Baaghi TV

Tag: مجوزہ آئینی ترمیم

  • آرٹیکل 140 اے کو 27ویں ترمیم میں شامل کیا جا رہا ہے، مصطفیٰ کمال

    آرٹیکل 140 اے کو 27ویں ترمیم میں شامل کیا جا رہا ہے، مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے انہیں آئینی ترمیم پر اعتماد میں لیا ہے اور آرٹیکل 140 اے کو 27ویں ترمیم میں شامل کیا جا رہا ہے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات اور وسائل صوبوں کو منتقل ہو گئے لیکن وہاں جا کر رک گئے، وفاق سے پیسہ صوبوں کو جاتا ہے مگر ضلعی سطح تک نہیں پہنچتا۔ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ آئینی ترمیم 25 کروڑ عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لائے گی اور ملک کو چلانے اور بچانے میں مددگار ثابت ہوگی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی جماعت نے حکومت میں صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر شمولیت اختیار کی تھی، مسلم لیگ (ن) نے اس حوالے سے ان کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ بھی کیا ہے۔

    انہوں نے زور دیا کہ جب تک اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، ملک میں حقیقی ترقی ممکن نہیں، یہ کسی جماعت نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے

    وہاب ریاض کو کوئی نیا عہدہ نہیں دیا گیا،پی سی بی کی وضاحت

    پیپلز پارٹی کی آرٹیکل 243 میں ترمیم کی حمایت، آئینی عدالتوں پر مشروط رضامندی

  • حکومت نے وفاقی آئینی عدالت بنانےکا فارمولہ سیاسی جماعتوں سے شیئر کردیا

    حکومت نے وفاقی آئینی عدالت بنانےکا فارمولہ سیاسی جماعتوں سے شیئر کردیا

    اسلام آباد: 26 ویں آئینی ترامیم سے متعلق حکومتی مسودے کے نکات سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : مجوزہ ترمیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت چیف جسٹس سمیت 7 ارکان پر مشتمل ہوگی، چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین ججز رکن ہوں گےایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی جس کے پہلے چیف جسٹس کا تقرر صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس پر کریں گے جبکہ آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس اور تین سینیئر ججز کا تقرر کمیٹی کی سفارش پر کیا جائے گا اور کمیٹی میں 4 ارکان پارلیمنٹ، وفاقی وزیر قانون اور پاکستان بار کونسل کا نمائندہ شامل ہوگا ۔

    مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالت کے ججز کے تقرر کیلئے کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت ہوں گے اور کمیشن میں آئینی عدالت کے پانچ سینئر ترین ججز ممبران ہوں گے صوبائی آئینی عدالتیں چیف جسٹس، صوبائی وزیر قا نون، بارکونسل کے نمائندے پرمشتمل ہوگی۔

    صحرا صحارا میں بارش،50 سال سے خشک جھیل دریا بن گئی

    مجوزہ ترمیم کے مطابق جج کی اہلیت رکھنے والے کیلئے نام پرمشاورت کے بعد وزیراعظم معاملہ صدرکوبھجوائیں گے، وفاقی آئینی عدالت کے باقی ممبران کا تقرر صدر چیف جسٹس کی مشاورت سے کریں گے، چیف جسٹس اور ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے وزیراعظم کو دئیے جائیں گے جج کی عمر 40 سال، تین سالہ عدالت اور 10 سالہ وکالت کا تجربہ لازمی ہوگا، جج کی برطرفی کیلئے وفاقی آئینی کونسل قائم کی جائے گی اور کسی بھی جج کی برطرفی کی حتمی منظوری صدر مملکت دیں گے۔

    پاکستان میں کرپشن ختم کرنے کے لیے تحقیقاتی نظام بہتر بنایا جائے،آئی ایم ایف

    مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکے گا، چاروں صوبائی آئینی عدالتوں کے فیصلوں پر اپیل وفاقی عدالت میں ہوسکےگی سپریم کورٹ کےچیف جسٹس کا تقرر بھی 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ہوگا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر تین سینیئر ترین ججز میں سے کیا جائے گا۔

    میجر (ر) میثم رضا اعوان نے شہباز گل کو اوقات یاد دلا دی

  • مجوزہ  آئینی ترامیم کے خلاف درخواست  پر  سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ  تشکیل

    مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسی بینچ درخواست پر 17 اکتوبر سماعت کرے گا،مجوزہ آئینی ترمیم کیخلاف درخواست عابد زبیری نے دائر کی تھی،تین رکنی بینچ میں جسٹس نعیم افغان، جسٹس شاہد بلال شامل ہیں جبکہ رجسٹرار آفس نے ایڈووکیٹ عابد زبیری کو نوٹس جاری کردیا ہےصوبائی آئینی عدالتیں چیف جسٹس، صوبائی وزیرقانون اور بار کونسل کے نمائندے پر مشتمل ہوگی۔

    دوسری جانب مجوزہ آئینی ترمیم کے خلاف وکلاء نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا، درخواست غلام رحمان کورائی و دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہےدرخواست میں کہا گیا ہے کہ 14 ستمبر کو وفاقی کابینہ نے آئین میں ترمیم کے مسودے کی منظوری دی تھی، آئینی ترمیم کا مسودہ 15 ستمبر کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نا ہونے کی وجہ سے پیش نہیں کیا جا سکا۔

    درخواست میں کہا گیا کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر پوری قوم کو اندھیرے میں رکھ کیا گیا ہے وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ترمیم کا مسودہ تاحال وفاقی کابینہ نے میں پیش نہیں کیا گیا ہےترمیم کا مسودہ جو سوشل میڈیا پر موجود ہے اس میں بیشتر شقیں عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہیں، وفاقی کابینہ کو مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ منظور کرنے سے روکا جائے آئینی ترمیم کا مسودہ پبلک کرکہ اس پر بحث کے لیے 60 دن کا وقت دیا جائے ، درخواست میں سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن ،سیکریٹری لاء اینڈ جسٹس اور سیکرٹری پارلیمنٹ ہاؤس کو فریق بنایا گیا ہے۔