عمران خان کی اڈیالہ جیل میں سہولت کاری کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف کاروائی جاری ہے، گزشتہ روز خبر آئی تھی کہ سابق آئی جی جیل خانہ جات شاہد سلیم کو حراست میں لیا گیا ہے تا ہم بعد میں شاہد سلیم کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے اپنی ہی گرفتاری کی خبر سن رہے ہیں، ویڈیو میں شاہد سلیم کا کہنا تھاکہ اپنے ہی بارے میں اپنے گھرپر چائے پیتے ہوئے جھوٹی خبردیکھنا کیسا لگتا ہے؟ اسے کہتے ہیں یلو جرنلزم۔
شاہدسلیم کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے تحقیقات کی گئی تھیں، تحقیقات کے بعد کلیئر ہونے پر شاہد سلیم کو رہا کیا گیا ہے جس کے بعد گھر پہنچ کر انہوں نے ویڈیو بنائی اور وائرل کی.
سینئر صحافی و اینکر مزمل سہروردی نے مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر بات کرتے ہوئے اس حوالہ سے کہا کہ سابق آئی جی جیل شاہد صاحب، کل انہوں نے چائے پیتے ہوئے اپنی ویڈیو جاری کی، گرفتاری کیخبر چلا کر، وہ 12 گھنٹے حراست میں رہے،ہم سب کو پتہ ہے، ان پر اتنا ہی تھا کہ وہ فیض کے دور میں آئی جی جیل تھے، انکے دور میں ن لیگی جیلوں میں تھے، فیض حمید ان سے بات چیت کیا کرتے تھے، فیض حمید نے شاہد سلیم کو رابطہ کیا، چھ آٹھ ماہ پہلے اور کہا کہ میں عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہوں کوئی بندوبست کروا دیں تا کہ میری بات ہو جائے،میں ملنے جیل نہیں جانا چاہتا، اب شاہد نے جیل میں اکرم سے رابطہ کروایا اور پھر اکرم نے فیض حمید کی عمران خان سے بات کروا دی،اب جب تحقیقات کل کی گئیں تو انکی اور فیض کی ایک ہی کال ریکارڈ پر آئی جو عمران خان سے رابطے کے لئے کی گئی تھی اسکے بعد فیض نے آئی جی سے رابطہ نہیں کیا، کیونکہ فیض اکرم سے ڈائریکٹ تھے، 12 گھنٹے تحقیقات کے بعد حکام کو پتہ چل گیا کہ فیض سے ایک ہی رابطہ تھا، چھوڑ دیا، موصوف نے آ کر ویڈیو بنا دی، وہ یہ ویڈیو بنا کر کہیں کہ 12 گھنٹے تحقیقات بھگت کر نہیں آئے، بنائیں، کیا اکرم کو فیض سے متعارف انہوں نے نہیں کروایا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ فیض حمید کا فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے، اس میں کوئی معافی نہیں ہے،میرا خیال ہے کہ 14 سال سزا تو ہو گی،
مزمل سہروردی نے مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہر اقتدار مستحکم ہوتا نظر آ رہا ہے، اقتدار کے باسیوں کو اقتدار مستحکم اور اپنے مخالفین کی شہہ مات نظر آ رہی ہے، اطمینان اور مسکراہٹ اقتدار کے باسیوں کی شکلوں پر نظر آتی ہے،سب کچھ صحیح سمت میں چل رہا تھا، یہ سوچ بڑے عرصے تھی کہ خان صاحب کو سسٹم کے اندر سے حمایت حاصل ہے،ورنہ ایسا نہیں ہو سکتا، اسٹیبلشمنٹ کو اپنی منجی تلے ڈانگ پھیرنی چاہئے،پہلے اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ان ہاؤس آرڈر کرنا تھا، دیر آید درست آید، اب کاروائی شروع ہوئی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب آپ ایک ایسے آدمی کے خلاف کاروائی کرتے جو کورکمانڈر ہو، ڈی جی آئی ایس آئی ہو، اتنا ہم ہو پھر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اسکو پکڑنے کے بعد اسکے مخالفین بھارت،و دیگر کیا الزامات لگاتے ہیں،لوگ اس کو مختلف ڈائریکشن میں دیکھتے ہیں، سوچ بچار کرنی پڑتی ہے،یہ پوری فوج کا فیصلہ تھا اب اس میں کوئی بچت نہیں ہونی، مجھ سے لکھوا لیں کہ فیض حمید کو سزا ہو گی او ر کڑی سزا ہو گی
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ میں فیض حمید کو سزا کے بیان پر متفق ہوں، لیکن سوچ بچار کی بات پر کہتا ہوں کہ ادارے کو نقصان ہوا ہے، اس نے ادارے کا نقصان کیا، اگر یہ سٹیپ ایک ماہ یا چھ ماہ پہلے لیا ہوتا تو ادارے کا اتنا نقصان نہ ہوتا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دفاتر پر ریڈ کئے گئے وہاں سے کمپیوٹر لے کر گئے، رؤف حسن کا ریمانڈ ملا، وہاں سے تانے بانے ملے، ڈیٹا ملا ہوا سے تو کچھ نہیں کیا جا سکتا، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ بچے بچے کو پتہ ہے کہ وہ سہولت کاری کر رہا تھا، فیض نیازی گٹھ جوڑ چل رہا تھا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پیرنی جادو ٹونے کرنے والی ہے لیکن پھر بھی اسکے فالور ہیں،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ جو ہو رہا ہے اچھا ہو رہا ہے ، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیض کی وجہ سے اور بڑے لوگ انڈر سکروٹنی ہو گئے ہیں، لوگ واٹس ایپ پر جواب نہیں دے رہے، جن کو میں جانتا ہوں وہ مجھے بھی جواب نہیں دے رہے، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ فیض حمید کے ساتھ سابق آفیسر موجود تھے وہ آئی ایس آئی ،ایم آئی کے مقابلے میں اپنی ایجنسی چلا رہے تھے جو پی ٹی آئی کی مدد کر رہی تھی، وہ انکا پرائیویٹ نیٹ ورک تھا ،جو سہولت کاری کر رہا تھا، جس طرح آپ ذاتی بینک نہیں چلا سکتے، اس طرح ذاتی انٹیلی جنس ایجنسی بھی نہیں چلا سکتے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے، اس میں کوئی معافی نہیں ہے،میرا خیال ہے کہ 14 سال سزا تو ہو گی،چار قسم کے کورٹ مارشل ہوتے ہیں،فیلڈ مارشل سب سے اہم ہے، ریاست اور افواج کے بدترین دشمن کا یہ فیلڈ کورٹ مارشل ہوتا ہے.میں جب یہ حاضر سروس تھا تب اسکے منہ پر بھی بات کرتا تھا،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ویڈیو یاد ہے جس میں آصف زرداری سنجرانی کو کہہ رہے ہیں کہ فیض تو گیا اب تیرا کیا بنے گا اس وقت سنجرانی کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ فیض نہیں گیا، پاکستان کے سیاسی کلچر میں لوگ کہتے نہیں لیکن دبے لفظوں میں کہتے ہیں کہ فوج اپنا بندہ قابو نہیں کر سکی، ہم کیا کہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ باجوہ صاحب کو ہم بھی کہتے تھے، ایک آدمی کی کارستانیوں کی وجہ سے پورے ادارے کو برا نہیں کہہ سکتے،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ سابق آئی جی جیل شاہد صاحب، کل انہوں نے چائے پیتے ہوئے اپنی ویڈیو جاری کی، گرفتاری کیخبر چلا کر، وہ 12 گھنٹے حراست میں رہے،ہم سب کو پتہ ہے، ان پر اتنا ہی تھا کہ وہ فیض کے دور میں آئی جی جیل تھے، انکے دور میں ن لیگی جیلوں میں تھے، فیض حمید ان سے بات چیت کیا کرتے تھے، فیض حمید نے شاہد سلیم کو رابطہ کیا، چھ آٹھ ماہ پہلے اور کہا کہ میں عمران خان سے بات کرنا چاہتا ہوں کوئی بندوبست کروا دیں تا کہ میری بات ہو جائے،میں ملنے جیل نہیں جانا چاہتا، اب شاہد نے جیل میں اکرم سے رابطہ کروایا اور پھر اکرم نے فیض حمید کی عمران خان سے بات کروا دی،اب جب تحقیقات کل کی گئیں تو انکی اور فیض کی ایک ہی کال ریکارڈ پر آئی جو عمران خان سے رابطے کے لئے کی گئی تھی اسکے بعد فیض نے آئی جی سے رابطہ نہیں کیا، کیونکہ فیض اکرم سے ڈائریکٹ تھے، 12 گھنٹے تحقیقات کے بعد حکام کو پتہ چل گیا کہ فیض سے ایک ہی رابطہ تھا، چھوڑ دیا، موصوف نے آ کر ویڈیو بنا دی، وہ یہ ویڈیو بنا کر کہیں کہ 12 گھنٹے تحقیقات بھگت کر نہیں آئے، بنائیں، کیا اکرم کو فیض سے متعارف انہوں نے نہیں کروایا، اسکے بعد عمران خان کے پاس موبائل فون موجود تھا، وائی فائی لگا ہوا تھا، واٹس ایپ میسج بھی کرتے تھے، باتھ روم سے میسج کرتے تھے، فون باتھ روم میں رکھا ہوا تھا کیونکہ وہاں کیمرے نہیں لگے ہوئے تھے، واٹس ایپ پر ہی وہ رابطے میں رہتے تھے، زیادہ وقت عمران خان باتھ روم میں گزارتے اور کمبوڈ پر بیٹھ کر میسج کال کرتے، اسی لئے تو پیٹ خرابی کا کہتے تھے اب انکا پیٹ ٹھیک ہو گیا ہے.
مزمل سہروردی کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال تو جیل تھی ہی نہیں عمران خان کو ، وہ اپنا پورا نیٹ ورک چلا رہےتھے اس کو جیل تھوڑا ہی کہتے ہیں ،کہتے تھے کرنل جیل پر قبضہ کیا ہوا ہے، کرنل کا جیل پر قبضہ ہوتا تو واٹس ایپ کا استعمال ہوتا، کرنل نے پہلے دن ہی سہولت کاروں کو پکڑ لینا تھا، عمران خان نے واویلا اسلئے کیا کہ ہم یہی سمجھیں کہ آئی ایس آئی نے جیل پر قبضہ کیا، عمران کے دور میں ایسا ہوتا تھا سیکٹر کمانڈر جیل ہوتا تھا، جیل میں عمران خان جمائما سے بھی بات چیت کرتے رہے ہیں،حماد اظہر کیوں بھاگ گیا ہے، یہ فیض کے سارے بچے بھاگ جائیں گے، یہ فیض کا بچہ ہے،
مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان کہہ رہا تھا کہ دو ماہ بعد حکومت چلی جائے گی اب وہ کہے ناں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی باتوں کو سیریس نہ لیا کریں وہ ہر بات پر یوٹرن لیتا ہے،میں نے ایک بار کہا تھا اور وی لاگ بھی کیا تھا کہ فیض ہر ایک کا فون ٹیپ کرتا تھا، بشریٰ اسکے قریب تھی وہ بشریٰ کو پہلے بتاتا تھا کہ کل فلاں یہ کرنے والے ہیں، کل یہ ہو گا، اب بشریٰ بی بی عمران خان کو کہہ کر سوتی تھی کہ اللہ مجھے کوئی مخبری دے گا، پھر صبح اٹھ کر بات بتاتی تھی اور دن کو وہ ہو جاتا تو شام کو خان کہتا دیکھو کتنی اللہ والی ہے، یہ سب بتا تو فیض رہا ہوتا، بشریٰ فیض کے ساتھ اینڈ اینڈ تھی، بزدار،گوگی، احسن،یہ سب فیض حمید کے لوگ تھے، فیض حمید کا جو فارم ہاؤس ہے، سڑک ہے اسکا تخمینہ لگوائیں وہ کتنا بنتا ، وہ ایسے نہیں بنتا،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان ضعیف الاعقتاد آدمی تھا، اگر اسکو جیل جا کر کہیں کہ یہ عمل کریں تو دوبارہ وزیراعظم بن جائیں گے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ بڑا کینہ پرور آدمی ہے، اب تو شاید مجھے نہ ملے، میری دوستی حفیظ اللہ نیازی نے کروائی تھی، وہ ہمیں لے کر جاتے تھے، وہاں سے ہماری دوستی ہوئی، جب حفیظ کی لڑائی ہوئی عمران خان سے تو میں نے اتنی کوشش کر لی کہ دو تین سال کہ عمران خان مان لے لیکن وہ نہیں مانا کیونکہ وہ مغرور تھا،
سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن جمیل بیگ نے پروگرام کھرا سچ میں انکشاف کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معیز خان کو اس وقت بچایا جب کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔
365 نیوز پر پروگرام کھرا سچ کے میزبان سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے محسن بیگ کا کہنا تھا کہ موجودہ آرمی چیف اس وقت ڈی جی ایم آئی تھے۔ جب ہم نے ٹاپ سٹی پر فالو اپ کہانیاں شائع کیں تو موجودہ آرمی چیف نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اس شخص (معیز خان) کو نہیں جانتا لیکن اس کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ انتہائی ناانصافی ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایم آئی کے ایک افسر کو بھیجا اور میں نے معیز خان کے بھائی سے ان کی ملاقات کا بندوبست کیا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معیز خان کو اس وقت بچایا جب کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ معیز خان نے کوئی جرم کیا تھا تو اسے پولیس کے حوالے کرنا چاہیے تھا۔ اسلام آباد پولیس معیز خان پر کیے جانے والے تشدد کی وجہ سے اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید چاہتے تھے کہ معیز اپنے بھائی کے نام پر ٹاپ سٹی کے شیئرز پر دستخط کرے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی ٹیم معیز کے گھر کے سی سی ٹی وی اپنے ساتھ لے گئی لیکن وہ فوٹیج پہلے ہی بیک اپ کمپیوٹرز میں محفوظ ہو چکی تھی جس کا انہیں علم نہیں تھا، اس غلطی نے انہیں بے نقاب کر دیا،
*موجودہ آرمی چیف اس وقت ڈی جی ایم آئی تھے۔ جب ہم نے ٹاپ سٹی پر فالو اپ کہانیاں شائع کیں تو موجودہ آرمی چیف نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اس شخص (معیز خان) کو نہیں جانتا لیکن اس کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ انتہائی ناانصافی ہے۔ آرمی… pic.twitter.com/4dvTS45s3l
میں نے ڈیڑھ برس قبل فیض حمید کے احتساب کا مطالبہ کیا تو لوگ کہتے تھے ایسا نہیں ہوتا، مبشر لقمان
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے پروگرام کھراسچ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فیض حمید اور انکے حواریوں کے حوالہ سے اہم پیشرفت ہو رہی ہے،لوگوں نے اپنی انگلیاں دانتوں میں دبائی ہوئی ہیں کسی کو یقین نہیں آ ریا، ڈیڑھ برس قبل جب پروگرام کھرا سچ میں میں نے مطالبہ کیا تھا کہ فیض حمید کا احتساب ہونا چاہئے تو لوگ کہتے تھے جنونی ہے، ایسا نہیں ہوتا،لیکن قانون سب سے بڑا ہوتا ہے، قانون اور آئین افضل ہوتے ہیں، جب کوئی ماورائے آئین کام کرے گا تو اسکو جواب دینا پڑے گا، فیض حمید کے بے شمار کارنامے ہیں، کیا کیا بتائیں،انکا فیلڈ کورٹ مارشل ہو رہا ہے.
پروگرام کھرا سچ میں بات کرتے ہوئے خاتون صحافی و اینکر کرن ناز کا کہنا تھا کہ فوج میں ادارے کے اندر خود احتسابی کے معاملات چلتے رہتے ہیں، فیض حمید پچھلے کچھ سالوں میں 2014 سے لے کر اب تک اتنا گونجتا رہا ہے کہ جو پتھر اٹھائیں اس کا نام نکلتا رہا، شوکت صدیقی کی طرف سے بھی الزامات لگائے جاتے رہے، ن لیگ کی جانب سے الزامات لگائے جاتے رہے، فیض حمید کے دور میں کیا کچھ ہو رہا تھا سب سامنے آ رہا تھا، ٹاپ سٹی کا معاملہ سامنے آیاکوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف کاروائی ہو گی مدعی کو عدالتوں کی جانب سے بھی یہ کہا گیا تھا کہ وہ متعلقہ فورم پر جائیں،
جنرل باجوہ کو جنرل فیض کی سرگرمیوں کا بتایا تو۔۔مبشر لقمان نے آرمی آڈیٹوریم کی کہانی بتا دی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر پاک فوج نے عمل کیا،اس کیس میں سپریم کورٹ کی بڑی کلیئر ہدایات ہیں جو وہ فالو کر رہے ہیں،اطہر کاظمی نے کہا کہ وزیر دفاع ٹی وی پر بتارہے ہیں کہ فیض حمید ہمیں حکومت آفر کرتے رہے، وہ کس کیسپٹی میں کرتے رہے اس پر بھی تحقیقات ہونی چاہئے، دوران سروس فیض حمید پر بہت سے الزامات لگے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے خود الزام لگائے فیض حمید جب حاضر سروس تھے، اینکر موجود تھے، ارشد شریف مرحوم بھی موجود تھے،حامدمیر،کاشف عباسی،ندیم ملک موجود تھے، جب جنرل باجوہ نے بات کی تو میں نے کہا کہ عمران خان بات نہیں سنتا تو آپ ہماری بات نہیں سنتے، فیض حمید کو نہیں بدلتے، یہ بات آرمی آڈیٹوریم میں ہوئی، سب کے سامنے ہوئی،کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو لوگوں کی چائے مشہور ہے، بچے بچے کو انکے چائے کے کپ کا پتہ ہے، ایک ابھینندن تھا اور ایک کابل ایئر پورٹ پر فیض حمید کی تصویر سامنے آئی تھی
مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ فیض حمید کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف میں استعفوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے،نئے نئے انکشافات،کہانیاں سامنے آ رہی ہے، ابصار عالم اور فیض حمید کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آ گئی جس میں فیض حمید اس وقت کے چیئرمین پیمرا ابصار عالم پر دباؤ ڈال رہے تھے،مجھ سے کئی لوگوں نے پوچھا کہ کونسے چینل تھے میں نے کہا کہ میں واضح تونہیں بتا سکتا لیکن اندازہ ہے کہ اس وقت آفتاب اقبال کے لئے یہ فون کال ہوئی ہوں گی کیونکہ وہ اس وقت آپ ٹی وی کا لائسنس لا رہے تھے، غالبا یہ وہی ہے، اب ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ وطن واپس اؤں گا موجودہ حالات کا مجھے سے کوئی تعلق نہیں، انصار عباسی نے جنرل ر قمر جاوید باجوہ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ انکے خلاف کوئی کاروائی زیر غور نہیں ہے،سابق آرمی چیف کے بارے میں ممکنہ کاروائی کے بارے سوشل میڈیا قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ یہ کہا جا رہا تھا کہ مستقبل میں کوئی کاروائی ہو،یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اضافی سیکورٹی جنرل ر قمر جاوید باجوہ کے گھر لگائی گئی تا ہم یہ جعلی پوسٹ تھی، جنرل ر قمر جاوید باجوہ بیرون ملک اور دبئی ہیں جو چند دن میں واپس آئیں گے،سوشل میڈیا پر جعلی پوسٹ ریتائرڈ جعلی افسران نے شیئر کی جو بیرون ملک مقیم ہے اور پروپیگنڈے کے لئے مشہور ہے اسکو سزا بھی سنائی جا چکی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اور خواجہ آصف جنرل باجوہ کے احتساب کے مطالبے پر متفق ہیں، یہ واضح نہیں کہ وہ خود کر رہے ہیں، حکومت یا کون کر رہا، سپیکر پنجاب اسمبلی نے خواجہ آصف کے بیان کی تردید کی ہے، یہ بھی بتایا جا رہا کہ درجنوں گرفتاریاں ہوں گی، کچھ ریٹائرڈ،کچھ سول،کچھ ورکر، یوٹیوبر، ججز کے نام بھی ہوں گے، کچھ صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ فیض حمید نے ملک پر 30 سال تک قبضے کا منصوبہ بنا رکھا تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ فیض حمید کے جرائم کی تفصیل بہت لمبی ہے، ایک اشار ے پر ٹی وی کی ہیڈ لائن تبدیل،چلتے پروگرام بند ہو جاتے تھے، آج وہ خود خبر بن گئے، جو رابطے میں تھے وہ بھی زیر حراست باقی انڈر گراؤنڈ،سبق ہے ان لوگوں کے لیے جن کے پاس طاقت ہے کہ لوگوں کے ساتھ ظلم نہیں کرنا چاہئے، کل فیض حمید شکاری تھا آج شکار ہو چکا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی کورٹ میں کیس جلد نمٹا دیئے جاتے ہیں، فوج کا عدالتی نظام ہے، شعبہ ہے جو بہت متحرک ہے، جو الزام فیض حمید پر لگائے گئے انکو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد کی سرگرمیوں کا الزام بہت سنگین ہے اس میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بڑی اہم پیشرفت ہوئی ہے، چار افسر ابھی مزید پکڑے گئے ہیں، فیض حمید کے کیس کے حوالے، جب سے فیض حمید کی گرفتاری کی خبر آئی دو لوگ بہت خوش ہیں خلیل الرحمان قمر اور عمر عادل کیونکہ انکی سٹوری اب پیچھے رہ گئی ہے
مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر وی لاگ کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیض حمید کیس میں جو لوگ پکڑے گئے وہ چکوال سے ہیں اور فیض حمید کے گرائیں ہیں،جب سے فیض حمید کی گرفتاری کی خبر عمران خان پربجلی بن کر گری ہے،عمران خان تڑپ رہا ہے،اڈیالہ جیل کا ڈپٹی سپریڈنڈنٹ اکرم بھی گرفتار ہو گیا ہے، اسکے بعد اسکے اور ساتھی بھی گرفتار ہوئے ہیں انکے واٹس ایپ ڈیٹا موبائل سے شواہد ملے کہ وہ عمران خان کا یورپین کنٹریز سے رابطہ کرواتا رہا،یہ بھی قیاس آرائی ہے کہ جو دو آرٹیکل باہر نکلے تھے اڈیالہ جیل سے وہ اسی اکرم کی وجہ سے نکلے تھے، ابصار عالم کہہ رہے تھے کہ 52 کے قریب افسران کو گرفتار کیا گیا میں نے اسکو کراس چیک کیا اتنے افسران گرفتار نہیں ہوئے،یہ کوئی معمولی ڈیولمپنٹ نہیں ہے، نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی میڈیا اس پر فوکس ہوا ہوا ہے.جن کو یہ نہیں پتہ ریاست پاکستان کی سروائیول کے لئے ایسے لوگوں کو پکڑنا، سزا دینا بہت ضروری ہے، فیض حمید کے تو بہت جرائم ہیں کئی سو صفحات پر کتاب شائع ہو سکتی ہے یہ جتنا کرپٹ تھا ہر آدمی کو پتہ ہے،نہ صرف کرپٹ بلکہ کینہ پرور انسان ہے، چڑیل ایک اور مخبری لے کر آئی ہے چڑیل کا یہ کہنا ہے کہ اب ہو سکتا ہے کچھ دن میں یہ پردہ بھی ہٹ جائے کہ ارشد شریف کے قتل کے پیچھے کون کون لوگ تھے ،جب ہائی پروفائل قتل ہو تو یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اسکا فائدہ کس کو ہوا، ارشد شریف ہمارا کولیگ، اچھا بندہ، بے دردی سے مارا گیا، مجھے وہ حادثہ نہیں لگتا جب پتہ چلے گا کہ شاید ان میں سے ہی کوئی ایک ہوکوئی اور بھی ہو سکتا سب کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے، کیا اس میں عمران خان، فیض حمید کوئی اور ملوث ہے یہ آنے والے دنوں میں سامنے آ جائے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فوج میں کوئی ہلچل نہیں ہے وہ ملک کی خدمت کر رہے ہیں، فوج ،ریاست کے خلاف کوئی سازش کر کے بچنا ناممکن ہے، اب یہ تصور بھی کیا جا رہا ہے کہ اگلے مہینے کے آخر سے پہلے سزا ہو جائے گی، انکا رینک،پنشن ضبط ہو سکتی ہے، غیر قانونی جائیدادیں جو بنائیں وہ بھی ضبط ہو سکتی ہے، ٹاپ سٹی کیس صرف ایک کیس ہے جس میں پکڑا گیا،یہ ایک سرا نظر آ رہا ہے نیچے بہت لمبی فہرست ہے، ایک کتاب چھپ سکتی ہے، فلم بن سکتی ہے اسکے کالے کرتوتوں کے اوپر، عمران خان نے فیض حمید سے خود کو الگ کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ یہ فوج کا اندرونی معاملہ ہے،حالانکہ عمران خان کی لڑائی ہی فیض کی وجہ سے ہوئی تھی.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ فیض حمید کی گرفتاری کی جب سے اطلاع آئی، سوشل میڈیا پر مکمل خاموشی، ایسے لگتا ہے کہ کوئی ٹرولز تھے ہی نہیں سب کو سانپ سونگھ گیا،آئی ایس پی آر کی جو پریس ریلیز آئی ہے اس سے نہیں لگتا کہ فیض حمید کے بچنے کا کوئی امکان ہے۔ فوج نے جو قدم اٹھا لیا ہے اس سے ان کے لئے واپس جانا مشکل ہوجائے گا۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ آرمی نے بڑا سخت پیغام دیا ہے۔ پھرفیض حمید آئی ایس آئی کے پہلے سربراہ ہیں جنہیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ ان کے چند پیشرووں کی مختلف وجوہات کی بناء پر جانچ پڑتال کی گئی۔ایک دو نے کام روکنے کا انتخاب کیا اور کچھ کو وقت سے پہلے ہی گھر بھیج دیا گیا۔ مجھے تواب بڑی امید ہے کہ پاکستان آگے بڑھےگا ۔ مزید یہ کہ اب عدالتوں پر بھی پریشر بڑھے گاکہ وہ خاص طورپرنو مئی والے معاملے پر مجرموں کو سزا دیں اورکیفرکردارتک پہنچائیں ۔ کیونکہ فوج نےپھر ثابت کردیا ہے کہ جو غلطی کرے گاجرم کرےگا سزا بھگتے گا۔ کیونکہ یہ صرف فیض حمید نہیں کرنل (ر) اکبر حسین کو جولائی دوہزارچوبیس میں بغاوت پر اکسانے کے جرم میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے چودہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اکتوبر دوہزار تئیس میں پاکستان آرمی نے اپنے دو سابق افسران ۔ عادل راجہ اور حیدر مہدی ۔کو بغاوت پر اکسانے اور ریاست کے مفادات کے خلاف کام کرنے پر کورٹ مارشل کیا۔ راجہ کوچودہ سال قید کی سزا سنائی گئی، مہدی کو بارہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔میر ا نہیں خیال اب حکومت یا عدلیہ کو کسی کنفوژین کاشکارہوناچاہیئے ۔انکو اب نو مئی والےمیں تمام کرداروں کو انجام تک پہنچاناچاہیے ۔ میں اتنا جانتاہوں کہ فیض حمید کو تحویل میں لینے اور کورٹ مارشل کا اقدام پاک فوج کے احترام اور عزت میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر میں نے جو کل کے وی لاگ میں دعوی کیا تھا اس کی تصدیق وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ انکشاف کر کے کر دی ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے نواز شریف اور شہباز شریف کو پیغام بھجوائے کہ مجھے آرمی چیف بنا دیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے معافیاں مانگیں، ہماری صفوں سے ایک بندے سے بھی رابطہ کیا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ جنرل باجوہ مزید توسیع یا فیض حمید کی بطور آرمی چیف تقرری چاہتے تھے، آخر میں انہوں نے ہماری حکومت کو مختلف آپشن بھی دیے کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل فیض کو آرمی چیف نہیں بناتے تو فلاں کو بنا دیں مگر موجودہ آرمی چیف عاصم منیر کو نہ لگائیں۔ ان کا مزید کہناتھاکہ فیض حمید کی ریٹائرمنٹ کے بعد جو واقعات ہوئے ان میں شرکت سے وہ باز نہ رہ سکے، ان واقعات میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر فیض حمید ملوث تھے مگر وہ اکیلے ملوث نہیں تھے، انھوں نے ان واقعات کے لیے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی، ٹارگٹ طے کیے اور سازش کا تجربہ فراہم کیا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اکثرسیاستدانوں کے خیال میں آئی ایس پی آر کے بیان میں موجود ایک سطر پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا اشارہ اس سطر کی طرف ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کے خلاف ورزی کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔پاکستان آرمی ایکٹ انیس سو باون میں صاف تحریر کیا گیا ہے کہ فوج کا کوئی بھی افسر ریٹائرمنٹ کے دو برس تک کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتا۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر لوگ شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کیا بڑے بڑے اقدامات ہوئے ہیں پاکستان کے اندر جس میں آئی ایس آئی کا ایک سابق چیف جو کہ پی ٹی آئی کے بھی بڑا قریب رہا وہ متحرک تھا۔ایک تو دوہزار چوبیس کے انتخابات تھے اور اس وقت انھوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا تھا، لیکن میرے خیال میں یہ کوئی مجرمانہ سرگرمی نہیں ہے کیونکہ ہر شخص ہی پنا اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے انتخابات میں۔ مگراشارے ایسے ملتے ہیں کہ شاید فیض حمید اس ساری مہم کو بھی کنٹرول کر رہے تھے۔ کیونکہ فوج نے اپنے بیان میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کو شروع کرنے کی بات کی ہے اوریہ اس ہی وقت ہوتا ہے جب کسی کے خلاف انکوائری ہو چکی ہے اور فوج کے پاس ثبوت موجود ہوں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لیےفیض حمیدکی گرفتاری بھی پاکستان کے لیے زبردست فیصلہ ہوا ہے، جو ملک کو نقصان پہنچائےگا اس کا احتساب ہوگا، ہمیں اس وقت جشن منانا چاہیےکہ پاکستان حقیقی طور پر ترقی کی طرف جا رہاہے، ہم سب کا یہی طریقہ ہونا چاہیےکہ سیاست کریں اور اداروں کو ان کا کام کرنے دیں، اب ملک میں احتساب کا عمل نظر آئےگا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خبر آئی کہ جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل ہو رہا ہے، آئی ایس پی آر کا بیان بھی آ گیا اس ضمن میں،مختلف چیزیں ہو رہی ہیں مجھے ایک ایڈوانٹج ہے کہ میرا تعلق سولجر فیملی سے ہے کئی چیزیں جو عام تجزیہ کار کو سمجھ نہیں آتیں مجھے آسانی ہوتی ہے
مبشر لقمان نے اپنے ڈیجیٹل میڈیا پر وی لاگ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سلمان غنی جو لاہور کے کور کمانڈ ر تھے، جناح ہاؤس پر حملے کے بعد انکو ہٹایا گیا ،ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے کورکمانڈر، دو جنرلز اور 14 افسروں کو اس جرم میں مرتکب پایا اور فارغ کر دیا،آپ کو یاد ہو گا کہ کورکمانڈر منگلا کا بھی آیا تھا کہ ان سے استعفیٰ لیا گیا ہے، کہا جا رہا تھا کہ وہ کرنا نہیں چاہ رہے تھے، انکی آڈیو کوئی لیک ہو گئی تھی،انہوں نے سنی تو کہا کہ میں استعفیٰ دے دیتا ہوں، آج فیض حمید والا کیس آیا، فوج میں جو سرونگ جنرل ہوتا ہے اسکی ویلیو ہوتی ہے، ریٹائرڈ آفیسر سمجھتا ہے اسکی ویلیو ہے لیکن ہوتی نہیں ہے، دوکور کمانڈر فارغ ہوئے ،اور لوگ فارغ ہوئے، اسکا اتنا بڑا ایشو نہیں بنایا گیا، آج فیض حمید کو پکڑا، آئی ایس پی آر نے پریس ریلیز جاری کی، اس کا مطلب ہے کہ فیض حمید "تو توگیا” تجھے تو مثال بنا کر چھوڑا جائے گا، جو حرکتیں ملک،قوم ، ریاست پاکستان کے خلاف کیں سب کا حساب دینا پڑے گا، جو مال بنایا ،بھائی نے کرپشن کی، زمین ہتھائی،ہاؤسنگ سوسائٹیز میں گند کیا، اب ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کو لانے والے دو لوگ تھے، بنوں میں سیٹل کرنے والے دو لوگ تھے عمران خان اور فیض حمید، نومئی والا واقعہ کوئی اس لیول کا نہیں بنا سکتا تھا،فیض حمید کے علاوہ کیوں کہ اسکو سب پتہ تھا کہ کیا چیز پکڑی جائے گی اور بیک وقت دو سو جگہوں پر ہونا کوئی مذاق نہیں لوگوں کو پلاننگ کروائی گئی ہو گی، ٹریننگ دی گئی ہو گئی، بتایا گیا ہو گا کہ کون کونسا پلان ہے،ناکے کیسے کراس کرنے ہیں،ہر چیز پلان ہوئی ہو گی، ابھی بھی جو سوشل میڈیا پی ٹی آئی کا کنٹرول کر رہا ہے میری کتاب میں وہ فیض حمید ہی ہے، فیض حمید ہی ہے جس نے آخری وقت میں عمران خان کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی،فیض حمید تو شہباز شریف کو ملا تھا، اور میسج دلوایا کہ مجھے آرمی چیف بنوا دیں کہ میں عمران خان کا تیا پانجا کر دوں گا میرے علاوہ کوئی اس کی زیادہ کمزوری نہیں جانتا، اللہ کرے شہباز شریف کو ہمت ہو او ر وہ سچ بتائیں، فیض حمید پر بڑے کاری الزامات ہیں، جب وہ ڈی جی آئی تھے اسوقت سے میرے اس سے بڑے اختلافات تھے، میں نے اسوقت ہی کہا تھا کہ اس کے سامنے جنرل باجوہ اس کے گواہ ہیں کہ تو بڑا گھٹیا آدمی ہے، جب اللہ کی پکڑ آئے گی تو پھر تو وڑ جائے گا، انسان کی حیثیت نہیں کہ غرور کرے، جس جس نے ا س سے ہاتھ ملایا اس نے نقصان ہی پہنچایا، جس نے اس کو فائدہ دیا اسکو بھی نقصان پہنچایا کیونکہ یہ اپنی ذات کے علاوہ کوئی سوچ نہیں سکتا تھا، یہ لوگوں کے گھروں کو ٹیپ کروایا تھا، دو دو نمبر لڑکیاں رکھی ہوئی تھیں کہ یہ اسکے ساتھ اٹیچ کرو اور ویڈیو بنا لو،اب سب کچھ ہو گیا، پکڑا گیا، آج خبر آئی ہے میری چھٹی حس کہتی ہے کہ یہ آج نہیں چار پانچ دن پہلے پکڑا گیا، آج خبر ریلیز ہوئی.اس کا جو دم بھرنے والے لوگ تھے آج اس کے لئے ایک جملہ بھی نہیں بول رہے، شیخ رشید، دو ٹانگوں والے کتے کو یاد کریں جب فیض حمید کے ہاں کسی کی ڈیتھ ہوئی تھی تویہ چکوال پہنچ گئے تھے اور نوکر بن کر کام کر رہے تھے آج اسکے لئے کوئی بولنے والا نہیں کیونکہ کرتوت سامنے آ گئے ہیں ،اب عمران خان کو کلیئر ہو جائے گا کہ کوئی ڈھیل نہیں ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق ڈی جی آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو پاک فوج نے تحویل میں لے لیا ہے اور کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کر دی گئی ہے
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے بارے میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان اپنے وی لاگز میں اہم انکشافات کرتے آئے ہیں، ایک وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا لہذا اس پر انہیں آئین کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جائے، انہوں نے مزید کہا کہ جنرل فیض حمید ایک مکروہ اور ذلیل انسان ہے کیونکہ یہ لوگوں کو بلیک میل کرنے کیلئے خواتین کو استعمال کرکے ویڈیوز بناتا تھا.مبشر لقمان نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آرمی ہاؤس میں جب یہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے اس وقت فیض حمید سے ہاتھ تک نہیں ملایا اور سیدھا منہ پر کہا کہ تم اس قابل نہیں کہ تمہیں کوئی ہاتھ ملایا جائے اور ساتھ میں یہ بھی کہا تھا جب تم ریٹائرڈ ہوجاؤ گے تب تمہیں اپنی اوقات کا لگ پتا جائے گا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس سارے منصوبے کو انجام تک پہنچانے کےلیے جنرل فیض حمید کردار ادا کررہے تھے،
ایک اور وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب یہ خبر آئی تھی کہ فیض حمید کو بھی عدالت نے نوٹس دے دیئے، میرے ذہن میں آیا اب اللہ خیر کرے، عدالت نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے سنگین الزام لگائے، عدالت سمجھتی ہے جن پر الزام ہے انکو موقع دیا جائے، نوٹس جاری ہوا، عرفان رامے کو بھی نوٹس جاری ہوا، اس کیس میں عمران خان کا نام بھی آیا ، چیف جسٹس کا کہناتھا کہ فیض حمید یہ فیصلہ کیوں چاہتے تھے، اب یہ بات رکنی نہیں ہے،اس ملک میں کرپشن ہو رہی ہے، مجھے پتہ ہے کہ اعلیٰ حضرات نے کرپشن کی،لیکن اسکو ثابت کیسے کیا جائے، شوکت صدیقی کی بات میں وزن ہے لیکن وہ اس کو پروف کیسے کریں گے؟
ایک اور وی لاگ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور ان کا خاندان ارب پتی بن گیا۔ سابق جنرل کے خاندان نے، جس کا معاشی طور پر کوئی پس منظر نہیں تھا، نے پی ٹی آئی کے سربراہ کی مدتِ اقتدار کے دوران دولت کمائی۔ فیض نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا کیونکہ اس نے اپنے مفادات کے لیے کام کیا۔”اس خاندان کے پاس کل 120 ایکڑ زمین تھی جو بعد میں بڑھ کر 2,200 ایکڑ تک پہنچ گئی۔فیض حمید کے گھر کی قیمت بڑھ کر 2 ارب روپے سے زیادہ ہو گئی اسکا فارم ہاؤس 500 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔فیض حمید کے گھر جدید ترین سیکورٹی سسٹم نصب ہے،فیض حمید نے اپنے گھر کی طرف جانے والی سڑکیں بند کر رکھی تھیں، اور لوگوں کو اس علاقے میں آزادانہ نقل و حرکت سے روکا گیا تھا، فیض حمید کے رشتہ داروں نے بھی اس دوران تیزی سے دولت کمائی، اور وہ سابق وزیر اعظم عمران خاناور ان کی پارٹی کے سخت حامی رہے۔ فیض نے عمران کے علاوہ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے بھی اچھی دوستی کی
ایک اور وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک فوجی افسر جو کہ وزیراعظم ہاوس میں ہوتے تھے وہ بھی پکڑے گئے ہیںاور ان کے پاس بھی بہت کچھ ہے بیان کرنے کےلیے ، ان کا کہنا تھاکہ جنرل فیض حمید کا بھی احتساب ہونا چاہیے ، انہوں نے جو سڑکیں بنائیں.ہوا کچھ یوں تھا کہ جب فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا تو فیض حمید کو عمران خان پر اعتبار نہیں تھا ، انکا خیال تھا کہ عمران خان کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تو انہوں نے وہاں تعینات فوجی افسر کو یہ ذمہ داری سونپی تھی،اس فوجی افسر کے پاس ایک ایسا فون تھا جو ہر آنے والی اور جانےوالی کال کو ریکارڈ کرتا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کسی کے خیرخواہ نہیں دوسروں کے کیسے بنیں گے عمران خان سے اظہارمحبت بھی اور پھرعمران خان کی جاسوسی بھی ،بنی گالہ کو ریگولائزیشن کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اس میں جنرل باجوہ کا کوئی کردار نہیں بلکہ اس کے پیچھے جنرل فیض حمید کا کردار ہے، ان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید نے بہت کچھ کیا ،
بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کا تختہ الٹنے والے طلبا تحریک کے رہنما کا آج خصوصی انٹرویو365 نیوز کے پروگرام کھرا سچ میں آج اتوار کی شام آٹھ بجے نشر ہو گا
سینئر صحافی و اینکر پرسن ،پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان نے بنگلہ دیش کی طلبا تحریک کے تین رہنماؤں کا خصوصی انٹرویو کیا ہے، طلبا تحریک کے رہنماؤں کا انٹرویو آج شام آٹھ بجے 365 نیوز پر نشر ہو گا، انٹرویو میں طلبا رہنماؤں نے اہم انکشافات کئے ہیں،حسینہ واجد کا تختہ اُلٹنے والے طلباء رہنما پہلی بار کسی پاکستانی ٹی وی پرسامنے آرہے ہیں اور اسکا اعزاز پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان کو جاتا ہے.
طلبا رہنما شیما اختر کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ حسینہ واجد کی حکومت قاتل حکومت تھی، اس نے 15 سو سے زائد شہریوں کو قتل کروایا،ارمان الحق نے انٹرویو میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سے طلبا تحریک کی مدد کی تردید کی اور کہا کہ ہمیں آئی ایس آئی سے کوئی مدد نہیں ملی،جناتن نعیم کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی طلبا کی قربانیوں کا نتیجہ ہے،
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں طلبا تحریک نے حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے، حسینہ واجد فرار ہو کر بھارت پہنچ چکی ہیں، بنگلہ دیش میں ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے، دو طلبا رہنما بھی عبوری حکومت کا حصہ ہیں،گزشتہ روز طلبا نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا تو چیف جسٹس بنگلہ دیش سمیت متعدد ججز نے استعفیٰ دے دیا، حسینہ واجد ابھی تک بھارت میں ہی ہیں اور انہیں کسی اور ملک نے سیاسی پناہ نہیں دی، حسینہ واجد نے آج حکومت گرانے کا الزام امریکہ پر لگا دیا ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مقبول ترین پروگرام کھرا سچ 365 نیوز پر شروع ہو گیا ہے
کھراسچ جمعہ سے اتور شام آٹھ بجے نشر ہو گا، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پروگرام کھراسچ کے میزبان ہیں،مبشر لقمان نے 365 نیوز پر اپنے پہلے پروگرام کا آغاز قومی ہیرو ارشد ندیم کو شاندار خراج تحسین پیش کر کے کیا،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اہل پاکستان کی طرف سے ارشد ندیم کو مبارکباد ، 32 برس بعد پاکستان کو یہ خوشی ملی، ارشد ندیم فیڈریشن کی علامت بن چکے ہیں، ہر فرد انکے لئے دعا گو ہے کہ انکو مزید کامیابی ملے،
پروگرام کھراسچ میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری شریک ہوئے اور انہوں نے میزبان مبشر لقمان کے سوالات کے جواب دیئے، خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کے پاس چوائس ہے کہ جیل جائے یا وزیراعظم ہاؤس جائے، اگر بڑا آدمی ہوتا تو ملک کا سوچ لیتا ،فلسطینیوں کا نہیں اپنا اسرائیل کا سوچ لیتا، اسکی حماقت اسرائیل کے لئے بہت بڑا دھچکا ہو گا، ایران کی بھی خواہش ہے کہ جنگ نہ ہو،
اسماعیل ہنیہ کے قتل میں ایران ملوث؟ بنگلہ دیش میں حکومت کا تختہ ISI نے الٹا؟اس پر خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں جو کچھ ہوا، کوئی کہہ رہا آئی ایس آئی نے کروایا، لیکن میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا،اسماعیل ہنیہ کو ایران میں قتل کرنے پر ایران کی بہت ناکامی ہوئی، ایران کو اس کا جواب دہ ہونا پڑے گا،دعا کرنی چاہئے کہ عقل یا فہم سے کام لیا جائے، نیتن یاہو پر کرپشن کے کیس ہیں کئی لوگوں کا خیال ہے وہ جیل جائے گا،
خورشید محمود قصوری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی پہلی کرن ڈویژن بنگال تھی، مسلم لیگ وہاں زیادہ مضبوط تھی، مسلم لیگ کو وہاں کامیابی ملی، دوقومی نظریہ کو دفن کرنے کا ریمارکس احمقانہ تھا، یہ چیز انکی فطرت، گھٹی میں ہے، وہاں کے لیفٹسٹ بھی نمازیں پڑھتے تھے،