں دیکھائی دے رہی ہے اور ساتھ ہی یہ جنگ چھڑ گئی تو معاملہ مزید آگے ہی بڑھے گا ۔ کیونکہ یوکرائن کے معاملے پر دو بڑے پہلوان امریکہ اور روس زور آزمائی کررہے ہیں ۔ خود امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی فوجی کارروائی ہوسکتی ہے، جس سے دنیا کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ جبکہ روس کے صدر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں یوکرائن کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔ وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔ دراصل یہ پھڈا شروع ہی یوکرائن میں امریکی میزائلوں کی تنصیب سے ہوا ہے ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب جب امریکہ روس کی ناک کے نیچے اسکی سرحد ساتھ اپنا جدید اسلحہ لگائے گا تو روس بھی جواب دے گا ۔ اور اسی جواب میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرائن کی سرحدوں پر تقریباً ایک لاکھ کے قریب فوج اکھٹی کردی ہے۔ اس حوالے سے امریکی جنرل مارک میلی کا کہنا ہے کہ اگر یوکرائن پر روس کا حملہ ہوگیا تو اس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوں گی۔ انھوں نے حالیہ روسی فوجیوں کی موجودگی کو بھی سرد جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتی قرار دیا ہے۔ جنگ کی تیاری میں ہی امریکہ نے اب تک تین سو کے قریب Juvenile missile اور بنکر نیست و نابود کرنے والے انتہائی مہلک بم یوکرائن پہنچادیے ہیں۔ جنگ کی صورت میں روس سے گیس کی ترسیل بند ہونے کی صورت میں یورپی ممالک متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ امریکہ اگلے چند روز میں 8,500فوجی یوکرائن یا اس کے آس پاس متعین کر رہا ہے اور یورپ میں موجود 64,000 سپاہیوں کو تیاررہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ۔ اسی لیے روس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے Moldova اور Crimea میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کی ہیں ۔ اس کے علاوہ بحیرہ عرب میں چین کے اشتراک کے ساتھ بحری مشقیں بھی کی ہیں ۔ روس اپنے میزائلوں کو بھی حالت تیاری میں رکھے ہوئے ہے اور یوکرائن کی سرحد پر 60جنگی جہاز اور بمبار تیاری کی انتہائی حالت میں ہیں۔۔ ابھی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دے دیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ہے ۔ ۔ وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی اور یہ فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا ہے ۔۔ اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔۔ پھر روس کے حملے کے پیش نظر صرف امریکا ہی نہیں برطانیہ نے بھی یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جبکہ اس حوالے سے نیٹو افواج کو پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر جاری مذاکرات کے باوجود روس اور امریکا اب تک اس کشیدگی کو کم کرنے کے طریقے کے حوالے سے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ ۔ اگرچہ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اس کا یوکرائن پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم اس نے یہ بھی مطالبہ کر رکھا ہے کہ نیٹو پہلے یہ وعدہ کرے کہ وہ کبھی بھی اپنے اتحاد میں Kiev کٓو رکنیت کی اجازت نہیں دے گا۔ روس کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ نیٹو اتحاد مشرقی یورپ سے اپنی افواج کو واپس بلائے اور روس کی سرحدوں کے قریب ہتھیاروں کی تعیناتی اور فوجی سرگرمیوں کو ختم کرے۔ ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور نیٹو دونوں نے ہی روس کے مطالبات کو ناممکن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ امریکا نے دھمکی دی ہے کہ اگر ماسکو نے سرحد پر اپنی فوجی کارروائی جاری رکھی تو اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔۔ دراصل یہ سارا مسئلہ شروع ہی تب ہوا جب امریکی قیادت میں نیٹو اتحاد نے یوکرائن کی ممبر شپ کی درخواست کو منظور کر لیا۔ یوکرائن ابھی تک نیٹو کا شراکت دار ملک ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرائن کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔ روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ لیکن مغرب اس کے لیے تیار نہیں ہے ۔۔ امریکی وزیر خارجہ Anthony Blanken اور ان کے روسی ہم منصب Sergei Lavrov کے درمیان جنوری کے اوائل میں اس معاملے پر بات چیت ہوئی تھی، تاہم ان سفارتی کوششوں کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ ۔ صدر جو بائیڈن اور ولادیمیر پوٹن کے درمیان بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی تاہم اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔۔ اب برطانوی وزیر اعظم Boris Johnson بھی یوکرائن کے صدر Vladimir Zelensky سے بات کرنے کے لیے Kievپہنچے ہیں تاکہ کشیدگی کو کسی طرح کم کیا جا سکے۔۔ اس حوالے سے یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرائن ہمارا ہمسایہ اور ساجھے دار ہے۔ اس کی سلامتی ہماری بھی سلامتی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تو ترکی کے صدر ایردوگان نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ روس یوکرائن پر حملے یا قبضے کا راستہ اختیار نہ کرے۔ اگر روس اور یوکرائن کے صدور چاہیں تو ہم انہیں اپنے ملک میں مذاکراتی میز پر لا کر بحالی امن کے لئے راستہ کھول سکتے ہیں۔ ۔ پھر یوکرائن کے اس مسئلے کو بھارت میں خاصی تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ 1962 میں جب بڑی طاقتیں کیوبا میں روسی میزائل کے معاملے کو سلجھانے میں مصروف تھیں تو اس کا فائدہ اٹھاکر چین نے بھارت پر فوج کشی کرکے اس سے 43,000مربع کلومیٹر کا علاقہ ہتھیا لیاتھا۔ تاریخ شاید ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے۔ کیونکہ 2020ء سے 60 سال کے بعد چینی اور بھارتی افواج ایک بار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور بڑی طاقتیں یوکرائن میں برسر پیکار ہیں۔ کل تو راہول گاندھی نے بھی اس حوالے سے خوب چینخ وپکار کی ہے ۔ اور مودی کو خوب کوسا بھی ہے ۔ ۔ یوکرائن کے تنازعہ کی وجہ سے امریکہ فی الحال چین کو قابو میں رکھنے کی اپنی ایشیا پیسفک پالیسی بھی بھول چکا ہے اور اس خطے میں اس نے اپنے اتحادیوں کو بڑی حد تک اب چین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ چین بھی 1962ء کے مقابلے اب خودہی ایک فوجی اور اقتصادی طاقت ہے۔ جو بڑی حد تک امریکہ کے ہم پلہ ہے اور روس اسکے ایک اتحادی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اسی لیے بھارت اپنے آپ کو مزید تنہا محسوس کر رہا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر یوکرائن والے معاملے کو لے کر سلامتی کونسل میں بھی بہت شور شرابہ ہوا ہے ۔ بلکہ اس کاروائی کو رپورٹ کرنے والوں کا کہنا تھا کہ منظر بالکل ایسا تھا جیسے ہماری پارلیمان کے اجلاس کا ہوتا ہے ۔۔ اب اس اجلاس میں جہاں واشنگٹن نے کہا کہ روسی فوج کی تعیناتی بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ تو روس کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کو PR Stunt قرار دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس پر Hysteria پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔۔ پھر امریکا نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ روس آنے والے ہفتوں میں بیلاروس میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر 30,000 کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ وہ یوکرائن کی سرحد کے قریب منتقل ہونے والے اپنے ایک لاکھ فوجیوں میں مزید اضافہ کر سکے۔ تاہم بیلاروس کے نمائندے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ اسے یوکرائن پر روسی حملے کے لیے staging ground کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ روس اس معاملے پر کھلے اجلاس کے مطالبے کی مخالفت کر رہا تھا۔ اس کے باوجود امریکا سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 10 کو عوامی اجلاس کی حمایت کرنے پر راضی کر سکا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن سلامتی کونسل کی طرف سے اس معاملے میں کسی بھی رسمی کارروائی کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف جہاں روس کو ویٹو پاور حاصل ہے وہیں چین سمیت سلامتی کونسل کے دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ جنہوں نے اس مسئلے پر کھلی میٹنگ کو روکنے کی ماسکو کی کوششوں کی حمایت بھی کی ہے۔۔ اقوام متحدہ میں بیجنگ کے ایلچی Zhang Jun نے کہا۔ واقعی یہی مناسب وقت ہے کہ خاموش سفارت کاری کا مطالبہ کیا جائے۔

    ۔ یوں سلامتی کونسل کے اس دو گھنٹے سے زائد وقت کے اجلاس میں خوب گرما گرمی رہی ۔ ماسکو کی نمائندہ Vasily Nebenzia نے الزام لگایا کہ امریکا Kiev میں خالصتاً نازیوں کو اقتدار میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تو اس پر امریکی سفیر Linda Thomas Greenfield نے جواباً کہا کہ یوکرائن کی سرحدوں پر روس کی جانب سے ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت یورپ میں گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے سائبر حملوں اور غلط معلومات پھیلانے میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ وہ بغیر کسی حقیقت کے ہی یوکرائن اور مغربی ممالک کو حملہ آور کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حملے کا بہانہ بنایا جا سکے۔ اس کے جواب میں روسی سفیر نے مغرب پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا، ہمارے مغربی ساتھی کشیدگی میں کمی کی ضرورت کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم، سب سے پہلے، وہ خود ہی کشیدگی اور بیان بازی کو ہوا دے رہے ہیں اور اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں۔ تھوڑا پیچھے جائیں تویوکرائن 1991تک سوویت یونین کا حصہ تھا۔ یوکرائن میں رہنے والے روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے ان کے روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ یوں روس یوکرائن کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے۔ روس کا خیال ہے کہ نیٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی مزید اسلحہ اسکی سرحد کے پاس اکٹھا کریں گے۔ دیکھا جائے تو افغانستان سے انخلاء کے بعد امریکہ روس کو اور چین کو قابو میں کرنے کیلئے ایشیاء بحرالکاہل کے خطے سمیت بلقان ملکوں کے علاوہ وسط ایشیاء میں بھی پیر جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس پر روس اور چین ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ اس سلسلے میں یہ دونوں امریکی اتحادیوں کو سبق بھی سیکھنا چاہتے ہیں ۔ اسی لیے روس نے یوکرائن سمیت یورپ اور چین نے بھارت سمیت تائیوان کو خوب ٹائٹ کیا ہوا ہے

  • چین غصے میں، وزیراعظم معافی مانگیں گے؟

    چین غصے میں، وزیراعظم معافی مانگیں گے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل عمران خان کے دورہ چین کا بہت شور مچا ہوا ہے ۔ وزیر مشیر بھانت بھانت کی چیزیں نکال کے لارہے ہیں کہ کپتان جب چین کی سرزمین پر قدم رکھے گا تو پتہ نہیں کیا ۔۔۔ انی ۔۔۔ مچا دینی ہے ۔ ۔ حالانکہ سچ اور حقیقت یہ ہے عمران خان نے اپنے ہاتھوں سے سی پیک کو دفن کرنے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ اس لیے اس دورہ کے شروع ہونے سے پہلے ہی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ ۔ کیا عمران خان چین کا ناکام دورہ کرنے جا رہے ہیں ؟؟؟۔ کیونکہ اس وقت جو اطلاعات اور خبریں وزارت خارجہ سے باہر نکل رہی ہیں ان کے مطابق بڑے مشکل حالات میں یہ دورہ ہونے جارہا ہے ۔ چینی قیادت بھی پاکستانی عوام کی طرح کپتان سے ناراض دیکھائی دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ پہلے ایک ملک کا سربراہ عمران خان کا فون نہیں اٹھاتا تھا تو دوسرا فون نہیں کرتا تھا ۔ اور اب شاید تیسرا کے بارے کہا جائے کہ وہ اپنے گھر بلا کر ملتا بھی نہیں ۔ ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ میری دعا ہے اور خواہش بھی ہے کہ یہ ملاقات ہوجائے ۔ کیونکہ عمران خان سے تمام تر اختلاف کے باوجود یہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یاد کروادوں کہ گذشتہ سال داسو میں دہشت گرد حملے میں چینی کارکنوں کی ہلاکتوں اور سی پیک کی سست روی کی وجہ سے چین اور پاکستان کے تعلقات سردمہری کا شکار رہے ہیں۔ اس حوالے سے بڑی کھل کر میڈیا پر بھی بات ہوتی رہی ہے اور چینی کمپنیوں کے عہدیداروں سمیت دیگر چینی ۔۔۔ پاکستانیوں سے برملا اس کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں ۔ ایک دو ایسی ملاقاتوں کا تو میں خود بھی راوی ہوں ۔ ۔ اسٹوری کچھ یوں ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر سرمائی اولمپکس کی تقریبات میں شرکت کے لیے تین سے پانچ فروری کے دوران بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ پر ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق عمران خان کی ملاقات صرف چینی وزیر اعظم سے کروائی جائیگی ۔ صدر شی جن پنگ نہیں ملیں گے ۔ یہاں تک کہ سائیڈ لائن پر بھی ان دونوں کی ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ ۔ دراصل عمران خان کے دورے کا مقصد بیجنگ کے سی پیک اور پاکستان میں چینی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات دور کرنا اور دونوں پڑوسی ممالک کے دیرینہ اوردوستانہ تعلقات کے تاثر کو قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ آسان الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں چینیوں نے عمران خان کو جواب طلبی کے لیے بلایا ہے ۔ کہ بھائی جان ان تین سالوں میں سی پیک پر آپ نے کیا progressکی ہے ۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ گزشتہ کئی دنوں سے کپتان نے ۔۔۔ سی پیک ۔۔۔۔۔۔ سی پیک ۔۔۔کی گردان شروع کی ہوئی ہے ۔ ۔ جیسے چند روز پہلے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک سے غربت کے خاتمے اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی چین کا ماڈل اپنانا چاہتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تو پہلے تین سال تک یہ سب کچھ بھولے ہوئے اب دو تین روز پہلے عمران خان کہہ رہے تھے کہ سی پیک پاکستان اور چین کا بہترین مشترکہ منصوبہ ہے ۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے پرعزم ہیں۔ ۔ آجکل ان کو یہ سب کچھ بہت یاد آرہا ہے ۔ حالانکہ اس دور حکومت میں سی پیک کو عملی طور پر رول بیک کرنے پوری پوری کوشش ہوئی ۔ ۔ صورتحال یہ ہے کہ اب امریکہ نے ہم سے تمام کام کروا لیے ہیں ۔ افغانستان سے وہ بخیر و عافیت نکل چکا ہے اور ہماری ان کو ضرورت نہیں رہی ہے تو انھوں نے تو ہم کو مکمل طور پر جواب دیا ہوا ہے ۔ حالانکہ ہم نے بڑی کوشش کی ۔ کہ جوبائیڈن کم ازکم ہمارے وزیراعظم کو فون ہی کرلے ۔ مگر ہم کو ہمیشہ ٹکا سا ہی جواب ملا ہے ۔ اب کیونکہ ہم کو امریکہ بھی لفٹ نہیں کروا رہا ہے ۔ بھارت کے ساتھ بھی تجارت نہیں شروع ہوپارہی ہے ۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ بھی معاملات کچھ بہتر نہیں۔ بردار اسلامی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات آپ کے سامنے ہیں ۔ تو لے دے کر صرف چین ہی بچتا ہے ۔اسی لیے کپتان اب بچھے بچھے جا رہے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ سے یہ ڈپلومیٹ الفاظ استعمال نہیں ہوتے ۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان اب چین معافی مانگنے جارہے ہیں ۔ اور یہ اتنی آسانی سے نہیں ملنی ۔ اب کی بار بیجنگ سے بھی ہم کو ایک لمبی لسٹ ملنی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔ ہاتھاں نال لائیں گنڈاں داندان نال کھولنیاں پیندی نے ۔۔۔ عمران خان کے دورے کا دوسرا مقصد پاکستان کی طرف سے اسلام آباد اور بیجنگ کے دوستانہ روابط کا تاثر دینا ہے۔ کیونکہ آپ دیکھیں دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں رہ گیا جو ہمارا ساتھ دیتا ہو ۔ چاہے ہمارے بردار اسلامی ممالک کیوں نہ ہوں ۔ واحد چین ہی آخری سہارا رہ گیا ہے ۔ عمران خان نے داسو واقعہ کے بعد اس سرمائی اولمپکس کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا ہے کہ چین کے ساتھ کھڑا ہوا جائے کیونکہ بہت سے ممالک نے ان اولمپکس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے ۔ جبکہ اس اولمپکس میں اب وزیراعظم پاکستان شرکت کریں گے تو دنیا کے ساتھ ساتھ چین کے اندر بھی پاکستان کی جانب سے ایک اچھا پیغام جائے گا ۔ پر اس سب کے ساتھ عمران خان کے دورے کے دوران چین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر غور ہوگا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم سے ملاقات ہوئی ۔ اور لگتا ہے یقیناً اس ملاقات میں بھی چین کی جانب سے سی پیک اور اس کے ورکرز کی سکیورٹی سے متعلق سوالات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر گفتگو ہوئی ہوگی ۔ ۔ عمران خان فوجی قیادت سے علیحدہ ملاقات کے علاوہ وفاقی وزرا اور سی پیک کے متعلقہ حکام سے بھی ملے تھے جنھوں نے وزیر اعظم کو چین کے دورے سے متعلق بریفنگ دی تھی۔ یعنی ادارے ہوں یا دیگر سب ہی عمران خان کو اس حوالے سے بریف کررہے ہیں کیونکہ یہ دورہ بڑا حساس ہے ۔ ایک غلطی پاکستان کو اس کے دیرینہ دوست سے دور کر سکتی ہے ۔ کیونکہ اس دورے کا ایک ہی بنیادی مقصد ہے کہ بیجنگ کا اسلام آباد پر اعتماد کسی طرح بحال ہو جائے۔ ۔ پھر عمران خان کی بیجنگ میں موجودگی کے دوران روسی صدر ولاد میر پیوتن سے بھی ملاقات ممکن ہے۔ یوکرائن کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ حالیہ تناؤکے سبب روس خطے میں اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہے گا اور اس سلسلے میں پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ افغانستان کی وجہ سے بھی پاکستان کی اہمیت بنتی ہے اور چین اور روس کے افغانستان میں مفادات موجود ہیں، جن وہ ضرور تحفظ کرنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یوں اگر عمران خان چینی قیادت اور روسی صدر سے ملاقاتوں کے پاکستان کا کیس صحیح طرح اٹھا لیں تو پاکستان کے حق میں بہت بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ پر اگر وہاں جا کر بھی انھوں نے اپنی ملکی سیاست ، اپنا مغرب اور تاریخ بارے علم بتانا شروع کردیا اور وزارت خارجہ کی جانب سے دیے گئے پوائنٹس اور معاملات تک نہ رہے تومعذرت کے ساتھ کامیابی کے امکانات کم ہیں ۔ ۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو اس دورہ کی کامیابی کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ پاکستان چین سے 3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ ۔ یاد رہے چین پہلے ہی کمرشل قرضوں اور فارن ایکسچینج ریزرو سپورٹ اقدامات کی شکل میں پاکستان کو11 ارب ڈالر دے چکا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر قرضہ ملا تھا جو پاکستان خرچ کر چکا ہے۔ سعودی قرضہ ملنے سے پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر15.9ارب ڈالر تھے جو رواں ماہ پھر16ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔۔ وزیراعظم ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ فنانس، ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں چین سے معاونت کی درخواست کرینگے۔ کل کے روز انکے دورے کا ایجنڈا ترتیب دینے کیلئے حتمی اجلاس ہوگا۔ میرے خیال سے وزیر اعظم جو تجاویز پیش کی جائیں اور جو باتیں بریف کی جائیں اس پر ہی عمل کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ہی پاکستان کے لیے بہتر ہوگا ۔ ۔ یہاں اس بات کی نشاندہی کر دوں کہ یہ جو سینیٹر فیصل جاوید خان نے وزیر اعظم عمران خان ، سابق صدر و جنرل پرویز مشرف ، آصف زرداری اور نواز شریف کے بیرون ممالک دوروں پر آنے والے اخراجات کا موازنہ پیش کر دیا ہے ۔ اس موقع پر یہ اس دورے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہا ہے یہ آپکو domestic politicsکے لیے تو شاید فائدہ مند ہو ۔ پاکستان کے لیے کسی صورت فائدہ مند نہیں ۔ اگر انھوں نے موازنہ پیش کرنا ہی ہے تو زرداری ، مشرف ، نواز شریف اور عمران خان کے دوروں کا یہ موازنہ پیش کریں کہ کس نے کیا کیا کامیابی حاصل کی ۔ سچ پوچھیں تو اس میں یقیناً عمران خان کا نام سب سے آخر میں ہی آئے گا ۔۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی حکمران آیا ہے ڈکیٹیر ہو یا جمہوری ۔۔۔ اس نے بڑی اچھی طریقے سے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بحال رکھے ہیں یہ پہلا دور ہے جس میں ہمارے ملک مسائل تو بڑھے ہی ہیں ساتھ ہی خارجہ محاذ پر بھی ہمارے تعلقات خراب ہی ہوئے ہیں ٹھیک نہیں رہے ۔

  • حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟

    حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اب اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں پی ٹی آئی نے جو اس ملک کے ساتھ کیا ہے وہ شاید کوئی نہیں کر سکا ہے ۔ اس وقت ایک بے یقیقنی کی کیفیت ہے ۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ آگے کیا ہوگا ۔ معیشت کیسے ٹھیک ہوگی ، کب ٹھیک ہوگی ۔ پھر سٹریٹ کرائم سمیت دہشت گردی نے بھی ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔ دن دیہاڑے لاہور جیسے شہر میں دھماکہ ہوجاتا ہے تو اب دن دیہاڑے صحافی پریس کلب کے باہر قتل بھی ہونا شروع ہوچکے ہیں ۔ یہ حالات خود بخود نہیں ہوئے اس کی قصور وار حکومت ہے ۔ کیونکہ پنجاب پولیس سمیت ہرسرکاری محکمے کو اس حکومت نے صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کا ادارہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دراصل عمران خان نے اس ملک کو ایک ایسے اندھے کنویں دھکیل دیا ہے ۔ کہ اب شاید کسی کے پاس کوئی حل نہیں رہ گیا ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ پوری کی پوری حکومت اور پارٹی کے ہاتھ پاوں پھولے ہوئے ہیں ۔ تو غلط نہ ہوگا ۔ اس وقت پوری پی ٹی آئی میں عمران خان سے لے کر نیچے تک ہرکوئی یہ منجن پیچنے کی کوششوں میں ہے کہ سارا قصور میڈیا کا ہے ۔ حالانکہ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ قصور وار کون ہے ۔ اب جب پکڑ پکڑ کر لائے گئے کبوتروں کا پھر سے اڑ جانے کا وقت ہوچکا ہے تو ان کے بیانات دیکھ لیں ۔ بلکہ ان کی حرکتیں دیکھ لیں ۔ کیا کسی statesmanکو ملک کے وزیر اعظم کو ایسی باتیں زیب دیتی ہیں ۔ جو عمران خان تقریریں فرما رہے ہیں ۔ ۔ پھرعوام کو فضول کی بحثوں میں مشغول رکھنے کی بھونڈی واردات ڈالی جاتی ہے ۔ کہ نظام ہی ٹھیک نہیں ہے حالانکہ مسئلہ نظام میں نہیں ۔ ۔ مسئلہ پی ٹی آئی میں ہے ۔ ۔ مسئلہ امپورٹ کیے ہوئے مشیروں میں ہے ۔ ۔ مسئلہ اے ٹی ایم وزیروں میں ہے ۔۔ مسئلہ کرائے کے ترجمانوں میں ہے ۔ اور سب سے بڑا مسئلہ عمران خان میں ہے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں ۔ مسئلہ کپتان کی انا ہے ۔ کہ پنجاب میں وسیم اکرم پلس اور کے پی کے میں محمود خان سے بہتر کوئی ہے ہی نہیں ۔ چاہے عوام ان کی بیڈگورننس کے سبب ایڑھیاں رگڑ رگڑ مر جائے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت نہ شفاف ہے نہ ہی صاف ہے ۔ جتنی نااہلی اور کرپشن اس دور میں ہے ۔ اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔ یہ تو جس دن جائیں گے تو عوام کو پتہ چلے گا کہ ۔۔۔ ۔ اور کس کس کی پی ٹی آئی کی بدولت محرومیاں ایسی دور ہوئی ہیں کہ وہ ارب پتی کیا کھرب پتی بن گئے ہیں ۔ ۔ میرے کپتان ریاست مدینہ یا اخلاقیات کا جتنا مرضی ورد کرلیں مگر سچ یہ ہے کہ میرٹ کو نہیں مانتے۔ یہ پیپلزپارٹی یا ن لیگ پر جتنی مرضی تنقید کریں کہ یہ Friends & Familyکو ہی نوازتے ہیں تو یہ ہی چیز عمران خان پر بھی ٹھیک بیٹھتی ہے کہ ان کے اردگرد بھی ان کے دوست اور صرف خوشامدی ہی ہیں ۔ یوں میرٹ کا جو قتل اس دور میں ہوا اسکی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ ۔ پھر جتنی بھی آج تک آئین اور قانون کی انھوں نے باتیں کی ہیں کسی ایک پر بھی عمل نہیں ۔ کیونکہ حکمران بن کر کپتان نے آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری پر یقین چھوڑ دیا ہے ۔ یہ میں کوئی ہوا میں تیر نہیں چلا رہا ہوں ۔ جس طریقے سے قوانین انھوں نے پارلیمنٹ سے پاس کروائے ہیں جس طرح انھوں نے پارلیمنٹ کو بے وقعت کیا ہے ۔ کیا کبھی اس سے پہلے ایسا ہوا ہے ۔ جیسے کپتان کے دور میں نیب ہو ، اپنے وزیروں پر کرپشن کیسسز ہوں ، فیصل واڈا والا معاملہ ہی دیکھ لیں یا پھر فارن فنڈنگ کیس ہی ہو ۔ تو کس منہ سے پی ٹی آئی دعوی کر سکتی ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو تو ربڑ اسٹیپ کیا ہی یہاں تک کہ کابینہ کو بھی انھوں نے کچن کیبنٹ بننے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ اقرباء پروری اور سفارش کلچر جو اس دور میں پروان چڑھا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا ۔ ۔ آپ دیکھیں اس قوم کے ساتھ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ جو پارٹی الیکشن میں دھاندلی کے خلاف 126دن تک دھرنے دیے اسلام آباد میں بیٹھی رہی ۔ جب اس کو حکومت ملی تو ننگے ہوکر اس نے دھاندلی خود کی ۔ کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن ہوں یا پھر ڈسکہ میں ضمنی انتخابات کس سے کیا چھپا ہوا ہے کس کو نہیں معلوم کہ اس دور میں کون ووٹ چوری میں ملوث رہا ہے ۔ ۔ پھر بیوروکریسی اچھی ہے یا بری ہے ۔ مگر جس طرح پی ٹی آئی نے ان کو تباہ وبرباد کرنے کی کوشش کی ہے اس کی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ عملی طور پر پی ٹی آئی نے سرکاری افسروں کو اپنا ذاتی غلام بنانے کی کوشش کی ۔ ان کو اپنی سیاست چمکانے سمیت مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی لیے پولیس ہو ، نیب ہو، ایف آئی ہو یا ایف بی آر، کسی بھی ادارے کا نام لےلیں سب کو اپنی من مرضی سے چلانا اور اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنا ہی پی ٹی آئی کی سیاست اور حکمرانی کا اہم جزورہا ہے ۔ ۔ آزادی اظہار کا جتنا گلا اس دور میں گھوٹا گیا کیا ماضی میں کبھی نہیں ہوا ۔ بلکہ بہت سوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ کپتان نے ضیاالحق دور کی یادیں تازہ کروادیں ۔ صرف صحافی ہی نہیں کون کون کب کب کہاں کہاں سے اٹھایا گیا ہے اگر کوئی اس لسٹ کو compileکرلے تو اس حکومت کے خلاف ایک لمبی چوڑی چارج شیٹ بن جائے ۔ پھر جو پاکستان کی فارن پالیسی کا مذاق اس دور میں بنا ہے اس سے پہلے نہیں بنا ۔ حکومت کی تمام توجہ یہ ہی رہی کہ عمران خان نے تقریر کتنی اچھی کی ۔ ہاتھ کیسا ملایا ۔ کپڑے کیسے پہنے ۔ اسٹائل کیا مارا ۔ مگر عمران خان کی تقریروں سے جو نقصان ہوا وہ نہیں بتایا گیا ۔ کیونکہ معاملہ فہمی تو ان کے پاس سے بھی نہیں گزری ۔ سچ یہ ہے کہ دنیا میں مسئلہ کشمیر پر اب ہماری آواز سننے کو کوئی تیار نہیں ۔ پھر افغان مسئلے کے بعد مغرب سمیت ہمارے بہت سے دوست برادر اسلامی ممالک بھی اب ہم سے کنی کتراتے ہیں ۔ واحد چین ہے جو ہمارے ساتھ کھڑا ہے ویسے اس کو بھی پاکستان سے متنفر کرنے کی عمران خان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کیونکہ جس طرح اس دور میں سی پیک کو سپوتاژ کرنے کی کوشش ہوئی ۔ ایسا نہ زرداری دور میں ہوا نہ ہی نواز شریف دور میں ہوا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہم یہ سوالات اٹھاتے ہیں تو عمران خان برا مناتے ہیں۔ ان کی پارٹی ، انکے وزیر ہم کو صحافت سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ بہترین طرز حکمرانی کے متعلق ماضی میں عمران خان کیا کیا باتیں کیاکرتے تھے،کیا کیا وعدے اُنہوں نے نہیں کیے، اصلاحات اصلاحات کے نعرے لگائے، الیکشن منشور میں وعدے بھی کیے لیکن عمل زیرو ہوا ۔ بلکہ الٹا ہمارے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ یہاں تک کہ بڑے شہر بدبو اور کچرے کا ڈھیر بن کر رہ گئے ہیں ۔ ۔ اب ایک ایک کرکے ان کی ہر چیز ایکسپوز ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ جیسے اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ جناب وزیراعظم کا تھا۔ جناب اسد عمر کے مطابق جن رپورٹس کی بنیاد پہ قائد مسلم لیگ ن کی جو میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں وہ جھوٹی نکلی اور بھی انھوں نے بہت کچھ کہا اور جو بھی کہا وہ بہت بڑی بڑی شہہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی نمایاں خبر بنی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اب جو نواز شریف کو وطن واپس لانے کے روز ٹی وی پر دعوے کیے جاتے ہیں یہ بھی سب جھوٹ کا پلندہ ہیں کیونکہ ان کے اپنے سابق مشیرِ احتساب شہزاد اکبر نے 18 جنوری کو ہونے والے کابینہ کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس کو بتایا ہے کہ نوازشریف کو برطانیہ سے واپس لایا جانا آسان نہیں۔ انہوں نے اجلاس میں عارف نقوی کا حوالہ بھی دیا تھا کہ کس طرح امریکہ، برطانیہ سے عارف نقوی کی حوالگی کے لیے بے بس ہوا بیٹھاہے۔ ۔ تو آجکل یہ جو اٹارنی جنرل خط لکھ رہے ہیں ۔ شہباز شریف کو کیسوں میں گھسیٹنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ جو دوبارہ سے خصوصی میڈیکل بورڈ بن رہے ہیں۔ کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں یہ سب ڈھکوسلا ہے۔ اسے سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ۔ مجھے عمران خان کی ایک بات یاد ہے جو انھوں نے دھرنے کے دنوں میں کہی تھی کہ میں وزیر اعظم بن گیا تو۔۔۔ ۔۔۔ میرے پاکستانیوں !! میں آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ۔۔۔۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس وقت عمران خان صرف جھوٹ بول رہے تھے ۔

  • دما دم مست قلندر شروع،امپورٹڈ مشیروں کی دوڑیں، پہلا استعفی آ گیا

    دما دم مست قلندر شروع،امپورٹڈ مشیروں کی دوڑیں، پہلا استعفی آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل وزیر اعظم عمران خان کی پبلک کالز پر تقریر سن کر ایک شعر میرے ذہن میں آیا۔
    آپ کے لیے بھی ارشاد فرما دیتا ہون۔
    تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا،
    اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے عمران خان کی باتیں سن کر ایسا لگتا ہے کہ ان کے درباریوں نے انہیں انتہائی خود فریبی کا شکار کر دیا ہے۔ قوم سے وہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے بادشاہ حضور احسان فرما رہے ہوں۔
    جب کبھی برا وقت آتا ہے یا ان سے ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے وہ آگے سے احسان جتانا شروع کر دیتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب کوئی ہے کہ جو ان سے پوچھے کہ آپ سیاست میں کیوں تشریف لائے، آپ نے جھوٹے وعدے کیوں کیے، آپ حالات سے اتنے نا علم تھے کہ اب کہتے ہیں میں کچھ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا، عوام اور ادارے میرا ساتھ دیں۔ عوام کیا ڈنڈے لے کر سڑکوں پر آجائے، آپ کو ووٹ دے دیا، ملک کا وزیر اعظم بنوا دیا۔ سارے گورنر، وزیر اعلی، وزیر ،مشیر، اداروں کے سربراہ آپ کی مرضی کے لگ گئے۔
    کس کس کو اٹھاکر لگا دیا ہے اور انہیں وسیم اکرم پلس کا خطاب دے دیا ہے۔انسان کو کیا چاہیے ہوتا ہے، طاقت وہ آپ نے حاصل کر لی۔ پھر پیسا اس کی آپ کو ضروت نہیں کیونکہ جب ATMکارڈ جیب میں ہو تو پیسہ جیب میں نہیں رکھا جاتا آج کل ویسے بھی ڈیجیٹل دور ہے۔کیوں آپ نے چن چن کر اپنی پارٹی کی ATM کواعلی عہدوں پر بیٹھایا۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے آپ کی خدمت کر کے اعلی سرکاری عہدے حاصل کیے اور پھر انہوں نے ملک کو بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ ملک کس کے فیصلوں کی وجہ سے برباد ہوا ہے۔ عوام کا بیڑا غرق ہوا ہوا ہے اور آپ فرما رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔آپ سے کس نے کہا تھا کہ حضرت عمر کی مثالیں دے دے کر لوگوں کو بے وقوف بنائیں ، کیوں آپ نے اپنا ہوم ورک اقتدار میں آنے سے پہلے ختم نہیں کیا۔ اقتدار مین آکر بھی ساڑھے تین سال ہو گئے ہیں اور آپ کو کچھ نہیں پتا کہ کیا کرنا ہے۔ کیوں سارے فصلی بٹیرے اپنی کابینہ میں شامل کیے، کیوں اقتدار کی خاطر کمپرومائز کیا کس نے آپ کی منتین کی تھی۔ قوم پر قرضہ ڈبل کر کے، آئی ایم ایف کا غلام بنا کر، لوگون کو بے روز گار کر کے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ میرے پاس سب کچھ تھا، مجھے کیا ضرورت ہے دو ٹکے کے لوگوں کی باتیں سننے کی۔آپ کے پرانے ساتھی آپ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں، آپ کے نظریاتی ساتھی آپ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔
    آپ کے پاس سب کچھ تھا تو یہاں قوم کا وقت خراب کرنے کیوں آئے، آپ کو اپنے جھوٹے دعوے اور جھوٹے وعدوں پر جواب دینا ہو گا، آپ کی حکومت اور وزیروں مشروں کے جو ساڑھے تین سال میں اربوں روپے لگے ہیں اس کا جواب دینا ہو گا،روزانہ جو آپ ہیلی کاپٹروں کی سیریں کر رہے ہیں اس کا بھی جواب دینا ہو گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان فرماتے ہیں کہ اگر میں حکومت سے باہر نکل گیاتو زیادہ خطرناک ہوں گا‘ابھی تک تو میں چپ ہوں اور تماشے دیکھ رہاہوں ۔اگرسڑکوں پر نکل آیاتو آپ کیلئے چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی ۔پینتیس سالوں میں سب نے ملکر جو ملک کے ساتھ کیا ہے لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں ۔آپ سمجھ جائیں جو لاوا نیچے پک رہاہے ۔لوگوں کو صرف آپ کی طرف دکھانا ہے ۔پھر کوئی لندن بھاگ رہاہوگا ۔پہلے بھی لوگ بھاگے ہوئے ہیں ۔باقی بھی ادھر جارہے ہوں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ وہ دھمکی ہے جو سمجھا جا رہا ہے کہ عمران خان نے اپنی مان مانی کرنے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کو دھمکی دی ہے، انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن واقفان حال جان گئے ہیں کہ پس منظر میں کیا چل رہا ہے، میں نے ایک ویڈیو کی تھی وہ تیر جو عمران خان کے لیے شہتیر بن سکتا ہے اس میں معاملات کھل کے بیان کیے تھے کہ عمران خان اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اہم تعیناتی اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس دھمکی پر سلیم صافی کا کہنا ہے کہمیں بھی آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا۔ آپ جن کو دھمکی دے رہے ہیں ،اب وہ آپ کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں۔۔آپ نے ابھی تک صرف ان کی لاڈ دیکھی ہے، مار نہیں۔۔۔اگر آپ کے خلاف پہلے وعدہ معاف گواہ اسد عمراور زلفی بخاری نہ بنے تو میرا نام شبلی فراز رکھ لیں۔دھمکیوں پر مریم نواز کا کہنا ہے کہ آپ کی دھمکیاں کہ اقتدار سے نکالا گیا تو مزید خطرناک ہو جاؤں گا گیدڑ بھبکیوں کے سوا کچھ نہیں۔ جس دن آپ اقتدار سے نکلے عوام شکرانے کے نفل پڑھیں گے۔ نا آپ نواز شریف ہیں جس کے پیچھے عوام کھڑی تھی نا ہی آپ بیچارے اور مظلوم ہیں۔ آپ سازشی ہیں اور مکافات عمل کا شکار ہوئے ہیں۔ مشرف زیدی اس پر ٹویٹ کرتے ہیں کہلوگوں میں انتشاری کیفیت پیدا کرکے کرسی پر سوار رہنا؟ کیا یہ ہے، ان کی سوچ میں انصاف پھیلانا؟ یہ کس طرح کی گفتگو ہے ؟ یہ کیا پاکستای عوام کو دھمکی دے رہے ہیں، یا ان کو جنہوں نے ان کا چناؤ کیا تھا؟ افسوس۔

    اس کے بعد وزیر اعظم صاحب فرماتے ہیں کہ پرویز مشرف نے دوخاندانوں کو این آراو دیکر ظلم کیا‘قوم جانتی ہے اپوزیشن کا وقت ختم ہوچکا ہے شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر نہیں قوم کا مجرم سمجھتا ہوں اس نے 8 ارب روپے کے گھپلوں کا نیب کو جواب دینا ہے۔ عدلیہ سے اپیل ہے کہ وہ ملک پر رحم کرے اور روزانہ کی بنیاد پران کے کیس کی سماعت کرے‘پی ٹی ایم اور ٹی ایل پی سمیت سب سے بات کرنے کو تیار ہوںمگر چوروں سے نہیں‘ ملک لوٹنے والوں سے مفاہمت اور سمجھوتہ ملک اورقوم سے غداری ہوگی۔اب آپ ان کے ٹون پر غور کریں اور ان کی باتوں پر۔ یہ سانحہ اے پی ایس کے مجرموں سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ لوگ جن کو جیل میں ڈالنا ان کا اپنا مفاد ہے کیونکہ وہ اقتدار ان کے ہاتھ سے چھین سکتے ہیں۔ ان کے سیاسی رقیب ہیں۔ جن کو باہر بھیجنے کے لیے ان کی حکومت کے اپنے بورڈ نے لکھ کر دیا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔کیا چیف جسٹس اس بات کا نوٹس لیں گے کہ ملک کا وزیر اعظم عدالت کو کہہ رہا ہے کہ مل پر رحم کریں، جیسے عدالتیں دانستہ طور پر ملک کو تباہ کر رہی ہوں۔ اب اس ملک کے وزیر اعظم کو ترجیحات بھی بتانی پڑیں گی کہ چوری جو کہ ثابت نہیں ہوئی وہ قتل سے بڑا جرم نہیں ہو سکتی۔ جوش خطابت میں بولنے سے پہلے تھورا سوچ لیا کریں۔آج کل وزیر اعظم صاحب کو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا، میڈیا جب تک گن کا رہا تھا سب ٹھیک تھا، میڈیا کی جے جے ہو رہی تھی لیکن جیسے ہی میڈیا نے آئینہ دیکھانے کی کوشش کی تو برا مان گئے۔ خان صاحب فرماتے ہیں۔میڈیا ہم پر تنقید ضرور کرے مگر پروپیگنڈہ نہیں ۔جان بوجھ کرفیک نیوز کے ذریعے مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔اگر اتنے ہی برے حالات تھے تو ملک کو دیوالیہ ہوجانا چاہیے تھا اور بیروزگاری بڑھنی چاہیے تھی۔میں اکیلا کچھ نہیں کرسکتا۔عوام اور اداروں کو ساتھ دیناہوگا۔ عدالتیں آزادہیں ۔ان کی بھی ذمہ داری ہے ۔ جیلوں میں کوئی طاقتورڈاکونہیں۔وہاں قید چھوٹے لوگوں کو بھی چھوڑدینا چاہئے۔کس نے چھوڑا چور ڈاکوں کو۔ کون ہے جو آپ کے خلاف پراپیگنڈا کر رہا ہے،۔ آپ تو سچ بولتے تھے۔ مجبوری میں اقتدار سے چپکنے والے نہیں تھے۔ آپ کیوں بلیک میل ہو رہے ہیں کون ہے جسے آپ سڑکون پر آکر مزہ چھکا سکتے ہیں۔ کون آپ کو اپنی من مانی کرنے سے روک رہا ہے۔چلو یہ تو عمران خان نے مانا کہ وہ زبردستی اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں اور ان کا بس نہیں چل رہا، جب انہیں اقتدار سے گھسیٹ کے نکالا جائے گا تب ہی وہ لوگون کو حقیقت بتائیں گے اور حقیقت بھی وہ جسے وہ حقیقت سمجھتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ خان صاحب آپ فرماتے ہیں کہ اگلے پانچ سال بھی میں پورے کروں گا، کون سا تیر آپ نے مارا ہے جو آپ دوبارہ آجائیں گے، اتنے اعتماد سے کہنے کا مطلب ہے جو کھیل آپ نے دو ہزار اٹھارا میں رچایا کیا اسی کی تیاری دوبارہ کی جا رہی ہے۔؟وہ کون سا کارنامہ ہے جو آپ کو نہ صرف دوبارہ منتخب کروائے گا بلکہ دس سال آپ کو اس قوم پر نازل بھی کرے گا۔آپ نے قوم کو اپنے سیاسی مخالفین کی کرپشن اور احتساب کا ڈھنڈورا پیٹ کربے وقف بنایا، اور اپنے اقتدار میں بھی احتساب نہ کر سکے۔ لیکن بس اب نہیں، ہم مزید بے وقوف نہیں بن سکتے۔سارے مافیا اپنے ارد گرد اکھٹے کر کے ہمیں مافیا پر بھاشن مت دیں۔کرپشن بڑھ گئی ہے، غربت بڑھ گئی ہے، بھوک بڑھ گئی ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں۔ہمارا وزیر اعظم تو ایماندار ہے جس کے اردگرد سارے مافیا اکھٹے ہیں۔آپ خان صاھب کی باتیں سنییں۔۔ بندہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی خرابی یہی ہے یہاں طاقتور کیلئے ایک اور غریب کیلئے دوسرا قانون ہے، قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے۔اس وقت جیلوں میں کوئی طاقتور ڈاکو نہیں۔بدعنوان لوگوں کی اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ساڑھے تین سال سے آپ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں اور باتیں ایسے کر رہے ہیں جیسے کوئی مطلق العنان، کرپٹ اور ظالم شخص اس ملک پر حکومت کر رہا ہے، خان صاحب آپ کو اللہ کا واسطہ ہے۔ کنٹینر سے اتر آئیں۔ ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جاتے جاتے آپ کو یہ خبر دے دوں کہ بارش کا پہلا قطرہ گر چکا ہے ابھی موسلا دھار بارش کا انتظار ہے۔ ملک میں احتساب کے علمبردار اور کرپشن کے سب سے بڑے دشمن، جنہوں نے ملک میں احتساب کو مذاق بنا دیا ۔۔ نے استعفی دے دیا ہے۔ جی ہاں آپ سمجھ چکے ہوں گے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے ٹویٹر پر استعفی دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ
    I have tendered my resignation today to PM as Advisor. I sincerely hope the process of accountability continues under leadership of PM IK as per PTI’s manifesto. I will remain associated with party n keep contributing as member of legal fraternity.

    چلیں اب پریس پریس کانفرنسوں کا بوجھ تو میڈیا سے کم ہو گا۔

  • مبارک ہو، نیا سیاسی منجن مل گیا،حکومت اور اپوزیشن کی دوڑیں

    مبارک ہو، نیا سیاسی منجن مل گیا،حکومت اور اپوزیشن کی دوڑیں

    مبارک ہو، نیا سیاسی منجن مل گیا،حکومت اور اپوزیشن کی دوڑیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اکثر پاکستانی سیاست میں بھونچال اس لیے بھی برپا کیا جاتا ہے کہ لوگوں کی توجہ ان مسائل سے ہٹائی جا سکے جن میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔ ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آج کل صبح و شام وفاقی وزراء نوازشریف کا ورد کیوں کر رہے ہیں۔۔ کبھی انہیں واپس لانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔۔ کبھی ان کی میڈیکل رپورٹ منگوائی جاتی ہے۔ ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے ان کے خلاف پارٹی میں بغاوت ہو گئی ہے۔۔ کبھی حمزہ اور مریم کی لڑائی کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں ۔ ۔ کبھی شہباز شریف کو ان کے مقابل کھڑا کیا جاتا ہے اور کبھی ڈیل کی کوششوں کا تذکرہ کر کے مظلوم بننے کی کہانی گھڑی جاتی ہے۔۔ پھر کبھی زرداری تو کبھی بلاول کی طرف توپوں کا رخ کردیا جاتا ہے ۔ ۔ اور اب حکومت نے ایک نیا ایشو پکڑا لیا جس کا نام ہے جنوبی پنجاب صوبہ ۔۔۔۔ یہ سب باتیں عوام کو سیاسی کھیل تماشوں میں الجھانے کی ایک کوشش نظر آتی ہے، تاکہ مہنگائی نے ان کا جو برا حال کر رکھا ہے اس سے ان کی توجہ ہٹائی جا سکے ۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھا جائے تو جنوبی معاملے پر بھی تیلی ہمیشہ کی طرح پی ٹی آئی نے لگائی ۔ مگر اب اپوزیشن حکومت کو اس معاملے سے بھاگنے نہیں دے رہی ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کو اس ایشو پر گھیر لیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ کیونکہ جو بیانات چیزیں پیپلزپارٹی اور ن لیگ جانب سے آئی ہیں اس کے بعد پی ٹی آئی کی نیت ہو تو پھر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے سے اسکو کوئی نہ روک سکتا ۔ مگر یاد رکھیے گا یہ نہیں بنائیں گے یہ بس اس معاملے پر بھی سیاست ہی کھیلیں گے ۔

    مبارک ہو، نیا سیاسی منجن مل گیا،حکومت اور اپوزیشن کی دوڑیں

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں یاد کروادوں کہ جنوبی پنجاب صوبہ پی ٹی آئی کے منشور میں شامل تھا ۔ یہ کارڈ استعمال کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے electablesکو گزشتہ جنرل الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا تھا ۔ کیونکہ عمران خان دعوی تھا کہ نوے دن میں صوبہ بنوا کر دیکھاوں گا ۔ ۔ مگر عملی طور پر پی ٹی آئی نے باقی چیزوں کی طرح اس پر بھی کچھ نہ کیا بس جنوبی پنجاب سکریٹریٹ بنا کر ایک نیا ڈرامہ رچا دیا گیا۔ جس کا مقصد صوبے کے قیام کو پس پشت ڈالنا دیکھائی دیتا ہے۔ وجوہات آگے چل کر تفصیل سے بتاتا ہوں ۔ پر اب جو ایک بار پھر جنرل الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ کا شور مچایا جا رہا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں سیاست کرنے کے لئے اب علیحدہ صوبے کی بات کرنا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے جو سیاسی جماعت اس مطالبے کی حمایت نہیں کرے گی وہ کم از کم جنوبی پنجاب سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ۔ سینیٹ میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بجا طور پر اس بات کا کریڈٹ لیا ہے کہ ان کی حکومت میں پنجاب اسمبلی سے بھی علیحدہ صوبے کی قرارداد منظور ہوئی، جو ایک آئینی تقاضا تھی اور قومی اسمبلی نیز سینٹ میں بھی یہ قرارداد پیش کی گئی۔ اگر ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہوتی تو پیپلزپارٹی علیحدہ صوبہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی۔ اس لیے انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو یاد دلایا ہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور سو دن کے اندر اس ضمن میں عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مگر حکومت میں آکر وہ سب کچھ بھول گئے۔۔ اس بس کے باوجود پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر کھلا دل کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اب بھی اگر عمران خان اس حوالے سے کچھ کرنا چاہیں تو اپوزیشن ان کا ساتھ دے گی۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اس سلسلہ میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر رانا محمود الحسن نے سینیٹ میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ سب نے کیا ہے، اسے پورا کیا جائے۔ رانا محمود الحسن کے بقول جتنا پانی اسلام آباد کے پھولوں کو ملتا ہے، اگر اتنا پانی جنوبی پنجاب کو مل جائے تو ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ پنجاب اور بلوچستان صوبہ بن سکتا ہے تو سرائیکستان کیوں نہیں بن سکتا۔ یہ ہمارا حق ہے۔ سینیٹ کے قائد حزبِ اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے اس بل کو ایک اہم ایشو قرار دیا ۔ ۔ اس بل پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی سینیٹ میں اظہار خیال کیا اور کہا کہ جنوبی پنجاب کا بل ہماری خواہشات کے عین مطابق ہے۔ ہم نے جنوبی پنجاب کے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ صوبے کی تشکیل کے لیے ہمیں دوتہائی اکثریت چاہیے ، اس بل پر مل کر آگے بڑھیں اور اپوزیشن اس پر ہمارا ساتھ دے کیونکہ ہمارے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے۔ ہمیں پنجاب اسمبلی سے بھی رائے لینا ہو گی، سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم سیکرٹریٹ نہیں مانگ رہے صوبہ بن جائے گا تو دارالحکومت ہم خود بنائیں گے۔ ۔ شاہ محمود قریشی ہر بار ملتان آکر یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ سکریٹریٹ دیا ہے اور علیحدہ صوبہ بھی وہی بنائے گی۔ پر مجھے نہیں لگتا کہ شاہ محمود قریشی کبھی عمران خان کو یہ کہنے کی جرأت نہیں کریں گے کہ آپ نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کی تھی۔ اگر یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب کی حد تک تحریک انصاف کا جیتنا نا ممکن ہو جائے گا۔ ابھی تو پی ٹی آئی صرف اسی بات پر خوش ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ سیکرٹریٹ مل گیا ہے اور افسروں کی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینٹ میں خطاب کے ذریعے یوسف رضا گیلانی نے اپنے علاقے کی اس بار بھرپور نمائندگی کی ہے اس سے سرائیکی علاقے کی قوم پرست جماعتیں بھی ان کی پشت پر آکھڑی ہوئی ہیں کیونکہ وہ بھی علیحدہ سکریٹریٹ کے فیصلے کو مسترد کر چکی ہیں اور خود مختار صوبہ چاہتی ہیں۔۔ کیونکہ اس بار بھی خدشہ یہ ہی ہے کہ پی ٹی آئی علیحدہ صوبے کے مطالبے کو صرف ایک سیاسی نعرہ کے طور پر زندہ رکھنا چاہتی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکمتِ عملی غالباً یہ ہے انتخابی مہم میں اس وعدے کے ساتھ جایا جائے کہ علیحدہ سکریٹریٹ بھی ہم نے بنایا اور اب علیحدہ صوبہ بھی ہم ہی بنائیں گے۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ صوبے کی بجائے سکریٹریٹ بنا کر تحریک انصاف نے خود مختار صوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف انتظامی نوعیت کا تھا، جسے خود مختار سکریٹریٹ بنا کر حل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ یہ مسئلہ انتظامی نہیں بلکہ ثقافتی، سیاسی اور تاریخی نوعیت کا ہے۔ یوں جب تک علیحدہ صوبہ نہیں بنتا، دکھاوے کے اقدامات سے بات نہیں بنے گی۔ جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ اسمبلی، علیحدہ بجٹ، علیحدہ ہائیکورٹ اور سینٹ میں علیحدہ نمائندگی ہی مسئلے کا حل ہے۔ یہ سب کچھ علیحدہ سیکرٹریٹ بنانے سے نہیں مل سکتا۔۔ کیونکہ جب صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک، اسمبلی ایک، چیف سکریٹری اور آئی جی ایک، نیز ہائیکورٹ بھی ایک ہے تو جنوبی پنجاب کے چھ کروڑ سے زائد عوام کو نمائندگی کا حق کیسے مل سکتا ہے۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت نے صوبہ جنوبی پنجاب پر آج تک سنجیدہ سیاست نہیں کی اور نہ ہی اس معاملہ میں کبھی آئینی تقاضے کے تحت عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ محض جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور محرومیوں کا رونا رو کر ہر جماعت ایک دوسرے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کرتی رہی ہے جبکہ اس سیاست نے سندھ اور سرحد میں بھی نئے صوبے کی سیاست کو ہوا دی ہے ۔ سندھ میں ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کو صوبہ جناح پور بنانے کے لیے آواز اٹھائی گئی جس کی پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت مخالفت ہوئی اور سندھی قوم پرستوں نے اعلان کر دیا کہ سندھ میں سے نیا صوبہ ہماری لاشوں کو اٹھا کر ہی نکالا جا سکتا۔ علاقائی بنیادوں پر ہونے والی اسی سیاست نے صوبہ سرحد میں بھی سیاسی طوفان اٹھایا جہاں صوبہ ہزارہ کی تحریک شروع ہوئی اور اسے اے این پی کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اس وقت ہماری سیاست تعمیری سے زیادہ مفاداتی سیاست بن گئی ہے۔ ۔ ہمارا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب یا کسی دوسرے صوبے پر سیاست کرنے والوں کو جب آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل ہوتی ہے تو وہ نئے صوبے کا نام لینا بھی بھول جاتے ہیں مگر اس ایشو پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ۔ پھر اگر پی ٹی آئی اور عمران خان جنوبی پنجاب کے لیے مخلص ہوتے تو یہ کارنامہ بھی بالکل ویسے ہی سرانجام دے دیا جاتا جیسے منی بجٹ اور دیگر معاملوں میں حکومت نے اپنی استادی دیکھائی ہے ۔ ۔ ویسے پی ٹی آئی نے جو جنوبی پنجاب کے لیے الگ سیکرٹریٹ تشکیل دے کر حل نکالا ہے یہ محض سیاسی سٹنٹ ہی ثابت ہوا ہے کیونکہ نیا سیکرٹریٹ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے میں قطعاً معاون نہیں بن سکا۔

  • کوک سٹوڈیو کی چوری پکڑی گئی،مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    کوک سٹوڈیو کی چوری پکڑی گئی،مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    کوک سٹوڈیو کی چوری پکڑی گئی،مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک بہت ہی اہم بات کرنے آیا ہوں ، ایک گانا آیا ہے ابھی تھوڑے دن پہلے عابدہ پروین، نصیبو لال کا ،کوک سٹوڈیو نے یہ گانا کیا اور اس گانے نے ہر جگہ دھوم مچا دی، چند دنوں میں بہت ہٹس مل گئیں اور نمبر ون پر جا رہا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ بہت عرصے بعد یہ گانا ہٹ گیا ہے، میں عابدہ پروین کا فین ہوں ،انہیں اللہ نے ہنر دیا، نصیبو لال بھی، لیکن پاکستان کے اندر ایسا ہو رہا ہے جو ہنر مند ہیں یا جو جائز حقدار ہوتے ہیں انکے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، ایسی کہانی میرے پاس ہے کوک سٹوڈیو کے حوالہ سے، کوک سٹوڈیو کے حوالہ سے ملنے والی رپورٹ کو انویسٹی گیٹ کیا، اب یہ بات اوپر تک جائے گی تو پاکستان کے ٹیلنٹ کی کتنی بے عزتی ہو گی،اگر کوک انتظامیہ کویک ایکشن لیتی ہے،ایک شکایت کنندہ آیا جس نے کہا کہ یہ دھن چوری کی ہے، ہم نے اسکو کراس چیک کرنے کی کوشش کی کہ کیسے چوری ہو سکتی ہے، کہاں دھن دی،یہ سب بتائیں تو اس بچی نے جس کا عمر کوٹ سے تعلق ہے، وہ سب بتا دیا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نرملا میگھانی نے ایک دھن بنائی اور مکھڑا گا کر مختلف پروڈیوسرز کو واٹس ایپ بھیجے ، بقول اسکے 14 جون 2021 کو جب اناؤنس ہوا کہ زلفی کوک سٹوڈیو کا میوزک بنائیں گے اسی دن نرملا نے کچ دھنیں زلفی کو واٹس ایپ پر بھجوائیں اور اسکے بعد انکے اسسٹنٹ جن سے سلام دعا ہوئی تھی انکو بھی دھنیں بھجوائین لیکن ان دونوں نے میسج کا کوئی جواب نہیں دیا، جب یہ گانا عابدہ پروین والا سنا تو نرملا نے کہا کہ یہ میرا گانا ہے یہ وہ دھن ہے جو میں نے بھیجی تھی، یہ کاپی ہو گئی

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نرملا میگھانی جس کا عمر کوٹ سے تعلق ہے وہ میرے ساتھ سکائپ پر موجود ہیں، مبشر لقمان کے سوال کے جواب میں نرملا میگھانی نے کہا کہ میں نے انکو میسج کیا تھا مجھے پتہ چلا کہ سیزن کر رہے ہیں زلفی صاحب، میں نے انکو میسج کیا تفصیلات دیں ان سے درخواست کی کہ مجھے ایک چانس دیں ،میں اپنا اوریجنل میوزک آپ سے شیئر کرتی ہوں، سات کمپوزیشن میں نے بھیجیں لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،

  • تحریک انصاف چند دنوں کی مہمان، خفیہ ملاقاتیں ،ٹکٹوں کی ضمانتیں

    تحریک انصاف چند دنوں کی مہمان، خفیہ ملاقاتیں ،ٹکٹوں کی ضمانتیں

    تحریک انصاف چند دنوں کی مہمان، خفیہ ملاقاتیں ،ٹکٹوں کی ضمانتیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جیسے گزشتہ سات سالوں سے پی ٹی آئی کے پاس فارن فنڈنگ کیس میں جواب نہیں تھا آج بھی نہیں تھا ۔ جیسے یہ پہلے اسٹے آڈر کے پیچھے چھپا کرتےتھے آج بھی یہ ہی موقف تھا کہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے ۔ کہ کہیں ہمارے کرتوت عوام کو نہ پتہ لگ جائیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مگر چیف الیکشن کمشنر نے اس استدعا کو مسترد کردیا اور کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کا کوئی ڈاکیومنٹ خفیہ نہیں ہے۔ یاد ہو تو یہ وہی عمران خان ہیں جو کہتا کرتے تھے کہ میں کبھی کچھ نہیں چھپاؤں گا ۔ اس کیس میں اب فروری تک کی تاریخ پڑ گئی ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر عثمان بزدار کی image building کے حوالے سے بہت خبریں گردش ہیں کہ وہ پاکستان کے سب سے بہترین وزیراعلی ہیں ۔ پتہ نہیں یہ سروے مریخ پر ہوا تھا یا چاند پر ۔ کیونکہ پنجاب میں پی ٹی آئی ہر ضمنی انتخاب سے لے کر کینٹ بورڈ کے الیکشن تک ہر چیز ہاری ہے ۔ مگر ایسی سروے رپورٹس تو آنی تھیں جب آپ فنڈنگ کے منہ کھول دیں ۔ ورنہ ان کی کارکردگی کا سب سے بڑا منہ بولتا ثبوت حالیہ سانحہ مری ہے ۔ پھر ڈینگی ہو یا بارشوں کے موسم میں گوڈے گوڈے پانی ۔۔۔ سب کو سب کچھ یاد ہے ۔ بھولے نہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر آج مریم اور بلاول کے بیانات بھی بہت اہم ہیں آپ ان کی سیاست سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔ مگر آپ اس چیز کو رد نہیں کرسکتے کہ جو کچھ پی ٹی آئی کے لوگ کہہ رہے ہیں ان میں چاہے وزراء ہوں ، ایم این ایز ہوں ، ایم پی ایز ہوں یا پھر عام کارکن ۔۔۔ ان کے بیانات سے صاف ظاہر ہےکہ تحریک انصاف کا انجام قریب ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی لیے شاید آج مریم نے کہہ دیا ہے کہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہے ۔ ان کے مطابق حکومت کو ہٹانے کا طریقہ کار بھی جلد سامنے آ جائے گا ۔ پھر انھوں نے یہ بھی کہا کہ سمجھ نہیں آیا کہ وفاقی وزیرداخلہ کو ہاتھ سرپرہونے کی بات کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پھر ن لیگ میں بغاوت کے دعوؤں کو حکومت کی نااہلی اور نالائقی سے توجہ ہٹانے کا ہتھکنڈا قرار دیتے ہوئے مریم نے کہا کہ ن لیگ آگ کے دریا سے گزر کر آئی ہے، ڈرانے، دھمکانے، لالچ اور بدترین انتقام کے باوجود ن لیگ کا ایک ایک ایم این اے اور ایم پی اے چٹان کی طرح کھڑا رہا۔

    ۔ اس چیز کو ویسے ماننا چاہیے کہ آپ ان سے سیاسی اختلاف کریں ۔ مگر سب کچھ ہونے اور لیڈر شپ کے ملک سے باہر جانے اور جیلوں میں جانے کے باوجود بھی ن لیگ کو توڑا نہیں جا سکا ۔۔ پھر بلاول کہتے ہیں کہ وہ لانگ مارچ سے حکومت گرا کردکھائیں گے۔ مزید یہ بھی کہا کہ آئین اورقانون میں ایمرجنسی کی کوئی گنجائش نہیں،صدارتی نظام کا شوشہ ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے مترادف ہے۔ ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ حکومتی شخصیات کو زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں وہ صرف یہ ہی سمجھتے ہیں کہ ملک سے شریفوں اور زرداریوں کی مقبولیت ختم ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ کسی صورت نہیں ہونا ہے ۔ ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ تحریک انصاف مخالفوں کی مقبولیت بھی وہ اپنے کارناموں سے ختم نہیں کرنا چاہتے، یعنی یہ نہیں کہتے کہ ہم عوام کو اس قدر زیادہ ریلیف دیں گے، ان کے مسائل حل کریں گے، ان کی معاشی مشکلات کو ختم کر دیں گے کہ وہ شریفوں اور دیگر کا نام تک نہیں لیں گے بلکہ یہ کہتے ہیں شریفوں اور زرداریوں کو ہمارے سر پر موجود ہاتھ گردن سے پکڑے گا۔

  • یہودی لابی، یہودی ایجنٹ اور کشمیر کا سودا،مختاریہ گل ود گئی اے

    یہودی لابی، یہودی ایجنٹ اور کشمیر کا سودا،مختاریہ گل ود گئی اے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو شخصیات ایسی گزری ہیں ۔ جن کے بارے کہا جائے کہ وہ وقت سے پہلے مستقبل پر نظر رکھتے تھے بلکہ آنے والے حالات کو پڑھ لیتے تھے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ آجکل جو کچھ ہورہا ہے ۔ میں کسی ہر تہمت نہیں لگانا چاہتا ۔ مگر ان دونوں اشخاص کی کہی ہوئی باتیں کانوں میں گونج رہی ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جس جانب نظر دوڑآئیں گے زوال ہی زوال دیکھائی دیتا ہے ۔ معیشت ، قانون کی حکمرانی ، نظام عدل کا رونا تو بہت عرصے اس ملک میں جاری ہے ۔ مگر یہ شاید پہلی بار ہے کہ ملک کا وزیر اعظم خود کہتا ہے کہ معیشت ٹھیک نہ ہو پھر دفاع تو متاثر ہوگا ۔ پہلی بار میں نے دیکھا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بارے سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔ پہلی بار ہے کہ بردار اسلامی ممالک ہوں یا چین جیسا دوست ہر کوئی ناراض ہے ۔ پہلی بار ہے کہ کشمیر کو دن دھاڑے بھارت ہڑپ کر لیتا ہے مگر ہم اوآئی سی تک کو متحرک نہیں کر پاتے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھا جائے تو اس حکومت کو دو خبط ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہر بات کو انہیں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے اس سے پہلے کبھی نہ ہوا اور دوسرے یہ کہ اس سے پہلے ستر سال تک اس ملک پر احمقوں ، بددیانت اور غداروں کی حکومت رہی۔ ۔ کارنامے تو ان کے بہت بڑے بڑے ہیں جن کو گنوانا شروع کیا جائے تو eries of books لکھنی پڑ جائے گی ۔ مگر حالیہ جو قومی سلامتی پالیسی کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کے کئی پہلو ملک کے اندر اور باہر بحث و تجزیے کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ وہ بہت غور طلب چیز ہے ۔ اس سلسلے میں کئی پہلووں کو لے کر تنقید بھی ہورہی ہے۔ ایک چیز جس پر سب سے زیادہ اعتراض ہورہا ہے کہ ۔ مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا یہ بیان جو انھوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے جو کچھ کہا وہ یقینا عوام سمیت پاکستان میں بہت سے حلقوں کے لیے بے چینی اور اضطراب کا باعث بنا ہوا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کیونکہ بے چینی اس لیے ہے کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے اور اگر بھارت پاکستان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہو جائے تو ہم بھارت کے ساتھ کشمیر کو درمیان میں لائے بغیر تجارت کرنے کو تیار ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ تجارت اور اقتصادیات ہماری پہلی ترجیح بن گئے ہیں اور کشمیر کا نمبر اسکے بعد آتا ہے؟ ۔ پھر پالیسی میں کہا گیا کہ پاکستان خطے اور تمام دنیا کے ساتھ برابری اور باہمی عزت کی بنیاد پر امن چاہتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہم توعرصے سے تیار ہیں۔ پر سوال ہے کہ کیا بھارت بھی ہمارے ساتھ عزت اور برابری پر تیار ہے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ہم تجارت اور امن کی خواہش میں یک طرفہ طور پر اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ہم نے کشمیری عوام ، انکے مصائب اور ان پر ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم بھلا کر بھارت کے اگست 2019ء کے اقدامات قبول کر لیے ہوں۔ اس سے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ ہمارا واحد اور سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ بھارت بس ہمارے ساتھ بات چیت کیلئے راضی ہو جائے۔ یا چلو کرکٹ ہی کھیل لے۔ تو ہم راضی ہوجائیں گے۔ میرے خیال سے کسی بھی باشعور شخص کو بھارت کے ساتھ تجارت پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ بھارت پر ابھی حملہ کر دیں۔ لیکن اس قسم کے اعلانات بطور پالیسی کرنا بھی سمجھ سے باہر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اگر ہم نے اپنی خارجہ پالیسی میں اتنی بڑی تبدیلی کرنی ہے، یا کسی درمیانی راستے پر غور کرنا ہے تو کیا اس سلسلے میں بھارت سے کوئی بات کی گئی ہے کہ ہمیں بدلے میں بھی کچھ ملے گا یا نہیں؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی حوالے سے ایک اہم عہدیدار کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہم آئندہ سو برس تک بھارت کے ساتھ مخاصمت نہیں چاہتے۔ نئی پالیسی قریبی ہمسایوں کے ساتھ امن کی بات کرتی ہے۔ یہ بیان نہ صرف پاکستان کے کچھ اخبارات میں شائع ہوا بلکہ بھارت میں اسے بہت اہم قرار دیا گیا۔ خطے میں قیامِ امن کی خواہش یقینی طور پر قابلِ ستائش ہے اور پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ماضی میں بھی اس خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے تاہم اس خواہش کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے مسئلہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ ۔ پھر کیا آج کے دور میں بھی یہ دانشمندی ہے کہ اس قسم کے فیصلے جو ملک کی سمت اور تقدیر تبدیل کر رہے ہوں وہ ایوانوں کی بلند دیواروں کے پیچھے کیے جائیں اور عوام سے خفیہ رکھے جائیں؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل سیکورٹی کی جو دستاویز جاری ہوئی ہیں ان میں توانائی، تعلیم، صحت سے لیکر دہشت گردی اور عالمی امن تک سب مسائل کے ذکر کے ساتھ صفحہ نمبر پینتیس پر جموں اور کشمیر کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ اس مسئلہ کو پر امن طور پر بذریعہ بات چیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق حل کیا جانا چاہیے۔۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اب موجودہ اور تبدیل شدہ دنیا میں کتنی موثر ہیں ۔ خاص طور پر بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد ۔۔۔ ۔ یاد رکھیں ایسی یک طرفہ محبت کا نتیجہ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم مقبوضہ کشمیر کو سائیڈ پر کر کے تجارت کی امید لگائے بیٹھے ہونگے اور بھارت ہم سے آزاد کشمیر کا مطالبہ کر رہا ہو۔ اور اس وقت ہم عالمی برادری کو کہتے پھریں کہ کسی طرح ہمارا آزاد کشمیر ہی بچا دو۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نظریے اور پاکستان کی شہہ رگ کو ایک جانب رکھ کر صرف تجارتی اور اقتصادی اصولوں کی بات کریں تو بھی حقائق اور اعداد و شمار کیمطابق موجودہ حالات اور قوانین میں بھارت کے ساتھ تجارت نہ تو پاکستان کی اقتصادی مشکلات حل کر سکتی ہے اور نہ ہی بھارت کے ساتھ ہمارے مسائل کا حل تجارت میں مل سکتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ سے کشمیر رہی ہے، اور کشمیر ہی کی بنیاد پر ہم بھارت کے ساتھ بار بار جنگیں لڑ چکے ہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اس پالیسی کی تشکیل کے وقت کشمیری عوام سے بھی تفصیلی مشورہ کیا گیا ہو گا اور انکی امنگوں اور حقوق کو بھی نظر میں رکھا گیا ہو گا۔ کیونکہ اس خطے کے بارے میں ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ سے بھارت کے گرد ہی گھومتی ہے اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشمیر کے گرد گھومتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا مرکزی نقطہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں ایک طرف رکھتے ہوئے تعلقات کو فروغ نہیں دیا جاسکتا۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے جو بھی لائحہ عمل طے کیا گیا وہ واضح طور پر عوام کے سامنے رکھنا جانا چاہیے کیونکہ یہ بیان کچھ غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے اور ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان اور ان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف پر ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عجیب اتفاق ہے کہ اس پالیسی میں کہاگیا ہے کہ قومی سلامتی کی بنیاد معیشت پر ہے۔ اسکے بعد یہ سوال تو بنتا ہے کہ کیا ملک کی معیشت کے استحکام کے لیے سٹیٹ بینک کی خودمختاری ضروری ہے۔ اس خودمختاری کو بعض لوگ بینک کی غلامی قراردیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ سٹیٹ بینک کے گورنر کو آئی ایم ایف کی طرف سے ملک کا اقتصادی وائسرائے بنانے کے مترادف ہے۔ اب جو یہ بحث ہورہی ہے ہمارے عسکری اکائونٹ صرف اور صرف سٹیٹ بینک میں رکھے جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کی یہ خواہش کیوں ہے۔۔ وزیراعظم کا یہ فرمانا کہ جب ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں تو قومی سلامتی پر حرف آتا ہے۔ ان کے اس بیان سے واقعی اب سارا ملک گھبرایا ہوا لگتا ہے ۔ پھر کچھ لوگ چیخ رہے ہیں کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کو خطرہ ہے۔ یہ سب باتیں جوڑ کر دیکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ تشویش کس بات کی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے ۔ بائیس تیئس کروڑ آبادی والا ملک پاکستان جسے اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے جس کے لوگ بہت محنتی اور باصلاحیت ہیں وہ اپنے حکمرانوں اور کی غفلت اور ان کے وزیر و مشیروں کی مفاد پرستیوں کی وجہ سے دنیا میں ایک بھکاری کی سی پہچان بنائے ہوئے ہے ۔کہیں کوئی تھنک ٹینک نہیں جو یہ سوچے کہ اس ملک کا مسقتبل کیسے محفوظ بنا جاسکتا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب بہت سے پاکستانی خودکشیاں کرنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔۔ اللہ پاکستان کو سلامت رکھے کیونکہ وہ ہی ہماری سلامتی کا سب سے بڑا ضامن اور آخری امید ہے ۔ مگر یاد رکھیں اس وقت جو یہ بحث جاری ہے وہ یوں ہی نہیں ہورہی ہے