Baaghi TV

Tag: متحدہ عرب امارات

  • حوثیوں کے حملے کا خدشہ: امریکی لڑاکا طیارے ایف-22  ابوظہبی پہنچ گئے

    حوثیوں کے حملے کا خدشہ: امریکی لڑاکا طیارے ایف-22 ابوظہبی پہنچ گئے

    واشنگٹن:یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں حالیہ غیر معمولی حملوں کے بعد امریکی ایف 22 لڑاکا طیارے خلیجی ملک کے فوجی ہوائی اڈے پہنچ گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حوثی باغیوں کے تیل کی تنصیبات اور دیگر مقامات پر حملوں کے بعد امریکا سے دفاعی مدد مانگی تھی حال ہی میں امریکا کے میزائل شکن دفاعی نظام نے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنادیا تھا اور اسے بڑی کامیابی قرار دیا تھا جبکہ ان حملوں نے اماراتی اور امریکی فضائی دفاع کے لیے پریشانی کو جنم دیا۔ یہاں تک کہ ایک موقع پر یو اے ای میں مقیم امریکی فوجی مختصر دورانیے کے لیے پناہ لینے پر بھی مجبور ہوگئے تھے۔

    روس،یوکرین جنگ کاخدشہ:امریکہ برطانیہ سمیت دیگرممالک کی اپنے شہریوں کو یوکرین…

    آج امریکی لڑاکا طیارے ایف-22 ابوظہبی میں الظفرہ ہوائی اڈے پر اترے جہاں 2 ہزار امریکی فوجی پہلے ہی موجود تھے اور جدید ترین امریکی میزائل شکن نظام ’’پیٹریاٹ‘‘ بھی نصب ہے۔

    امریکی فوج نے متحدہ عرب امارات بھیجے گئے طیاروں کی تعداد سیکیورٹی وجوہات کے باعث بتانے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ فائٹر ونگ کے طیاروں نے ورجینیا کے فوجی اڈے سے پرواز بھری۔


    بعد ازاں امریکی ایئر فورس کی جانب سے طیاروں کی ابوظہبی کی روانگی کی تصویر شیئر کی گئی جس میں چھ امریکی جیٹ ایف -22 طیاروں کو پرواز بھرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    امریکی فضائیہ کے بیان میں کہا گیا کہ جدید ترین جیٹ طیارے گذشتہ ماہ جنوری کے دوران میزبان ملک میں تعینات امریکی اور اماراتی مسلح افواج کے خلاف سلسلہ وار حملوں کے بعد یو اے ای کے لیے امریکی حمایت کے کثیر جہتی مظاہرے کے طور پر، خلیجی ریاست کے فوجی ہوائی اڈے پر پہنچے ہیں۔

    کابل ائیر پورٹ دھماکے:امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے پنٹاگون کے دعووں کو جھٹلا…

    یونائیٹڈ سٹیٹس ایئر فورس سینٹرل کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع نے ابوظبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید آل نہیان کے ساتھ مذاکرات کے بعد ففتھ جنریشن کے ان طیاروں کی تیزی سے تعیناتی کا حکم دیا ہے یہ تعیناتی پورے خطے میں پہلے سے موجود اتحادیوں اور شراکت داروں کی مشترکہ جنگی فضائی طاقت کی صلاحیتوں کو بڑھا دے گی ایئرمین اور ایف 22 طیارے ورجینیا کے جوائنٹ بیس کے ’فرسٹ فائٹر ونگ‘ سے تعینات کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکی فوجیوں نے خطے میں اس دفاعی نظام کا استعمال کیا ہے۔ امریکی حکام نے آپریشنل سکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے ایف 22 طیاروں اور پائلٹس یا ایئرمین کی تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔

    واضح رہے کہ حوثی باغیوں نے گزشتہ ماہ ابوظہبی میں تین میزائل حملے کیے تھے جن میں ایک آئل ڈپو پر کیا گیا تھا اور اس حملے میں 3 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے تھے۔

    عربوں کےضمیرخاک ہورہے ہیں،وہ فلسطین کوبھول چکےہیں،طنزیہ اسرائیلی گانے نے عرب دنیا…

  • متحدہ عرب امارات سے پاکستان آنے والی پرواز میں بچے کی پیدائش

    متحدہ عرب امارات سے پاکستان آنے والی پرواز میں خاتون نے بچے کو جنم دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شارجہ سے سیالکوٹ آنے والی غیرملکی پرواز میں خاتون نے بچے کو جنم دیا بچے کی ولادت کے بعد خاتون اور نومولود کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی رویے کے ذمہ داران چیف منسٹر اور چیف ایگزیکٹو…

    طیارہ اپنی منزل کی جانب محوِپرواز تھا کہ اس دوران خاتون کی طبیعت خراب ہو گئی جس کی اطلاع کپتان نے کنٹرول ٹاور کو دی اور طیارے کو ملتان ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔

    میڈیکل لینڈنگ کے دوران گل بانو نامی خاتون مسافر نے دوران پرواز ایک لڑکے کو جنم دیا جس کے بعد فوری طور پر خاتون اور بچے کو نشتراسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم کا ایف سی اہلکاروں کی تنخوا ہ میں 15 فیصد اضافے کا اعلان

    بچے کی پیدائش قبل از وقت ہے کیونکہ سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے قوانین کے تحت 32 ہفتے کے حمل کے بعد خواتین سفر نہیں کر سکتیں اور اس سے قبل سفر کرنے کے لیے انھیں والدین کی جانب سے حلف نامہ جمع کروانا پڑتا ہے جبکہ بین الاقوامی اور علاقائی پروازوں کے لیے پی آئی اے کے ڈاکٹر کا سرٹیفیکیٹ بھی درکار ہوتا ہے۔

    صا ئمہ نور نے ٹی وی سے دوری کیوں اختیار کی؟ وجہ بتادی

    واضح رہے کہ 2017 میں بھی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی پرواز میں ایک خاتون نے بچی کو جنم دینے کا واقعہ پیش آیا تھا مدینہ سے ملتان آنے والے پی آئی اے کی پرواز پی کے 716 میں ملتان سے تعلق رکھنے والے مدینہ میں قیام پذیرجوڑے کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی تھی جس کا رُخ بوجوہ موسمی خرابی کراچی موڑ دیا گیا تھا

  • امریکہ نے اپنے شہریوں کو متحدہ عرب امارات کا سفرکرنے سے روک دیا

    امریکہ نے اپنے شہریوں کو متحدہ عرب امارات کا سفرکرنے سے روک دیا

    امریکہ نے اپنے شہریوں کو متحدہ عرب امارات سفرنہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ایڈوائزیری میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات پرڈرون اور میزائل حملہ ہو سکتا ہے، امریکی شہری امارات سفر سے گریز کریں ابوظبی پرحملے کے بعد محکمہ خارجہ نے ٹریول ایڈوائزیری جاری کی تھی، جس میں امریکی شہریوں کو امارات نہ جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی

    یاد رہے چند روز قبل ابوظہبی پر حوثیوں نے ڈرون حملہ کیا تھا، ابوظہبی پولیس کے مطابق ڈرون حملے کے باعث صنعتی علاقےمیں ایندھن لے جانے والے 3 ٹینکرپھٹ گئے، جبکہ ابوظہبی انٹرنیشنل اایئرپورٹ پرتعمیراتی مقام پرآگ بھڑک اٹھی۔

    سعودی اتحادی فوج کا کہنا تھا کہ صنعا ہوائی اڈے سے بارود سے بھرے ڈرونز کی ایک بڑی تعداد کو لانچ کیا گیا-

    پاکستان کی ابوظبی ایئرپورٹ پر بزدلانہ دہشتگرد حملے کی شدید مذمت

    حملے کے کچھ دیر بعد، یو اے ای کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے کہا تھا کہ وہ حوثیوں کی ایک دہشت گرد تنظیم کی حیثیت کو بحال کریں۔ امریکی صدر جو بائیڈن، جنہوں نے گزشتہ سال اس تحریک کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے نکال دیا، دلیل دی کہ اس تقرری سے یمن کو انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے کیونکہ یہ ملک دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شکار ہے۔

    وزیراعظم عمران‌ خان کا ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ، حوثی حملے کی شدید…

    سعودی عرب نے ابوظہبی ایئرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی سیکیورٹی استحکام کو یقینی بنانے کیلیے مکمل تعاون کریں گے، اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کے مطابق ابوظہبی پولیس نے حملے کے بعد بتایا تھا کہ ہلاکتوں کے علاوہ دھماکے کے بعد لگنے والی آگ سے چھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید النہیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور یکجہتی کا اظہار کیا تھا اور ڈرون حملوں میں اموات پر دکھ کا اظہار کیا تھا وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مشکل کی گھڑی میں پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ کھڑا ہے شیخ محمد بن زید ال نہیان نے حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

    وزارت خزانہ نے ملکی معیشت پر ماہانہ اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی

  • اسرائیلی صدرمتحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے

    اسرائیلی صدرمتحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے

    تل ابیب: اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ خاتون اول کے ہمراہ متحدہ عرب امارات کا 2 روزہ دورہ کریں گے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ اپنی اہلیہ کے ہمراہ 30 جنوری کو ابوظہبی پہنچیں گئے 2 روزہ دورے کے دوران اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کریں گے۔

    گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب اسرائیل کے اعلیٰ ترین عہدے کے حامل شخصیت متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کریں گے اسحاق ہرزوگ یو اے ای کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی صدر بن جائیں گے۔

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    صدر اسحاق ہرزوگ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کہا گیا ہے کہ صدر، خاتون اوّل کے ہمراہ 30 اور 31 جنوری کو متحدہ عرب مارات کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے اسرائیلی صدر دبئی میں جاری ایکسپو 2020 کا دورہ بھی کریں گے اور اسرائیلی کمپنیوں کے اسٹالز پر بھی جائیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدہ ابراہیمی طے پایا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، تجارتی اور فضائی تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل نے سعودی عرب سے سفارتی تعلقات کی خواہشات کا اظہار کیا اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ چار مسلم ممالک کے ساتھ 2020 میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدوں کی بنیاد پر سعودی عرب اور انڈونیشیا سے بھی سفارتی تعلقات کے قیام کی امید کرتے ہیں لیکن ان دونوں ممالک سے اس طرح کے معاہدوں میں ابھی وقت لگے گااسرائیل ابراہیم معاہدوں کو متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش سے آگے مزید ممالک تک وسعت دینے پرغور کر رہا ہے اگر آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم جن اہم ممالک کو دیکھ رہے ہیں، وہ کون سے ہوسکتے ہیں تو انڈونیشیا ان میں سے ایک ہے یقیناً سعودی عرب ہے لیکن اس طرح کے معاملات کو طے کرنے میں وقت لگتا ہے-

    سعودی عرب: غیرملکیوں کے اقامے اور ویزوں میں مفت توسیع

    ادھر سعودی محل سے زیورات کی چوری پر تھائی لینڈ کے ساتھ معطل ہونے والے سفارتی تعلقات تین دہائیوں بعد دوبارہ بحال ہوگئےتھائی لینڈ کے وزیراعظم جنرل برایوت چن اوچا سرکاری دورے پر ریاض پہنچے جہاں ان سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملاقات کی۔

    دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور بالخصوص دہائیوں سے سفارتی تعلقات کی معطلی کے خاتمے کے لیے بات چیت بھی کی تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے 1979 کے واقعے پر ندامت کا اظہار بھی کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔

    ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا کہ سعودی عرب اور تھائی لینڈ نے 30 سال سے معطل سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کرلیا ہے اور جلد دونوں ممالک اپنے اپنے سفیر تعینات کریں گے۔

    ایران میں خوفناک پرینک ویڈیوز بنانے کے الزام میں 17 طلبا گرفتار

    دوسری جانب اعلامیہ جاری ہونے کے بعد سعودی ایئرلائن نے بھی تھائی لینڈ کے لیے اپنی پروازوں کی بحالی کا اعلان کردیا ہے۔ جلد ہی دونوں ممالک کے درمیان مکمل فضائی آپریشن کا آغاز ہوگا جو اب تک انتہائی محدود تھی۔

    واضح رہے کہ 1979 میں شہزادہ فیصل بن فہد کےمحل میں کام کرنے والے تھائی نوجوان نےشہزادے کے بیڈ روم تک رسائی حاصل کی اور نیلے ہیروں سمیت 20 ملین ڈالرز کی مالیت کے زیورات چرا کر اپنے وطن بھاگ گیا تھائی نوجوان نے 90 کلو وزنی زیورات کو ایک ایک کرکے فروخت کردیا جو اس سے ایک سنار نے یہ جانتے ہوئے بھی خریدے کہ یہ سعودی محل سے چرائے گئے زیورات ہیں۔

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    تھائی لینڈ کی رائل فوج نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس نے چور اور سنار کو گرفتار کرکے آدھے سے زیادہ زیورات برآمد کرلیے اور سعودی عرب واپس جا کر لوٹا دیئےسعودی عرب نے جب زیورات دیکھے تو اس میں چار نیلے رنگ کے ہیرے موجود نہیں تھے جب کہ واپس کیے گئے زیورات میں بھی جعلی سونا تھا بعد ازاں تھائی لینڈ کے کئی وزرا کی بیگمات کو سعودی ہیرے اور زیورات پہنے دیکھا گیا جس پر سعودی عرب نے ناقص انکوائری اور چوری شدہ زیورات کی وزرا کی بیگمات کی ملکیت میں ہونے کے انکشاف کے بعد تھائی لینڈ سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے تھے۔

    اسرائیل سعودی عرب سے سفارتی تعلقات کا خواہاں

  • وزیراعظم عمران‌ خان کا ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ، حوثی حملے کی شدید مذمت

    وزیراعظم عمران‌ خان کا ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ، حوثی حملے کی شدید مذمت

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات پر حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید النہیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور یکجہتی کا اظہار کیا اور ڈرون حملوں میں اموات پر دکھ کا اظہار کیا وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مشکل کی گھڑی میں پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ کھڑا ہے شیخ محمد بن زید ال نہیان نے حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

    قبل ازیں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ابوظبی حملے میں پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی

    وفاقی وزیر خارجہ نے اماراتی ہم منصب سے پاکستانی شہری کی جلد میت حوالگی کے انتظامات کا مطالبہ کیا اور حوثی باغیوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ برداشت قرار دیا۔

    دوسری جانب ابو ظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید النہیان کو ریاست اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے فون کیا ہے ، جس میں عرب امارات پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔

    عرب امارات کے ڈپٹی سپریم کمانڈرشیخ محمد بن زاید النہیان سے گفتگو کرتے ہوئے حوثیوں کے حملوں کوبزدلی قرار دیتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ فعل قراردای ، اور متحدہ عرب امارات پر اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت پر زور دیا۔

    عمان رائل نیوی کمانڈر کی راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم…

    ادھر اسرائیلی صدر نے ان مجرمانہ حملوں کے متاثرین کے لیے شیخ محمد سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔جس کے جواب میں شیخ محمد نے صدر ہرزوگ کا یو اے ای اور اس کے عوام کے تئیں ان کے موقف اور مخلصانہ جذبات کا شکریہ ادا کیا۔

    علاوہ ازیں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو سیکیورٹی انٹیلیجنس میں معاونت کی پیش کش کردی اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کو تعزیتی خط لکھا جس میں انہوں نے ایک روز قبل ابوظبی میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔

    اپنے خط میں اسرائیلی وزیراعظم نے لکھا کہ ’اسرائیل خطے میں جنگ اور انتہا پسندی کے خلاف ہے، ہم اپنے اتحاد سے مشترکہ دشمن کو باآسانی شکست دے سکتے ہیں‘۔ نفتالی نے لکھا کہ ’اسرائیل اس جنگ میں ابوظبی کے شانہ بشانہ ہے اور ہم ہر قسم کے تعاون کو بھی تیار ہیں‘۔

    پاکستان کی ابوظبی ایئرپورٹ پر بزدلانہ دہشتگرد حملے کی شدید مذمت

    انہوں نے لکھا کہ ’اگر یو اے ای چاہیے تو عوام کی حفاظت اور اس طرح کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ متحدہ عرب امارات کو کسی بھی حملے کی صورت میں پیشگی اطلاع اور جوابی کارروائی کی معاونت فراہم کرسکتی ہے‘۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں منگل کے روز تین پیٹرولیم ٹینکرز پر ڈرون راکٹ حملے ہوئے، جس میں پاکستانی سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوئے راکٹ حملے کے بعد ابوظبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب نئی تعمیر ہونے والی عمارت میں خوفناک آتشزدگی ہوئی تھی۔ بعد ازاں یمن کے حوثی باغیوں نے میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف جاری آپریشن کا ردعمل قرار دیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ ہم ان دہشت گردانہ حملوں کا بھرپور جواب دیں گے۔

    پاکستان میں قازقستان کے سفیر کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات

  • اومی کرون کا خوف:متحدہ عرب امارات نےچار ممالک پر پابندی عائد کر دی

    اومی کرون کا خوف:متحدہ عرب امارات نےچار ممالک پر پابندی عائد کر دی

    متحدہ عرب امارات نے اومی کرون کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چار ممالک پر پابندی عائد کر دی۔

    باغی ٹی وی :عرب خبر رساں ادارے خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نیشنل ایمرجنسی کرائسس اینڈ ڈیزاسٹرزایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (این سی ای ایم اے) اور جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (جی سی اے اے) نے کینیا، تنزانیہ، ایتھوپیا اور نائجیریا سے آنے والی تمام قسم کی فلائٹس آپریشن کو 25 دسمبر سے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    دنیا میں کورونا اوراومی کرون نے سراٹھا لیا :امریکا میں پونے دو لاکھ نئے کیسز رپورٹ

    اس کے علاوہ ان ممالک میں 14 روز سے زائد رہنے والے غیر ملکیوں پر یو اے ای آنے پر پابندی ہو گی تاہم متحدہ عرب امارات کے شہری، قریبی رشتہ دار، سفارتی مشن، سرکاری وفود اور گولڈن ریزیڈنس ہولڈرز کو اس فیصلے سے خارج کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیل نے امریکا اور کینیڈا میں کورونا کی نئی شکل اومی کرون کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کو سفری سے لحاظ ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کیا ہےاسرائیل کی سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل ممالک میں جانے کے لیے اسرائیلی شہریوں کو خصوصی اجازت نامہ لینا ضروری ہوتا ہے اسی طرح ان ممالک سے ملک میں داخل ہونے والوں کو بھی کڑی نگرانی سے گزرنا ہوتا ہے۔

    ادھر اومی کرون کا خدشہ برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں کی سختی سے چیکنگ کی ہدایت کی گئی ہے سی اے اے کو برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں سے متعلق نئی ہدایات موصول ہو گئی ہیں برطانیہ سے پاکستان آنے والے مسافروں کے ایئرپورٹس پر ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے، برطانیہ سے پاکستان آنے مسافروں کو پرواز سے 48 گھنٹے قبل کورونا پی سی آر ٹیسٹ لازمی ہوگا ،سول ایوی ایشن حکام کے مطابق اقدامات برطانیہ میں کورونا کے اومیکرون ویرینٹ کے کیسز کے باعث کیے جارہے ہیں-

    خیال رہے کہ گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا تھا کہ اومی کرون ویرینٹ دنیا کے 95 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے ۔ یہ ڈیلٹا سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلتا اور ویکسین کے خلاف زیادہ مدافعت رکھتا ہے –

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

  • پہلےاسرائیلی وزیراعظم کا دورہ متحدہ امارات:سخت سیکورٹی میں استقبال کی تیاریاں:دنیا کی نظریں لگ گئیں

    پہلےاسرائیلی وزیراعظم کا دورہ متحدہ امارات:سخت سیکورٹی میں استقبال کی تیاریاں:دنیا کی نظریں لگ گئیں

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ آج متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی وقت وہ متحدہ عرب امارات اترسکتے ہیں‌، اس طرح یو اے ای کا دورہ کرنے والے وہ تاریخ کے پہلے اسرائیلی وزیراعظم بن جائیں گے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ متحدہ عرب امارات کے دورے پر آج ابوظہبی پہنچ رہے ہیں جہاں ان کا استقبال ولی عہد شہزادہ محمد بن زائد النہیان کریں گے۔

    اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہمراہ ہوگا۔ سرکاری دورے میں تجارتی او سفارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی رفتار پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دورے کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ یہ کسی بھی اسرائیلی وزیراعظم کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ تاریخی دورے میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدہ ابراہیمی پر بات چیت کی جائے گی۔

    اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امریکا کی ثالثی میں امن معاہدہ ایک سال قبل طے پایا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف سفارتی تعلقات بحال ہوچکے ہیں بلکہ کئی تجارتی معاہدے بھی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی ثالثی میں بحرین، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور مراکش اسرائیل کو تسلیم کرکے اور سفارتی تعلقات بحال کرچکے ہیں۔

  • متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر دبئی ایکسپو 2020 میں داخلہ مفت:سُن کردوڑیں لگ گئیں‌

    متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر دبئی ایکسپو 2020 میں داخلہ مفت:سُن کردوڑیں لگ گئیں‌

    دبئی :متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر دبئی ایکسپو 2020 میں داخلہ مفت:سُن کردوڑیں لگ گئیں‌،اطلاعات کے مطابق دبئی میں عالمی نمائش ‘ایکسپو 2020’ جاری ہے،کل 2 دسمبر کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کے قومی دن پر نمائش میں داخلہ مفت کردیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سال یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی دبئی ایکسپو 31 مارچ 2022 تک جاری رہےگی، ایکسپو میں پاکستانی پویلین کو بھی خوب پذیرائی مل رہی ہے۔دنیا کے سب سے بڑے تجارتی اور تفریحی شوکہے جانے والی ایکسپو میں سیاحوں کی گرم جوشی دیدنی ہے، ہر طرف منفرد اور اعلیٰ معیار کے پویلین ہیں جہاں سیاحوں کا تانتا بندھ چکا ہے۔

    کل 2 دسمبر کو یو اے ای کے قومی دن کے موقع پر منتظمین نے تمام افراد کے لیے ایکسپو میں فری داخلےکا اعلان کیا ہے۔

    خیال رہےکہ دبئی ایکسپو 2020 کا ٹکٹ 95 درہم (تقریباًساڑھے4 ہزار پاکستانی روپے) رکھا گیا ہے جو کہ ایک مہینےکے لیےکارآمد ہے۔ایکسپو انتظامیہ کے مطابق 18 سال اور اس سے زائد افراد کو داخلےکے لیے کورونا ویکسینیشن کا ثبوت اور 72 گھنٹے کے اندر لیا گیا کورونا پی سی آر ٹیسٹ کا منفی نتیجہ دکھانا ہوگا۔

    خیال رہے کہ دبئی ایکسپو 2020 میں 192 ممالک سمیت دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں شرکت کررہی ہیں، اس بار تمام ممالک کو اپنے اپنے پویلین لگانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایکسپو میں پاکستانی پویلین ‘پاکستان کے پوشیدہ خزانے’ کی تھیم کے ساتھ موجود ہے جس کو خوب پسند کیا جارہا ہے اور اسے پاکستانیوں سمیت دنیا بھر سے آئے سیاح اور کاروباری افراد سراہ رہے ہیں۔

    پاکستانی پویلین ایکسپو کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے پویلین میں سے ایک بن چکا ہے۔ پاکستانی پویلین کو 8 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں پاکستانی ثقافت، سیاحت، تجارت اور ذائقے دار پکوان ملک کی نمائندگی کررہے ہیں۔

    پاکستانی پویلین میں آنے والوں کو پاکستان کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز سمیت بلین ٹری سونامی منصوبے سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

    واضح رہے کہ 2 دسمبر ء 1971 کو یو اے ای حکام نے متحدہ عرب امارات بنانے کے لیے ایک اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے جس کے ذریعے الگ الگ ریاستوں کو ایک ترقی پسند قوم میں تبدیل کیا۔

    اس قومی دن کو شہر بھر میں بہت شاندار طریقے سے منایا جاتا ہے۔ جشن منانے کے لئے ملک کے ہر کونے کو متحدہ عرب امارات کے جھنڈے سے سجاتے ہیں شاپنگ مال ، فلک بوس عمارتں ، ساحلوں اور پارکیں سرخ ، سفید ، سبز اور سیاہ رنگ سے مزین اور شاندار انداز میں سجے ہوئے دیکھیں ثقافتی سرگرمیوں ، بیرونی تفریح اور براہ راست تقریبات سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ حیرت انگیز خریداری، خصوصی رعایتیں ، ریفل انعامات اور بہت سے فائدے اٹھائیں۔

     

     

     

     

  • پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔

    یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔

    پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔

    اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah