Baaghi TV

Tag: مجرم

  • امریکا میں گرفتار خطرناک مجرموں کی فہرست جاری، بھارتی شہری بھی شامل

    امریکا میں گرفتار خطرناک مجرموں کی فہرست جاری، بھارتی شہری بھی شامل

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری کی گئی خطرناک مجرموں کی تازہ فہرست جاری کی گئی ہے جس میں 89 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔

    اس ڈیٹا بیس میں قریباً 25 ہزار ایسے جرم کرنے والے غیر قانونی شہری شامل ہیں، جن میں قتل، جنسی جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے مقدمات میں ملو ث افراد شامل ہیں، جنہیں امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ اور امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے گرفتار کرکے سزا دی۔

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ کی جانب سے جاری کردہ عوامی ڈیٹا بیس میں مجرموں کے نام، تصاویر، جرائم اور قومیت کی تفصیلات شامل ہیں،ویب سائٹ (WOW.DHS.GOV) اس لیے متعارف کرائی گئی تاکہ امریکی عوام یہ دیکھ سکیں کہ وہ کون سے غیر قانونی شہری گرفتار کررہے ہیں، ان کے جرائم کیا ہیں۔

    محکمے نے مزید کہاکہ یہ ڈیٹا بیس 25 ہزار افراد کی معلومات فراہم کرتا ہے اور یہ صرف ایک جھلک ہے ان جرائم پیشہ غیر قانونی شہریوں کی، جنہیں گرفتار کیا گیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کمیونٹیز میں دہشت پھیلائی،’امریکی عوام کو ایسے افراد کا شکار نہیں ہونا چاہیے جو قانونی طور پر بھی ہمارے ملک میں رہنے کے اہل نہیں ہیں۔

    یہ تمام افراد ایسے ہیں جنہیں امریکا میں گرفتار کیا جا چکا ہے اور جن پر جرائم کا الزام ثابت ہو چکا ہے ویب سائٹ میں سرچ فلٹر کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس کے ذریعے صارفین نام، ملک یا ریاست کے لحاظ سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

  • سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    سماعت کیوں ملتوی کی، ملزم نے جج کو چپل مار دی

    بھارت میں مہاراشٹر کے تھانہ ضلع کی ایک مقامی عدالت میں قتل کے مقدمے میں گرفتار ایک قیدی نے مقدمے کی کارروائی ملتوی ہونے پر جج پر چپل پھینک دی۔

    یہ واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب ملزم کرن سنتوش بھرم، جو 2012 میں قتل کے مقدمے میں گرفتار ہوا تھا، عدالت میں پیش ہوا۔ملزم کرن سنتوش بھرم کے خلاف قتل کا مقدمہ گزشتہ کئی برسوں سے زیر سماعت تھا۔ گزشتہ روز جب عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تو ملزم شدید غصے میں آ گیا۔ جج کی طرف سے مقدمے کی تاریخ ملتوی ہونے کے بعد ملزم نے کمرہ عدالت سے باہر نکل کر دروازے کے قریب کھڑے ہو کر اپنی چپل اٹھائی اور جج پر پھینک دی۔ چپل کمرہ عدالت میں ایک میز سے ٹکرا گئی، جس کے بعد کمرہ عدالت میں سنسنی پھیل گئی۔

    واقعے کے فوراً بعد عدالت کے عملے نے پولیس کو اطلاع دی اور ملزم کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو مقامی عدالت کے سامنے پیش کیا اور اس کی پولیس تحویل حاصل کر لی۔ عدالت کے حکام نے اس کارروائی کو سنگین توہین عدالت قرار دیا اور ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    یہ واقعہ نہ صرف عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ اس نے عوامی سطح پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ عدلیہ میں ہونے والی کارروائیوں کو کس طرح کنٹرول کیا جائے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ وکلاء اور قانونی ماہرین نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے.

    ہمیں نئی نسل کے ڈیجیٹل حقوق کے لئے جدو جہد کرنا ہو گی،بلاول بھٹو

    آذربائیجان کے نائب وزیر دفاع کی ایئر چیف سے ملاقات

  • فوجی عدالتوں سے سزائیں،برطانیہ کے بعد امریکا کا ردعمل

    فوجی عدالتوں سے سزائیں،برطانیہ کے بعد امریکا کا ردعمل

    امریکا نے 9 مئی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں کی جانب سے 25 شہریوں کو سزائیں سنائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پاکستان کی فوجی عدالتوں کی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو 9 مئی کے مظاہروں میں ملوث شہریوں کے خلاف فوجی ٹریبونلز کی جانب سے سزاؤں کی سنائی جانے والی کارروائی پر تحفظات ہیں،فوجی عدالتوں میں عدالتی آزادی، شفافیت اور مناسب عمل کی ضمانتوں کا فقدان ہے، پاکستانی حکام آئین میں درج منصفانہ ٹرائل کا احترام کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل یورپی یونین نے بھی اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں کئے جانے والے فیصلے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں، برطانوی حکومت نے بھی پاکستان میں فوجی عدالتوں سے 25 شہریوں کو سزاؤں پر اپنا ردعمل جاری کیا ہے،برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے قانونی عمل میں دخل اندازی نہیں کرتا، برطانیہ اپنی قانونی کارروائیوں پر پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت، آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہے۔

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • قتل مقدمہ ،خطرناک اشتہاری مجرم 12 برس بعد گرفتار

    قتل مقدمہ ،خطرناک اشتہاری مجرم 12 برس بعد گرفتار

    اپنے مجرمانہ گینگ کے دو ساتھیوں کو قتل کر کے ،ایک کا چہرہ تیزاب پھینک کر ناقابل شناخت بنانے والا مطلوب مجرم 12 برس بعد گرفتار کر لیا گیا ہے

    واقعہ بھارت کا ہے، پولیس نے مجرم عمر کو گرفتارکیا ہے جس کے بارے میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ 12 برس سے پولیس کو مطلوب تھا ملزم کی عمر 51 برس ہے اور وہ افیون کا سمگلر ہے اور اشتہاری مجرم ہے، ملزم گینگ کے دو ارکان کے قتل میں مطلوب تھا اور ایک دہائی سے زائد عرصے سے پولیس سے مفرور تھا ملزم کے خلاف اتر پردیش اور دہلی کے مختلف تھانوں میں سات مجرمانہ مقدمات درج ہیں.پولیس حکام کے مطابق 2012 میں، محمد عمر نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنے گینگ کے ایک رکن کو اس شبہ میں قتل کر دیا کہ اس نے پہلے پولیس کو معلومات افشا کی تھیں۔ اسے بے دردی سے قتل کرنے کے بعد، محمد عمر نے اسکی شناخت چھپانے کے لیے تیزاب ڈال کر اس کا چہرہ بگاڑ دیا. اس کے بعد عمر اپنے خاندان کے ساتھ فرار ہو گیا اور نیپال میں روپوش ہو گیا۔

    پولیس نے ملزم محمد عمر کے بارے میں معلومات دینے پر 50,000 روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا. پولیس کے مطابق، 16 جولائی کو، انہیں اس کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی اور اس کے بعد ملزم کوکاروائی کرتے ہوئے گرفتارکر لیا گیا.ڈی سی پی اسپیشل سیل امیت کوشک کا کہنا ہے کہ عمر کو 16 جولائی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب پولیس ٹیم کو آنند وہار بس ٹرمینس کے قریب ایک مفرور مجرم کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی۔ جس کے بعد اسے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا۔خطرناک مجرم عمر میرٹھ میں پیدا ہوا تھا۔ آٹھویں جماعت مکمل کرنے کے بعد اس نے اپنے والد کے ساتھ درزی کا کام شروع کیا۔ تاہم، 2002 میں، اس نے مقامی مجرموں کے ساتھ ملوث ہونا شروع کر دیا اور چوری اور چھوٹے جرائم میں ملوث تھا. "وہ پہلے بجلی ٹرانسفارمر چوری میں ملوث تھا اور اسے 2009 میں لونی اور پِلکھوا، اتر پردیش کے پولیس اسٹیشنوں میں چار مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔”2010 میں محمد عمر کا رابطہ نعیم، تسلیم، مکیش اور موتی سے ہوا۔ وہ افیون کی اسمگلنگ میں ملوث تھے اور لوگوں کو سعودی ریال بدلنے کا لالچ دے کر دھوکہ دیتے تھے۔ 2011 میں ملزم کو آرمس ایکٹ اور دھوکہ دہی کے معاملات میں اتر پردیش کے امروہہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد اس نے دوبارہ نعیم، تسلیم، مکیش اور موتی کے ساتھ مل کر منشیات کی افیم کی اسمگلنگ شروع کر دی۔

    تاہم گینگ کی قیادت کے معاملے پر ان کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ڈی سی پی کوشک نے مزید کہا کہ اعتماد کے مسائل تھے، کیونکہ ان میں سے تین نے مکیش کو 2011 میں باغپت میں قتل کیا تھا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اس نے پولیس کو ان کے بارے میں مطلع کیا تھا۔نعیم، تسلیم اور موتی نے باغپت اتر پردیش میں مکیش کا قتل کیا۔ اس کیس میں نعیم، تسلیم اور موتی کو گرفتار کیا گیا۔ 2012 میں، عمر نے نعیم کے ساتھ مل کر سونیا وہار دہلی کے علاقے میں تسلیم کا قتل کیا اور اس کے چہرے پر تیزاب ڈال کر تسلیم کا چہرہ بگاڑ دیا۔واقعے کے بعد ملزم محمد عمر اپنے خاندان کے ساتھ بھاگ گیا اور نیپال میں روپوش ہو گیا جہاں وہ جھوٹی شناخت کے تحت رہتا تھا۔ ڈی سی پی کوشک کے مطابق ملزم کے خلاف سات فوجداری مقدمات درج ہیں۔

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • کے پی کہیں جرم ببانگ دہل تو کہیں مجرم آزاد:صوبے میں کہیں لڑائیاں تو کہیں جھگڑے

    کے پی کہیں جرم ببانگ دہل تو کہیں مجرم آزاد:صوبے میں کہیں لڑائیاں تو کہیں جھگڑے

    ڈیرہ اسماعیل خان:سابق وفاقی وزیرسردار علی امین خان گنڈہ پورپر کرپشن کا الزام لگانے والا،اداروں سے بھتے لینے کا الزام لگانے والا موصوف امان اللہ ولد ساول بستی گھائیاں والی (امان ساؤنڈ والا) کا ماضی یہ ہے کہ بیوہ اور غریب عورتوں کے احساس پروگرام کے تحت ملنے والے 12000 روپے کی رقم کو دھوکہ دہی،فراڈ اور چالاکی سے لاکھوں روپے چوری کرکے بھاگ گیا تھا اور پھر تھانہ چودھواں میں ایک غریب عورت کی تھانہ میں درخواست پر ایس ایچ او چودھوان تھانہ نے تمام ملزمان کو ان کے سرغنہ سمیت گرفتار کرکے چوری کی ہوئی رقوم برآمد کر لی تھی۔

    ان لوگوں کو غریب بیوہ خواتین کے پیسے چوری کرتے وقت کوئی اخلاقیات نظر نہیں آئیں لیکن شرفاء کی پگڑیاں اچھالنا،بلیک میلنگ کرنا ان کا طریقہ واردات ہے۔ڈیرہ والوں کو ایسے کرداروں کو بے نقاب کرنا چاہیے جس میں شیڈول فور اور چور بلیک میلرز اپنے آپ کو میڈیا کے پلیٹ فارم کے سہارے خود کو بچا کر رکھتے ہیں۔ایسے کرداروں کو میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی خود سے الگ کریں اور عوام بھی ان کرداروں کی پہچان یاد رکھے۔ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے سابق وفاقی وزیرسردارعلی امین خان گنڈہ پورسے دونمبرزردصحافی امان اللہ کے خلاف متعلقہ محکموں کوکاروائی کے احکامات جاری کرنے کامطالبہ کیاہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرکیپٹن(ر)نجم الحسنین لیاقت کے احکامات پرڈی ایس پی کینٹ کی قیادت میں تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او گل شیر خان نے ملزم کلیم اللہ ولد عبدالرشیدقوم گھاڈوسکنہ پائندخان سے 720گرام چرس برآمدکرکے گرفتارکرلیا،ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ڈی پی اوڈیرہ کو منشیات کے خلاف کاروائیوں پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاہے۔

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرکیپٹن(ر)نجم الحسنین لیاقت کے احکامات پرڈی ایس پی کینٹ کی قیادت میں تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او گل شیر خان نے بدوران گشت ملزم کلیم اللہ ولد عبدالرشیدقوم گھاڈوسکنہ پائندخان سے 720گرام چرس برآمدکرکے گرفتارکرلیاہے۔ملزم کوچرس برآمدگی کے بعد گرفتارکرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا۔ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ڈی پی اوڈیرہ کو منشیات کے خلاف کاروائیوں پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاہے اوراسے سراہاہے۔ ٓٓڈیرہ اسماعیل خان( )ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرکیپٹن(ر)نجم الحسنین لیاقت کے احکامات پرڈی ایس پی کینٹ کی قیادت میں تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او گل شیر خان نے ملزم کلیم اللہ ولد عبدالرشیدقوم گھاڈوسکنہ پائندخان سے 720گرام چرس برآمدکرکے گرفتارکرلیا،ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ڈی پی اوڈیرہ کو منشیات کے خلاف کاروائیوں پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاہے

    سابقہ لڑائی جھگڑے کے شاخسانہ پر تین ملزمان نے مدعی سیف الرحمان ولد محمدرمضان کھوکھر سکنہ مریالی بلوچ نگر بعمر19سال کو چاقو کے وارکرکے زخمی کردیا،مدعی سیف الرحمان زخمی حالت میں ہسپتال داخل،تھانہ کینٹ پولیس نے تین ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے تاہم ملزمان فرارہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں اورعدم گرفتارہیں۔ تفصیلات مطابق سابقہ لڑائی جھگڑے کے شاخسانہ پر تین ملزمان عمرفاروق ولد محمدبخش، فہیم ولد قیوم، فیروز ولد نامعلوم اقوام نامعلوم سکنائے بلوچ نگر مریالی نے مدعی سیف الرحمان ولدمحمدرمضان کھوکھرجوگھر کے دروازے پر کھڑاتھا آئے اوراسے زدوکوب کیا اورچاقو سے وارکرکے زخمی کردیا۔وجہ عداوت سابقہ لڑائی جھگڑے کاشاخسانہ بتایاجارہاہے۔

    تھانہ کینٹ پولیس نے تین ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش کااآغازکردیاہے اورملزمان کی تلاش شروع کردی ہے تاہم ملزمان فرارہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں اورکوئی گرفتاری نہیں ہوسکی ہے۔اس حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرکیپٹن(ر)نجم الحسنین لیاقت سے رابطہ کیاگیاتوانہوں نے کہاکہ ڈی ایس پی تھانہ کینٹ سرکل کوفوری احکامات جاری کیے ہیں کہ ایس ایچ او کے ہمراہ چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے کر ملزمان کو جلدازجلد گرفتارکرکے پابندسلاسل کیاجائے۔

    ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف علاقوں میں موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہونے لگا، مختلف تھانہ جات کی حدود سے نامعلوم موٹرسائیکل چور عوام کے موٹرسائیکل چوری کرکے لے گئے، تھانہ کلاچی کی حدود سے نامعلوم موٹرسائیکل چورموٹرسائیکل چوری کرکے لے گئے،مدعی محمداکرام ولد حسین بخش کی رپورٹ پر تھانہ کلاچی پولیس نے نامعلوم موٹرسائیکل چوروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کردی ہے جبکہ تھانہ صدرکی حدود سے وقاراحمد کاموٹرسائیکل گھر سے چوری کرلیاگیا۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ کلاچی میں مدعی محمداکرام ولد حسین بخش قوم جھنڈی نے رپورٹ درج کرائی ہے کہ میراموٹرسائیکل 125رجسٹریشن نمبر6692BYLنامعلوم ملزمان بالاخانے سے چوری کرکے لے گئے ہیں۔

    تھانہ کلاچی پولیس نے مدعی کی رپورٹ پر نامعلوم موٹرسائیکل چوروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔تاہم ملزمان فرارہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ تھانہ صدرکی حدود سے وقاراحمد کاموٹرسائیکل گھر سے نامعلوم موٹرسائیکل چورچوری کرکے لے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف تھانہ جات کی حدود میں آئے روز موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں اورعوام کے موٹرسائیکل چوری ہونے کے واقعات میں روزبروزاضافہ ہورہاہے۔چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے حوالے سے جب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرکیپٹن(ر)نجم الحسنین لیاقت سے رابطہ کیاگیاتوانہوں نے کہاکہ ڈی ایس پی تھانہ کلاچی سرکل کوفوری احکامات جاری کیے ہیں کہ ایس ایچ او کے ہمراہ چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے کر ملزمان کو جلدازجلد گرفتارکرکے پابندسلاسل کیاجائے۔

    تھانہ ملازئی میں مدعی عدنان عجب ولد عجب مروت سکنہ حال میاں لالی ٹانک بعمر 20سال نے رپورٹ درج کرائی ہے کہ میں اپنی بیوی بمعہ دیگرخاندان کے اپنے سالے الیاس ولد عبدالمالک سکنہ ملنگی پروگرام کیلئے ٹانک سے موٹرکارمیں آئے ہوئے تھے کہ نامعلوم ملزما ن نے ہمیں روک پر پستول سے فائرنگ کردی اورکارپربٹ مارے، وجہ عداوت معلوم نہیں ہے،تھانہ ملازئی پولیس نے مدعی عدنان عجب ولد عجب مروت کی رپورٹ پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، واقعے کے بعدملزمان فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق تھانہ ملازئی میں مدعی عدنان عجب مروت ولد عجب مروت سکنہ میاں لالی ٹانک بعمر20سال نے رپورٹ درج کرائی ہے کہ میں اپنی بیوی بمعہ خاندان کے ٹانک سے موٹرکارمیں آرہے تھے کہ نامعلوم ملزمان نے ہمیں روک پر پستول سے فائرنگ کردی اورکارپربسٹ مارے۔ہمار ی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ تھانہ ملازئی پولیس نے عدنان عجب ولد عجب مروت کی رپورٹ پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرکی ہدایت پرڈی ایس پی تھانہ ملازئی کی ہدایت پر تھانہ ملازئی پولیس نے ملزما ن کی تلاش کیلئے چھاپے مارنے شروع کردیے ہیں۔

  • نسیم نگر پولیس کی کاروائی ، دوہرے قتل کی واردات میں ملوث ملزم گرفتار

    نسیم نگر پولیس کی کاروائی ، دوہرے قتل کی واردات میں ملوث ملزم گرفتار

    نسیم نگر پولیس کی کاروائی ، دوہرے قتل کی واردات میں ملوث ملزم گرفتارہوچکاہےاوراس سلسلے میں پولیس تفتیش کررہی ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں انچارج چیک پوسٹ نسیم نگر سب انسپیکٹر لیاقت سرکی نے اپنے اسٹاف کے ہمراہ کامیاب کاروائی کی ہے

    دوہرے قتل کی واردات میں ملوث مرکزی ملزم محمد عظیم عرف ماجو عرف مجاہد کو مخفی اطلاع پر درگاہ گل شاہ بچاؤ بند کے قریب سے گرفتار کرلیا

    گرفتار ملزم محمد عظیم عرف ماجو عرف مجاہد نسیم نگر کا رہائشی ہے جس نے گزشتہ ماہ مارچ میں ناجائز تعلقات کے شبہ میں اپنی بیوی کو بے دردی سے قتل کیا جس کے چند روز بعد ضلع قمبر پہنچ کر اپنی بیوی سے ناجائز تعلق کے الزام میں آصف چانڈیو کو فائرنگ سے قتل اور اسکے بھائی کو زخمی کردیا

    گرفتار ملزم نے اپنے بیان میں دوہرے قتل کا اعتراف کیا مزید ملزم کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والا پسٹل برآمد کرلیا گیا

    گرفتار ملزم دوہرے قتل کے دونوں مقدمات کرائم نمبر 68/2022 زیر دفعہ 302,34 تعزیرات پاکستان (نسیم نگر) اور 24/2022 زیر دفعہ 302,34 تعزیرات پاکستان (تھانہ ڈرگ شہداد کوٹ قمبر) میں روپوش تھاگرفتار ملزم کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا

    250/2022 u/s 23-A S.A.A

    گرفتار ملزم کا مزید کرمنل چیک کیا گیا جس کے مطابق ملزم ڈکیتی، غیر قانونی اسلحہ ، پولیس مقابلے سمیت دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث رہا ہے

    (1) 106/21 u/s 324.353.34 PPC
    PS Tando Jam

    (2) 109/21 u/s 392.34 PPC
    PS Qasimabad

    (3) 222/21 u/s 324.353.34 PPC
    PS Qasimabad

    (4) 223/21 u/s 23-A S.A.A
    PS Qasimabad

    گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری

  • پنجاب پولیس کی حراست سے33 خطرناک ملزمان فرار

    پنجاب پولیس کی حراست سے33 خطرناک ملزمان فرار

    لاہور: پنجاب پولیس کی حراست سے33 خطرناک ملزمان فرار ہوچکے ہیں مگرپولیس حکام کو ان خطرناک مجرموں کے فرار کی شاید پرواہ نہیں ، پولیس ذرائع کے مطاق پچھلے 8 ماہ کے دوران 33 خطرناک ملزمان لاک اپ اور پیشی کے دوران پنجاب پولیس کی حراست سے فرار ہوگئے۔

    اس سلسلے میں پولیس ذرائع کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پولیس کی نااہلی یا مجرموں سے ملی بھگت، سنگین جرائم میں ملوث خطرناک ملزمان کے لیے حوالات توڑنا یا ہتھکڑیاں کھولنا کھیل بن گیا۔پنجاب میں خطرناک مجرموں کی فراری کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ کے مطابق پنجاب میں رواں برس 8 ماہ کے دوران 33 خطرناک ملزمان لاک اپ اور پیشی کے دوران پولیس کی حراست سے فرار ہوگئے۔

    پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی گرفت سے بھاگنے والے خطرناک ترین مجرموں کے متعلق جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غفلت کی اس دوڑ میں لاہور پولیس پہلے نمبر پر رہی، جس کی حراست سے 11 ملزمان فرار ہوئے، جن میں خطرناک ڈاکو بھی شامل ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل سی آئی اے یونٹ سے بھی 3ملزمان فرار ہوئے تھے، اور غفلت کا مظاہرہ کرنےوالے افسران کیخلاف کارروائیاں بھی کی گئیں۔پولیس ریکارڈ کے مطابق اس عرصے میں فیصل آباد سے 6، گوجرانوالہ سے 4، شیخوپورہ ، راولپنڈی اور ڈی جی خان سے تین تین ملزم فرار ہوئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام نے غفلت کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی کی، تاہم ملزمان کے فرار ہونے کے واقعات بجائے کم ہونے کے بڑھتے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 8 ماہ کے دوان 25ملزمان پولیس حراست سے فرارہوئے تھے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • فرشتہ قتل کیس، مجرم کو سزائے موت اور دس لاکھ روپے جرمانہ

    فرشتہ قتل کیس، مجرم کو سزائے موت اور دس لاکھ روپے جرمانہ

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور خان نے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی دس سالہ بچی فرشتہ قتل کیس کے ملزم کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

    فاضل عدالت نے کیس کا ٹرائل مکمل ہونے پر اپنا فیصلہ سنایا۔اس موقع پر مقتولہ بچی کے ورثاء بھی عدالت میں موجود تھے جبکہ پچاس سالہ ملزم نثار کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    واضح رہے کہ دس سالہ ننھی بچی فرشتہ تین سال قبل 15مئی 2019ء کو تھانہ شہزادٹاؤن کی حدود سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوئی اور 22 مئی کو اس کی لاش جنگل ایریا سے برآمد ہوئی تھی۔بچی کی لاش مکمل طور پر مسخ شدہ تھی۔فرشتہ کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔جس کا مقدمہ نمبر 99/19 بجرم 302 تھانہ شہزادٹاؤن میں درج کیا گیا۔اس کیس کی تفتیش شروع ہوئی تو پولیس کو اصل قاتل تک پہنچنے کے لئے ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔

    مقتولہ کی لاش کئی روز بعد ملنے اور ناقابل شناخت حد تک گلنے سڑنے کی وجہ سے پولیس کو اہم شواہد بھی نہ مل سکے۔پولیس اس کیس میں ڈی این اے اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل نہ کرسکی۔تاہم اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اس کیس پر نوٹس لیا اور آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کی۔جس پر پولیس کی تحقیقاتی ٹیموں نے دن رات ایک کردیا اور بالآخر پولیس نے فرشتہ قتل کیس میں ملوث پچاس سالہ نثار نامی ملزم کو علی پور کے ایریا سے گرفتار کرلیا۔

    ملزم نثار کے خلاف اس نوعیت کے پہلے سے ہی دو مقدمات درج تھے۔فرشتہ قتل کیس میں ایک افسوسناک پہلو یہ بھی رہا کہ جب بچی کے ورثاء اپنی بچی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے تھانہ شہزاد ٹاؤن گئی تو سب انسپکٹر عباس رپورٹ درج کرنے کی بجائے انہیں ٹالتا رہا۔

    مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے بچی کے والد غلام نبی کو پولیس کا یہ آفیسر یہ کہتا رہا کہ بچی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی۔بچی کے ورثاء جب بھی تھانے جاتے قانون کے یہ رکھوالے ان کے ہاتھ میں جھاڑو تھما کر ان سے تھانے کی صفائی ستھرائی کا کام لیتے اور پھر انہیں واپس گھر بھیج دیا جاتا۔بچی کی لاش برآمدگی کے بعد جب یہ کیس ہائی لائٹ ہوا تو غفلت برتنے والے ان پولیس افسران کے خلاف بھی پولیس حکام کو چاروناچار کارروائی کرنی پڑی۔

  • راجیوگاندھی کے قتل میں ملوث مجرم 32 سال بعد ضمانت پر رہا

    راجیوگاندھی کے قتل میں ملوث مجرم 32 سال بعد ضمانت پر رہا

    نئی دہلی: بھارت کے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے قتل میں ملوث مجرم اے جی پیراویلن 32 سال بعد ضمانت پر رہا ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے راجیو گاندھی کے قتل کے مجرم اے جی پیراویلن کو ضمانت دے دی ہے، عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مجرم 30 سے زائد کی سزا کاٹ چکا ہے اس لیے وہ ضمانت کا حقدار ہے۔

    سوناکشی سنہا نے وارنٹ گرفتاری کی خبر کو جھوٹا قرار دیا

    سابق وزیراعظم کے قتل کیس کی سماعت بدھ کے روز ہوئی، جسٹس ایل ناگیشورا راؤ اور جسٹس بی آر گاوائی پر مشتمل بینچ نے رہائی کا حکم نامہ جاری کیا اس سے قبل مجرم نے سال 2016 میں خصوصی چھٹی کی درخواست دی تھی۔

    مجرم نے مدراس ہائیکورٹ سے استدعا کی تھی کہ سزا کو کم کیا جائے تاہم عدالت نے انکار کردیا تھا بنچ نے ریماکس دئیے کہ پیراویلن اس وقت پیرول پر ہے اور اس سے پہلے انہیں 3 بار پیرول دیا گیا تھا۔

    سال 2014 میں سپریم کورٹ نے پیراویلن کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا، ملزم اے جی پیراویلن 1991 میں راجیو گاندھی کے قتل سے متعلق کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے 7 مجرمان میں سے ایک ہے۔

    یوکرین جنگ:روسی بمباری میں یوکرینی اداکار ہلاک

    واضح رہے کہ بھارت کے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی 21 مئی سن 1991 میں تامل ناڈو کے شہر پیرم بدور میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوئے تھے وہ ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے لیے وہاں پہنچے تھے اور اس خودکش حملے میں ان کے ساتھ دیگر 14 افراد بھی مارے گئے تھے۔

    اس قاتلانہ حملے کے لیے تین افراد کو موت جبکہ چار کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن بعد میں عدالت عظمی نے موت کی سزا پانے والوں کی سزا کو بھی عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ اس جرم کے لیے جو افراد گزشتہ تیس برسوں سے جیل میں قید ہیں، ان میں سے چار سری لنکا کے شہری ہیں-

    سوشل میڈیا صارفین کا کپل شرما شو کے بائیکاٹ کا مطالبہ

  • امریکی سیاہ فام شہری کی ہلاکت، سابق خاتون پولیس افسر قتل کی مجرم قرار

    امریکی سیاہ فام شہری کی ہلاکت، سابق خاتون پولیس افسر قتل کی مجرم قرار

    امریکی عدالت نے سیاہ فام شہری ڈانٹے رائیٹ کی ہلاکت پر منیسوٹا کی سابق خاتون پولیس افسر کو قتل کا مجرم قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں 20 سالہ سیاہ فام شہری ڈانٹے رائیٹ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے معاملے پر عدالت نےسابق خاتون پولیس افسر کم پوٹر کی گرفتاری کا حکم دیا ہے سابق خاتون پولیس افسر کم پوٹر پر فرسٹ اور سیکنڈ ڈگری قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    فرسٹ ڈگری قتل کاالزام ثابت ہونے پر 15 سال قید اور 30 ہزار ڈالر جرمانہ ہوسکتا ہے،جبکہ سیکنڈ ڈگری قتل کا الزام ثابت ہونے پر خاتون کو 10 سال قید اور 20 ہزار ڈالر جرمانہ ہوسکتا ہے۔

    امریکا اور اسرائیلی وفود کے درمیان اہم مذاکرات:ایرانی جوہری پروگرام کوخطے لیے خطرہ…

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے مقدمے کا حتمی فیصلہ آئندہ سال فروری میں سنایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ منیسوٹا میں اپریل میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کےبعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے مظاہرین اور ڈانٹے رائیٹ کے خاندان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس فائر کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔ وہ پولیس پر سیاہ فام باشندوں کے خلاف تعصب برتنے کا الزام لگاتے ہیں۔

    کیا فلسطینوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا گیا ہے؟ فلسطینیوں کا عالمی برادری سے…

    خیال رہے کہ خاتون پولیس آفیسر کے خلاف رواں برس اپریل میں مقدمہ درج کیا گیا تھا کم پورٹرپرسیکنڈ ڈگری مین سلاٹر کی دفعات لگائی گئی تھیں ریاست منی سوٹا کے قانون کے مطابق جب کوئی کسی دوسرے شخص کو غیر ضروری خطرے میں ڈالے یا کوئی ایسا اقدام کرے، جس سے دوسرے کی موت واقع ہویا اسے زبردست جسمانی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو،تو ایسے شخص کو دوسرے درجے کے اقدام قتل یا سیکنڈ ڈگری مین سلاٹر کا مرتکب ٹھہرایا جاتا ہے-

    جبکہ پولیس اہلکار پر مقدمہ درج کرنے کا اعلان ایسے موقعے پر آیا تھا، جب ایک روز پہلے ہی انہوں نے محکمہ پولیس سے استعفی دینے کا اعلان کیا تھا۔ کم پورٹر محکمہ پولیس میں 26 سال سے کام کر رہی ہیں۔

    امریکی فوجیوں کا انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف