Baaghi TV

Tag: متحدہ اپوزیشن

  • تحریک عدم اعتماد کے اثرات

    تحریک عدم اعتماد کے اثرات

    تحریک عدم اعتماد کے اثرات
    یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تاریخی دن تھا جب سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قومی اسمبلی کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے صدر کو وزیراعظم کا مشورہ بھی واپس کر دیا۔ موجودہ سیاسی صورتحال کا خلاصہ کروں تو حتمی فیصلہ عدالتی فیصلے پر منحصر ہے۔ ساتھ ہی پاکستان میں متحدہ اپوزیشن نے اسے جمہوریت اور عدلیہ کی فتح قرار دیا کیونکہ عدالت نے پاکستان کے آئین کا تحفظ کیا اور نظریہ کو دفن کر دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی بار سب نے دیکھا کہ اپوزیشن حکومت کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے اور بعد میں نے اسمبلی کو تحلیل کر کے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔

    اب پی ٹی آئی کے حامی سوچ رہے ہیں کہ عمران خان کے پاس کیا آپشن رہ گئے ہیں، اپوزیشن کے اقدام کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے حوالے سے پارٹی کے اندر اختلاف رائے ہے۔ تاہم، شہباز شریف کا وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ تنقید کے علاوہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی اب بھی اسمبلی میں نمبر گیم کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن میں تقسیم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں قومی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ اب تک متحدہ اپوزیشن عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر جیت منا رہی ہے ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت اور حامی اب بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ غیر ملکی سازش کے تحت پی ٹی آئی حکومت کو پارلیمنٹ سے باہر نکالا گیا اور اسے حکومت کی تبدیلی قرار دیا گیا۔کئی سیاسی تجزیہ کار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ لیٹر گیٹ کا معاملہ حقیقی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اب تک کسی بھی ذمہ دار عہدے سے کسی نے بھی حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کی تردید نہیں کی۔لہٰذا، ایک بات یقینی ہے ایک خاص قسم کی سازش تھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے بہت سے مواقع پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو لیٹر گیٹ کے معاملے پر اجلاس میں شرکت کی درخواست کی لیکن انہوں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔ شہباز شریف نے اپنی جیت کی تقریر کے دوران کہا کہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی اور اگر پی ٹی آئی حکومت کے خلاف کسی غیر ملکی سازش کی تصدیق ہوئی تو وہ پریمیئر شپ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ لیٹر گیٹ سکینڈل پر تشویش ہے۔ میں اسے حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ اپوزیشن کا سیاسی سٹنٹ کہوں گا۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کی جمہوریت میں اپنی سیاسی سالمیت کو برقرار رکھنے میں کیوں اور کیسے ناکام رہی؟

    میرے خیال میں پہلے تو یہ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی غلط حکمرانی کی وجہ سے ہوا۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح بزدار حکومت سویلین بیوروکریسی کو تبدیل کرتی رہی۔ پی ٹی آئی کے سیاسی حریفوں نے اسے سیاسی پختگی کا فقدان اور حکومتی امور چلانے میں تحریک انصاف کی ناتجربہ کاری قرار دیا۔دوسرا، یہ مہنگائی، ناقص گورننس، اصلاحات کا فقدان، عمران خان کی اشتعال انگیز سیاست، اور بہت سے سماجی مسائل تھے۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ وزارت دفاع میں اہم تقرریوں کے معاملات تھے جنہیں کسی نہ کسی طرح حکومت نے غلط طریقے سے سنبھالا تھا۔ اسی طرح خراب معاشی حالات بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے کمزور ہونے کی ایک وجہ تھی۔ حالانکہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے ان کو سیاسی الزامات قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔

    فی الحال، پی ٹی آئی کی حکومت پارلیمنٹ سے اعتماد کھو بیٹھی اور متحدہ اپوزیشن نے اقتدار سنبھال لیا۔ پاکستان کے سیاسی نظام پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ سٹاک مارکیٹ سیاسی صورتحال کی وجہ سے بدل رہی ہے، بین الاقوامی کرنسی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بیرونی ممالک پاکستان میں سیاسی استحکام کے منتظر ہیں تاکہ وہ ایک بار پھر پاکستان کو کئی علاقائی مسائل پر سفارتی طور پر شامل کر سکیں۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران خان کی حکومت تاریخ کا حصہ بن گئی اور آئندہ جو کچھ ہے وہ آنے والی حکومت کے لیے سنگین چیلنجز ہیں۔

    قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے بنائی گئی حکومت تقریباً دس چھوٹی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے جن کے لیے حکومتی امور کو سنبھالنا ایک چیلنج ہوگا۔۔مسائل کی بات کی جائے تو مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کو حل کرنا ہوگا۔ گورننس سے مہنگائی تک، امن و امان سے لے کر دہشت گردی تک، معاشی بحران سے آئی ایم ایف تک، اور بہت کچھ۔ کاش نئے وزیراعظم کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ ’بھکاری سلیکٹرز نہیں ہو سکتے‘ آخر میں ایک اور بات جو سیاسی نظام کے لیے طنزیہ ہے وہ یہ کہ ایک شخص جو عدالتوں سے ضمانت پر رہا اور جس کے کرپشن کے مقدمات زیر التوا ہیں وہ پاکستان کا وزیراعظم بن گیا۔ جیسا کہ لیڈر اپنی قوم کی نمائندگی کرتا ہے اس لیے پاکستان میں ایک فرد ہونے کے ناطے ہر ایک کو اپنے ضمیر پر نظر ثانی کرنے اور یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کا لیڈر کون ہوگا اور کوئی بھی قوم بین الاقوامی میدان میں اپنی عزت کیسے پیدا کرتی ہے۔

  • متحدہ اپوزیشن کے ارکان کی دوسرے ہوٹل میں منتقلی

    متحدہ اپوزیشن کے ارکان کی دوسرے ہوٹل میں منتقلی

    پنجاب اسمبلی کے متحدہ اپوزیشن کے ارکان کی دوسرے ہوٹل میں منتقلی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے

    ارکان اسمبلی کو گلبرگ سے ائیرپورٹ کے قریب ہوٹل میں منتقل کیا جارہا ہے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ارکان اسمبلی کو دوسرے ہوٹل منتقل کیا جارہا ہے ن لیگی ایم پی اے بشری ٰبٹ اور رابعہ فاروقی اپنا سامان لے کر دوسرے ہوٹل روانہ ہو چکی ہیں ،

    ن لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ اراکین جس ہوٹل میں رہ ہے تھے اس میں جگہ کم ہے ،امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہو رہا تھا اس لیے دوسرے ہوٹل منتقل کررہے ہیں مونس الہٰی کی کروڑوں روپے رشوت کی آفر کا اکٹھے رہ کر مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے امید تھی جلد اجلاس ہو جائے گا، لیکن لگتا ہے مزید کچھ دن مسافررہیں گے،فیاض چوہان ابھی پرویز الہٰی کی ڈوبتی کشتی میں مزید سوراخ کرنے آئے ہیں،پرویز الہیٰ بھی ایک ہارے ہوئے لشکر کے کمانڈر ہیں،تحریک انصاف کا وزیراعلیٰ کا اپنا امیدوار نہیں ہے ،پرویز الہٰی کے پاس نمبر پورے ہیں تو قائد ایوان کے انتخاب سے بھاگ کیوں رہے ہیں، پنجاب کے 199نمائندے حمزہ شہباز پر مکمل اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں

    واضح رہے کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا ہے، پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو جبکہ اپوزیشن نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے ووٹنگ 6 اپریل کو ہونی تھی وہ نہیں ہو سکی، پی ٹی آئی کا ترین گروپ، علیم خان گروپ ن لیگ سے مل چکا ہے یوں پنجاب میں پی ٹی آئی اکثریت کھو چکی ہے اسی وجہ سے اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جا رہا، آج لاہور ہائیکورٹ میں بھی اسمبلی اجلاس بلانے کی درخواست دائر کی گئی ہے، عدالت نے فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے

    قبل ازیں متحدہ اپوزیشن مسلسل دو روز کوشش کے بعد پنجاب اسمبلی کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی اور سپیشل سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے دفتر میں سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے ۔ لیگی ایم پی ایز سپیکر اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے لئے اسمبلی پہنچے تو ایک بار پھر سکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے انہیں اندر جانے سے روک دیا مزاحمت کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے سیکرٹری اسمبلی کے سٹاف سے رابطہ کیا اور اجازت ملنے پر اپوزیشن ممبران کے لئے اسمبلی کا گیٹ کھولا گیا۔ خواجہ سلمان رفیق، خلیل طاہر سندھو، سمیع اللہ خان ، پیر اشرف رسول، مرزا جاوید اور میاں عبدالرئوف نے سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی کی عدم موجودگی کے باعث سپیشل سیکرٹری چوہدری عامر حبیب کو تحریک جمع کرائی۔

    تحریک عدم اعتماد کے متن میں تحریر کیا گیا کہ ایوان کی اکثریت کو پرویز الٰہی پر اعتماد نہیں رہا۔ عدم اعتماد کی تحریک جمع کرانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے خلیل طاہر سندھونے کہا کہ کل بھی ہم عدم اعتماد کی تحریک جمع کروانے آئے تو ہمارے ساتھ برا سلوک ہوا، آج کے بعد اسمبلی کا تمام سٹاف سپیکر کا کوئی حکم ماننے کا پابند نہیں۔ پرویزالہی نے وزیر اعلی نہیں بننا اور سپیکر کے عہدے پر بھی نہیں رہ سکیں گے۔ پرویزالٰہی عمران خان کی ایماء پر غیر آئینی کام کر رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کے خلاف آئینی رٹ کرنے جارہے ہیں۔

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    آسمان اس وقت گرا جب اسمبلی تحلیل کر دی گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    مولانا یاد رکھیں، مفتی محمود کو سیڑھیوں پر گھسیٹا گیا تھا،چودھری شجاعت

  • زرداری کاحکم:شہازشریف لبیک لبیک :کل حاضرخدمت ہونےکاوعدہ:دفعہ 144نافذ

    زرداری کاحکم:شہازشریف لبیک لبیک :کل حاضرخدمت ہونےکاوعدہ:دفعہ 144نافذ

    اسلام آباد:زرداری کےحکم پرشہازشریف لبیک لبیک کہنےلگے:کل حاضرخدمت ہونےکا بھی وعدہ:ادھر دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون میں جلسے جلوس اور ریلیوں پر پابندی عائد کردی۔

    ضلعی انتظامیہ نے ریڈزون میں ایک سے زائد افراد کے جمع ہونے پر بھی پابندی عائد کردی ہے، ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    دفعہ 144 کے تحت اسلام آباد میں ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، فیصلہ امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے خدشے پر کیا گیا، دفعہ 144 فوری نافذ ہوگی اور خلاف ورزی پر کارروائی کی جائےگی۔

    خیال رہے کہ اتوار 3 اپریل کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی اور اس موقع پر ہنگامہ آرائی کا خدشہ بھی جاری کیا جارہا ہے۔تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وزیراعظم عمران خان عہدے سے فارغ ہوجائیں گے۔

    ادھر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن کا اہم اجلاس اتوار کو صبح دس بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا گیا۔

    اجلاس کی صدارت پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کریں گے، اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرادری، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی ف کے مولانا اسعد محمود شریک ہوں گے۔

    اجلاس میں بی این پی مینگل کے سردار اختر مینگل، بی اے پی کے خالد مگسی، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی شریک ہوں گے۔ اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کے تمام پارلیمانی ممبران بھی شریک ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی اسمبلی اجلاس کی حکمت عملی طے کی جائے گی، قومی اسمبلی اجلاس سے قبل اپوزیشن کے اجلاس میں ممبران کی تعداد مکمل کی جائے گی، اجلاس میں ائندہ کی حکمت عملی نئے وزیراعظم کے انتخاب پر مشاورت ہو گی۔

  • سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟

    سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟

    سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کا بڑا مطالبہ پورا کر دیا گیا

    رکن قومی اسمبلی علی وزیراسلام آباد پہنچ گئے علی وزیر کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا علی وزیر کو کراچی کی سنٹرل جیل سے رہا کیا گیا تھا جس کے بعد وہ اسلام آباد پہنچے دوسری جانب محکمہ داخلہ سندھ نے سندھ ہاؤس اسلام آباد کو سب جیل قرار دینے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا، علی وزیر کو سندھ ہاؤس اسلام آباد میں رکھا جائے گا جہاں اپوزیشن کے اراکین اسمبلی موجود ہیں، علی وزیر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کےخلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ کاسٹ کیے جانے کا امکان ہے سندھ ہاؤس کا کمرہ نمبر 214 سب جیل قرار دیا گیا ہے، علی وزیر کی سکیورٹی کی سخت ہدایت کی گئی ہے

    اپوزیشن نے علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا،شیزا فاطمہ،نوید قمر کا کہنا ہے کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کے لیے درخواست جمع کروا دی، درخواست نوید قمر، محسن داوڑ اور ن لیگی رہنماؤں نے جمع کروائی ، اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے کہا تھاکہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کے لئے درخواست دیں گے، اسمبلی اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن نے علی وزیر کے پروڈوکشن آرڈر کے لئے درخواست دے دی ہے

    اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ علی وزیر کے پروڈکش آرڈر جاری کئے جائیں اور علی وزیر کو بطور ممبر قومی اسمبلی عزت و احترام کے ساتھ اپنا ووٹ کاسٹ کرنےکا موقع دیا جائے، جب تک عدم اعتماد کی تحریک کا رزلٹ نہیں نہیں آ جاتا پارلیمنٹ لاجز میں رکھاجائے یہ اسکا حق ہے ،

    قبل ازیں اسلام آباد میں سیاسی ماحول موسم کی شدت کے ساتھ ساتھ مزید گرم ہو رہا ہے، اپوزیشن کی ملاقاتیں، رابطے جاری ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رکن قومی اسمبلی رفیق جمالی کی جانب سے دئیے گئے ظہرانے میں شرکت کی، ظہرانے میں پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین قومی اسمبلی شریک تھے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی اراکین قومی اسمبلی کو تحریک عدم اعتماد کے اجلاس کے حوالے سے اہم ہدایات دیں

    قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائش گاہ آمد ہوئی ہے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان اور اختر مینگل کے درمیان سیاسی امور پر گفتگو کی گئی، ملاقات میں خالد مقبول صدیقی، شاہ زین بگٹی، خالد مگسی اور اسلم بھوتانی پر مشتمل سابق حکومتی اتحادی بھی موجود تھے یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی، شیری رحمان، خورشید شاہ، نوید قمر، محسن داوڑ و دیگر بھی ملاقات کے موقع پر موجود تھے

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ‏آج اسپیکر قومی اسیمبلی کے پاس عدم اعتماد پر ووٹنگ میں تاخیر کا کوئی آئینی و اخلاقی جواز نہیں ہوگا،عمران خان کی مصنوعی اکثریت اب اقلیت میں تبدیل ہو چکی ہے،عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی تو آج عمران خان کے سلیکٹڈ حکومت کا آخری دن ہوگا، عمران خان کس غیبی امداد کے انتظار میں ہیں؟ ‏ڈوبتی ہوئی حکومت اب مبینہ خط کو سہارہ بنا کر بچنا چاہتی ہے، ایم کیو ایم، بی اے پی، جمہوری وطن پارٹی اور آزاد ارکان کی اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کے بعد عمران خان کو وزیراعظم کا منصب پر ایک دن بھی نہیں رہنا چاہئے تھا،کارکنان کو انتشار پر اکسانے سے بہتر ہے عمران خان استعفی دے دیں،

    پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو ابھی تک قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کی دعوت نہیں ملی،ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ خط جلسوں میں لہرایا جانے کے بجائے پارلیمنٹ میں پیش کیاجاتا، خط پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جاتی 40پنکچر والی اسٹریٹجی یہاں استعمال نہ کی جائے، یہ ڈرامہ عدم اعتماد کی تحریک کے دوران کیوں شروع ہوا؟خط جب موصول ہوا اسوقت ریلیزکیوں نہ ہوا، شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ خط سے قومی سلامتی کمیٹی کا کوئی تعلق نہیں،اسپیکر پر ہمارا کوئی اعتماد نہیں ،ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ خط وزیر اعظم نے اپنے سفیر سے کہہ کرلکھوایا اقتدار کو بچانے کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے جارہے ہیں،بیک ڈور سے ہو یا فرنٹ ڈور سے ہم آئینی طریقہ اپنا رہے ہیں ،سپریم کورٹ نے کہا ہے کسی کو ریڈ زون آنے کی اجازت نہ دی جائے ،اگر پی ٹی آئی کے ایک لاکھ لوگ آئیں گے تو ہم نے راولپنڈی عہدیداروں کو بتادیا ہے

    خالد مگسی کا کہنا تھا کہ منحرف ارکان پر حملے کی معاشرے میں اجازت نہیں،اپوزیشن اور حکومت میں کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہورہے،شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کیوں پر امید ہے وہ ہی بتاسکتی ہے اپوزیشن کے نمبرز پورے ہیں عمران خان حکومت بچانے کی کوشش کررہے ہیں وزیراعظم نے کراچی کے لیے ریلیف پیکج دیا تو کیا بلوچستان نظر نہیں آیا

    مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب

    اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے

    عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید

    10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان

    ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی

    ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول

    مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں

    پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع