Baaghi TV

Tag: متاثرین

  • امریکا میں بھارتی شہریوں پر فراڈ کا جرم ثابت،ملزمان کو15 سال سے زائد قید کی سزا

    امریکا میں بھارتی شہریوں پر فراڈ کا جرم ثابت،ملزمان کو15 سال سے زائد قید کی سزا

    امریکی محکمہ انصاف نے کہا کہ ایک بھارتی شہری کو امریکا اور دیگر جگہوں پر بڑے پیمانے مالی فراڈ کرنے کے جرم میں 15 سال سے زائد قید کی سزا سنائی گئی، دیگر پانچ سزا کے انتظارمیں ہیں۔

    باغی ٹی وی: متاثرین میں پاکستانی اور بھارتی نژاد معمر امریکی شہری بھی شامل تھے، اس گینگ کے سرغنہ اور کچھ دیگرافراد امریکا میں غیرقانونی طور پر مقیم تھےٹیکساس کے جنوبی ضلع میں امریکی اٹارنی علمدار ایس ہمدانی نے اعلان کیا کہ میل فراڈ کرنے کی سازش میں سرغنہ کو وفاقی جیل بھیج دیا گیا ہے۔

    26 سالہ ایم ڈی آزاد، ایک ہندوستانی شہری جو غیر قانونی طور پر ہیوسٹن میں مقیم تھا، نے 15 اگست 2022 کو جرم قبول کیا، اور اعتراف کیا کہ اس نے 2019-2020 کے دوران ایک فراڈ کی رِنگ میں حصہ لیا اس نے ہیوسٹن سمیت مختلف امریکی شہروں میں کام کیا اور سیکڑوں بزرگ شہریوں کو نشانہ بنایا۔

    گوگل کا ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ

    امریکی ڈسٹرکٹ جج کینتھ ہوئٹ نے اب آزاد کو وفاقی جیل میں 188 ماہ کی سزا کا حکم دیا ہے۔ ہندوستان کے شہری آزاد کو قید کی سزا کے بعد برطرفی کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گاایم ڈی آزاد کی طرح ہی دیگر پانچ دیگر بھارتی شہری، جن میں انیرودھا کالکوٹ 26، سُمیت کمار سنگھ 26، ہمانشو کمار 26، اور ایم ڈی حسیب 27 نامی افراد نے بھی فراڈ کا اعتراف کیا ہے، جو ابھی زیر حراست ہیں اور اپنی سزا کا انتظار کررہے ہیں عدالت میں سماعت کے موقع پر استغاثہ نے امریکا میں مقیم ایم ڈی آزاد کو سرغنہ قرار دیا، جو بھارت میں کال سینٹر کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اس دوران متاثرہ افراد کے متعدد خطوط بھی پڑھے گئے۔

    ہمدانی نے کہا کہ اس معاملے میں متاثرین مالی طور پر تباہ ہوئے تھےاس دھوکہ دہی میں بار بار ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بزرگ اور کمزور لوگوں کا شکار کیا جنہوں نے مزید رقم دینےسے انکار کرنے پر انہیں دھمکیاں دیں ہماری امید، اور بہت سے متاثرین کی، ڈیٹرنس ہے تاکہ دوسروں کو روکا جا سکےجو ہماری کمیونٹی اور اس سے باہر اسی طرح کا نقصان کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔

    کینیڈا:سکھوں کاہندو مندر پر حملہ ،پوسٹر آویزاں کر دیئے

    محکمہ انصاف کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جعلساز گروہ نے مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے متاثرین کو دھوکہ دیا اور لوگوں کو کہا کہ آپ گفٹ کارڈ خرید کر رقم بھیجیں۔ ملزمان متاثرین سے فون یا انٹرنیٹ سائٹس کے ذریعے کمپیوٹر تکنیکی فراہم کرنے کے لیے رابطہ کرتے تھے۔ ایک بار جب متاثرین نے دھوکہ دہی کرنے والوں سے رابطہ کیا، تو انہیں مختلف کہانیاں سنائی گئیں جیسے کہ وہ کسی ماہر سے بات کر رہے ہیں۔

    اس کے بعد ملزمان نے متاثرین کے ذاتی ڈیٹا اور بینک اور کریڈٹ کارڈ کی معلومات تک رسائی حاصل کی متاثرین نے ان کی خدمات حاصل کرنے کے عوض فیس ادا کی گئی اکاؤنٹس میں ہیرا پھیری کی تاکہ یہ ظاہر ہو کہ متاثرہ کو ٹائپوگرافیکل کی وجہ سے بہت زیادہ رقم کی واپسی کی گئی تھی اس کے بعد متاثرین کو مختلف طریقوں سے بعض اوقات متعدد بار دوبارہ نشانہ بنایا جاتا تھا اور رقم ادا نہ کرنے پر انہیں جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دی جاتی تھی۔

    سعودی عرب نے فلسطین کے لیےغیر مقیم سفیرنامزد کر دیا

    اسکیم کے ایک حصے میں دھوکہ باز متاثرین سے فون یا انٹرنیٹ سائٹس کے ذریعے کمپیوٹر تکنیکی مدد کے لیے رابطہ کرتے اور متاثرین کو کسی خاص فون نمبر پر بھیجتے تھے۔ ایک بار جب متاثرین نے دھوکہ دہی کرنے والوں سے رابطہ کیا، تو انہیں مختلف کہانیاں سنائی گئیں جیسے کہ وہ کسی ماہر سے بات کر رہے تھے جسے تکنیکی مدد کی خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنے کمپیوٹر تک ریموٹ رسائی کی ضرورت تھی۔ اس کے بعد دھوکہ بازوں نے متاثرین کے ذاتی ڈیٹا اور بینک اور کریڈٹ کارڈ کی معلومات تک رسائی حاصل کی۔

    ایف بی آئی، یو ایس پوسٹل انسپیکشن سروس اور آئی آر ایس کریمنل انویسٹی گیشن نے ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز، فورٹ بینڈ کاؤنٹی شیرف آفس اور دیگر مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول شیرف آفس اور آگسٹا کاؤنٹی، ورجینیا کے کامن ویلتھ کے اٹارنی کے دفتر کی مدد سے تفتیش کی۔ اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی بیلنڈا بیک اور کوئنسی اولیسن نے مقدمہ چلایا۔

    انگریز دور کے قوانین کو تبدیل کرنے کا بھارتی پارلیمنٹ میں ترمیمی بل پیش

  • پاک سرزمین سےہمیں بہت پیار،پاکستانی بھی بہت اچھے:   سیلاب زدگان کی مدد جاری رکھیں:بین الاقوامی ریسلرز

    پاک سرزمین سےہمیں بہت پیار،پاکستانی بھی بہت اچھے: سیلاب زدگان کی مدد جاری رکھیں:بین الاقوامی ریسلرز

    لاہور:انٹرنیشنل ریسلرز جن میں ٹنی آئرن، ایڈم فلیکس، ماریہ مے،ایمل ڈب اور بادشاہ خان پہلوان شامل ہیں، نے سیلاب زدہ علاقے راجن پور کا دورہ کیا اور وہاں کے افراد جو حالیہ سیلاب کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں ان سے ملاقات کی۔ علاوہ ازیں انہوں نے فاضل پور میں قائم آرمی فلڈ ریلیف اینڈ میڈیکل کیمپ کا دورہ بھی کیا اور وہاں موجود لوگوں سے ملاقات کی۔

    اس موقع پر انہیں سیلاب زدہ علاقوں میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور بحالی کے کاموں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔

    انٹرنیشنل ریسلرزنے پاکستان آکربہت ہی زیادہ جہاں خوشی محسوس کی وہاں‌ انہوں نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پرافسوس کا اظہار بھی کیا ہے ، انٹرنیشنل ریسلرز نے اس موقع پر اہل پاکستان سے ان کی پاکستان سے محبت اورجوانہوں نے پاکستان آکرمحسوس کیا اس کواپنے انتہائی جزباتی انداز میں ویڈیو کے ذریعے پاکستان میں اپنے قیام کا نقشہ کھینچا ہے ، اس سلسلے میں انٹرنیشنل ریسلرز کی طرف سے وائرل ویڈیو میں کچھ اس طرح اپنے خیالات اورجذبات کا اظہارکیا ہے

     

     

    ٹائنی آئرن کہتے ہیں کہ :
    میں ہوں ٹائنی آئرن۔آدھا زبردست آدھا پاکستانی۔ میں ایک بار پھر سے خوبصورت مُلک پاکستان کے خوبصورت شہر میں آیا ہوں۔ میں یہاں خوبصور ت لوگوں میں ہوں۔ مجھے یہاں دوبارہ آنے کی بہت خوشی ہے اور میں اسے اپنا گھر کہتا ہوں یعنی میرا دوسرا گھر ہے
    میرا یہ دورہ بہت حیرت انگیز رہا کیونکہ پچھلی ملاقات سے اب تک بہت کچھ نیا ہوا ہے۔ جیسا کہ پاکستان کو سیلاب جیسی قدرتی آفت کا سامنا کر نا پڑا ہے اور ان حالات میں اپنے لوگوں کے لئے افواجِ پاکستان نے جو جدو جہد کی ہے،وہ لاجواب ہے۔پوری دُنیا کو اکٹھا ہو کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ میں پوری دُنیا سے اپیل کرتا ہوں۔

    پاک فوج کی سیلاب زدہ خاندانوں کی مدد پران کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان کو میں نے دیکھا ہے نا صرف جرات و بہادری بلکہ بڑی تیزی سے اپنے ہم وطنوں کی مدد کرتے ہوئے۔یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے جو افواجِ پاکستان اپنے لوگوں کے لئے کر رہی ہے۔

     

    ٹائنی آئرن کہتے ہیں کہ :
    پاکستان! ہم سب اکھٹے ہیں اس صورتحال میں، اس ملک کے ساتھ اور اتحاد سے رہیں گے۔ پاکستان زندہ باد

     

    ماریہ مے اپنے جزبات کا اظہارکچھ اس طرح کرتی ہیں ،

    ماریہ کا کہنا تھا کہ :میرا نام ماریہ مے ہے اور یہ میرا پہلا موقع ہے کہ میں نے پاکستان کا دور ہ کیا۔میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ یہاں کے لوگ بہت پرجوش اور خوش آمدید کہنے والے ہیں۔ اس سے پہلے مجھ سے ایسا زبردست برتاؤ میری زندگی میں پہلے نہیں ہوا۔ میں یہاں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ سیلاب کی وجہ سے جو کچھ ہوا اور یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے جو ہم نے فلڈ ریلیف سنٹرز کا دورہ کیا جس کے لئے میں آئی ایس پی آر کی کاوشوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

    ماریہ مےکا کہنا تھا کہ یہ ایک قدرتی آفت ہے جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی اور وہ اقدامات جو ان لوگوں نے متاثرین کو بچانے، اُن کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، اُن کے علاج معالجے اور غذا کی فراہمی کے لئے کئے وہ بے مثال ہیں۔ میں یہاں پے اپنے گھر لند ن یو کے جہاں سے میرا تعلق ہے،وہا ں کے لوگوں کو بتاؤں گی تاکہ اُن کو پتہ چلے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ ریسرچ کا وقت نکالیں۔ ہم نے کل ان علاقوں کا دورہ کیا اور ہماری چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین سے ملاقات ہوئی جو بغیر چھت اور بے آسرا مشکل سے رہ رہے ہیں۔

     

    ماریہ مےمزید کہتی ہیں کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے کم سے کم ہم عطیہ تو کر سکتے ہیں۔ میں ایک دفعہ پھر آئی ایس پی آر کا شکریہ ادا کر نا چاہتی ہوں جنہوں نے مجھے موقع دیا کہ میں فلڈ ریلیف سنٹرمیں جا سکوں۔اس سلسلے میں میں نے دیگر ریسلرز سے بھی بات کی ہے کہ ہمیں پوری دُنیا کویہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے اس سلسلے میں مدد کی جائے۔

    پاکستان میں سیلاب متاثرین سے اظہارہمدردی کے لیے آئے ہوئے بین الاقوامی ریسلرایڈم فلیکس کہتے ہیں‌ کہ:
    میرا نام ایڈم فلیکس ہے اور میرا تعلق آئر لینڈ سے ہے۔یہ میرا دوسرا موقع ہے کہ میں پاکستان آیا ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے اس وقت جب میں آیا ہوں۔ تو یہاں کی صورتحال کافی مختلف ہے۔کیونکہ قدرتی آفت نے اس ملک کو کافی متاثر کیا ہے۔میری دلی ہمدردیاں اُن سب کے لئے ہیں جو اس سے متاثر ہو ئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی حوالے سے میں نے کل اُن علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرہ افراد کو خود جا کر دیکھا۔ اس لئے میں پوری دُنیا کے لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستان کی مدد کریں۔کیونکہ جب بھی میں اس ملک میں آتا ہوں تو یہاں مجھے ہمیشہ خوش آمد ید کہا جاتا ہے۔ مجھے بہت عزت دی جاتی ہے جب میں یہاں آتا ہوں۔

    بین الاقوامی ریسلرایڈم فلیکس مجھے ایسا محسوس کرایا جاتا ہے جیسے میں یہی کا ہوں اور مجھے بہت زبردست طریقے سے برتاؤ کیا جاتا ہے۔ میں یہ پیغام ساری دُنیاکے لوگوں کو پاکستان کے حوالے سے دینا چاہتا ہوں کہ وہ ان کو سپورٹ کریں اور اس زبردست ملک کی مدد کریں۔

     

     

    امیل ڈیب کہتے ہیں کہ:
    میرا نام امیل ہے۔میں پیرس سے یہاں پر آئی ہوں۔یہ میرا سب سے پہلا موقع ہے پا کستان آنے کا۔میں پاکستانیوں کی محبت اور احترام کے جذبے سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ پاکستان ایک، احترام کرنے والا، خیال رکھنے والا اور تعاون کرنے والا ملک ہے۔ہم سیلاب متاثرہ علاقوں میں گئے اور وہاں کمسن بچیوں سے ملے۔ میں اُن کو یہ اُمید دلانا چاہتی ہوں کہ ہم جتنا زیادہ ہو سکا اُن کے لئے کریں گے اور میں یہ کہنا چاہتی ہوں آرمی جوکچھ اُن لوگوں کی بہبود کے لئے کر رہی ہے وہ واقعی بے مثالی ہے۔ ہمیں بلانے کا شکریہ

    بادشا ہ پہلوان خان نے اپنے خیالات کا اظہارکچھ اس طرح کیا ہے:
    میں ہوں بادشاہ پہلوان خان۔ میں بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔آئی ایس پی آر اور پاکستان آرمی کا۔ جن کی وجہ سے ہم یہاں آئے۔ ہمیں لائیو دکھایا اور بتایا کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ آرمی نے سیلاب متاثرہ افراد کی مدد کی اور بطوراوورسیز اکستانی ہمارا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی مدد کریں۔

  • سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    ایک دوست گورنمنٹ ٹیچر ہیں۔۔کہتیں میں نے اسکول امتحانات کے بعد ہیڈ کو مشورہ دیا تھا کہ نالائق طلبا کو دوبارہ ایک سال نہم میں لگوائیں۔۔۔ہیڈ کا کہنا تھا کہ چونکہ پریشر ہے کہ بچے فیل نہیں کرنے لہذا سبھی بچوں کا داخلہ جائے گا۔۔۔۔سبھی بچوں کا داخلہ بھیج کر جو نتائج آئے اس نے چودہ طبق روشن کر دیے۔۔۔۔ویسے تو پنجاب بھر میں جماعت نہم کے نتائج تشویشناک ہیں۔۔

    پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں مسائل کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔۔ سرکاری اسکولوں میں جہاں کچھ ٹیچرز کی عدم دلچسپی ایک وجہ ہے وہیں بچوں کو ڈھیٹ کرنے والی پالیسیز بھی دوسری وجہ ہے جو اچھے ٹیچرز کے ہاتھ باندھ دیتی ہے۔۔۔۔

    یہ فرض کر لینا کہ دنیا کا ہر بچہ مار سے پڑھے گا ایک حد تھی تو اسکے رد میں ایک بالکل دوسری حد متعارف کرا دی ہے مار نہیں پیار۔۔۔۔عنقریب شاید ایسی پالیسی آئے گی کہ ٹیچرز شاگردوں کو والدین کا درجہ دیں۔۔۔

    بچوں کی ہینڈلنگ ایک قابل ٹیچر کی صلاحیت پر چھوڑنی چاہیے۔۔ٹیچر بہتر جج کر سکتا ہے کہ کونسا بچہ کس انداز سے پڑھے گا۔۔۔۔محکمہ ایجوکیشن پنجاب میں نئی بھرتیوں کے بعد نوجوان اور پڑھا لکھا اسٹاف میسر ہے۔۔۔لیکن نئی بھرتیاں کرنے کے باوجود تعلیم یافتہ اسٹاف روایتی سسٹم کے آگے مجبور ہے۔۔۔

    کیسی بیہودہ لاجک ہے کہ شرح خواندگی بڑھانے کو بچے سر پر سوار کر لیں۔۔۔بچوں کی حاضری پوری کریں۔۔بچہ غیر حاضر ہے تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔جیسے تیسے حلیے میں آئیں آنے دیں۔۔پھر اگر وزٹ پر بچے مکمل وردی میں نہیں تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔بچے فیل نہ کریں۔۔سو فیصد نتیجہ دینے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔

    منت ترلہ پروگرام سے تعلیمی انقلاب نہیں آتا ہے۔۔۔حکومت کا کام ایک یونیفارم فلاحی تعلیمی پالیسی متعارف کرانے کا ہے۔۔۔میڈیا کے ذریعے تعلیم کی اہمیت جیسے پروگرام پیش کیے جائیں لیکن اس کے بعد داخلے کو مشروط کیا جائے ایک یونیفارم سٹینڈرڈ سے اور اس پر کوئی کمپرومائز نہ ہو۔۔

    جس نے پڑھنا ہے اسے ان شرائط پر ہی پڑھنا ہو گا۔۔۔تعلیم کو مفت کرنا بھی درست پالیسی نہیں ہے۔۔۔سو طرح کے اور خرچے ہوتے سکتے ہیں تو مناسب تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرنے چاہیے۔۔۔تعلیم کی اہمیت مفتے کے زور پر سمجھانے کی کوشش بےسود ہے۔۔۔۔جنہیں تعلیم کی اہمیت کی آگاہی ہے انکے نزدیک تعلیم انمول ہے۔۔۔

    بچوں کی باڈی لنگوئج خراب کر دی ہے۔۔۔والدین خصوصاً دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو اسکول بھیجنا احسان سمجھتے ہیں۔۔۔ٹیچرز پر دباؤ ہے کہ سو فیصد نتائج دیں۔۔۔یہ دباؤ ناصرف اسکول بلکہ کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی ہے۔۔۔

    جبکہ رزلٹ, نالائق بچوں کو پاس کرنے سے خراب ہوتا ہے۔۔وہ رزلٹ اچھا ہے جو لائق اور نالائق کی تفریق کرے۔۔۔رزلٹ تب خراب ہوتا ہے جب پروفیشنل لائف میں جانے والوں کو انکے ٹیچر یا ادارے کا نام پوچھ کر یہ ریمارکس دیے جائیں کہ بیٹا تمھیں پڑھانے اور پاس کرنے والوں پر چار حروف۔۔

  • سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ نے امدادی کام مزید وسیع کردیے

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ نے امدادی کام مزید وسیع کردیے

    کراچی :سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ نے امدادی کام مزید وسیع کردیےترجمان پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کی جانب سے بحالی کے عمل اور امدادی کارروائیوں کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ کی جانب سے خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں انتہائی سرعت سے بحالی کا عمل اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    پاک فضائیہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے مصائب سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کی بہبود اور بحالی کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔ پاک فضائیہ بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں بھرپور طریقے سے امدادی کارروائیاں اور ریسکیو کے عمل میں سول انتظامیہ کی مدد کرکے ریاستی اداروں کو مزید فعال کر رہی ہے۔ پاک فضائیہ نے فیلڈ میڈیکل کیمپس بھی قائم کیئے ہیں جہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف چوبیس گھنٹے سیلاب متاثرین کو طبی سہولیات اور مفت ادویات فراہم کر رہے ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے تیار کھانا، خشک راشن اور دیگر اشیائے ضروریہ تقسیم کیں۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اٹھال، لاکھڑا، مٹیاری، شہداد کوٹ، صحبت پور، قلعہ عبداللہ، فاضل پور، جھل مگسی، حاجی پور، بستی شیر محمد اور بستی جاگیر گبول کے ضرورت مند خاندانوں میں 15719 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ، 507 پانی کی بوتلیں اور 3415 خشک راشن کے پیکٹ تقسیم کیئے۔ پاک فضائیہ کی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں سیلاب میں پھنسے لوگوں کے باحفاظت انخلاء میں مسلسل مصروف عمل ہیں۔ مزید براں پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے 2416 مریضوں کا طبی معائنہ بھی کیا۔

    پاک فضائیہ قدرتی آفات کے دوران انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ حالیہ امدادی کارروائیاں ضرورت کی اس گھڑی میں ہم وطنوں کی مدد کے لیے پاک فضائیہ کے عزم کا عملی نمونہ ہیں۔

  • الکہف ٹرسٹ سیلاب زدہ علاقوں میں تعمیر پاکستان پروگرام کے تحت مکانات تعمیر کرے گا۔،پیر حافظ ابراہیم نقشبندی

    الکہف ٹرسٹ سیلاب زدہ علاقوں میں تعمیر پاکستان پروگرام کے تحت مکانات تعمیر کرے گا۔،پیر حافظ ابراہیم نقشبندی

    الکہف ایجوکیشنل ٹرسٹ کے سرپرست پیر حافظ شیخ محمد ابراہیم نقشبندی نے ٹاؤن شپ لاہور میں ”سیلاب کی تباہ کاریاں اور ہم سب کی ذمداری“ عنوان پرخطاب کرتے ہوئے کہا سیلاب زدہ علاقوں میں لاکھوں مکانات صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور کروڑوں لوگ متأثر ہوئے ہیں .

    الکہف ٹرسٹ سیلاب زدہ علاقوں میں مستحق افراد کو ”الکہف تعمیر پاکستان پروگرام“کے تحت مکانات تعمیر کر کے دیگا جس کے لیے سروے شروع کر دیا گیا ہے اس میں مستحق بیوگان اور یتیم بچوں کے مکانات ترجیحی بنیاد پرپہلے بنائے جائیں گے جبکہ سیلاب زدہ علاقوں میں شہید مساجد و مدارس کی بھی تعمیر اور بچوں کی فوری تعلیم و تربیت کے لیے مکاتب قرآنیہ قائم اور صاف پانی کا انتظام کیا جائے گا .

    انہوں نے کہا کہ الکہف ٹرسٹ کی طرف سے کروڑوں روپے مالیت کا امدادی سامان اور راشن جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں سروے کے بعد حقیقی مستحقین میں تقسیم کاسلسلہ جاری ہے اب مکانات اور مساجد و مدارس کی تعمیر کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں کے غریب کسانوں کی فصلیں تباہ ہونے کی وجہ سے ان کی امداد اور قرضوں کی ادائیگی بھی کی جائے گی.

    انہوں نے کہا کہ ہم سب کو سادگی اختیار کرتے ہوئے اپنے اخراجات میں سے ان سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کرنا ہوگی۔

  • مراد علی شاہ کاگاؤں سیلاب میں ڈوب گیا، سیہون بچانے کیلئے منچھر جھیل میں شگاف ڈال دیا گیا

    مراد علی شاہ کاگاؤں سیلاب میں ڈوب گیا، سیہون بچانے کیلئے منچھر جھیل میں شگاف ڈال دیا گیا

    سہون شریف :منچھر جھيل ميں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے، جس کے بعد حفاظتی بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزيراعلیٰ سندھ کا آبائی گاؤں بجارا بھی پانی میں ڈوب گیا، جب کہ سیہون بھی خطرے میں پڑ گیا ہے،جہاں شہر کو بچانے کیلئے منچھر جھیل میں کٹ دے دیا گیا ہے۔ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ اس کٹ سے 5 یوسیز بری طرح متاثر ہوں گی۔

    انتظامیہ نےعلاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ سیہون میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا آبائی گاؤں میں پانی میں ڈوب گیا ہے۔ جس کے بعد سیہون کو سیلاب سے بچانے کے لئے منچھر جھیل میں کٹ لگا دیا گیا۔ آرڈی چودہ کے مقام پر کٹ لگایا گیا ہے۔

    ذرائع محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ دادو اور دیگر شہروں کو بھی نقصان سے بچا لیا ہے۔ تین یونین کؤنسلر کے درجنوں دیہات رات گئے خالی کرالیے گیے تھے۔

    سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ گاؤں بجارا میں اب تک امداد نہیں پہنچی۔ زمینی حقائق کی بات کی جائے تو متاثرين کے پاس نہ راشن ہے اور نہ رہنے کے ليے ٹينٹ ہیں۔ علاقے میں چاروں طرف پانی، مگر بجارا واسی گھر چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کشتی کی مدد سے سما کی ٹیم جب بجارا گاؤں پہنچی تو ہر طرف تباہی تھی۔ گھر برباد تو مویشی ہلاک تھے۔ جس گاؤں کو سیلابی پانی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے وہاں امداد کا ایک دانہ تک نہیں پہنچایا جاسکا۔ مقامی رہائشی شاہنواز کی سات سال کی بیٹی سیلاب کی نذر ہوگئی۔

     

     

    ڈپٹی کمشنر کا کہناتھا کہ منچھر جھیل کی صورت حال انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے،آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بندپر دباؤ ہے،عوام سے انخلا اور حفاظتی اقدامات کی اپیل ہے۔ ڈپٹی کمشنر جامشورو فریدالدین مصطفی نے کہاکہ یونین کونسل واہڑ، یونین کونسل بوبک، یونین کونسل جعفرآباد، یونین کونسل چنا، یونین کونسل آراضی کی عوام کوعلاقہ خالی کرنے کی اپیل ہے،ان کا کہناتھا کہ منچھر جھیل کا بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خدشہ ہے، اس لئے عوام سے انخلا کی اپیل ہے۔

    جامشورو میں یوسی چنا، یوسی بوبک، یوسی واہڑ اور یوسی جعفرآباد 60 فیصد خالی کرالیے گئے ہیں، جب کہ 40 فیصد آبادی نقل مکانی میں مصروف ہے۔

    دادو
    دریائے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد نے سڑک کنارے ڈیرے ڈال لیے۔ دادو کا یوسف نائچ گوٹھ مکمل طور پر ڈوبا ہوا ہے, جہاں کے مکین نقل مکانی کرکے اپنے مویشیوں کے ساتھ سڑک کنارے موجود ہیں۔

    مٹیاری
    مٹیاری کےعلاقے سعیدآباد بھٹ شاہ میں قومی شاہراہ پرکیمپسں تو لگادیئے گئے لیکن سیلاب متاثرین کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہیں۔ ٹریفک کے باعث خواتین اور بچے خوفزدہ ہیں۔ سیلاب سے متاثر ہزاروں کی تعداد میں افراد قومی شاہراہ پر قائم کیمپسں میں موجود ہیں۔ جس میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

    سکھر میں بیماریاں
    سکھرمیں بارش کی تباہ کاریوں کے بعد تمام علاقوں میں گیسٹرو ، ملیریا، ڈائریا سمیت مختلف بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں۔ سکھر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا ہے، جہاں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر انعم شیخ کے مطابق ان کیمپس میں سیلاب زدگان کا علاج مفت کیا جارہا ہے، گیسٹرو، ڈائریا، ملیریا اور جلد کی بیماریوں سے متاثرین کو نقصان پہنچا ہے۔

    ٹنڈو الہٰ یار
    ٹنڈوالہ یار کے دیہی علاقے ميں سیلاب سے متاثرہ گھروں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ متاثرین سامان اٹھائے خشکی کی تلاش میں ہیں۔ سیلاب زدگان کا کہنا ہے کہ کھانا پانی کچھ بھی نہیں ملا۔ بلکہ لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

    فلڈ وارننگ سینٹرکے مطابق سکھر بیراج پر بھی پانی کی سطح گرنا شروع ہوگئی ہے۔ اور یہاں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 45 ہزار کیوسک پر آ گیا، اور آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔ دوسری جانب فلڈ وارننگ سینٹر نے بتایا ہے کہ کوٹری بیراج پر 12 سال بعد 5 لاکھ 86 ہزارکیوسک کا بڑاریلا پہنچ گیا ہے، اور پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • جہانگیرترین کا سیلاب متاثرین کیلئے10کروڑ کی امداد کا اعلان

    جہانگیرترین کا سیلاب متاثرین کیلئے10کروڑ کی امداد کا اعلان

    ملتان : جہانگیرترین کا سیلاب متاثرین کیلئے10کروڑ کی امداد کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین کی جانب سے ملک بھر میں سیلاب متاثرین کیلئے دس کروڑ کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مشترکا قومی کاوش کی ضرورت ہے۔

    معروف سیاسی رہنما اور سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین کی جانب سے اتوار 4 ستمبر کو سیلاب متاثرین کیلئے 10کروڑ کی امداد کا اعلان کیا گیا۔دی جانے والی امدادی سامان میں راشن، خیمے، ترپالیں، مچھر دانیاں، خواتین کے حفظان صحت کا سامان اور نقدی شامل ہیں۔اس موقع پر انہوں نے صاحب حیثیت افراد سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے کاروباری اور مخیر حضرات سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگے بڑھیں۔

    جہانگیر ترین کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مشترکا قومی کاوش کی ضرورت ہے، مصیبت کی اس گھڑی میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ تمام امدادی سامان، رقم جہانگیر ترین کے اداروں کے ذریعے سیلاب متاثرین تک پہنچائی جائے گی،

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جہانگیر خان ترین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے 1 کروڑ روپے دے چکے ہیں ۔ تحریک انصاف کے منحرف رہنما اور عمران خان کے قریبی دوست جہانگیر ترین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے ایک کروڑ روپے امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مزید تعاون کی پیشکش کی بھی کی تھی جواس اعلان کے ساتھ پوری ہوگئی

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • سیلاب متاثرہ اضلاع میں  ہیلتھ کیمپس لگانے کا فیصلہ

    سیلاب متاثرہ اضلاع میں ہیلتھ کیمپس لگانے کا فیصلہ

    وفاقی وزیرصحت عبدالقادر پٹیل کی ہدایت پرملک بھر میں سیلاب متاثرین کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے متاثرہ اضلاع میں ہیلتھ کیمپس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

    ترجمانِ وزارت صحت کے مطابق کیمپس نیشنل ایمرجنسی آپریشن سیل صوبائی ای اوسیز اور اغاخان یونیورسٹی کے اشتراک سے لگائے جایں گے.

    عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کو طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں،سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں تقریبا 1200 ہیلتھ کیمپ لگائے جائیں گے،ہیلتھ کیمپس میں بنیادی صحت کی خدمات فراہم کی جائیں گی ،کیمپس میں ادویات، اہل بچوں کی ویکسینیشن کی فراہمی کو یقینی بنایں گے.

    وزیرصحت نے کہا کہ جلد کے امراض، آ نکھوں کے انفیکشن، اینٹی ڈائریا کی ادویات بھی فراہم کی جایں گی ، ڈیرہ اسماعیل خان پشاور، ٹانک، کے ہر ضلع میں بھی اسی طرح ہیلتھ کیمپس لگانے جایں گے ، بلوچستان کے 6 اضلاع مجموعی طور پر تین سو کیمپ لگائے جایں گے، بلوچستان کے اضلاع میں لسبیلا جعفر آباد/نصیر آباد، صحبت پور، جھل مگسی، بولان، موسی خیل اور ہرنائی شامل ہیں

    عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ کراچی میں مجموعی طور پر 95 ہیلتھ کیمپ لگائے جائیں گے ،خیبر پختونخوا کے 8 اضلاع ٹوٹل چار سو ہیلتھ کیمپس لگانے جایں گے،ڈیرہ اسماعیل خان پشاور ٹانک نوشہرہ، چارسدہ، سوات، شانگلہ، دیر لوئر شامل ہیں، پنجاب کے 2 اضلاع ڈی جی خان راجن پور ٹوٹل سو کیمپ لگائے جایں گے، اندرون سندھ کے چھ اضلاع میں تین سو ہیلتھ کیمپس لگاے جایں گے ،.سندھ کے اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ/لاڑکانہ، سکھر/خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، سانگر/بدین اور شکارپور/کشمور شامل ہیں.

  • تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار

    تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار

    اسلام آباد:اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی حالیہ تاریخ کے سب سے شدید سیلاب کی وجہ سے 30 لاکھ سے زائد بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور وہ پانی سے پھوٹنے والی بیماریوں، ڈوبنے اور غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہیں۔

     

     

    یونیسیف نے ایک بیان میں بتایا کہ ادارہ متاثرہ علاقوں میں بچوں اور خاندانوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فادِل نے کہا کہ جب آفات آتی ہیں تو بچے ہمیشہ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہوتے ہیں، سیلاب پہلے ہی بچوں اور خاندانوں کو تباہ کن نقصان پہنچا چکا ہے اور صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

    یونیسیف، حکومت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ متاثرہ بچوں کو جلد از جلد ضروری مدد مل جائے۔بیان میں کہا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں پانی کے نظام کو 30 فیصد نقصان پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جس سے لوگوں کے کھلے مقام پر رفع حاجت کرنے اور غیر محفوظ پانی پینے کے ساتھ بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    پیاز اور ٹماٹر کے 40 ٹرک پاکستان پہنچ گئے

    اس کے علاوہ اسہال اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں، سانس کے انفیکشن اور جلد کی بیماریوں کے کیسز پہلے ہی رپورٹ ہو رہے ہیں جو زیادہ خطرات کی شکار آبادیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

    علاوہ ازیں 40 فیصد بچے جو دائمی طور پر کم غذائیت کا شکار تھے وہ اب مزید غذائی قلت کا شکار ہوچکے ہیں۔یہ خطرناک انسانی صورت حال آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مزید خراب ہونے کی توقع ہے کیونکہ پہلے سے زیر آب علاقوں میں اب بھی شدید بارشیں جاری ہیں۔

    قوم کو مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آنا ہوگا

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی ہنگامی اپیل کے ایک حصے کے طور پر یونیسیف 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی اپیل کر رہا ہے جس کا مقصد آنے والے مہینوں میں بچوں اور خاندانوں تک زندگی بچانے والے طبی آلات، ضروری ادویات، ویکسینز، محفوظ ڈیلیوری کٹس، پینے کے صاف پانی اور صفائی کی فراہمی، غذائیت کی فراہمی، عارضی تعلیمی مراکز اور سیکھنے کی کٹس سمیت دیگر مدد فراہم کرنا ہے۔

    یونیسیف کے چلڈرن کلائمیٹ رسک انڈیکس (سی سی آر آئی) کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے لیے معروف ہے اور وہ ملک ہے جہاں بچوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے ‘انتہائی خطرے’ کا شکار سمجھا جاتا ہے۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    پاکستان سی سی آر آئی کی درجہ بندی والے 163 ممالک اور خطوں میں سے 14ویں نمبر پر ‘انتہائی بلند خطرے’ کے زمرے میں آتا ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ سیلاب سے تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو بھی کافی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں کیونکہ 17 ہزار 566 اسکولوں کو نقصان پہنچا یا تباہ ہوگئے جس سے بچوں کی تعلیم کو مزید خطرہ لاحق ہے۔

    خاص کر گزشتہ دو سال کی وبائی بیماری کے بعد اسکول کی بندش کے بعد بچوں کی تعلیم میں مزید خلل پڑنے کا خطرہ ہے، باالخصوص ان علاقوں میں جہاں ایک تہائی لڑکیاں اور لڑکے بحران سے پہلے ہی اسکول سے باہر تھے۔

  • پی اے ایف کے خیبر پختونخوا میں ریسکیو آپریشنز جاری

    پی اے ایف کے خیبر پختونخوا میں ریسکیو آپریشنز جاری

    پشاور: پاک فضائیہ نے بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف اور بحالی کے آپریشن کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی ریسکیو آپریشنز کو وسعت دے دی۔ خیبر پختونخوا کے گاؤں خیشکی اور نوشہرہ کلاں سے 800 افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ مزید برآں رسالپور کے فیلڈ کیمپوں میں 1400 افراد کو رکھا گیا ہے جہاں انہیں مفت طبی علاج، کھانا اور رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

    وادی نلتر میں پاک فضائیہ کی جانب سے مفت راشن اور طبی امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ائیر مارشل حامد راشد رندھاوا ڈپٹی چیف آف ائیر سٹاف (ایڈمنسٹریشن) اور ائیر وائس مارشل معید خان ڈائریکٹر جنرل ائیر آپریشنز نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔ دونوں ایئر آفیسرز نے پی اے ایف کے اہلکاروں کی طرف سے سیلاب سے بچاؤ اور بحالی کی سرگرمیوں کا معائنہ کرنے کے لیے فیلڈ کیمپس کا بھی دورہ کیا۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 13960 پکے ہوئے فوڈ پیکٹ، 924 راشن پیک، جن میں بنیادی اشیائے خوردونوش اور اجناس شامل تھیں، ضرورت مند خاندانوں میں تقسیم کیے گئے۔ مزید برآں، پی اے ایف کے فیلڈ ہسپتالوں میں میڈیکل ٹیموں نے 804 مریضوں کو مفت علاج اور ادویات کی سہولیات فراہم کیں۔ پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔