Baaghi TV

Tag: متاثرہ

  • سیلاب سے متاثرہ ایک ایک خاندان جلد دوبارہ آباد ہوگا، راجہ بشارت

    سیلاب سے متاثرہ ایک ایک خاندان جلد دوبارہ آباد ہوگا، راجہ بشارت

    چیئرمین وزارتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی، صوبائی وزیر کوآپریٹوز، تحفظ ماحول و پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ نے یقین دلایا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ ایک ایک خاندان جلد دوبارہ اپنے گھروں میں آباد ہوگا۔ مکانات کی دوبارہ تعمیر کا کام پانی اترتے ہی شروع کر دیں گے۔ پنجاب حکومت متاثرہ بھائیوں کی امداد کے لئے مالی وسائل میں کمی نہیں آنے دے گی۔

    برطانیہ سیلاب زدگان کیلئے مزید ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈ امداد دے گا

    ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امسال پنجاب میں مجموعی طور پر 364 ملی میٹر بارشیں ہوئیں جو معمول سے 85 فیصد زیادہ تھیں۔ اگرچہ بارشوں سے پہلے فلڈ وارننگ جاری کی گئی تھی اور متعلقہ محکموں نے تیاری بھی کی تھی لیکن اندازے سے کہیں زیادہ بارشوں کے مقابلے میں یہ تیاریاں زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکیں۔

    تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار

     

    محمد بشارت راجہ نے کہا کہ پورے صوبے میں بارشوں اور طغیانی کے نتیجے میں 188 اموات ہوئیں۔ اس کے علاوہ 3 ہزار 256 افراد زخمی ہوئے جبکہ 25 ہزار 315 مکانات کو نقصان پہنچا۔ راجن پور، ڈی جی خان اور میانوالی کے اضلاع میں سب سے زیادہ نقصانات ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب سے 6 لاکھ44 ہزار 339 افراد متاثر ہوئے جبکہ دو لاکھ سے زائد مویشی بھی ہلاک ہوئے۔

    صوبائی وزیر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی خود تمام ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں کو پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔ اس وقت ریلیف کا کام آخری مراحل میں ہے پھر بحالی کا اہم مرحلہ شروع کریں گے۔ محمد بشارت راجہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی طرف سے متاثرہ افراد کے لئے ریلیف پیکیج منظور کیا گیا ہے۔ ہر جاں بحق فرد کے لواحقین کو دس لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی۔ پہلے کچے مکانوں کی تعمیر کے لئے امداد نہیں دی جاتی تھی تاہم اس بار کچے مکانوں کی تعمیرنو کے لئے بھی حکومت امداد مہیا کرے گی۔ متاثرہ علاقوں میں 184 ریلیف کیمپ قائم کئے گئے۔ راجن پور کی 3 تحصیلوں، ڈی جی خان کی 4 تحصیلوں اور میانوالی کی ایک تحصیل میں مجموعی طور پر 33 ہزار 478 خیمے، 4400 تھیلے آٹا، 68 ہزار 637 فوڈ ہیمپرز، 3 ہزار سے زیادہ دیگیں اور ہزاروں پانی کی بوتلیں تقسیم کی جا چکی ہیں۔ڈپٹی کمشنر ڈی جی خان کو 100 ملین، ڈی سی راجن پور کو 80 ملین اور ڈپٹی کمشنر میانوالی کو 65 ملین روپے جاری کئے گئے ہیں۔ مزید بھی جتنی رقم کی ضرورت ہوگی وہ مہیا کی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح سمندر پار پاکستانی اپنے بھائیوں کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ چند روز پہلے ہونے والی ٹیلی تھون کے دوران چیئرمین عمران خان کی پکار پر چند منٹوں میں کروڑوں کے عطیات جمع ہوئے۔حکومت کے ساتھ فلاحی تنظیمیں بھی اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کی امداد میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ ایک قومی سانحہ ہے۔ متاثرین سیلاب کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ان کی ہمت اور جذبے کو سلام کرتے ہیں۔ انشااللہ اس مشکل وقت سے سرخرو ہو کے نکلیں گے۔

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا

    لاہور:سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنا شروع ہوگئیں:عوام الناس دوہری مصیبت میں مبتلا ہیں ، ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کررہے ہیں تو دوسری طرف وبائی امراض کے پھیلنے کی وجہ سے تکلیف اورپریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں ، ان حالات کے پیش نظرماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگرسیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلاو کو روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بہت زیادہ نقصان کا سبب بن سکتے ہیں‌

    سندھ کے مختلف علاقوں میں زہریلے مچھر کاٹنے سے خطرناک بیماریاں شروع ہوگئی ہیں ،سیلاب زدہ علاقوں میں زہریلے مچھروں کے کاٹنے سے جلدی امراض ہو رہے ہیں ، ایک ریسکیو ورکر کے زخموں کی حالت ہے جو چند دن جھڈو میرپور خاص رہ کر آیا ہے، سیلاب زدگان کی حالت کیا ہوگی جو مستقل وہیں بیٹھے ،

     

    اس سلسلے میں وہاں موجود فلاحی جماعت کے سوشل ورکز کا کہنا ہے کہ مچھر کے تباہ کُن حملوں سے بچنے کا واحد حل مچھردانی ہے مگران بے بس اور بے حال لوگوں کو مچھر دانیاں کون فراہم کرے گا ، یہ بھی کسی نہ کسی ذمہ داری لینا ہوگی

     

    ادھرماہرین صحت اور فلاحی اداروں نے سیلاب زدہ علاقوں میں 50 لاکھ افراد کے بیمار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے مطابق ڈاکٹر شہزاد علی خان پاکستان میں سیلاب سے اب تک 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، چند ہفتوں میں لاکھوں افراد آلودہ پانی اور مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں سے متاثر ہوں گے۔

    ڈاکٹر شہزاد علی خان کا کہنا ہے کہ سیلابی علاقوں میں ٹائیفائیڈ اور ہیضے کی مشترکہ ویکسین ہر شخص کو لگائی جائے۔ماہر امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق سیلابی علاقوں میں ڈینگی، ملیریا، خسرہ اور پولیو پھیلنے کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

    ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ بچوں میں ویکسی نیشن کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

  • آخری سیلاب متاثرہ کو حق ملنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، وزیرِ اعظم

    آخری سیلاب متاثرہ کو حق ملنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، وزیرِ اعظم

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی فوری مدد اور مکمل بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے. وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے مشترکہ سروے سب سے پہلے بلوچستان میں شروع کیا جائے .

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کے حوالے سے اہم جائزہ (follow up) اجلاس منعقد کیا گیا.اجلاس کو مشترکہ سروے کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ سروے میں سیلاب کے دوران جان بحق افراد، زخمیوں، تباہ شدہ گھروں، دکانوں، فصلوں اور ہلاک ہونے والے مویشیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائےگا. جس سے بحالی کے کاموں میں شفافیت، بہتری اور تیزی یقینی بنائی جا سکے گی.

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے طریقہ کار میں شفافیت یقینی بنائے گی. جب تک آخری سیلاب متاثرہ حقدار کو اسکا حق نہیں مل جاتا، چین سے نہیں بیٹھونگا. وزیرِ اعظم نے ہدایت کہ متاثرین کو فوری مالی مدد NDMA کی نگرانی میں ڈیجیٹل طریقہ کار سے فراہم کی جائے. وزیر اعظم نے ان تمام اقدامات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کیں

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ یہ سروے سب سے پہلے بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں کیا جائےگا. جب کہ یہ سروے 20 اگست 2022 سے کو شروع کرکے اسکی تکمیل 22 ستمبر 2022 یقینی بنائی جائے گی. اسکے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے دی جانے والی فوری مالی امداد بائیو میٹرک کے نظام کے تحت تقسیم ہو گی جسکی نگرانی NDMA کرے گا.

    وزیر اعظم نے ان تمام اقدامات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، مولانا اسد محمود، مفتاح اسماعیل، معاونِ خصوصی وزیرِ اعظم احد چیمہ، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر قمر الزمان کائرہ بزریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے .