ایشیا رگبی کی جانب سے رگبی چیمپئن شپ مینز ڈویژن ون کے لیے مقرر کیے گئے میچز کھیلنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی ٹیم لاہور پہنچ گئی، پاکستان دو میچوں کی دلچسپ سیریز میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی میزبانی کرے گا، دونوں ٹیموں کے درمیان میچز 4 اور 8 جولائی کو لاہور کے مشہور پنجاب اسٹیڈیم میں ہوں گے۔
مہمان ٹیم کے لاہور پہنچنے پر پاکستان رگبی یونین کے عہدیداران نے انکا استقبال کیا، ٹیم کو ایئرپورٹ سے ہوٹل پہنچا دیا گیا۔ یواے ای کی ٹیم میں 26 کھلاڑی اور چار آفیشلز شامل ہیں۔ایشین رگبی چیمپیئن شپ ڈویژن ون کو سپر وائز کرنے کے لیے ہانگ کانگ، سنگاپور اور ملائشیا کے میچ آفیشلز بھی لاہور پہنچ گئے ہیں۔
میچز رات 8 بجے کھیلے جائیں گے، 4 جولائی کو ہونے والے میچ میں ہانگ کانگ کے مورگن وائٹ میچ ریفری ہوں گے، سنگا پور رگبی فیڈریشن کے جسٹ وانگ اور ملائشیا کے عبد المنیم میچ میں انکے نائب ہوں گے۔
Tag: متحدہ عرب امارات

ایشین رگبی چیمپئن شپ کے میچز کھیلنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی ٹیم لاہور پہنچ گئی

کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ کا افتتاح
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ کا افتتاح کردیا
وفاقی وزیر بحری امور فیصل سبزواری، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور متحدہ عرب امارات کے سفیر اور قونصل جنرل بھی تقریب میں شریک تھے،تقریب میں ابوظہبی پورٹس گروپ اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے درمیان معاہدہ پر دستخط کئے گئے ،کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ ابو ظہبی پورٹس گروپ آپریٹ اور ڈیولپ کرے گا ،گورنرسندھ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ ٹرمینل سے پاکستان ،متحدہ عرب امارات دوطرفہ تعلقات مزید تقویت حاصل کریں گے ۔معاہدے سے کراچی گیٹ وے ٹرمینل کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی ۔ پاکستانی معیشت مستحکم کرنے میں متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری اہم ہے،
وفاقی وزیر بحری امور فیصل سبزواری نے کہا کہ کسی ملازم کو بیروزگار نہیں ہونے دیا گیا ۔ ابو ظہبی پورٹس گروپ اسے منظم، آپریٹ اور ڈیویلپ کرے گا۔ٹرمینل سے کراچی پورٹ کی رائلٹی میں 12.5فیصد تک اضافہ متوقع ہے، چیف ایگزیکٹیو آفیسرجمعہ شمسی نے کہا کہ یہ ٹرمینل علاقائی ہی نہیں ریجنل اورگلوبل بزنس کے لئے بھی اہم ثابت ہوگا ۔پاک یو اے ای باہمی تجارت 2022ء میں 9.3 ارب ڈالرز تھی.اس ٹرمینل سے اس میں مزید اضافہ ہوگا ۔اس وقت مشرق وسطیٰ میں یو اے ای پاکستان کا سب سے بڑا شراکت دار ہے،سی ای او ابو ظہبی گروپ نے کہا کہ ریلو ے اور ڈیجیٹل نیٹ ورک پر سرمایہ کاری کریں گے ۔سی ای ا و جمعہ شمسی اور چیئر مین کے پی ٹی سید سیدین رضا نے دستخط کئے
پاکستان اورعرب امارات کے درمیان معاہدہ طے پایا ہجس کے تحت کراچی پورٹ کے ٹرمینل کا انتظام متحدہ عرب امارات کو دیا جائے گا معاہدے کے مطابق ابوظبی پورٹس کراچی پورٹ پر 1.8 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرے گا،سرمایہ کاری بلک کارگو کے شعبے میں بھی کی جائے گی
اسرائیلی صدر کے دورہ کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ
حوثی باغیوں کے حملے، امریکا کا جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے یو اے ای بھجوانے کا اعلان
ہیلی کاپٹر حادثہ، امریکی ڈرون کے چرچے،جعلی ٹویٹ،سازشی پکڑے گئے
سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار
سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف
حوثیوں کے سعودی عرب،یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملے،یو اے ای نے میزائل تباہ کر دیئے

امارات میں 8 سال بعد ایرانی سفیر تعینات
ایران نے متحدہ عرب امارات کے لیے 8 سال بعد اپنا نیا سفیر نامزد کردیا۔
باغی ٹی وی : ایران نے سینئر سفارتکار رضا امیری کو ابوظبی کے لیے سفیر مقرر کیا ہے جو 8 سال بعد متحدہ عرب امارات میں ایرانی سفیر کے طور پر تعینات ہوں گے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ایران کے نئے تعینات کردہ سفیر رضا امیری وزارت خارجہ میں ایرانی تارکین وطن کے دفتر کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
واضح رہےکہ ایران اورسعودی عرب نے بھی 2016 کے بعد اپنے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے ایرانی صدر کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت بھی دی ہے۔

متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار
متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیارہے-
باغی ٹی وی: گزشتہ روز دبئی میں پاکستان بز نس کونسل کی تقریب میں اماراتی حکومت کے پاکستان میں تین بڑے سرمایہ کاری منصوبوں سے آگاہ کیا گیا۔ جن کی مالیت کا تخمینہ ایک ارب ڈالرز سے زائد ہے۔
اقوام متحدہ میں عرب ممالک کا قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر …
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان شپنگ اینڈ لوجسٹک کوریڈور پر کل دستخط ہوں گے پاکستان ایکسپورٹ پراسسنگ زون کے چیئرمین ڈاکٹر سیف الدین جونیجو نے وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کی۔
متحدہ عرب امارات کو پاکستان کے پانچ سرکاری اداروں کے شیئرز خریدنے کی بھی پیشکش کی گئی۔
لاہور میں ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات،عمران خان پر مقدمہ درج
پاکستان ایکسپورٹ پراسسنگ زون کے چیئرمین ڈاکٹر سیف الدین جونیجو کا کہنا تھا کہ دبئی فری زونز کی طرز پر پاکستان ایکسپورٹ پراسسنگ زونز قائم کیے جائیں گے اس سے برآمدات کا ہدف تین سال میں پانچ ارب ڈالر ہے، ان کا کہنا تھا کہ فی الحال برآمدات ایک ارب ڈالر ہیں۔
نائب چیئرمین ڈی پی ورلڈ فخر عالم نے تقریب کے دوران بتایا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہے۔
ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

طیارہ 13 گھنٹے کی مسافت کے بعد واپس وہیں پہنچ گیاجہاں سے اڑان بھری
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ایمریٹس ایئرلائنز کا طیارہ 13 گھنٹے کی مسافت کے بعد واپس اسی ایئرپورٹ پہنچ گیا جہاں سے اڑان بھری تھی۔
باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق دبئی سے نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ جانے والے مسافر اتنی لمبی مسافت کے بعد دوبارہ یو اے ای پہنچنے پر حیران رہ گئےہوا کچھ یوں کہ کچھ روز قبل آکلینڈ کے ایئرپورٹ کےٹرمینل پرپانی بھرجانے کی وجہ سےحکام نے ایئرپورٹ کو پروازوں کے لیے بند کردیا تھا۔
امریکا، پاک، روس توانائی ڈیل روکنے کی کوشش کرے گا، روسی وزیر خارجہ
فلائٹ ای کے 448 نے دبئی سے مقامی وقت کےمطابق اڑان بھری، لیکن 9 ہزار میل کے اس سفر کا آدھا راستہ طے کرنے کے بعد طیارے نے یوٹرن لے لیا اور یہ طیارہ تقریباً آدھی رات کو واپس دبئی پہنچ گیا۔
دوسری جانب آکلینڈ ایئرپورٹ حکام نے ٹوئٹر پر اس صورتحال سے متعلق ایک پیغام جاری کیا اور صورتحال کو انتہائی پریشان کن قرار دیا۔
اپنے پیغام میں آکلینڈ ایئرپورٹ نے لکھا کہ ایئرپورٹ بین الاقوامی ٹرمینل پر نقصان کا اندازہ لگارہا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ آج کے دن کوئی بین الاقوامی فلائٹ آپریٹ نہیں کی جاسکتی ہم جانتے ہیں کہ یہ انتہائی پریشان کن ہے لیکن مسافروں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔
ممکنہ تیسری عالمی جنگ کن ہتھیاروں سےلڑی جائےگی،تفیصلات آگئیں
ایئرپورٹ حکام نے یہ بھی بتایا تھا کہ 29 جنوری کی صبح 7 بجے تک کوئی بین الاقوامی پرواز نہیں آسکتی بعد ازاں ایک روز بعد ایئرپورٹ پر دوبارہ فلائٹ آپریشن بحال کردیا گیا تھا۔

کسی کو گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں. وزیر اعظم
کسی کو گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں. وزیر اعظم
وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں،ملک میں کسی کو گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دیں گے،حکومت غریب عوام کیلئے آٹے کی مصنوعی قلت سے مہنگائی پیدا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے گی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیاونگ سے جاری یبان کے مطابق ان خیالات کااظہار وزیراعظم نے اپنی زیرصدارت ملک میں گندم اور آٹے کی مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزوں و ناجائز منافع خوری کے حوالے سے اعلی سطح کے ہنگامی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ، مشیرِ وزیرِ اعظم احد چیمہ، متعلقہ وفاقی اعلی حکام اور صوبائی چیف سیکٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ ملک میں کسی کو گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دیں گے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبے اپنے اور پاسکو کے ذخائر سے گندم کی فلور ملز تک بروقت رسد یقینی بنائیں، صوبے گندم کی بروقت ترسیل کیلئے اپنی گورننس بہتر بنائیں۔ متعلقہ وفاقی و صوبائی ادارے آٹے اور گندم کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت اقدامات کریں۔
حکومت غریب عوام کیلئے آٹے کی مصنوعی قلت سے مہنگائی پیدا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے گی۔ وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ پانچ دن میں حکومت کے اقدامات کی بدولت آٹے کے 40 کلو کے تھیلے کی قیمت میں تقریباً 1000 روپے کی کمی واقعہ ہوئی، جو خوش آئند ہے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم نے ملک میں گندم کے موجودہ ذخائر کا جائزہ لیا ۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور صوبوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ پاسکو کے ذخائر سے فلور ملز تک گندم کی ترسیل مزید تیز کی جائے، مزید برآں 1.3 ملین میٹر ٹن گندم درآمدی گندم کا سٹاک بھی ملک میں پہنچ گیا ہے جبکہ جنوری کے اختتام تک مزید اتنا ہی اسٹاک پہنچ جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال سیزن کے اختتام پر گندم کے کیری فارورڈ سٹاک 1.4 ملین میٹرک ٹن ہونگے جو کہ نیا سیزن شروع ہونے سے پہلے ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے گندم کے موجودہ ذخائر پر اطمینان کا اظہار کیا اور صوبوں کو ہدایت کی کہ گندم کی ترسیل کے حوالے سے اپنی گورننس بہتر کریں۔
دوسری جانب وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ پوگئے ہیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کی دعوت پر آج اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ دو روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوئے ہیں۔ دورے میں وزیراعظم کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات ہوگی جس میں دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور یو اے ای میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے مواقع پیدا کرنے سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif departs for the United Arab Emirates on two day official visit.#PMShehbazinUAE pic.twitter.com/2o6hchGlPf
— Prime Minister's Office (@PakPMO) January 12, 2023
مزید یہ بھی پڑھیں؛
لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ
امریکی ایوی ایشن سسٹم کی اپ گریڈیشن مکمل؛ مقامی پروازیں جزوی طور پر بحالدونوں رہنما باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر اعظم متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور نائب صدر اور دبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد المکتوم سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم، تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے اماراتی تاجروں اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

کوک سٹوڈیو کا 14 ا کتوبر کو یو اے ای میں لائیو شو
کوک سٹوڈیو پاکستان کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں نئے اور پرانے گلوکاروں کو یکساں گانے کا موقع میسر آتا ہے اس پلیٹ فارم سے بہت سارے نئے گلوکار آج شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں. کوک سٹوڈیو کا کریز پاکستان سمیت بھارت میں بھی پایا جاتا ہے. حالیہ مثال علی سیٹھی کا گانا پسوڑی ہے جسے دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے یہاں تک کہ انگریز آرٹسٹوں نے بھی اس گانے کو گایا اور وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کی. اب اطلاعات ہیں کہ کوک سٹوڈیو متحدہ عرب امارات میں لائیو شو پیش کریگا. جو گلوکار اس میں حصہ لے رہے ہیں ان کے ناموں کی
فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے. کوک اسٹوڈیو کے اس لائیو شو میں ینگ اسٹنرز، شئے گل، علی سیٹھی، فیصل کپاڈیہ، حسن رحیم، میوزِک بینڈ قراقرم اور جسٹن بیبس پرفارم کریں گے۔ یہ کنسرٹ 14 اکتوبر 2022 کو منعقد ہوگا اور اس کے ٹکٹس کوکا کولا ایرینا دبئی سے آن لائن بک کروائے جا سکتے ہیں۔متحدہ عرب امارات کے کوک سٹوڈیو شائقین خاصے پرجوش ہیں اور منتظر ہیں اس دن کا کہ جب کوک سٹوڈیو کا لائیو شو ان کے ملک میں ہو گا اور وہ اپنے پسندیدہ گلوکاروں کو لائیو دیکھ سکیں گے اور سن سکیں گے.

متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی امداد کیلئے فلاحی گروپ قائم کر دیا
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان کی امداد کے لیے فلاحی گروپ قائم کر دیا۔
فلاحی گروپ ‘We stand together’ سیلاب زدگان کے لیے سامان جمع کرےگا، یہ گروپ متحدہ عرب امارات میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی وزارت کے ماتحت کام کرےگا۔اماراتی ریڈکریسنٹ اتھارٹی، دبئی کیئرز اور شارجہ چیریٹی ایسوسی ایشن بھی پاکستان کے لیے امداد جمع کریں گے، سیلاب زدگان کے لیے امداد اکٹھی کرنےکا پہلا ایونٹ ہفتہ 10 ستمبر صبح 9 سے دوپہر 1 بجے تک ابوظبی نیشنل ایگزیبیشن سینٹر میں ہوگا۔
دبئی میں ایکسپو سٹی کے ساؤتھ ہال اور شارجہ ایکسپو سینٹر میں سیلاب زدگان کے لیے امدادجمع کی جائےگی۔ فلاحی گروپ ‘We stand together’ کی قیادت اماراتی خیراتی تنظیمیں کر رہی ہیں، گروپ نے اماراتی شہریوں سے سیلاب سے متاثرہ پاکستانی خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کی اپیل کی ہے۔امدادی سرگرمیوں کے لیے Volunteers.ae پر رجسٹریشن کرائی جاسکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی فضائیہ کے دو مزید سی۔130 طیارے یو اے ای ریڈ کریسنٹ اور یو این ایچ سی آر کی جانب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان لے کر کراچی پہنچ گئے۔یو اے ای ایئرفورس کی پہلی پرواز نے سہہ پہر تین جبکہ دوسری پرواز نے شام 5:37 پر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔
متحدہ عرب امارات کی ہلال احمر کے سربراہ اور یو این ایچ سی آر کے نمائندے نے طیاروں کا استقبال کیا۔پاکستانی سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران اور پاک فوج کی فائیو کور کے افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس سے قبل اماراتی ایئر فورس کے سی۔130طیارے پیر کو بھی کراچی پہنچے تھے۔
قبل ازیں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے 50 ملین درہم کی فوری امداد کی ہدایت کی ہے۔
یہ امداد محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز، ورلڈ فوڈ پروگرام اور محمد بن راشد المکتوم ہیومینٹیرین اینڈ چیریٹی اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سےبراہ راست خوراک کی صورت میں سیلاب سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کوفراہم کی جا ئے گی ۔
و اے ای کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب سے 1136 سے زائد افراد جاں بحق، لاکھوں افراد بے گھر، 3450 کلومیٹر سے زیادہ اہم سڑکیں تباہ اور کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران پاکستان میں بارشوں کی شرح گزشتہ 30 سالوں کے دوران ریکارڈ کی گئی شرح سے چار گنا تجاوز کر گئی ۔
رپورٹ کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری امداد کی فراہمی متحدہ عرب امارات کی عالمی سطح پر قدرتی آفات اور بحرانوں سے متاثرہ افراد کی ضروریات کو پورا خواہش کا مظہر ہے۔ محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز 2015ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے تحت 30 سے زیادہ انسانی اور ترقیاتی اقدامات اور اداروں کو یکجا کیاگیا ہےجن میں سے زیادہ تر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے 20 سال سے زیادہ عرصے میں قائم کئے اور ان کی معاونت بھی کر رہے ہیں۔ آج اس میں درجنوں خیراتی ادارے شامل ہیں جو پانچ اہم شعبوں میں کام کرتے ہیں جن میں انسانی امداد اور ریلیف، صحت کی دیکھ بھال اور بیماریوں پر قابو پانا ، تعلیم اور علم کو پھیلانا، اختراع اور کاروباری صلاحیت اور کمیونٹیز کو بااختیار بنانا شامل ہیں۔

پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد
امت مسلمہ ایک جسم کی طرح ہے, جب جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف سے بلبلا اٹھتا ہے۔ اس کی نظیر بارہا دیکھنے کو ملی کہ مسلمان ممالک عمومی و خصوصی مواقع پر ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ نظر آئے خواہ وہ کسی مسلمان ملک کی دگرگوں معاشی و اقتصادی صورتحال ہو, جنگی و عسکری معاملہ ہو یا پھر قدرتی آفات و مصائب کا زمانہ ہو الغرض کسی بھی لحاظ سے خودکفیل اور طاقتور مسلمان ممالک نے امت مسلمہ کے عظیم نظریہ کے جھنڈے تلے ضرورت مند و کمزور مسلمان ملک کی مدد ضرور کی ہے اور جب تک بحالیات کا کام مکمل نہ ہوا پیٹھ نہیں موڑی۔
بات کریں پاکستان میں پہلے سے جاری معاشی و اقتصادی تنزلی اور سیاسی بحران کے دوران حالیہ مون سون بارشوں اور ریکارڈ سیلاب کی تو اس مصیبت کی گھڑی میں بھی مسلمان ممالک اور عالمی برادری نے پاکستان کو مکمل مدد کی ناصرف یقین دہانی کروائی بلکہ کئی ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر مدد جمع کرنے اور اسکی ترسیل کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر ذمہ دار متعین کردیے ہیں جو جلد از جلد امداد اور بحالی کے کام کو یقینی بنائیں گے۔
لیکن متحدہ عرب امارات کی پاکستان اور اسکی عوام سے محبت اپنی مثال آپ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی کہ جب دیگر ممالک سوچ بچار اور تیاری میں مگن ہوتے ہیں یہ مسلمان ملک پاکستان اور اسکی عوام کے دکھ بانٹنے کے لیے پورے وسائل کے ساتھ اگلے مورچوں پر موجود ہوتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ عرب امارات کے شیوخ کا دوسرا اور سرمائی گھر پاکستان ہےتو یہ قطعی غلط بیانی اور مبالغہ نہیں ہوگا۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی برادر شپ اور تعلقات کی ایک عظیم تاریخ ہے۔پاکستان ان اولین ممالک میں سے ایک ہے جس نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کی مشترکہ بنیادوں پر استوار ہیں اور دن بہ دن ان میں گرم جوشی اور محبت کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص معیشت اور تجارت میں قریبی تعاون ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو مالی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے کہ یہ امداد پاکستان میں معاشی بحرانوں اور بجٹ خسارے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے موثر رہی ہے مطلب جس کی وجہ سے پاکستان بہت دفعہ مشکلات بھرے ادوار سے باہر نکلا ہے اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک خاطر خواہ تعداد بھی موجود ہے جو ملکی ذرمبادلہ میں اضافے کا باعث ہے اور جنہیں متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے مکمل مدد اور تحفظ دستیاب ہے۔
متحدہ عرب امارات کے حکمران مختلف سماجی اور انسانی شعبوں میں ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کو اپنی تکنیکی اور مالیاتی مہارت اور خدمات فراہم کرنے کے لیے کافی مہربان ہیں۔
اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبے شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات قدرتی آفات کے وقت بے گھر ہونے والی آبادی کو پناہ گاہ، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرکے انسانی امداد میں توسیع کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے گزشتہ دہائیوں کے دوران سیلاب زدگان کو ہمیشہ امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے تناظر میں عرب امارات نے دوبارہ پاکستان اور اس کی عوام کو اکیلا نہ چھوڑتے ہوئے حالیہ مون سون اور سیلاب کی مخدوش صورتحال سے دوچار پاکستان کے لیے کل عرب امارات کے صدر جناب شیخ محمد بن زید النہیان کے خصوصی حکم اور ہدایات پر امدادی پیکج کی پہلی پرواز روانہ کی ہے جس میں 3000 ٹن خوراک, طبی سامان اور عارضی پناہ گاہوں کا سامان شامل ہے۔
متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی WAM کے مطابق، صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کو فوری امدادی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، جو موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں، زخمیوں اور بے تحاشہ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ
"صدر محترم شیخ محمد نے بے گھر افراد کے لیے تمام انسانی امدادی خدمات کی فراہمی کا بھی حکم دیا ہے تاکہ وہ جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں ان پر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھا سکیں”۔
متحدہ عرب امارات کی امدادی امداد میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ تقریباً 3,000 ٹن خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طبی مدد کا سامان بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ
"متحدہ عرب امارات کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی حفاظت اور ان کی خوراک، طبی اور رسد کی ضروریات کو محفوظ بنانے کی کوششوں سے متعلق پاکستانی کیڈرز اور اداروں کو ہر قسم کی انسانی امداد بھی فراہم کریں گی۔”
وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ
"عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔”
متحدہ عرب امارات کے صدر نے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات فوری طور پر خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ مزید طبی اور دواسازی کا سامان بھی بھیجے گا۔
وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو ملک میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی ملک گیر تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متحدہ عرب امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زید فاؤنڈیشن کے جاری امدادی کاموں کا بھی اعتراف کیا۔
وزیر اعظم شہباز نے امدادی اور امدادی سرگرمیوں میں حکومت کی کوششوں میں مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد پر صدر کا شکریہ ادا کیا۔
بیشک متحدہ عرب امارات نے اسی طرح گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں آئے سیلابوں اور زلزلوں کے ساتھ ساتھ معاشی بحرانوں میں بھی ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی بھرپور مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے اور کبھی پاکستان کو کسی مصیبت کی گھڑی میں اکیلا و دربدر نہیں چھوڑا کیونکہ نازک وقت میں برادر اور دوست ممالک کی حمایت متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

متحدہ عرب امارت نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل گھڑی میں بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے
متحدہ عرب امارت نے ہمیشہ پاکستان کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے لہذا اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان بھیجوایا گیا ہے اور یو اے ای نے سیلابی صورتحال میں پاکستان کو تنہاء نہیں چھوڑا ہے.
پاکستان موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے باعث لاکھوں مکان تباہ اور لوگ بے گھر ہوگئے ہیں جب کہ سیکڑوں کی اموات ہوچکی ہے۔ سیلاب زدگان کی بحالی اور ریلیف کےلیے وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری سے امداد کی اپیل کی تھی جس پر متحدہ عرب امارات نے امدادی سامان کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچائی جسے وفاقی وزیر برائے مںصوبہ بندی احسن اقبال نے نور خان ایئربیس پر وصول کی تاہم یو اے ای حکام کی طرف سے مزید امداد بھیجوانے کا سلسلہ بھی جاری رہے گا. امدادی سامان میں خیمے، خوراک، ادویات اور دیگر اشیاء ضرویہ شامل ہیں جبکہ یو اے ای کی طرف سے مزید امدادی سامان 15 طیاروں کے ذریعے آئندہ چند دنوں میں پاکستان پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے متحدہ عرب امارات ایسا ملک ہے جس نے ہمیشہ پاکستانکی مدد ہے اور ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ان کے دارلحکومت ابوظہبی میں ہمیشہ پاکستان کی آزادی کے دن کے حوالے سے بہترین تقاریب کا انقعاد کیا جات ہے جبکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مشترکہ ورثے اور کثیر الجہتی تعاون پر مبنی بہترین برادرانہ دو طرفہ تعلقات قائم ہیں. یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے جو فقیدالمثال ترقی کے مدارج طے کیے ہیں وہ متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان کی دور اندیش قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھے. اس عظیم رہنما کو پاکستان سے بہت لگاؤ تھا۔ انہوں نے پاکستان میں بہت سے سماجی و اقتصادی منصوبوں میں ذاتی دلچسپی لی اور پاکستانی ورکرز کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کا موقع دیا – یہ پاکستانی، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ لہذا متحدہ عرب امارات میں ان کے جانشین رہنما شیخ زاید کے طے کردہ اعلیٰ معیارات کی پیروی کر رہے ہیں اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کیلئے کوشاں ہیں
متحدہ عرب امارات درحقیقت سات مملکتوں کے اتحاد کا نام ہے۔ یہ جزیرہ عرب کی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع ہے۔ امارات کی تاریخ تجارت سے جڑی ہوئی ہے جو 630 میں اس خطے میں داخل ہوئی، اس کا ساحل یورپی جارحیت پسندوں کے زیر قبضہ تھا۔ یہ علاقہ انیسویں صدی میں برطانوی استعمارکے کنٹرول میں رہا، یہاں تک کہ جواہرات اور ہیروں کی کھیپ برآمد ہوئی پھر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں اسے خود مختاری مل گئی۔
اس کے بعد امارات نے گرمیوں میں خلیجی عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے، جبکہ کھجوروں کی کاشت سردیوں میں آمدنی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے درمیان کے عشرے تک یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران تیل کمپنیوں نے تیل کی تلاش کی۔ خام تیل کی پہلی کھیپ سنہ 1962 میں ابوظہبی سے برآمد ہوئی، اسے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے استعمال کیا گیا۔برطانوی استعمار کے خلیج سے دستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی ابو ظہبی ، دبئی ، شارجہ ،عجمان ، ام القواین اور فجیرہ کے حکمرانوں کے مابین یک معاہدہ طے پایا۔ 2 دسمبر 1971 ء کو متحدہ عرب امارات کے نام سے مشہور فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا اور اگلے ہی سال میں ساتویں امارت راس الخیمہ نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔









